Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore اردو اور شبد ہائے فارس

اردو اور شبد ہائے فارس

Published by maqsood5, 2016-08-11 23:37:56

Description: abk_ksr_mh.793/2016

اردو اور شبد ہائے فارس
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
جولائی ٢٠١٦

Search

Read the Text Version

‫گو‬ ‫من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو‬ ‫چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو‬ ‫‪:‬گویم نگویم‬ ‫بولوں کہ نہ بولوں‪ .‬کہا' نہ کہا‪ .‬کیا' نہ کیا‬ ‫کچھ مرکب آوازیں جن کے کوئی ذاتی معنی نہیں ہوتے‬‫لیکن لفظوں کو نئی معنویت سے ہم کنار کرتی ہیں۔ مثلا ئی‬ ‫اور ئے‬ ‫ئی‪ :‬دریائی' گرمائی' شرمائی‬ ‫خواجہ صاحب کے ہاں اس کا استعمال ملاحظہ ہو۔‬ ‫ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو‬ ‫ئے‪ :‬آئے' پائے' جائے‬ ‫جائے' جگہ اور جانے سے متتعلق ہے۔ مثلا‬

‫وہ جائے گا۔‬ ‫قیامت کے روز شیطان کو جائے پناہ میسر آ سکے گی۔‬ ‫خواجہ صاحب کے ہاں اس کا استعمال ملاحظہ ہو۔‬ ‫تا کہ من مست از تجلی ہائے ربانی شدم‬ ‫حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین‬ ‫اردو میں رائج الفاظ‬‫شاہ حسین بادشاہ دین دین پناہ سر دست یزید کہ بنائے لا‬ ‫الہ جان منزل جانان محمد صد کشا دل از جان باغ و دیگر‬ ‫قرآں بستان محمد غم اے آب و گل جان و دل تا بہ یژب‬ ‫افغان دیگر برسر واں کہ یاور برہان محمد خون عاشق‬‫عشق اگر ہدر فردا دوست تاوان درد زخم عصیاں غم مرہم‬ ‫شفاعت درمان محمد مستغرق ہرچند عذر پژمردہ باران‬ ‫گلستان احمد مرجاں عمان محمد یا رب کہ اندر نور حق‬‫فانی مطلع انوار فیض ذات سبحانی ذرہ ذرہ از طالب دیدار‬‫تا کہ مست از تجلی ہائے ربانی زنگ غیرت مرآت دود‬‫عشق تا واقف اسرار پنہانی بیروں ظلمت ہستی تا نور‬

‫ہستی دانی گر دود نفس ظلمت پاک سوختہ امتزاج آتش‬ ‫عشق تو نورانی خلق راہ را بدشواری اے عفاک اللہ کہ‬ ‫بارے بآسانی دم بدم روح القدس اندر معینی مگر عیسی‬‫ثانی اگر حقیقت وجود خود بینی قیام جملہ اشیاء بہبود خود‬ ‫بینی دجود نار موسوی اگر از سر تو دود خود بینی قعر‬ ‫لجہ توحید عشق کہ گنج مخفی حق را نفود خود بینی بہ‬‫قصر عشق ترا پایہ از سر کہ تخت ہر دو جہاں خود بینی تو‬ ‫فرشتہ نظر جمال دوست نہ لعیں کہ ہمیں سجود خود بینی‬‫شاید کہ تا دنا خود بینی آ و نور دوست نگر تو چند شیشہ‬ ‫سرخ و کبود خود بینی اگر آئینہ زنگ حدوث بزوائی جمال‬ ‫شائد حق شہود خود بینی بند دیدہ اعیاں کہ تا ز عین عیاں‬ ‫وجود دوست جان وجود خود بینی بزم گدایاں شہ نشاں‬ ‫خودی کہ تا نتیجہ احساں وجود خود بینی آ بہ مجلس‬‫مسکیں معین شوریدہ کہ نقل و بادہ گفت و شنود خود بینی‬ ‫انا الحق یار مرا دلدار بار اندر صومعہ با زاہداں بے تحاشا‬ ‫سر بازار محرم با در و دیوار سر منصوری نہاں حد ہم ہم‬ ‫دار آتش عشق درخت جان من زد علم با موسی آں یار‬‫نیم مدام اسرار اے صبا کہ پرسدت طالب دین سلطان محمد‬ ‫معیں دوئی میاں دار خویش خانہ بروں ازیں خانہ بروں‬ ‫ازیں‬

‫خویش‪ :‬اول خویش بعد درویش' معروف مقولہ ہے۔‬ ‫امروز‪ :‬ایک اردو اخبار اس نام سے شائع ہوتا رہا ہے۔‬ ‫‪..................‬‬‫اس معروف چومصرعے کے چاروں ابتدائی لفظ اردو میں‬ ‫بھی مستعمل ہیں۔‬ ‫شاہ ہست حسین پادشاہ ہست حسین‬ ‫دین ہست حسین دین پناہ ہست حسین‬ ‫سر داد نداد دست در دست یزید‬ ‫حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین‬ ‫‪..................‬‬ ‫اگلے دس شعروں کے قوافی ملاحظہ ہوں‬ ‫جانان' جان' گلستان' باران' باران' تاوان' سلطان' برہان'‬ ‫افغان' بستان‬

‫در جان چو کرد منزل جانان ما محمد‬ ‫صد در کشا در دل از جان ما محمد‬ ‫ما بلبلیم بالاں در گلستان احمد‬ ‫ما لولوئیم و مرجاں عمان ما محمد‬ ‫مستغرق گناہیم ہر چند عذر خواہیم‬ ‫پژ مردہ چوں گیاہیم باران ما محمد‬‫از درد زخم عصیاں مارا چہ غم چو سازد‬ ‫از مرہم شفاعت درمان ما محمد‬ ‫امروز خون عاشق در عشق اگر ہدر شد‬ ‫فردا ز دوست خواہم تاوان ما محمد‬

‫ما طالب خدایئم بر دین مصطفائیم‬ ‫بر در گہش گدائیم سلطان ما محمد‬ ‫از امتاں دیگر ما آمدیم برسر‬ ‫واں را کہ نیست یاور برہان ما محمد‬‫اے آب و گل سرودے وی جان و دل درودے‬ ‫تا بشنود بہ یژب افغان ما محمد‬ ‫در باغ و بوستانم دیگر مخواں معینے‬ ‫باغم بشست قرآں بستان ما محمد‬ ‫خواجہ معین الدین چشتی‬ ‫‪..................‬‬

‫ان سات اشعار کے قوافی سے متعلق الفاظ' اردو میں رواج‬ ‫رکھتے ہیں‬ ‫فانی' سبحانی' ربانی' پنہانی' دانی' نورانی' بآسانی' ثانی‬ ‫ایں منم یا رب کہ اندر نور حق فانی شدم‬ ‫مطلع انوار فیض ذات سبحانی شدم‬ ‫ذرہ ذرہ از وجودم طالب دیدار گشت‬ ‫تا کہ من مست از تجلی ہائے ربانی شدم‬ ‫زنگ غیرت را ز مرآت دلم بزدود عشق‬ ‫تا بکلی واقف اسرار پنہانی شدم‬ ‫من چناں بیروں شدم از ظلمت ہستی خویش‬ ‫تا ز نور ہستی او آنکہ می دانی شدم‬

‫گر ز دود نفس ظلمت پاک بودم سوختہ‬ ‫ز امتزاج آتش عشق تو نورانی شدم‬ ‫خلق می گفتند کیں راہ را بدشواری روند‬ ‫اے عفاک اللہ کہ من بارے بآسانی شدم‬ ‫دم بدم روح القدس اندر معینی می دمد‬ ‫من نمی دانم مگر عیسی ثانی شدم‬ ‫خواجہ معین الدین چشتی‬ ‫‪..................‬‬‫ان آٹھ اشعار کے قوافی اردو میں مستعمل الفاظ ہیں۔‬ ‫یار' دلدار' بار' بازار' دیوار' دار' یار' اسرار' دار‬

‫من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو‬ ‫چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو‬ ‫ہر چہ می گفتنی بمن بار می گفتی مگو‬ ‫من نمی دانم چرا ایں بار می گوید بگو‬ ‫آں چہ نتواں گفتن اندر صومعہ با زاہداں‬ ‫بے تحاشا بر سر بازار می گوید بگو‬‫گفتمش رازے کہ دارم با کہ گویم در جہاں‬ ‫نیست محرم با در و دیوار می گوید بگو‬ ‫سر منصوری نہاں کردن حد چوں منست‬ ‫چوں کنم ہم ریسماں ہم دار می گوید بگو‬

‫آتش عشق از درخت جان من بر زد علم‬ ‫ہر چہ با موسی بگفت آں یار می گوید بگو‬ ‫گفتمش من چوں نیم در من مدام می دمے‬ ‫من نخواہم گفتن اسرار می گوید بگو‬ ‫اے صبا کہ پرسدت کز ما چہ می گوید معیں‬ ‫ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو‬ ‫خواجہ معین الدین چشتی‬ ‫‪..................‬‬‫ان اشعار کے ابتدائی الفاظ اردو میں بھی مستعمل ہیں۔‬ ‫اگر' قیام' کہ' تو' نہ' بباز' جمال' یہ' وجود' در‬

‫ردیف خود بینی اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں۔‬ ‫اگر بچشم حقیقت وجود خود بینی‬ ‫قیام جملہ اشیاء بہبود خود بینی‬ ‫دجود ہیزمیت نار موسوی گردد‬ ‫اگر بروں کنی از سر تو دود خود بینی‬ ‫ز قعر لجہ توحید در عشق برار‬ ‫کہ گنج مخفی حق را نفود خود بینی‬ ‫بہ قصر عشق تراپایہ از سر جہدست‬ ‫کہ تخت ہر دو جہاں را فرود خود بینی‬

‫تو چوں فرشتہ نظر بر جمال دوست گمار‬‫نہ چوں لعیں کہ ہمیں در سجود خود بینی‬ ‫ازیں حضیض و دنایت چو بگذری شاید‬ ‫کہ تا دنا فتدلی صعود خود بینی‬ ‫بباز خانہ بروں آ ونور دوست نگر‬ ‫تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی‬ ‫اگر ز آئینہ زنگ حدوث بزوائی‬ ‫جمال شائد حق در شہود خود بینی‬ ‫بہ بند دیدہ ز اعیاں کہ تا ز عین عیاں‬ ‫وجود دوست چو جان وجود خود بینی‬

‫بیا بزم گدایاں شہ نشاں خودی ست‬ ‫کہ تا نتیجہ احساں وجود خود بینی‬ ‫در آ بہ مجلس مسکیں معین شوریدہ‬ ‫کہ نقل و بادہ ز گفت و شنود خود بینی‬ ‫خواجہ معین الدین چشتی‬ ‫‪..................‬‬ ‫قصہ سفرالعشق کے فارسی حواشی‬‫عرصہ قدیم سے' ایران اور برصغیر کے درمیان' سیاسی'‬ ‫معاشی' سماجی' تہذیبی' نظریاتی اورخونی رشتے استوار‬

‫چلے آتے ہیں۔ طالع آزما جنگ جو' تاجر' صوفیا' علما اور‬‫فضلا مختلف ادوار میں' مختلف حوالوں سے' برصغیر میں‬ ‫آتے جاتے رہے ہیں۔ برصغیر کی معاشرت پر' اپنے اپنے‬ ‫حوالوں سے' اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ بالواسطہ اور‬‫بلاواسط ' مقامی بولیاں اور زبانیں; فارسی ادبیات سے اثر‬ ‫لیتی رہی ہیں۔ برصغیر کی شاید ہی کوئی زبان ہو گی'‬ ‫جسے فارسی نے' فکری اور اسلوبی اعتبار سے' متاثر‬ ‫نہیں کیا ہو گا۔ فارسی کے بےشمار الفاظ' ان زبانوں میں‬ ‫داخل ہو گیے ہیں۔ مختلف حالات میں' ان کی مختلف‬ ‫صورتیں رہی ہیں۔‬ ‫اصل صوت' ہئیت اور مفاہیم کے ساتھ فارسی زبان کے‬ ‫الفاظ' برصغیر کی زبانوں میں داخل ہوئے ہیں یا ان‬ ‫زبانوں نے ان الفاظ کی ہیتی صوتی اور تفہیمی وسعت‬ ‫پذیری کی وجہ سے' دانستہ طور اپنا لیا ہے۔‬‫مطابقت بھی لفظوں کو اپنانے کا سبب بنی ہے۔ غربت خصم‬‫اور گربت کھسم قریب کے لفظ ہیں۔ آج قفلی کوئی لفظ نہیں‬ ‫رہا' اسی طرح گربت اور کھسم استعمال میں نہیں رہے۔‬

‫الفاظ کی ہئیت اور صوت برقرار نہیں رہی ہے لیکن ان‬ ‫کے مفاہیم میں تبدیلیاں نہیں آئیں۔‬ ‫الفاظ کی اصل ہئیت اور صوت تو برقرار رہی ہے لیکن ان‬ ‫کے مفاہیم میں تبدیلیاں آئی ہیں یا مفاہیم یکسر بدل گیے‬ ‫ہیں۔‬‫مقامیت کے زیر اثر یا بدلتے حالات کے تحت' فارسی الفاظ‬ ‫کی مختلف اشکال نے جنم لے لیا ہے۔ یہ بھی کہ ان نئی‬ ‫اشکال کے نئے مرکبات پڑھنے سننے کو ملتے ہیں۔‬ ‫انگریزی کی قہرمانی اور فتنہ سامانی کے بوجود' از خود‬‫اور نادانستہ طور پر' یہ تبدیلیوں کا عمل ہر سطع پر جاری‬ ‫و ساری ہے۔‬ ‫مقامی زبانوں کے الفاظ کے ساتھ' فارسی سابقوں لاحقوں‬ ‫کی پیوندکاری کا عمل مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے۔‬

‫ایرانی اشیا اور مختلف حلقوں سے متعلق اشخاص کے‬ ‫اسما اور شہروں وغیرہ کے ناموں کا استعمال' ادبی اور‬ ‫سماجی حلقوں میں باکثرت ملتا ہے۔‬ ‫ایرانی اہل ہنر اور ہیروز کے کارناموں کا تذکرہ یا حوالہ‬ ‫مقامی زبانوں کی تصانیف میں ملتا ہے۔‬ ‫فارسی محاورے' روزمرے اور اقوال و امثال بلاتکلف'‬ ‫مقامی زبانوں میں استعمال ہوئی ہیں۔‬ ‫فارسی اصطلاحات کا استعمال' ان زبانوں میں کسی قسم‬ ‫کے اوپرے پن کا احساس تک ہونے نہیں دیتا۔‬ ‫فارسی شعرونثر سے متعلق تخلیقات کے تراجم مقامی‬‫زبانوں میں ہوتے آئے ہیں۔ مقامی زبانوں کے تبادلات میں'‬‫اصل الفاظ کی روح کسی ناکسی سطع پر' متحرک رہی ہے۔‬

‫دور کیا جانا ہے' مغلیہ عہد جو مئی ‪ 1857‬تک قائم رہا۔‬ ‫فارسی کا دربار' بازار مکتب اور بعض آزاد ریاستوں میں‬‫سکہ چلتا رہا ہے۔ اس حوالہ سے' بڑی جان دار اور مستند‬ ‫کتب' فارسی کے ورثہ میں داخل ہوئی ہیں۔ ان تصانیف‬ ‫میں' مقامی زبانوں کے الفاظ اشیا و اشخاص کے نام‬ ‫رسوم وغیرہ کے نام فارسی' زبان کے مخصوص لب و‬ ‫لہجہ کے ساتھ داخل ہوئے ہیں۔ ان حوالوں کی واپسی'‬‫فارسی اطوار کے ساتھ ہوئی ہے۔ اب ان پر دیسی ہونے کا‬ ‫گمان تک نہیں گزرتا۔ اہل لغت نے ان پر فارسی ہونے کی‬ ‫مہر تک ثبت کر دی ہے۔‬ ‫شاہی محلات میں' روز زوال تک' بعد ازاں مغل شاہی‬ ‫گھروندوں میں بھی فارسی کا سکہ چلتا رہا۔ بہت سے‬ ‫شعرا فارسی میں کہتے رہے۔ گلستان بوستان کی اہمیت‬ ‫باقی رہی۔ محلاتی مکینوں یا ان سے متعلق حضرات کا‬ ‫کلچر عمومی اور عوامی کلچر سے ہٹ کر رہا۔ شاہ سے‬ ‫متعلق اہل قلم نے عوامی دائروں میں رہ کر سوچا لیکن‬ ‫اپنے سوچ کو زبان اور طور شاہی دیا۔‬

‫شاہی جبریت کے بعد' برٹش استحصالیت کے زمانے میں'‬ ‫سوچی سمجھی سازش کے تحت فارسی کا پتا کاٹنے کے‬‫لیے' مقامی زبانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ فارسی کے‬ ‫متعلق۔۔۔۔۔۔ پڑھو فارسی بیچو تیل۔۔۔۔۔۔ ایسی خرافات' عرف‬ ‫عام میں آ گئیں۔ اس ناقدری اور حوصلہ شکنی کے‬ ‫‪:‬باوجود‬ ‫فارسی کی کسی ناکسی سطع پر مداخلت باقی رہی۔ ‪1-‬‬‫رومی' سعدی' حافظ' خیام' جامی وغیرہ کے فکری و ‪2-‬‬‫لسانی حسن کا سکہ' نادانستہ طور پر سہی' آج بھی باقی‬ ‫ہے۔‬ ‫برٹش عہد میں' اردو کو برصغیر زبان ہونے کے ناتے'‬ ‫عزت دی گئی جب کہ پنجابی نے بھی انگریز کی ماتحتی‬ ‫کی' لیکن اس کا فارسی سے رشتہ ختم نہ ہوا۔ معروف‬ ‫مثنویوں کے عنوانات اور حواشی فارسی میں ملتے ہیں۔‬ ‫‪...........‬‬‫پنجابی قصہ۔۔۔۔۔ سفرالعشق ۔۔۔۔۔۔۔ المعروف بہ سیف الملوک‬

‫کا پنجابی کلاسیکی ادب میں بڑا بلند پایہ ہے۔ وقت کے‬ ‫ساتھ ساتھ اس کی قدر و قیمت میں ہرچند اضافہ ہی ہوا‬ ‫ہے۔ دیہاتوں اور شہروں میں' اس قصے کو بڑے شوق‬‫سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ برصغیر کے معرف فن کاروں‬ ‫نے'اسے صوفیانہ کلام قرار دے کر' عقیدت اور احترام‬ ‫سے گایا ہے۔ میاں محمد بخش صاحب کی بہت سی‬ ‫تصانیف ہیں۔ جن میں‪ :‬قصہ سوہنی' شیرین فرہاد' نیرنگ‬‫عشق' مرزا صاحباں' شاہ منصور' سی حرفی سسی پنوں'‬ ‫سی حرفی ہیر رانجھا' تذکرہ مقیمی' گلزار فقیر' ہدایت‬ ‫المسلمین' تحفہ میراں کرامات غوث اعظم' تحفہ رسولیہ'‬ ‫معجزات سرور کائنات' سخی خواص خاں خاص طور‬ ‫معروف ہوئیں تاہم قصہ سفر العشق میاں محمد بخش‬‫صاحب کی شہرت کا سبب بنا۔ یہ قصہ ‪ 1859‬میں رقم ہوا۔‬ ‫اس وقت میاں محمد بخش صاحب کی عمر تنتیس برس‬ ‫تھی۔ ان کی جوانی' اس قصے کی زبان اور فکر میں‬ ‫بھرپور انداز میں رقصاں ہے۔‬ ‫یہ قصہ کل ترسٹھ عنوانات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے‬‫سترہ عنوان حمد نعت مدح جات اوصاف قصہ منازل ہائے‬

‫تصوف وغیرہ پر مشتمل ہے جب کہ قصہ کے اختامیہ سے‬ ‫متعلق ہیں۔ گویا اصل قصہ سے متعلق کل بیالیس عنوانات‬ ‫‪:‬ہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے‬ ‫آغاز قصہ‬ ‫تولد‪1‬شدن شاہ زادہ سیف الملوک‬ ‫دیدن شاہ زادہ تصاویر شاہ مہرہ و عاشق شدنش‬ ‫جواب سیف الملوک عاشق با پدر‬ ‫مہلت خواستن پدر و بیان کردن کیفیت مورت‬ ‫پند دادن پدر پسر را‬ ‫جواب شہزادہ‬ ‫التماس بادشاہ پیش فرزند‬ ‫رحم آوردن پسر بر پدر‬ ‫بیان دیوانہ شدن شہزادہ‬ ‫در بیان خواب دیدن سیف الملوک‬ ‫رخصت طلبیدن شہزادہ از مادر‬ ‫زاری نمودن شہزادہ از درد مادر‬

‫داستان رواں شدن سیف الملوک از مصر‬ ‫نامہ نوشتن شاہ فغفور جانب شاہزادہءمصر‬ ‫در جواب شہزادہ بہ فغفور چین‬‫دربیان غرق شدن کشتی ہائے در طوفان و جدا شدن صاعد‬ ‫گرفتار شدن سیف الملوک بدست بوزنگاں‬ ‫در بیان جنگ با سنگساراں‬ ‫گرفتار شدن سیف الملوک بدست زنگیاں‬ ‫رفتن شاہزادہ در شہر زناں‬‫در بیان مشقت دیدن شاہزادہ از گرسنگی و تشنگی و سوال‬ ‫و جواب عقل و نفس‬ ‫رسیدن شاہزادہ در قلعہ دیوان و خلاص کنائیدن ملکہ‬ ‫خاتون را‬ ‫در وصف جمال ملکہ خاتون‬ ‫رواں شدن شہزادہ مع ملکہ خاتون‬ ‫ملاقات صاعد با شاہزادہ‬ ‫در وصف جمال بدرہ خاتون و عاشق شدن صاعد بروے‬

‫آمدن بدیع الجمال بہ ساندیپ‬ ‫در وصف بدیع الجمال‬ ‫حاصل کلام‬ ‫در غزلیات و دوہڑا سرائیدن شاہزادہ‬ ‫در وصف شہزادہ سیف الملوک‬ ‫نامہ بدالجمال بطرف مہر افروز‬ ‫داستان خبر شدن دیوان قلزم را و کشتن بہرام شہزادہ‬ ‫نامہ نوشتن شاہپال بطرف ہاشم شاہ‬ ‫جواب نامہ از طرف ہاشم شاہ‬ ‫بر جنگ تیار شدن شاہپال و ہاشم شاہ‬ ‫جنگ کردن شاہپال شاہ با ہاشم شاہ دیواں‬ ‫نامہ نوشتن سیف الملوک بطرف پدر دردمند‬‫آمدن ساعد در سفر و تیار شدن عاصم شاہ بر شارستان‬ ‫وفات یافتن عاصم شاہ‬ ‫وفات یافتن سیف الملوک و نالیدن بدیع الجمال از درد‬

‫بات پنجابی قصے کے عنوانات تک محدود نہیں بل کہ‬‫قصے کے حواشی بھی فارسی میں درج کیے گیے ہیں۔ یہ‬ ‫حوشی پانچ سو کے قریب ہیں۔ فارسی حواشی درج کرتے‬‫احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔ ڈھنگ سے پروف ریڈنگ تک‬‫نہیں کی گئی۔ میرے پیش نظر حمیدیہ بک ڈپو' اردو بازار'‬ ‫لاہور ‪ 1993‬کا نسخہ ہے۔ متنی ابلاغ کے حوالہ سے‬ ‫حواشی کی صحت کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جانا‬ ‫چاہیے۔ اس سے اچھی خاصی لغت سامنے آ سکتی ہے۔‬‫ان حواشی میں مختلف نوعیت معومات فراہم کی گئی ہیں ‪:‬‬ ‫لفظوں کے مفاہیم‬ ‫بعض لفظوں کی زبان کا تعین‬ ‫اشخاص کا تعارف اور ان سے متعلق معلومات‬ ‫مختلف قسم کی اصطلاحات اور محاورات سے متعلق‬ ‫معلومات‬ ‫اس تحریر کے تیسرے حصہ میں پنجابی الفاظ کے ساتھ‬ ‫فارسی حواشی درج کر دیے گیے ہیں تا کہ قاری اس لغت‬

‫کی مدد سے قصے کی بہتر تفہیم کر سکے۔‬ ‫‪.............................‬‬ ‫متولد ‪1-‬‬ ‫آدی‪ :‬لفظ سنسکریت قدیم شعر ‪ 3‬ص‪94‬‬‫آسہ‪ :‬ناامید شدن و مرگ اختیاری شعر ‪ 203‬ص‪293‬‬ ‫آواز‪ :‬آواز شعر‪ 2‬ص ‪91‬‬ ‫آہلناں‪ :‬آشیانہ۔۔۔۔گھونسلہ۔۔۔۔۔ شعر ‪ 35‬ص ‪76‬‬ ‫اپراہدی‪ :‬کار مشکل کنندہ ش‪ 230‬ص‪242‬‬ ‫اجل‪ :‬دانہ ہائے آخر چنیدہ شعر ‪ 3‬ص‪212‬‬ ‫اچھاڑ‪ :‬غلاف شعر‪ 305‬ص‪183‬‬ ‫اڈیوں‪ :‬شعلہ آتش کہ بلند می شود شعر ‪ 1‬ص‪384‬‬‫ارنی ارنی‪ :‬رمزے است از رموز حقیقی کہ در مجاز گفتہ‬ ‫شد شعر ‪ 185‬ص ‪252‬‬ ‫ارداسی‪ :‬عاجزانہ شعر ‪ 286‬ص ‪257‬‬

‫اشتر‪ :‬ہفتاد۔ ہفتاد خچر و شتر بار گراں برداشتہ شعر ‪513‬‬ ‫ص‪193‬‬‫افلاطون و ارسطو در عہد سکندر حکمائے یونان شعر‪77‬‬ ‫ص‪53‬‬‫اکا‪ :‬بالکل آرام نہ داشت استخوان و مغز استخوان میسوخت‬ ‫ہمچوں ہنیرم خورد خشک شد شعر ‪ 515‬ص ‪326‬‬ ‫اکایاں‪ :‬تنگ و لاچار کردہ شعر‪ 174‬ص‪149‬‬ ‫اگوڑی‪ :‬بھن اگوڑی بمعنی تازہ زدہ تن یا پیچ و تاب داد‬ ‫شعر ‪ 426‬ص‪412‬‬ ‫ان جل‪ :‬آب و دانہ شعر ‪ 13‬ص ‪88‬‬ ‫الدنیا غریب‪ :‬دنیا جائے سفر است دریں دنیا جائے قرار‬ ‫نیست بلکہ بےقرار است شعر‪ 278‬ص‪181‬‬ ‫الیماں‪ :‬تیاری فوج شعر‪ 499‬ص ‪193‬‬ ‫ان۔ ماس‪ :‬ان یعنی ہر قسم اناج و ماس گوشت شعر‪2‬‬ ‫ص‪331‬‬ ‫انباروں‪ :‬بسیار خور شعر ‪ 74‬ص‪101‬‬ ‫انٹے‪ :‬بیضہ شعر‪ 9‬ص‪93‬‬

‫ان بدھا‪ :‬بے سوراخی کہ بسیار قیمتدار۔۔۔۔۔ پرارزش۔۔۔۔۔۔‬ ‫باشد مراد از ملکہ خاتون کہ بکر بود شعر ‪ 1‬ص‪140‬‬ ‫ان بدھے‪ :‬بے شگاف یا بے سوراخ شعر ‪ 86‬ص‪234‬‬ ‫انازوں‪ :‬اناج شعر ‪ 255‬ص ‪403‬‬ ‫اوائی‪ :‬خبر آمدن شعر ‪ 242‬ص ‪152‬‬ ‫اوبل‪ :‬جوشندہ شعر ‪ 35‬ص‪168‬‬ ‫اوکڑ‪ :‬مشکل مہم شعر‪ 2‬ص‪92‬‬ ‫ایرا‪ :‬بنیاد زریں شعر‪ 6‬ص ‪133‬‬ ‫این‪ :‬حکم شعر‪ 6‬ص‪94‬‬ ‫ایڈ سپورن‪ :‬بہ بسیار یعنی کہ پیغامہای کسان۔۔۔۔۔ دیگر می‬ ‫برند کہ ایشاں پیغام دیگرے دارند مثال ہر کہ گوید پیغام‬‫رسانند را گویا زاغ درد رسوائی خانہ نہ گرد باورچی خانہ‬‫خود انداختہ کہ بسیار نار او است ازاں کہ ہر چیز بخورد و‬ ‫کرامت بسیار ست شعر ‪ 776‬ص‪329‬‬ ‫بابت‪:‬چیز شعر‪ 306‬ص‪183‬‬ ‫باتی‪ :‬چراغ شعر ‪ 17‬ص ‪75‬‬

‫بادر‪ :‬طاقت شعر ‪ 38‬ص‪83‬‬ ‫باز‪ :‬باز اول بمعنی قوت آنا و باز دوم بمعنی باز شاری‬ ‫شعر ‪ 53‬ص‪125‬‬ ‫باقی‪ :‬لتیلہ از پنبہ کہ در چراغ می سوزو شعر ‪71‬‬ ‫ص‪131‬‬ ‫بانا‪ :‬لباس سبز ۔۔۔۔۔لباس' لباس فقرا۔۔۔۔۔ شعر ‪ 253‬ص‬ ‫‪255‬‬ ‫بائی‪ :‬گفتن بزبان پوٹھوہاری عنوان منزل فقر شعر ‪1‬‬ ‫ص‪41‬‬ ‫ببتا‪ :‬مصیبت‪ :‬شعر ‪ 66‬ص‪131‬‬ ‫ببدی‪ :‬آنا آنکہ ہر چہار طریق طے کردہ بدرجہ علوی‬‫رسیدہ اند از ہمہ لوائث دنیا وی پاک شدہ اند' گناہ و ثواب‬ ‫در آں نمی رسد واللہ اعلم بالصواب شعر ‪ 11‬ص‪40‬‬ ‫بتا‪ :‬فریب شعر ‪ 14‬ص ‪135‬‬ ‫بتا‪ :‬حیلہ و مکر و بہانہ سازی بسیار کردہ شعر ‪173‬‬ ‫ص‪149‬‬ ‫بجگ‪ :‬بفتحہ اول معجمہ کسر دوم معجمہ و سوم فارسی‬

‫مشدد یعنی آفت و بالائے آسمانی مثل برق ژالہ وغیرہ‬ ‫شعر‪ 3‬ص‪343‬‬‫بجگ‪ :‬بجگ یعنی بجیم تازی مکسور کاف فارسی مشد یعنی‬ ‫آفت ناگہانی شعر ‪ 60‬ص‪218‬‬ ‫بدر منیر‪ :‬آوردن لفظ بدر منیرو ملک در آسمانی ایں ہمہ‬ ‫از تلازمہ شاعرے است شعر ‪ 1‬ص‪215‬‬ ‫بدر منیر‪ :‬ماہ چار دہ روزہ و نیز معشوقہ بےنظیر‬ ‫برج ستارہ‪ :‬محاورات نجومیہ را می گویند شعر ‪ 21‬ص‬ ‫‪50‬‬ ‫بشیرلا‪ :‬مار سیاہ شعر‪ 14‬ص‪123‬‬ ‫بک اجاڑی‪ :‬غزالہ بیابانی شعر ‪ 66‬ص‪233‬‬ ‫بل‪ :‬بل در زبان کشمیری محلہ را گویند شعر‪ 36‬ص‪124‬‬ ‫بلی‪ :‬قالو ابلی گفت و رنج و بلا گرفت شعر ‪ 838‬ص‪327‬‬ ‫برم‪ :‬تازیانہ سخت کہ چابک سواراں دارند و اسپ را بدو‬ ‫جنبا آواز آں سخت باشد شعر ‪ 428‬ص‪412‬‬ ‫بن‪ :‬بغیر نوشیدہ شعر ‪ 69‬ص‪234‬‬ ‫بندی‪ :‬خال شعر ‪ 10‬ص‪141‬‬

‫بندے‪ :‬نام زیور شعر‪ 86‬ص‪117‬‬ ‫بندے بندے‪ :‬ساعت بساعت شعر‪ 388‬ص ‪187‬‬ ‫بوٹی‪ :‬پارہء گوشت شعر‪ 102‬ص ‪288‬‬ ‫بہچھن‪ :‬گفتار ہا کہ در بہوشی خواب گفتہ شدد آن بمعنی‬ ‫باشد یعنی اولیا اگر گفتار کنند در فہم نیایند آنہم راست و‬ ‫صحیح بداں ہ یشاں ہر چہ گویند بر لوح محفوظ دیدہ‬‫بگویند و آں رائے نیست اگرچہ آں در فہم ما نیاید۔ قصور‬ ‫افہام عام ست نہ در کلام آن ش‪ 117‬ص ‪248‬‬ ‫بہنی‪ :‬بندوبست تن تمام خوب شعر‪ 12‬ص‪104‬‬ ‫بینک‪ :‬جدا نہ شود شعر‪ 141‬ص‪124‬‬ ‫بےوفائی‪ :‬در زمانہ ہمیشہ رسم بےوفائی است شعر‪12‬‬ ‫ص ‪261‬‬‫پاربدی‪ :‬نام مطرب خسرو پرویز کہ دریں فن بکمال رسیدہ‬ ‫بود شعر ‪ 249‬ص ‪403‬‬ ‫پانی چھڑ دا‪ :‬در آب رفتے شعر ‪ 19‬ص‪129‬‬ ‫پاہرو‪ :‬پہرہ دا۔۔۔۔۔ کشیچکی ۔۔۔۔۔ شعر ‪ 61‬ص ‪136‬‬

‫پتا‪ :‬زہرہ شعر ‪ 7‬ص ‪110‬‬ ‫پج‪ :‬رسیدن شعر ‪ 261‬ص ‪257‬‬ ‫پچریاں‪ :‬پازیب شعر ‪ 428‬ص‪412‬‬ ‫پچھاک‪ :‬پس ماندہ شعر‪ 506‬ص ‪193‬‬ ‫پچھل‪ :‬زلزلہ شعر ‪ 16‬ص ‪116‬‬ ‫پراک‪ :‬یعنی جناں را قوت زیادہ از حد آدم ست کہ چندیں‬‫فریب کنند و لیکن از یک صورت آدمی زورآور است کہ اگر‬ ‫جسم جامہ پاک دارد جن عفریت ظاہری بر غلبہ کردن‬ ‫نتواند باایں چنیں اگر در باطن پاکی باشد نفس و شیطان را‬ ‫قوت غلبہ نہ باشد شعر‪ 181‬ص‪149‬‬ ‫پرچتی‪ :‬بہ گناہ گار رحم کردی شعر‪ 462‬ص‪165‬‬ ‫پرکالے‪ :‬پرزہ شد شعر‪ 332‬ص‪183‬‬‫پروے‪ :‬پارچہ کہ از آں آرد آسیا کنند شعر ‪ 125‬ص‪221‬‬‫پکیرا‪ :‬اشارت ست بداں خلق آدم کہ حسن ذات او وظاہر شد‬ ‫مخفی نماند یعنی اول عشق و محبت خود شروع کردی کہ‬ ‫انسان را برائے دوستی جز آفریدے و او را انسان مرے‬ ‫وانا سرہ شعر‪ 125‬ص‪289‬‬

‫پکھیرو‪ :‬ہر پرندہ را گویند ص ‪238‬‬ ‫پگسی‪ :‬میرسد شعر‪ 65‬ص‪90‬‬ ‫پلچھی‪ :‬خشک شدن زبان در دہان شعر ‪ 175‬ص‪292‬‬ ‫پلنگر‪ :‬نام زنگی کہ با سکندر جنگ کرد شعر‪ 12‬ص‪91‬‬‫پون بازاں‪ :‬پون بازاں آنکہ بر یک ساریک دہر ثانی شش و‬ ‫بر ثالث بر شش او تیران بر یک سار پنج بر دو دوم شش‬ ‫بر سوم دو آنرا تیرہ گفتہ شعر ‪ 537‬ص‪195‬‬ ‫پوند‪ :‬پوند اول مفتوح و واو ساکن و نون غنہ یعنی اول و‬‫نخست و ایں لفظ زبان پنجابی ست در علاقہ بھیرہ خوشاب‬ ‫ایں شال گویند شعر ‪ 917‬ص‪331‬‬ ‫پوئے‪ :‬بازی قمار پوئے یک پون دوئے دو پون پنج پنج‬ ‫پون چھکے شش پون شعر‪ 85‬ص ‪144‬‬ ‫پہاڑہ‪ :‬خوشامد کنندہ شعر ‪ 158‬ص‪291‬‬ ‫پنہیاں‪ :‬آنکہ حاکماں بہ طریق بیگار آسیا کنا نند یعنی‬ ‫بادشاہ عشق تراہم آسیا گردانے عشق فرمودہ شعر ‪42‬‬ ‫ص ‪263‬‬ ‫پیٹر پنیٹر‪ :‬پیچ و تاب شعر ‪ 166‬ص‪175‬‬

‫تراہے‪ :‬مثل جنبش ناگہاں شعر ‪ 277‬ص ‪154‬‬ ‫تاڑی‪ :‬دستک زدن شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬ ‫تاڑی‪ :‬دیدشعر ‪ 355‬ص‪185‬‬‫تریہرے‪ :‬کچے باراں آنکہ بریک ساکانہ باشد و بر دوم پنج‬ ‫و بر سوم شش آزا کچے شہر دہ دراصلاح قماریان شعر‬ ‫‪ 536‬ص‪195‬‬ ‫تسلے‪ :‬سختی شعر ‪ 96‬ص ‪133‬‬ ‫تغلے‪ :‬خورند شعر‪ 24‬ص‪98‬‬ ‫تکڑی‪ :‬طاقتور شعر ‪ 23‬ص ‪111‬‬ ‫تکیاں لہلان وگن‪ :‬از دیدن آں میوہ از دہان آب شعر‪65‬‬ ‫ص‪100‬‬ ‫تہاراں‪ :‬تیغ کوہ شعر‪ 18‬ص‪88‬‬ ‫توڑی‪ :‬انتہا شعر‪ 20‬ص‪98‬‬ ‫توڑی‪ :‬شکستہ شعر‪ 20‬ص‪98‬‬

‫تلو پسلے‪ :‬بے آرام‪ :‬شعر‪ 14‬ص ‪114‬‬ ‫تلیاں‪ :‬اول معنی کف دست دوم بمعنی سوزم ش‪193‬‬ ‫ص‪240‬‬ ‫تلیر‪ :‬نام پرندہ شعر ‪ 23‬ص ‪111‬‬ ‫تن حویلی‪ :‬تن حویلی است دراں کہ فدا ہستی و جان ہم‬ ‫مکان تست شعر‪ 264‬ص‪296‬‬‫تہاڑی‪ :‬ٹوپہ کہ بدو غلہ وزن می کنند ش‪ 327‬ص‪155‬‬ ‫تہوے‪ :‬یعنی کاوے زمین شعر ‪ 79‬ص‪219‬‬‫ٹلا‪ :‬ٹلا بتائے ہندی مفتوح و ثانی مشد چوب کلاں کردہ‬‫بستہ را گویند کہ در دریا برائے سوار شدن اندختہ بر او‬ ‫سوار شدند شعر‪ 6‬ص‪167‬‬ ‫ٹلا‪ :‬نام کوہ شعر ‪ 16‬ص ‪111‬‬ ‫ٹنگار‪ :‬ناز و نخرے شعر‪ 66‬ص‪115‬‬ ‫ٹنگے‪ :‬آویختہ شعر‪ 10‬ص‪128‬‬ ‫ٹہل دیون‪ :‬در دریا زنند شعر ‪ 67‬ص‪233‬‬ ‫جال‪ :‬سہ معنی دارد‬

‫اول آلہ ماہی گرفتن کہ از رشتہ تنبدہ سازند‬ ‫دوم بر تافتن و طاقت آں داشتن‬ ‫سوم سوختن‬‫یعنی آنچہ جال بنیدہ در دریا تحمل و حوصلہ کردا خاموش‬ ‫نشیند اگر ماہی گیر بیند ماہی گیر را غم آں می سوزد‬ ‫شعر ‪ 25‬ص‪333‬‬ ‫جان‪ :‬اگرچہ واقف راز دار۔۔۔۔۔دوست۔۔۔۔ ہمراہ باشد چوں‬‫بوصل یار تنہائی پسند باشد و تن کہ ہمراہ و ہمسایہ است‬ ‫آنکہ حجاب دارد دہیدہ باید ابا جاناں رسیدہ شعر ‪99‬‬ ‫ص‪220‬‬ ‫جانی‪ :‬جان جان توے شعر ‪ 296‬ص‪298‬‬ ‫جائی‪ :‬اول بمعنی زائیدہ جائی بمعنی رفتن شعر‪ 426‬ص‬ ‫‪189‬‬ ‫جریاں‪ :‬طعمات کہ گوشت و ساگ آمیختہ پزند بسیار لذیذ‬ ‫باشد شعر ‪ 8‬ص ‪230‬‬ ‫جستہ‪ :‬نام سازیست کہ از نواختن آن با خفتہ و بیہوش‬ ‫شدہ را خیزانیدہ ہمہ را باز بخانہ خود روانہ گرداند‬

‫شعر‪ 271‬ص ‪256‬‬ ‫جگ‪ :‬زمانہ گذشتہ بزبان سنسکریت شعر‪ 3‬ص‪20‬‬ ‫جل‪ :‬آب شعر ‪ 23‬ص‪129‬‬‫جلدی‪ :‬اول بمعنی شتابی دوم بمعنی سوختہ شعر‪ 13‬ص‬ ‫‪265‬‬ ‫جلے‪ :‬جنبیدن شعر‪ 21‬ص ‪168‬‬ ‫جنڈ‪ :‬گر اندا ہر دو نام درخت ہائے خار دار شعر‪51‬‬ ‫ص‪130‬‬ ‫جنڈ‪ :‬خار‬ ‫جنے دی‪ :‬جوان خوبصورت کی شعر‪ 273‬ص‪181‬‬ ‫جوڑی‪ :‬جفت ' پیوستہ شد شعر‪ 193‬ص‪150‬‬ ‫جون‪ :‬ہر قسم حیواناات شعر‪ 282‬ص‪297‬‬ ‫جہتباں‪ :‬زخمان خار شعر ‪ 86‬ص ‪132‬‬ ‫جی‪ :‬دل شعر ‪ 27‬ص‪199‬‬ ‫جیبی‪ :‬زبان شعر‪ 48‬ص‪99‬‬ ‫چاٹ‪ :‬شوق و لذت چہ افتاد تر شعر‪ 801‬ص‪325‬‬

‫چار مہینے‪ :‬قولہ چار مہینے الخ از صوفیائے کرام و دیگر‬ ‫فیلسوف ۔۔۔۔۔فیلسوفان ۔۔۔۔۔ آوردہ اند کہ ابتدائے وقت تعلیم‬‫چہار سال چہار ماہ چہار ایام است چرا کہ عمل نمودن نشان‬ ‫زیادتی علوم است شعر‪ 49‬ص ‪51‬‬ ‫چاندی‪ :‬چہرہ مانند آفتاب بود و بینی دراں چشمہ مثل ماہی‬ ‫سیمیں سپید گال داشت یعنی از جلوہ رخ شب تار روشن‬ ‫شدے ‪ 23‬ص‪141‬‬ ‫چاہ‪ :‬چاہ دو معنی دارد ایں جا مراد ہر دو است چیزے‬ ‫نوشیدنے و نیز نام محبت و خواہش شعر ‪ 418‬ص‪304‬‬ ‫چبہ‪ :‬چبہ قوت است در مضافات کوہ و ریاست کشمیر کہ‬ ‫خود را در اقوام عالیہ مے شمارد شعر‪ 121‬ص‪289‬‬ ‫چتے‪ :‬بےشرمی' دلیری شعر‪ 27‬ص ‪105‬‬ ‫چٹا پونی‪ :‬بررنگ سپید شعر‪ 336‬ص‪183‬‬ ‫چٹکے‪ :‬عشق شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬ ‫چر‪ :‬دیگدان کلاں شعر ‪ 27‬ص ‪262‬‬‫چشماں‪ :‬چشم کشادہ بہرجائے کہ دیدے چشم او مثل کٹار بر‬ ‫دل کردہ دلہا را لینا کردن شعر ‪ 14‬ص‪215‬‬

‫چکی‪ :‬برداشتہ شعر‪ 287‬ص‪182‬‬ ‫چنگ‪ :‬نام سازے است شعر ‪ 51‬ص ‪227‬‬ ‫چنگوں‪ :‬سارنگی شعر ‪ 135‬ص ‪147‬‬ ‫چنن‪ :‬نام درخت کہ ماربر آں باشند شعر ‪ 7‬ص‪140‬‬ ‫چنے چباں‪ :‬یعنی لوہے کے چنے مراد از تکلیف۔۔۔۔۔۔‬ ‫زحمت ۔۔۔۔۔۔ بسیار شعر‪ 429‬ص‪163‬‬ ‫چوراسے‪ :‬در فکر اندیشہ شعر ‪ 62‬ص ‪136‬‬ ‫چوکڑیاں‪ :‬جنبیدن شعر ‪ 33‬ص‪124‬‬‫چوہدیں‪ :‬ماہ چہار دہم بدرہ خاتون زیادہ سر سیاہ راوید‬ ‫حیران ایستادہ بودہ خورشید چہرہ ۔ چہرا صاعد دیدہ‬‫خورشید از شرم زیر زمین پوشیدہ بود بہ حد بست بیان‬ ‫بودہ شعر‪ 584‬ص‪314‬‬‫چیرے‪ :‬چیرا منزلے از منازل عمارات بلند شعر ‪ 7‬ص‬ ‫‪133‬‬ ‫چیتے‪ :‬اول چیتے بمعنی پلنگ دوم بمعنی ہوشیار شعر‬ ‫‪ 512‬ص‪193‬‬‫چیج بہوٹی‪ :‬نام کرمی است کہ رنگش بسیار سرخ باشد‬

‫شعر ‪ 91‬ص ‪229‬‬ ‫حبسی‪ :‬بخشش یافتہ شعر‪ 465‬ص ‪191‬‬ ‫حسن میمندی‪ :‬وزیرے بود شاہ محمود غزنوی ۔۔۔۔۔۔یکی از‬ ‫وزرای پادشاہ ۔۔۔۔۔ شعر ‪ 54‬ص‪33‬‬ ‫حے‪ :‬شہر ازاں جائے کہ سلیم نامی شتربان آمدہ بہ نجد‬ ‫رسیدہ بمجنون ملاقی شعر ‪ 11‬ص ‪225‬‬ ‫خاکوں‪:‬از آدم شعر ‪ 479‬ص‪369‬‬‫خضر‪ :‬بہت نیک اور عمر رسیدہ آدمی کو خضر سے تشبیہ‬ ‫دی جاتی ہے شعر‪ 48‬ص‪22‬‬ ‫دانے‪ :‬عقلمند شعر‪ 491‬ص ‪191‬‬ ‫دایا‪ :‬حوصلہ شعر ‪ 72‬ص‪218‬‬ ‫دروگ‪ :‬غار تاریک ش‪ 99‬ص‪172‬‬ ‫دل بستہ‪ :‬معشوق و تن بستہ از خستگے دہم راہ بیرون‬ ‫بستہ و بند شدہ شعر‪ 244‬ص‪358‬‬ ‫دمڑی لے کروڑاں بخشیں مراد بخشش است از جناب پیر‬‫پیران شاہ کہ سوا لاکھ دمڑی۔۔۔۔۔سکہ۔۔۔۔۔۔ ہر روز نیاز ایشاں‬ ‫در نذر شود دہندہ حاصل شود شعر‪ 214‬ص‪178‬‬

‫دنگا‪ :‬اگر موئے تراکے غم کند یعنی اندک دہد من بدو‬ ‫جنگ کنم دنگا نفح جنگ را گویند شعر‪ 28‬ص ‪268‬‬‫دنیا اے‪ :‬اشارہ بایں وہا خلقت الجن و الانس یعبدون شعر‬ ‫‪ 214‬ص‪294‬‬ ‫دوہدل‪ :‬شیردار ش‪ 179‬ص‪239‬‬ ‫دہاڑے‪ :‬شب رفتہ و روز آمد شعر ‪ 88‬ص‪394‬‬ ‫دہمیں‪ :‬صبح روشن شعر ‪ 274‬ص ‪279‬‬ ‫ڈٹھا‪ :‬بارش باریدن ش‪ 379‬ص‪160‬‬ ‫ڈل ڈل کر دے نین‪ :‬پشیمان روداری گویا در دل آید یعنی‬ ‫در بحر عظیم غرق شدہ اند ازیں باعث حال دل بود‬ ‫شعر‪ 801‬ص‪325‬‬ ‫ڈولی‪ :‬آں محاورہ کلس یعنی فرق سر آن شعر‪299‬‬ ‫ص‪182‬‬ ‫ڈولی‪ :‬اول بمعنی عمارہ دوم ڈولے بمعنی وجہءساخت‬ ‫سوم ڈولے لرزیدن شعر‪ 306‬ص‪183‬‬‫ڈولے‪ :‬اول تراشیدہ دوم بازو مثل شیر شعر ‪ 19‬ص ‪265‬‬ ‫ڈولے‪ :‬بہ بازویئ ہر شیر بستہ تیار کردہ کاریگر تعویز‬

‫چوکی یعنی بازوبند شعر ‪ 125‬ص ‪140‬‬ ‫ڈوری‪ :‬حیرانی شعر ‪ 65‬ص‪233‬‬ ‫ڈورے بھورے‪ :‬نیم خواب مستانہ شعر ‪ 403‬ص‪304‬‬ ‫ڈہاں‪ :‬ختم شعر ‪ 34‬ص ‪262‬‬ ‫ذیلے‪ :‬در تابع شعر‪ 70‬ص‪100‬‬‫رام‪ :‬آں کس است رام یعنی دوست او کہ عشق آں در سینہ‬ ‫باشد چوں عاشق را معشوق بکمال باشد ہماں یار او را‬ ‫بمنزلہ معبود گردو شعر‪ 139‬ص‪272‬‬‫رب ملانی‪ :‬مردم را کار کردن باید حیران و مایوس نہ شدن‬ ‫باید کامرانی بدست ایزد متعال ست شعر ‪ 297‬ص‪155‬‬ ‫رٹاں‪ :‬شہپر شعر ‪ 157‬ص‪148‬‬ ‫رکھی‪ :‬بے لذت و بے مزہ و خشک شعر ‪ 167‬ص‪149‬‬ ‫رن‪ :‬میدان جنگ شعر ‪ 5‬ص‪77‬‬‫رنگ پتنگ‪ :‬رنگ تو مثل شمع بود ۔ اکنوں پروانہ پریدہ و‬ ‫سوختہ پرندہ شدند و پتنگ دو معنی دارد اول پروانہ دوم‬ ‫پتنگ کاغذی کہ ہوا می پرانند شعر ‪ 800‬ص‪325‬‬ ‫روندی‪ :‬تہ مرگ گل خوش رنگ روایت دیدران نوا خوش‬

‫نالہائے را رو است در عین وصل ایں ۔۔۔۔۔ نالہءفرہاد داشت‬ ‫و ما را جلوہءمعشوق در ایں کار داشت شعر‪ 81‬ص ‪287‬‬ ‫زال‪ :‬نام پہلوان' نام پدر رستم‬ ‫زبور‪ :‬کتابے است الہامیہ کہ بر نبی حضرت داؤد علیہ‬‫السلام نازل شدہ بود قصائد و غزل وغیرہ در و منقول است‬ ‫ازتیں شعرائے عجم ازاں اقتباس می کنند شعر ‪ 28‬ص‪68‬‬‫زہرہ‪ :‬نام ستارہ ایست بر آسمان سوم کہ سعد است و طالع‬ ‫از و نیک گردو شعر ‪ 260‬ص‪358‬‬‫زی مسلم‪ :‬مراد قصیدہ بردہ ۔۔۔۔۔۔۔حضرت رسالت مآب صلی‬‫اللہ علیہ وسلم کہ بیعت رضوان زیر درخت ببول کہ آں را‬ ‫در زبان عربی مسلم میگویند بدیں وجہ زی مسلم خطاب‬ ‫حضور پرنور را مخاطب فرمود شعر‪ 402‬ص ‪188‬‬ ‫سات سر۔ سرندے‪ :‬ہفت سر۔ سرندے نام سازیست شعر‬ ‫‪ 250‬ص‪402‬‬ ‫سار‪ :‬آہنی ہتھیار ‪.....‬سلاح آہنی ۔۔۔۔۔۔۔ شعر ‪ 17‬ص‪93‬‬ ‫ستار‪ :‬نام ساز شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬

‫سارنگ‪ :‬سے رنگ صد رنگ۔ نام راگ شعر ‪250‬‬ ‫ص‪403‬‬ ‫ساس اوڈن‪ :‬جان بلب شعر‪ 30‬ص‪129‬‬‫سالک‪ :‬اشارت ست بآن سالک کہ بمنزل قریب ولایت رسیدہ‬ ‫در کشف و کرامات خوش شدہ مشغول انداز قرب محبوب‬ ‫اصلی دور د محبوب دارند منازل دیگر شعر‪ 194‬ص‪341‬‬ ‫سانگاں‪ :‬تیاری ایشاں شعر ‪ 7‬ص ‪109‬‬ ‫ست تار‪ :‬ہفت تار سرایند شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬ ‫سجناں‪ :‬اگر تو با من اتفاق کردی تا حیات دنیا مرا پری‬ ‫برتیوں خوش آمدے شعر ‪ 210‬ص‪294‬‬ ‫سجی‪ :‬خاکستر شعر ‪ 130‬ص‪147‬‬ ‫سدھر‪ :‬خواہش و طلب شعر‪ 30‬ص ‪105‬‬ ‫سردار جیاں‪ :‬سردار جانداراں شعر‪ 46‬ص‪99‬‬ ‫سرسامے‪ :‬نام پدر زال شعر ‪ 12‬ص ‪109‬‬ ‫سرکردے‪ :‬اول سرکردہ سسررداراں دووم سر را قربان‬ ‫کردن شعر‪ 449‬ص ‪190‬‬ ‫سرگاہیں‪ :‬پامال کردن شعر ‪ 87‬ص ‪132‬‬

‫سعد‪ :‬نام ستارہ ایست کہ سعد اکبر ست و آں قاضی فلک بر‬ ‫آسمان ششم باشد شعر‪ 270‬ص‪358‬‬ ‫سلوتر‪ :‬سوال و جواب برابری شعر ‪ 183‬ص‪292‬‬ ‫سمد‪ :‬خبر نیامدن شعر‪ 123‬ص ‪146‬‬ ‫سنا‪ :‬چنداں راز ہا کشودن نتواند کہ کار ہائے ضروری‬ ‫بسیار اند دیار دکر انتظار قصہ ش ‪ 67‬ص‪169‬‬ ‫سنی‪ :‬سنے بمعنی نامور شعر ‪ 60‬ص ‪227‬‬ ‫سنسار‪ :‬جانور آبی شعر‪ 36‬ص‪169‬‬ ‫سنگٹھاں‪ :‬بندش گلوے شعر ‪ 79‬ص ‪142‬‬ ‫سنے وزیراں‪ :‬با وزیراں شعر‪ 294‬ص‪182‬‬ ‫سنیئر‪ :‬سننے والا۔۔۔۔۔۔ کسی کے طعن و تشنع می شنود‬ ‫شعر‪ 115‬ص‪248‬‬ ‫سوانی‪ :‬زنان اصیل شعر‪ 306‬ص‪183‬‬ ‫سودا‪ :‬صد ہنر۔سودا یعنی دل۔ سودا نام مرض ست‬ ‫شعر‪ 554‬ص‪312‬‬ ‫سہور‪ :‬سسرال شعر ‪ 148‬ص‪222‬‬

‫سوراخ درگ‪ :‬غار تاریک شعر‪ 33‬ص‪115‬‬ ‫سہاندے‪ :‬خرگوش شعر‪ 20‬ص‪91‬‬ ‫سہانے‪ :‬نام حکیم یونان شعر ‪ 78‬ص‪53‬‬ ‫سہیلی‪ :‬خوب صفادموزدن شعر‪ 14‬ص‪123‬‬‫سہیلی اردو لفظ ہے۔ فارسی میں مونث مذکر نہیں ہے لہذا‬ ‫یار۔۔۔یاراں' دوست۔۔۔۔دوستاں‬ ‫سیاں‪ :‬سہلیاں شعر ‪ 184‬ص ‪274‬‬ ‫سیاہی‪:‬تہمت شعر ‪ 479‬ص‪369‬‬ ‫سیلے‪ :‬نام سلاح جنگ شعر ‪ 6‬ص ‪109‬‬ ‫سیاں‪ :‬سہیلیاں۔۔۔۔۔دوستاں۔۔۔۔۔۔ شعر‪ 338‬ص‪183‬‬ ‫سیہے‪ :‬خار پشت شعر‪ 24‬ص‪115‬‬ ‫شارت‪ :‬بے الف یعنی اشارت برائے وزن دور کردہ شد‬ ‫شعر ‪ 527‬ص‪310‬‬ ‫شارستانے‪ :‬زلال آب بہ صفت موصوف سرد و شریں و‬ ‫کوزہ آں آبہائے شارستان مثل زلال بود‬

‫شعر‪ 846‬ص‪327‬‬ ‫شریں و شکر‪ :‬ہر نام شاہزادیاں خسرو پرویز بود بسیار‬ ‫خوبصورت شعر ‪ 24‬ص‪142‬‬ ‫شکر وپچن والا‪ :‬شکر فروش عمرت دراز بارے چرا بہ‬ ‫نقصدے نکنی عندلیب شیدا را شعر‪ 9‬ص ‪260‬‬ ‫شمس پری‪ :‬سعدین ددو ستارہ ایست وقتیکہ ہر دو از‬‫مقامے دروے طلوع شوند آن را مبارک دانند و بچہ ای در‬‫آن ساعت پیدا شد او را مبارک و نیک نہاد می دانند شعر‬ ‫‪ 97‬ص‪247‬‬‫شہابی‪ :‬نام ستارہ کہ او را بر شیطان زنند چوں ببر آسمان‬ ‫رود شعر‪ 351‬ص‪357‬‬ ‫شہزادی‪ :‬مراد ملکہ خاتون شعر‪ 321‬ص‪183‬‬‫شیرے‪ :‬مراد حاجی بگا شیر درکالی شریف رحمتہ اللہ علیہ‬ ‫شعر ‪ 36‬ص‪20‬‬ ‫ضاعیں‪ :‬ضائع شعر‪ 90‬ص ‪145‬‬‫عجائز‪ :‬نام پری مصورہ بمعنی طویل العمر شعر‪ 26‬ص‪68‬‬ ‫عذرا بدر منیر‪ :‬عذرا بدر منیر در بلاد عرب دو مشہور‬

‫عاشق و معشوق گذشتہ اند ‪ 34‬ص‪142‬‬‫عنبر اشہب‪ :‬نام قسمے از عنبر کہ بسیار قیمت دار باشد و‬ ‫بر مغز مالند شخصے بیہوشی گرمی آید و از گرمی عشق‬ ‫چوں بیہوش شدند آں زمان ہم بکار آید کہ مفید است شعر‬ ‫‪ 51‬ص‪339‬‬‫عود وجود‪ :‬خود را آتش سوختہ بود خود را نابود کرد شعر‬ ‫‪ 354‬ص ‪185‬‬ ‫غول‪ :‬دیوے۔۔۔۔دیواں کہ مردم را از راہ بردہ ترساند شعر‬ ‫‪ 94‬ص ‪132‬‬ ‫فرہاد‪ :‬فرہاد شہزادہ چین بود زنجار در اخبار دیدہ شدہ‬‫مولوی نظامی و امیر خسرو این فرمودہ در شرین و خسرو‬‫آں عشق کہ ما ایشاں ظلم یا عدل کرد ہماں عشق جانب بدیع‬ ‫الجمال شعر ‪ 215‬ص ‪276‬‬ ‫فرہاد‪ :‬فرہاد شنیدہ بود کہ شیریں ازیں جہاں رفت فرہاد نیز‬ ‫برائے جستجوئے او بداں جہاں رفتہ و از بر داشتن غم‬ ‫عاجز شدہ شعر ‪ 37‬ص‪130‬‬ ‫قابو‪ :‬گرفتار شعر‪ 44‬ص ‪106‬‬ ‫قائم سما‪ :‬بجائے شیشہ و گل کار از کردہ شدہ و گروہ اش‬

‫مثل آسمان گردندہ و آں گنبد است شعر‪ 59‬ص‪125‬‬ ‫قرانی‪ :‬نزدیکی شعر‪ 24‬ص ‪114‬‬ ‫قلاچ‪ :‬سہ نیم ہفت کہ دو گز باشد قدر کم عر ‪344‬‬ ‫ص‪300‬‬ ‫قلم ربانی‪ :‬قلم ربانی در دست ولی است ہہر چہ خواھد‬ ‫بنوید شعر‪ 60‬ص‪169‬‬ ‫کاٹھی‪ :‬پرات چوبی شعر‪ 28‬ص ‪114‬‬‫کافوں‪ :‬کاف و نون مراد از کن فیکون شعر ‪ 249‬ص ‪403‬‬ ‫کان‪ :‬برائے فرزند دعا مے کردے شعر‪ 58‬ص‪169‬‬ ‫کرپا‪ :‬مہربانی ش‪ 379‬ص‪160‬‬ ‫کپر‪ :‬برسرخود شعر ‪ 133‬ص‪222‬‬ ‫کتھا‪ :‬بیان شعر‪ 22‬ص‪123‬‬ ‫کٹھا‪ :‬زوند بدن و سینہ جمع کنم شعر‪ 282‬ص‪297‬‬ ‫کٹھاں‪ :‬گوشہ ہا شعر‪ 70‬ص‪101‬‬ ‫کج‪ :‬دو راز دوستی من بگریز ست شعر ‪ 211‬ص‪294‬‬ ‫کراری‪ :‬نمکین و لذیذ شعر ‪ 28‬ص‪123‬‬

‫کریوں‪ :‬شتر شعر‪ 16‬ص ‪28‬‬ ‫کستہ کردہ شعر ‪ 26‬ص ‪111‬‬ ‫کل‪ :‬نسل من ‪ 344‬ص ‪184‬‬ ‫کلاں‪ :‬شیر از جادو تیار کردہ نہادہ کہ حملہ اندک کردند‬ ‫شعر ‪ 111‬ص ‪139‬‬‫کلاں‪ :‬حکمت آنچناں برائے ترسائیدن دیگراں نہادہ اند شیر‬ ‫جہاندار نبود شعر ‪ 118‬ص ‪139‬‬ ‫کلچیٹ‪ :‬۔۔۔۔۔۔ کلچیت۔۔۔۔۔۔۔ پرندہ ایست کہ خوش گلو باشد‬ ‫شعر‪ 13‬ص‪17‬‬ ‫کلس‪ :‬فق سسراں شعر‪ 305‬ص‪183‬‬ ‫کلی‪ :‬قلعی شعر ‪ 36‬ص‪33‬‬ ‫کمام‪ :‬کارہائے شعر ‪ 56‬ص‪201‬‬ ‫کماناں‪ :‬مژگاں شعر‪ 12‬ص‪123‬‬ ‫کن‪ :‬کدام شعر‪ 98‬ص ‪145‬‬ ‫کنڈ‪ :‬پشت دادہ براے اینکہ سوئے ایشاں نہ بینی شعر ‪91‬‬ ‫ص‪127‬‬

‫کنڈھی‪ :‬کنارہ دریا شعر‪ 26‬ص‪168‬‬ ‫کنڈے دی اری‪ :‬پشت مثل آرہ برکشتی زدہ او را پارہ پارہ‬ ‫کردن شعر‪ 90‬ص‪101‬‬ ‫کنگ‪ :‬لفظ اصلی کنگاش است بمعنی مشورہ' باہم صلاح‬ ‫کنندہ شعر ‪ 150‬ص‪223‬‬ ‫کوکھ‪ :‬شکم شعر‪ 336‬ص‪183‬‬ ‫کوہ کوہ‪ :‬پہاڑ ش‬ ‫کیں‪ :‬کس در شعر‪ 27‬ص‪80‬‬‫گاتر‪ :‬دونے کہ تیغ در گردن بداں آویزند و کمر دوال کمر ہ‬‫بداں کمربہ بند دو مردان جنگ قسم بداں کنند شعر‪ 251‬ص‬ ‫‪296‬‬ ‫گٹھے‪ :‬خاک' گم شد شعر‪ 101‬ص ‪145‬‬‫گڈیاں‪ :‬گڈیاں کہ دختران در اول عمر بایشاں بازی کننددہ‬ ‫و باہم نشستہ بیک دیگر ازدواج کنند شعر‪ 137‬ص‪272‬‬ ‫گزاری‪ :‬روز رفت و شب رسید شعر ‪ 72‬ص ‪228‬‬ ‫گل داؤدی منہ دے وانگر‪ :‬سرنگوں نہادہ شکل پستان‬ ‫نوخاستہ شعر‪ 2 8‬ص‪141‬‬

‫گلگل‪ :‬نام میوہءترش شعر ‪ 259‬ص ‪278‬‬ ‫گمانی‪ :‬چال شان دار شعر‪ 17‬ص‪91‬‬ ‫گرنڈے‪ :‬خار‬ ‫گنگی‪ :‬آب گنگ بسیار صاف است شعر ‪ 424‬ص‪412‬‬ ‫گنیاں‪ :‬ہنرمند چہ کن بکاف فارسی مضموم بسکون نون‬ ‫ہندی مردارا گویند در زبان ہندی شعر ‪ 26‬ص‪199‬‬ ‫گوراں‪ :‬قبراں شعر ‪ 109‬ص ‪495‬‬ ‫گوڈریاں‪ :‬گلیم ہا شعر ‪ 50‬ص‪280‬‬ ‫لاڈ‪ :‬بر ناز او غرہ نباید شد چرا کہ اول بناز فریب دادہ‬ ‫شیفتہ خود کند چنانچہ برادران یوسف اول بدوش برداشتند‬ ‫باز بچاہ انداختند شعر ‪ 5‬ص‪97‬‬ ‫لتڑایا‪ :‬دراز شد گو در خواب شد شعر ‪ 51‬ص‪130‬‬ ‫لکھے دھر درگا‪ :‬لکھی یعنی نوشتہءتقدیر ش‪141‬‬ ‫ص‪237‬‬ ‫لالی‪ :‬سرخی شعر ‪ 84‬ص‪234‬‬ ‫لولاکی‪ :‬لولاکی مراد ایں است کہ اللہ ثعالی نبی علیہ السلام‬‫را ارشاد فرمودا گر ترا پیدا نہ کردم چیزے را نیا وردم شعر‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook