پیشانیسے ُاسکاخیرمقدمکیا۔وہکرسیپربیٹھاایکرجسٹرمیںھچُکلکھ رہاتھا۔بلیکبرڈکیآمدکےساتھہیاُسنےرجسٹربندکردیااور ُاٹھکر ہاتھملایا۔ ”تشریفرکھئےمسٹبلیکبرڈ۔“ ”شکریہکپتانصاحب“! بلیکبرڈسنہری چ ُبولدارحاشیےوالےصوفےپربیٹھگیا۔ کیبنکیگولآہنیڈھکنےوالیکھڑکیک ُھلیتھیجسمیںسےسمندرکی تازہاورٹھنڈیہوااندرداخلہورہیتھی۔کپتاننےگھنٹیبجائی۔نوکرکو چائےلانےکاکہااورخودمسٹبلیکبرڈکےپاسبیٹھکرباتیںکرنےلگا۔ بلیکبرڈنےمُشک زراکرکہا: ” ُ دخاوندکابڑاہیشکرہےکہجہازخیریتکےساتھکیپگڈہوپکے 51
خطرناکسمندرسےنکلگیا۔“ ”ہاںمسٹبلیکبرڈ،ہمیںہرحالتمیں ُخداکاشکراداکرناچاہیے۔آپ شایدپہلیبارمیرےجہازپرسفرکررہےہیں۔میںاِنسمندروںکاعادی ہوں۔“ ”سبھیمسافروںکوآپایسےماہراورتجربہکارکپتانپربڑافخرہے۔کسی مسافرنےبھیایکلمحےکےلیےپریشانیکااظہارنہیںکیا۔“ بلیکبرڈکپتانکیخوشامدکرکے ُاسےخوشکررہاتھا۔وگرنحقیقتیہ تھیکہجہازجبساحلیچٹانوںکےدرمیانسےگزررہاتھاتوسبسے زیادہوہیپریشانتھا۔ ”مسٹبلیکبرڈ!سمندرکاکوئیاعتبارنہیں۔یہایکتّبحمکرنےوالیماں کیطرحبھیہےاورایکظالم ُدشمنبھیہے۔“ 52
ہمیںسمندرسےزیادہکپتانکیشفقتپربھروسہہے۔“ بلیکبرڈنےمُشک زراکرکہا۔کپتاناپنیتعریفپرخوشہوا۔اتنےمیں خوشپوشبیراچاندیکےقیمتیسیٹمیںچائےلےکرآگیا۔کپتاننے چائےبنائیاوردونوںاِدھراُدھرکیباتیںکرنےلگے۔کھلیگولکھڑکی میںسےسمندرکیجانبسےہواآرہیتھی۔کپتانچائےکیدوسریپیالی بنارہاتھاکہاچانکوہیوںچونکاجیسےفضامیںھچُکسونگھرہاہو۔پھر ُاسکے چہرےپرایکتاثرپیداہوا۔بلیکبرڈنےبھیاستبدیلیکومحسوسکیا۔ ”خیریتتوہےکپتانصاحب؟“ ”فضامیںطوفانکیوُبہے۔“ اوراِسکےساتھہیجہازآہستہآہستہایکطرفکوڈولنےلگااورساتھ ہیکھڑکیمیںسےآتیہوئیدھوپغائبہوگئی۔بادلوںکاایکغلاف 53
ساسورجکےآگےآگیاتھا۔ ”شایدطوفانآرہاہے۔“اتناکہہکرکپتاناُٹھااوربلیکبرڈسےمعذرت کرکےکیبنسےباہرنکلگیا۔ 54
جہازڈوبگیا کپتانتیزیسےڈیکپرآگیا۔ اُس نے آسمان کی طرف نظریں اُٹھائیں۔ بادلوں کا ایک غلاف آہستہ آہستہآگےبڑھرہاتھا۔فضامیںایکخوفناکطوفانکےآثارتھے۔ہوا کیرفتارمیںبھیتیزیآگئیتھی۔ ُدوربادلوںمیںبجلیباربارچمکرہی تھی۔کپتاننےفوراً ُکُحدیاکہجہازکو۹۰ڈگریشمالمغربکیطرف 55
موڑدیاجائے۔جہازاِستیزیسےموڑاگیاکہاُسےجہازکےمسافروں نے بھی محسوس کیا۔ جہاز کے ملازم بڑی چابک دستی کے ساتھ ڈیک پر اِدھرسے ُادھربھاگنےلگےتھے۔مسافروںمیںبھیھچُکھچُکبےچینیکے اثرات پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ انہیں بار بار یہ وہم آ رہا تھا کہ انہوں نے جہاز پر سوار ہو کر سخت غَلَطی کی ہے۔ وہ جہاز پر ن ہی سوار ہوتے تو ااّھچ تھا مگر اب ھچُک نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اپنی لاکھوں کروڑوں روپےکیجائیدادکےساتھسمندرکےبیچمیںسفرکررہےتھےاورسمندر میںایکزبردستطوفانآنےوالاتھا۔ اب ہوا کی تیزی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آسمان کو بادلوں نے ڈھانپ لیا تھا۔بجلیچمکنےلگیتھی۔بادلگرجنےلگےتھے۔سمندرکےپانیمیںاونچی اونچیلہریں ُاٹھنےلگیتھیںاورجہازنےڈوبناشروعکردیاتھا۔کپتانباربار ُکُحدےرہاتھا۔اُسنےجہازکیرفتاربڑھادیتھی۔جہازپہلےسےزیادہ 56
رفتارکےساتھساحلسے ُدورہٹنےلگاتھا۔کپتانکاخیالتھاکہوہطوفان سےپہلےپہلےجہازکوساحلسےجسقدربھی ُدورلےجائےااّھچہے۔ کاش ُاسےخبرہوتیکہسمندرکےوسطمیںایکخوفناکطوفاناسکا انتظارکررہاہے۔ جوںجوںجہازلُُھکسمندرکیطرفبڑھرہاتھاسمندرکیموجیں چپزتی جا رہی تھیں۔ اب جہاز نے ایک کھلونے کی طرح لہروں پر ا ِدھر سے ُادھرڈولناشروعکردیاتھا۔کپتاننےاّلچکرکہا: ”جہازکو۷۰،ڈگریمشرقکیطرفموڑاجائے؟“ اوراِسنئے ُکُحکےساتھہیجہازنےلُُھکسمندرسےمنہموڑکرجنوبی افریقہ کے مغربی ساحل کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ کپتان نے لُ ُھک سمندرمیںجاکرلنگراندازہونےکاخیالترککردیاتھا۔اب ُاسکاخیال 57
تھاکہوہجتنیجلدیہوسکےساحلکےقریبپہنچکرکسیچٹانکےساتھ جہاز کو لنگر انداز کر دے اور کشتیوں کے ذریعے جتنا بھی ممکن ہو سکے لوگوں کے خزانے کو ساحل تک پہنچا دے۔ اُس کے سالہا سال کے تجربےنےبتادیاتھاکہیہطوفانموسمکاسبسےبڑاطوفانہےاورجہاز کوشدیدنقصانپہنچنےکاخطرہہے۔جہازآہستہآہستہساحلکیطرفبڑھ رہاتھا۔آسمانکوبادلوںنےڈھانپرکھاتھااور ُدورساحلکیسیاہلکیر ِدکھائیدےرہیتھی۔ مسافروںمیںاببےچینیُ ُھککرسامنےآگئیتھی۔امیرتاجراورمسافر بےحدپریشانہورہےتھے۔ ُانہیںاپنےبالوّچبںکیفکربھیتھیاور زیادہکروڑوںروپےکےزروجواہراتاورسونےچاندیکےخزانےکی فکرتھیجسےوہہندوستانسےلوٹکراپنےساتھلےجارہےتھے۔بلیک برڈپربھیپریشانیطاریتھیاوروہکبھیاپنےکیبنمیںآتااورکبھیڈیک 58
پرکھڑےہوکرسمندرمیں ُابھرتیہوئیبڑیبڑیلہروںکاجائزہلیتا۔ کپتان ا ِس وقت بے حد مصروف تھا۔ وگرن بلیک برڈ چاہتا تھا کہ کپتان سے مل کر طوفان کی ّدشت اور نوعیت کے بارے میں ھچُک دریافت کرے۔ویسےبلیکبرڈخودبھیاندازہلگاچکاتھاکہطوفانشدیدآرہاہے، اورجہازکوسختخطرہلاحقہے۔ ٹامجہازکےوسطمیںلنگرپھینکنےوالیمشینکےپاسکھڑاخوفزدہنگاہوں سےآہستہآہستہبڑھتےہوئےطوفانکودیکھرہاتھا۔ابسمندرمیںبڑی بڑیلہریںپیداہونےلگیتھیں۔یہموجیں ُدور ُدورسے ُامڈاُمڈکرآتیں اورجہازسےٹکراکراُسےکھلونےکیطرحپرےپھینکدیتیں۔بادلوں میںایکمہیبکڑکپیداہوئیاوراِسکےساتھہیموسلادھاربارش شروعہوگئی۔جہازکےملازمبھاگدوڑمیںلگےتھے۔پانیکیایکبہت اونچیلہر ُدورسےجھاگاُڑاتیہوئیآئیاوربڑےزورکےساتھجہازسے 59
ٹکراگئی۔ ُاسکیشدیدرّکٹسےجہازکھلونےکیطرح ُاچھلکرٹیڑھاہوگیا اورایکطرفکوج ُھکگیا۔عورتوںکےمنہسےبےا ّ اخرچیخیںنکل گئیں اورمسافروںکےچہرےزردپڑگئے۔کپتانجانبھیبےحد پریشانتھامگر ُاسنےاپنیپریشانیپرقابوپارکھاتھااوربڑیذےّمداری اورمحنتکےساتھجہازکوہر ُمُمطریقسےبچانےکیجدوجہدمیں مصروفتھا۔اپنیسمندریزندگیمیںوہکبھیاتناپریشاننہیںہواتھا۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ کپتان کو محسوس ہو رہا تھا کہ یہ طوفان بے حد خوفناک ہے۔ اِس سے بڑے طوفان سے اُسے اپنی زندگی میں کبھی واسطہنہیںپڑاتھا۔ ُاسنےاندرہیاندرتمامخلاصیووںاورملازموںکو ُکُحدےرکھاتھاکہ ُاسکےایکہیاشارےسےحفاظتیکشتیوںکوفور ًا سمندرمیں ُاتاردیاجائے۔ خلاصیووںنےجانبچانےوالیکشتیوںکےآدھےرےّسکھولرکھےتھے 60
اورکشتیاںجہازکےڈولنےکےساتھہیاِدھرسےاُدھرڈولرہیتھیں۔ مسافروں میں بدحواسی پھیل گئی تھی۔ ہر کوئی جان بچانے کے لیے حفاظتیتدابیرکےبارےمیںغورکرنےلگاتھا۔بادلزورزورسےگرج رہےتھے۔بجلیباربارکڑکرہیتھی۔بارشموسلادھارہورہیتھی۔ ہوا نے اب تیز آندھی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ طوفان کے شور میں مسافروںکیآوازیںدبگئیتھیں۔سمندرمیںزبردستسیلابآگیا تھا۔پہاڑپہاڑایسیلہریں ُدور ُدورسےآتیںاورجہازکواچھالکرپھینک دیتیں۔کپتانجہازکوبڑیلکشُمسےقابومیںکئےہوئےتھا۔ لیکن ُاسپریہک ُھلیحقیقتواضحہوگئیتھیکہابکوئیمعجزہرونماہوتووہ جہازکوساحلتکپہنچاسکتاہے۔وگرناِسخطرناکطوفانسےبچنکلنا محالنظرآتاہے۔ ُاسنےمسافروںکو ُکُحدیاکہوہسباپنےاپنے کیبنوںمیںچلےجائیںاورعرشےپراِدھر ُادھربھاگدوڑکراسکےکام 61
میںرکاوٹنڈالیں۔ ”آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ سمندر کے اِس ےّصح میں اکثر طوفانآیاکرتےہیں۔آپبالکلپریشاننہوں۔ ُ دخاوندنےچاہاتوہم بہتجلدساحلپرپہنچجائیںگے۔“ مگرہوتایہتھاکہجہازجتناساحلکےقریبہوتا،سمندرکیطوفانیلہریں ُاسےاتناہیساحلسے ُدورلےجارہیتھیں۔کپتانکےباربار ُکُحدینے پرمسافرعرشےسےہٹکراپنےاپنےکیبنوںمیںچلےگئے۔وہبےحد پریشانتھےاوربعضتوگھٹنوںکےبلج ُھککر ُدعائیںمانگرہےتھے۔ عورتوں نے وّچبں کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔ وّچبں کے چہروں پر بھی ہوائیاں ُاڑرہیتھیں۔انہوںنےروناشروعکردیاتھااورمائیںانہیں پُچکرانےکیناکامکوششکررہیتھیں۔بلیکبرڈبھیاپنےکیبنمیں پریشانیکےعالممیںبسترپر ٹ ال ُخداسےدعائیںمانگرہاتھا۔ٹامکونےمیں 62
رِگےہوئےبرتنوںکو ُاٹھااُٹھاکرالماریمیںبندکررہاتھا۔اُسےبھیرّکچ آرہےتھے۔وہبڑیلکشُمسےاپنےآپکوسنبھالےہوئےتھا۔بلیک برڈنےچیخکرکہا: ”الماریسےجُُمبرانڈینکالکردو۔میراسررّکچوںسےپاگلہواجارہا ہے۔“ ٹامنےالماریکھولکربرانڈینکالیاوربڑیلکشُمسےایکگلاسمیں ڈالکراُسےدی۔بلیکبرڈایکہیسانسمیںساراگلاسپیگیا۔پھروہ اُٹھکرکیبنمیںاِدھراُدھرٹہلنےلگا۔اِسطرحبھی ُاسےچیننآیاتووہ بسترپر ُاکڑوںبیٹھگیا۔ ”کمبختاِسطوفانکوبھیابہیآناتھا۔“ ٹامنےچہرےپرزبردستیشگفتگیپیداکرتےہوئےکہا: 63
”سرا گھبرائیے نہیں۔ کپتان صاحب بڑے لائق آدمی ہیں۔ وہ جہاز کو طوفانمیںسےنکالکرلےجائیںگے۔“ ”یہسبجھوٹہے۔یہطوفانکپتانکےبسکاروگنہیںہے۔“ پھربلیکبرڈنےاچانکٹامکیطرفدیکھکرکہا: ”اِدھرآؤٹام۔“ ٹاماُسکےقریبآگیا۔بلیکبرڈنے ُاسکیآنکھوںمیںآنکھیںڈال کرکہا: ”ٹاماگرجہازڈوبگیاتوہمکہاںجائیںگے؟“ ٹامنےعرشےپربندھیہوئیکشتیاںدیکھرکھیتھیں۔اُسنےجھٹکہا کہہمجانبچانےوالیکشتیوںمیںسوارہوکرساحلپرپہنچجائیںگے۔ لیکنبلیکبرڈکومعلومتھاکہجہازپرمسافروںکیتعداداتنیزیادہہےکہ 64
سارےکےسارےمسافرکشتیوںمیںنآسکیںگے۔پھربھی ُاسنے سوچا کہ ھچُک بھی ہو ،خواہ اُسے ٹام کو یہیں چھوڑنا پڑے۔ وہ کسی ن کسی طرح کشتی میں سوار ہو کر ساحل تک پہنچ جائے گا۔ چپزے ہوئے طوفانمیںاُلجھکرکشتیڈوبگئیتووہکیاکرےگا؟ ُاسکیتوساریرمُعکی کمائی،لعلاورقیمتییاقوت ُاسکےساتھہیسمندرمیںڈوبجائیںگے۔ پھراُسنےخیالہیخیالمیںدیکھاکہاُسکیکشتیایکچٹانسےٹکرا کرپاشپاشہوگئیہےاوروہپانیمیںغوطےکھارہاتھا۔بلیکبرڈکاسانس ُرکنےلگا۔اُسنےٹامکےشانوںکوجھنجوڑکرکہا: ”نہیںنہیں،ٹام!ہمزندہرہیںگے۔ہمسمندرمیںنہیںڈوبیںگے۔ہم سمندرمیںنہیںڈوبیںگے۔“ اچانکبادلزورسےگرجااورایکپہاڑایسیلہربڑےقیامتخیزشورکے 65
ساتھجہاز سےٹکرائی اورجہاز ایک طرفکو ج ُھکگیا۔کیبن کا سارا ساماناوربرتنفرشپررِگپڑے۔ٹامنےکرسیکوتھاملیا۔بلیکبرڈکے ُُمسےچیخنکلگئی۔دوسریلہرآئیاورجہازکودوسریطرف ُاچھالکر نکل گئی۔ اب جہاز پوری طرح طوفان کے خونی پنجے میں جکڑا گیا تھا۔ عرشےپرمسافرپریشانیکےعالممیںنکلآئےتھے۔کپتانبرجپرکھڑا چیخچیخکرملازموںکو ُکُحدےرہاتھا۔سبسےبڑیپریشان ُکباتیہ تھیکہجہازبڑیتیزیکےساتھبھٹکتاہوا ُانساحلیاّٹچنوںکیطرف بڑھرہاتھاجنسےٹکراکرکئیجہازتباہہوگئےتھے۔ کپتانبڑیّدشتسےکوششکررہاتھاکہکسیطرحجہازاُنسمندری اّٹچنوںکےساتھٹکرانےسےبچجائےلیکنطوفانکازوراِسقدرزیادہ تھا کہ وہ بھی جہاز کے ساتھ بے بس ہو گیا تھا۔ موت کے خوف سے مسافروںکےچہرےزردہوگئےتھے۔انہیںموتبالکلسامنےکھڑی 66
نظرآرہیتھی۔اچانکایکبہتبڑیلہراُٹھیاورجہازکےساتھاِس زورسےٹکرائیکہجہازایکطرفکوتیزیسےگھومگیااوراسکاایک ہّصحسمندرمیںڈوبگیا۔ ”کشتیاںپانیمیںاُتاردو۔جہازچھوڑدو۔“ کپتانکےاِس ُکُحکےساتھہیہرطرفبھگدڑمچگئی۔کشتیاںپانیمیں اُتاردیگئیں،اورگھبرائےہوئےمسافروںنے ُانمیںچھلانگیںلگانی شروعکردیں۔کئیمسافرسمندرمیںڈوبکرہلاکہوگئے۔جہازکے مستولٹوٹکررِگپڑےاوراُسکےنیچےدبکرکئیمسافرمرگئے۔ہر طرفایکقیامتبرپاہوگئی۔جہازتیزیکےساتھسمندریاّٹچنوںکی طرفبڑھرہاتھا۔اورپھروہیہواجسکاکپتانکوڈرتھا۔دیکھتےہیدیکھتے جہازایکبہتبڑیچٹانکےساتھٹکراگیا۔ایکزورداردھماکہہوااور جہانکےدوٹکڑےہوگئے۔مسافرکھلونوںکیطرحسمندرمیںگرنے 67
اورڈوبنےلگے۔چیخوپکارسےایککہراممچگیا۔جہازدیکھتےدیکھتےڈوب گیا۔ ایسٹانڈیاکمپنیکےاسقدرعظیمال ّش ااناورمضبوطجہازکوسمندرکی بڑیبڑیموجوںنےت ِگللیا۔ابسطحسمندرپرصرفدوتینکشتیاں تھیںجوطوفانیموجوںپرڈولتیہوئیںساحلکیطرفبڑھرہیتھیں۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو کشتیاں ایک چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئیں۔ ان کشتیوں کے مسافر سب کی آنکھوں کے سامنے سمندر کی لہروںمیںڈوبگئے۔کوئیایکبھیجاننبچاسکا۔ صرفایککشتیبچسکیتھیجسمیںجہازکاکپتان،بلیکبرڈ،ٹام،ھچُک نوجوان عورتیںاورمردسوارتھے۔طوفان کیّدشتویسےہیتھی۔ بارشموسلادھارہورہیتھی۔بادلزورزورسےگرجرہاتھا۔بجلیچمک رہیتھی۔سمندرمیں ُاٹھتیہوئیبڑیبڑیموجیںکشتیکوایکتنکےکی 68
طرح بہاتی ہوئیں ساحل کی طرف لے جا رہی تھیں۔ کپتان کشتی میں کھڑاتھااوردوخلاصیچپوؤںکیمددسےبڑیمشکلسےاسےساحلکی طرفلےجانےاورچٹانوںسےبچانےکیسرتوڑکوششکررہےتھے۔ جب کوئی چٹان کشتی کے قریب آتی تو عورتوں کی چیخیں نکل جاتیں۔ ایکبوڑھامسافراپنےآپکوسنبھالتےسنبھالتےسمندرمیںرِگپڑا۔اور طوفانیلہریںاُسے ُدورلےگئیں۔کشتیمیںبیٹھاہواکوئیشخصبھی ُاسے ن بچا سکا۔ مسافر ہاتھ باندھے آسمان کی طرف ُُم کئے ُدعاؤں میں مصروفتھے۔ےّچبرورہےتھے۔عورتوںکےچہروںپرموتکیزردی چھائیہوئیتھی۔کپتانکاحوصلہبلندتھا۔جہازکےغرقہونےکا ُاسےبے حدصدمہتھا۔سبسےبڑھکرمسافروںکویہصدمہتھاکہ ُانکے کروڑوںروپےکیمالیتکیجائیدادجہازکےساتھہیسمندرمیںغرقہو گئیتھی۔ابساحلبہتقریبآگیاتھا۔ایکبہتبڑیلہرنےاُچھل 69
کرکشتیکوساحلپرلاپھینکا۔مسافرکشتیسےنکلکرساحلکیریتپررِگ پڑے۔ 70
لالچرُبیبلاہے افریقہکایہساحلبےآبادتھا۔ کپتاننےساحلپرآتےہیسبسےپہلایہکامکیاکہتماممسافروںکو ایکجگہاکٹھاکیا۔انہیںسرکاریطورپراطلاعدیکہجہازڈیونشائرجو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت تھا ،طوفان میں گِھز کر ڈوب گیا ہے۔ مسافروںکیچیخیںنکلگئیں۔ 71
”ہماراسامانکہاںہے؟“ ”ہمارےجواہراتکہاںہیں؟“ ”ہماراخزانکہاںہے؟“ کپتاننےبڑیلکشُمسےلوگوںکوپُچکرایا۔ ”جُُمبڑاافسوسہےکہآپبجائے ُ دخاکاشکراداکرنےکےکہآپکی جانیں بچ گئی ہیں ،آپ ابھی تک دولت کے پیچھے پڑے ہیں۔ آپ کی ساریکیساریدولتجہازکے ِنچلےتہہخانےمیںمحفوظہے۔ہمجلدی ہی کسیبڑےشہرپہنچ کرکمپنی کیطرفسےغوطہخوروںکیخدمات حاصل کریں گے اور سارے خزانے کو سمندر کی تہہ سے نکال لائیں گے۔آپکیدولتبہتجلدآپکوواپسملجائےگی۔“ لیکنمسافروںکومعلومتھاکہجودولتسمندرکیتہہمیںایکبارغرق 72
ہو جائے وہ دوبارہ ہاتھ نہیں آیا کرتی۔ ا ِن تمام پریشان حال مسافروں میںاگرکوئیمسافرمطمئنتھاتووہبلیکبرڈتھا۔اُسکیدولتاُسکیکمر کےساتھلپٹیہوئیاُسکےپاسموجودتھی۔یہ ُاسکیعقلمندیتھی کہ اُس نے زیادہ لالچ نہیں کیا تھا وگرن ُاس کا بھی حشر وہی ہوتا جو دوسرےمسافروںکاہوا۔پھربھیبلیکبرڈاپنیخوشیکوجچ ُھیچاائےہوئے تھااوردوسرےمسافروںکےساتھوہبھیجھوٹموٹکاپریشانبناہوا تھا۔ شامہونےسےپہلےپہلےکپتانتماممسافروںکولےکرساحلکےقریب ہیجنگلمیںآگیا۔یہاں ُاسنےدوسرےجہازیوںکےساتھملکر درختوںکیشاخیںکاٹکرعورتوںاوروّچبںکےلیےالگاورمردوں کےلیےالگجھونپڑیاںبناڈالیں۔پھرانہوںنےوہاںآگکابہتبڑا الاؤروشنکردیا۔درختوںسےھچُکجنگلیپھلتوڑکرانہوںنےپیٹکی 73
آگ بجھائی۔ کپتان بلیک برڈ کے ساتھ آگ کے پاس بیٹھ کر ُگفت گو کرنےلگا۔ ”اِسجنگلمیںصرفاتنےپھلموجودہیںکہہملوگبڑیلکشُمسے ایک ہفتہ یہاں گزارہ کر سکتے ہیں۔ اِس کے بعد ہمیں یہاں ھچُک بھی کھانےکونملےگا۔“ ”یہتوٹھیکہےمگرسوالیہپیداہوتاہےکہہمیہاںسےکسطرفکو جائیں۔یہاںسےمغربیافریقہکاقریبیشہرکتنیدورہوگا؟“ بلیک برڈ کے ا ِس سوال پر کپتان نے جیب سے ایک مومی نقشہ نکال کر زمینپرپھیلادیااوراُسےغورسےدیکھنےلگا۔ ”اِسنقشےکیروسےہمبریڈسٹونکےعلاقےمیںہیں۔یہاںسےقریبی شہر صرف ”کیپ ٹاؤن“ ہے جو یہاں سے سترہ سو میل کے فاصلے پر 74
ہے۔“ ” ُخدایا!اتنی ُدور؟“ بلیکبرڈکامنہحیرتسےُ ُھکگیا۔ ”کپتانصاحب!یہسترہسومیلکافاصلہہملوگپیدلکیسےطےکریں گے۔اورپھراِنوّچبںاورعورتوںکاکیاحشرہوگا؟آپکاکیاخیالہےکہ ہماِندشوارگزارجنگلوںمیںعورتوںاوروّچبںکےساتھاتنالمبافاصلہ طےکرسکیںگے؟اورپھرہمیںکوئیخبرنہیںراستےمیںکیسےکیسےمردم خودقبیلےآبادہیں۔“ کپتانگہریسوچمیںڈوبگیا۔ ”آپکااندیشہبجاہےمسٹبلیکبرڈ۔لیکناِسکےسوااورچارہبھیکوئی نہیں۔اگرہمنےاسیجگہٹھہرےرہنےکافیصلکیاتوہمسبایک ِدن 75
بھوکاورپیاسسےدمتوڑکرمرجائیںگے۔“ ”مگرسوالیہہےکہہمسفرکسطرحکریںگے؟“ ”پیدلچلنےکےسوااورکوئیچارہنہیں۔“ بلیکبرڈنےپوچھا: ”کیاایسانہیںہوسکتاکہہمکشتیمیںسوارہوکرساحلکےساتھساتھ اوپرکیطرفچلناشروعکردیں؟“ کپتاننےماتھےپرہاتھرکھکرکہا: ”بلیکبرڈصاحب!آپکوشایدمعلومنہیںکہکشتیمیںسوارہوکرلُ ُھک سمندر کی طرف جانا آسان ہے لیکن ساحل کے ساتھ ساتھ رِتچھی لہروںکاسینہچیرکرچلناناممکناتمیںسےہے۔ایسےمخالف ُرخکےسفر میںتوبھاپکاانجنبھیجوابدےجاتاہے۔“ 76
”پھرآپہمیںکیامشورہدیتےہیںکپتانصاحب؟“ کپتانسوچنےلگا۔ ُاسنےٹوپیاُتارکراپنےبالک ُھچاائےاوردوبارہسرپر ٹوپیاوڑھتےہوئےبولا: ”میراخیالہےکہہمابھییہاںدوایکروزآرامکرتےہیں۔اتنیدیر میںشایدکوئیجہازاِدھرسے ُگزرے۔ہمدھواں ُاڑاکر ُاسےاپنیطرف متوہّجکرسکتےہیں۔“ بلیکبرڈنےسوالکیا: ”اوراگراِسدورانمیںکوئیبھیجہازاِدھرسےنگزراتواُسصورت میںکیاہوگا؟“ ” ُاسصورتمیںہمیںایکہفتےکےبعدیہاںسےکوچکرکےکسیایسے جنگلمیںپڑاؤڈالناہوگاجہاںہمیںجنگلیپھلاورپانیملسکے۔“ 77
”کپتانصاحب!آپتوایسیباتیںکررہےہیںجیسےہملوگجنگلمیں ِچب ِبمنانےآئےہیں۔آپکاخیالہےکہہماِنکمزورعورتوںاور وّچبںکےساتھاِسطرحجنگلمیںزیادہدیرزندہرہسکیںگے؟اورپھر کیا ا ِن جنگلوں میں درندے ہمیں زندہ چھوڑیں گے؟ اور پھر آپ ا ِس حقیقتسےآنکھیںکیوںبندکررہےہیںکہجنوبیافریقہکےیہعلاقے آدمخورقبیلوںسےبھرےپڑےہیں۔“ کپتاننےایکگہراسانسلیااوربولا: ”مسٹ بلیک برڈ! جُُم خوشی ہے کہ آپ بہتزیادہ حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں۔ہمیں اِسی انداز میں سوچنا ہوگا۔جو ھچُک بھیہے ہمارے سامنے ہے۔ہماریراہمیں بڑیمُصییییںاور پریشانیاںہیںلیکناِن سب کے باوجود ہمیں مسافروں کی جان بچانی ہے اور انہیں کسی ن کسی طرححفاظتسےکیپٹاؤنتکپہنچاناہے۔“ 78
”مگرکیسے؟کیسےکپتانصاحب؟“ ”اپنیہمّتہے۔ ُخداپربھروسےسے۔“ کپتانکےاِسجوابکےبعدبلیکبرڈکوئیسوالنکرسکا۔اصلباتیہ تھیکہبلیکبرڈکومسافروںکیجانکیاتنیفکرنہیںتھیجتنیفکر ُاسےیہ تھیکہکسیطرحوہاپنیجاناوراپنیدولتبچاکرافریقہکےمہذّبشہر کیپٹاؤنپہنچجائے۔تاکہوہاںسےکسیجہازمیںسوارہوکرلندنپہنچ سکے۔ لیکنابھیلندناورکیپٹاؤنکاشہرایکخوابمعلومہورہاتھا۔انمول لعلاورلاکھوںروپےکیمالیتکایاقوتبلیکبرڈکیکمرکےساتھبندھا ہواتھا۔اسےتشلّیبھیتھیاورغمبھیتھا۔پریشانیبھیتھیکہکہیںکوئی مسافرراتوںرات ُاسےہلاککرکےاُسکیکمرکےساتھلپٹیہوئی ُاس 79
کیدولتچھینکرنلےجائے۔پھروہسوچتاکہاُسنےتوکسیکوبھیاپنی جچ ُھ چتیہوئیدولتکےبارےمیںنہیںبتایا۔پھراپنےآپہیاسےخیال آیاکہکیاخبرکسینے ُمزیکردیہو۔کیاخبرانہیمسافروںمیںکسیکو علم ہو کہ بلیک برڈ کی ساری کی ساری دولت محفوظ ہے جب کہ اُن کی زندگی بھر کی پونجی سمندر میں غرق ہو گئی ہے۔ یہ تو بہت رُبی بات ہو گی۔ کپتاننےالاؤمیںلکڑیڈالتےہوئےکہا۔ ”بلیک برڈ صاحب! اب آپ بھی آرام کریں۔ حبُص سوچیں گے کہ اگلا قدمکیا ُاٹھاناہے۔“ ”جُُمتونیندنہیںآرہیکپتانصاحب۔“ کپتاننےذراسامُشک زراکرکہا: 80
”آپتواِسجہازکےواحدمسافرہیںجسکاھچُکبھینقصاننہیںہوا۔ آپ کو تو نیند آ جانی چاہیے۔ نیندیں تو ُان مسافروں کی ُاڑ چکی ہیں جو ہندوستانسےکروڑوںروپےکیدولتلوٹکھسوٹکرولایتلےجا رہےتھے۔“ بلیکبرڈنےکہا: ”آپکافرمانابجاہےکپتانصاحب! ُ دخاوندکاشکرہےکہمیںنےلالچ نہیںکیا۔اورمدراسسےصرفیہتینکپڑےپہنکرچلاتھا۔پھربھی جباِنعورتوںاوروّچبںکوپریشاندیکھتاہوںتو ِدلخونکےآنسو رونےلگتاہے۔“ ”یہ ا ِس لیے کہ آپ ایک نرم دل دین دار انسان ہیں۔ کاش جہاز کے سبھی مسافر آپ ہی کی طرح ہوتے۔ میرا خیال ہے شاید پھر ہمارا جہاز 81
کبھیغرقنہوتا۔آپکاکیاخیالہےبلیکبرڈصاحب؟“ بلیکبرڈنےچونککرکہا: ”آپٹھیکفرمارہےہیں۔بالکلٹھیکفرمارہےہیں۔ااّھچ۔شببخیر۔ میراخیالہےہمیںسونےکیکوششکرنیچاہیے۔“ ” ُخداحافظ“! کپتانوہیںزمینپرلیٹگیااوربہتجلدوہخرّاٹےلینےلگا۔لیکنبلیک برڈ کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ ٹام ذرا پرے الاؤ کے پاس بیٹھا سو رہا تھا۔ دوسریجانبجھونپڑوںمیںعورتیںاورےّچببھیتھوڑابہتکھاپیکر ابآرامکررہےتھے۔مردوںکےجھونپڑوںمیںمسافرنہیںسوئے تھے۔ ُادھرسےتیزتیزباتیںکرنے،موسماورطوفانکوکوسنے،کپتانکو رُبابھلاکہنےکیآوازمیںآرہیتھیں۔ 82
دومسافرتواِسصدمےسےہیمرگئےکہاُنکیدولتسمندرمیںغرق ہوگئیہے۔وہکشتیمیںحفاظتکےساتھساحلپرپہنچگئےتھے۔مگر جبکپتاننےاعلانکیاکہجہازغرقہوگیاہےتووہ ِدلکوپکڑکرایسے رِگےکہپھرن ُاٹھسکے۔ہائےریدولت! ُتونےکتنےانسانوںکوموت کےگھاٹاُتاردیا۔انسانسونےکیتلاشمیںنکلےاورآخرخاکمیںمل جائے۔سوناتونملسکالیکناپنیزندگیسےہاتھدھوبیٹھے،دانالوگوںنے سچ فرمایا ہے کہ انسان کو ُدنیا میں رہ کر نیک اور سادہ زندگی بسر کرنی چاہیے،دولتکالالچکبھینہیںکرناچاہیے۔اگردولتہی ُدنیامیںسب ھچُکہوتیتواللہکےنیکبندےاولیااللہاوربزرگا ِندیناورنبی،سارے کے سارے دولت مند ہوتے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ا ِن لوگوں نے بڑیہیسادہزندگیبسرکی،ہمیشہسچبولا۔انسانوںکے ُدکھدردمیںکام آئے۔ ُ دخاکویادرکھااوریوںرہتی ُدنیاتکاپنانامروشنکرگئے۔مگرجو 83
لوگشیطانکےبہکانےمیںآجاتےہیںوہدولتکالالچکرتےہیںاور دولتکیخاطررُبےسےرُباکامکرکےدوزخمیںچلےجاتےہیں۔ایسے لوگوںکیزندگیبھیدوزخہیہوتیہے۔انہیںن ِدنکاچیننصیبہوتا ہے ن رات کا آرام۔ یہی حال ڈوبے ہوئے جہاز کے مسافروں کا تھا جو افریقہکےخوفناکجنگلمیںبےیارومددگارپڑےاپنیدولتکویادکر کےرورہےتھے۔ 84
بلیکبرڈکیموت دوسرے ِدنموسمخوشگوارہوگیا۔ آسمانپرسےبادلوںکاغلافہٹگیااورسورجچمکنےلگا۔طوفان ُگزر جانےکےبعدسمندربھیرُپسکونہوگیاتھا۔ایسےلگتاتھاجیسےکبھیکوئی طوفاننہیںآیاتھا۔ڈیونشائرڈوب ُچ اچتھا۔جہازساحلسےپندرہمیل کےفاصلےپرسمندرکیتہہمیںاّٹچنوںمیںٹوٹپھوٹکرپھنساہواتھا۔ 85
خزانے کے کمرے کا لوہے کا دروازہ دھماکے سے ٹوٹ گیا تھا اور سارا سونا ،جواہرات کے صندُوقاور تاج و تختِ طاؤسسمندر کی تہہ کے ساتھ چ ّپزوںمیںپڑاتھا۔اِسخزانےکےمالکمسافرساحلکےجنگل میں پریشان حال بیٹھے اپنی قسمت کو رو رہے تھے۔ کپتان اور بلیک برڈ صلاحمشورےکےبعدوہاںسےوُکچکرنےکیاّیتریاںکررہےتھے۔ کپتاننےاِعلانکردیاتھاکہہملوگجنگلجنگلکیپٹاؤنکا ُرخکریں گےجویہاںسےسترہسومیلکےفاصلےپرہے۔کسیمسافرکویقیننہیں تھاکہوہخیریتکےساتھمنزلپرپہنچجائےگا۔دولتتو ُانکیسمندر میں غرق ہوگئی تھی۔ اب انہیں اپنیزندگی کیبھی اُ ّ دم نہیںتھی۔ عورتوںاوروّچبںکاتورُباحالہورہاتھا۔کپتاننےانہیںبےحدتشلّیدی تھی۔مگرسوائےبلیکبرڈکےایکبھیمسافرایسانہیںتھاجسکے ِدل میںاُ ّمدکیایککرنبھیروشنہو۔بلیکبرڈ ِدلمیںمطمئنتھا۔اِس 86
اّکمراوروُخدغرضشخصنے ِدلمیںسوچرکھاتھاکہوہہرقیمتپراپنی جان اور دولت بچائے گا۔ اِس مقصد کے لیے اگر اُسے سارے مسافروںکوقتلبھیکرناپڑگیاتووہاِسسےبھیدریغنہیںکرےگا۔ حقیقت میں بلیک برڈ کو دولت کی ہوس نے انسان سے جانور بنا دیا تھا۔ اُسکے ِدلمیںتواِسقسمکےظالماناِرادےتھےمگردُقرتنے ُاس کےبارےمیںھچُکاورہیفیصلکررکھاتھا۔ دوپہرکےوقتلوگوںنےجنگلسےھچُکپھلتوڑےاورکھاپیکروہاں سےوُکچکرنےکیفکرمیںلگےتھےکہاچانکانہیں ُدورسےڈھولکی آوازانُسئیدی۔سبکےکانکھڑےہوگئے۔ڈھولکیآوازجنگلکے درمیان سے آ رہی تھی۔ کپتان نے موقع کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئےفور ًا ُکُحدیاکہعورتوںاوروّچبںکوجھونپڑیوںمیںجچ ُھیچاادیاجائے۔ بلیکبرڈبھیپریشانہوگیا۔ 87
”کپتان!آپکاکیاخیالہے۔یہڈھولکیآوازکیاہے؟“ کپتاننےگہراسانسبھرکرکہا: ”اِسکاجوابسوائےاِسکےاورھچُکنہیںکہجنگلیلوگوںکوہماریآمد کاپتہچلگیاہےاوروہہماریتلاشمیںاِدھرآرہےہیں۔“ ”کیایہلوگہمیںہلاککردیںگے؟“ ”میراخیالہےکہوہایساہیکریںگے۔“ ”میرے ُخدا؟“ بلیکبرڈکا ُاوپرکاسانساوپراورنیچےکاسانسنیچےرہگیا۔اسےاپنیموت آنکھوںکےسامنےناچتینظرآئی۔ ”یہتوبہترُباہوگاکپتانصاحب۔“ 88
”پہلےہمارےساتھکیاااّھچہورہاہےمسٹبلیکبرڈ!ہماراجہاز ُڈوب ُچ اچ ہے۔ ہم جنگل میں اکیلے ہیں۔ ہمیں ہر مُصییت کے لیے اّیتر رہنا چاہئے۔“ ”مگرہمنہتےہیں۔ہمجنگلیوںکااقُمبلہکیسےکرسکیںگے؟“ ”ہماقُمبلہتوکسیصورتمیںنہیںکرسکتے۔“ ”توپھر۔کیاہمہلاککردیےجائیںگے؟“ ”ہماُنسےباتچیتکرنےکیکوششکریںگے۔“ ”کپتانصاحب!وہوحشیہیں۔ہماُنکیزبان بھینہیںجانتے۔بھلا اُنہیںکیاضرورتپڑیہےکہہمپرحملہکریں۔جیساکہہمنےنُسرکھا ہے ہمارے ساتھ ویسا ہی ہو گا۔ یہ جنگلی ہماری عورتوں کو اغوا کر لیں گے۔وّچبںاورآدمیوںکومارڈالیںگےاوربس۔“ 89
”ہمیں ُخداسے ُدعامانگنیچاہیے۔“ وحشیوںکےڈھولکیآوازابقریبسےقریبہورہیتھی۔اور ُان کے جنگلی نعروں کی آوازیں بھی ساتھ ہی انُسئی دینے لگی تھیں۔ مسافروں کا خوف کے مارے رُبا حال ہو رہا تھا۔ انہوں نے نیم رُمدہ عورتوںاوروّچبںکوجھونپڑیوںمیںجچ ُھیچااکراُوپردرختوںکیشاخیںڈال دیتھیں۔ابھیوہسوچہیرہےتھےکہجنگلیوںکااقُمبلہکیونکہکیاجائے کہ بے شمار تیر اُن کے درمیان آ کر زمین پر گڑ گئے۔ بلیک برڈ کے ہونٹوںسےچیخنکلگئی۔وحشیجنگلیچیختےاّلِچتے ُانکےقریبپہنچگئے تھے۔بلیکبرڈنےٹامکوپکڑااورگھسیٹتاہواایکطرفلےگیا۔یہاں جھاڑیوںکیاوٹتھی۔اُسنےجھنجھوڑکرکہا: ”سنوٹام!میریایکامانتاپنےپاسرکھو۔ہوسکتاہےجنگلیتمہیںہّچب سمجھکرچھوڑدیں۔“ 90
اتناکہہکربلیکبرڈنےکمرپرسےپٹکا ُاتارکرگتھلینکالیاوراُسمیںسے قیمتیلعلاوریاقوتنکالکرٹامکودیتےہوئےکہا: ”یہدونوںہیرےمیریامانتہےجوتمہارےپاسرہےگی۔اِسےاپنے جوتوںمیںجچ ُھیچاالو۔خبردارکسیقیمتپربھیاِسےباہرمتنکالنا۔جلدی سےابانہیںجچ ُھیچاالو۔“ ٹامبےچارہحیرانہیرہگیاکہ ُاسکےچچاکےپاساتنےقیمتیہیرے کہاںسےآگئے۔اُسےتویہخیالتھاکہاُسکاچچاتینکپڑوںمیںسفرکر رہاہے۔مگریہوقتسوچنےاورغورکرنےکانہیںتھا۔وحشیسرپرآن پہنچےتھے۔ٹامنےفور ًاہیرےلےکرانہیںاپنےجوتوںمیںجچ ُھیچاالیا۔ ”اگرانہوںنےمیریتلاشیلیتوکیاہوگا؟“ بلیکبرڈنےقرًابیچیخکرکہا: 91
”ایسانہیںہوگا۔کبھینہیںہوگا۔وہتمہاریتلاشینہیںلیںگے۔“ اچانکچھساتجنگلیوحشیاسکےاردگردآکرکھڑےہوگئے۔انہوں نے دونوں کو گرفتار کر لیا اور جھاڑیوں سے باہر لے آئے۔ اُدھر دوسرے حبشی جنگلی بھی موجود تھے۔ انہوں نے سارے مسافروں کو کپتانسمیتگرفتارکرلیاتھا۔وحشیوںنےجھونپڑیوںمیںسےعورتوں اوروّچبںکوبھینکاللیاتھا۔ےّچبرورہےتھےاورعورتوںکےچہرےپر موتکیزردیتھی۔ایکمسافرنےاونچیآوازمیںچیخکرحبشیسےھچُک کہناچاہا۔اُسظالمنےپلکجھپکنےمیںنیزہ ُاسکےسینےمیںگھونپدیا۔ مسافروہیںتڑپتڑپکرٹھنڈاہوگیا۔باقیمسافرسہمگئے۔ جنگلیحبشیسارےمردوںاورعورتوںکوگرفتارکرکےجنگلمیںاپنے قبیلےکیجھونپڑیوںکیطرفچلپڑے۔یہجھونپڑیاںکافی ُدورجنگل میںایکجگہبنیتھیں۔یہاںجنگلیوںکےسردارنےاپنےجھونپڑے 92
سےنکلکرقیدیوںکودیکھااور ُانعورتوںکودیکھکراپنےزردزرددانت نکالکرہنسنےلگا۔ ُاسنےہاتھسےاِشارہکیا۔جنگلیوںنےفوراًساریکی ساری عورتوں کو الگ کر کے ایک جھونپڑی میں بند کر دیا۔ سردار نے دوسرےہاتھسےاِشارہکیاتوحبشیوحشیوںنےمردوںکاقت ِلعامکرنا شروعکردیا۔دیکھتےدیکھتےانہوںنےدسبارہتاجروںکےسینوںمیں نیزےگھونپدیتے،ہرطرفہاہاکارمچگئی۔لاشیںتڑپنےلگیں۔کپتان نےہاتھآسمانکیطرفاُٹھاکرھچُککہا۔بلیکبرڈدوزانوہوکرزمینپرگر پڑا۔حبشیسردارنےہاتھ ُاوپراُٹھایا۔قتلِعام ُرکگیا۔پھر ُاسکے ُکُح سےتمامباقیمسافروںکوایکجھونپڑےمیںقیدکرکےڈالدیاگیا۔ یہسارےکاسارادردناکحادثہاتنیجلدیہوگیاکہکپتانکےہوشو حواس ُگمہوکررہگئے۔اُسنےبڑےبڑےسمندریطوفانوںکااقُمبلہ کیاتھااورکبھیپریشاننہیںہواتھا۔لیکناِتنےسارےآدمیوںکوبیک 93
وقتقتلہوتےاورخاکوخونمیںتڑپتےدیکھکروہبھیخوفزدہہوکررہ گیا۔بلیکبرڈکابھیدہشتسےچھوٹاسامنہنکلآیاتھا۔ٹاموّچبںکے ساتھالگقیدکردیاگیاتھا۔بلیکبرڈکواپنےہیروںکاغمکھائےجارہاتھا۔ وہاِسخیالسےپچھتانےلگاکہاُسنےناحقٹامکوہیرےدےدیےمگر ابکیاہوسکتاتھا۔ ُاسےاتنامعلومتھاکہاِنوحشیوںسےاباُسکی جاننہیںبچسکتی۔یہآدمخورسارےمردوںاوروّچبںکوقتلکرکے عورتوںکےساتھشادیاںکرلیںگے۔ابوہسوچرہاتھاکہباقیلوگ اگرمرتےہیںتومریںلیکن ُاسےکسیطرحوہاںسےجانبچاکرنکل بھاگناچاہیے۔کپتاناُسکےپاسہیزمینپربیٹھاتھا۔ ”کپتانصاحب!ابکیاہوگا؟“ کپتاننےٹھنڈاسانسبھرکرکہا: 94
”وہیجومیری،آپکیاوراُنسبلوگوںکیقسمتمیںلکھاہے۔“ ”قسمت تو ایّھچ نہیں ہماری۔ اگر قسمت ساتھ دیتی تو ہمارا جہاز کیوں غرقہوتا۔“ ”بہرحالابہمیںاپنیموتکےلیےہروقتاّیتررہناچاہئے۔“ ”کیایہاںسےفرارہونا ُمُمنہیں؟“ کپتاننےحیرانیسےبلیکبرڈکیطرفدیکھااورکہا: ”یہاں سے فرار ہونا بھی اپنی موت کو الُبنا ہے۔ ا ِس جنگل میں چاروں طرفاِنوحشیحبشیوںکیحکومتہے۔کوئیدرختایسانہیںجسکی شاخوںمیں ُانکاکوئینکوئیحبشیزہرمیں ُنچھااہواتیرلیےنبیٹھاہو۔“ ”ھچُکبھیہومیںاِنوحشیوںکےہاتھوںہلاکہونانہیںچاہتا۔“ بلیکبرڈنےجھنجلاکرکہا۔کپتاننے ُاسےسمجھایاکہاِسطرحجذبات 95
میں آنے سے ھچُک حاصل نہیں ہو گا۔ ہمیں عقل سے کام لے کر ٹھنڈے ِدلسےسوچناہوگا۔اورکوئیایسیتدبیرنکالنیہوگیجسسے سردارکے ِدلمیںہمرحمکاجذبہپیداکرکےمسافروںکیجانیںبچا سکیں۔مگربلیکبرڈپرکپتانکیباتوںکاذراسابھیاثرنہوا۔وہسوچنےلگا کہکسیطرحاکیلےہییہاںسےنکلجائے۔چنانچہ ُاسنےفیصلکرلیا کہوہراتکووہاںسےفرارہوجائےگا۔اُسنےیہمعلومکرلیاتھاکہ جھونپڑےکےباہرصرفایکہیپہرےدارہےجونیزہہاتھمیںلیے باہربیٹھاہے۔اببلیکبرڈراتکااِنتظارکرنےلگا۔ جنگلپربہتجلدراتچھاگئی۔ جبہرطرفگہرا ّ اسٹاطاریہوگیاتوبلیکبرڈنےلیٹےہیلیٹےسر ُاٹھاکر اپنے اِرد رِگد دیکھا۔ کپتان گہری نیند میں کھویاخ ّراٹے لے رہا تھا۔ وہ آہستہسے ُاٹھا۔اُسنےایکدرزمیںسےباہردیکھا۔پہرےدارحبشی 96
بھیایک چ ّ زپسےٹھیکلگائےسورہاتھا۔بڑاسنہریموقعتھا۔بلیکبرڈ اِسموقعکوہاتھسےنہیںچھوڑناچاہتاتھا۔وہرینگتاہواایکطرفسے جھونپڑے سے باہر آ گیا۔ اب اُس نے اُس جھونپڑی کی طرف رینگنا شروعکردیاجہاںٹامقیدتھا۔یہجھونپڑیوہاںسےکوئیپچاسقدموں کےفاصلےپرتھی۔وہرینگتارینگتااُسجھونپڑیکےپاسپہنچگیا۔بلیک برڈ کا سانس پھول گیا تھا۔ اُس نے ایک لَپ کے لیے ُرک کر سانس درستکیااورجھونپڑیکیپچھلیطرفسےجاکرٹامکوآہستہسےآواز دی۔ ا ّتاقکیباتتھیکہٹامابھیتکجاگرہاتھا۔ٹامنےاپنےچچاکیآواز ُُستو ُاسےکوئیحیرتنہوئی۔وہاپنےچچاکیلالچیطبیعتسےایّھچ طرحواقفتھا۔ ُاسےمعلومتھاکہچچاکیدولتاُسکےپاسہےاوروہ اپنیدولتکیتلاشمیںاُسکےپاسضرورآئےگا۔ٹامنےجھونپڑی 97
کےایکسوراخمیںسےجھانککرباہردیکھا۔ ُاسکاچچازمینپر ٹ ال،سر ُاٹھائے،اندھیرےمیںاُسےگھوررہاتھا۔ ُاسنےسرگوشیمیںکہا: ”اندرآجاؤچچا!سبےّچبسورہےہیں۔“ اوربلیکبرڈکسیبہتبڑےسانپکیطرحرینگتاہواجھونپڑیکےاندر آگیا۔اندرآتےہیاُسنےآہستہسےکہا: ”ٹام!میریامانتواپسکردو۔“ ”مگرچچا! ُتاُسےلےکرکیاکروگے؟“ ”میںیہاںسےبھاگرہاہوں۔لاؤمیریامانت“! ٹام جوتے میں سے دونوں ہیرے نکال کر چچا کو دینے ہی لگا تھا کہ باہر پہرےدارکیآوازانُسئیدی۔ٹاماوربلیکبرڈوہیںسہمکررہگئے۔وہ زمینپر ُتوںلیٹگئےجیسےانہیںسانپسونگھگیاہو۔پہرےدارکی 98
آوازدورچلیگئی۔ بلیکبرڈنےسرگوشیمیںکہا: ”لاؤمیرےقیمتیہیرے۔جلدیکرو۔میرےپاساتناوقتنہیں۔“ ٹامنےدونوںہیرےچچاکےحوالےکردیے۔بلیکبرڈنےہیرےاپنی جیبمیںرکھےاور ُاسیطرحرینگتاہواجھونپڑےسےباہرنکلگیا۔ٹام نےچچاکودیکھاکہوہجنگلکیطرفرینگرینگکرجارہاتھا۔تھوڑی ُدور جانےکےبعدوہراتکےاندھیرےمیں ُگمہوگیا۔ٹامجھونپڑیمیں لیٹکردیرتکچچاکےبارےمیںسوچتارہا۔اُسکے ِدلمیںخواہش پیداہوئیکہ ُاسےبھیچچاکےساتھہیبھاگجاناچاہئےتھا۔مگراب وقت ُ زگرگیاتھا۔ بلیکبرڈراتکےاندھیرےمیںتھوڑی ُدورتکجنگلمیںرینگتاچلا 99
گیا۔پھرجب ُاسےاحساسہواکہوہخطرےسےباہرنکلآیاہےتووہ ُاٹھا اور ُاسنےجنگلمیںایکطرفبےتحاشابھاگناشروعکردیا۔ساری راتوہجنگلمیںبھاگتارہااوروحشیحبشیوںسےکافی ُدورنکلآیا۔آخر وہتھکگیااورایکجگہبےجان چ ّپزکیطرحزمینپررِگگیااورلیٹکے لمبےلمبےسانسلینےلگا۔ کافیدیربعدجباُسکےہوشوحواسٹھکانےآئےتووہاُٹھااورایک طرفکوروانہوگیا۔جسوقتحبُصکیروشنینمودارہوئیتووہایکایسے جنگلسے ُ زگررہاتھاجسکےگھنےدرختوںپرلمبیلمبیبیلیںلٹکرہی تھیںاوراِردرِگدبےشمارٹیلوںپرگہریسبزکائیاُگیہوئیتھی۔اُسےبڑی سخت پیاس لگ رہی تھی۔ وہ پانی کی تلاش میں ایک طرف گ ُھومنے لگا۔ ُاسےایکبندر ِدکھائیدیاجواُسےدیکھکروُخوُخکرتاایکطرفبھاگ گیا۔بلیکبرڈکویقینہوگیاکہ ُادھرضرورپانیہوگا۔کیونکہبندرایسی 100
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166