Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore ڈوبے جہاز کا راز

ڈوبے جہاز کا راز

Published by Muhammad Umer Farooq, 2023-08-06 11:32:33

Description: اے حمید

Search

Read the Text Version

‫پیشانیسے ُاسکاخیرمقدمکیا۔وہکرسیپربیٹھاایکرجسٹرمیںھچُکلکھ‬ ‫رہاتھا۔بلیکبرڈکیآمدکےساتھہیاُسنےرجسٹربندکردیااور ُاٹھکر‬ ‫ہاتھملایا۔‬ ‫”تشریفرکھئےمسٹبلیکبرڈ۔“‬ ‫”شکریہکپتانصاحب“!‬ ‫بلیکبرڈسنہری چ ُبولدارحاشیےوالےصوفےپربیٹھگیا۔‬ ‫کیبنکیگولآہنیڈھکنےوالیکھڑکیک ُھلیتھیجسمیںسےسمندرکی‬ ‫تازہاورٹھنڈیہوااندرداخلہورہیتھی۔کپتاننےگھنٹیبجائی۔نوکرکو‬ ‫چائےلانےکاکہااورخودمسٹبلیکبرڈکےپاسبیٹھکرباتیںکرنےلگا۔‬ ‫بلیکبرڈنےمُشک زراکرکہا‪:‬‬ ‫” ُ دخاوندکابڑاہیشکرہےکہجہازخیریتکےساتھکیپگڈہوپکے‬ ‫‪51‬‬

‫خطرناکسمندرسےنکلگیا۔“‬ ‫”ہاںمسٹبلیکبرڈ‪،‬ہمیںہرحالتمیں ُخداکاشکراداکرناچاہیے۔آپ‬ ‫شایدپہلیبارمیرےجہازپرسفرکررہےہیں۔میںاِنسمندروںکاعادی‬ ‫ہوں۔“‬ ‫”سبھیمسافروںکوآپایسےماہراورتجربہکارکپتانپربڑافخرہے۔کسی‬ ‫مسافرنےبھیایکلمحےکےلیےپریشانیکااظہارنہیںکیا۔“‬ ‫بلیکبرڈکپتانکیخوشامدکرکے ُاسےخوشکررہاتھا۔وگرنحقیقتیہ‬ ‫تھیکہجہازجبساحلیچٹانوںکےدرمیانسےگزررہاتھاتوسبسے‬ ‫زیادہوہیپریشانتھا۔‬ ‫”مسٹبلیکبرڈ!سمندرکاکوئیاعتبارنہیں۔یہایکتّبحمکرنےوالیماں‬ ‫کیطرحبھیہےاورایکظالم ُدشمنبھیہے۔“‬ ‫‪52‬‬

‫ہمیںسمندرسےزیادہکپتانکیشفقتپربھروسہہے۔“‬ ‫بلیکبرڈنےمُشک زراکرکہا۔کپتاناپنیتعریفپرخوشہوا۔اتنےمیں‬ ‫خوشپوشبیراچاندیکےقیمتیسیٹمیںچائےلےکرآگیا۔کپتاننے‬ ‫چائےبنائیاوردونوںاِدھراُدھرکیباتیںکرنےلگے۔کھلیگولکھڑکی‬ ‫میںسےسمندرکیجانبسےہواآرہیتھی۔کپتانچائےکیدوسریپیالی‬ ‫بنارہاتھاکہاچانکوہیوںچونکاجیسےفضامیںھچُکسونگھرہاہو۔پھر ُاسکے‬ ‫چہرےپرایکتاثرپیداہوا۔بلیکبرڈنےبھیاستبدیلیکومحسوسکیا۔‬ ‫”خیریتتوہےکپتانصاحب؟“‬ ‫”فضامیںطوفانکیوُبہے۔“‬ ‫اوراِسکےساتھہیجہازآہستہآہستہایکطرفکوڈولنےلگااورساتھ‬ ‫ہیکھڑکیمیںسےآتیہوئیدھوپغائبہوگئی۔بادلوںکاایکغلاف‬ ‫‪53‬‬

‫ساسورجکےآگےآگیاتھا۔‬ ‫”شایدطوفانآرہاہے۔“اتناکہہکرکپتاناُٹھااوربلیکبرڈسےمعذرت‬ ‫کرکےکیبنسےباہرنکلگیا۔‬ ‫‪54‬‬

‫جہازڈوبگیا‬ ‫کپتانتیزیسےڈیکپرآگیا۔‬ ‫اُس نے آسمان کی طرف نظریں اُٹھائیں۔ بادلوں کا ایک غلاف آہستہ‬ ‫آہستہآگےبڑھرہاتھا۔فضامیںایکخوفناکطوفانکےآثارتھے۔ہوا‬ ‫کیرفتارمیںبھیتیزیآگئیتھی۔ ُدوربادلوںمیںبجلیباربارچمکرہی‬ ‫تھی۔کپتاننےفوراً ُکُحدیاکہجہازکو‪۹۰‬ڈگریشمالمغربکیطرف‬ ‫‪55‬‬

‫موڑدیاجائے۔جہازاِستیزیسےموڑاگیاکہاُسےجہازکےمسافروں‬ ‫نے بھی محسوس کیا۔ جہاز کے ملازم بڑی چابک دستی کے ساتھ ڈیک پر‬ ‫اِدھرسے ُادھربھاگنےلگےتھے۔مسافروںمیںبھیھچُکھچُکبےچینیکے‬ ‫اثرات پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ انہیں بار بار یہ وہم آ رہا تھا کہ‬ ‫انہوں نے جہاز پر سوار ہو کر سخت غَلَطی کی ہے۔ وہ جہاز پر ن ہی سوار‬ ‫ہوتے تو ااّھچ تھا مگر اب ھچُک نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اپنی لاکھوں کروڑوں‬ ‫روپےکیجائیدادکےساتھسمندرکےبیچمیںسفرکررہےتھےاورسمندر‬ ‫میںایکزبردستطوفانآنےوالاتھا۔‬ ‫اب ہوا کی تیزی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آسمان کو بادلوں نے ڈھانپ لیا‬ ‫تھا۔بجلیچمکنےلگیتھی۔بادلگرجنےلگےتھے۔سمندرکےپانیمیںاونچی‬ ‫اونچیلہریں ُاٹھنےلگیتھیںاورجہازنےڈوبناشروعکردیاتھا۔کپتانباربار‬ ‫ُکُحدےرہاتھا۔اُسنےجہازکیرفتاربڑھادیتھی۔جہازپہلےسےزیادہ‬ ‫‪56‬‬

‫رفتارکےساتھساحلسے ُدورہٹنےلگاتھا۔کپتانکاخیالتھاکہوہطوفان‬ ‫سےپہلےپہلےجہازکوساحلسےجسقدربھی ُدورلےجائےااّھچہے۔‬ ‫کاش ُاسےخبرہوتیکہسمندرکےوسطمیںایکخوفناکطوفاناسکا‬ ‫انتظارکررہاہے۔‬ ‫جوںجوںجہازلُُھکسمندرکیطرفبڑھرہاتھاسمندرکیموجیں چپزتی‬ ‫جا رہی تھیں۔ اب جہاز نے ایک کھلونے کی طرح لہروں پر ا ِدھر سے‬ ‫ُادھرڈولناشروعکردیاتھا۔کپتاننےاّلچکرکہا‪:‬‬ ‫”جہازکو‪۷۰،‬ڈگریمشرقکیطرفموڑاجائے؟“‬ ‫اوراِسنئے ُکُحکےساتھہیجہازنےلُُھکسمندرسےمنہموڑکرجنوبی‬ ‫افریقہ کے مغربی ساحل کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ کپتان نے لُ ُھک‬ ‫سمندرمیںجاکرلنگراندازہونےکاخیالترککردیاتھا۔اب ُاسکاخیال‬ ‫‪57‬‬

‫تھاکہوہجتنیجلدیہوسکےساحلکےقریبپہنچکرکسیچٹانکےساتھ‬ ‫جہاز کو لنگر انداز کر دے اور کشتیوں کے ذریعے جتنا بھی ممکن ہو سکے‬ ‫لوگوں کے خزانے کو ساحل تک پہنچا دے۔ اُس کے سالہا سال کے‬ ‫تجربےنےبتادیاتھاکہیہطوفانموسمکاسبسےبڑاطوفانہےاورجہاز‬ ‫کوشدیدنقصانپہنچنےکاخطرہہے۔جہازآہستہآہستہساحلکیطرفبڑھ‬ ‫رہاتھا۔آسمانکوبادلوںنےڈھانپرکھاتھااور ُدورساحلکیسیاہلکیر‬ ‫ِدکھائیدےرہیتھی۔‬ ‫مسافروںمیںاببےچینیُ ُھککرسامنےآگئیتھی۔امیرتاجراورمسافر‬ ‫بےحدپریشانہورہےتھے۔ ُانہیںاپنےبالوّچبںکیفکربھیتھیاور‬ ‫زیادہکروڑوںروپےکےزروجواہراتاورسونےچاندیکےخزانےکی‬ ‫فکرتھیجسےوہہندوستانسےلوٹکراپنےساتھلےجارہےتھے۔بلیک‬ ‫برڈپربھیپریشانیطاریتھیاوروہکبھیاپنےکیبنمیںآتااورکبھیڈیک‬ ‫‪58‬‬

‫پرکھڑےہوکرسمندرمیں ُابھرتیہوئیبڑیبڑیلہروںکاجائزہلیتا۔‬ ‫کپتان ا ِس وقت بے حد مصروف تھا۔ وگرن بلیک برڈ چاہتا تھا کہ کپتان‬ ‫سے مل کر طوفان کی ّدشت اور نوعیت کے بارے میں ھچُک دریافت‬ ‫کرے۔ویسےبلیکبرڈخودبھیاندازہلگاچکاتھاکہطوفانشدیدآرہاہے‪،‬‬ ‫اورجہازکوسختخطرہلاحقہے۔‬ ‫ٹامجہازکےوسطمیںلنگرپھینکنےوالیمشینکےپاسکھڑاخوفزدہنگاہوں‬ ‫سےآہستہآہستہبڑھتےہوئےطوفانکودیکھرہاتھا۔ابسمندرمیںبڑی‬ ‫بڑیلہریںپیداہونےلگیتھیں۔یہموجیں ُدور ُدورسے ُامڈاُمڈکرآتیں‬ ‫اورجہازسےٹکراکراُسےکھلونےکیطرحپرےپھینکدیتیں۔بادلوں‬ ‫میںایکمہیبکڑکپیداہوئیاوراِسکےساتھہیموسلادھاربارش‬ ‫شروعہوگئی۔جہازکےملازمبھاگدوڑمیںلگےتھے۔پانیکیایکبہت‬ ‫اونچیلہر ُدورسےجھاگاُڑاتیہوئیآئیاوربڑےزورکےساتھجہازسے‬ ‫‪59‬‬

‫ٹکراگئی۔ ُاسکیشدیدرّکٹسےجہازکھلونےکیطرح ُاچھلکرٹیڑھاہوگیا‬ ‫اورایکطرفکوج ُھکگیا۔عورتوںکےمنہسےبےا ّ اخرچیخیںنکل‬ ‫گئیں اورمسافروںکےچہرےزردپڑگئے۔کپتانجانبھیبےحد‬ ‫پریشانتھامگر ُاسنےاپنیپریشانیپرقابوپارکھاتھااوربڑیذےّمداری‬ ‫اورمحنتکےساتھجہازکوہر ُمُمطریقسےبچانےکیجدوجہدمیں‬ ‫مصروفتھا۔اپنیسمندریزندگیمیںوہکبھیاتناپریشاننہیںہواتھا۔‬ ‫اُس کی وجہ یہ تھی کہ کپتان کو محسوس ہو رہا تھا کہ یہ طوفان بے حد‬ ‫خوفناک ہے۔ اِس سے بڑے طوفان سے اُسے اپنی زندگی میں کبھی‬ ‫واسطہنہیںپڑاتھا۔ ُاسنےاندرہیاندرتمامخلاصیووںاورملازموںکو‬ ‫ُکُحدےرکھاتھاکہ ُاسکےایکہیاشارےسےحفاظتیکشتیوںکوفور ًا‬ ‫سمندرمیں ُاتاردیاجائے۔‬ ‫خلاصیووںنےجانبچانےوالیکشتیوںکےآدھےرےّسکھولرکھےتھے‬ ‫‪60‬‬

‫اورکشتیاںجہازکےڈولنےکےساتھہیاِدھرسےاُدھرڈولرہیتھیں۔‬ ‫مسافروں میں بدحواسی پھیل گئی تھی۔ ہر کوئی جان بچانے کے لیے‬ ‫حفاظتیتدابیرکےبارےمیںغورکرنےلگاتھا۔بادلزورزورسےگرج‬ ‫رہےتھے۔بجلیباربارکڑکرہیتھی۔بارشموسلادھارہورہیتھی۔‬ ‫ہوا نے اب تیز آندھی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ طوفان کے شور میں‬ ‫مسافروںکیآوازیںدبگئیتھیں۔سمندرمیںزبردستسیلابآگیا‬ ‫تھا۔پہاڑپہاڑایسیلہریں ُدور ُدورسےآتیںاورجہازکواچھالکرپھینک‬ ‫دیتیں۔کپتانجہازکوبڑیلکشُمسےقابومیںکئےہوئےتھا۔‬ ‫لیکن ُاسپریہک ُھلیحقیقتواضحہوگئیتھیکہابکوئیمعجزہرونماہوتووہ‬ ‫جہازکوساحلتکپہنچاسکتاہے۔وگرناِسخطرناکطوفانسےبچنکلنا‬ ‫محالنظرآتاہے۔ ُاسنےمسافروںکو ُکُحدیاکہوہسباپنےاپنے‬ ‫کیبنوںمیںچلےجائیںاورعرشےپراِدھر ُادھربھاگدوڑکراسکےکام‬ ‫‪61‬‬

‫میںرکاوٹنڈالیں۔‬ ‫”آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ سمندر کے اِس ےّصح میں اکثر‬ ‫طوفانآیاکرتےہیں۔آپبالکلپریشاننہوں۔ ُ دخاوندنےچاہاتوہم‬ ‫بہتجلدساحلپرپہنچجائیںگے۔“‬ ‫مگرہوتایہتھاکہجہازجتناساحلکےقریبہوتا‪،‬سمندرکیطوفانیلہریں‬ ‫ُاسےاتناہیساحلسے ُدورلےجارہیتھیں۔کپتانکےباربار ُکُحدینے‬ ‫پرمسافرعرشےسےہٹکراپنےاپنےکیبنوںمیںچلےگئے۔وہبےحد‬ ‫پریشانتھےاوربعضتوگھٹنوںکےبلج ُھککر ُدعائیںمانگرہےتھے۔‬ ‫عورتوں نے وّچبں کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔ وّچبں کے چہروں پر بھی‬ ‫ہوائیاں ُاڑرہیتھیں۔انہوںنےروناشروعکردیاتھااورمائیںانہیں‬ ‫پُچکرانےکیناکامکوششکررہیتھیں۔بلیکبرڈبھیاپنےکیبنمیں‬ ‫پریشانیکےعالممیںبسترپر ٹ ال ُخداسےدعائیںمانگرہاتھا۔ٹامکونےمیں‬ ‫‪62‬‬

‫رِگےہوئےبرتنوںکو ُاٹھااُٹھاکرالماریمیںبندکررہاتھا۔اُسےبھیرّکچ‬ ‫آرہےتھے۔وہبڑیلکشُمسےاپنےآپکوسنبھالےہوئےتھا۔بلیک‬ ‫برڈنےچیخکرکہا‪:‬‬ ‫”الماریسےجُُمبرانڈینکالکردو۔میراسررّکچوںسےپاگلہواجارہا‬ ‫ہے۔“‬ ‫ٹامنےالماریکھولکربرانڈینکالیاوربڑیلکشُمسےایکگلاسمیں‬ ‫ڈالکراُسےدی۔بلیکبرڈایکہیسانسمیںساراگلاسپیگیا۔پھروہ‬ ‫اُٹھکرکیبنمیںاِدھراُدھرٹہلنےلگا۔اِسطرحبھی ُاسےچیننآیاتووہ‬ ‫بسترپر ُاکڑوںبیٹھگیا۔‬ ‫”کمبختاِسطوفانکوبھیابہیآناتھا۔“‬ ‫ٹامنےچہرےپرزبردستیشگفتگیپیداکرتےہوئےکہا‪:‬‬ ‫‪63‬‬

‫”سرا گھبرائیے نہیں۔ کپتان صاحب بڑے لائق آدمی ہیں۔ وہ جہاز کو‬ ‫طوفانمیںسےنکالکرلےجائیںگے۔“‬ ‫”یہسبجھوٹہے۔یہطوفانکپتانکےبسکاروگنہیںہے۔“‬ ‫پھربلیکبرڈنےاچانکٹامکیطرفدیکھکرکہا‪:‬‬ ‫”اِدھرآؤٹام۔“‬ ‫ٹاماُسکےقریبآگیا۔بلیکبرڈنے ُاسکیآنکھوںمیںآنکھیںڈال‬ ‫کرکہا‪:‬‬ ‫”ٹاماگرجہازڈوبگیاتوہمکہاںجائیںگے؟“‬ ‫ٹامنےعرشےپربندھیہوئیکشتیاںدیکھرکھیتھیں۔اُسنےجھٹکہا‬ ‫کہہمجانبچانےوالیکشتیوںمیںسوارہوکرساحلپرپہنچجائیںگے۔‬ ‫لیکنبلیکبرڈکومعلومتھاکہجہازپرمسافروںکیتعداداتنیزیادہہےکہ‬ ‫‪64‬‬

‫سارےکےسارےمسافرکشتیوںمیںنآسکیںگے۔پھربھی ُاسنے‬ ‫سوچا کہ ھچُک بھی ہو‪ ،‬خواہ اُسے ٹام کو یہیں چھوڑنا پڑے۔ وہ کسی ن کسی‬ ‫طرح کشتی میں سوار ہو کر ساحل تک پہنچ جائے گا۔ چپزے ہوئے‬ ‫طوفانمیںاُلجھکرکشتیڈوبگئیتووہکیاکرےگا؟ ُاسکیتوساریرمُعکی‬ ‫کمائی‪،‬لعلاورقیمتییاقوت ُاسکےساتھہیسمندرمیںڈوبجائیںگے۔‬ ‫پھراُسنےخیالہیخیالمیںدیکھاکہاُسکیکشتیایکچٹانسےٹکرا‬ ‫کرپاشپاشہوگئیہےاوروہپانیمیںغوطےکھارہاتھا۔بلیکبرڈکاسانس‬ ‫ُرکنےلگا۔اُسنےٹامکےشانوںکوجھنجوڑکرکہا‪:‬‬ ‫”نہیںنہیں‪،‬ٹام!ہمزندہرہیںگے۔ہمسمندرمیںنہیںڈوبیںگے۔ہم‬ ‫سمندرمیںنہیںڈوبیںگے۔“‬ ‫اچانکبادلزورسےگرجااورایکپہاڑایسیلہربڑےقیامتخیزشورکے‬ ‫‪65‬‬

‫ساتھجہاز سےٹکرائی اورجہاز ایک طرفکو ج ُھکگیا۔کیبن کا سارا‬ ‫ساماناوربرتنفرشپررِگپڑے۔ٹامنےکرسیکوتھاملیا۔بلیکبرڈکے‬ ‫ُُمسےچیخنکلگئی۔دوسریلہرآئیاورجہازکودوسریطرف ُاچھالکر‬ ‫نکل گئی۔ اب جہاز پوری طرح طوفان کے خونی پنجے میں جکڑا گیا تھا۔‬ ‫عرشےپرمسافرپریشانیکےعالممیںنکلآئےتھے۔کپتانبرجپرکھڑا‬ ‫چیخچیخکرملازموںکو ُکُحدےرہاتھا۔سبسےبڑیپریشان ُکباتیہ‬ ‫تھیکہجہازبڑیتیزیکےساتھبھٹکتاہوا ُانساحلیاّٹچنوںکیطرف‬ ‫بڑھرہاتھاجنسےٹکراکرکئیجہازتباہہوگئےتھے۔‬ ‫کپتانبڑیّدشتسےکوششکررہاتھاکہکسیطرحجہازاُنسمندری‬ ‫اّٹچنوںکےساتھٹکرانےسےبچجائےلیکنطوفانکازوراِسقدرزیادہ‬ ‫تھا کہ وہ بھی جہاز کے ساتھ بے بس ہو گیا تھا۔ موت کے خوف سے‬ ‫مسافروںکےچہرےزردہوگئےتھے۔انہیںموتبالکلسامنےکھڑی‬ ‫‪66‬‬

‫نظرآرہیتھی۔اچانکایکبہتبڑیلہراُٹھیاورجہازکےساتھاِس‬ ‫زورسےٹکرائیکہجہازایکطرفکوتیزیسےگھومگیااوراسکاایک‬ ‫ہّصحسمندرمیںڈوبگیا۔‬ ‫”کشتیاںپانیمیںاُتاردو۔جہازچھوڑدو۔“‬ ‫کپتانکےاِس ُکُحکےساتھہیہرطرفبھگدڑمچگئی۔کشتیاںپانیمیں‬ ‫اُتاردیگئیں‪،‬اورگھبرائےہوئےمسافروںنے ُانمیںچھلانگیںلگانی‬ ‫شروعکردیں۔کئیمسافرسمندرمیںڈوبکرہلاکہوگئے۔جہازکے‬ ‫مستولٹوٹکررِگپڑےاوراُسکےنیچےدبکرکئیمسافرمرگئے۔ہر‬ ‫طرفایکقیامتبرپاہوگئی۔جہازتیزیکےساتھسمندریاّٹچنوںکی‬ ‫طرفبڑھرہاتھا۔اورپھروہیہواجسکاکپتانکوڈرتھا۔دیکھتےہیدیکھتے‬ ‫جہازایکبہتبڑیچٹانکےساتھٹکراگیا۔ایکزورداردھماکہہوااور‬ ‫جہانکےدوٹکڑےہوگئے۔مسافرکھلونوںکیطرحسمندرمیںگرنے‬ ‫‪67‬‬

‫اورڈوبنےلگے۔چیخوپکارسےایککہراممچگیا۔جہازدیکھتےدیکھتےڈوب‬ ‫گیا۔‬ ‫ایسٹانڈیاکمپنیکےاسقدرعظیمال ّش ااناورمضبوطجہازکوسمندرکی‬ ‫بڑیبڑیموجوںنےت ِگللیا۔ابسطحسمندرپرصرفدوتینکشتیاں‬ ‫تھیںجوطوفانیموجوںپرڈولتیہوئیںساحلکیطرفبڑھرہیتھیں۔‬ ‫اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو کشتیاں ایک چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو‬ ‫گئیں۔ ان کشتیوں کے مسافر سب کی آنکھوں کے سامنے سمندر کی‬ ‫لہروںمیںڈوبگئے۔کوئیایکبھیجاننبچاسکا۔‬ ‫صرفایککشتیبچسکیتھیجسمیںجہازکاکپتان‪،‬بلیکبرڈ‪،‬ٹام‪،‬ھچُک‬ ‫نوجوان عورتیںاورمردسوارتھے۔طوفان کیّدشتویسےہیتھی۔‬ ‫بارشموسلادھارہورہیتھی۔بادلزورزورسےگرجرہاتھا۔بجلیچمک‬ ‫رہیتھی۔سمندرمیں ُاٹھتیہوئیبڑیبڑیموجیںکشتیکوایکتنکےکی‬ ‫‪68‬‬

‫طرح بہاتی ہوئیں ساحل کی طرف لے جا رہی تھیں۔ کپتان کشتی میں‬ ‫کھڑاتھااوردوخلاصیچپوؤںکیمددسےبڑیمشکلسےاسےساحلکی‬ ‫طرفلےجانےاورچٹانوںسےبچانےکیسرتوڑکوششکررہےتھے۔‬ ‫جب کوئی چٹان کشتی کے قریب آتی تو عورتوں کی چیخیں نکل جاتیں۔‬ ‫ایکبوڑھامسافراپنےآپکوسنبھالتےسنبھالتےسمندرمیںرِگپڑا۔اور‬ ‫طوفانیلہریںاُسے ُدورلےگئیں۔کشتیمیںبیٹھاہواکوئیشخصبھی ُاسے‬ ‫ن بچا سکا۔ مسافر ہاتھ باندھے آسمان کی طرف ُُم کئے ُدعاؤں میں‬ ‫مصروفتھے۔ےّچبرورہےتھے۔عورتوںکےچہروںپرموتکیزردی‬ ‫چھائیہوئیتھی۔کپتانکاحوصلہبلندتھا۔جہازکےغرقہونےکا ُاسےبے‬ ‫حدصدمہتھا۔سبسےبڑھکرمسافروںکویہصدمہتھاکہ ُانکے‬ ‫کروڑوںروپےکیمالیتکیجائیدادجہازکےساتھہیسمندرمیںغرقہو‬ ‫گئیتھی۔ابساحلبہتقریبآگیاتھا۔ایکبہتبڑیلہرنےاُچھل‬ ‫‪69‬‬

‫کرکشتیکوساحلپرلاپھینکا۔مسافرکشتیسےنکلکرساحلکیریتپررِگ‬ ‫پڑے۔‬ ‫‪70‬‬

‫لالچرُبیبلاہے‬ ‫افریقہکایہساحلبےآبادتھا۔‬ ‫کپتاننےساحلپرآتےہیسبسےپہلایہکامکیاکہتماممسافروںکو‬ ‫ایکجگہاکٹھاکیا۔انہیںسرکاریطورپراطلاعدیکہجہازڈیونشائرجو‬ ‫کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت تھا‪ ،‬طوفان میں گِھز کر ڈوب گیا ہے۔‬ ‫مسافروںکیچیخیںنکلگئیں۔‬ ‫‪71‬‬

‫”ہماراسامانکہاںہے؟“‬ ‫”ہمارےجواہراتکہاںہیں؟“‬ ‫”ہماراخزانکہاںہے؟“‬ ‫کپتاننےبڑیلکشُمسےلوگوںکوپُچکرایا۔‬ ‫”جُُمبڑاافسوسہےکہآپبجائے ُ دخاکاشکراداکرنےکےکہآپکی‬ ‫جانیں بچ گئی ہیں‪ ،‬آپ ابھی تک دولت کے پیچھے پڑے ہیں۔ آپ کی‬ ‫ساریکیساریدولتجہازکے ِنچلےتہہخانےمیںمحفوظہے۔ہمجلدی‬ ‫ہی کسیبڑےشہرپہنچ کرکمپنی کیطرفسےغوطہخوروںکیخدمات‬ ‫حاصل کریں گے اور سارے خزانے کو سمندر کی تہہ سے نکال لائیں‬ ‫گے۔آپکیدولتبہتجلدآپکوواپسملجائےگی۔“‬ ‫لیکنمسافروںکومعلومتھاکہجودولتسمندرکیتہہمیںایکبارغرق‬ ‫‪72‬‬

‫ہو جائے وہ دوبارہ ہاتھ نہیں آیا کرتی۔ ا ِن تمام پریشان حال مسافروں‬ ‫میںاگرکوئیمسافرمطمئنتھاتووہبلیکبرڈتھا۔اُسکیدولتاُسکیکمر‬ ‫کےساتھلپٹیہوئیاُسکےپاسموجودتھی۔یہ ُاسکیعقلمندیتھی‬ ‫کہ اُس نے زیادہ لالچ نہیں کیا تھا وگرن ُاس کا بھی حشر وہی ہوتا جو‬ ‫دوسرےمسافروںکاہوا۔پھربھیبلیکبرڈاپنیخوشیکوجچ ُھیچاائےہوئے‬ ‫تھااوردوسرےمسافروںکےساتھوہبھیجھوٹموٹکاپریشانبناہوا‬ ‫تھا۔‬ ‫شامہونےسےپہلےپہلےکپتانتماممسافروںکولےکرساحلکےقریب‬ ‫ہیجنگلمیںآگیا۔یہاں ُاسنےدوسرےجہازیوںکےساتھملکر‬ ‫درختوںکیشاخیںکاٹکرعورتوںاوروّچبںکےلیےالگاورمردوں‬ ‫کےلیےالگجھونپڑیاںبناڈالیں۔پھرانہوںنےوہاںآگکابہتبڑا‬ ‫الاؤروشنکردیا۔درختوںسےھچُکجنگلیپھلتوڑکرانہوںنےپیٹکی‬ ‫‪73‬‬

‫آگ بجھائی۔ کپتان بلیک برڈ کے ساتھ آگ کے پاس بیٹھ کر ُگفت گو‬ ‫کرنےلگا۔‬ ‫”اِسجنگلمیںصرفاتنےپھلموجودہیںکہہملوگبڑیلکشُمسے‬ ‫ایک ہفتہ یہاں گزارہ کر سکتے ہیں۔ اِس کے بعد ہمیں یہاں ھچُک بھی‬ ‫کھانےکونملےگا۔“‬ ‫”یہتوٹھیکہےمگرسوالیہپیداہوتاہےکہہمیہاںسےکسطرفکو‬ ‫جائیں۔یہاںسےمغربیافریقہکاقریبیشہرکتنیدورہوگا؟“‬ ‫بلیک برڈ کے ا ِس سوال پر کپتان نے جیب سے ایک مومی نقشہ نکال کر‬ ‫زمینپرپھیلادیااوراُسےغورسےدیکھنےلگا۔‬ ‫”اِسنقشےکیروسےہمبریڈسٹونکےعلاقےمیںہیں۔یہاںسےقریبی‬ ‫شہر صرف ”کیپ ٹاؤن“ ہے جو یہاں سے سترہ سو میل کے فاصلے پر‬ ‫‪74‬‬

‫ہے۔“‬ ‫” ُخدایا!اتنی ُدور؟“‬ ‫بلیکبرڈکامنہحیرتسےُ ُھکگیا۔‬ ‫”کپتانصاحب!یہسترہسومیلکافاصلہہملوگپیدلکیسےطےکریں‬ ‫گے۔اورپھراِنوّچبںاورعورتوںکاکیاحشرہوگا؟آپکاکیاخیالہےکہ‬ ‫ہماِندشوارگزارجنگلوںمیںعورتوںاوروّچبںکےساتھاتنالمبافاصلہ‬ ‫طےکرسکیںگے؟اورپھرہمیںکوئیخبرنہیںراستےمیںکیسےکیسےمردم‬ ‫خودقبیلےآبادہیں۔“‬ ‫کپتانگہریسوچمیںڈوبگیا۔‬ ‫”آپکااندیشہبجاہےمسٹبلیکبرڈ۔لیکناِسکےسوااورچارہبھیکوئی‬ ‫نہیں۔اگرہمنےاسیجگہٹھہرےرہنےکافیصلکیاتوہمسبایک ِدن‬ ‫‪75‬‬

‫بھوکاورپیاسسےدمتوڑکرمرجائیںگے۔“‬ ‫”مگرسوالیہہےکہہمسفرکسطرحکریںگے؟“‬ ‫”پیدلچلنےکےسوااورکوئیچارہنہیں۔“‬ ‫بلیکبرڈنےپوچھا‪:‬‬ ‫”کیاایسانہیںہوسکتاکہہمکشتیمیںسوارہوکرساحلکےساتھساتھ‬ ‫اوپرکیطرفچلناشروعکردیں؟“‬ ‫کپتاننےماتھےپرہاتھرکھکرکہا‪:‬‬ ‫”بلیکبرڈصاحب!آپکوشایدمعلومنہیںکہکشتیمیںسوارہوکرلُ ُھک‬ ‫سمندر کی طرف جانا آسان ہے لیکن ساحل کے ساتھ ساتھ رِتچھی‬ ‫لہروںکاسینہچیرکرچلناناممکناتمیںسےہے۔ایسےمخالف ُرخکےسفر‬ ‫میںتوبھاپکاانجنبھیجوابدےجاتاہے۔“‬ ‫‪76‬‬

‫”پھرآپہمیںکیامشورہدیتےہیںکپتانصاحب؟“‬ ‫کپتانسوچنےلگا۔ ُاسنےٹوپیاُتارکراپنےبالک ُھچاائےاوردوبارہسرپر‬ ‫ٹوپیاوڑھتےہوئےبولا‪:‬‬ ‫”میراخیالہےکہہمابھییہاںدوایکروزآرامکرتےہیں۔اتنیدیر‬ ‫میںشایدکوئیجہازاِدھرسے ُگزرے۔ہمدھواں ُاڑاکر ُاسےاپنیطرف‬ ‫متوہّجکرسکتےہیں۔“‬ ‫بلیکبرڈنےسوالکیا‪:‬‬ ‫”اوراگراِسدورانمیںکوئیبھیجہازاِدھرسےنگزراتواُسصورت‬ ‫میںکیاہوگا؟“‬ ‫” ُاسصورتمیںہمیںایکہفتےکےبعدیہاںسےکوچکرکےکسیایسے‬ ‫جنگلمیںپڑاؤڈالناہوگاجہاںہمیںجنگلیپھلاورپانیملسکے۔“‬ ‫‪77‬‬

‫”کپتانصاحب!آپتوایسیباتیںکررہےہیںجیسےہملوگجنگلمیں‬ ‫ِچب ِبمنانےآئےہیں۔آپکاخیالہےکہہماِنکمزورعورتوںاور‬ ‫وّچبںکےساتھاِسطرحجنگلمیںزیادہدیرزندہرہسکیںگے؟اورپھر‬ ‫کیا ا ِن جنگلوں میں درندے ہمیں زندہ چھوڑیں گے؟ اور پھر آپ ا ِس‬ ‫حقیقتسےآنکھیںکیوںبندکررہےہیںکہجنوبیافریقہکےیہعلاقے‬ ‫آدمخورقبیلوںسےبھرےپڑےہیں۔“‬ ‫کپتاننےایکگہراسانسلیااوربولا‪:‬‬ ‫”مسٹ بلیک برڈ! جُُم خوشی ہے کہ آپ بہتزیادہ حقیقت پسند واقع‬ ‫ہوئے ہیں۔ہمیں اِسی انداز میں سوچنا ہوگا۔جو ھچُک بھیہے ہمارے‬ ‫سامنے ہے۔ہماریراہمیں بڑیمُصییییںاور پریشانیاںہیںلیکناِن‬ ‫سب کے باوجود ہمیں مسافروں کی جان بچانی ہے اور انہیں کسی ن کسی‬ ‫طرححفاظتسےکیپٹاؤنتکپہنچاناہے۔“‬ ‫‪78‬‬

‫”مگرکیسے؟کیسےکپتانصاحب؟“‬ ‫”اپنیہمّتہے۔ ُخداپربھروسےسے۔“‬ ‫کپتانکےاِسجوابکےبعدبلیکبرڈکوئیسوالنکرسکا۔اصلباتیہ‬ ‫تھیکہبلیکبرڈکومسافروںکیجانکیاتنیفکرنہیںتھیجتنیفکر ُاسےیہ‬ ‫تھیکہکسیطرحوہاپنیجاناوراپنیدولتبچاکرافریقہکےمہذّبشہر‬ ‫کیپٹاؤنپہنچجائے۔تاکہوہاںسےکسیجہازمیںسوارہوکرلندنپہنچ‬ ‫سکے۔‬ ‫لیکنابھیلندناورکیپٹاؤنکاشہرایکخوابمعلومہورہاتھا۔انمول‬ ‫لعلاورلاکھوںروپےکیمالیتکایاقوتبلیکبرڈکیکمرکےساتھبندھا‬ ‫ہواتھا۔اسےتشلّیبھیتھیاورغمبھیتھا۔پریشانیبھیتھیکہکہیںکوئی‬ ‫مسافرراتوںرات ُاسےہلاککرکےاُسکیکمرکےساتھلپٹیہوئی ُاس‬ ‫‪79‬‬

‫کیدولتچھینکرنلےجائے۔پھروہسوچتاکہاُسنےتوکسیکوبھیاپنی‬ ‫جچ ُھ چتیہوئیدولتکےبارےمیںنہیںبتایا۔پھراپنےآپہیاسےخیال‬ ‫آیاکہکیاخبرکسینے ُمزیکردیہو۔کیاخبرانہیمسافروںمیںکسیکو‬ ‫علم ہو کہ بلیک برڈ کی ساری کی ساری دولت محفوظ ہے جب کہ اُن کی‬ ‫زندگی بھر کی پونجی سمندر میں غرق ہو گئی ہے۔ یہ تو بہت رُبی بات ہو‬ ‫گی۔‬ ‫کپتاننےالاؤمیںلکڑیڈالتےہوئےکہا۔‬ ‫”بلیک برڈ صاحب! اب آپ بھی آرام کریں۔ حبُص سوچیں گے کہ اگلا‬ ‫قدمکیا ُاٹھاناہے۔“‬ ‫”جُُمتونیندنہیںآرہیکپتانصاحب۔“‬ ‫کپتاننےذراسامُشک زراکرکہا‪:‬‬ ‫‪80‬‬

‫”آپتواِسجہازکےواحدمسافرہیںجسکاھچُکبھینقصاننہیںہوا۔‬ ‫آپ کو تو نیند آ جانی چاہیے۔ نیندیں تو ُان مسافروں کی ُاڑ چکی ہیں جو‬ ‫ہندوستانسےکروڑوںروپےکیدولتلوٹکھسوٹکرولایتلےجا‬ ‫رہےتھے۔“‬ ‫بلیکبرڈنےکہا‪:‬‬ ‫”آپکافرمانابجاہےکپتانصاحب! ُ دخاوندکاشکرہےکہمیںنےلالچ‬ ‫نہیںکیا۔اورمدراسسےصرفیہتینکپڑےپہنکرچلاتھا۔پھربھی‬ ‫جباِنعورتوںاوروّچبںکوپریشاندیکھتاہوںتو ِدلخونکےآنسو‬ ‫رونےلگتاہے۔“‬ ‫”یہ ا ِس لیے کہ آپ ایک نرم دل دین دار انسان ہیں۔ کاش جہاز کے‬ ‫سبھی مسافر آپ ہی کی طرح ہوتے۔ میرا خیال ہے شاید پھر ہمارا جہاز‬ ‫‪81‬‬

‫کبھیغرقنہوتا۔آپکاکیاخیالہےبلیکبرڈصاحب؟“‬ ‫بلیکبرڈنےچونککرکہا‪:‬‬ ‫”آپٹھیکفرمارہےہیں۔بالکلٹھیکفرمارہےہیں۔ااّھچ۔شببخیر۔‬ ‫میراخیالہےہمیںسونےکیکوششکرنیچاہیے۔“‬ ‫” ُخداحافظ“!‬ ‫کپتانوہیںزمینپرلیٹگیااوربہتجلدوہخرّاٹےلینےلگا۔لیکنبلیک‬ ‫برڈ کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ ٹام ذرا پرے الاؤ کے پاس بیٹھا سو رہا تھا۔‬ ‫دوسریجانبجھونپڑوںمیںعورتیںاورےّچببھیتھوڑابہتکھاپیکر‬ ‫ابآرامکررہےتھے۔مردوںکےجھونپڑوںمیںمسافرنہیںسوئے‬ ‫تھے۔ ُادھرسےتیزتیزباتیںکرنے‪،‬موسماورطوفانکوکوسنے‪،‬کپتانکو‬ ‫رُبابھلاکہنےکیآوازمیںآرہیتھیں۔‬ ‫‪82‬‬

‫دومسافرتواِسصدمےسےہیمرگئےکہاُنکیدولتسمندرمیںغرق‬ ‫ہوگئیہے۔وہکشتیمیںحفاظتکےساتھساحلپرپہنچگئےتھے۔مگر‬ ‫جبکپتاننےاعلانکیاکہجہازغرقہوگیاہےتووہ ِدلکوپکڑکرایسے‬ ‫رِگےکہپھرن ُاٹھسکے۔ہائےریدولت! ُتونےکتنےانسانوںکوموت‬ ‫کےگھاٹاُتاردیا۔انسانسونےکیتلاشمیںنکلےاورآخرخاکمیںمل‬ ‫جائے۔سوناتونملسکالیکناپنیزندگیسےہاتھدھوبیٹھے‪،‬دانالوگوںنے‬ ‫سچ فرمایا ہے کہ انسان کو ُدنیا میں رہ کر نیک اور سادہ زندگی بسر کرنی‬ ‫چاہیے‪،‬دولتکالالچکبھینہیںکرناچاہیے۔اگردولتہی ُدنیامیںسب‬ ‫ھچُکہوتیتواللہکےنیکبندےاولیااللہاوربزرگا ِندیناورنبی‪،‬سارے‬ ‫کے سارے دولت مند ہوتے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ا ِن لوگوں نے‬ ‫بڑیہیسادہزندگیبسرکی‪،‬ہمیشہسچبولا۔انسانوںکے ُدکھدردمیںکام‬ ‫آئے۔ ُ دخاکویادرکھااوریوںرہتی ُدنیاتکاپنانامروشنکرگئے۔مگرجو‬ ‫‪83‬‬

‫لوگشیطانکےبہکانےمیںآجاتےہیںوہدولتکالالچکرتےہیںاور‬ ‫دولتکیخاطررُبےسےرُباکامکرکےدوزخمیںچلےجاتےہیں۔ایسے‬ ‫لوگوںکیزندگیبھیدوزخہیہوتیہے۔انہیںن ِدنکاچیننصیبہوتا‬ ‫ہے ن رات کا آرام۔ یہی حال ڈوبے ہوئے جہاز کے مسافروں کا تھا جو‬ ‫افریقہکےخوفناکجنگلمیںبےیارومددگارپڑےاپنیدولتکویادکر‬ ‫کےرورہےتھے۔‬ ‫‪84‬‬

‫بلیکبرڈکیموت‬ ‫دوسرے ِدنموسمخوشگوارہوگیا۔‬ ‫آسمانپرسےبادلوںکاغلافہٹگیااورسورجچمکنےلگا۔طوفان ُگزر‬ ‫جانےکےبعدسمندربھیرُپسکونہوگیاتھا۔ایسےلگتاتھاجیسےکبھیکوئی‬ ‫طوفاننہیںآیاتھا۔ڈیونشائرڈوب ُچ اچتھا۔جہازساحلسےپندرہمیل‬ ‫کےفاصلےپرسمندرکیتہہمیںاّٹچنوںمیںٹوٹپھوٹکرپھنساہواتھا۔‬ ‫‪85‬‬

‫خزانے کے کمرے کا لوہے کا دروازہ دھماکے سے ٹوٹ گیا تھا اور سارا‬ ‫سونا‪ ،‬جواہرات کے صندُوقاور تاج و تختِ طاؤسسمندر کی تہہ کے‬ ‫ساتھ چ ّپزوںمیںپڑاتھا۔اِسخزانےکےمالکمسافرساحلکےجنگل‬ ‫میں پریشان حال بیٹھے اپنی قسمت کو رو رہے تھے۔ کپتان اور بلیک برڈ‬ ‫صلاحمشورےکےبعدوہاںسےوُکچکرنےکیاّیتریاںکررہےتھے۔‬ ‫کپتاننےاِعلانکردیاتھاکہہملوگجنگلجنگلکیپٹاؤنکا ُرخکریں‬ ‫گےجویہاںسےسترہسومیلکےفاصلےپرہے۔کسیمسافرکویقیننہیں‬ ‫تھاکہوہخیریتکےساتھمنزلپرپہنچجائےگا۔دولتتو ُانکیسمندر‬ ‫میں غرق ہوگئی تھی۔ اب انہیں اپنیزندگی کیبھی اُ ّ دم نہیںتھی۔‬ ‫عورتوںاوروّچبںکاتورُباحالہورہاتھا۔کپتاننےانہیںبےحدتشلّیدی‬ ‫تھی۔مگرسوائےبلیکبرڈکےایکبھیمسافرایسانہیںتھاجسکے ِدل‬ ‫میںاُ ّمدکیایککرنبھیروشنہو۔بلیکبرڈ ِدلمیںمطمئنتھا۔اِس‬ ‫‪86‬‬

‫اّکمراوروُخدغرضشخصنے ِدلمیںسوچرکھاتھاکہوہہرقیمتپراپنی‬ ‫جان اور دولت بچائے گا۔ اِس مقصد کے لیے اگر اُسے سارے‬ ‫مسافروںکوقتلبھیکرناپڑگیاتووہاِسسےبھیدریغنہیںکرےگا۔‬ ‫حقیقت میں بلیک برڈ کو دولت کی ہوس نے انسان سے جانور بنا دیا تھا۔‬ ‫اُسکے ِدلمیںتواِسقسمکےظالماناِرادےتھےمگردُقرتنے ُاس‬ ‫کےبارےمیںھچُکاورہیفیصلکررکھاتھا۔‬ ‫دوپہرکےوقتلوگوںنےجنگلسےھچُکپھلتوڑےاورکھاپیکروہاں‬ ‫سےوُکچکرنےکیفکرمیںلگےتھےکہاچانکانہیں ُدورسےڈھولکی‬ ‫آوازانُسئیدی۔سبکےکانکھڑےہوگئے۔ڈھولکیآوازجنگلکے‬ ‫درمیان سے آ رہی تھی۔ کپتان نے موقع کی نزاکت کو محسوس کرتے‬ ‫ہوئےفور ًا ُکُحدیاکہعورتوںاوروّچبںکوجھونپڑیوںمیںجچ ُھیچاادیاجائے۔‬ ‫بلیکبرڈبھیپریشانہوگیا۔‬ ‫‪87‬‬

‫”کپتان!آپکاکیاخیالہے۔یہڈھولکیآوازکیاہے؟“‬ ‫کپتاننےگہراسانسبھرکرکہا‪:‬‬ ‫”اِسکاجوابسوائےاِسکےاورھچُکنہیںکہجنگلیلوگوںکوہماریآمد‬ ‫کاپتہچلگیاہےاوروہہماریتلاشمیںاِدھرآرہےہیں۔“‬ ‫”کیایہلوگہمیںہلاککردیںگے؟“‬ ‫”میراخیالہےکہوہایساہیکریںگے۔“‬ ‫”میرے ُخدا؟“‬ ‫بلیکبرڈکا ُاوپرکاسانساوپراورنیچےکاسانسنیچےرہگیا۔اسےاپنیموت‬ ‫آنکھوںکےسامنےناچتینظرآئی۔‬ ‫”یہتوبہترُباہوگاکپتانصاحب۔“‬ ‫‪88‬‬

‫”پہلےہمارےساتھکیاااّھچہورہاہےمسٹبلیکبرڈ!ہماراجہاز ُڈوب ُچ اچ‬ ‫ہے۔ ہم جنگل میں اکیلے ہیں۔ ہمیں ہر مُصییت کے لیے اّیتر رہنا‬ ‫چاہئے۔“‬ ‫”مگرہمنہتےہیں۔ہمجنگلیوںکااقُمبلہکیسےکرسکیںگے؟“‬ ‫”ہماقُمبلہتوکسیصورتمیںنہیںکرسکتے۔“‬ ‫”توپھر۔کیاہمہلاککردیےجائیںگے؟“‬ ‫”ہماُنسےباتچیتکرنےکیکوششکریںگے۔“‬ ‫”کپتانصاحب!وہوحشیہیں۔ہماُنکیزبان بھینہیںجانتے۔بھلا‬ ‫اُنہیںکیاضرورتپڑیہےکہہمپرحملہکریں۔جیساکہہمنےنُسرکھا‬ ‫ہے ہمارے ساتھ ویسا ہی ہو گا۔ یہ جنگلی ہماری عورتوں کو اغوا کر لیں‬ ‫گے۔وّچبںاورآدمیوںکومارڈالیںگےاوربس۔“‬ ‫‪89‬‬

‫”ہمیں ُخداسے ُدعامانگنیچاہیے۔“‬ ‫وحشیوںکےڈھولکیآوازابقریبسےقریبہورہیتھی۔اور ُان‬ ‫کے جنگلی نعروں کی آوازیں بھی ساتھ ہی انُسئی دینے لگی تھیں۔‬ ‫مسافروں کا خوف کے مارے رُبا حال ہو رہا تھا۔ انہوں نے نیم رُمدہ‬ ‫عورتوںاوروّچبںکوجھونپڑیوںمیںجچ ُھیچااکراُوپردرختوںکیشاخیںڈال‬ ‫دیتھیں۔ابھیوہسوچہیرہےتھےکہجنگلیوںکااقُمبلہکیونکہکیاجائے‬ ‫کہ بے شمار تیر اُن کے درمیان آ کر زمین پر گڑ گئے۔ بلیک برڈ کے‬ ‫ہونٹوںسےچیخنکلگئی۔وحشیجنگلیچیختےاّلِچتے ُانکےقریبپہنچگئے‬ ‫تھے۔بلیکبرڈنےٹامکوپکڑااورگھسیٹتاہواایکطرفلےگیا۔یہاں‬ ‫جھاڑیوںکیاوٹتھی۔اُسنےجھنجھوڑکرکہا‪:‬‬ ‫”سنوٹام!میریایکامانتاپنےپاسرکھو۔ہوسکتاہےجنگلیتمہیںہّچب‬ ‫سمجھکرچھوڑدیں۔“‬ ‫‪90‬‬

‫اتناکہہکربلیکبرڈنےکمرپرسےپٹکا ُاتارکرگتھلینکالیاوراُسمیںسے‬ ‫قیمتیلعلاوریاقوتنکالکرٹامکودیتےہوئےکہا‪:‬‬ ‫”یہدونوںہیرےمیریامانتہےجوتمہارےپاسرہےگی۔اِسےاپنے‬ ‫جوتوںمیںجچ ُھیچاالو۔خبردارکسیقیمتپربھیاِسےباہرمتنکالنا۔جلدی‬ ‫سےابانہیںجچ ُھیچاالو۔“‬ ‫ٹامبےچارہحیرانہیرہگیاکہ ُاسکےچچاکےپاساتنےقیمتیہیرے‬ ‫کہاںسےآگئے۔اُسےتویہخیالتھاکہاُسکاچچاتینکپڑوںمیںسفرکر‬ ‫رہاہے۔مگریہوقتسوچنےاورغورکرنےکانہیںتھا۔وحشیسرپرآن‬ ‫پہنچےتھے۔ٹامنےفور ًاہیرےلےکرانہیںاپنےجوتوںمیںجچ ُھیچاالیا۔‬ ‫”اگرانہوںنےمیریتلاشیلیتوکیاہوگا؟“‬ ‫بلیکبرڈنےقرًابیچیخکرکہا‪:‬‬ ‫‪91‬‬

‫”ایسانہیںہوگا۔کبھینہیںہوگا۔وہتمہاریتلاشینہیںلیںگے۔“‬ ‫اچانکچھساتجنگلیوحشیاسکےاردگردآکرکھڑےہوگئے۔انہوں‬ ‫نے دونوں کو گرفتار کر لیا اور جھاڑیوں سے باہر لے آئے۔ اُدھر‬ ‫دوسرے حبشی جنگلی بھی موجود تھے۔ انہوں نے سارے مسافروں کو‬ ‫کپتانسمیتگرفتارکرلیاتھا۔وحشیوںنےجھونپڑیوںمیںسےعورتوں‬ ‫اوروّچبںکوبھینکاللیاتھا۔ےّچبرورہےتھےاورعورتوںکےچہرےپر‬ ‫موتکیزردیتھی۔ایکمسافرنےاونچیآوازمیںچیخکرحبشیسےھچُک‬ ‫کہناچاہا۔اُسظالمنےپلکجھپکنےمیںنیزہ ُاسکےسینےمیںگھونپدیا۔‬ ‫مسافروہیںتڑپتڑپکرٹھنڈاہوگیا۔باقیمسافرسہمگئے۔‬ ‫جنگلیحبشیسارےمردوںاورعورتوںکوگرفتارکرکےجنگلمیںاپنے‬ ‫قبیلےکیجھونپڑیوںکیطرفچلپڑے۔یہجھونپڑیاںکافی ُدورجنگل‬ ‫میںایکجگہبنیتھیں۔یہاںجنگلیوںکےسردارنےاپنےجھونپڑے‬ ‫‪92‬‬

‫سےنکلکرقیدیوںکودیکھااور ُانعورتوںکودیکھکراپنےزردزرددانت‬ ‫نکالکرہنسنےلگا۔ ُاسنےہاتھسےاِشارہکیا۔جنگلیوںنےفوراًساریکی‬ ‫ساری عورتوں کو الگ کر کے ایک جھونپڑی میں بند کر دیا۔ سردار نے‬ ‫دوسرےہاتھسےاِشارہکیاتوحبشیوحشیوںنےمردوںکاقت ِلعامکرنا‬ ‫شروعکردیا۔دیکھتےدیکھتےانہوںنےدسبارہتاجروںکےسینوںمیں‬ ‫نیزےگھونپدیتے‪،‬ہرطرفہاہاکارمچگئی۔لاشیںتڑپنےلگیں۔کپتان‬ ‫نےہاتھآسمانکیطرفاُٹھاکرھچُککہا۔بلیکبرڈدوزانوہوکرزمینپرگر‬ ‫پڑا۔حبشیسردارنےہاتھ ُاوپراُٹھایا۔قتلِعام ُرکگیا۔پھر ُاسکے ُکُح‬ ‫سےتمامباقیمسافروںکوایکجھونپڑےمیںقیدکرکےڈالدیاگیا۔‬ ‫یہسارےکاسارادردناکحادثہاتنیجلدیہوگیاکہکپتانکےہوشو‬ ‫حواس ُگمہوکررہگئے۔اُسنےبڑےبڑےسمندریطوفانوںکااقُمبلہ‬ ‫کیاتھااورکبھیپریشاننہیںہواتھا۔لیکناِتنےسارےآدمیوںکوبیک‬ ‫‪93‬‬

‫وقتقتلہوتےاورخاکوخونمیںتڑپتےدیکھکروہبھیخوفزدہہوکررہ‬ ‫گیا۔بلیکبرڈکابھیدہشتسےچھوٹاسامنہنکلآیاتھا۔ٹاموّچبںکے‬ ‫ساتھالگقیدکردیاگیاتھا۔بلیکبرڈکواپنےہیروںکاغمکھائےجارہاتھا۔‬ ‫وہاِسخیالسےپچھتانےلگاکہاُسنےناحقٹامکوہیرےدےدیےمگر‬ ‫ابکیاہوسکتاتھا۔ ُاسےاتنامعلومتھاکہاِنوحشیوںسےاباُسکی‬ ‫جاننہیںبچسکتی۔یہآدمخورسارےمردوںاوروّچبںکوقتلکرکے‬ ‫عورتوںکےساتھشادیاںکرلیںگے۔ابوہسوچرہاتھاکہباقیلوگ‬ ‫اگرمرتےہیںتومریںلیکن ُاسےکسیطرحوہاںسےجانبچاکرنکل‬ ‫بھاگناچاہیے۔کپتاناُسکےپاسہیزمینپربیٹھاتھا۔‬ ‫”کپتانصاحب!ابکیاہوگا؟“‬ ‫کپتاننےٹھنڈاسانسبھرکرکہا‪:‬‬ ‫‪94‬‬

‫”وہیجومیری‪،‬آپکیاوراُنسبلوگوںکیقسمتمیںلکھاہے۔“‬ ‫”قسمت تو ایّھچ نہیں ہماری۔ اگر قسمت ساتھ دیتی تو ہمارا جہاز کیوں‬ ‫غرقہوتا۔“‬ ‫”بہرحالابہمیںاپنیموتکےلیےہروقتاّیتررہناچاہئے۔“‬ ‫”کیایہاںسےفرارہونا ُمُمنہیں؟“‬ ‫کپتاننےحیرانیسےبلیکبرڈکیطرفدیکھااورکہا‪:‬‬ ‫”یہاں سے فرار ہونا بھی اپنی موت کو الُبنا ہے۔ ا ِس جنگل میں چاروں‬ ‫طرفاِنوحشیحبشیوںکیحکومتہے۔کوئیدرختایسانہیںجسکی‬ ‫شاخوںمیں ُانکاکوئینکوئیحبشیزہرمیں ُنچھااہواتیرلیےنبیٹھاہو۔“‬ ‫”ھچُکبھیہومیںاِنوحشیوںکےہاتھوںہلاکہونانہیںچاہتا۔“‬ ‫بلیکبرڈنےجھنجلاکرکہا۔کپتاننے ُاسےسمجھایاکہاِسطرحجذبات‬ ‫‪95‬‬

‫میں آنے سے ھچُک حاصل نہیں ہو گا۔ ہمیں عقل سے کام لے کر‬ ‫ٹھنڈے ِدلسےسوچناہوگا۔اورکوئیایسیتدبیرنکالنیہوگیجسسے‬ ‫سردارکے ِدلمیںہمرحمکاجذبہپیداکرکےمسافروںکیجانیںبچا‬ ‫سکیں۔مگربلیکبرڈپرکپتانکیباتوںکاذراسابھیاثرنہوا۔وہسوچنےلگا‬ ‫کہکسیطرحاکیلےہییہاںسےنکلجائے۔چنانچہ ُاسنےفیصلکرلیا‬ ‫کہوہراتکووہاںسےفرارہوجائےگا۔اُسنےیہمعلومکرلیاتھاکہ‬ ‫جھونپڑےکےباہرصرفایکہیپہرےدارہےجونیزہہاتھمیںلیے‬ ‫باہربیٹھاہے۔اببلیکبرڈراتکااِنتظارکرنےلگا۔‬ ‫جنگلپربہتجلدراتچھاگئی۔‬ ‫جبہرطرفگہرا ّ اسٹاطاریہوگیاتوبلیکبرڈنےلیٹےہیلیٹےسر ُاٹھاکر‬ ‫اپنے اِرد رِگد دیکھا۔ کپتان گہری نیند میں کھویاخ ّراٹے لے رہا تھا۔ وہ‬ ‫آہستہسے ُاٹھا۔اُسنےایکدرزمیںسےباہردیکھا۔پہرےدارحبشی‬ ‫‪96‬‬

‫بھیایک چ ّ زپسےٹھیکلگائےسورہاتھا۔بڑاسنہریموقعتھا۔بلیکبرڈ‬ ‫اِسموقعکوہاتھسےنہیںچھوڑناچاہتاتھا۔وہرینگتاہواایکطرفسے‬ ‫جھونپڑے سے باہر آ گیا۔ اب اُس نے اُس جھونپڑی کی طرف رینگنا‬ ‫شروعکردیاجہاںٹامقیدتھا۔یہجھونپڑیوہاںسےکوئیپچاسقدموں‬ ‫کےفاصلےپرتھی۔وہرینگتارینگتااُسجھونپڑیکےپاسپہنچگیا۔بلیک‬ ‫برڈ کا سانس پھول گیا تھا۔ اُس نے ایک لَپ کے لیے ُرک کر سانس‬ ‫درستکیااورجھونپڑیکیپچھلیطرفسےجاکرٹامکوآہستہسےآواز‬ ‫دی۔‬ ‫ا ّتاقکیباتتھیکہٹامابھیتکجاگرہاتھا۔ٹامنےاپنےچچاکیآواز‬ ‫ُُستو ُاسےکوئیحیرتنہوئی۔وہاپنےچچاکیلالچیطبیعتسےایّھچ‬ ‫طرحواقفتھا۔ ُاسےمعلومتھاکہچچاکیدولتاُسکےپاسہےاوروہ‬ ‫اپنیدولتکیتلاشمیںاُسکےپاسضرورآئےگا۔ٹامنےجھونپڑی‬ ‫‪97‬‬

‫کےایکسوراخمیںسےجھانککرباہردیکھا۔ ُاسکاچچازمینپر ٹ ال‪،‬سر‬ ‫ُاٹھائے‪،‬اندھیرےمیںاُسےگھوررہاتھا۔ ُاسنےسرگوشیمیںکہا‪:‬‬ ‫”اندرآجاؤچچا!سبےّچبسورہےہیں۔“‬ ‫اوربلیکبرڈکسیبہتبڑےسانپکیطرحرینگتاہواجھونپڑیکےاندر‬ ‫آگیا۔اندرآتےہیاُسنےآہستہسےکہا‪:‬‬ ‫”ٹام!میریامانتواپسکردو۔“‬ ‫”مگرچچا! ُتاُسےلےکرکیاکروگے؟“‬ ‫”میںیہاںسےبھاگرہاہوں۔لاؤمیریامانت“!‬ ‫ٹام جوتے میں سے دونوں ہیرے نکال کر چچا کو دینے ہی لگا تھا کہ باہر‬ ‫پہرےدارکیآوازانُسئیدی۔ٹاماوربلیکبرڈوہیںسہمکررہگئے۔وہ‬ ‫زمینپر ُتوںلیٹگئےجیسےانہیںسانپسونگھگیاہو۔پہرےدارکی‬ ‫‪98‬‬

‫آوازدورچلیگئی۔‬ ‫بلیکبرڈنےسرگوشیمیںکہا‪:‬‬ ‫”لاؤمیرےقیمتیہیرے۔جلدیکرو۔میرےپاساتناوقتنہیں۔“‬ ‫ٹامنےدونوںہیرےچچاکےحوالےکردیے۔بلیکبرڈنےہیرےاپنی‬ ‫جیبمیںرکھےاور ُاسیطرحرینگتاہواجھونپڑےسےباہرنکلگیا۔ٹام‬ ‫نےچچاکودیکھاکہوہجنگلکیطرفرینگرینگکرجارہاتھا۔تھوڑی ُدور‬ ‫جانےکےبعدوہراتکےاندھیرےمیں ُگمہوگیا۔ٹامجھونپڑیمیں‬ ‫لیٹکردیرتکچچاکےبارےمیںسوچتارہا۔اُسکے ِدلمیںخواہش‬ ‫پیداہوئیکہ ُاسےبھیچچاکےساتھہیبھاگجاناچاہئےتھا۔مگراب‬ ‫وقت ُ زگرگیاتھا۔‬ ‫بلیکبرڈراتکےاندھیرےمیںتھوڑی ُدورتکجنگلمیںرینگتاچلا‬ ‫‪99‬‬

‫گیا۔پھرجب ُاسےاحساسہواکہوہخطرےسےباہرنکلآیاہےتووہ ُاٹھا‬ ‫اور ُاسنےجنگلمیںایکطرفبےتحاشابھاگناشروعکردیا۔ساری‬ ‫راتوہجنگلمیںبھاگتارہااوروحشیحبشیوںسےکافی ُدورنکلآیا۔آخر‬ ‫وہتھکگیااورایکجگہبےجان چ ّپزکیطرحزمینپررِگگیااورلیٹکے‬ ‫لمبےلمبےسانسلینےلگا۔‬ ‫کافیدیربعدجباُسکےہوشوحواسٹھکانےآئےتووہاُٹھااورایک‬ ‫طرفکوروانہوگیا۔جسوقتحبُصکیروشنینمودارہوئیتووہایکایسے‬ ‫جنگلسے ُ زگررہاتھاجسکےگھنےدرختوںپرلمبیلمبیبیلیںلٹکرہی‬ ‫تھیںاوراِردرِگدبےشمارٹیلوںپرگہریسبزکائیاُگیہوئیتھی۔اُسےبڑی‬ ‫سخت پیاس لگ رہی تھی۔ وہ پانی کی تلاش میں ایک طرف گ ُھومنے لگا۔‬ ‫ُاسےایکبندر ِدکھائیدیاجواُسےدیکھکروُخوُخکرتاایکطرفبھاگ‬ ‫گیا۔بلیکبرڈکویقینہوگیاکہ ُادھرضرورپانیہوگا۔کیونکہبندرایسی‬ ‫‪100‬‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook