نظر آنے لگا تھا۔ ان کیآنکھوں میں کامیابی کی چمک آ گئی۔ ابھی وہ خزانے سے ھچُک فاصلے پر ہی تھے کہ وہی سایہ ایک بار پھر ان کے اوپر سے گزرا۔ انہوں نے چونک کر دیکھا تو اُن کے بدن میں وُخن جم گیا۔ سامنےکوئیبارہچودہفٹکےفاصلےپرایکبہتبڑیشارکمچھلیاپنے خونیدانتکھولےاُنکیطرفبڑھرہیتھی۔انہوںنےپریشانہوکر ایکدوسرےکیطرفدیکھااوراُوپر ُاٹھنےکااشارہکیا۔ابھیوہاُوپر ُاٹھ ہیرہےتھےکہشارکنےانپرحملہکردیا۔یہحملہاسقدراچانکاور شدید تھا کہ وہ سنبھل بھی ن سکے اور شارک ایک غوطہ خور کی پوری کی پوری ٹانگ کاٹ کر آگے نکل گئی۔ غوطہ خور تڑپنے لگا۔ پانی میں وُخن پھیلگیا۔دوسرےغوطہخورنے ُاسےسنبھالادیااور ُاوپراٹھانےلگا۔ ابشارکدوسریبارحملہکرنےکےلیےآئی۔ اسکیآنکھوںمیںوُخن ُاتراہواتھااورلمبےلمبےدانتوںمیںغوطہخور 151
کےخونکانشانتھا۔انسانیخونکےذائقےنےشارککوپاگلکردیاتھا۔ وہ پوری ّوقت کے ساتھ آگے بڑھی اور اپنے بلیڈ ایسے تیز دانتوں سے زخمیغوطہخورکیکمرکودووّصحںمیںکاٹکرآگےبڑھیدوسرےغوطہ خورنےدہشتزدہہوکرریّسزورسےکھینچیاور ُاسےفوراًاوپرکھینچاجانے لگا۔لیکنشارک ُاسےچھوڑنےوالینہیںتھی۔ ُاسنےایکغوطہخورکو توہلاککردیاتھا۔ابدوسرےغوطہخورکوصافبچکرجاتےدیکھکروہ ےّصغمیںدیوانیہوگئی۔اسنےدوسرےغوطہخورپربھیحملہکردیا۔یہ حملہ اس قدر شدید اور خوفناک تھا کہ پانی ہی میں غوطہ خور کی چیخ نکل گئی۔مگروہاںاسکیچیخسننےوالاسوائےاسکےاورکوئینہیںتھا۔چیخکی آوازبھیننکلسکی۔صرفاسکےمنہکےآگےپانیمیںچند ُبل ُیلےسے اُٹھےاورپھٹگئے۔اُسپرنیمبےہوشیطاریہونےلگی۔ ُاسےاپنی آنکھوںکےسامنےوُخنپھیلتانظرآیا۔یہوُخناسکےاپنےجسمکاوُخن 152
تھا۔ شارکنےپیچھےسےحملہکرکے ُاسکیدونوںٹانگیںکاٹدیتھیں۔ غوطہخورپرغنودگیاوراّقنہتطاریہونےلگی۔اُسےیوںمحسوسہونے لگاجیسےخزانےکیبدروحیںاُسکیآنکھوںکےسامنےسےقہقہےلگاتی ہوئی ُ زگررہیہیں۔ریّسکےذریعےسے ُاسےبرابراوپرکھینچاجارہاتھا۔ مگروہبےہوشہوچکاتھااور ُاسکیگردنلٹکگئیتھی،شارکایکبار پھرحملہکےلیےبڑھی۔ابکے ُاسکےچھریوںایسےدانتریّسکو کاٹتےہوئےغوطہخورکےسینےمیں ُاترگئے۔دونوںغوطہخورمرگئےاور شارکانہیںدانتوںمیںدباکربھاگگئی۔ اوپر سطح سمندر پر کپتان خود ریّس کھینچ رہا تھا۔ اُسے اچانک محسوس ہوا جیسےریّسہلکیہوگئیہے۔اورپھرریّسکاوُخنآلودرِسااُسکےہاتھمیںآ گیا۔دونوںغوطہخورسمندرکیتہہمیںرہگئےتھے۔کپتانابھیاِسالم 153
ناکحادثےپرغورہیکررہاتھاکہسمندرکاپانیوُخنآلودہوگیا۔اّلمحوں کے ُُمسےچیخنکلگئی۔ ”شارکنےانہیںکھالیا۔“ ”خاموش!“کپتاننےچیخکرکہا۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد کپتان کو بھی یقین کرنا پڑا کہ اس کے دو بہترینغوطہخوروںکوشارکمچھلینےہلاککردیاہے۔اُسےبےحد دکھہوا۔مگروہاپنیضدپربرابرقائمتھا۔خزانےکیتلاشترکنہیںکی جائےگا۔کلمیںخودنیچے ُاتروںگا۔اتناکہہکروہکشتیکولےکرواپس اپنےجہازباؤنٹیپرآگیا۔ ساری رات جہاز پر ایک سوگ کی سی حالت طاری رہی۔ اّلمح اپنے ساتھیغوطہخوروںکیموتپرغمگینرہے۔کپتاناپنےکیبنمیںبیٹھا 154
اگلےروزسمندرمیںغوطہلگانےکےبارےمیںغورکرتارہا۔ 155
طوفانیلہر سمندرپردھوپخوبچمکرہیتھی۔کپتاننےایکلمبا چ ُجزااپنےپہلو سےلٹکایا۔چمڑےکاتھیلاہاتھمیںلیااورسمندرمیںغوطہلگاگیا۔کپتان ایک بہادر آدمیتھا اور اِس سے پہلےبھی وہ اقُمبلہ کرکے کئی شارک مچھلیوںکوہلاککر ُچچاتھاُ ،اسکے ِدلمیںشارکمچھلیکاذراسابھی خوفنہیںتھا۔اِسکےذہنپرتوایکہی ُدھنسوارتھیکہ ِسِکطرح 156
خزانےکاسونااورجواہراتحاصلکئےجائیں۔اورپھرابجبکہاُس نے سونے کی سلاخیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تھیں ُاسے کوئی بھی طاقتسمندرمیں ُاترنےسےبازنرکھسکتیتھی۔کروڑوںپونڈکاخزان اگروہتلاشکرلیتاتوکمپنیکےمعاہدےکےمطابقوہاسکےچوتھائی ےّصحکاحقدارتھا۔جواتناکافیتھاکہجسکیمددسےوہاپناایکذاتیجہاز خریدکرتجارتکرسکتاتھا۔اِسخیالنے ُاسےمزیدّوقتعطاکیاوروہ بڑی تیزی سے سمندر کے نیچے اُترنے لگا۔ سمندر کی تہہ میں لہریں رُپ سکون تھیں۔ سطح پر چمکتی ہوئی تیز دھوپ کی روشنی میں اُسے ہر شے صاف دکھائی دے رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی بے شمار مچھلیاں ُاس کے سامنےسے ُ زگررہیتھیں۔کپتانبرابرنیچےاُترتاگیا۔اباُسےپانیکادباؤ محسوسہونےلگاتھااور ُاسکیرفتارتسُسہوگئیتھی۔کافینیچےجاکراُسے ڈوبےہوئےجہازکےمستولنظرآئے۔ ُاسکیآنکھیںخوشیسےچمکنے 157
لگیں۔وہبہتچوکستھااورچاروںطرفبڑےغورسےدیکھتاجارہاتھا کہکہیںکوئیشارک ُاسپراچانکحملہنکردے۔لمبا چ ُ زجا ُاسکے داہنے ہاتھ میں تھا۔ وہ شارک کے اقُمبلے کے لیے بالکل اّیتر تھا۔ مگر شارکدوغوطہخوروںکوہلاککرنےکےبعدبہت ُدورسمندریچٹانوں کیطرفجاچکیتھی۔ابایکاوربلا ُاسکاانتظارکررہیتھی۔ کپتان جہاز کے ملبے میں پہنچ گیا تھا۔ اُسے چٹان کے بیچ میں ایک توپ پھنسیہوئینظرآئی۔وہ ُاستوپکےاُوپرسےگزرگیا۔اب ُاسےدو بڑےبڑے چ ّ زپوںمیںپھنساہوالوہےکاوہکمرہ ِدکھائیدیاجسمیںخزان بندتھا۔لوہےکادروازہٹوٹچکاتھااورسمندرکیلہریں ُخداجانے ُاسےبہا کرکہاںلےگئیتھیں۔کپتانآہستہآہستہلوہےکےکمرےکےپاسآ گیا۔کمرہبالکلخالیتھا۔اندرایکبھیصندوقنہیںتھا۔اُسنےحیرانی سے چاروںطرف دیکھا اور سوچنے لگاکہ یا ُخدا خزان دِکھر گیا۔ یک 158
بارگیاُسکینگاہداہنیجانبچٹانوںکےدرمیانریتمیںدھنسیہوئی سنہریسلاخوںپرپڑی۔وہتیزیکےساتھ ُاسطرفبڑھا۔یہسونے کی سلاخیں تھیں جو آدھی ریت میں دھنس ُ چُچ تھیں۔ کپتان نے چمڑےکاتھیلاکمرکےساتھسےکھولااورسونےکیسلاخوںکیطرفہاتھ بڑھایا۔ابھیاُسکاہاتھسونےکیسلاخوںکو چ ُ وچابھینہیںتھاکہایک زبردست گڑگڑاہٹ کی آواز پیدا ہوئی اور پھر جیسے سمندر کے نیچے زلزلہآگیا۔کپتانجسچٹانپرکھڑاتھاوہایکطرفکولڑھکگئیاور کپتاننیچےرِگپڑا۔ابھیوہاُٹھنےبھینپایاتھاکہاچانک ُاسےایکطرف سےسمندرکیتہہپھٹتینظرآئی۔ایکخوفناکگرجپیداہوئیاورچٹان کےپرخچے ُاڑگئے۔چاروںطرفسمندرمیںبھونچالساآگیاتھا۔ہرشے تہس نہس ہو رہی تھی۔ سمندر کی تہہ سے گرم گرم لاوے کی بوچھاڑ ُبد ہوئی اور پانی ایک دم گرم ہو گیا۔ کپتان کو اپنی جان کے لالے پڑ 159
گئے۔اُسنےریّسکوزورسےکھینچااور ُاوپرکیطرفغوطہلگادیا۔اوپر سمندرکیسطحپرکشتیمیںبیٹھےہوئےاّلمحوںنےکپتانکااشارہپاتےہی بڑیتیزیسےریّسکھینچنیشروعکردی۔ طوفان ُاوپربھیمحسوسہونےلگاتھا۔اورجبکپتانتھکاماندہ،خالیہاتھ کشتیمیںواپسآیاتوسمندرمیںطوفانیلہریں ُاٹھنےلگیتھیں۔آسمانپر سیاہبادلگرجرہےتھے۔بجلیکڑکرہیتھیاورکشتیکھلونےکیطرح سمندرکیطوفانیموجوںپراُچھلرہیتھی۔کپتاننےچیخکرکہا: ”واپسجہازپرچلو۔جلدی۔“ اوراّلمحوںنےبڑیبرقرفتاریسےکشتیکوجہازکیطرفکھیناشروعکر دیا۔لیکنسمندریموجیںہرقدمپرکشتیکوروکرہیتھیں۔ایسےلگتا تھاجیسےسمندرکشتیکوغرقکردینےکیفکرمیںہے۔جہازبھیکافی ُدور 160
تھا۔پھرایکقیامتخیزموج ُاٹھیاوراُسنےکشتیکو ُاٹھاکر ُدورپھینک دیا۔کشتیبےکسیکےعالممیںایکچٹانسےٹکرائیاور ُاسکےٹکڑے ُدور ُدورتکاُڑگئے۔اسحادثےمیںکپتانکےسواسارےاّلمحہلاک ہوگئے۔کپتانکشتیمیںسے ُاچھلکرسمندرمیںرِگپڑااوربڑیدتّق کےساتھطوفانیموجوںسےلڑتااپنیجانبچاکرجہازپرپہنچا۔ جہاز بھی طوفان میں رُبی طرح ڈول رہا تھا۔ موجیں ُاسے لکڑی کے کھلونےکیطرحکبھیدائیںکبھیبائیںپھینکرہیتھیں۔کپتاننےجہاز پرسوارہوتےہیمحسوسکرلیاکہاگر ُاسنےذرابھیدیرکیتوطوفان ُاس کےجہازکےبھیپرخچےاُڑادےگا۔اُسنے ُکُحدیاکہجہازکالنگراُٹھادیا جائے۔اّلمحلنگراُٹھانےکےلیےآگےبڑھےتوایکہیبتناکلہر ُاٹھی اورجہازکےاُوپرسےدوسریطرفگزرگئی۔اِسطوفانیلہرکیلپیٹمیں آکربارہاّلمحسمندرمیںغرقہوگئے۔کپتاننےخودچرخیسنبھاللیاور 161
چیخکرکہا: ”بادبانسمیکرلنگر ُاٹھادو۔“ مگرابلنگر ُاٹھانےکیضرورتباقینہیںرہیتھی۔کیونکہایکبہت بڑیطوفانیموجنےجہازسےٹکراکر ُاسکےلنگرکوتوڑڈالاتھااوراب جہازبےرحمموجوںکےرحموکرمپرسمندرمیںایکلکڑیکےچھوٹے سےصندُوقکیمانندتیررہاتھا۔آندھیکےشوراورموجوںکےچیخچیخکر جہازسےٹکرانےکیآوازوںسےوہاںکانپڑیآوازانُسئیندیتیتھی۔ سمندرکےنیچےکوئیآتشفشاںپہاڑپھٹپڑاتھا۔لہروںمیںجابجابڑے بڑےبھنورپیداہورہےتھے۔کئیجگہوںپرپانیکھولنےلگاتھااوربھاپ کےبادل ُاٹھرہےتھے۔بےشماررُمدہمچھلیاں چپزتیموجوںپرتیرتی نظرآرہیتھیں۔کپتانکوصرفایکہیباتکاڈرتھاکہکہیںسمندر کےنیچےسےکوئیجزیرہناُبھرآئے۔ایسیصورتمیںاسکےجہازکے 162
پرخچےاُڑجاتے۔وہتیزبارش،طوفانیآندھیاوراندھےسمندریطوفان میںبڑیمہارتاورہمّتکےساتھچرخیگھماگھماکرجہازکوطوفانسے نکالکرکھلےسمندرکیطرفلےجانےکیپوریکوششکررہاتھا۔اگر جہازکےبادبانلُُھکہوتےتووہًانیقی ُالٹکرپانیکیتہہمیںغرقہوچکا ہوتا۔ لیکن بادبانوں کے سمٹ جانے سے ایک اور لکشُم یہ پیدا ہو گئی تھیکہجہازکیرفتارتسُسہوگئیتھی۔ابوہموجوںکےرحموکرمپر تھا۔ موجیں جہاز کو اِدھرسے اُدھر بے بسیکے عالم میں ُاچھال رہی تھیں۔کپتانہر ُمُمطریقےسےجہازکوسمندریاّٹچنوںسےبچاناچاہتا تھا۔ ُاسکییہیکوششتھیکہوہجتنیجلدیہوسکےساحلسے ُدورلُُھک سمندرمیںنکلجائے۔اورآخرایکطویلجدوجہدکےبعدوہاِسمیں کامیابہوگیا۔ جہازباؤنٹیلُ ُھکسمندرمیںآگیاتھاجہاںطوفانکازورساحلیچٹانوںکے 163
مقابلےمیں ًاتبسن کمتھا۔ لُُھک سمندرمیں آتے ہیکپتان نے جہاز کے بادبانکھولدینےکا ُکُحدےدیا۔بادبانکھولدیےگئےاورجہازپوری رفتارکےساتھانگلستانکیطرفروانہوگیا۔ اِسکے بعد کافیعرصےتک کسیکو ڈیونشائر جہازکے ڈوبے ہوئے خزانےکوتلاشکرنےکیجرأتنہوئی۔مگرچھسالبعدایکڈچجہاز راننےہمّتکیاور ُاسجگہاپناجہازلےکرپہنچگیاجہاںاٹھارہبرس پیشترڈیونشائرڈوباتھا۔لیکن ُاسیروزراتکےبارہبجےسمندرمیںپہلے سےبھیزیادہّدشتکاطوفان ُاٹھااورڈچجہازکالنگرٹوٹگیا۔اِسجہازکو بچانےکیبہتکوششکیگئیمگروہچٹانوںسےٹکراکرپاشپاشہوگیا۔ اِسجہازکیغرقابیاورڈچاّلمحکےعبرتناکانجامکےبعدایکبار پھرخاموشیچھاگئیاورلوگوںکویقینہوگیاکہواقعیبدروحیںخزانےکی حفاظتکرتیہیں۔ 164
ُادھرہمارانوعمرشہزادہٹامابجوان ہوگیاتھا۔بوڑھاہنریاورمادام ہنریفوتہوچکےتھے۔ٹامنےہیروںکےعوضملیہوئیدولتسے بہتبڑاکاروبارشروعکردیاتھا۔ ُاسنےاپناایکچھوٹاساجہازبنالیاتھا۔ کیپ ٹاؤنمیںہر کوئی ُاس کیایمان داریّ ،چاسئیاور خوش اخلاقی کی تعریفکرتاتھا۔ٹامماداماورہنریکامخلصبیٹاثابتہواتھا۔اُسنےن صرفیہکہاندونوںنیک ِدلبوڑھوںکیقبروںپرخالصسن ِگمرمر کاگنبدبنوادیاتھابلکہانکےنامسےشہرمیںایکبہتبڑاہسپتالبھیبنایا تھاجہاںبیماروںکاتفُمعلاجہوتاتھا۔ٹاماپنے ُاسمحسنکوبھینہیں بھولاتھاجسنےمُصییتاوربدحالیمیں ُاسکیمددکیتھیاوراُسےکرایہ دےکرکشتیمیںسوارکرایاتھا۔ٹامخاصطورپراسبوڑھےسےملنےگیا اورقصبےمیں ُاسکےلیےنیامکانبنوایا۔ ُاسےایکخوبصورتکشتیبنوا کربھیدی۔اِسکےبعدٹامنےافریقہکےجنگلوںمیںخولانیقبیلےکاسفر 165
بھیکیااورجسسردارنےاسکےساتھشفقتکاسلوککیاتھا ُاسے بیشبہاتحفےد ےی۔ پیارے وّچب! ٹام نے اپنی باقی زندگی کیپ ٹاؤن میں بڑی نیکی اور خوش اخلاقی سے بسر کی۔ آج اس واقعے کو کافی عرصہ بیت گیا ہے مگر کیپ ٹاؤنمیںاُسکےبنائےہوئےہسپتالمیںآجبھیمریضعلاجکرواکر شفاپاتےہیںاورٹامکیروحکوثوابپہنچاتےہیں،اسلیےکہ ُدنیامیں انسانکوئیبھینیکیکرتاہےتووہضرورزندہرہتیہےاورلوگاُسنیک انسانکوہمیشہاےّھچنامسےیادکرتےہیں۔اِدھرمغربیافریقہکےسمندر میںآجبھیڈیونشائرجہازکاڈوباہواخزانموجودہے۔مگرکسیکوجرأت نہیںہوسکیکہسمندرکیعمیقترینگہرائیوںمیںاُترکراُسےحاصلکر سکے۔ ختمشد 166
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166