مقصود حسنی:خوشبو کے امین کس قیامت کے یہ نامے ناصر زیدی ابوزربرقی کتب خانہ دسمبر ٢٠١٦
1 کس قیامت کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں؟ پہلے مصرعے کی ضرورت نہیں ،اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ یہ قیامت کے نامے دراصل محبت بھرے پیام پر مشتمل ہیں اور انمکاتیب کے مکتوب الیہ پروفیسر مقصود حسنی ہیں،جو مصنف، مولف ،مرتب متعدد کتب کے ہیں۔قصور میں رہتے ہیں ،جس کی
وجہ شہرت مختلف ادوار میں مختلف شخصیات رہی ہیں۔ بابابلھے شاہ ہوں یا نورجہاں! یہ وہ شخصیات ہیں جن سے قصور کو اعزازواعتبار ملا ہوا ہے ،ویسے تو قصور کی میتھی بھی مشہور ہے۔ کہنے کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اب قصور میں ایک قابل ذکرشخصیت مقصود حسنی کی بھی ہے،جو ظاہر ہے کہ اس ادبی قد کاٹھ کے یقینا ہوں گے کہ انہیں مقتدر لکھنے والے ادیبوں، شاعروں ،نقادوں ،محققوں اور ماہرین تعلیم نے گاہے بہ گاہے خط لکھنے کا سزاوار جانا۔ تمام موصولہ خطوط کو پروفیسر !مقصود حسنی نے حر ِز جاں بنا کے رکھا آمدم برس ِر مطلب“ ذرا بعد میں ....تمہید طولانی اس لئے ہے ” کہ حکایت دل پذیر و لذیذہے کہ موضوع ”خط“ ہے جس کے بارے مینسوال وجواب کے پیرائے میں شاعری میں یوں بھی :اظہار ملتا ہے خط کبوتر کس طرح لے جائے بام یار پر؟ پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر :اور جواب ملاحظہ ہو خط کبوتر اس طرح لے جائے با ِم یار پر خط کا مضموں ہو پَروں پر ،پر کٹیں دیوار پر
3 ہمارے شہ ِر زندہ دلاں ،لاہور ،میں ایک شاعر ہوا کرتے تھے اکبر لاہوری۔وہ اردو پنجابی کے بے بدل شاعر تھے۔پیشے کےاعتبار سے وکیل تھے۔ایک بار حلقہ ِ اربا ِب ذوق کے اجلاس کے اختتام پر غیر رسمی طور پر ایک پنجابی غزل سنائی ،اس کا ایک شعر ہنوز ذہن کے نہاں خانے میں محفوظ ہے۔مطلع کی :صورت میں یہ شعر دماغ پر چپکا ہوا ہے َجدوں اَج دانشہ لہہ جاوے اودوں ساہنوں خط لکھنا جدوں یاد اساں دی آوے اودوں ساہنوں خط لکھنا اس کے برعکس ہر عہد پر غالب ،مرزا اسد اللہ خان غالب کا :عمومی رویہّ یہ تھا کہ !خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے خط خواہ کبھی کسی بھی موسم میں لکھا جائے،وصول کنندہ کا :غنچہءدل اسے پا کر ضرور ِکھلتا ہے ،اگرچہ کہا جاتا ہے آدمی آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
اس مگر خط ایک ایسی چیز ہے،جس میں دل سے دل ملتا ہے۔ آدھی ملاقات کے عمل میں بے تکلف انداز میں کھل کر دل کیبات کہی جا سکتی ہے۔ اس آدھی ملاقات کے لط ِف بے پایاں کو SMS دور کے آج کے نوجوان کیا جانیں ،کیا سمجھیں؟ بقو ِلحضر ِت :داغ دہلوی لُط ِف َمے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کمبخت تُو نے پی ہی نہیںآج کے مشینی دور میں خط لکھنے نہ لکھنے کے گلے شکوےبھرے ایسے خوبصورت اشعاربھی اپنی معنویت کھوبیٹھے ہیں :کہ مدت ہوئی کہ آپ نے خط تک نہیں لکھا اس بے ُرخی کا کوئی سبب تو بتایئے )ناصر زیدی( :اور !آج بھی اس نے خط نہیں لکھا آج بھی دیکھ لی کنول نے ڈاک )کنول فیروز(
5 آج کے مشینی دور کی قباحتوں کو مفک ِر پاکستان ،شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور انہوں :نے بجا طور پر یہ حقیقت بہ زبان شعر بیان کردی تھی کہ ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت احسا ِس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات موبائل فون اور کی لاکھوں خوبیاں کیوں نہ ہوں ،سب سے بڑی خرابی SMS یہی ہے کہ خط لکھنے لکھانے کی خوشگوار روایت کو اس خطوط نویسی ”مشینی سہولت نے یکسر فراموش کرا دیا ہے۔شکن“ ماحول میں قصور کے ڈاکٹر محمد ریاض انجم صاحب کو عجب سوجھی۔انہوں نے قصور میں مقیم مشہور ادیب ،نقاد، محقق اور ماہ ِر تعلیم پروفیسر مقصود حسنی کے نام آئے ہوئے سینکڑوں خطوط کا پلندہ ان سے حاصل کرکے تحقیق و تدوینکے عمل سے گزارا۔یوں ڈاکٹر محمد ریاض انجم کے اس تحقیقی و تدوینی عمل نے صاحبا ِن ذوق کی ادبی تسکین کا وافر سامان فراہم کردیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مقصود حسنیلسانیا ِت غالب“ کے حوالے سے بھی اپنی منفردشناخت رکھتے ” ہیں۔وہ لگ بھگ دو درجن متنوع کتب کے مصنف ،مولف اور
مرتب ہیں ،وہ ہمہ جہت قلمکار ہیں۔ افسانہ نویسی اورطنز ومزاح نگاری میں بھی درک رکھتے ہیں اور نثری نظم کہنے میں !....بھیاس ہمہ جہت اہ ِل قلم کے نام موصولہ خطوط میں بہت سی نامور شخصیات بے تکلفانہ بولتی چالتی ،جیتی جاگتی ،چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ان شخصیات میں بہت سوں سے میری بھی نیاز مندی رہی ہے یا تعل ِق خاطر رہا ہے ،مثلاً مشفق خواجہ ،ڈاکٹر آغا سہیل ،پروفیسر حمیدیزدانی ،بیدل حیدری اور ڈاکٹروفاراشدی جنہیں َمیں عموماً بڑے پیار اور احترام سے اپنے اس :خود ساختہ مصرع کو الاپ کر مخاطب کیا کرتا تھا “!بے وفا راشدی....بے وفا راشدی” اس کا ایک پس منظر یہ تھا کہ سابق مشرقی پاکستان سے حضرت وفاراشدی مجھے بطور ایڈیٹر ادب لطیف لاہور اپنی تحریروں سے نوازا کرتے تھے اور کثرت سے خط بھی لکھا کرتے تھے۔پھر وہ جب کراچی آ گئے اور َمیں ”اد ِب لطیف“ کی :ادارت چھوڑ بیٹھا تو ان کا وہ تعل ِق خاص مفقود ہوگیا کوئی آتا ہے وہاں سے نہ کوئی جاتا ہے مدتیں گزریں ر ِہ مہر و وفا بند ہوئے اس اجنبیت کی فضا کو َمیں بہ وق ِت ملاقات ”بے وفا راشدی، کے الاپ میں گم کرنا چاہتا۔مرحوم میری “بے وفا راشدی
7 صدائے بے درماں برداشت کرلیتے اور سنجیدگی کے باوجود !مسکراکر معانقہ کرتےزیر نظر مجموعہ ءخطوط” خوشبو کے امین“ کو پڑھنے اور ان سے بھرپور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی لائبریریمیں سجا کر رکھنے پر ہی اکتفا نہیں کیا جانا چاہیے ،بلکہ اپنے :شب خوابی کے کمرے میں تکیے کے نیچے رکھنا چاہیے کہ دل کے آئینے میں ہے تصوی ِر یار !جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی تصوی ِر یار“ کے بجائے اس مرق ِع احباب اور مرق ِع دانشوراں ” کو جب جی چاہے ہاتھ بڑھا کر کہیں سے بھی کھول کر کسی بھی شخصیت سے ملاقات کی جاسکتی ہے۔ اے ذوق! کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا بہتر ہے ملاقا ِت مسیحا و ِخضر سےخاطر جمع رکھئے! یہ ملاقات یقینا سود مند ثابت ہوگی ،ایک نیا لطف ملے گا۔ آزمائش شرط ہے۔ :یعقوب پرواز نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ پسندیدہ تریں ہے شغل ،ترویجِ ادب اس کا ر ِہ تحقیق کا ہر دم جیالا ہے ریاض انجم
:اور آخر میں اپنا ایک شعر نذ ِر قارئین کرکے اجازت چاہتا ہوں تیری باتیں ،تیری یادیں ،تیرے رنگین خطوط اپنے ہمراہ یہی زا ِد سفر رکھتے ہیں جون ٢٠١٣ ‘١٢ http://dailypakistan.com.pk/columns/12-Jun-2013/45267
9
مقصود حسنی:خوشبو کے امین کس قیامت کے یہ نامے ناصر زیدی ابوزربرقی کتب خانہ دسمبر ٢٠١٦
Search
Read the Text Version
- 1 - 11
Pages: