Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore ڈوبے جہاز کا راز

ڈوبے جہاز کا راز

Published by Muhammad Umer Farooq, 2023-08-06 11:32:33

Description: اے حمید

Search

Read the Text Version

‫نظر آنے لگا تھا۔ ان کیآنکھوں میں کامیابی کی چمک آ گئی۔ ابھی وہ‬ ‫خزانے سے ھچُک فاصلے پر ہی تھے کہ وہی سایہ ایک بار پھر ان کے اوپر‬ ‫سے گزرا۔ انہوں نے چونک کر دیکھا تو اُن کے بدن میں وُخن جم گیا۔‬ ‫سامنےکوئیبارہچودہفٹکےفاصلےپرایکبہتبڑیشارکمچھلیاپنے‬ ‫خونیدانتکھولےاُنکیطرفبڑھرہیتھی۔انہوںنےپریشانہوکر‬ ‫ایکدوسرےکیطرفدیکھااوراُوپر ُاٹھنےکااشارہکیا۔ابھیوہاُوپر ُاٹھ‬ ‫ہیرہےتھےکہشارکنےانپرحملہکردیا۔یہحملہاسقدراچانکاور‬ ‫شدید تھا کہ وہ سنبھل بھی ن سکے اور شارک ایک غوطہ خور کی پوری کی‬ ‫پوری ٹانگ کاٹ کر آگے نکل گئی۔ غوطہ خور تڑپنے لگا۔ پانی میں وُخن‬ ‫پھیلگیا۔دوسرےغوطہخورنے ُاسےسنبھالادیااور ُاوپراٹھانےلگا۔‬ ‫ابشارکدوسریبارحملہکرنےکےلیےآئی۔‬ ‫اسکیآنکھوںمیںوُخن ُاتراہواتھااورلمبےلمبےدانتوںمیںغوطہخور‬ ‫‪151‬‬

‫کےخونکانشانتھا۔انسانیخونکےذائقےنےشارککوپاگلکردیاتھا۔‬ ‫وہ پوری ّوقت کے ساتھ آگے بڑھی اور اپنے بلیڈ ایسے تیز دانتوں سے‬ ‫زخمیغوطہخورکیکمرکودووّصحںمیںکاٹکرآگےبڑھیدوسرےغوطہ‬ ‫خورنےدہشتزدہہوکرریّسزورسےکھینچیاور ُاسےفوراًاوپرکھینچاجانے‬ ‫لگا۔لیکنشارک ُاسےچھوڑنےوالینہیںتھی۔ ُاسنےایکغوطہخورکو‬ ‫توہلاککردیاتھا۔ابدوسرےغوطہخورکوصافبچکرجاتےدیکھکروہ‬ ‫ےّصغمیںدیوانیہوگئی۔اسنےدوسرےغوطہخورپربھیحملہکردیا۔یہ‬ ‫حملہ اس قدر شدید اور خوفناک تھا کہ پانی ہی میں غوطہ خور کی چیخ نکل‬ ‫گئی۔مگروہاںاسکیچیخسننےوالاسوائےاسکےاورکوئینہیںتھا۔چیخکی‬ ‫آوازبھیننکلسکی۔صرفاسکےمنہکےآگےپانیمیںچند ُبل ُیلےسے‬ ‫اُٹھےاورپھٹگئے۔اُسپرنیمبےہوشیطاریہونےلگی۔ ُاسےاپنی‬ ‫آنکھوںکےسامنےوُخنپھیلتانظرآیا۔یہوُخناسکےاپنےجسمکاوُخن‬ ‫‪152‬‬

‫تھا۔‬ ‫شارکنےپیچھےسےحملہکرکے ُاسکیدونوںٹانگیںکاٹدیتھیں۔‬ ‫غوطہخورپرغنودگیاوراّقنہتطاریہونےلگی۔اُسےیوںمحسوسہونے‬ ‫لگاجیسےخزانےکیبدروحیںاُسکیآنکھوںکےسامنےسےقہقہےلگاتی‬ ‫ہوئی ُ زگررہیہیں۔ریّسکےذریعےسے ُاسےبرابراوپرکھینچاجارہاتھا۔‬ ‫مگروہبےہوشہوچکاتھااور ُاسکیگردنلٹکگئیتھی‪،‬شارکایکبار‬ ‫پھرحملہکےلیےبڑھی۔ابکے ُاسکےچھریوںایسےدانتریّسکو‬ ‫کاٹتےہوئےغوطہخورکےسینےمیں ُاترگئے۔دونوںغوطہخورمرگئےاور‬ ‫شارکانہیںدانتوںمیںدباکربھاگگئی۔‬ ‫اوپر سطح سمندر پر کپتان خود ریّس کھینچ رہا تھا۔ اُسے اچانک محسوس ہوا‬ ‫جیسےریّسہلکیہوگئیہے۔اورپھرریّسکاوُخنآلودرِسااُسکےہاتھمیںآ‬ ‫گیا۔دونوںغوطہخورسمندرکیتہہمیںرہگئےتھے۔کپتانابھیاِسالم‬ ‫‪153‬‬

‫ناکحادثےپرغورہیکررہاتھاکہسمندرکاپانیوُخنآلودہوگیا۔اّلمحوں‬ ‫کے ُُمسےچیخنکلگئی۔‬ ‫”شارکنےانہیںکھالیا۔“‬ ‫”خاموش!“کپتاننےچیخکرکہا۔‬ ‫لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد کپتان کو بھی یقین کرنا پڑا کہ اس کے دو‬ ‫بہترینغوطہخوروںکوشارکمچھلینےہلاککردیاہے۔اُسےبےحد‬ ‫دکھہوا۔مگروہاپنیضدپربرابرقائمتھا۔خزانےکیتلاشترکنہیںکی‬ ‫جائےگا۔کلمیںخودنیچے ُاتروںگا۔اتناکہہکروہکشتیکولےکرواپس‬ ‫اپنےجہازباؤنٹیپرآگیا۔‬ ‫ساری رات جہاز پر ایک سوگ کی سی حالت طاری رہی۔ اّلمح اپنے‬ ‫ساتھیغوطہخوروںکیموتپرغمگینرہے۔کپتاناپنےکیبنمیںبیٹھا‬ ‫‪154‬‬

‫اگلےروزسمندرمیںغوطہلگانےکےبارےمیںغورکرتارہا۔‬ ‫‪155‬‬

‫طوفانیلہر‬ ‫سمندرپردھوپخوبچمکرہیتھی۔کپتاننےایکلمبا چ ُجزااپنےپہلو‬ ‫سےلٹکایا۔چمڑےکاتھیلاہاتھمیںلیااورسمندرمیںغوطہلگاگیا۔کپتان‬ ‫ایک بہادر آدمیتھا اور اِس سے پہلےبھی وہ اقُمبلہ کرکے کئی شارک‬ ‫مچھلیوںکوہلاککر ُچچاتھا‪ُ ،‬اسکے ِدلمیںشارکمچھلیکاذراسابھی‬ ‫خوفنہیںتھا۔اِسکےذہنپرتوایکہی ُدھنسوارتھیکہ ِسِکطرح‬ ‫‪156‬‬

‫خزانےکاسونااورجواہراتحاصلکئےجائیں۔اورپھرابجبکہاُس‬ ‫نے سونے کی سلاخیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تھیں ُاسے کوئی بھی‬ ‫طاقتسمندرمیں ُاترنےسےبازنرکھسکتیتھی۔کروڑوںپونڈکاخزان‬ ‫اگروہتلاشکرلیتاتوکمپنیکےمعاہدےکےمطابقوہاسکےچوتھائی‬ ‫ےّصحکاحقدارتھا۔جواتناکافیتھاکہجسکیمددسےوہاپناایکذاتیجہاز‬ ‫خریدکرتجارتکرسکتاتھا۔اِسخیالنے ُاسےمزیدّوقتعطاکیاوروہ‬ ‫بڑی تیزی سے سمندر کے نیچے اُترنے لگا۔ سمندر کی تہہ میں لہریں رُپ‬ ‫سکون تھیں۔ سطح پر چمکتی ہوئی تیز دھوپ کی روشنی میں اُسے ہر شے‬ ‫صاف دکھائی دے رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی بے شمار مچھلیاں ُاس کے‬ ‫سامنےسے ُ زگررہیتھیں۔کپتانبرابرنیچےاُترتاگیا۔اباُسےپانیکادباؤ‬ ‫محسوسہونےلگاتھااور ُاسکیرفتارتسُسہوگئیتھی۔کافینیچےجاکراُسے‬ ‫ڈوبےہوئےجہازکےمستولنظرآئے۔ ُاسکیآنکھیںخوشیسےچمکنے‬ ‫‪157‬‬

‫لگیں۔وہبہتچوکستھااورچاروںطرفبڑےغورسےدیکھتاجارہاتھا‬ ‫کہکہیںکوئیشارک ُاسپراچانکحملہنکردے۔لمبا چ ُ زجا ُاسکے‬ ‫داہنے ہاتھ میں تھا۔ وہ شارک کے اقُمبلے کے لیے بالکل اّیتر تھا۔ مگر‬ ‫شارکدوغوطہخوروںکوہلاککرنےکےبعدبہت ُدورسمندریچٹانوں‬ ‫کیطرفجاچکیتھی۔ابایکاوربلا ُاسکاانتظارکررہیتھی۔‬ ‫کپتان جہاز کے ملبے میں پہنچ گیا تھا۔ اُسے چٹان کے بیچ میں ایک توپ‬ ‫پھنسیہوئینظرآئی۔وہ ُاستوپکےاُوپرسےگزرگیا۔اب ُاسےدو‬ ‫بڑےبڑے چ ّ زپوںمیںپھنساہوالوہےکاوہکمرہ ِدکھائیدیاجسمیںخزان‬ ‫بندتھا۔لوہےکادروازہٹوٹچکاتھااورسمندرکیلہریں ُخداجانے ُاسےبہا‬ ‫کرکہاںلےگئیتھیں۔کپتانآہستہآہستہلوہےکےکمرےکےپاسآ‬ ‫گیا۔کمرہبالکلخالیتھا۔اندرایکبھیصندوقنہیںتھا۔اُسنےحیرانی‬ ‫سے چاروںطرف دیکھا اور سوچنے لگاکہ یا ُخدا خزان دِکھر گیا۔ یک‬ ‫‪158‬‬

‫بارگیاُسکینگاہداہنیجانبچٹانوںکےدرمیانریتمیںدھنسیہوئی‬ ‫سنہریسلاخوںپرپڑی۔وہتیزیکےساتھ ُاسطرفبڑھا۔یہسونے‬ ‫کی سلاخیں تھیں جو آدھی ریت میں دھنس ُ چُچ تھیں۔ کپتان نے‬ ‫چمڑےکاتھیلاکمرکےساتھسےکھولااورسونےکیسلاخوںکیطرفہاتھ‬ ‫بڑھایا۔ابھیاُسکاہاتھسونےکیسلاخوںکو چ ُ وچابھینہیںتھاکہایک‬ ‫زبردست گڑگڑاہٹ کی آواز پیدا ہوئی اور پھر جیسے سمندر کے نیچے‬ ‫زلزلہآگیا۔کپتانجسچٹانپرکھڑاتھاوہایکطرفکولڑھکگئیاور‬ ‫کپتاننیچےرِگپڑا۔ابھیوہاُٹھنےبھینپایاتھاکہاچانک ُاسےایکطرف‬ ‫سےسمندرکیتہہپھٹتینظرآئی۔ایکخوفناکگرجپیداہوئیاورچٹان‬ ‫کےپرخچے ُاڑگئے۔چاروںطرفسمندرمیںبھونچالساآگیاتھا۔ہرشے‬ ‫تہس نہس ہو رہی تھی۔ سمندر کی تہہ سے گرم گرم لاوے کی بوچھاڑ‬ ‫ُبد ہوئی اور پانی ایک دم گرم ہو گیا۔ کپتان کو اپنی جان کے لالے پڑ‬ ‫‪159‬‬

‫گئے۔اُسنےریّسکوزورسےکھینچااور ُاوپرکیطرفغوطہلگادیا۔اوپر‬ ‫سمندرکیسطحپرکشتیمیںبیٹھےہوئےاّلمحوںنےکپتانکااشارہپاتےہی‬ ‫بڑیتیزیسےریّسکھینچنیشروعکردی۔‬ ‫طوفان ُاوپربھیمحسوسہونےلگاتھا۔اورجبکپتانتھکاماندہ‪،‬خالیہاتھ‬ ‫کشتیمیںواپسآیاتوسمندرمیںطوفانیلہریں ُاٹھنےلگیتھیں۔آسمانپر‬ ‫سیاہبادلگرجرہےتھے۔بجلیکڑکرہیتھیاورکشتیکھلونےکیطرح‬ ‫سمندرکیطوفانیموجوںپراُچھلرہیتھی۔کپتاننےچیخکرکہا‪:‬‬ ‫”واپسجہازپرچلو۔جلدی۔“‬ ‫اوراّلمحوںنےبڑیبرقرفتاریسےکشتیکوجہازکیطرفکھیناشروعکر‬ ‫دیا۔لیکنسمندریموجیںہرقدمپرکشتیکوروکرہیتھیں۔ایسےلگتا‬ ‫تھاجیسےسمندرکشتیکوغرقکردینےکیفکرمیںہے۔جہازبھیکافی ُدور‬ ‫‪160‬‬

‫تھا۔پھرایکقیامتخیزموج ُاٹھیاوراُسنےکشتیکو ُاٹھاکر ُدورپھینک‬ ‫دیا۔کشتیبےکسیکےعالممیںایکچٹانسےٹکرائیاور ُاسکےٹکڑے‬ ‫ُدور ُدورتکاُڑگئے۔اسحادثےمیںکپتانکےسواسارےاّلمحہلاک‬ ‫ہوگئے۔کپتانکشتیمیںسے ُاچھلکرسمندرمیںرِگپڑااوربڑیدتّق‬ ‫کےساتھطوفانیموجوںسےلڑتااپنیجانبچاکرجہازپرپہنچا۔‬ ‫جہاز بھی طوفان میں رُبی طرح ڈول رہا تھا۔ موجیں ُاسے لکڑی کے‬ ‫کھلونےکیطرحکبھیدائیںکبھیبائیںپھینکرہیتھیں۔کپتاننےجہاز‬ ‫پرسوارہوتےہیمحسوسکرلیاکہاگر ُاسنےذرابھیدیرکیتوطوفان ُاس‬ ‫کےجہازکےبھیپرخچےاُڑادےگا۔اُسنے ُکُحدیاکہجہازکالنگراُٹھادیا‬ ‫جائے۔اّلمحلنگراُٹھانےکےلیےآگےبڑھےتوایکہیبتناکلہر ُاٹھی‬ ‫اورجہازکےاُوپرسےدوسریطرفگزرگئی۔اِسطوفانیلہرکیلپیٹمیں‬ ‫آکربارہاّلمحسمندرمیںغرقہوگئے۔کپتاننےخودچرخیسنبھاللیاور‬ ‫‪161‬‬

‫چیخکرکہا‪:‬‬ ‫”بادبانسمیکرلنگر ُاٹھادو۔“‬ ‫مگرابلنگر ُاٹھانےکیضرورتباقینہیںرہیتھی۔کیونکہایکبہت‬ ‫بڑیطوفانیموجنےجہازسےٹکراکر ُاسکےلنگرکوتوڑڈالاتھااوراب‬ ‫جہازبےرحمموجوںکےرحموکرمپرسمندرمیںایکلکڑیکےچھوٹے‬ ‫سےصندُوقکیمانندتیررہاتھا۔آندھیکےشوراورموجوںکےچیخچیخکر‬ ‫جہازسےٹکرانےکیآوازوںسےوہاںکانپڑیآوازانُسئیندیتیتھی۔‬ ‫سمندرکےنیچےکوئیآتشفشاںپہاڑپھٹپڑاتھا۔لہروںمیںجابجابڑے‬ ‫بڑےبھنورپیداہورہےتھے۔کئیجگہوںپرپانیکھولنےلگاتھااوربھاپ‬ ‫کےبادل ُاٹھرہےتھے۔بےشماررُمدہمچھلیاں چپزتیموجوںپرتیرتی‬ ‫نظرآرہیتھیں۔کپتانکوصرفایکہیباتکاڈرتھاکہکہیںسمندر‬ ‫کےنیچےسےکوئیجزیرہناُبھرآئے۔ایسیصورتمیںاسکےجہازکے‬ ‫‪162‬‬

‫پرخچےاُڑجاتے۔وہتیزبارش‪،‬طوفانیآندھیاوراندھےسمندریطوفان‬ ‫میںبڑیمہارتاورہمّتکےساتھچرخیگھماگھماکرجہازکوطوفانسے‬ ‫نکالکرکھلےسمندرکیطرفلےجانےکیپوریکوششکررہاتھا۔اگر‬ ‫جہازکےبادبانلُُھکہوتےتووہًانیقی ُالٹکرپانیکیتہہمیںغرقہوچکا‬ ‫ہوتا۔ لیکن بادبانوں کے سمٹ جانے سے ایک اور لکشُم یہ پیدا ہو گئی‬ ‫تھیکہجہازکیرفتارتسُسہوگئیتھی۔ابوہموجوںکےرحموکرمپر‬ ‫تھا۔ موجیں جہاز کو اِدھرسے اُدھر بے بسیکے عالم میں ُاچھال رہی‬ ‫تھیں۔کپتانہر ُمُمطریقےسےجہازکوسمندریاّٹچنوںسےبچاناچاہتا‬ ‫تھا۔ ُاسکییہیکوششتھیکہوہجتنیجلدیہوسکےساحلسے ُدورلُُھک‬ ‫سمندرمیںنکلجائے۔اورآخرایکطویلجدوجہدکےبعدوہاِسمیں‬ ‫کامیابہوگیا۔‬ ‫جہازباؤنٹیلُ ُھکسمندرمیںآگیاتھاجہاںطوفانکازورساحلیچٹانوںکے‬ ‫‪163‬‬

‫مقابلےمیں ًاتبسن کمتھا۔ لُُھک سمندرمیں آتے ہیکپتان نے جہاز کے‬ ‫بادبانکھولدینےکا ُکُحدےدیا۔بادبانکھولدیےگئےاورجہازپوری‬ ‫رفتارکےساتھانگلستانکیطرفروانہوگیا۔‬ ‫اِسکے بعد کافیعرصےتک کسیکو ڈیونشائر جہازکے ڈوبے ہوئے‬ ‫خزانےکوتلاشکرنےکیجرأتنہوئی۔مگرچھسالبعدایکڈچجہاز‬ ‫راننےہمّتکیاور ُاسجگہاپناجہازلےکرپہنچگیاجہاںاٹھارہبرس‬ ‫پیشترڈیونشائرڈوباتھا۔لیکن ُاسیروزراتکےبارہبجےسمندرمیںپہلے‬ ‫سےبھیزیادہّدشتکاطوفان ُاٹھااورڈچجہازکالنگرٹوٹگیا۔اِسجہازکو‬ ‫بچانےکیبہتکوششکیگئیمگروہچٹانوںسےٹکراکرپاشپاشہوگیا۔‬ ‫اِسجہازکیغرقابیاورڈچاّلمحکےعبرتناکانجامکےبعدایکبار‬ ‫پھرخاموشیچھاگئیاورلوگوںکویقینہوگیاکہواقعیبدروحیںخزانےکی‬ ‫حفاظتکرتیہیں۔‬ ‫‪164‬‬

‫ُادھرہمارانوعمرشہزادہٹامابجوان ہوگیاتھا۔بوڑھاہنریاورمادام‬ ‫ہنریفوتہوچکےتھے۔ٹامنےہیروںکےعوضملیہوئیدولتسے‬ ‫بہتبڑاکاروبارشروعکردیاتھا۔ ُاسنےاپناایکچھوٹاساجہازبنالیاتھا۔‬ ‫کیپ ٹاؤنمیںہر کوئی ُاس کیایمان داری‪ّ ،‬چاسئیاور خوش اخلاقی کی‬ ‫تعریفکرتاتھا۔ٹامماداماورہنریکامخلصبیٹاثابتہواتھا۔اُسنےن‬ ‫صرفیہکہاندونوںنیک ِدلبوڑھوںکیقبروںپرخالصسن ِگمرمر‬ ‫کاگنبدبنوادیاتھابلکہانکےنامسےشہرمیںایکبہتبڑاہسپتالبھیبنایا‬ ‫تھاجہاںبیماروںکاتفُمعلاجہوتاتھا۔ٹاماپنے ُاسمحسنکوبھینہیں‬ ‫بھولاتھاجسنےمُصییتاوربدحالیمیں ُاسکیمددکیتھیاوراُسےکرایہ‬ ‫دےکرکشتیمیںسوارکرایاتھا۔ٹامخاصطورپراسبوڑھےسےملنےگیا‬ ‫اورقصبےمیں ُاسکےلیےنیامکانبنوایا۔ ُاسےایکخوبصورتکشتیبنوا‬ ‫کربھیدی۔اِسکےبعدٹامنےافریقہکےجنگلوںمیںخولانیقبیلےکاسفر‬ ‫‪165‬‬

‫بھیکیااورجسسردارنےاسکےساتھشفقتکاسلوککیاتھا ُاسے‬ ‫بیشبہاتحفےد ےی۔‬ ‫پیارے وّچب! ٹام نے اپنی باقی زندگی کیپ ٹاؤن میں بڑی نیکی اور خوش‬ ‫اخلاقی سے بسر کی۔ آج اس واقعے کو کافی عرصہ بیت گیا ہے مگر کیپ‬ ‫ٹاؤنمیںاُسکےبنائےہوئےہسپتالمیںآجبھیمریضعلاجکرواکر‬ ‫شفاپاتےہیںاورٹامکیروحکوثوابپہنچاتےہیں‪،‬اسلیےکہ ُدنیامیں‬ ‫انسانکوئیبھینیکیکرتاہےتووہضرورزندہرہتیہےاورلوگاُسنیک‬ ‫انسانکوہمیشہاےّھچنامسےیادکرتےہیں۔اِدھرمغربیافریقہکےسمندر‬ ‫میںآجبھیڈیونشائرجہازکاڈوباہواخزانموجودہے۔مگرکسیکوجرأت‬ ‫نہیںہوسکیکہسمندرکیعمیقترینگہرائیوںمیںاُترکراُسےحاصلکر‬ ‫سکے۔‬ ‫ختمشد‬ ‫‪166‬‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook