Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore ڈوبے جہاز کا راز

ڈوبے جہاز کا راز

Published by Muhammad Umer Farooq, 2023-08-06 11:32:33

Description: اے حمید

Search

Read the Text Version

‫جگہوںپرکبھیبسیرانہیںکرتےجہاںپانیموجودنہو۔ھچُک ُدورچلنےکے‬ ‫بعدپانیتونملامگرایکجگہاُسےجنگلیبیروںکےبےشماردرختنظر‬ ‫آئے۔یہدرختبیروںسےلدےہوئےتھے۔بلیکبرڈنےبیرتوڑتوڑ‬ ‫کرکھانےشروعکردیے۔جب ُاسکاپیٹبھرگیاتواب ُاسےپانیکی‬ ‫ضرورتمحسوسہوئی۔بیرکھانےکےبعدپیاسکیّدشتمیںاضافہہو‬ ‫گیاتھا۔وہیونہیاِدھراُدھرگُ وھم چ ِپزکےپانیکیتلاشکرنےلگا۔ایک‬ ‫چٹان کے عقب میں اُسے پانی کے رِگنے کی آواز انُسئی دی۔ بلیک برڈ‬ ‫چٹانکےپیچھےرّکچلگاکرآیاتویہدیکھکر ُاسےبےحدخوشیہوئیکہوہاں‬ ‫پانیکاایکچھوٹاساچشمہبہہرہاتھا۔بلیکبرڈنےاُسچشمےپربیٹھکرجی‬ ‫بھرکرپانیپیا۔ ُُمہاتھدھویا۔اورجیبمیںسےہیرےنکالکرانہیں‬ ‫غور سے دیکھنے لگا۔ اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی۔ وہ ا ِس خیال‬ ‫سے بے حد خوش ہو رہا تھا کہ وہ اتنے بڑے سمندری طوفان سے بھی‬ ‫‪101‬‬

‫لاکھوںپاؤنڈکیدولتبچاکرلےآیاہےجبکہ ُاسکےساتھیتباہہو‬ ‫گئےتھے۔ ُاسنےیاقوتاورلعلکوپانیسےدھوکرایّھچطرحچمکایااور‬ ‫اپنےجوتوںمیںآگےکرکےجچ ُھیچاادیا۔اِسکامسےاطمینانحاصلکر‬ ‫لینےکےبعدوہاُٹھااورآگےچلپڑا۔ابھیوہلکشُمسےدسقدمہیچلا‬ ‫ہوگاکہ َسکرکےایکزہریلاتیرپیچھےسےآیااوربلیکبرڈکیپشتمیں‬ ‫ک ُھتکر ُاسکے ِدلسےپارہوتاہواباہرنکلآیا۔بلیکبرڈکیآنکھیں‬ ‫پتھراگئیں۔ ُاسکےحلقسےچیخبھیننکلسکی۔وہبےجانہوکر چ ّپز‬ ‫کیطرحزمینپررِگااوراُسکیلاشلڑھککرچٹانکےپہلوسےلگ‬ ‫گئی۔ دوسرے ہی لمحے ایک طرف سے حبشی نمودار ہوا۔ اُس نے تیر‬ ‫بلیکبرڈکیبےجانلاشمیںسےکھینچا‪،‬اُسکیلاشپر ُ وبکااورواپس‬ ‫چلدیا۔بلیکبرڈکیپتھرائیہوئیلاشکا ُُمکھلاتھا۔آنکھیں چ ّپزبنکر‬ ‫باہر کو نکل آئی تھیں اور ُاس کے جوتوں میں لاکھوں پاؤنڈ کے قیمتی‬ ‫‪102‬‬

‫ہیرےویسےکےویسےج ُھیےہوئےتھے۔‬ ‫‪103‬‬

‫کیپٹاؤن‬ ‫کپتانکوبلیکبرڈکیموتکیخبرنُسکربڑادکھہوا۔‬ ‫وہبلیکبرڈکوایکایماندارانسانسمجھتاتھا۔ ُاسےکیاخبرتھیکہوہاُس‬ ‫کےخزانےمیںسےقیمتییاقوتلےکرفرارہواتھاکہجنگلمیںوحشی‬ ‫حبشیکےتیرکانشانبنگیا۔بلیکبرڈکےفرارنےحبشیوںکےسردارکو‬ ‫ےّصغسےدیوانکردیا۔اُسنے ُکُحدیاکہتمامقیدیمردوںکوہلاککر‬ ‫‪104‬‬

‫دیاجائے۔اِسخبرنےمسافروںمیںایک ُکزاممچادیا۔عورتیںبین‬ ‫کرنےلگیں۔مگراِنوحشیحبشیوںکےآگے ُانکاکوئیبسنچلسکتا‬ ‫تھا۔ٹامکوابافسوسہونےلگاکہوہاپنےچچاکےساتھہیفرارکیوں‬ ‫نہیں ہو گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ چچا جنگلیوں کے پنجے سے نکل چکا ہے۔‬ ‫اُسےکیامعلومکہ ُاسکےلالچیاوروُخدغرضچچاکیلاشجنگلمیںپڑی‬ ‫تھیاور ُاسپرچیونٹیاںرینگرہیتھیں۔بہرحالٹامنےفیصلکرلیاکہ‬ ‫ابجبکہسردارنےاُنسبکوقتلکرنےکا ُکُحدےدیاہےتووہ‬ ‫وہاںسےضروربھاگجائےگا۔‬ ‫اچانک ایک طرف سے شور بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ حبشیوں نے‬ ‫مسافروں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ اُس وقت جھونپڑی کے باہر‬ ‫کوئیپہرےدارنہیںتھا۔سبجنگلیقت ِلعاممیںلگےتھے۔ٹامنےاِس‬ ‫موقعکوغنیمتجانااور ُچچیکےسےسبکینظریںبچاکرجھونپڑیسےرینگتا‬ ‫‪105‬‬

‫ہواباہرنکلگیا۔اسکا ِدلرُبیطرحدھڑکرہاتھا۔اُسکےکانوںمیں‬ ‫ہلاکہوتےہوئےآدمیوںکیچیخوںکیآوازیںآرہیتھیں۔ ُاسے‬ ‫ایّھچطرحلِِعتھاکہاگروہپکڑاگیاتووحشی ُاسےبھیزندہنہیںچھوڑیں‬ ‫گے۔وہپھونکپھونککررینگتاگیا۔یہاںتککہوہجنگلکےکنارے‬ ‫پہنچگیا۔جب ُاسکےچاروںطرفلمبیلمبیجھاڑیوںکاِِس ِلِسشروعہو‬ ‫گیاتووہ ُاٹھکھڑاہوااورج ُھکےہیج ُھکےبھاگنےلگا۔‬ ‫جبوہتھکگیاتوایکجگہبیٹھکر َدملینےلگا۔اُسنےدرختکےپیچھے‬ ‫جچ ُھ چت کر دیکھا کہ کوئی جنگلی اُس کا تعاقب تو نہیں کر رہا۔ سارا جنگل‬ ‫سنسانتھا۔ ُدورسےکسیوقتایکچیخکیآوازگونججاتیتھی۔ٹامڈرگیا‬ ‫اورجلدیسےاُٹھکردوبارہبھاگنےلگا۔وہبھاگتاگیابھاگتاگیااوراُسنے‬ ‫جنگل کا کافی فاصلہ طے کر لیا۔ شام ہو رہی تھی جب وہ جھونپڑے سے‬ ‫فرارہواتھا۔ابراتکےسایوںنےجنگلپرگہریتاریکچادرپھیلانی‬ ‫‪106‬‬

‫شروعکردیتھی۔ٹامنےراتکسیدرختپرسوکرگزارنےکافیصل‬ ‫کیا۔مگرپھر ُاسےخیالآیاکہ ُاسےجتنیجلدیہوسکےجنگلیحبشیوںکے‬ ‫قبیلےسے ُدور ِنجاناچاہیے۔اِسخیالکےآتےہیٹامنے ُرکنےکی‬ ‫بجائےجنگلمیںآگےچلناشروعکردیا۔‬ ‫جنگلکافیگھناتھا۔جنوبیافریقہکےجنگلبڑےگھنےہوتےہیںاوروہاں‬ ‫ہرقسمکےدرندےپائےجاتےہیں۔لیکنیہٹامکیخوشنصیبیتھیکہ‬ ‫وہساحلِسمندرکےجنگلکاسفرکررہاتھااورانجنگلوںمیںشیر‪،‬ہاتھی‬ ‫اور چیتے نہیں ہوتے۔ یہ درندے عام طور پر گھنے جنگلوں کے وسطی‬ ‫علاقےمیںپائےجاتےہیں۔ٹامراتبھرچلتارہا۔ ُاسےراستےکاکوئیعلم‬ ‫نہیںتھا۔مگروہایکاندازےکےمطابقسمندرسےدورترہوتاجارہا‬ ‫تھا۔آسمانپرتارےچمکرہےتھےاوراُنکیہلکیہلکیروشنیمیںجنگل‬ ‫میںاندھیراکمہوگیاتھااورٹامجھاڑیوںمیںسےبخوبیاپناراستہبنارہاتھا۔‬ ‫‪107‬‬

‫حبُصکیہلکیہلکیروشنیپھیلیتوٹاماساقُممپرپہنچچکاتھاجہاںبیروںکے‬ ‫درخت جنگلی بیروں سے لدے پھندے کھڑے تھے۔ ٹام نے جلدی‬ ‫جلدی جنگلی بیر کھا کر پیٹ بھرا اور آگے روان ہو گیا۔ ایک ٹیلے کا موڑ‬ ‫کاٹتےہوئےاسےپانیکےرِگنےکیآوازانُسئیدی۔ٹامکوآدھیرات‬ ‫سےپیاسلگیتھی۔وہپانیکیآوازکاتعاقبکرتااسیچشمےپرنکلآیاجس‬ ‫کےپانیسےبلیکبرڈنےاپنیپیاسبجھائیتھی۔وہبلیکبرڈکیلاشسے‬ ‫بالکلبےخبرچشمےکےپانیپرجھککرچشمےسےپانیپینےلگا۔جبوہجی‬ ‫بھرکرپانیپیچکاتواسنےمنہہاتھدھویااورابھیاسنےآگےچلنےکے‬ ‫لیےقدماٹھایاہیتھاکہایکبہتبڑادِگھپھڑپھڑاتاہوااسکیداہنی‬ ‫جانبوالیجھاڑیوںسےنکلکراُڑگیا۔‬ ‫ٹامنےجھاڑیوںکےعقبمیںپلٹکردیکھاتوحیرتسے ُاسکامنہ‬ ‫کھلےکاکھلارہگیا۔سامنےچٹانکےپہلومیںاسکےچچاکیلاشپڑیتھی۔‬ ‫‪108‬‬

‫لاشکارنگنیلاپڑگیاتھااوراُسکےہونٹکھلےتھے۔آنکھیںاُبلکے‬ ‫باہرآگئیتھیں۔ٹامکوجوسبسےپہلاخیالآیاوہہیروںکاتھا۔اسنے‬ ‫ایککےلاشکیکمرکوٹٹولا۔ہیرےغائبتھے۔کمرکےساتھبندھی‬ ‫ہوئیگتھلیخالیتھی۔ٹامسمجھگیاکہجنگلی ُاسکےچچاکومارکرہیرےرُچا‬ ‫کرلےگئےہیں۔اسےبڑاافسوسہواکہچچاکیجانبھیگئیاورہیرے‬ ‫بھیہاتھسےنکلگئے۔اسنےسوچاکہچچاکیلاشکوجنگلیدرندوںاور‬ ‫دِگھوںسےبچانےکےلیےکسیگڑھےمیںدفنکردیناچاہیے۔چنانچہ‬ ‫ُاسنےلاشکودونوںبازوؤںسےپکڑکرایکطرفآہستہسےگھسیٹا۔‬ ‫وہ لاش کو ایک گڑھے میں لے آیا۔ جب اس نے لاش کو گڑھے میں‬ ‫اُتاراتولاشکےپاؤںمیںسےجوتا ِنگیا۔جوتےکےتکلیےہیقیمتیلعل‬ ‫اوریاقوتلڑھککرباہرآگئے۔ٹامکیآنکھیںک ُھلیکیک ُھلیرہگئیں۔‬ ‫اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اِتنے قیمتی ہیرے لاش کے‬ ‫‪109‬‬

‫جوتوںمیںہوںگے۔ٹامنےجلدیسےدونوںہیرے ُاٹھاکراپنیجوتی‬ ‫میںچھپالیے۔اِسکےبعدلاشکوگڑھےمیںڈالکراوپرجھاڑیاںاور‬ ‫ےّتپبکھیردیے۔‬ ‫اسنےہاتھاُٹھاکرچچاکیروحکوثوابپہنچایا۔‬ ‫ابوہایکپلکےلیےبھیوہاں ُرکنانہیںچاہتاتھا۔اگرجنگلیلوگ‬ ‫وہاںتکآکراُسکےچچاکوہلاککرسکتےہیںتووہٹامکاپیچھاکرکے ُاسے‬ ‫بھیہلاککرنےسےگریزنہیںکریںگے۔اِسخیالکےساتھہیوہ‬ ‫وہاںسےتیزتیزقدم ُاٹھاتاجنگلکیطرفچلپڑا۔جنگلیلوگًانیقیٹامکا‬ ‫تعاقب کر کے ُاسے ہلاک کر دیتے اگر وہ جہاز کے مسافروں کو قتل‬ ‫کرنےمیںمصروفنہوتے۔ٹامکوبالکلخبرنہیںتھیکہپیچھےجہازکے‬ ‫مسافروںاورعورتوںوّچبںکےساتھکیابیترہیتھی۔وہاِسقیامت‬ ‫میں اپنی جان بچا کر بھاگ رہا تھا اور چاہتا تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے ا ِن‬ ‫‪110‬‬

‫خونخواروحشیوںسےبہت ُدورنکلجائے۔وہسارا ِدنجنگلمیںچلتارہا۔‬ ‫ابوہبہتتھکگیاتھا۔ ُاسنےراستےمیںجنگلیبیرکھاکراپنیبھوک‬ ‫مٹائیتھی۔پانیایکگدلےجوہڑکاپیاتھا۔وہتھکبھیگیاتھااور ُاسےنیند‬ ‫بھیآرہیتھی۔مگروہکسیدرختپریاکسیکھلیجگہپرسونےکاخطرہمول‬ ‫نہیںلیناچاہتاتھا۔اُسےاِسحقیقتکالِِعہوچکاتھاکہجنگلیلوگبڑے‬ ‫ہوشیار ہیں اور وہ کسی بھی وقت جنگل کے کسی بھی علاقے میں پہنچ سکتے‬ ‫ہیں۔وہبرابرچلتارہا۔آخرکارجباسکیہمّتجوابدےگئی۔ ُاسکے‬ ‫پاؤںشلہوگئےتووہایکجگہدرختکےساتھٹیکلگاکہبیٹھگیا۔چلنے‬ ‫میںسبسےزیادہ ُاسےجوتےمیںرکھےہوئےقیمتیہیرےتنگکر‬ ‫رہےتھے۔ ُاسنےایکپلکےلیےجوتےاُتاردیےاورہیرےاپنی‬ ‫جیبمیںرکھلیے۔جبوہتھوڑیدیرسستا ُچ اچتوجوتےپہنکرپھرسفر‬ ‫پرروانہوگیا۔‬ ‫‪111‬‬

‫ٹامکومُصییییںبرداشتکرنےکیتوعادتتھیمگراِسقسمکےجنگلوں‬ ‫میںسفرکرنےکاتجربہبالکلنہیںتھا۔یہاسکیسختجانیتھیجواُسے‬ ‫اتنےدشوارگزارجنگلمیںآگےبڑھائےچلےجارہیتھی۔اُسکیجگہ‬ ‫کوئی نرم و نازک مزاج والا کسی امیر تاجر کا بیٹا ہوتا تو شاید وہ تھکن اور‬ ‫خوف سے بے ہوش ہو چکا ہوتا۔ دوسری رات سر پر آ رہی تھی۔ ا ِس‬ ‫دورانمیںٹامایکلَپکےلیےبھینسویاتھا۔ ُاسنےفیصلکرلیاکہوہ‬ ‫یہراتسوکربسرکرےگااوراگلیحبُصکواپناسفردوبارہشروعکرےگا۔‬ ‫اِسمقصدکےلیےاُسنےمناسبجگہکیتلاششروعکردی۔وہرات‬ ‫کااندھیراپھیلنےسےپہلےکسیموزوںجگہپراپناٹھکانابنالیناچاہتاتھا۔اُس‬ ‫نےاِردگردپھیلےہوئےٹیلوںکاجائزہلیناشروعکردیا۔ایکجگہ ُاسےدو‬ ‫ٹیلوںکےدرمیانایکغارسانظرآیا۔وہ ُاسغارمیںبناسوچےسمجھے‬ ‫گ ُھسگیا۔اسکےغارمیںداخلہوتےہیایکجنگلیبلیمیاؤںمیاؤں‬ ‫‪112‬‬

‫کرتیباہرکوبھاگی۔ٹامکویقینہوگیاکہاگراِسکھوہمیںجنگلییّلبرہتیہے‬ ‫تو یہاں کسی جنگلی درندے کا اندیشہ نہیں ہے۔ وہ نیم تاریک غار میں‬ ‫گ ُھسکرایکجگہدیوارسےٹیکلگاکرلیٹگیااورتھوڑیدیربعدوہ ُدنیا‬ ‫سےبےخبرگہرینیندسورہاتھا۔‬ ‫جباُسکیآنکھکھلیتوغارکےباہرحبُصکیروشنیپھیلچکیتھیاورچمکیلی‬ ‫آنکھوںوالییّلبغارکےکنارےپرکھڑیاُسےحیرانیسےتکرہیتھی۔‬ ‫ٹامجلدیسےاُٹھا۔ ُاسےاٹھتےدیکھکریّلببھاگگئی۔ٹامغارسےنکلکر‬ ‫باہرآگیا۔جنگلمیںچاروںطرف ِدنکااجالاپھیلرہاتھا۔سورجکی‬ ‫روشنیگھنےدرختوںسےچھنچھنکرزمینپرپڑرہیتھی۔درختوںپر‬ ‫جنگلی چڑیاں چہچہا رہیتھیں۔ ٹامکے ِدل میںبے پناہ خوشی اورزندہ‬ ‫رہنےکاجذبہپیداہوگیا۔اسنےلپککرچشمےکاپانیپیا۔منہہاتھدھویا۔‬ ‫جنگلیپھلکھاکربھوکمٹائیاور ُ دخاکاناملےکرآگےچلپڑا۔‬ ‫‪113‬‬

‫ابوہآدمخورجنگلیلوگوںکےقبیلےسےبہت ُدورنکلآیاتھا۔جنگلکے‬ ‫جسعلاقےمیںسےابوہگزررہاتھاوہایکامنپسندحبشیقبیلےکاعلاقہ‬ ‫تھا۔اسقبیلےکاقّلعتوسطیافریقہکےمشہورخولانیقبیلےسےتھا۔یہلوگ‬ ‫مسلمان تھے اور جنگل میں مویشی پال کر اور تھوڑی بہت کھیتی باڑی کر‬ ‫کےبسراوقاتکرتےتھے۔خولانیقبیلےکےمسلمانپ ّچکمسلمانتھے۔‬ ‫یہ لوگ بہادر‪ ،‬نڈر‪ ،‬ےّچس اور ایمان دار تھے۔ ٹام کو اُن کے بارے میں‬ ‫بالکللِِعنتھا۔اُسکےخیالمیںافریقہکےسبھیحبشیقبائلوحشیاور‬ ‫آدمخورتھے۔دوپہرتکوہجنگلکےرُپپیچاوردشوارگزارراستوںپر‬ ‫چلتارہا۔دوپہرکےبعدجبوہجنگلمیںسےباہرنکلرہاتھاتواچانکایک‬ ‫وحشیٹیلےپرسےچھلانگلگاکراُسکےسامنےآگیا۔ٹامکاتودمہینکل‬ ‫گیا۔مگریہخولانیقبیلےکاوحشینوجوانتھا۔ ُاسنےٹامکیطرفمُشک زراکر‬ ‫دیکھااوراِشاروںہیاِشاروںمیںاُسےبتایاکہوہ ُاسکیجانکا ُدشمن‬ ‫‪114‬‬

‫نہیں۔پھربھیٹامکویقیننہیںآرہاتھا۔وہبادلنخواستہحبشیوحشیکے‬ ‫ساتھچلپڑا۔‬ ‫یہحبشینوجوانٹامکولےکراپنےقبیلےمیںآگیا۔‬ ‫یہاں قبیلے کے سردار نے ٹام کو اپنے جھونپڑے میں الُبیا۔ سردار ایک‬ ‫خوش اخلاق اُدھیڑ رمُع کا آدمی تھا جس نے گلے میں بے شمار کوڑیوں کی‬ ‫مالائیںپہنرکھیتھیں۔اسکےکانوںمیںسونےکیبالیاںتھیںاورسر‬ ‫پہمورکےپروںکابڑاساتاجپہنرکھاتھا۔ٹام ُانکیزباننہیںسمجھتا‬ ‫تھا۔پھربھیسردارکےپوچھنےپرکہوہکونہےاورکہاںسےآرہاہے۔‬ ‫ٹامنے ُاسےاشاروںسےہیبتایاکہوہمدراسسےایکجہازپرسوارہوا‬ ‫تھاجوافریقہکےمغربیساحلپرطوفانمیںگِ زھکےڈوبگیا۔ابوہ‬ ‫پیدلچلکرکیپٹاؤنپہنچنےکاارادہرکھتاہے۔کیپٹاؤنکانامنُسکر‬ ‫سردارنےحیرتکااظہارکیااوراِشاروںمیںہیاسےبتایاکہکیپٹاؤنتو‬ ‫‪115‬‬

‫وہاںسےبہت ُدورہے۔ٹامنےکہاکہچاہےکیپٹاؤنکتنیہی ُدورکیوں‬ ‫نہواسےہرحالتمیںوہاںپہنچناہے۔‬ ‫سردار نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا۔ ساتھی ٹام کو ساتھ لے کر ایک‬ ‫جھونپڑے میںچلا گیا۔ یہاں اس کی خاطر تواضعموٹے اُبلے ہوئے‬ ‫چاولوںاورشکرقندیسےکیگئی۔اِسکےبعداُسےجنگلیپھلکھلائے‬ ‫گئے۔ٹامنےجوتےمیںج ُھیےہوئےہیروںکےبارےمیںسردارکوھچُک‬ ‫نبتایا۔حالانکہاگروہسردارکوبتابھیدیتاکہوہاپنےجوتوںمیںدوبڑے‬ ‫ہیقیمتیہیرےجچ ُھیچااکرلےجارہاہےتووہاُسےھچُکبھینکہتابلکہہوسکتا‬ ‫ہےکہاِنہیروںکیحفاظتکااہتمامکراتا۔اِسلیےکہجیساہمبیانکر‬ ‫چکے ہیں خولانی قبیلہ مسلمان قبیلہ تھا اور یہ لوگ انتہائی ایمان دار اور‬ ‫بہادرہوتےہیں۔وہراتٹامنےجھونپڑیمیںبسرکیاورآرام سے‬ ‫سویا۔‬ ‫‪116‬‬

‫حبُصوہ ُاٹھاتووہہشاشبشاشتھا۔اسکیتھکن ُاتر ُ چُچتھی۔وہبہتجلد‬ ‫وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔ مگر اب سردار کی زبانی اسے معلوم ہوا کہ‬ ‫آگےبےحدگھنااورخطرناکجنگلشروعہورہاہےاوروہاسےاکیلاکبھی‬ ‫عبورنہیںکرسکتا۔یہایکنئیلکشُمآنپڑیتھی۔سردارنےفوراًایک‬ ‫ڈولیکاانتظامکیا۔ڈولیمیںکھانےپینےکاکافیسامانلادکرٹامکےساتھ‬ ‫چھساتآدمیکئےاوراسےبڑیگرمجوشیسے ُرخصتکیا۔ٹامڈولی‬ ‫میںمزےسےبیٹھگیا۔کہاروںنےڈولیاُٹھالیاوریہسفرشروعہوگیا۔‬ ‫دودندوراتیںڈولیمیںسفرکرنےکےبعدیہقافلہایکدریاکنارےآ‬ ‫کر ُرکگیا۔یہاںخولانیقبیلےکےلوگوںنےٹامکوایکدوسرےقبیلے‬ ‫والوںکےسپردکیااورخودواپسچلےگئے۔دوسرےقبیلےوالوںنےبھی‬ ‫ٹام کیبڑی خاطرمدارتکی۔ اُسےاپنے خاصمہمان کیطرحرکھا۔‬ ‫اگلےروزاسےاپنےھچُکآدمیوںکےساتھکشتیمیںسوارکراکر ُرخصت‬ ‫‪117‬‬

‫کیا۔یہکشتیکاسفردریامیںتینروزتکجاریرہا۔چوتھےروزدریاایک‬ ‫چھوٹےسےقصبےکےقریبپہنچاتوقبیلےکےلوگٹامکوقصبےکےایک‬ ‫وُبڑھےآدمیکےحوالےکرکےواپسچلےگئے۔یہادھیڑرمُعکاآدمیاس‬ ‫قصبےکاچوہدریتھا۔وہٹوٹیپھوٹیانگریزیبوللیتاتھا۔ٹامنے ُاسےبتادیا‬ ‫کہوہکیپٹاؤنجاناچاہتاہے۔بوڑھےنےاُسےتشلّیدیاورکہاکہقصبے‬ ‫میںہرہفتےکےبعدایکبڑیکشتیآیاکرتیہے۔‬ ‫”یہکشتیتمہیںسمرسٹٹاؤنتکلےجائےگی۔وہاںسے ُتگاڑیمیں‬ ‫سوارہوکرتین ِدنکاسفرطےکرنےکےبعدکیپٹاؤنپہنچجاؤگے۔“‬ ‫اتوارکیشامکوایکبڑیسیکشتیدریاکنارےآنلگی‪،‬بوڑھےنےٹامکو‬ ‫ُاسکشتیمیںسوارکروادیا۔اُسکاکرایہبھیوُبڑھےنےہیاداکیابلکہٹام‬ ‫کو کیپ ٹاؤن تک کا سفر خرچ بھی دے دیا۔ جب تک کشتی دریا میں‬ ‫نظروںسےاوجھلنہوئینیک ِدلوُبڑھاکنارےپرکھڑاٹامکوہاتھہلا‬ ‫‪118‬‬

‫ہلاکر ُرخصتکرتارہا۔ٹاماسوُبڑھےکےہدردانسلوکاورانسان‬ ‫سےتّبحمکےجذبےسےبہتمتاثرہوا۔ ُاسنے ِدلمیںفیصلکرلیاکہ‬ ‫زندگیبھر ُاسکےاحسانکوہرگزفراموشنہیںکرےگا۔‬ ‫کشتیساریراتاوراگلاسارا ِدنبھیدریامیںچلتیرہی۔وہکئیجنگلوں‬ ‫کےدرمیانسے ُگزری۔راستےمیںٹامنےدریامیںاَنگنتدریائی‬ ‫گھوڑےاورمگرمچھدیکھےجوکنارےکیدھوپمیںبےدُسھلیٹےہوئے‬ ‫تھے۔ایکدوجگہوںپہ ُاسنےلمبےخمدارسفیددانتوںوالےہاتھیوںکو‬ ‫بھیدیکھاجودریاکنارےپانیپیرہےتھے۔دوسریراتکےسفرکے‬ ‫بعدکشتی ِدنچڑھےسمرسٹٹاؤنپہنچگئی۔یہایکخاصاآبادقصبہتھا‬ ‫جہاںبڑیرونقتھی۔یہاںسےٹامکوچھگھوڑوںکیایکمسافرگاڑی‬ ‫میںجگہملگئی۔اسگاڑیمیںکلساتمسافرسوارتھےجوسبکے‬ ‫سبکیپٹاؤنجارہےتھے۔ایکمسافرنےٹامسےباتیںکرنےکی‬ ‫‪119‬‬

‫کوشش کی‪ ،‬ٹام نے اُس کے ساتھ زیادہ بے فّلکت ہونے کی کوشش ن‬ ‫کی۔بسرسمیسیدوچارباتیںکیںاورخاموشہوگیا۔مگراُسےمحسوس‬ ‫ہورہاتھاکہوہشخصٹامکوبڑےغورسےدیکھرہاتھا۔جبٹام ُاسکی‬ ‫طرف دیکھتا تو وہ نظریں کھڑکی سے باہر کر لیتا۔ یہ ایک یّکپ رمُع کا‬ ‫گھنگھریالےبالوںوالاحبشیتھاجوسفیدانگریزیسوٹپہنےہوئےتھا۔‬ ‫مسافرگاڑیسارا ِدنسفرکرتیرہی۔راتکو ُاسنےایکجگہپڑاؤکیا۔‬ ‫ٹامسرائےکےکونےمیںآکرلیٹگیا۔وہسوٹوالاحبشیبھیاُسکے‬ ‫قریبآکربیٹھگیااوراسکیطرفمُشک زراکردیکھتےہوئےبولا‪:‬‬ ‫”معلومہوتاہے ُتاکیلےسفرکررہےہو۔مگر ُتاتنالمباسفراکیلےکیسےکر‬ ‫رہےہو؟کیاکیپٹاؤنمیںتمہارےماںباپرہتےہیں؟“‬ ‫ٹاماساّکمرآنکھوںوالےحبشیکیکسیباتکاجوابدینانہیںچاہتاتھا‬ ‫مگر ُاسچالاکشخصنےسوالوںکیھچُکایسیبوچھاڑکردیکہٹامکو‬ ‫‪120‬‬

‫جوابدیناہیپڑا۔‬ ‫”جیہاں!میرےوالد صاحب کیپٹاؤنمیںرہتےہیں۔میریخالہ‬ ‫سمرسٹٹاؤنمیںرہتیہے۔میں ُاسسےملنےگیاہواتھا۔“‬ ‫سوٹوالاحبشیبولا‪:‬‬ ‫”میرانامنپٹوہے۔میںکیپٹاؤنمیںٹھیکےدارہوں۔ااّھچمسٹٹامیہبتاؤ‬ ‫کہتمہارےکپڑےاتنےمیلےکیوںہیں؟کیاتمہاریخالہنےتمہیںنئے‬ ‫کپڑےنہیںدیے؟“‬ ‫ٹامگھبراگیا۔یہکمبختنپٹوتوپیچھاہینہیںچھوڑرہاتھا۔‬ ‫”میریعادتہےمیںکپڑےبہتجلدگندےکردیتاہوں۔“‬ ‫”او۔خیرکوئیباتنہیں۔میںبھیجبتمہاریرمُعکاتھاتوایساہیکرتاتھا۔‬ ‫کیاتمہیںمچھلیکےشکارکاشوقہے؟“‬ ‫‪121‬‬

‫”جینہیں۔“‬ ‫”اورشیرکےشکارکا؟“‬ ‫”جینہیں۔“‬ ‫”مگرمچھکےشکارکا؟“‬ ‫”جینہیں۔بالکلنہیں۔“‬ ‫اورمیراخیالہےکہہاتھیکاشکاربھی ُتنےکبھینہیںکیاہوگا۔جُُم‬ ‫ہاتھیکےشکارکابہتشوقہے۔پچھلےبرسمیںنےدوہاتھیمارےتھے‬ ‫اور ُان کے دانت کیپ ٹاؤن میں جا کر بیچے تھے۔ کیپ ٹاؤن میں‬ ‫تمہارےوالدکیاکرتےہیںبھلا؟“‬ ‫ٹام بڑی مشکل میں پھنس گیا تھا۔ اب وہ کیا بتاتا کہ اس کے والد کیپ‬ ‫ٹاؤنمیںکیاکرتےتھے؟اسکےوالدکاتوبچپنہیمیںانتقالہوچکاتھا‬ ‫‪122‬‬

‫اورخودٹامزندگیمیںپہلیبارکیپٹاؤنجارہاتھا۔اسنےیونہیکہہدیا۔‬ ‫”میرےوالدقیمتی چ ّ زپوںکاکاروبارکرتےہیں۔“‬ ‫اسپروہحبشینوجواناُچھلپڑا۔‬ ‫”ارے!یہتوبہتہیااّھچہوا۔میرےپاسھچُکہیرےہیں۔میںچاہتا‬ ‫ہوںکہکیپٹاؤنجاکرانہیںتمہارےوالدصاحبکو ِدکھاؤں۔کیا ُت‬ ‫اسِ ِسل ِِسمیںمیریھچُکمددکروگےٹام؟“‬ ‫ٹامکومجبور ًاکہناپڑا‪:‬‬ ‫”کوششکروںگا۔“‬ ‫”شکریہ!“ پھر اُس حبشی نپٹو نے اِدھر ُادھر دیکھ کر ٹام کے کان میں‬ ‫سرگوشیکرتےہوئےکہا‪:‬‬ ‫”کیاتمہارےپاسبھیکوئیہیراہے؟“‬ ‫‪123‬‬

‫اساچانکسوالپرتوٹامکاوُخن ُخہوگیااوراسکیجوتیمیںچھپے‬ ‫ہوئےدونوںہیرےگولسرخانگارےبنکراسکےپاؤںمیں ُسلگ‬ ‫اُٹھے۔اُسنےبےاختیارہوکہاپناپاؤںکھینچلیااوربولا‪:‬‬ ‫”کیوں۔ بھلا میرے پاس ہیرے کہاں سے آ گئے؟ ہیرے تو والد‬ ‫صاحباپنےپاسرکھتےہیں۔“‬ ‫اسپرحبشی ّ اعریسےمُشک زرایااوربولا‪:‬‬ ‫”ارےمیںتو ُتسےمذاقکررہاتھا۔بھلاتمہاریرمُعکےلڑکےکےپاس‬ ‫ہیرےکہاںسےآگئے؟ااّھچابتمآرامسےسوجاؤ۔میںبھیاُدھرجا‬ ‫کرسوتاہوں۔“‬ ‫حبشینوجوانٹامکےسرپرپیارسےہاتھپھیرکرچلاگیااورٹامکا ِدلتیزی‬ ‫سےدھڑکنےلگا۔اسےیقینہوگیاتھاکہحبشینوجوانکو ُاسکےجوتوں‬ ‫‪124‬‬

‫میںج ُھیےہوئےہیروںکالِِعہوگیاہے۔مگرسوالیہتھاکہاسےپتہکیسے‬ ‫چلا؟ ٹام نے تو اس کے سامنے ایک پل کے لیے بھی جوتے پاؤں سے‬ ‫نہیں ُاتارےتھے۔نہیںنہیںاس ّعارحبشیکوھچُکبھیمعلومنہیں۔وہ‬ ‫یوںہی ُاسکےساتھٹھٹھاکررہاتھا۔ویسےبڑاچالاکآدمیہے۔ٹامنے‬ ‫اتناکہہکر ِدلکوتشلّیدےلی۔مگروہساریراتتقرًابیجاگتارہا۔وہحبشی‬ ‫نوجوانسےایکلمحےکےلیےبھیغافلنہیںہوناچاہتاتھا۔ذراسی ُاسے‬ ‫اونگھآتیتووہفوراًہوشیارہوکرسرکوجھٹکدیتا۔ ُاسےیوںمحسوسہورہا‬ ‫تھاکہاگروہسوگیاتوحبشیاسکےہیرےچراکررفورّکچہوجائےگا۔ٹام‬ ‫نےساریراتآنکھوںہیآنکھوںمیںکاٹدی۔‬ ‫ُ دخا ُخداکرکےحبُصہوئی۔گھوڑاگاڑیاّیترکیگئی۔مسافراُسمیںسوار‬ ‫ہوئے۔ حبشی نوجوان بھی سوار ہو گیا۔ وہ ٹام کی طرف دیکھ کے برابر‬ ‫مُشکرزائےجارہاتھا۔‬ ‫‪125‬‬

‫گھوڑاگاڑیکیپٹاؤنکیطرفروانہوگئی۔‬ ‫‪126‬‬

‫نوعمرشہزادہ‬ ‫کیپٹاؤنپہنچکرگاڑیسرائےمیںٹھہرگئی۔‬ ‫یہایکتھکادینےوالالمباسفرتھا۔مسافروںکےکپڑےگردسےاَٹگئے‬ ‫تھے۔ٹامنےگاڑیسےاُترکرکپڑوںکوجھاڑااورسرائےسےباہرنکل‬ ‫آیا۔ابھیوہسوچہیرہاتھاکہدِکھرجائےکہوہہیحبشینوجواناسکے‬ ‫قریبآکرکھڑاہوگیا۔‬ ‫‪127‬‬

‫”معلوم ہوتا ہے تمہارےوالدصاحب کوتمہارے آنے کی خبر نہیں‬ ‫ہوئی۔وگرنوہتمہارےلیےضروراپنیخاصگھوڑاگاڑیبھیجتے۔“‬ ‫ٹامپریشانہوگیاتھا ُاساّکمرحبشیسے۔ ُاسنےاسےجھاڑتےہوئے‬ ‫کہا‪:‬‬ ‫”آخرآپکواِسسےکیا ِدلچسپیہےکہمیرےوالدصاحبمیرےلیے‬ ‫گاڑیبھیجتےہیںیانہیں؟برائےمہربانیآپمیرےمعاملاتمیںدخلن‬ ‫ہیدیںتوبہترہے۔خداحافظ“!‬ ‫اتناکہہکےٹامایکطرفکوچلپڑا۔وہسڑکپرکافیدورتکچلتاگیا۔‬ ‫پھراسنےموڑگھومتےہوئےدیکھاتوحبشیھچُکفاصلےپربرابر ُاسکاپیچھا‬ ‫کررہاتھا۔ٹامخوفزدہساہوکرایکدمبھاگاٹھا۔اُسےکیپٹاؤنکی‬ ‫سڑکوںسےکوئیواقفیتنہیںتھی۔وہبھاگتےبھاگتےدوچارسڑکیںگھوم‬ ‫‪128‬‬

‫گیااورآخرایکگلیمیںآکرچھپگیا۔کافیدیروہاںج ُھیےرہنےکےبعد‬ ‫وہ باہر نکلا تو اس حبشی نوجوان کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ٹام بڑا‬ ‫خوش ہوا کہایکبلائےناگہانی سے چھٹکاراحاصلہوا۔ابوہبڑے‬ ‫اطمینان سے کیپ ٹاؤن کی سڑکوں پر گھومنے لگا۔ یہ خاصا بڑا شہر تھا۔‬ ‫سڑکیںپ ّچک چ ّ زپکیبنیہوئیتھیںاوربہتسیگھوڑاگاڑیاںاورشاندار‬ ‫بگھیاں آ جا رہی تھیں‪ُ ،‬دکانوں پر افریقی‪ ،‬سوڈانی‪ ،‬مصری اور مراکشی‬ ‫لوگوںکےساتھساتھانگریزمرداورعورتیںبھیسوداسلفخریدرہی‬ ‫تھیں۔ٹامنےانگریزمرداورعورتوںکودیکھاتواُسےبہتحوصلہہوا۔وہ‬ ‫اُسکےاہلِوطنتھے۔وہانہیںاپنا ُدکھھکُسکہہسکتاتھا۔ ُانسے ُاسے‬ ‫ہدردیکیتوقعتھی‪،‬مگروہہیروںکارازانہیںبھینہیںبتاناچاہتاتھا۔‬ ‫ٹامسارا ِدنکیپٹاؤنکےبازاروںاورگلیکوچوںمیںمٹرگشتکرتا‬ ‫رہا۔ تیسرے پہر وہ گنجان شہر سے باہر کے علاقے میں نکل آیا۔ یہاں‬ ‫‪129‬‬

‫انگریزی طرز کے پرانے بنگلے بنے ہوئے تھے۔ ایسے بنگلے ُاس نے‬ ‫ہندوستانکےساحلیشہروںمیںدیکھےتھے۔وہسمجھگیاکہیہاںانگریز‬ ‫لوگ رہتے ہیں۔ ایک بنگلے کے باہر ایک ادھیڑ رمُع کی عورت آنگن کی‬ ‫الگنیپرسےسوکھےہوئےکپڑےاُتاررہیتھی۔ٹامکوبہتبھوکلگی‬ ‫تھی۔اُسنےادھیڑعمرکیانگریزعورتکوجاکرسلامکیا۔اُسعورت‬ ‫نےٹامکیطرفشفقتبھرینظرسےدیکھا۔‬ ‫”تمکونہواےّھچلڑکے؟“‬ ‫ٹام کو عورت کے ا ِس تّبحم بھرے انداز سے حوصلہ ہوا۔ وہ اس کے‬ ‫پاسچلاگیا۔‬ ‫”میرانامٹامہےمادام۔میںہندوستانسےایکبحریجہازمیںانگلستان‬ ‫جانےکےلیےسوارہواتھا۔جہازسمندرمیںغرقہوگیا۔میںبڑیلکشُم‬ ‫‪130‬‬

‫سےجانبچاکریہاںتکپہنچاہوں۔“‬ ‫ُاس عورت نے حیرانی سے ٹام کو دیکھا۔ جلدی جلدی سوکھے ہوئے‬ ‫کپڑےٹوکریمیںرکھےاورٹامکومکانکےاندرلےگئی۔‬ ‫”میرےےّچباندرآجاؤ۔ ُتبڑےبہادرلڑکےہو۔تمہیںضروربھوک‬ ‫لگیہوگی۔پہلےھچُککھالو۔پھرباتیںکریںگے۔“‬ ‫بنگلےکاڈرائنگرومبڑیخوبصورتیسےسجاہواتھا۔ہرشےاپنیاپنیجگہپر‬ ‫سلیقےسےرکھیتھی۔مادامنےٹامکومیزپربٹھایااوراسکےسامنےن ُھتی‬ ‫ہوئیبطخکاگوشتاورڈبلروٹیدودھرکھدیا۔‬ ‫”کھاؤمیرےےّچب۔تمہارےکپڑےبھیتوپھٹگئےہیں۔میںتمہارے‬ ‫لیےکپڑےلاتیہوں۔“‬ ‫ماداماندرچلیگئی۔ٹامکوبڑیبھوکلگیتھی۔اسنےجلدیجلدیڈبل‬ ‫‪131‬‬

‫روٹیکےساتھبطخکاگوشتکھاناشروعکردیا۔ایکعرصےکےبعداُسے‬ ‫یہنعمتیںکھانےکوملیتھیں۔اُسنے ِدلہی ِدلمیں ُ دخاکاشکراداکیا۔‬ ‫اتنےمیںمادامڈرائنگروممیںنمودارہوئی۔اسکےساتھایکادھیڑ‬ ‫عمرکاانگریزبھیتھاجسکیمونچھیںگھنیتھیں۔‬ ‫”ہنری!یہہےمسٹٹام۔“‬ ‫”ہیلوٹام۔“‬ ‫”ہیلوسر۔“‬ ‫”مسٹٹام۔ ُتکونسےجہازمیںسفرکررہےتھے؟“‬ ‫”اسجہازکانامڈیونشائرتھاجناب۔“‬ ‫بوڑھےہنریکامنہلُ ُھککاکھلارہگیا۔‬ ‫”ارے!توکیاڈیونشائرسمندرمیںغرقہوگیا؟وہتوایسٹانڈیاکمپنیکا‬ ‫‪132‬‬

‫سبسےبڑاجہازتھا۔“‬ ‫”ڈیون شائر میری آنکھوں کے سامنے غرق ہوا جناب۔ اُسے خوفناک‬ ‫طوفان نے گھیر لیا۔ دیکھتے دیکھتے وہ سمندری چٹانوں سے ٹکرایا اور اُس‬ ‫کےدوٹکڑےہوگئے۔ہملوگبڑیلکشُمسےاپنیجانیںبچاسکے۔“‬ ‫”کپتاناورباقیمسافروںکاکیاہوا؟“‬ ‫”بہتسےڈوبگئے۔جوباقیبچےانہیںکپتانساحلپرلےکرآگیا۔‬ ‫مگرافسوسکہانہیںوحشیآدمخوروںنےہلاککردیا۔“‬ ‫بوڑھےہنرینےافسوسکااظہارکیااورٹامسےپوچھاکہکیپٹاؤنمیں‬ ‫وہکسیکوجانتاہے۔ٹامنےجباسنیک ِدلبوڑھےکوبتایاکہاسکااس‬ ‫ُدنیامیںایکہیچچاتھاجسےآدمخوروںنےقتلکردیاتوانہوںنےاُس‬ ‫سےبڑیہدردیکیاورکہا‪:‬‬ ‫‪133‬‬

‫”بیٹے!اِسگھرکو ُتاپناہیگھرسمجھو۔ہمدونوںمیاںبیویسالہاسال‬ ‫سےاِسگھرمیںاکیلےرہتےہیں۔ہمیہسمجھیںگےکہایکّدمتکے‬ ‫بعدہمیںاپناکھویاہوابیٹاملگیاہے۔“‬ ‫ٹامکوزندگیمیںپہلیبارماںباپکیشفقتملیتھی۔اُسکے ِدلمیںاُن‬ ‫دونوںبوڑھےمیاںبیویکےلیےبےحدپیارکاجذبہبیدارہوگیا۔اُسے‬ ‫یوں لگا جیسے اس کے اپنے ماں باپ بوڑھے ہو کر اس کی آنکھوں کے‬ ‫سامنےآگئےہوں۔مادامنےٹامکواپنےسینےسےلگاکربڑاپیارکیا۔ٹامکو‬ ‫اپنیماںیادآگئی۔‬ ‫”تمبڑےبہادربیٹے ہوٹام۔افریقہکےخطرناک جنگلعبورکرناکوئی‬ ‫آسانکامنہیںہے۔“‬ ‫ٹامنےغسلکیا۔نئےکپڑےپہنے۔جوتےمیںسےقیمتی چ ّپزنکالکر‬ ‫‪134‬‬

‫اپنیجیبمیںرکھےاورسوگیا۔‬ ‫اگلےروزوہاُٹھاتوبےحدتروتازہمحسوسکررہاتھا۔اُسےمادامکےگھرمیں‬ ‫رہتےہوئےایکہفتہگزرگیا۔بوڑھاہنریبندرگاہپرنوکریکرتاتھا۔‬ ‫اب ُاسےپنشنملتیتھی۔ٹامکےساتھدونوںمیاںبیویبےحدتّبحم‬ ‫کرتےتھے۔حالانکہٹامسےانہیںکوئیلالچنہیںتھا۔ایکمہینہگزر‬ ‫گیا۔اساثنامیںٹامنےانہیںھچُکنبتایاکہاُسکےپاسدوانتہائیقیمتی‬ ‫چ ّ زپموجودہیں۔وہاسرازکوافشاکرتےہوئےگھبرارہاتھا۔لیکنایک‬ ‫روز ُاسنےدونوںمیاںبیویکےسامنےیہرازاُگلدیا۔‬ ‫اسروزبوڑھاہنریٹامکواپنےساتھایکدفترمیںلےگیاجہاںجاکر‬ ‫اُسنےاپنےایکحلفیہبیانپردستخطکئے۔اسبیانکیروسے ُاسنے‬ ‫اپنیوصیتمیںمرنےکےبعدآدھیجائیدادغریبوںکےہسپتالکے‬ ‫ناماورآدھیجائیداداپنیبیویاورٹامکےنامچھوڑدیتھی۔ٹامبوڑھے‬ ‫‪135‬‬

‫ہنریکیاِسقربانیسےبڑامتاثرہوا۔ ُاسنےگھرواپسآتےہیماداماور‬ ‫بوڑھےہنریکوبتادیاکہاسکےپاسدوانتہائیقیمتیہیرےموجودہیں۔‬ ‫جباُسنےرُسخرنگکاشاندارلعلاوریاقوتجیبمیںسےنکالکر‬ ‫میزپررکھےتودونوںمیاںبیویکیآنکھیںک ُھلیکیک ُھلیرہگئیں۔‬ ‫”مائی گاڈ! یہ تو بڑے قیمتیہیرے معلوم ہوتے ہیں۔ میرے ےّچب! یہ‬ ‫تمہیںکہاںسےملگئے؟“‬ ‫ٹام نے سچ بولتے ہوئے انہیں صاف صاف ساری کہانی سنا دی کہ کس‬ ‫طرح اُس کا چچا ان ہیروں کو لے کر ہندوستان سے چلا۔ پھر کس طرح‬ ‫جہاز غرق ہوا۔ پھر وہ آدم خور وحشیوں کے قیدی بنے۔ پھر کیسے ایک‬ ‫راتاسکاچچاہیرےلےکرفرارہوااورراستےمیںحبشیوںکےہاتھوں‬ ‫قتل ہو گیا۔ بوڑھے ہنری اور مادام نے اس کی کہانی پر اعتبار کر لیا۔‬ ‫کیونکہانہیںمعلومتھاکہٹامجھوٹنہیںبولتا۔ٹامنےکہا۔‬ ‫‪136‬‬

‫”میںچاہتاہوںکہان چ ّ زپوںکوکسیجوہریکےپاسبیچدیاجائے۔“‬ ‫بوڑھاہنرییاقوتکوغورسےدیکھتےہوئےبولا‪:‬‬ ‫”کیپ ٹاؤن کا ایک پرانا جوہری میرا اپنا آدمی ہے۔ کل اُس کے پاس‬ ‫تمہیںلےچلوںگا۔“‬ ‫دوسرے ِدنٹامبوڑھےہنریکےساتھجوہریکی ُدکانپرگیا۔جوہری‬ ‫بھیہنریکیرمُعکاتھااوراسکیبھوؤںکےبالبھیسفیدہوگئےتھے۔‬ ‫علیکسلیککےبعدہنرینےٹامکا ُاسسےتعارفکروایااورپھرکہا‪:‬‬ ‫”اِسنوجوانلڑکےکوافریقہکےجنگلوںسےدوقیمتی چ ّپزملےہیں۔یہ‬ ‫انہیںتمہارےپاسفروختکرناچاہتاہے۔ذرادیکھکربتاؤتواِنکیقیمت‬ ‫کیاہوگی؟“‬ ‫اورجبٹامنےلعلاوریاقوتبوڑھےجوہریکیمیزپررکھےتوجوہری‬ ‫‪137‬‬

‫کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ وہ کتنی ہی دیر تُب بنا لعل اور یاقوت کو دیکھتا‬ ‫رہا۔پھراسنےٹامکیطرفحیرتسےدیکھااوربولا‪:‬‬ ‫”بیٹے ُتبڑےخوشقسمتہو۔یہہیرےتوکسیشہنشاہکےتاجمیںلگنے‬ ‫کےقابلہیں۔میںنےاپنیساریزندگیمیںاسسےزیادہقیمتیہیرے‬ ‫نہیںدیکھے۔“‬ ‫بوڑھاہنریبولا‪:‬‬ ‫”اگریہسچہےتوکیاخیالہےاندونوں چ ّپزوںکیقیمتکیاہوگی؟“‬ ‫”قیمت؟“بوڑھاجوہریپھر ُتکربولا۔”اسکیقیمتتوکوئیبادشاہہی‬ ‫اداکرسکتاہے۔“‬ ‫”پھر بھی تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تم اسے خرید و تو کتنی رقم ادا کر سکتے‬ ‫ہو؟“‬ ‫‪138‬‬

‫بوڑھےجوہرینےماتھےپرہاتھپھیرتےہوئےبوڑھےہنریکیطرف‬ ‫دیکھا‪:‬‬ ‫”پیارےہنری! ُتمیرےپچاسسالکےپرانےدوستہو۔تمایّھچ‬ ‫طرحجانتےہوکہمیںکتنادولتمندہوںاورکتناغریبہوں۔اگرمیں‬ ‫اِسےخریدبھیلوںتواسوقتزیادہسےزیادہایکلاکھپونڈاداکرسکتا‬ ‫ہوں۔“‬ ‫ایکلاکھپونڈکانُسکربوڑھاہنریغشکھاتےکھاتےبچا۔وہذرالڑکھڑا‬ ‫ضرورگیااورکانپرہاتھرکھکربولا‪:‬‬ ‫”کیاکہا۔ایکلاکھپونڈ“!‬ ‫”ہاں پیارے ہنری‪ ،‬ایک لاکھ پونڈ۔ اس کے لیے بھی جُُم اپنا فارم‬ ‫فروختکرنا ہوگا۔نقد ادائیگی میںصرفپچاسہزارپونڈ کیکرسکتا‬ ‫‪139‬‬

‫ہوں۔بولو۔کیامنظورہے؟“‬ ‫ہنرینےٹامکیطرفدیکھااورپوچھاکہچونکہمالاُسکاہےاِسلیے‬ ‫وہیاِسبارےمیںفیصلکرنےکاحقرکھتاہے۔ٹامنےہامیبھرلی۔سودا‬ ‫طےہوگیا۔اسیوقتایکدستاویزلکھیگئی۔دوپہرکوعدالتکیطرف‬ ‫سےاُسپرمہربھیلگادیگئی۔شامکوبوڑھےجوہرینےپچاسہزارپونڈ‬ ‫اداکرد ےیاورپچاسہزارپونڈکااقرارنامہلکھدیا۔‬ ‫اتنے ڈھیر سارے سونے کے پاؤنڈ لے کر ٹام اور ہنری گھر آئے تو‬ ‫بوڑھی مادام دنگ رہ گئی۔ ُاسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔‬ ‫دوسرے ِدنبوڑھےہنرینےپہلاکامیہکیاکہساریکیساریرقمٹام‬ ‫کےنامسےبنکمیںجمعکروادی۔ھچُکرقمٹامنےاپنےپاسرکھلی۔اس‬ ‫رقمسےاُسنےاپنےاورہنریمادامکےلیےبہترینکپڑوںکیپوشاکیں‬ ‫سلوائیں۔ اپنے اور ہنری کے لیے نئے ہیٹ اور بوٹ خریدے۔ اس‬ ‫‪140‬‬

‫راتانہوںنےراتکاکھاناایکشاندارہوٹلمیںکھایا۔ٹامنئےاور‬ ‫قیمتیکپڑوںمیںنورمُعشہزادہمعلومہورہاتھاجوکسییورپیملکسےکیپ‬ ‫ٹاؤن‪،‬شہرمیںسرکاریدورےپرآیاہو۔‬ ‫‪141‬‬

‫جہازباؤنٹیکیآمد‬ ‫ایسٹ انڈیا کمپنی کے مشہور و معروف جہاز ”ڈیون شائر“ کو سمندر میں‬ ‫ڈوبےآٹھبرسگزرگئےتھے۔اسدورانمیںسارےیورپمیںجہاز‬ ‫کیغرقابیپربڑاواویلامچا۔کسیکوخبرتکنہوسکیکہجہازکےمسافروں‬ ‫پرکیابیتی۔کپتانکہاں ُگمہوگیااورخزانکہاںچلاگیا۔کمپنیکےکارندوں‬ ‫نےسرتوڑکوششکیکہجہازکاڈوباہواخزانسمندرسےنکالاجائےمگروہ‬ ‫‪142‬‬

‫ہربارناکامرہے۔جببھیکوئیجہازوہاںآتاتوسمندرمیںایساطوفان‬ ‫اُٹھتاکہیاتووہجہازغرقہوجاتااوریاخوفزدہہوکرواپسبھاگجاتا۔اّلمح‬ ‫اورجہازکےکپتانسمندرکے ُاسےّصحکیطرفجاتےہوئےگھبرانے‬ ‫لگےتھے‪،‬انہیںیقینساہوگیاتھاکہسمندرمیںڈوبےہوئےخزانےپہبد‬ ‫روحوںنےقبضہکرلیاہے۔یہروحیںکسیکوبھیاسخزانےتکپہنچنے‬ ‫نہیںدیتیں۔‬ ‫اسدورانمیںایکجہاز”باؤنٹی“کےکپتاننےفیصلکیاکہوہڈوبے‬ ‫ہوئےخزانےکوضرورڈھونڈنکالےگا۔ ُاسکاکپتان”مسٹالفرڈ“تھاجو‬ ‫ایک بہادر اور نڈر کپتان تھا۔ اسے بد روحوں پر بالکل یقین نہیں تھا۔‬ ‫کمپنینےاسےہرطرحکیسہولتدینےکااعلانکردیااوریہبھیکہہدیا‬ ‫کہاگروہخزانتلاشکرنےمیںکامیابہوگیاتواسےخزانےکاچوتھائی‬ ‫ہّصحانعامکےطورپردےدیاجائےگا۔کپتانالفرڈاپناجہازباؤنٹیلے‬ ‫‪143‬‬

‫کرجنوبمغربیافریقیکےسمندروںکیطرفچلپڑا۔آپنےاپنی‬ ‫کتابوںمیںجہازباؤنٹیکاحالضرورپڑھاہوگا۔یہوہیمشہورتاریخیجہاز‬ ‫تھا جس کی بغاوت کا ذکر ہمیں انگریزی تاریخ میں ملتا ہے۔ باؤنٹی جہاز‬ ‫بہتبڑاجہازتھا۔یہکسیطرحبھی”ڈیونشائر“سےکمنہیںتھا۔اسپر‬ ‫بھیبحریڈاکوؤںسےبچنےکےلیےبڑیبڑیتوپیںلگیہوئیتھیں۔اس‬ ‫کاعملہبڑاتجربہکاراوربہادرتھا۔کپتانالفرڈبذا ِتخوداس ُُمکینگرانی‬ ‫کر رہا تھا۔ انگلستان کے ساحل سے چل کر یہ جہاز سفر کرتا ہوا کوئی دو‬ ‫مہینوںمیںاسمقامپرپہنچاجہاںآٹھنوبرسپہلےڈیونشائرغرقہوا‬ ‫تھا۔کپتاننےگیارہمیلدورجہازکولنگراندازکردیا۔‬ ‫ابکپتانغوطہخوروںکوسمندرکےنیچےخزانےتکپہنچانےکیاّیتریاں‬ ‫کرنےلگا۔کپتانغوطہخوروںکولےکرایککشتیمیںسوارہوااورساحلی‬ ‫چٹانوںوالےعلاقےمیںاسجگہآگیاجہاںجہازڈوباتھا۔اسےیقینتھا‬ ‫‪144‬‬

‫کہخزانابھیتکوہیںسمندرکیتہہمیںموجودہوگا۔اسےبتایاگیاتھاکہ‬ ‫خزانجہازکینچلیتہہکےایکلوہےکےکمرےمیںبندتھا۔کپتانکے‬ ‫اندازےکےمطابقجہازکیدوسریاشیاسمندرمیںبہہکرآگےنکلسکتی‬ ‫تھیںمگرلوہےکاکمرہبھاریہونےکیوجہسےآگےنہیںکھسکسکتاتھا۔‬ ‫سبسےپہلےاسنےدوغوطہخوروںکونیچےبھیجا۔غوطہخورنیچےجاکر‬ ‫چٹانوں میں جہاز کے ملبے کو تلاش کرتے رہے۔ دو روز اسی تلاش میں‬ ‫گزر گئے۔ تیسرے روز جہاز کا ملبہ مل گیا۔ جہاز کے کئی ٹکڑے ہو گئے‬ ‫تھے۔غوطہخوروںنےاوپرآکرکپتانکواطلاعدیکہجسکمرےمیں‬ ‫خزانہےوہدوچٹانوںکےبیچمیںپھنساہواہے۔کپتاننے ُکُحدیاکہجس‬ ‫طرح بھی ُمُم ہو خزانے تک پہنچ کر اسے حاصل کیا جائے۔ غوطہ‬ ‫خوروںنےایکباربھرسمندرمیں ُڈبکیلگائیاورغوطہلگاکرتہہمیںپہنچ‬ ‫گئے‪ ،‬وہ کئی چٹانوں میں سے گزر کر آخر اس جگہ پہنچ گئے جہاں خزان‬ ‫‪145‬‬

‫موجود تھا۔ ان کی حیرت کی کوئی انتہا ن رہی جب انہوں نے دیکھا کہ‬ ‫لوہےکےکمرےکادروازہٹوٹکرریتمیںدھنساہواہےاورخزانے‬ ‫کے جواہرات اور سونے کی موٹی موٹی سلاخیں اِدھر اُدھر تہہ میں‬ ‫بکھری پڑی ہیں۔ انہوں نے جلدی جلدی دو چار سونے کی سلاخیں‬ ‫اُٹھائیںاوراوپرآگئے۔‬ ‫کپتان الفرڈ نے سونے کی سلاخیں دیکھیں تو خوشی سے ایک نعرہ لگایا۔‬ ‫ابوہدوسرےغوطہخوروںکوبڑےبڑےتھیلےدےکرنیچےبھیجنےلگا۔‬ ‫تاکہجتنیجلدیہوسکےساراخزاناوپرلایاجائے۔‬ ‫غوطہخوروںنےتھیلےاپنیکمرکےسامنےباندھےاوروہغوطہلگانےکے‬ ‫لیے پر تول ہی رہے تھے کہ یکایک سمندر میں طوفان آ گیا۔ آسمان پر‬ ‫ایک بھی ٹکڑا بادل کا نہیں تھا۔ ہوا بھی تیز نہیں چل رہی تھی۔ کسی‬ ‫طرف بھی سمندری طوفان کے آثار نہیں تھے لیکن اس کے باوجود‬ ‫‪146‬‬

‫سمندرمیںپہاڑایسیموجیں ُاٹھناشروعہوگئیںاوردیکھتےہیدیکھتےاِن‬ ‫خوفناکشورمچاتیلہروںنےکشتیکوکپتاناورغوطہخوروںسمیتاُلٹاکر‬ ‫رکھدیا۔کشتیکےکئیٹکڑےہوگئے۔غضبناکلہریںکشتیکوباربارپٹخا‬ ‫رہیتھیں۔کپتاناورغوطہخوربڑیلکشُمکےساتھسمندرمیںتیرکر‬ ‫اپنےجہازتکپہنچے۔وہدسمیلتکسمندرمیںتیرتےچلےگئے۔جب‬ ‫وہاپنےجہازپرپہنچےتوانکےسانساُکھڑےہوئےتھےاوریوںلگتاتھا‬ ‫کہابھیانکادمنکلجائےگا۔‬ ‫کپتانحیرانتھاکہیہطوفانکہاںسےآگیا۔اّلمحوںنےنُسرکھاتھاکہ‬ ‫ڈیونشائرکےڈوبےہوئےخزانےپربدروحوںکاقبضہہے‪،‬ابجوبغیر‬ ‫کسی بادل اورآندھی کےطوفان آیا تو انہیں یقین ہو گیا خزانے پربد‬ ‫روحوںنےقبضہجمارکھاہےاوراگرانہوںنےدوبارہغوطہلگایاتوروحیں‬ ‫ُانسےضرورانتقاملیںگیاورانہیںہلاککردیںگی۔وہڈرگئےتھے‬ ‫‪147‬‬

‫مگرکپتاننےحوصلہنہیںہاراتھا۔وہایکبارپھرخزانےکوحاصلکرنے‬ ‫کی اّیتریاں کرنے لگا اور پھر اب تو اُس نے اپنی آنکھوں سے سونے کی‬ ‫سلاخیں دیکھ لی تھیں۔ اب وہ کسی طرح بھی اس مہم سے دست بردار‬ ‫ہونےپراّیترنہیںتھا۔افسوسکہسمندرسےحاصلکیہوئیسونےکی‬ ‫سلاخیںواپسسمندرکینذرہوگئیتھیں۔پھربھیکپتانکویقینتھاکہوہ‬ ‫انہیںدوبارہحاصلکرلےگا۔وہطوفانگزرجانےکاانتظارکرنےلگا۔‬ ‫راتبھرسمندرمیںطوفانیکیف ّیترہی۔حبُصہوئیتوسمندرایکبارپھر‬ ‫سکونکیحالتمیںتھا۔یوںمحسوسہورہاتھاکہیہاںکبھیکوئیطوفان‬ ‫نہیںآیا۔کپتاننے ُکُحدیاکہخزانےتکپہنچنےکےلیےغوطہخوراّیترہو‬ ‫جائیں۔اّلمحبڑےوہمیتھے۔غوطہخوربھیذراہچکچائے۔مگرکپتانکی‬ ‫ایکہیڈانٹنےانکے ِدلوںسےسارےوہمنکالدیے۔انہوں‬ ‫نےغوطہخوریکاسامانپہنا۔کشتیمیںسوارہوئےاورکپتانکےساتھ‬ ‫‪148‬‬

‫اُسیمقامپرآگئےجہاںکلانہیںسونےکیسلاخیںملیتھیں۔انہوں‬ ‫نےکپتانکےاشارہکرنےپرچمڑےکےتھیلےکمرکےساتھباندھےاور‬ ‫سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ دو غوطہ خور تھے۔ رات کے طوفان نے‬ ‫سمندرکےپانیکوھچُکگدلاکردیاتھا۔پھربھیسطحپرچمکتیہوئیتیزدھوپ‬ ‫کی روشنی صاف نیچے تک آ رہی تھی اور انہیں سمندر کی ہر شے دکھائی‬ ‫دے رہی تھی۔ جب وہ ان چٹانوں کے درمیان پہنچے جہاں کل جہاز کا‬ ‫خزانانہوںنےدیکھاتھاتووہیہمعلومکرکےحیرانرہگئےکہوہاںکوئی‬ ‫بھیخزاننہیںتھا۔لوہےکاآہنیکمرہکھ ِشککربہتپیچھے چ ّپزوںمیںجا‬ ‫چکاتھا۔اورکلجوسمندرکیتہہمیںسونےکیسلاخیںبکھریہوئیتھیں‬ ‫آج ُانمیںسےایکبھی ِدکھائینہیںدےرہیتھی۔‬ ‫غوطہخورسطحسمندرپرنکلآئے۔انہوںنےساریصورتحالسے‬ ‫کپتانکوباخبرکیا۔کپتانپہلےتوبڑاحیرانہواکہخزانوہاںموجودنہیں‪،‬‬ ‫‪149‬‬

‫پھراسنےغوطہخوروںکوڈانٹکرکہا‪:‬‬ ‫”خزان کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ ضرور وہیں کہیں ہو گا۔ اسے دوبارہ جا کر‬ ‫تلاشکرو۔“‬ ‫غوطہخوروںنےایکبارپھر ُڈبکیاںلگادیں۔ابوہآہستہآہستہسمندر‬ ‫کیتہہمیںاُنگہریچٹانوںکےپاساترنےلگےجہاںخزانکھسککر‬ ‫چلاگیاتھا۔یہاںپانیکادباؤزیادہتھااورغوطہخوروںکونیچےجاتےہوئے‬ ‫دتّقمحسوسہورہیتھی۔پھربھیوہکپتانکے ُکُحکےمطابقبرابرنیچے‬ ‫گہرے پانیوں میں ُاترتے چلے جا رہے تھے۔ دونوں غوطہ خور ایک‬ ‫دوسرےکےپہلوبہپہلوآگےبڑھرہےتھے۔اچانکانہیںیوںمحسوس‬ ‫ہواجیسےکوئیبہتبڑاسایہانکےاوپرسےگزرگیاہو۔انہوںنےایک‬ ‫دوسرےکیطرفبّجعتسےدیکھا۔مگروہاںھچُکبھینہیںتھا۔وہپھر‬ ‫آگے بڑھنے لگے۔ اب انہیں چٹانوں کے بیچ میں بکھرا ہوا خزان صاف‬ ‫‪150‬‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook