گو من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو :گویم نگویم بولوں کہ نہ بولوں .کہا' نہ کہا .کیا' نہ کیا کچھ مرکب آوازیں جن کے کوئی ذاتی معنی نہیں ہوتےلیکن لفظوں کو نئی معنویت سے ہم کنار کرتی ہیں۔ مثلا ئی اور ئے ئی :دریائی' گرمائی' شرمائی خواجہ صاحب کے ہاں اس کا استعمال ملاحظہ ہو۔ ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو ئے :آئے' پائے' جائے جائے' جگہ اور جانے سے متتعلق ہے۔ مثلا
وہ جائے گا۔ قیامت کے روز شیطان کو جائے پناہ میسر آ سکے گی۔ خواجہ صاحب کے ہاں اس کا استعمال ملاحظہ ہو۔ تا کہ من مست از تجلی ہائے ربانی شدم حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین اردو میں رائج الفاظشاہ حسین بادشاہ دین دین پناہ سر دست یزید کہ بنائے لا الہ جان منزل جانان محمد صد کشا دل از جان باغ و دیگر قرآں بستان محمد غم اے آب و گل جان و دل تا بہ یژب افغان دیگر برسر واں کہ یاور برہان محمد خون عاشقعشق اگر ہدر فردا دوست تاوان درد زخم عصیاں غم مرہم شفاعت درمان محمد مستغرق ہرچند عذر پژمردہ باران گلستان احمد مرجاں عمان محمد یا رب کہ اندر نور حقفانی مطلع انوار فیض ذات سبحانی ذرہ ذرہ از طالب دیدارتا کہ مست از تجلی ہائے ربانی زنگ غیرت مرآت دودعشق تا واقف اسرار پنہانی بیروں ظلمت ہستی تا نور
ہستی دانی گر دود نفس ظلمت پاک سوختہ امتزاج آتش عشق تو نورانی خلق راہ را بدشواری اے عفاک اللہ کہ بارے بآسانی دم بدم روح القدس اندر معینی مگر عیسیثانی اگر حقیقت وجود خود بینی قیام جملہ اشیاء بہبود خود بینی دجود نار موسوی اگر از سر تو دود خود بینی قعر لجہ توحید عشق کہ گنج مخفی حق را نفود خود بینی بہقصر عشق ترا پایہ از سر کہ تخت ہر دو جہاں خود بینی تو فرشتہ نظر جمال دوست نہ لعیں کہ ہمیں سجود خود بینیشاید کہ تا دنا خود بینی آ و نور دوست نگر تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی اگر آئینہ زنگ حدوث بزوائی جمال شائد حق شہود خود بینی بند دیدہ اعیاں کہ تا ز عین عیاں وجود دوست جان وجود خود بینی بزم گدایاں شہ نشاں خودی کہ تا نتیجہ احساں وجود خود بینی آ بہ مجلسمسکیں معین شوریدہ کہ نقل و بادہ گفت و شنود خود بینی انا الحق یار مرا دلدار بار اندر صومعہ با زاہداں بے تحاشا سر بازار محرم با در و دیوار سر منصوری نہاں حد ہم ہم دار آتش عشق درخت جان من زد علم با موسی آں یارنیم مدام اسرار اے صبا کہ پرسدت طالب دین سلطان محمد معیں دوئی میاں دار خویش خانہ بروں ازیں خانہ بروں ازیں
خویش :اول خویش بعد درویش' معروف مقولہ ہے۔ امروز :ایک اردو اخبار اس نام سے شائع ہوتا رہا ہے۔ ..................اس معروف چومصرعے کے چاروں ابتدائی لفظ اردو میں بھی مستعمل ہیں۔ شاہ ہست حسین پادشاہ ہست حسین دین ہست حسین دین پناہ ہست حسین سر داد نداد دست در دست یزید حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین .................. اگلے دس شعروں کے قوافی ملاحظہ ہوں جانان' جان' گلستان' باران' باران' تاوان' سلطان' برہان' افغان' بستان
در جان چو کرد منزل جانان ما محمد صد در کشا در دل از جان ما محمد ما بلبلیم بالاں در گلستان احمد ما لولوئیم و مرجاں عمان ما محمد مستغرق گناہیم ہر چند عذر خواہیم پژ مردہ چوں گیاہیم باران ما محمداز درد زخم عصیاں مارا چہ غم چو سازد از مرہم شفاعت درمان ما محمد امروز خون عاشق در عشق اگر ہدر شد فردا ز دوست خواہم تاوان ما محمد
ما طالب خدایئم بر دین مصطفائیم بر در گہش گدائیم سلطان ما محمد از امتاں دیگر ما آمدیم برسر واں را کہ نیست یاور برہان ما محمداے آب و گل سرودے وی جان و دل درودے تا بشنود بہ یژب افغان ما محمد در باغ و بوستانم دیگر مخواں معینے باغم بشست قرآں بستان ما محمد خواجہ معین الدین چشتی ..................
ان سات اشعار کے قوافی سے متعلق الفاظ' اردو میں رواج رکھتے ہیں فانی' سبحانی' ربانی' پنہانی' دانی' نورانی' بآسانی' ثانی ایں منم یا رب کہ اندر نور حق فانی شدم مطلع انوار فیض ذات سبحانی شدم ذرہ ذرہ از وجودم طالب دیدار گشت تا کہ من مست از تجلی ہائے ربانی شدم زنگ غیرت را ز مرآت دلم بزدود عشق تا بکلی واقف اسرار پنہانی شدم من چناں بیروں شدم از ظلمت ہستی خویش تا ز نور ہستی او آنکہ می دانی شدم
گر ز دود نفس ظلمت پاک بودم سوختہ ز امتزاج آتش عشق تو نورانی شدم خلق می گفتند کیں راہ را بدشواری روند اے عفاک اللہ کہ من بارے بآسانی شدم دم بدم روح القدس اندر معینی می دمد من نمی دانم مگر عیسی ثانی شدم خواجہ معین الدین چشتی ..................ان آٹھ اشعار کے قوافی اردو میں مستعمل الفاظ ہیں۔ یار' دلدار' بار' بازار' دیوار' دار' یار' اسرار' دار
من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو ہر چہ می گفتنی بمن بار می گفتی مگو من نمی دانم چرا ایں بار می گوید بگو آں چہ نتواں گفتن اندر صومعہ با زاہداں بے تحاشا بر سر بازار می گوید بگوگفتمش رازے کہ دارم با کہ گویم در جہاں نیست محرم با در و دیوار می گوید بگو سر منصوری نہاں کردن حد چوں منست چوں کنم ہم ریسماں ہم دار می گوید بگو
آتش عشق از درخت جان من بر زد علم ہر چہ با موسی بگفت آں یار می گوید بگو گفتمش من چوں نیم در من مدام می دمے من نخواہم گفتن اسرار می گوید بگو اے صبا کہ پرسدت کز ما چہ می گوید معیں ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو خواجہ معین الدین چشتی ..................ان اشعار کے ابتدائی الفاظ اردو میں بھی مستعمل ہیں۔ اگر' قیام' کہ' تو' نہ' بباز' جمال' یہ' وجود' در
ردیف خود بینی اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں۔ اگر بچشم حقیقت وجود خود بینی قیام جملہ اشیاء بہبود خود بینی دجود ہیزمیت نار موسوی گردد اگر بروں کنی از سر تو دود خود بینی ز قعر لجہ توحید در عشق برار کہ گنج مخفی حق را نفود خود بینی بہ قصر عشق تراپایہ از سر جہدست کہ تخت ہر دو جہاں را فرود خود بینی
تو چوں فرشتہ نظر بر جمال دوست گمارنہ چوں لعیں کہ ہمیں در سجود خود بینی ازیں حضیض و دنایت چو بگذری شاید کہ تا دنا فتدلی صعود خود بینی بباز خانہ بروں آ ونور دوست نگر تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی اگر ز آئینہ زنگ حدوث بزوائی جمال شائد حق در شہود خود بینی بہ بند دیدہ ز اعیاں کہ تا ز عین عیاں وجود دوست چو جان وجود خود بینی
بیا بزم گدایاں شہ نشاں خودی ست کہ تا نتیجہ احساں وجود خود بینی در آ بہ مجلس مسکیں معین شوریدہ کہ نقل و بادہ ز گفت و شنود خود بینی خواجہ معین الدین چشتی .................. قصہ سفرالعشق کے فارسی حواشیعرصہ قدیم سے' ایران اور برصغیر کے درمیان' سیاسی' معاشی' سماجی' تہذیبی' نظریاتی اورخونی رشتے استوار
چلے آتے ہیں۔ طالع آزما جنگ جو' تاجر' صوفیا' علما اورفضلا مختلف ادوار میں' مختلف حوالوں سے' برصغیر میں آتے جاتے رہے ہیں۔ برصغیر کی معاشرت پر' اپنے اپنے حوالوں سے' اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ بالواسطہ اوربلاواسط ' مقامی بولیاں اور زبانیں; فارسی ادبیات سے اثر لیتی رہی ہیں۔ برصغیر کی شاید ہی کوئی زبان ہو گی' جسے فارسی نے' فکری اور اسلوبی اعتبار سے' متاثر نہیں کیا ہو گا۔ فارسی کے بےشمار الفاظ' ان زبانوں میں داخل ہو گیے ہیں۔ مختلف حالات میں' ان کی مختلف صورتیں رہی ہیں۔ اصل صوت' ہئیت اور مفاہیم کے ساتھ فارسی زبان کے الفاظ' برصغیر کی زبانوں میں داخل ہوئے ہیں یا ان زبانوں نے ان الفاظ کی ہیتی صوتی اور تفہیمی وسعت پذیری کی وجہ سے' دانستہ طور اپنا لیا ہے۔مطابقت بھی لفظوں کو اپنانے کا سبب بنی ہے۔ غربت خصماور گربت کھسم قریب کے لفظ ہیں۔ آج قفلی کوئی لفظ نہیں رہا' اسی طرح گربت اور کھسم استعمال میں نہیں رہے۔
الفاظ کی ہئیت اور صوت برقرار نہیں رہی ہے لیکن ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں نہیں آئیں۔ الفاظ کی اصل ہئیت اور صوت تو برقرار رہی ہے لیکن ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں آئی ہیں یا مفاہیم یکسر بدل گیے ہیں۔مقامیت کے زیر اثر یا بدلتے حالات کے تحت' فارسی الفاظ کی مختلف اشکال نے جنم لے لیا ہے۔ یہ بھی کہ ان نئی اشکال کے نئے مرکبات پڑھنے سننے کو ملتے ہیں۔ انگریزی کی قہرمانی اور فتنہ سامانی کے بوجود' از خوداور نادانستہ طور پر' یہ تبدیلیوں کا عمل ہر سطع پر جاری و ساری ہے۔ مقامی زبانوں کے الفاظ کے ساتھ' فارسی سابقوں لاحقوں کی پیوندکاری کا عمل مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے۔
ایرانی اشیا اور مختلف حلقوں سے متعلق اشخاص کے اسما اور شہروں وغیرہ کے ناموں کا استعمال' ادبی اور سماجی حلقوں میں باکثرت ملتا ہے۔ ایرانی اہل ہنر اور ہیروز کے کارناموں کا تذکرہ یا حوالہ مقامی زبانوں کی تصانیف میں ملتا ہے۔ فارسی محاورے' روزمرے اور اقوال و امثال بلاتکلف' مقامی زبانوں میں استعمال ہوئی ہیں۔ فارسی اصطلاحات کا استعمال' ان زبانوں میں کسی قسم کے اوپرے پن کا احساس تک ہونے نہیں دیتا۔ فارسی شعرونثر سے متعلق تخلیقات کے تراجم مقامیزبانوں میں ہوتے آئے ہیں۔ مقامی زبانوں کے تبادلات میں'اصل الفاظ کی روح کسی ناکسی سطع پر' متحرک رہی ہے۔
دور کیا جانا ہے' مغلیہ عہد جو مئی 1857تک قائم رہا۔ فارسی کا دربار' بازار مکتب اور بعض آزاد ریاستوں میںسکہ چلتا رہا ہے۔ اس حوالہ سے' بڑی جان دار اور مستند کتب' فارسی کے ورثہ میں داخل ہوئی ہیں۔ ان تصانیف میں' مقامی زبانوں کے الفاظ اشیا و اشخاص کے نام رسوم وغیرہ کے نام فارسی' زبان کے مخصوص لب و لہجہ کے ساتھ داخل ہوئے ہیں۔ ان حوالوں کی واپسی'فارسی اطوار کے ساتھ ہوئی ہے۔ اب ان پر دیسی ہونے کا گمان تک نہیں گزرتا۔ اہل لغت نے ان پر فارسی ہونے کی مہر تک ثبت کر دی ہے۔ شاہی محلات میں' روز زوال تک' بعد ازاں مغل شاہی گھروندوں میں بھی فارسی کا سکہ چلتا رہا۔ بہت سے شعرا فارسی میں کہتے رہے۔ گلستان بوستان کی اہمیت باقی رہی۔ محلاتی مکینوں یا ان سے متعلق حضرات کا کلچر عمومی اور عوامی کلچر سے ہٹ کر رہا۔ شاہ سے متعلق اہل قلم نے عوامی دائروں میں رہ کر سوچا لیکن اپنے سوچ کو زبان اور طور شاہی دیا۔
شاہی جبریت کے بعد' برٹش استحصالیت کے زمانے میں' سوچی سمجھی سازش کے تحت فارسی کا پتا کاٹنے کےلیے' مقامی زبانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ فارسی کے متعلق۔۔۔۔۔۔ پڑھو فارسی بیچو تیل۔۔۔۔۔۔ ایسی خرافات' عرف عام میں آ گئیں۔ اس ناقدری اور حوصلہ شکنی کے :باوجود فارسی کی کسی ناکسی سطع پر مداخلت باقی رہی۔ 1-رومی' سعدی' حافظ' خیام' جامی وغیرہ کے فکری و 2-لسانی حسن کا سکہ' نادانستہ طور پر سہی' آج بھی باقی ہے۔ برٹش عہد میں' اردو کو برصغیر زبان ہونے کے ناتے' عزت دی گئی جب کہ پنجابی نے بھی انگریز کی ماتحتی کی' لیکن اس کا فارسی سے رشتہ ختم نہ ہوا۔ معروف مثنویوں کے عنوانات اور حواشی فارسی میں ملتے ہیں۔ ...........پنجابی قصہ۔۔۔۔۔ سفرالعشق ۔۔۔۔۔۔۔ المعروف بہ سیف الملوک
کا پنجابی کلاسیکی ادب میں بڑا بلند پایہ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قدر و قیمت میں ہرچند اضافہ ہی ہوا ہے۔ دیہاتوں اور شہروں میں' اس قصے کو بڑے شوقسے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ برصغیر کے معرف فن کاروں نے'اسے صوفیانہ کلام قرار دے کر' عقیدت اور احترام سے گایا ہے۔ میاں محمد بخش صاحب کی بہت سی تصانیف ہیں۔ جن میں :قصہ سوہنی' شیرین فرہاد' نیرنگعشق' مرزا صاحباں' شاہ منصور' سی حرفی سسی پنوں' سی حرفی ہیر رانجھا' تذکرہ مقیمی' گلزار فقیر' ہدایت المسلمین' تحفہ میراں کرامات غوث اعظم' تحفہ رسولیہ' معجزات سرور کائنات' سخی خواص خاں خاص طور معروف ہوئیں تاہم قصہ سفر العشق میاں محمد بخشصاحب کی شہرت کا سبب بنا۔ یہ قصہ 1859میں رقم ہوا۔ اس وقت میاں محمد بخش صاحب کی عمر تنتیس برس تھی۔ ان کی جوانی' اس قصے کی زبان اور فکر میں بھرپور انداز میں رقصاں ہے۔ یہ قصہ کل ترسٹھ عنوانات پر مشتمل ہے۔ ان میں سےسترہ عنوان حمد نعت مدح جات اوصاف قصہ منازل ہائے
تصوف وغیرہ پر مشتمل ہے جب کہ قصہ کے اختامیہ سے متعلق ہیں۔ گویا اصل قصہ سے متعلق کل بیالیس عنوانات :ہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے آغاز قصہ تولد1شدن شاہ زادہ سیف الملوک دیدن شاہ زادہ تصاویر شاہ مہرہ و عاشق شدنش جواب سیف الملوک عاشق با پدر مہلت خواستن پدر و بیان کردن کیفیت مورت پند دادن پدر پسر را جواب شہزادہ التماس بادشاہ پیش فرزند رحم آوردن پسر بر پدر بیان دیوانہ شدن شہزادہ در بیان خواب دیدن سیف الملوک رخصت طلبیدن شہزادہ از مادر زاری نمودن شہزادہ از درد مادر
داستان رواں شدن سیف الملوک از مصر نامہ نوشتن شاہ فغفور جانب شاہزادہءمصر در جواب شہزادہ بہ فغفور چیندربیان غرق شدن کشتی ہائے در طوفان و جدا شدن صاعد گرفتار شدن سیف الملوک بدست بوزنگاں در بیان جنگ با سنگساراں گرفتار شدن سیف الملوک بدست زنگیاں رفتن شاہزادہ در شہر زناںدر بیان مشقت دیدن شاہزادہ از گرسنگی و تشنگی و سوال و جواب عقل و نفس رسیدن شاہزادہ در قلعہ دیوان و خلاص کنائیدن ملکہ خاتون را در وصف جمال ملکہ خاتون رواں شدن شہزادہ مع ملکہ خاتون ملاقات صاعد با شاہزادہ در وصف جمال بدرہ خاتون و عاشق شدن صاعد بروے
آمدن بدیع الجمال بہ ساندیپ در وصف بدیع الجمال حاصل کلام در غزلیات و دوہڑا سرائیدن شاہزادہ در وصف شہزادہ سیف الملوک نامہ بدالجمال بطرف مہر افروز داستان خبر شدن دیوان قلزم را و کشتن بہرام شہزادہ نامہ نوشتن شاہپال بطرف ہاشم شاہ جواب نامہ از طرف ہاشم شاہ بر جنگ تیار شدن شاہپال و ہاشم شاہ جنگ کردن شاہپال شاہ با ہاشم شاہ دیواں نامہ نوشتن سیف الملوک بطرف پدر دردمندآمدن ساعد در سفر و تیار شدن عاصم شاہ بر شارستان وفات یافتن عاصم شاہ وفات یافتن سیف الملوک و نالیدن بدیع الجمال از درد
بات پنجابی قصے کے عنوانات تک محدود نہیں بل کہقصے کے حواشی بھی فارسی میں درج کیے گیے ہیں۔ یہ حوشی پانچ سو کے قریب ہیں۔ فارسی حواشی درج کرتےاحتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔ ڈھنگ سے پروف ریڈنگ تکنہیں کی گئی۔ میرے پیش نظر حمیدیہ بک ڈپو' اردو بازار' لاہور 1993کا نسخہ ہے۔ متنی ابلاغ کے حوالہ سے حواشی کی صحت کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس سے اچھی خاصی لغت سامنے آ سکتی ہے۔ان حواشی میں مختلف نوعیت معومات فراہم کی گئی ہیں : لفظوں کے مفاہیم بعض لفظوں کی زبان کا تعین اشخاص کا تعارف اور ان سے متعلق معلومات مختلف قسم کی اصطلاحات اور محاورات سے متعلق معلومات اس تحریر کے تیسرے حصہ میں پنجابی الفاظ کے ساتھ فارسی حواشی درج کر دیے گیے ہیں تا کہ قاری اس لغت
کی مدد سے قصے کی بہتر تفہیم کر سکے۔ ............................. متولد 1- آدی :لفظ سنسکریت قدیم شعر 3ص94آسہ :ناامید شدن و مرگ اختیاری شعر 203ص293 آواز :آواز شعر 2ص 91 آہلناں :آشیانہ۔۔۔۔گھونسلہ۔۔۔۔۔ شعر 35ص 76 اپراہدی :کار مشکل کنندہ ش 230ص242 اجل :دانہ ہائے آخر چنیدہ شعر 3ص212 اچھاڑ :غلاف شعر 305ص183 اڈیوں :شعلہ آتش کہ بلند می شود شعر 1ص384ارنی ارنی :رمزے است از رموز حقیقی کہ در مجاز گفتہ شد شعر 185ص 252 ارداسی :عاجزانہ شعر 286ص 257
اشتر :ہفتاد۔ ہفتاد خچر و شتر بار گراں برداشتہ شعر 513 ص193افلاطون و ارسطو در عہد سکندر حکمائے یونان شعر77 ص53اکا :بالکل آرام نہ داشت استخوان و مغز استخوان میسوخت ہمچوں ہنیرم خورد خشک شد شعر 515ص 326 اکایاں :تنگ و لاچار کردہ شعر 174ص149 اگوڑی :بھن اگوڑی بمعنی تازہ زدہ تن یا پیچ و تاب داد شعر 426ص412 ان جل :آب و دانہ شعر 13ص 88 الدنیا غریب :دنیا جائے سفر است دریں دنیا جائے قرار نیست بلکہ بےقرار است شعر 278ص181 الیماں :تیاری فوج شعر 499ص 193 ان۔ ماس :ان یعنی ہر قسم اناج و ماس گوشت شعر2 ص331 انباروں :بسیار خور شعر 74ص101 انٹے :بیضہ شعر 9ص93
ان بدھا :بے سوراخی کہ بسیار قیمتدار۔۔۔۔۔ پرارزش۔۔۔۔۔۔ باشد مراد از ملکہ خاتون کہ بکر بود شعر 1ص140 ان بدھے :بے شگاف یا بے سوراخ شعر 86ص234 انازوں :اناج شعر 255ص 403 اوائی :خبر آمدن شعر 242ص 152 اوبل :جوشندہ شعر 35ص168 اوکڑ :مشکل مہم شعر 2ص92 ایرا :بنیاد زریں شعر 6ص 133 این :حکم شعر 6ص94 ایڈ سپورن :بہ بسیار یعنی کہ پیغامہای کسان۔۔۔۔۔ دیگر می برند کہ ایشاں پیغام دیگرے دارند مثال ہر کہ گوید پیغامرسانند را گویا زاغ درد رسوائی خانہ نہ گرد باورچی خانہخود انداختہ کہ بسیار نار او است ازاں کہ ہر چیز بخورد و کرامت بسیار ست شعر 776ص329 بابت:چیز شعر 306ص183 باتی :چراغ شعر 17ص 75
بادر :طاقت شعر 38ص83 باز :باز اول بمعنی قوت آنا و باز دوم بمعنی باز شاری شعر 53ص125 باقی :لتیلہ از پنبہ کہ در چراغ می سوزو شعر 71 ص131 بانا :لباس سبز ۔۔۔۔۔لباس' لباس فقرا۔۔۔۔۔ شعر 253ص 255 بائی :گفتن بزبان پوٹھوہاری عنوان منزل فقر شعر 1 ص41 ببتا :مصیبت :شعر 66ص131 ببدی :آنا آنکہ ہر چہار طریق طے کردہ بدرجہ علویرسیدہ اند از ہمہ لوائث دنیا وی پاک شدہ اند' گناہ و ثواب در آں نمی رسد واللہ اعلم بالصواب شعر 11ص40 بتا :فریب شعر 14ص 135 بتا :حیلہ و مکر و بہانہ سازی بسیار کردہ شعر 173 ص149 بجگ :بفتحہ اول معجمہ کسر دوم معجمہ و سوم فارسی
مشدد یعنی آفت و بالائے آسمانی مثل برق ژالہ وغیرہ شعر 3ص343بجگ :بجگ یعنی بجیم تازی مکسور کاف فارسی مشد یعنی آفت ناگہانی شعر 60ص218 بدر منیر :آوردن لفظ بدر منیرو ملک در آسمانی ایں ہمہ از تلازمہ شاعرے است شعر 1ص215 بدر منیر :ماہ چار دہ روزہ و نیز معشوقہ بےنظیر برج ستارہ :محاورات نجومیہ را می گویند شعر 21ص 50 بشیرلا :مار سیاہ شعر 14ص123 بک اجاڑی :غزالہ بیابانی شعر 66ص233 بل :بل در زبان کشمیری محلہ را گویند شعر 36ص124 بلی :قالو ابلی گفت و رنج و بلا گرفت شعر 838ص327 برم :تازیانہ سخت کہ چابک سواراں دارند و اسپ را بدو جنبا آواز آں سخت باشد شعر 428ص412 بن :بغیر نوشیدہ شعر 69ص234 بندی :خال شعر 10ص141
بندے :نام زیور شعر 86ص117 بندے بندے :ساعت بساعت شعر 388ص 187 بوٹی :پارہء گوشت شعر 102ص 288 بہچھن :گفتار ہا کہ در بہوشی خواب گفتہ شدد آن بمعنی باشد یعنی اولیا اگر گفتار کنند در فہم نیایند آنہم راست و صحیح بداں ہ یشاں ہر چہ گویند بر لوح محفوظ دیدہبگویند و آں رائے نیست اگرچہ آں در فہم ما نیاید۔ قصور افہام عام ست نہ در کلام آن ش 117ص 248 بہنی :بندوبست تن تمام خوب شعر 12ص104 بینک :جدا نہ شود شعر 141ص124 بےوفائی :در زمانہ ہمیشہ رسم بےوفائی است شعر12 ص 261پاربدی :نام مطرب خسرو پرویز کہ دریں فن بکمال رسیدہ بود شعر 249ص 403 پانی چھڑ دا :در آب رفتے شعر 19ص129 پاہرو :پہرہ دا۔۔۔۔۔ کشیچکی ۔۔۔۔۔ شعر 61ص 136
پتا :زہرہ شعر 7ص 110 پج :رسیدن شعر 261ص 257 پچریاں :پازیب شعر 428ص412 پچھاک :پس ماندہ شعر 506ص 193 پچھل :زلزلہ شعر 16ص 116 پراک :یعنی جناں را قوت زیادہ از حد آدم ست کہ چندیںفریب کنند و لیکن از یک صورت آدمی زورآور است کہ اگر جسم جامہ پاک دارد جن عفریت ظاہری بر غلبہ کردن نتواند باایں چنیں اگر در باطن پاکی باشد نفس و شیطان را قوت غلبہ نہ باشد شعر 181ص149 پرچتی :بہ گناہ گار رحم کردی شعر 462ص165 پرکالے :پرزہ شد شعر 332ص183پروے :پارچہ کہ از آں آرد آسیا کنند شعر 125ص221پکیرا :اشارت ست بداں خلق آدم کہ حسن ذات او وظاہر شد مخفی نماند یعنی اول عشق و محبت خود شروع کردی کہ انسان را برائے دوستی جز آفریدے و او را انسان مرے وانا سرہ شعر 125ص289
پکھیرو :ہر پرندہ را گویند ص 238 پگسی :میرسد شعر 65ص90 پلچھی :خشک شدن زبان در دہان شعر 175ص292 پلنگر :نام زنگی کہ با سکندر جنگ کرد شعر 12ص91پون بازاں :پون بازاں آنکہ بر یک ساریک دہر ثانی شش و بر ثالث بر شش او تیران بر یک سار پنج بر دو دوم شش بر سوم دو آنرا تیرہ گفتہ شعر 537ص195 پوند :پوند اول مفتوح و واو ساکن و نون غنہ یعنی اول ونخست و ایں لفظ زبان پنجابی ست در علاقہ بھیرہ خوشاب ایں شال گویند شعر 917ص331 پوئے :بازی قمار پوئے یک پون دوئے دو پون پنج پنج پون چھکے شش پون شعر 85ص 144 پہاڑہ :خوشامد کنندہ شعر 158ص291 پنہیاں :آنکہ حاکماں بہ طریق بیگار آسیا کنا نند یعنی بادشاہ عشق تراہم آسیا گردانے عشق فرمودہ شعر 42 ص 263 پیٹر پنیٹر :پیچ و تاب شعر 166ص175
تراہے :مثل جنبش ناگہاں شعر 277ص 154 تاڑی :دستک زدن شعر 355ص185 تاڑی :دیدشعر 355ص185تریہرے :کچے باراں آنکہ بریک ساکانہ باشد و بر دوم پنج و بر سوم شش آزا کچے شہر دہ دراصلاح قماریان شعر 536ص195 تسلے :سختی شعر 96ص 133 تغلے :خورند شعر 24ص98 تکڑی :طاقتور شعر 23ص 111 تکیاں لہلان وگن :از دیدن آں میوہ از دہان آب شعر65 ص100 تہاراں :تیغ کوہ شعر 18ص88 توڑی :انتہا شعر 20ص98 توڑی :شکستہ شعر 20ص98
تلو پسلے :بے آرام :شعر 14ص 114 تلیاں :اول معنی کف دست دوم بمعنی سوزم ش193 ص240 تلیر :نام پرندہ شعر 23ص 111 تن حویلی :تن حویلی است دراں کہ فدا ہستی و جان ہم مکان تست شعر 264ص296تہاڑی :ٹوپہ کہ بدو غلہ وزن می کنند ش 327ص155 تہوے :یعنی کاوے زمین شعر 79ص219ٹلا :ٹلا بتائے ہندی مفتوح و ثانی مشد چوب کلاں کردہبستہ را گویند کہ در دریا برائے سوار شدن اندختہ بر او سوار شدند شعر 6ص167 ٹلا :نام کوہ شعر 16ص 111 ٹنگار :ناز و نخرے شعر 66ص115 ٹنگے :آویختہ شعر 10ص128 ٹہل دیون :در دریا زنند شعر 67ص233 جال :سہ معنی دارد
اول آلہ ماہی گرفتن کہ از رشتہ تنبدہ سازند دوم بر تافتن و طاقت آں داشتن سوم سوختنیعنی آنچہ جال بنیدہ در دریا تحمل و حوصلہ کردا خاموش نشیند اگر ماہی گیر بیند ماہی گیر را غم آں می سوزد شعر 25ص333 جان :اگرچہ واقف راز دار۔۔۔۔۔دوست۔۔۔۔ ہمراہ باشد چوںبوصل یار تنہائی پسند باشد و تن کہ ہمراہ و ہمسایہ است آنکہ حجاب دارد دہیدہ باید ابا جاناں رسیدہ شعر 99 ص220 جانی :جان جان توے شعر 296ص298 جائی :اول بمعنی زائیدہ جائی بمعنی رفتن شعر 426ص 189 جریاں :طعمات کہ گوشت و ساگ آمیختہ پزند بسیار لذیذ باشد شعر 8ص 230 جستہ :نام سازیست کہ از نواختن آن با خفتہ و بیہوش شدہ را خیزانیدہ ہمہ را باز بخانہ خود روانہ گرداند
شعر 271ص 256 جگ :زمانہ گذشتہ بزبان سنسکریت شعر 3ص20 جل :آب شعر 23ص129جلدی :اول بمعنی شتابی دوم بمعنی سوختہ شعر 13ص 265 جلے :جنبیدن شعر 21ص 168 جنڈ :گر اندا ہر دو نام درخت ہائے خار دار شعر51 ص130 جنڈ :خار جنے دی :جوان خوبصورت کی شعر 273ص181 جوڑی :جفت ' پیوستہ شد شعر 193ص150 جون :ہر قسم حیواناات شعر 282ص297 جہتباں :زخمان خار شعر 86ص 132 جی :دل شعر 27ص199 جیبی :زبان شعر 48ص99 چاٹ :شوق و لذت چہ افتاد تر شعر 801ص325
چار مہینے :قولہ چار مہینے الخ از صوفیائے کرام و دیگر فیلسوف ۔۔۔۔۔فیلسوفان ۔۔۔۔۔ آوردہ اند کہ ابتدائے وقت تعلیمچہار سال چہار ماہ چہار ایام است چرا کہ عمل نمودن نشان زیادتی علوم است شعر 49ص 51 چاندی :چہرہ مانند آفتاب بود و بینی دراں چشمہ مثل ماہی سیمیں سپید گال داشت یعنی از جلوہ رخ شب تار روشن شدے 23ص141 چاہ :چاہ دو معنی دارد ایں جا مراد ہر دو است چیزے نوشیدنے و نیز نام محبت و خواہش شعر 418ص304 چبہ :چبہ قوت است در مضافات کوہ و ریاست کشمیر کہ خود را در اقوام عالیہ مے شمارد شعر 121ص289 چتے :بےشرمی' دلیری شعر 27ص 105 چٹا پونی :بررنگ سپید شعر 336ص183 چٹکے :عشق شعر 355ص185 چر :دیگدان کلاں شعر 27ص 262چشماں :چشم کشادہ بہرجائے کہ دیدے چشم او مثل کٹار بر دل کردہ دلہا را لینا کردن شعر 14ص215
چکی :برداشتہ شعر 287ص182 چنگ :نام سازے است شعر 51ص 227 چنگوں :سارنگی شعر 135ص 147 چنن :نام درخت کہ ماربر آں باشند شعر 7ص140 چنے چباں :یعنی لوہے کے چنے مراد از تکلیف۔۔۔۔۔۔ زحمت ۔۔۔۔۔۔ بسیار شعر 429ص163 چوراسے :در فکر اندیشہ شعر 62ص 136 چوکڑیاں :جنبیدن شعر 33ص124چوہدیں :ماہ چہار دہم بدرہ خاتون زیادہ سر سیاہ راوید حیران ایستادہ بودہ خورشید چہرہ ۔ چہرا صاعد دیدہخورشید از شرم زیر زمین پوشیدہ بود بہ حد بست بیان بودہ شعر 584ص314چیرے :چیرا منزلے از منازل عمارات بلند شعر 7ص 133 چیتے :اول چیتے بمعنی پلنگ دوم بمعنی ہوشیار شعر 512ص193چیج بہوٹی :نام کرمی است کہ رنگش بسیار سرخ باشد
شعر 91ص 229 حبسی :بخشش یافتہ شعر 465ص 191 حسن میمندی :وزیرے بود شاہ محمود غزنوی ۔۔۔۔۔۔یکی از وزرای پادشاہ ۔۔۔۔۔ شعر 54ص33 حے :شہر ازاں جائے کہ سلیم نامی شتربان آمدہ بہ نجد رسیدہ بمجنون ملاقی شعر 11ص 225 خاکوں:از آدم شعر 479ص369خضر :بہت نیک اور عمر رسیدہ آدمی کو خضر سے تشبیہ دی جاتی ہے شعر 48ص22 دانے :عقلمند شعر 491ص 191 دایا :حوصلہ شعر 72ص218 دروگ :غار تاریک ش 99ص172 دل بستہ :معشوق و تن بستہ از خستگے دہم راہ بیرون بستہ و بند شدہ شعر 244ص358 دمڑی لے کروڑاں بخشیں مراد بخشش است از جناب پیرپیران شاہ کہ سوا لاکھ دمڑی۔۔۔۔۔سکہ۔۔۔۔۔۔ ہر روز نیاز ایشاں در نذر شود دہندہ حاصل شود شعر 214ص178
دنگا :اگر موئے تراکے غم کند یعنی اندک دہد من بدو جنگ کنم دنگا نفح جنگ را گویند شعر 28ص 268دنیا اے :اشارہ بایں وہا خلقت الجن و الانس یعبدون شعر 214ص294 دوہدل :شیردار ش 179ص239 دہاڑے :شب رفتہ و روز آمد شعر 88ص394 دہمیں :صبح روشن شعر 274ص 279 ڈٹھا :بارش باریدن ش 379ص160 ڈل ڈل کر دے نین :پشیمان روداری گویا در دل آید یعنی در بحر عظیم غرق شدہ اند ازیں باعث حال دل بود شعر 801ص325 ڈولی :آں محاورہ کلس یعنی فرق سر آن شعر299 ص182 ڈولی :اول بمعنی عمارہ دوم ڈولے بمعنی وجہءساخت سوم ڈولے لرزیدن شعر 306ص183ڈولے :اول تراشیدہ دوم بازو مثل شیر شعر 19ص 265 ڈولے :بہ بازویئ ہر شیر بستہ تیار کردہ کاریگر تعویز
چوکی یعنی بازوبند شعر 125ص 140 ڈوری :حیرانی شعر 65ص233 ڈورے بھورے :نیم خواب مستانہ شعر 403ص304 ڈہاں :ختم شعر 34ص 262 ذیلے :در تابع شعر 70ص100رام :آں کس است رام یعنی دوست او کہ عشق آں در سینہ باشد چوں عاشق را معشوق بکمال باشد ہماں یار او را بمنزلہ معبود گردو شعر 139ص272رب ملانی :مردم را کار کردن باید حیران و مایوس نہ شدن باید کامرانی بدست ایزد متعال ست شعر 297ص155 رٹاں :شہپر شعر 157ص148 رکھی :بے لذت و بے مزہ و خشک شعر 167ص149 رن :میدان جنگ شعر 5ص77رنگ پتنگ :رنگ تو مثل شمع بود ۔ اکنوں پروانہ پریدہ و سوختہ پرندہ شدند و پتنگ دو معنی دارد اول پروانہ دوم پتنگ کاغذی کہ ہوا می پرانند شعر 800ص325 روندی :تہ مرگ گل خوش رنگ روایت دیدران نوا خوش
نالہائے را رو است در عین وصل ایں ۔۔۔۔۔ نالہءفرہاد داشت و ما را جلوہءمعشوق در ایں کار داشت شعر 81ص 287 زال :نام پہلوان' نام پدر رستم زبور :کتابے است الہامیہ کہ بر نبی حضرت داؤد علیہالسلام نازل شدہ بود قصائد و غزل وغیرہ در و منقول است ازتیں شعرائے عجم ازاں اقتباس می کنند شعر 28ص68زہرہ :نام ستارہ ایست بر آسمان سوم کہ سعد است و طالع از و نیک گردو شعر 260ص358زی مسلم :مراد قصیدہ بردہ ۔۔۔۔۔۔۔حضرت رسالت مآب صلیاللہ علیہ وسلم کہ بیعت رضوان زیر درخت ببول کہ آں را در زبان عربی مسلم میگویند بدیں وجہ زی مسلم خطاب حضور پرنور را مخاطب فرمود شعر 402ص 188 سات سر۔ سرندے :ہفت سر۔ سرندے نام سازیست شعر 250ص402 سار :آہنی ہتھیار .....سلاح آہنی ۔۔۔۔۔۔۔ شعر 17ص93 ستار :نام ساز شعر 355ص185
سارنگ :سے رنگ صد رنگ۔ نام راگ شعر 250 ص403 ساس اوڈن :جان بلب شعر 30ص129سالک :اشارت ست بآن سالک کہ بمنزل قریب ولایت رسیدہ در کشف و کرامات خوش شدہ مشغول انداز قرب محبوب اصلی دور د محبوب دارند منازل دیگر شعر 194ص341 سانگاں :تیاری ایشاں شعر 7ص 109 ست تار :ہفت تار سرایند شعر 355ص185 سجناں :اگر تو با من اتفاق کردی تا حیات دنیا مرا پری برتیوں خوش آمدے شعر 210ص294 سجی :خاکستر شعر 130ص147 سدھر :خواہش و طلب شعر 30ص 105 سردار جیاں :سردار جانداراں شعر 46ص99 سرسامے :نام پدر زال شعر 12ص 109 سرکردے :اول سرکردہ سسررداراں دووم سر را قربان کردن شعر 449ص 190 سرگاہیں :پامال کردن شعر 87ص 132
سعد :نام ستارہ ایست کہ سعد اکبر ست و آں قاضی فلک بر آسمان ششم باشد شعر 270ص358 سلوتر :سوال و جواب برابری شعر 183ص292 سمد :خبر نیامدن شعر 123ص 146 سنا :چنداں راز ہا کشودن نتواند کہ کار ہائے ضروری بسیار اند دیار دکر انتظار قصہ ش 67ص169 سنی :سنے بمعنی نامور شعر 60ص 227 سنسار :جانور آبی شعر 36ص169 سنگٹھاں :بندش گلوے شعر 79ص 142 سنے وزیراں :با وزیراں شعر 294ص182 سنیئر :سننے والا۔۔۔۔۔۔ کسی کے طعن و تشنع می شنود شعر 115ص248 سوانی :زنان اصیل شعر 306ص183 سودا :صد ہنر۔سودا یعنی دل۔ سودا نام مرض ست شعر 554ص312 سہور :سسرال شعر 148ص222
سوراخ درگ :غار تاریک شعر 33ص115 سہاندے :خرگوش شعر 20ص91 سہانے :نام حکیم یونان شعر 78ص53 سہیلی :خوب صفادموزدن شعر 14ص123سہیلی اردو لفظ ہے۔ فارسی میں مونث مذکر نہیں ہے لہذا یار۔۔۔یاراں' دوست۔۔۔۔دوستاں سیاں :سہلیاں شعر 184ص 274 سیاہی:تہمت شعر 479ص369 سیلے :نام سلاح جنگ شعر 6ص 109 سیاں :سہیلیاں۔۔۔۔۔دوستاں۔۔۔۔۔۔ شعر 338ص183 سیہے :خار پشت شعر 24ص115 شارت :بے الف یعنی اشارت برائے وزن دور کردہ شد شعر 527ص310 شارستانے :زلال آب بہ صفت موصوف سرد و شریں و کوزہ آں آبہائے شارستان مثل زلال بود
شعر 846ص327 شریں و شکر :ہر نام شاہزادیاں خسرو پرویز بود بسیار خوبصورت شعر 24ص142 شکر وپچن والا :شکر فروش عمرت دراز بارے چرا بہ نقصدے نکنی عندلیب شیدا را شعر 9ص 260 شمس پری :سعدین ددو ستارہ ایست وقتیکہ ہر دو ازمقامے دروے طلوع شوند آن را مبارک دانند و بچہ ای درآن ساعت پیدا شد او را مبارک و نیک نہاد می دانند شعر 97ص247شہابی :نام ستارہ کہ او را بر شیطان زنند چوں ببر آسمان رود شعر 351ص357 شہزادی :مراد ملکہ خاتون شعر 321ص183شیرے :مراد حاجی بگا شیر درکالی شریف رحمتہ اللہ علیہ شعر 36ص20 ضاعیں :ضائع شعر 90ص 145عجائز :نام پری مصورہ بمعنی طویل العمر شعر 26ص68 عذرا بدر منیر :عذرا بدر منیر در بلاد عرب دو مشہور
عاشق و معشوق گذشتہ اند 34ص142عنبر اشہب :نام قسمے از عنبر کہ بسیار قیمت دار باشد و بر مغز مالند شخصے بیہوشی گرمی آید و از گرمی عشق چوں بیہوش شدند آں زمان ہم بکار آید کہ مفید است شعر 51ص339عود وجود :خود را آتش سوختہ بود خود را نابود کرد شعر 354ص 185 غول :دیوے۔۔۔۔دیواں کہ مردم را از راہ بردہ ترساند شعر 94ص 132 فرہاد :فرہاد شہزادہ چین بود زنجار در اخبار دیدہ شدہمولوی نظامی و امیر خسرو این فرمودہ در شرین و خسروآں عشق کہ ما ایشاں ظلم یا عدل کرد ہماں عشق جانب بدیع الجمال شعر 215ص 276 فرہاد :فرہاد شنیدہ بود کہ شیریں ازیں جہاں رفت فرہاد نیز برائے جستجوئے او بداں جہاں رفتہ و از بر داشتن غم عاجز شدہ شعر 37ص130 قابو :گرفتار شعر 44ص 106 قائم سما :بجائے شیشہ و گل کار از کردہ شدہ و گروہ اش
مثل آسمان گردندہ و آں گنبد است شعر 59ص125 قرانی :نزدیکی شعر 24ص 114 قلاچ :سہ نیم ہفت کہ دو گز باشد قدر کم عر 344 ص300 قلم ربانی :قلم ربانی در دست ولی است ہہر چہ خواھد بنوید شعر 60ص169 کاٹھی :پرات چوبی شعر 28ص 114کافوں :کاف و نون مراد از کن فیکون شعر 249ص 403 کان :برائے فرزند دعا مے کردے شعر 58ص169 کرپا :مہربانی ش 379ص160 کپر :برسرخود شعر 133ص222 کتھا :بیان شعر 22ص123 کٹھا :زوند بدن و سینہ جمع کنم شعر 282ص297 کٹھاں :گوشہ ہا شعر 70ص101 کج :دو راز دوستی من بگریز ست شعر 211ص294 کراری :نمکین و لذیذ شعر 28ص123
کریوں :شتر شعر 16ص 28 کستہ کردہ شعر 26ص 111 کل :نسل من 344ص 184 کلاں :شیر از جادو تیار کردہ نہادہ کہ حملہ اندک کردند شعر 111ص 139کلاں :حکمت آنچناں برائے ترسائیدن دیگراں نہادہ اند شیر جہاندار نبود شعر 118ص 139 کلچیٹ :۔۔۔۔۔۔ کلچیت۔۔۔۔۔۔۔ پرندہ ایست کہ خوش گلو باشد شعر 13ص17 کلس :فق سسراں شعر 305ص183 کلی :قلعی شعر 36ص33 کمام :کارہائے شعر 56ص201 کماناں :مژگاں شعر 12ص123 کن :کدام شعر 98ص 145 کنڈ :پشت دادہ براے اینکہ سوئے ایشاں نہ بینی شعر 91 ص127
کنڈھی :کنارہ دریا شعر 26ص168 کنڈے دی اری :پشت مثل آرہ برکشتی زدہ او را پارہ پارہ کردن شعر 90ص101 کنگ :لفظ اصلی کنگاش است بمعنی مشورہ' باہم صلاح کنندہ شعر 150ص223 کوکھ :شکم شعر 336ص183 کوہ کوہ :پہاڑ ش کیں :کس در شعر 27ص80گاتر :دونے کہ تیغ در گردن بداں آویزند و کمر دوال کمر ہبداں کمربہ بند دو مردان جنگ قسم بداں کنند شعر 251ص 296 گٹھے :خاک' گم شد شعر 101ص 145گڈیاں :گڈیاں کہ دختران در اول عمر بایشاں بازی کننددہ و باہم نشستہ بیک دیگر ازدواج کنند شعر 137ص272 گزاری :روز رفت و شب رسید شعر 72ص 228 گل داؤدی منہ دے وانگر :سرنگوں نہادہ شکل پستان نوخاستہ شعر 2 8ص141
گلگل :نام میوہءترش شعر 259ص 278 گمانی :چال شان دار شعر 17ص91 گرنڈے :خار گنگی :آب گنگ بسیار صاف است شعر 424ص412 گنیاں :ہنرمند چہ کن بکاف فارسی مضموم بسکون نون ہندی مردارا گویند در زبان ہندی شعر 26ص199 گوراں :قبراں شعر 109ص 495 گوڈریاں :گلیم ہا شعر 50ص280 لاڈ :بر ناز او غرہ نباید شد چرا کہ اول بناز فریب دادہ شیفتہ خود کند چنانچہ برادران یوسف اول بدوش برداشتند باز بچاہ انداختند شعر 5ص97 لتڑایا :دراز شد گو در خواب شد شعر 51ص130 لکھے دھر درگا :لکھی یعنی نوشتہءتقدیر ش141 ص237 لالی :سرخی شعر 84ص234 لولاکی :لولاکی مراد ایں است کہ اللہ ثعالی نبی علیہ السلامرا ارشاد فرمودا گر ترا پیدا نہ کردم چیزے را نیا وردم شعر
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144