جگہوںپرکبھیبسیرانہیںکرتےجہاںپانیموجودنہو۔ھچُک ُدورچلنےکے بعدپانیتونملامگرایکجگہاُسےجنگلیبیروںکےبےشماردرختنظر آئے۔یہدرختبیروںسےلدےہوئےتھے۔بلیکبرڈنےبیرتوڑتوڑ کرکھانےشروعکردیے۔جب ُاسکاپیٹبھرگیاتواب ُاسےپانیکی ضرورتمحسوسہوئی۔بیرکھانےکےبعدپیاسکیّدشتمیںاضافہہو گیاتھا۔وہیونہیاِدھراُدھرگُ وھم چ ِپزکےپانیکیتلاشکرنےلگا۔ایک چٹان کے عقب میں اُسے پانی کے رِگنے کی آواز انُسئی دی۔ بلیک برڈ چٹانکےپیچھےرّکچلگاکرآیاتویہدیکھکر ُاسےبےحدخوشیہوئیکہوہاں پانیکاایکچھوٹاساچشمہبہہرہاتھا۔بلیکبرڈنےاُسچشمےپربیٹھکرجی بھرکرپانیپیا۔ ُُمہاتھدھویا۔اورجیبمیںسےہیرےنکالکرانہیں غور سے دیکھنے لگا۔ اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی۔ وہ ا ِس خیال سے بے حد خوش ہو رہا تھا کہ وہ اتنے بڑے سمندری طوفان سے بھی 101
لاکھوںپاؤنڈکیدولتبچاکرلےآیاہےجبکہ ُاسکےساتھیتباہہو گئےتھے۔ ُاسنےیاقوتاورلعلکوپانیسےدھوکرایّھچطرحچمکایااور اپنےجوتوںمیںآگےکرکےجچ ُھیچاادیا۔اِسکامسےاطمینانحاصلکر لینےکےبعدوہاُٹھااورآگےچلپڑا۔ابھیوہلکشُمسےدسقدمہیچلا ہوگاکہ َسکرکےایکزہریلاتیرپیچھےسےآیااوربلیکبرڈکیپشتمیں ک ُھتکر ُاسکے ِدلسےپارہوتاہواباہرنکلآیا۔بلیکبرڈکیآنکھیں پتھراگئیں۔ ُاسکےحلقسےچیخبھیننکلسکی۔وہبےجانہوکر چ ّپز کیطرحزمینپررِگااوراُسکیلاشلڑھککرچٹانکےپہلوسےلگ گئی۔ دوسرے ہی لمحے ایک طرف سے حبشی نمودار ہوا۔ اُس نے تیر بلیکبرڈکیبےجانلاشمیںسےکھینچا،اُسکیلاشپر ُ وبکااورواپس چلدیا۔بلیکبرڈکیپتھرائیہوئیلاشکا ُُمکھلاتھا۔آنکھیں چ ّپزبنکر باہر کو نکل آئی تھیں اور ُاس کے جوتوں میں لاکھوں پاؤنڈ کے قیمتی 102
ہیرےویسےکےویسےج ُھیےہوئےتھے۔ 103
کیپٹاؤن کپتانکوبلیکبرڈکیموتکیخبرنُسکربڑادکھہوا۔ وہبلیکبرڈکوایکایماندارانسانسمجھتاتھا۔ ُاسےکیاخبرتھیکہوہاُس کےخزانےمیںسےقیمتییاقوتلےکرفرارہواتھاکہجنگلمیںوحشی حبشیکےتیرکانشانبنگیا۔بلیکبرڈکےفرارنےحبشیوںکےسردارکو ےّصغسےدیوانکردیا۔اُسنے ُکُحدیاکہتمامقیدیمردوںکوہلاککر 104
دیاجائے۔اِسخبرنےمسافروںمیںایک ُکزاممچادیا۔عورتیںبین کرنےلگیں۔مگراِنوحشیحبشیوںکےآگے ُانکاکوئیبسنچلسکتا تھا۔ٹامکوابافسوسہونےلگاکہوہاپنےچچاکےساتھہیفرارکیوں نہیں ہو گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ چچا جنگلیوں کے پنجے سے نکل چکا ہے۔ اُسےکیامعلومکہ ُاسکےلالچیاوروُخدغرضچچاکیلاشجنگلمیںپڑی تھیاور ُاسپرچیونٹیاںرینگرہیتھیں۔بہرحالٹامنےفیصلکرلیاکہ ابجبکہسردارنےاُنسبکوقتلکرنےکا ُکُحدےدیاہےتووہ وہاںسےضروربھاگجائےگا۔ اچانک ایک طرف سے شور بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ حبشیوں نے مسافروں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ اُس وقت جھونپڑی کے باہر کوئیپہرےدارنہیںتھا۔سبجنگلیقت ِلعاممیںلگےتھے۔ٹامنےاِس موقعکوغنیمتجانااور ُچچیکےسےسبکینظریںبچاکرجھونپڑیسےرینگتا 105
ہواباہرنکلگیا۔اسکا ِدلرُبیطرحدھڑکرہاتھا۔اُسکےکانوںمیں ہلاکہوتےہوئےآدمیوںکیچیخوںکیآوازیںآرہیتھیں۔ ُاسے ایّھچطرحلِِعتھاکہاگروہپکڑاگیاتووحشی ُاسےبھیزندہنہیںچھوڑیں گے۔وہپھونکپھونککررینگتاگیا۔یہاںتککہوہجنگلکےکنارے پہنچگیا۔جب ُاسکےچاروںطرفلمبیلمبیجھاڑیوںکاِِس ِلِسشروعہو گیاتووہ ُاٹھکھڑاہوااورج ُھکےہیج ُھکےبھاگنےلگا۔ جبوہتھکگیاتوایکجگہبیٹھکر َدملینےلگا۔اُسنےدرختکےپیچھے جچ ُھ چت کر دیکھا کہ کوئی جنگلی اُس کا تعاقب تو نہیں کر رہا۔ سارا جنگل سنسانتھا۔ ُدورسےکسیوقتایکچیخکیآوازگونججاتیتھی۔ٹامڈرگیا اورجلدیسےاُٹھکردوبارہبھاگنےلگا۔وہبھاگتاگیابھاگتاگیااوراُسنے جنگل کا کافی فاصلہ طے کر لیا۔ شام ہو رہی تھی جب وہ جھونپڑے سے فرارہواتھا۔ابراتکےسایوںنےجنگلپرگہریتاریکچادرپھیلانی 106
شروعکردیتھی۔ٹامنےراتکسیدرختپرسوکرگزارنےکافیصل کیا۔مگرپھر ُاسےخیالآیاکہ ُاسےجتنیجلدیہوسکےجنگلیحبشیوںکے قبیلےسے ُدور ِنجاناچاہیے۔اِسخیالکےآتےہیٹامنے ُرکنےکی بجائےجنگلمیںآگےچلناشروعکردیا۔ جنگلکافیگھناتھا۔جنوبیافریقہکےجنگلبڑےگھنےہوتےہیںاوروہاں ہرقسمکےدرندےپائےجاتےہیں۔لیکنیہٹامکیخوشنصیبیتھیکہ وہساحلِسمندرکےجنگلکاسفرکررہاتھااورانجنگلوںمیںشیر،ہاتھی اور چیتے نہیں ہوتے۔ یہ درندے عام طور پر گھنے جنگلوں کے وسطی علاقےمیںپائےجاتےہیں۔ٹامراتبھرچلتارہا۔ ُاسےراستےکاکوئیعلم نہیںتھا۔مگروہایکاندازےکےمطابقسمندرسےدورترہوتاجارہا تھا۔آسمانپرتارےچمکرہےتھےاوراُنکیہلکیہلکیروشنیمیںجنگل میںاندھیراکمہوگیاتھااورٹامجھاڑیوںمیںسےبخوبیاپناراستہبنارہاتھا۔ 107
حبُصکیہلکیہلکیروشنیپھیلیتوٹاماساقُممپرپہنچچکاتھاجہاںبیروںکے درخت جنگلی بیروں سے لدے پھندے کھڑے تھے۔ ٹام نے جلدی جلدی جنگلی بیر کھا کر پیٹ بھرا اور آگے روان ہو گیا۔ ایک ٹیلے کا موڑ کاٹتےہوئےاسےپانیکےرِگنےکیآوازانُسئیدی۔ٹامکوآدھیرات سےپیاسلگیتھی۔وہپانیکیآوازکاتعاقبکرتااسیچشمےپرنکلآیاجس کےپانیسےبلیکبرڈنےاپنیپیاسبجھائیتھی۔وہبلیکبرڈکیلاشسے بالکلبےخبرچشمےکےپانیپرجھککرچشمےسےپانیپینےلگا۔جبوہجی بھرکرپانیپیچکاتواسنےمنہہاتھدھویااورابھیاسنےآگےچلنےکے لیےقدماٹھایاہیتھاکہایکبہتبڑادِگھپھڑپھڑاتاہوااسکیداہنی جانبوالیجھاڑیوںسےنکلکراُڑگیا۔ ٹامنےجھاڑیوںکےعقبمیںپلٹکردیکھاتوحیرتسے ُاسکامنہ کھلےکاکھلارہگیا۔سامنےچٹانکےپہلومیںاسکےچچاکیلاشپڑیتھی۔ 108
لاشکارنگنیلاپڑگیاتھااوراُسکےہونٹکھلےتھے۔آنکھیںاُبلکے باہرآگئیتھیں۔ٹامکوجوسبسےپہلاخیالآیاوہہیروںکاتھا۔اسنے ایککےلاشکیکمرکوٹٹولا۔ہیرےغائبتھے۔کمرکےساتھبندھی ہوئیگتھلیخالیتھی۔ٹامسمجھگیاکہجنگلی ُاسکےچچاکومارکرہیرےرُچا کرلےگئےہیں۔اسےبڑاافسوسہواکہچچاکیجانبھیگئیاورہیرے بھیہاتھسےنکلگئے۔اسنےسوچاکہچچاکیلاشکوجنگلیدرندوںاور دِگھوںسےبچانےکےلیےکسیگڑھےمیںدفنکردیناچاہیے۔چنانچہ ُاسنےلاشکودونوںبازوؤںسےپکڑکرایکطرفآہستہسےگھسیٹا۔ وہ لاش کو ایک گڑھے میں لے آیا۔ جب اس نے لاش کو گڑھے میں اُتاراتولاشکےپاؤںمیںسےجوتا ِنگیا۔جوتےکےتکلیےہیقیمتیلعل اوریاقوتلڑھککرباہرآگئے۔ٹامکیآنکھیںک ُھلیکیک ُھلیرہگئیں۔ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اِتنے قیمتی ہیرے لاش کے 109
جوتوںمیںہوںگے۔ٹامنےجلدیسےدونوںہیرے ُاٹھاکراپنیجوتی میںچھپالیے۔اِسکےبعدلاشکوگڑھےمیںڈالکراوپرجھاڑیاںاور ےّتپبکھیردیے۔ اسنےہاتھاُٹھاکرچچاکیروحکوثوابپہنچایا۔ ابوہایکپلکےلیےبھیوہاں ُرکنانہیںچاہتاتھا۔اگرجنگلیلوگ وہاںتکآکراُسکےچچاکوہلاککرسکتےہیںتووہٹامکاپیچھاکرکے ُاسے بھیہلاککرنےسےگریزنہیںکریںگے۔اِسخیالکےساتھہیوہ وہاںسےتیزتیزقدم ُاٹھاتاجنگلکیطرفچلپڑا۔جنگلیلوگًانیقیٹامکا تعاقب کر کے ُاسے ہلاک کر دیتے اگر وہ جہاز کے مسافروں کو قتل کرنےمیںمصروفنہوتے۔ٹامکوبالکلخبرنہیںتھیکہپیچھےجہازکے مسافروںاورعورتوںوّچبںکےساتھکیابیترہیتھی۔وہاِسقیامت میں اپنی جان بچا کر بھاگ رہا تھا اور چاہتا تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے ا ِن 110
خونخواروحشیوںسےبہت ُدورنکلجائے۔وہسارا ِدنجنگلمیںچلتارہا۔ ابوہبہتتھکگیاتھا۔ ُاسنےراستےمیںجنگلیبیرکھاکراپنیبھوک مٹائیتھی۔پانیایکگدلےجوہڑکاپیاتھا۔وہتھکبھیگیاتھااور ُاسےنیند بھیآرہیتھی۔مگروہکسیدرختپریاکسیکھلیجگہپرسونےکاخطرہمول نہیںلیناچاہتاتھا۔اُسےاِسحقیقتکالِِعہوچکاتھاکہجنگلیلوگبڑے ہوشیار ہیں اور وہ کسی بھی وقت جنگل کے کسی بھی علاقے میں پہنچ سکتے ہیں۔وہبرابرچلتارہا۔آخرکارجباسکیہمّتجوابدےگئی۔ ُاسکے پاؤںشلہوگئےتووہایکجگہدرختکےساتھٹیکلگاکہبیٹھگیا۔چلنے میںسبسےزیادہ ُاسےجوتےمیںرکھےہوئےقیمتیہیرےتنگکر رہےتھے۔ ُاسنےایکپلکےلیےجوتےاُتاردیےاورہیرےاپنی جیبمیںرکھلیے۔جبوہتھوڑیدیرسستا ُچ اچتوجوتےپہنکرپھرسفر پرروانہوگیا۔ 111
ٹامکومُصییییںبرداشتکرنےکیتوعادتتھیمگراِسقسمکےجنگلوں میںسفرکرنےکاتجربہبالکلنہیںتھا۔یہاسکیسختجانیتھیجواُسے اتنےدشوارگزارجنگلمیںآگےبڑھائےچلےجارہیتھی۔اُسکیجگہ کوئی نرم و نازک مزاج والا کسی امیر تاجر کا بیٹا ہوتا تو شاید وہ تھکن اور خوف سے بے ہوش ہو چکا ہوتا۔ دوسری رات سر پر آ رہی تھی۔ ا ِس دورانمیںٹامایکلَپکےلیےبھینسویاتھا۔ ُاسنےفیصلکرلیاکہوہ یہراتسوکربسرکرےگااوراگلیحبُصکواپناسفردوبارہشروعکرےگا۔ اِسمقصدکےلیےاُسنےمناسبجگہکیتلاششروعکردی۔وہرات کااندھیراپھیلنےسےپہلےکسیموزوںجگہپراپناٹھکانابنالیناچاہتاتھا۔اُس نےاِردگردپھیلےہوئےٹیلوںکاجائزہلیناشروعکردیا۔ایکجگہ ُاسےدو ٹیلوںکےدرمیانایکغارسانظرآیا۔وہ ُاسغارمیںبناسوچےسمجھے گ ُھسگیا۔اسکےغارمیںداخلہوتےہیایکجنگلیبلیمیاؤںمیاؤں 112
کرتیباہرکوبھاگی۔ٹامکویقینہوگیاکہاگراِسکھوہمیںجنگلییّلبرہتیہے تو یہاں کسی جنگلی درندے کا اندیشہ نہیں ہے۔ وہ نیم تاریک غار میں گ ُھسکرایکجگہدیوارسےٹیکلگاکرلیٹگیااورتھوڑیدیربعدوہ ُدنیا سےبےخبرگہرینیندسورہاتھا۔ جباُسکیآنکھکھلیتوغارکےباہرحبُصکیروشنیپھیلچکیتھیاورچمکیلی آنکھوںوالییّلبغارکےکنارےپرکھڑیاُسےحیرانیسےتکرہیتھی۔ ٹامجلدیسےاُٹھا۔ ُاسےاٹھتےدیکھکریّلببھاگگئی۔ٹامغارسےنکلکر باہرآگیا۔جنگلمیںچاروںطرف ِدنکااجالاپھیلرہاتھا۔سورجکی روشنیگھنےدرختوںسےچھنچھنکرزمینپرپڑرہیتھی۔درختوںپر جنگلی چڑیاں چہچہا رہیتھیں۔ ٹامکے ِدل میںبے پناہ خوشی اورزندہ رہنےکاجذبہپیداہوگیا۔اسنےلپککرچشمےکاپانیپیا۔منہہاتھدھویا۔ جنگلیپھلکھاکربھوکمٹائیاور ُ دخاکاناملےکرآگےچلپڑا۔ 113
ابوہآدمخورجنگلیلوگوںکےقبیلےسےبہت ُدورنکلآیاتھا۔جنگلکے جسعلاقےمیںسےابوہگزررہاتھاوہایکامنپسندحبشیقبیلےکاعلاقہ تھا۔اسقبیلےکاقّلعتوسطیافریقہکےمشہورخولانیقبیلےسےتھا۔یہلوگ مسلمان تھے اور جنگل میں مویشی پال کر اور تھوڑی بہت کھیتی باڑی کر کےبسراوقاتکرتےتھے۔خولانیقبیلےکےمسلمانپ ّچکمسلمانتھے۔ یہ لوگ بہادر ،نڈر ،ےّچس اور ایمان دار تھے۔ ٹام کو اُن کے بارے میں بالکللِِعنتھا۔اُسکےخیالمیںافریقہکےسبھیحبشیقبائلوحشیاور آدمخورتھے۔دوپہرتکوہجنگلکےرُپپیچاوردشوارگزارراستوںپر چلتارہا۔دوپہرکےبعدجبوہجنگلمیںسےباہرنکلرہاتھاتواچانکایک وحشیٹیلےپرسےچھلانگلگاکراُسکےسامنےآگیا۔ٹامکاتودمہینکل گیا۔مگریہخولانیقبیلےکاوحشینوجوانتھا۔ ُاسنےٹامکیطرفمُشک زراکر دیکھااوراِشاروںہیاِشاروںمیںاُسےبتایاکہوہ ُاسکیجانکا ُدشمن 114
نہیں۔پھربھیٹامکویقیننہیںآرہاتھا۔وہبادلنخواستہحبشیوحشیکے ساتھچلپڑا۔ یہحبشینوجوانٹامکولےکراپنےقبیلےمیںآگیا۔ یہاں قبیلے کے سردار نے ٹام کو اپنے جھونپڑے میں الُبیا۔ سردار ایک خوش اخلاق اُدھیڑ رمُع کا آدمی تھا جس نے گلے میں بے شمار کوڑیوں کی مالائیںپہنرکھیتھیں۔اسکےکانوںمیںسونےکیبالیاںتھیںاورسر پہمورکےپروںکابڑاساتاجپہنرکھاتھا۔ٹام ُانکیزباننہیںسمجھتا تھا۔پھربھیسردارکےپوچھنےپرکہوہکونہےاورکہاںسےآرہاہے۔ ٹامنے ُاسےاشاروںسےہیبتایاکہوہمدراسسےایکجہازپرسوارہوا تھاجوافریقہکےمغربیساحلپرطوفانمیںگِ زھکےڈوبگیا۔ابوہ پیدلچلکرکیپٹاؤنپہنچنےکاارادہرکھتاہے۔کیپٹاؤنکانامنُسکر سردارنےحیرتکااظہارکیااوراِشاروںمیںہیاسےبتایاکہکیپٹاؤنتو 115
وہاںسےبہت ُدورہے۔ٹامنےکہاکہچاہےکیپٹاؤنکتنیہی ُدورکیوں نہواسےہرحالتمیںوہاںپہنچناہے۔ سردار نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا۔ ساتھی ٹام کو ساتھ لے کر ایک جھونپڑے میںچلا گیا۔ یہاں اس کی خاطر تواضعموٹے اُبلے ہوئے چاولوںاورشکرقندیسےکیگئی۔اِسکےبعداُسےجنگلیپھلکھلائے گئے۔ٹامنےجوتےمیںج ُھیےہوئےہیروںکےبارےمیںسردارکوھچُک نبتایا۔حالانکہاگروہسردارکوبتابھیدیتاکہوہاپنےجوتوںمیںدوبڑے ہیقیمتیہیرےجچ ُھیچااکرلےجارہاہےتووہاُسےھچُکبھینکہتابلکہہوسکتا ہےکہاِنہیروںکیحفاظتکااہتمامکراتا۔اِسلیےکہجیساہمبیانکر چکے ہیں خولانی قبیلہ مسلمان قبیلہ تھا اور یہ لوگ انتہائی ایمان دار اور بہادرہوتےہیں۔وہراتٹامنےجھونپڑیمیںبسرکیاورآرام سے سویا۔ 116
حبُصوہ ُاٹھاتووہہشاشبشاشتھا۔اسکیتھکن ُاتر ُ چُچتھی۔وہبہتجلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔ مگر اب سردار کی زبانی اسے معلوم ہوا کہ آگےبےحدگھنااورخطرناکجنگلشروعہورہاہےاوروہاسےاکیلاکبھی عبورنہیںکرسکتا۔یہایکنئیلکشُمآنپڑیتھی۔سردارنےفوراًایک ڈولیکاانتظامکیا۔ڈولیمیںکھانےپینےکاکافیسامانلادکرٹامکےساتھ چھساتآدمیکئےاوراسےبڑیگرمجوشیسے ُرخصتکیا۔ٹامڈولی میںمزےسےبیٹھگیا۔کہاروںنےڈولیاُٹھالیاوریہسفرشروعہوگیا۔ دودندوراتیںڈولیمیںسفرکرنےکےبعدیہقافلہایکدریاکنارےآ کر ُرکگیا۔یہاںخولانیقبیلےکےلوگوںنےٹامکوایکدوسرےقبیلے والوںکےسپردکیااورخودواپسچلےگئے۔دوسرےقبیلےوالوںنےبھی ٹام کیبڑی خاطرمدارتکی۔ اُسےاپنے خاصمہمان کیطرحرکھا۔ اگلےروزاسےاپنےھچُکآدمیوںکےساتھکشتیمیںسوارکراکر ُرخصت 117
کیا۔یہکشتیکاسفردریامیںتینروزتکجاریرہا۔چوتھےروزدریاایک چھوٹےسےقصبےکےقریبپہنچاتوقبیلےکےلوگٹامکوقصبےکےایک وُبڑھےآدمیکےحوالےکرکےواپسچلےگئے۔یہادھیڑرمُعکاآدمیاس قصبےکاچوہدریتھا۔وہٹوٹیپھوٹیانگریزیبوللیتاتھا۔ٹامنے ُاسےبتادیا کہوہکیپٹاؤنجاناچاہتاہے۔بوڑھےنےاُسےتشلّیدیاورکہاکہقصبے میںہرہفتےکےبعدایکبڑیکشتیآیاکرتیہے۔ ”یہکشتیتمہیںسمرسٹٹاؤنتکلےجائےگی۔وہاںسے ُتگاڑیمیں سوارہوکرتین ِدنکاسفرطےکرنےکےبعدکیپٹاؤنپہنچجاؤگے۔“ اتوارکیشامکوایکبڑیسیکشتیدریاکنارےآنلگی،بوڑھےنےٹامکو ُاسکشتیمیںسوارکروادیا۔اُسکاکرایہبھیوُبڑھےنےہیاداکیابلکہٹام کو کیپ ٹاؤن تک کا سفر خرچ بھی دے دیا۔ جب تک کشتی دریا میں نظروںسےاوجھلنہوئینیک ِدلوُبڑھاکنارےپرکھڑاٹامکوہاتھہلا 118
ہلاکر ُرخصتکرتارہا۔ٹاماسوُبڑھےکےہدردانسلوکاورانسان سےتّبحمکےجذبےسےبہتمتاثرہوا۔ ُاسنے ِدلمیںفیصلکرلیاکہ زندگیبھر ُاسکےاحسانکوہرگزفراموشنہیںکرےگا۔ کشتیساریراتاوراگلاسارا ِدنبھیدریامیںچلتیرہی۔وہکئیجنگلوں کےدرمیانسے ُگزری۔راستےمیںٹامنےدریامیںاَنگنتدریائی گھوڑےاورمگرمچھدیکھےجوکنارےکیدھوپمیںبےدُسھلیٹےہوئے تھے۔ایکدوجگہوںپہ ُاسنےلمبےخمدارسفیددانتوںوالےہاتھیوںکو بھیدیکھاجودریاکنارےپانیپیرہےتھے۔دوسریراتکےسفرکے بعدکشتی ِدنچڑھےسمرسٹٹاؤنپہنچگئی۔یہایکخاصاآبادقصبہتھا جہاںبڑیرونقتھی۔یہاںسےٹامکوچھگھوڑوںکیایکمسافرگاڑی میںجگہملگئی۔اسگاڑیمیںکلساتمسافرسوارتھےجوسبکے سبکیپٹاؤنجارہےتھے۔ایکمسافرنےٹامسےباتیںکرنےکی 119
کوشش کی ،ٹام نے اُس کے ساتھ زیادہ بے فّلکت ہونے کی کوشش ن کی۔بسرسمیسیدوچارباتیںکیںاورخاموشہوگیا۔مگراُسےمحسوس ہورہاتھاکہوہشخصٹامکوبڑےغورسےدیکھرہاتھا۔جبٹام ُاسکی طرف دیکھتا تو وہ نظریں کھڑکی سے باہر کر لیتا۔ یہ ایک یّکپ رمُع کا گھنگھریالےبالوںوالاحبشیتھاجوسفیدانگریزیسوٹپہنےہوئےتھا۔ مسافرگاڑیسارا ِدنسفرکرتیرہی۔راتکو ُاسنےایکجگہپڑاؤکیا۔ ٹامسرائےکےکونےمیںآکرلیٹگیا۔وہسوٹوالاحبشیبھیاُسکے قریبآکربیٹھگیااوراسکیطرفمُشک زراکردیکھتےہوئےبولا: ”معلومہوتاہے ُتاکیلےسفرکررہےہو۔مگر ُتاتنالمباسفراکیلےکیسےکر رہےہو؟کیاکیپٹاؤنمیںتمہارےماںباپرہتےہیں؟“ ٹاماساّکمرآنکھوںوالےحبشیکیکسیباتکاجوابدینانہیںچاہتاتھا مگر ُاسچالاکشخصنےسوالوںکیھچُکایسیبوچھاڑکردیکہٹامکو 120
جوابدیناہیپڑا۔ ”جیہاں!میرےوالد صاحب کیپٹاؤنمیںرہتےہیں۔میریخالہ سمرسٹٹاؤنمیںرہتیہے۔میں ُاسسےملنےگیاہواتھا۔“ سوٹوالاحبشیبولا: ”میرانامنپٹوہے۔میںکیپٹاؤنمیںٹھیکےدارہوں۔ااّھچمسٹٹامیہبتاؤ کہتمہارےکپڑےاتنےمیلےکیوںہیں؟کیاتمہاریخالہنےتمہیںنئے کپڑےنہیںدیے؟“ ٹامگھبراگیا۔یہکمبختنپٹوتوپیچھاہینہیںچھوڑرہاتھا۔ ”میریعادتہےمیںکپڑےبہتجلدگندےکردیتاہوں۔“ ”او۔خیرکوئیباتنہیں۔میںبھیجبتمہاریرمُعکاتھاتوایساہیکرتاتھا۔ کیاتمہیںمچھلیکےشکارکاشوقہے؟“ 121
”جینہیں۔“ ”اورشیرکےشکارکا؟“ ”جینہیں۔“ ”مگرمچھکےشکارکا؟“ ”جینہیں۔بالکلنہیں۔“ اورمیراخیالہےکہہاتھیکاشکاربھی ُتنےکبھینہیںکیاہوگا۔جُُم ہاتھیکےشکارکابہتشوقہے۔پچھلےبرسمیںنےدوہاتھیمارےتھے اور ُان کے دانت کیپ ٹاؤن میں جا کر بیچے تھے۔ کیپ ٹاؤن میں تمہارےوالدکیاکرتےہیںبھلا؟“ ٹام بڑی مشکل میں پھنس گیا تھا۔ اب وہ کیا بتاتا کہ اس کے والد کیپ ٹاؤنمیںکیاکرتےتھے؟اسکےوالدکاتوبچپنہیمیںانتقالہوچکاتھا 122
اورخودٹامزندگیمیںپہلیبارکیپٹاؤنجارہاتھا۔اسنےیونہیکہہدیا۔ ”میرےوالدقیمتی چ ّ زپوںکاکاروبارکرتےہیں۔“ اسپروہحبشینوجواناُچھلپڑا۔ ”ارے!یہتوبہتہیااّھچہوا۔میرےپاسھچُکہیرےہیں۔میںچاہتا ہوںکہکیپٹاؤنجاکرانہیںتمہارےوالدصاحبکو ِدکھاؤں۔کیا ُت اسِ ِسل ِِسمیںمیریھچُکمددکروگےٹام؟“ ٹامکومجبور ًاکہناپڑا: ”کوششکروںگا۔“ ”شکریہ!“ پھر اُس حبشی نپٹو نے اِدھر ُادھر دیکھ کر ٹام کے کان میں سرگوشیکرتےہوئےکہا: ”کیاتمہارےپاسبھیکوئیہیراہے؟“ 123
اساچانکسوالپرتوٹامکاوُخن ُخہوگیااوراسکیجوتیمیںچھپے ہوئےدونوںہیرےگولسرخانگارےبنکراسکےپاؤںمیں ُسلگ اُٹھے۔اُسنےبےاختیارہوکہاپناپاؤںکھینچلیااوربولا: ”کیوں۔ بھلا میرے پاس ہیرے کہاں سے آ گئے؟ ہیرے تو والد صاحباپنےپاسرکھتےہیں۔“ اسپرحبشی ّ اعریسےمُشک زرایااوربولا: ”ارےمیںتو ُتسےمذاقکررہاتھا۔بھلاتمہاریرمُعکےلڑکےکےپاس ہیرےکہاںسےآگئے؟ااّھچابتمآرامسےسوجاؤ۔میںبھیاُدھرجا کرسوتاہوں۔“ حبشینوجوانٹامکےسرپرپیارسےہاتھپھیرکرچلاگیااورٹامکا ِدلتیزی سےدھڑکنےلگا۔اسےیقینہوگیاتھاکہحبشینوجوانکو ُاسکےجوتوں 124
میںج ُھیےہوئےہیروںکالِِعہوگیاہے۔مگرسوالیہتھاکہاسےپتہکیسے چلا؟ ٹام نے تو اس کے سامنے ایک پل کے لیے بھی جوتے پاؤں سے نہیں ُاتارےتھے۔نہیںنہیںاس ّعارحبشیکوھچُکبھیمعلومنہیں۔وہ یوںہی ُاسکےساتھٹھٹھاکررہاتھا۔ویسےبڑاچالاکآدمیہے۔ٹامنے اتناکہہکر ِدلکوتشلّیدےلی۔مگروہساریراتتقرًابیجاگتارہا۔وہحبشی نوجوانسےایکلمحےکےلیےبھیغافلنہیںہوناچاہتاتھا۔ذراسی ُاسے اونگھآتیتووہفوراًہوشیارہوکرسرکوجھٹکدیتا۔ ُاسےیوںمحسوسہورہا تھاکہاگروہسوگیاتوحبشیاسکےہیرےچراکررفورّکچہوجائےگا۔ٹام نےساریراتآنکھوںہیآنکھوںمیںکاٹدی۔ ُ دخا ُخداکرکےحبُصہوئی۔گھوڑاگاڑیاّیترکیگئی۔مسافراُسمیںسوار ہوئے۔ حبشی نوجوان بھی سوار ہو گیا۔ وہ ٹام کی طرف دیکھ کے برابر مُشکرزائےجارہاتھا۔ 125
گھوڑاگاڑیکیپٹاؤنکیطرفروانہوگئی۔ 126
نوعمرشہزادہ کیپٹاؤنپہنچکرگاڑیسرائےمیںٹھہرگئی۔ یہایکتھکادینےوالالمباسفرتھا۔مسافروںکےکپڑےگردسےاَٹگئے تھے۔ٹامنےگاڑیسےاُترکرکپڑوںکوجھاڑااورسرائےسےباہرنکل آیا۔ابھیوہسوچہیرہاتھاکہدِکھرجائےکہوہہیحبشینوجواناسکے قریبآکرکھڑاہوگیا۔ 127
”معلوم ہوتا ہے تمہارےوالدصاحب کوتمہارے آنے کی خبر نہیں ہوئی۔وگرنوہتمہارےلیےضروراپنیخاصگھوڑاگاڑیبھیجتے۔“ ٹامپریشانہوگیاتھا ُاساّکمرحبشیسے۔ ُاسنےاسےجھاڑتےہوئے کہا: ”آخرآپکواِسسےکیا ِدلچسپیہےکہمیرےوالدصاحبمیرےلیے گاڑیبھیجتےہیںیانہیں؟برائےمہربانیآپمیرےمعاملاتمیںدخلن ہیدیںتوبہترہے۔خداحافظ“! اتناکہہکےٹامایکطرفکوچلپڑا۔وہسڑکپرکافیدورتکچلتاگیا۔ پھراسنےموڑگھومتےہوئےدیکھاتوحبشیھچُکفاصلےپربرابر ُاسکاپیچھا کررہاتھا۔ٹامخوفزدہساہوکرایکدمبھاگاٹھا۔اُسےکیپٹاؤنکی سڑکوںسےکوئیواقفیتنہیںتھی۔وہبھاگتےبھاگتےدوچارسڑکیںگھوم 128
گیااورآخرایکگلیمیںآکرچھپگیا۔کافیدیروہاںج ُھیےرہنےکےبعد وہ باہر نکلا تو اس حبشی نوجوان کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ٹام بڑا خوش ہوا کہایکبلائےناگہانی سے چھٹکاراحاصلہوا۔ابوہبڑے اطمینان سے کیپ ٹاؤن کی سڑکوں پر گھومنے لگا۔ یہ خاصا بڑا شہر تھا۔ سڑکیںپ ّچک چ ّ زپکیبنیہوئیتھیںاوربہتسیگھوڑاگاڑیاںاورشاندار بگھیاں آ جا رہی تھیںُ ،دکانوں پر افریقی ،سوڈانی ،مصری اور مراکشی لوگوںکےساتھساتھانگریزمرداورعورتیںبھیسوداسلفخریدرہی تھیں۔ٹامنےانگریزمرداورعورتوںکودیکھاتواُسےبہتحوصلہہوا۔وہ اُسکےاہلِوطنتھے۔وہانہیںاپنا ُدکھھکُسکہہسکتاتھا۔ ُانسے ُاسے ہدردیکیتوقعتھی،مگروہہیروںکارازانہیںبھینہیںبتاناچاہتاتھا۔ ٹامسارا ِدنکیپٹاؤنکےبازاروںاورگلیکوچوںمیںمٹرگشتکرتا رہا۔ تیسرے پہر وہ گنجان شہر سے باہر کے علاقے میں نکل آیا۔ یہاں 129
انگریزی طرز کے پرانے بنگلے بنے ہوئے تھے۔ ایسے بنگلے ُاس نے ہندوستانکےساحلیشہروںمیںدیکھےتھے۔وہسمجھگیاکہیہاںانگریز لوگ رہتے ہیں۔ ایک بنگلے کے باہر ایک ادھیڑ رمُع کی عورت آنگن کی الگنیپرسےسوکھےہوئےکپڑےاُتاررہیتھی۔ٹامکوبہتبھوکلگی تھی۔اُسنےادھیڑعمرکیانگریزعورتکوجاکرسلامکیا۔اُسعورت نےٹامکیطرفشفقتبھرینظرسےدیکھا۔ ”تمکونہواےّھچلڑکے؟“ ٹام کو عورت کے ا ِس تّبحم بھرے انداز سے حوصلہ ہوا۔ وہ اس کے پاسچلاگیا۔ ”میرانامٹامہےمادام۔میںہندوستانسےایکبحریجہازمیںانگلستان جانےکےلیےسوارہواتھا۔جہازسمندرمیںغرقہوگیا۔میںبڑیلکشُم 130
سےجانبچاکریہاںتکپہنچاہوں۔“ ُاس عورت نے حیرانی سے ٹام کو دیکھا۔ جلدی جلدی سوکھے ہوئے کپڑےٹوکریمیںرکھےاورٹامکومکانکےاندرلےگئی۔ ”میرےےّچباندرآجاؤ۔ ُتبڑےبہادرلڑکےہو۔تمہیںضروربھوک لگیہوگی۔پہلےھچُککھالو۔پھرباتیںکریںگے۔“ بنگلےکاڈرائنگرومبڑیخوبصورتیسےسجاہواتھا۔ہرشےاپنیاپنیجگہپر سلیقےسےرکھیتھی۔مادامنےٹامکومیزپربٹھایااوراسکےسامنےن ُھتی ہوئیبطخکاگوشتاورڈبلروٹیدودھرکھدیا۔ ”کھاؤمیرےےّچب۔تمہارےکپڑےبھیتوپھٹگئےہیں۔میںتمہارے لیےکپڑےلاتیہوں۔“ ماداماندرچلیگئی۔ٹامکوبڑیبھوکلگیتھی۔اسنےجلدیجلدیڈبل 131
روٹیکےساتھبطخکاگوشتکھاناشروعکردیا۔ایکعرصےکےبعداُسے یہنعمتیںکھانےکوملیتھیں۔اُسنے ِدلہی ِدلمیں ُ دخاکاشکراداکیا۔ اتنےمیںمادامڈرائنگروممیںنمودارہوئی۔اسکےساتھایکادھیڑ عمرکاانگریزبھیتھاجسکیمونچھیںگھنیتھیں۔ ”ہنری!یہہےمسٹٹام۔“ ”ہیلوٹام۔“ ”ہیلوسر۔“ ”مسٹٹام۔ ُتکونسےجہازمیںسفرکررہےتھے؟“ ”اسجہازکانامڈیونشائرتھاجناب۔“ بوڑھےہنریکامنہلُ ُھککاکھلارہگیا۔ ”ارے!توکیاڈیونشائرسمندرمیںغرقہوگیا؟وہتوایسٹانڈیاکمپنیکا 132
سبسےبڑاجہازتھا۔“ ”ڈیون شائر میری آنکھوں کے سامنے غرق ہوا جناب۔ اُسے خوفناک طوفان نے گھیر لیا۔ دیکھتے دیکھتے وہ سمندری چٹانوں سے ٹکرایا اور اُس کےدوٹکڑےہوگئے۔ہملوگبڑیلکشُمسےاپنیجانیںبچاسکے۔“ ”کپتاناورباقیمسافروںکاکیاہوا؟“ ”بہتسےڈوبگئے۔جوباقیبچےانہیںکپتانساحلپرلےکرآگیا۔ مگرافسوسکہانہیںوحشیآدمخوروںنےہلاککردیا۔“ بوڑھےہنرینےافسوسکااظہارکیااورٹامسےپوچھاکہکیپٹاؤنمیں وہکسیکوجانتاہے۔ٹامنےجباسنیک ِدلبوڑھےکوبتایاکہاسکااس ُدنیامیںایکہیچچاتھاجسےآدمخوروںنےقتلکردیاتوانہوںنےاُس سےبڑیہدردیکیاورکہا: 133
”بیٹے!اِسگھرکو ُتاپناہیگھرسمجھو۔ہمدونوںمیاںبیویسالہاسال سےاِسگھرمیںاکیلےرہتےہیں۔ہمیہسمجھیںگےکہایکّدمتکے بعدہمیںاپناکھویاہوابیٹاملگیاہے۔“ ٹامکوزندگیمیںپہلیبارماںباپکیشفقتملیتھی۔اُسکے ِدلمیںاُن دونوںبوڑھےمیاںبیویکےلیےبےحدپیارکاجذبہبیدارہوگیا۔اُسے یوں لگا جیسے اس کے اپنے ماں باپ بوڑھے ہو کر اس کی آنکھوں کے سامنےآگئےہوں۔مادامنےٹامکواپنےسینےسےلگاکربڑاپیارکیا۔ٹامکو اپنیماںیادآگئی۔ ”تمبڑےبہادربیٹے ہوٹام۔افریقہکےخطرناک جنگلعبورکرناکوئی آسانکامنہیںہے۔“ ٹامنےغسلکیا۔نئےکپڑےپہنے۔جوتےمیںسےقیمتی چ ّپزنکالکر 134
اپنیجیبمیںرکھےاورسوگیا۔ اگلےروزوہاُٹھاتوبےحدتروتازہمحسوسکررہاتھا۔اُسےمادامکےگھرمیں رہتےہوئےایکہفتہگزرگیا۔بوڑھاہنریبندرگاہپرنوکریکرتاتھا۔ اب ُاسےپنشنملتیتھی۔ٹامکےساتھدونوںمیاںبیویبےحدتّبحم کرتےتھے۔حالانکہٹامسےانہیںکوئیلالچنہیںتھا۔ایکمہینہگزر گیا۔اساثنامیںٹامنےانہیںھچُکنبتایاکہاُسکےپاسدوانتہائیقیمتی چ ّ زپموجودہیں۔وہاسرازکوافشاکرتےہوئےگھبرارہاتھا۔لیکنایک روز ُاسنےدونوںمیاںبیویکےسامنےیہرازاُگلدیا۔ اسروزبوڑھاہنریٹامکواپنےساتھایکدفترمیںلےگیاجہاںجاکر اُسنےاپنےایکحلفیہبیانپردستخطکئے۔اسبیانکیروسے ُاسنے اپنیوصیتمیںمرنےکےبعدآدھیجائیدادغریبوںکےہسپتالکے ناماورآدھیجائیداداپنیبیویاورٹامکےنامچھوڑدیتھی۔ٹامبوڑھے 135
ہنریکیاِسقربانیسےبڑامتاثرہوا۔ ُاسنےگھرواپسآتےہیماداماور بوڑھےہنریکوبتادیاکہاسکےپاسدوانتہائیقیمتیہیرےموجودہیں۔ جباُسنےرُسخرنگکاشاندارلعلاوریاقوتجیبمیںسےنکالکر میزپررکھےتودونوںمیاںبیویکیآنکھیںک ُھلیکیک ُھلیرہگئیں۔ ”مائی گاڈ! یہ تو بڑے قیمتیہیرے معلوم ہوتے ہیں۔ میرے ےّچب! یہ تمہیںکہاںسےملگئے؟“ ٹام نے سچ بولتے ہوئے انہیں صاف صاف ساری کہانی سنا دی کہ کس طرح اُس کا چچا ان ہیروں کو لے کر ہندوستان سے چلا۔ پھر کس طرح جہاز غرق ہوا۔ پھر وہ آدم خور وحشیوں کے قیدی بنے۔ پھر کیسے ایک راتاسکاچچاہیرےلےکرفرارہوااورراستےمیںحبشیوںکےہاتھوں قتل ہو گیا۔ بوڑھے ہنری اور مادام نے اس کی کہانی پر اعتبار کر لیا۔ کیونکہانہیںمعلومتھاکہٹامجھوٹنہیںبولتا۔ٹامنےکہا۔ 136
”میںچاہتاہوںکہان چ ّ زپوںکوکسیجوہریکےپاسبیچدیاجائے۔“ بوڑھاہنرییاقوتکوغورسےدیکھتےہوئےبولا: ”کیپ ٹاؤن کا ایک پرانا جوہری میرا اپنا آدمی ہے۔ کل اُس کے پاس تمہیںلےچلوںگا۔“ دوسرے ِدنٹامبوڑھےہنریکےساتھجوہریکی ُدکانپرگیا۔جوہری بھیہنریکیرمُعکاتھااوراسکیبھوؤںکےبالبھیسفیدہوگئےتھے۔ علیکسلیککےبعدہنرینےٹامکا ُاسسےتعارفکروایااورپھرکہا: ”اِسنوجوانلڑکےکوافریقہکےجنگلوںسےدوقیمتی چ ّپزملےہیں۔یہ انہیںتمہارےپاسفروختکرناچاہتاہے۔ذرادیکھکربتاؤتواِنکیقیمت کیاہوگی؟“ اورجبٹامنےلعلاوریاقوتبوڑھےجوہریکیمیزپررکھےتوجوہری 137
کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ وہ کتنی ہی دیر تُب بنا لعل اور یاقوت کو دیکھتا رہا۔پھراسنےٹامکیطرفحیرتسےدیکھااوربولا: ”بیٹے ُتبڑےخوشقسمتہو۔یہہیرےتوکسیشہنشاہکےتاجمیںلگنے کےقابلہیں۔میںنےاپنیساریزندگیمیںاسسےزیادہقیمتیہیرے نہیںدیکھے۔“ بوڑھاہنریبولا: ”اگریہسچہےتوکیاخیالہےاندونوں چ ّپزوںکیقیمتکیاہوگی؟“ ”قیمت؟“بوڑھاجوہریپھر ُتکربولا۔”اسکیقیمتتوکوئیبادشاہہی اداکرسکتاہے۔“ ”پھر بھی تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تم اسے خرید و تو کتنی رقم ادا کر سکتے ہو؟“ 138
بوڑھےجوہرینےماتھےپرہاتھپھیرتےہوئےبوڑھےہنریکیطرف دیکھا: ”پیارےہنری! ُتمیرےپچاسسالکےپرانےدوستہو۔تمایّھچ طرحجانتےہوکہمیںکتنادولتمندہوںاورکتناغریبہوں۔اگرمیں اِسےخریدبھیلوںتواسوقتزیادہسےزیادہایکلاکھپونڈاداکرسکتا ہوں۔“ ایکلاکھپونڈکانُسکربوڑھاہنریغشکھاتےکھاتےبچا۔وہذرالڑکھڑا ضرورگیااورکانپرہاتھرکھکربولا: ”کیاکہا۔ایکلاکھپونڈ“! ”ہاں پیارے ہنری ،ایک لاکھ پونڈ۔ اس کے لیے بھی جُُم اپنا فارم فروختکرنا ہوگا۔نقد ادائیگی میںصرفپچاسہزارپونڈ کیکرسکتا 139
ہوں۔بولو۔کیامنظورہے؟“ ہنرینےٹامکیطرفدیکھااورپوچھاکہچونکہمالاُسکاہےاِسلیے وہیاِسبارےمیںفیصلکرنےکاحقرکھتاہے۔ٹامنےہامیبھرلی۔سودا طےہوگیا۔اسیوقتایکدستاویزلکھیگئی۔دوپہرکوعدالتکیطرف سےاُسپرمہربھیلگادیگئی۔شامکوبوڑھےجوہرینےپچاسہزارپونڈ اداکرد ےیاورپچاسہزارپونڈکااقرارنامہلکھدیا۔ اتنے ڈھیر سارے سونے کے پاؤنڈ لے کر ٹام اور ہنری گھر آئے تو بوڑھی مادام دنگ رہ گئی۔ ُاسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ دوسرے ِدنبوڑھےہنرینےپہلاکامیہکیاکہساریکیساریرقمٹام کےنامسےبنکمیںجمعکروادی۔ھچُکرقمٹامنےاپنےپاسرکھلی۔اس رقمسےاُسنےاپنےاورہنریمادامکےلیےبہترینکپڑوںکیپوشاکیں سلوائیں۔ اپنے اور ہنری کے لیے نئے ہیٹ اور بوٹ خریدے۔ اس 140
راتانہوںنےراتکاکھاناایکشاندارہوٹلمیںکھایا۔ٹامنئےاور قیمتیکپڑوںمیںنورمُعشہزادہمعلومہورہاتھاجوکسییورپیملکسےکیپ ٹاؤن،شہرمیںسرکاریدورےپرآیاہو۔ 141
جہازباؤنٹیکیآمد ایسٹ انڈیا کمپنی کے مشہور و معروف جہاز ”ڈیون شائر“ کو سمندر میں ڈوبےآٹھبرسگزرگئےتھے۔اسدورانمیںسارےیورپمیںجہاز کیغرقابیپربڑاواویلامچا۔کسیکوخبرتکنہوسکیکہجہازکےمسافروں پرکیابیتی۔کپتانکہاں ُگمہوگیااورخزانکہاںچلاگیا۔کمپنیکےکارندوں نےسرتوڑکوششکیکہجہازکاڈوباہواخزانسمندرسےنکالاجائےمگروہ 142
ہربارناکامرہے۔جببھیکوئیجہازوہاںآتاتوسمندرمیںایساطوفان اُٹھتاکہیاتووہجہازغرقہوجاتااوریاخوفزدہہوکرواپسبھاگجاتا۔اّلمح اورجہازکےکپتانسمندرکے ُاسےّصحکیطرفجاتےہوئےگھبرانے لگےتھے،انہیںیقینساہوگیاتھاکہسمندرمیںڈوبےہوئےخزانےپہبد روحوںنےقبضہکرلیاہے۔یہروحیںکسیکوبھیاسخزانےتکپہنچنے نہیںدیتیں۔ اسدورانمیںایکجہاز”باؤنٹی“کےکپتاننےفیصلکیاکہوہڈوبے ہوئےخزانےکوضرورڈھونڈنکالےگا۔ ُاسکاکپتان”مسٹالفرڈ“تھاجو ایک بہادر اور نڈر کپتان تھا۔ اسے بد روحوں پر بالکل یقین نہیں تھا۔ کمپنینےاسےہرطرحکیسہولتدینےکااعلانکردیااوریہبھیکہہدیا کہاگروہخزانتلاشکرنےمیںکامیابہوگیاتواسےخزانےکاچوتھائی ہّصحانعامکےطورپردےدیاجائےگا۔کپتانالفرڈاپناجہازباؤنٹیلے 143
کرجنوبمغربیافریقیکےسمندروںکیطرفچلپڑا۔آپنےاپنی کتابوںمیںجہازباؤنٹیکاحالضرورپڑھاہوگا۔یہوہیمشہورتاریخیجہاز تھا جس کی بغاوت کا ذکر ہمیں انگریزی تاریخ میں ملتا ہے۔ باؤنٹی جہاز بہتبڑاجہازتھا۔یہکسیطرحبھی”ڈیونشائر“سےکمنہیںتھا۔اسپر بھیبحریڈاکوؤںسےبچنےکےلیےبڑیبڑیتوپیںلگیہوئیتھیں۔اس کاعملہبڑاتجربہکاراوربہادرتھا۔کپتانالفرڈبذا ِتخوداس ُُمکینگرانی کر رہا تھا۔ انگلستان کے ساحل سے چل کر یہ جہاز سفر کرتا ہوا کوئی دو مہینوںمیںاسمقامپرپہنچاجہاںآٹھنوبرسپہلےڈیونشائرغرقہوا تھا۔کپتاننےگیارہمیلدورجہازکولنگراندازکردیا۔ ابکپتانغوطہخوروںکوسمندرکےنیچےخزانےتکپہنچانےکیاّیتریاں کرنےلگا۔کپتانغوطہخوروںکولےکرایککشتیمیںسوارہوااورساحلی چٹانوںوالےعلاقےمیںاسجگہآگیاجہاںجہازڈوباتھا۔اسےیقینتھا 144
کہخزانابھیتکوہیںسمندرکیتہہمیںموجودہوگا۔اسےبتایاگیاتھاکہ خزانجہازکینچلیتہہکےایکلوہےکےکمرےمیںبندتھا۔کپتانکے اندازےکےمطابقجہازکیدوسریاشیاسمندرمیںبہہکرآگےنکلسکتی تھیںمگرلوہےکاکمرہبھاریہونےکیوجہسےآگےنہیںکھسکسکتاتھا۔ سبسےپہلےاسنےدوغوطہخوروںکونیچےبھیجا۔غوطہخورنیچےجاکر چٹانوں میں جہاز کے ملبے کو تلاش کرتے رہے۔ دو روز اسی تلاش میں گزر گئے۔ تیسرے روز جہاز کا ملبہ مل گیا۔ جہاز کے کئی ٹکڑے ہو گئے تھے۔غوطہخوروںنےاوپرآکرکپتانکواطلاعدیکہجسکمرےمیں خزانہےوہدوچٹانوںکےبیچمیںپھنساہواہے۔کپتاننے ُکُحدیاکہجس طرح بھی ُمُم ہو خزانے تک پہنچ کر اسے حاصل کیا جائے۔ غوطہ خوروںنےایکباربھرسمندرمیں ُڈبکیلگائیاورغوطہلگاکرتہہمیںپہنچ گئے ،وہ کئی چٹانوں میں سے گزر کر آخر اس جگہ پہنچ گئے جہاں خزان 145
موجود تھا۔ ان کی حیرت کی کوئی انتہا ن رہی جب انہوں نے دیکھا کہ لوہےکےکمرےکادروازہٹوٹکرریتمیںدھنساہواہےاورخزانے کے جواہرات اور سونے کی موٹی موٹی سلاخیں اِدھر اُدھر تہہ میں بکھری پڑی ہیں۔ انہوں نے جلدی جلدی دو چار سونے کی سلاخیں اُٹھائیںاوراوپرآگئے۔ کپتان الفرڈ نے سونے کی سلاخیں دیکھیں تو خوشی سے ایک نعرہ لگایا۔ ابوہدوسرےغوطہخوروںکوبڑےبڑےتھیلےدےکرنیچےبھیجنےلگا۔ تاکہجتنیجلدیہوسکےساراخزاناوپرلایاجائے۔ غوطہخوروںنےتھیلےاپنیکمرکےسامنےباندھےاوروہغوطہلگانےکے لیے پر تول ہی رہے تھے کہ یکایک سمندر میں طوفان آ گیا۔ آسمان پر ایک بھی ٹکڑا بادل کا نہیں تھا۔ ہوا بھی تیز نہیں چل رہی تھی۔ کسی طرف بھی سمندری طوفان کے آثار نہیں تھے لیکن اس کے باوجود 146
سمندرمیںپہاڑایسیموجیں ُاٹھناشروعہوگئیںاوردیکھتےہیدیکھتےاِن خوفناکشورمچاتیلہروںنےکشتیکوکپتاناورغوطہخوروںسمیتاُلٹاکر رکھدیا۔کشتیکےکئیٹکڑےہوگئے۔غضبناکلہریںکشتیکوباربارپٹخا رہیتھیں۔کپتاناورغوطہخوربڑیلکشُمکےساتھسمندرمیںتیرکر اپنےجہازتکپہنچے۔وہدسمیلتکسمندرمیںتیرتےچلےگئے۔جب وہاپنےجہازپرپہنچےتوانکےسانساُکھڑےہوئےتھےاوریوںلگتاتھا کہابھیانکادمنکلجائےگا۔ کپتانحیرانتھاکہیہطوفانکہاںسےآگیا۔اّلمحوںنےنُسرکھاتھاکہ ڈیونشائرکےڈوبےہوئےخزانےپربدروحوںکاقبضہہے،ابجوبغیر کسی بادل اورآندھی کےطوفان آیا تو انہیں یقین ہو گیا خزانے پربد روحوںنےقبضہجمارکھاہےاوراگرانہوںنےدوبارہغوطہلگایاتوروحیں ُانسےضرورانتقاملیںگیاورانہیںہلاککردیںگی۔وہڈرگئےتھے 147
مگرکپتاننےحوصلہنہیںہاراتھا۔وہایکبارپھرخزانےکوحاصلکرنے کی اّیتریاں کرنے لگا اور پھر اب تو اُس نے اپنی آنکھوں سے سونے کی سلاخیں دیکھ لی تھیں۔ اب وہ کسی طرح بھی اس مہم سے دست بردار ہونےپراّیترنہیںتھا۔افسوسکہسمندرسےحاصلکیہوئیسونےکی سلاخیںواپسسمندرکینذرہوگئیتھیں۔پھربھیکپتانکویقینتھاکہوہ انہیںدوبارہحاصلکرلےگا۔وہطوفانگزرجانےکاانتظارکرنےلگا۔ راتبھرسمندرمیںطوفانیکیف ّیترہی۔حبُصہوئیتوسمندرایکبارپھر سکونکیحالتمیںتھا۔یوںمحسوسہورہاتھاکہیہاںکبھیکوئیطوفان نہیںآیا۔کپتاننے ُکُحدیاکہخزانےتکپہنچنےکےلیےغوطہخوراّیترہو جائیں۔اّلمحبڑےوہمیتھے۔غوطہخوربھیذراہچکچائے۔مگرکپتانکی ایکہیڈانٹنےانکے ِدلوںسےسارےوہمنکالدیے۔انہوں نےغوطہخوریکاسامانپہنا۔کشتیمیںسوارہوئےاورکپتانکےساتھ 148
اُسیمقامپرآگئےجہاںکلانہیںسونےکیسلاخیںملیتھیں۔انہوں نےکپتانکےاشارہکرنےپرچمڑےکےتھیلےکمرکےساتھباندھےاور سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ دو غوطہ خور تھے۔ رات کے طوفان نے سمندرکےپانیکوھچُکگدلاکردیاتھا۔پھربھیسطحپرچمکتیہوئیتیزدھوپ کی روشنی صاف نیچے تک آ رہی تھی اور انہیں سمندر کی ہر شے دکھائی دے رہی تھی۔ جب وہ ان چٹانوں کے درمیان پہنچے جہاں کل جہاز کا خزانانہوںنےدیکھاتھاتووہیہمعلومکرکےحیرانرہگئےکہوہاںکوئی بھیخزاننہیںتھا۔لوہےکاآہنیکمرہکھ ِشککربہتپیچھے چ ّپزوںمیںجا چکاتھا۔اورکلجوسمندرکیتہہمیںسونےکیسلاخیںبکھریہوئیتھیں آج ُانمیںسےایکبھی ِدکھائینہیںدےرہیتھی۔ غوطہخورسطحسمندرپرنکلآئے۔انہوںنےساریصورتحالسے کپتانکوباخبرکیا۔کپتانپہلےتوبڑاحیرانہواکہخزانوہاںموجودنہیں، 149
پھراسنےغوطہخوروںکوڈانٹکرکہا: ”خزان کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ ضرور وہیں کہیں ہو گا۔ اسے دوبارہ جا کر تلاشکرو۔“ غوطہخوروںنےایکبارپھر ُڈبکیاںلگادیں۔ابوہآہستہآہستہسمندر کیتہہمیںاُنگہریچٹانوںکےپاساترنےلگےجہاںخزانکھسککر چلاگیاتھا۔یہاںپانیکادباؤزیادہتھااورغوطہخوروںکونیچےجاتےہوئے دتّقمحسوسہورہیتھی۔پھربھیوہکپتانکے ُکُحکےمطابقبرابرنیچے گہرے پانیوں میں ُاترتے چلے جا رہے تھے۔ دونوں غوطہ خور ایک دوسرےکےپہلوبہپہلوآگےبڑھرہےتھے۔اچانکانہیںیوںمحسوس ہواجیسےکوئیبہتبڑاسایہانکےاوپرسےگزرگیاہو۔انہوںنےایک دوسرےکیطرفبّجعتسےدیکھا۔مگروہاںھچُکبھینہیںتھا۔وہپھر آگے بڑھنے لگے۔ اب انہیں چٹانوں کے بیچ میں بکھرا ہوا خزان صاف 150
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166