ایکتاریخی ّچاسواقعہ ڈوبےجہازکاراز اےحمی شیخغلامعلاینسن
ای ُببشکریہ:روشنئیڈاٹکام
انمولخزان سمندریجہازڈیونشائرسکونسےچلاجارہاتھا۔ وہ رات ہی رات بحیرہ عرب سے نکل کہ اب مغربی افریقہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کی منزل انگلستان تھی۔ یہ جہاز ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت تھا اور اس میں کمپنی کے بڑے بڑے امیر سوداگر،ےّصحداراورانکیعورتیںاورےّچبسوارتھے۔یہجہازکوئیڈیڑھ 5
سو فٹ لمبا تھا اور کمپنی کا سب سے طاقت ور ،مضبوط اور تیز رفتار جہاز تھا۔سمندریڈاکوؤںکااقُمبلہکرنےکےلیےاسکےعرشےپرچالیس توپیںلگیہوئیتھیں۔اسسےپہلےکہہمکہانیشروعکریںآپکوہمیہ بتانابہتضروریسمجھتےہیںکہیہزمانکونساتھااورایسٹانڈیاکمپنیکون تھی۔ آپنےاپنیتاریخکیکتابوںمیںیہتوضرورپڑھاہوگاکہپاکوہندپر انگریزوںنےپونےتینسوبرسکےقریبحکومتکی۔انگریزسب سےپہلےپاکوہندمیںتجارتکرنےوالےسوداگروںکےبھیسمیں آئے۔انہوںنےمُغلبادشاہعالمگیرسےاجازتلےکرمغربیساحلپر اپنیتجارتیکوٹھیاںبنائیںاوریہاںسےاونےپونےمالخریدکرانگلستان بھیجناشروعکردیا۔تجارتکےساتھہیساتھانگریزوںنےپاکوہند کیسیاستمیںبھیدخلدیناشروعکردیا۔ھچُکوقت ُگزرجانےکےبعد 6
انگریزوں کے سیاسی جوڑ توڑ اور سازشیں مُغل دربار تک پہنچ گئیں۔ غ ّداروںنے ُانکاساتھدیااورآجسےقرًابیدوسوبرسپہلےیعنی۱۷۷۰ء تکانگریزپاکوہندکیسرزمینپرقبضہکر ُُچچتھےاورمُغلیہخاندانکی عظیمال ّشاانحکومتسمٹسمٹاکر ِدیّلکےلالقلعےمیںدمتوڑرہیتھی۔ ابانگریزوںنےدھڑادھڑیہاںسےمالودولت،سوناجواہراتاور انتہائیقیمتینوادراتسمندریجہازوںمیںبھربھرکرانگلستانروانکرنا شروعکرد ےی۔انمیںمُغلبادشاہوںکےتختوتاجبھیتھےاور شاہا ِناُودھاوردکنکیسلطنتکالوٹاہوابیشقیمتخزانبھیتھا۔ جہاز ”ڈیون شائر“ بھی ایسا ہی لوٹا ہوا قیمتی اور انمول خزان لے کر انگلستانکیطرفجارہاتھا۔یہبہتبڑاجہازتھااورجیساکہہمپہلےبیانکر ُُ چچ ہیں ،یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا سب سے مضبوط اور طاقت ور جہاز تھا۔ اِس میں آرام دہ اور خوبصورت بے شمار کیبن تھے اور نہانے کا ایک 7
تالاببھیتھا۔یہجہازپاکوہندسےلوٹکاماللےکرانگلستانتکدو رّکچلگا ُچ اچتھا۔ابوہتیسریبارخزانلےکرجارہاتھا۔اِسجہازمیں کروڑوں روپے کا سونا ،چاندی ،ہیرے جواہرات ،قیمتی تاج ،لعل و یاقوت ،کمخواب سے بھرے ہوئے صندوق اور مُغل بادشاہ شاہجہان کا بنایاہوامشہو ِرزمانتختطاؤسبھیتھا۔جسکیقیمتکااندازہ ُاسدور میں بیس کروڑ روپے لگایا گیا ہے تھا۔ جہاز مئی ۱۷۸۲ء میں مدراس کی بندرگاہسےروانہوا۔ مدراسسےانگلستانتکاسزمانےمیںبحریجہازچھمہینےکاطویلسفر طے کرنے کے بعد پہنچا کرتے تھے۔ اس سفر میں جہازوں کو سمندری طوفانوں کے علاوہ بحری ڈاکوؤں سے بھی اقُمبلہ کرنا پڑتا تھا۔ جیسا کہ آپنےجغرا فیےکیکتابوںمیںپڑھاہوگا،مئیجوناورجولائیاگست کے مہینوں میں سمندر چڑھاؤ پر ہوتا ہے اور اُس میں بڑے طوفان آیا 8
کرتےہیں۔مگرجہازڈیونشائرچونکہبہتبڑاجہازتھااوراِسسےپہلےوہ اِسقسمکےموسموںمیںکئیبارسمندرمیںسفرکرچکاتھااسلیےجہاز کےکپتانکوفکرنہیںتھی۔بحریڈاکوؤںسےاقُمبلہکرنےکےلیےجہاز میںبڑیبڑیتوپیںلگیہوئیتھیں۔اساعتبارسےجہازکاکپتاناورسفر کرنےوالےسوداگربڑےخوشاورمطمئنتھے۔انہیںیقینتھاکہوہ کروڑوںروپےکےخزانےکےساتھخیریتسےوطنواپسپہنچجائیں گے۔ لیکن ایک عجیب بات تھی کہ جس وقت جہاز مدراس کے ساحل سے روانہوئےتومسافرھچُکپریشانسےتھے۔جہازکےملازمبھیاپنےاندر ایکایسیبےچینیمحسوسکررہےتھےجواسسےپہلےانہوںنےکبھی محسوس نہیں کی تھی۔ ھچُک سوداگروں نے کپتان سے کہا بھی کہ سفر کا ارادہایکماہکےلیےملتویکردیاجائے۔مگرکپتاننےکہا: 9
”سفرملتوینہیںکیاجائےگا۔جومسافرجہازمیںسوارہونانہیںچاہتاوہاُتر جائے۔“ اسدوٹوکجوابسےمسافرخاموشہوگئےاورپھریہسوچکرمطمئن سے ہو گئے کہ جہاز بہت بڑا ہے ،کئی بار انگلستان کا رّکچ لگا چکا ہے۔ اور جہاز کا کپتان بھی تجربہ کار ہے۔ جہاز کے کپتان کا نام ”جان“ تھا ،وہ ادھیڑ عمر کا گٹھے ہوئے جسم والا ایک مضبوط آدمی تھا۔ اس کی داڑھی بھوریاورشانےچوڑےتھے۔بدنموسموںکیمارکھاکھاکرسختہوگیا تھا۔وہہنسمُکھ،ملنساراورحوصلہمندآدمیتھا۔لیکناسکےساتھہی ساتھوہاپنےملازموںکےساتھبڑیسختیسےبھیپیشآتاتھا۔ذراسی غفلتبھیبرداشتنہیںکرسکتاتھا۔کسیملازمسےکوئیغَلَطیہوجاتیتو اسےبےدریغہنٹروںسےپیٹنےلگتا۔یہیوجہتھیکہاسجہازکاساراعملہ بڑا فرض شنس ،چوکس اور چاق و چوبند تھا۔ جہاز پر بڑی صفائی رہتی۔ 10
کھاناوقتپرتقسیمہوتا۔مسافروںکونہانےکےلیےتازہپانیملنا۔کسی مسافرکوذراسیبھیتکلیفہوتیتوفوراًڈاکٹرپہنچجاتااورتکلیف ُدورکردی جاتی۔ سارےکاساراخزانجہازکے ِنچلےےّصحمیںلوہےکےایککمرےمیںبند تھا۔یہخزانبڑےبڑےصن ُدوقوںمیںمقفّلتھاجسپرہرسوداگرکانام اورپتہدرجتھا۔ابھیتکیہخزانانگریزیحکومتکیملکیتمیںنہیں آیا تھا۔ اس کے مالک ایسٹ انڈیا کمپنی کے سوداگر تھے جنہوں نے یہ خزانچالبازی،دھوکےاور ّ اعریسےلوٹاتھااورجوجہازپہسفرکررہے تھے۔ ُانکااِرادہیہتھاکہولایتجاکریہخزانحکومتکےہاتھبھاری رقمکےعوضفروختکردیاجائے۔اوراِسطرحکروڑوںروپےکماکر باقی رمُع آرام و عیش سے بسر کی جائے۔ قدرت اُن کے ا ِن ا ِرادوں پر مُشک زرارہیتھی۔قدرتکوھچُکاورہیمنظورتھا۔ 11
جہازکوسفرپرروانہوئےایکمہینہ ُگزرگیاتھا۔کسیکےوہموگمانمیں بھییہباتنہیںتھیکہانہیںتھوڑےہی ِدنوںبعدکسقدرخوفناک بلاؤںکاسامناکرناپڑنےوالاہے۔ ِدنکوجہازپرہرطرفبڑیچہلپہل ہوتی۔عرشےپرمسافررنگبرنگکیبڑیبڑیچھتریاںلگاکر ُانکے سائےمیںآرامکرتے۔عورتیںاورےّچباِدھر ُادھرٹہلتے چ ِ زپتے۔جہاز کےباورچیخانےمیںسینکڑوںمسافروںکےلیےقسمقسمکےکھانے اّیتر ہورہے ہوتے،طرحدار انگریزاوررُپتگالی باورچی لمبی لمبی سفید ٹوپیاںپہنےایکدوسرےسےہنسہنسکےمذاقکررہےہوتے۔رات کواِسرونقمیںاضافہہوجاتا۔جہازکےہرکیبن،ہرکمرےمیںلیمپ روشن ہو جاتے۔ ا ِن روشنیوں کا عکس سمندر میں جھلمل جھلمل کرتا۔ جہاز کے کامن روم میں امیر کبیر سوداگر تاش کھیلتے ہوئے خوب قہقہے لگاتے۔ رات گئے تک یہ محفلیں سجی رہتیں اور جہاز سمندر میں آگے 12
بڑھرہاہوتا۔ انگریز سوداگروں میں ایک ”بلیک برڈ“ نام کا سوداگر بھی تھا۔ وہ دوسرےتاجروںکیطرحزیادہامیرسوداگرنہیںتھا۔اسنے ِدیّلمیں ایکہندوجوہریکوقتلکرکےایکبیشقیمتلعلحاصلکیاتھاجوایک گتھلیمیںرکھکراسنےاپنیکمرکےساتھباندھرکھاتھا۔ ُاسلعلکا ذکراسنےکسیسےبھینہیںکیاتھا۔وہبڑےسکونکےساتھجہازکے جنگلےکےساتھلگکرشامکوسمندرمیںچلنےوالیہواسےلُطفاُٹھاتااور یہسوچسوچکرخوشہوتاکہولایتجاکروہلعلکوکمازکمایککروڑ روپےمیںفروختکرےگا۔اسرقمسےوہایکمحلخریدےگاجہاں وہ باقی رمُع عیش و عشرت میں بسر کر دے گا۔ مسٹ بلیک برڈ کے ساتھ ایکسولہسترہسالکالڑکابھیتھاجسکانام”ٹام“تھا۔ٹاممسٹبلیکبرڈ کا ُدورکارشتےدارتھااوروہمسٹبلیکبرڈکوچچاکہتاتھا۔بلیکبرڈنےاس 13
شرط پر ٹام کا کرایہ ادا کیا تھا کہ وہ ولایت جا کر ساری رمُع بلیک برڈ کی خدمتکرےگا۔ٹامنےہامیبھرلیتھی۔اصلمیںٹامکابھیاس ُدنیا میںکوئینہیںتھا۔اسکےماںباپبچپنہیمیںمرگئےتھےاوراس نےبلیکبرڈکےپاسہیپرورشپائیتھی۔بلیکبرڈکا ِدیّلشہرمیںچھوٹاسا کاروبارتھا۔ٹام ُاسکےپاسنوکروںکیطرحرہتاتھا۔بلیکبرڈواپس وطنجانےلگاتوٹامنے ُاسسےدرخواستکیکہوہ ُاسےبھیواپس وطنلےجائے۔ ٹام ِدنبھرجہازپربھیبلیکبرڈکیخدمتمیںمصروفرہتا۔یہشخص اسقدرسنگدلتھاکہآدھیراتکوبھیٹامکونیندسےاُٹھاکرکہتا: ”ٹام!ارےاُٹھواورمیراسردباؤ۔سختدردہورہاہے۔“ اوربےچارہٹامفور ًا ُاٹھکر چ ّ زپ ِدلچچاکاسردباناشروعکردیتا۔ٹامکی 14
ساریرمُعخدمتمیںگزریتھی۔اسنےآنکھکھولیتواپنیماںکوباپ کیخدمتکرتےدیکھا۔ماںکاانتقالہواتوٹامکیپرورشاُسکیخالہنے اپنےذےّملےلی۔کیونکہاُسکاباپسالمیںبارہمہینےباہررہتاتھا۔خالہ کےانتقالکےبعدٹامچچابلیکبرڈکےپاسآگیا۔اورپھرایکروزاسے یہخبرملیکہاسکاباپبرازیلکےجنگلوںمیںمرگیاہے۔ٹاماپنےباپ کویادکرکےبہترویا۔مگرصبرکرنےکےسواوہھچُکبھینکرسکتاتھا۔ بلیکبرڈچچانےٹامکوایکزرخریدغلامکیطرحاپنےپاسرکھلیااوراس سےہرطرحکیخدمتلینیشروعکردی۔ بلیکبرڈیوںتوبڑاخاموشطبعآدمیتھااورجہازپربھیوہزیادہکسیسے گ ُھلملکرباتنکرتاتھالیکناندرسےوہبڑاگہرااورسازشپرست حاسدآدمیتھا۔اسےایکایکباتکیخبرتھیکہجہازپرکسقدرسونا چاندی،ہیرےجواہراتلدےہیںاورکونکونسوداگرکیاکیاچیزلوٹ 15
کھسوٹکرولایتلےجارہاہے۔اسےیہبھیمعلومتھاکہیہسارےکا ساراخزانجہازکے ِنچلےےّصحمیںلوہےکےایککمرےمیںبندہےاور اسکیچابیکپتانجانکےذاتی کمرےمیںہوئیہے۔جہازپرسوار ہونےسےپہلےجہازکےکپتاننےسبھیمسافروںسےانکیقیمتیچیزیں لےکراپنیذےّمداریمیںرکھلیتھیںاورانہیںرسیدلکھکردےدی تھی۔ لیکنبلیکبرڈنےاپنیکمرکےساتھبندھےہوئےقیمتیلعلکو چھپائے رکھا تھا۔ اس نے کپتان کو بالکل نہیں بتایا تھا کہ وہ ڈیڑھ کروڑ روپےکیمالیتکاقیمتی چ ّپزچھپائےہوئےہے۔ اسکیوجہصرفیہیتھیکہبلیکبرڈبےحدکنجوساورشکیآدمیتھا۔ اسےوہمتھاکہاگراسنےقیمتی چ ّ زپکپتانکےحوالےکردیاتووہاسے نقلی چ ّ زپسےبدلدےگا۔یعنیاسکےاصلیلعلکیجگہنقلیلعلرکھ دے گا۔ اپنا خزان تو اس نے اپنی کمر کے ساتھ باندھ رکھا تھا جس کی 16
سوائےاسکےاورکسیکوخبرنتھی۔لیکناسکےساتھہیساتھوہ دوسروںکےخزانوںپربھیرُبینظررکھےہوئےتھا۔اسکے ِدلمیں بسایکہیخواہشمچلرہیتھیکہکسینکسیطرحجہازکے ِنچلےےّصح میںبندخزانےتکپہنچکراپنیپسندکیھچُکچیزیںوہاںسےاُڑالائے۔ یہ کام کوئی اتنا آسان نہیں تھا۔ اس لئے کہ خزان لوہے کی دیواروں والےکمرےمیںبندتھااوراسکیچابیکپتانکےپاستھی۔بلیکبرڈنے کپتانکےساتھتعلقاتبڑھانےکافیصلکرلیا۔چنانچہایکروزجبکہ کپتانعرشےپرجنگلےکےساتھلگا ُدوربینسےسمندرمیںدیکھرہاتھا، بلیکبرڈبھیکھسکتاکھسکتااسکےپاسجاپہنچا۔ ”حبُصبخیرکپتانصاحب!میراخیالہےسمندراِسیطرحرُپسکونرہاتوہم بہتجلدولایتپہنچجائیںگے“! 17
کپتانجاننے ُدوربینسےنظریںہٹائےبغیرکہا: ”ضرور۔“ بیکبرڈنےکپتانکیخوشامدکرتےہوئےکیا: ”اورپھربھلاجسجہازکاکپتانآپایسابہادراورتجربہکارانسانہو،اسے طوفانوںکیبھیکیاپروا“! کپتاننےمُشک زراکربلیکبرڈکیطرفدیکھا۔ ”مسٹ!آپکتناسامانلےکرانگلستانجارہےہیں۔“ ”ھچُکبھینہیں۔میںتوایکغریبتاجرہوں۔میرےپاسسوائےایک ملازملڑکےکےاورھچُکنہیں۔“ کپتاننےحیرانیسےبلیکبرڈکیطرفدیکھکرپوچھا: 18
”بھلایہکیونکر ُمُمہوسکتاہےکہہندوستانسےایکانگریزتاجرخالی ہاتھوطنواپسجائے؟“ بلیکبرڈنےسینےپرصلیبکانشانبناکرکہا: ”میںقسم ُاٹھاکرکہتاہوںکہمیرےپاسسوائےایکبستراورچندکپڑوں کے اور ھچُک نہیں ،میں مذہبی آدمی ہوں اور ایمانداری کو اپنی زندگی کا سبسےبڑااصولسمجھتاہوں۔میںنےآجتکحلالکیروزیکمائی ہےاورحلالہیکھایاہے۔میںنےہندوستانکیلوٹمارمیںکوئیہّصح نہیںلیا۔“ کپتانمسٹبلیکبرڈکیباتوںسےبڑامتاثرہوا۔وہاپنیجہازرانیکیزندگی میں پہلے ایماندار انگریز تاجر کو دیکھ رہا تھا اور پھر اّکمر بلیک برڈ نے ھچُک اِسماہراناندازمیںایماندارآدمیکیاداکاریکیکہکپتانمتاثرہوئے 19
بغیرنرہسکا۔اسنےکہا: ”مسٹبلیک برڈ!جُُم آپسے مل کر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ اگر آپ مناسبسمجھیںتومیرےساتھکیبنمیںچلکرایککپچائےنوش فرمائیں۔“ ”شکریہ!ضرور،ضرور۔“ بلیکبرڈکوبھلااورکیاچاہیےتھا۔وہیہیتوچاہتاتھا۔چنانچہوہخوشیخوشی کپتان کے ساتھ چائے پینے اس کے کیبن کی طرف چل پڑا۔ کپتان کا کیبن جہاز ڈیون شائر کا سب سے خوبصورت کیبن تھا۔ دیواروں کے ساتھقیمتیصوفےلگےتھے۔فرشپرشاندارایرانیقالینبچھاتھا۔ایک طرفبسترپررُسخریشمیچادریںپڑیتھیں۔الماریمیںجہازکاچاندیکا ماڈلسجرہاتھا۔ 20
”تشریفرکھیںمسٹبلیکبرڈ۔“ تھوڑیہیدیرمیںوہاںچائےآگئیاورکپتاناپنےمہمانکےلیےچائے بنانےلگا۔ 21
یاقوتکیچوری باتوںہیباتوںمیںبلیکبرڈنےخزانےکاذکرچھیڑدیا۔ ”کپتانصاحب!ویسےتوہمنےہندوستانپرقبضہکررکھاہے۔ہندوستان کیہرشےہماریہے۔پھربھیہمیںاپنےپیارےیسوعمسیحکیتعلیمکو فراموشنہیںکرناچاہیے۔مگریہکسقدر ُدکھکیباتہےکہہمارےہی بعض انگریز بھائی لوٹ مار کر کے ،قتل و ڈاکہ زنی کر کے مال اسباب 22
انگلستان لےجارہےہیں۔ کیاانہیںاپنی موتبھولگئی ہے۔ہائے! انسانکسقدرلالچیہے۔ایکنایک ِدنہمسبکو ُ دخاکےحضورجانا ہے۔پھروہاںہمکیاجوابدیںگے؟“ کپتانپائپلگارہاتھا۔وہبلیکبرڈکیباتسےبڑامتاثرہوا۔وہخودایک ایمان دار شخص تھا۔ اس نے کروڑوں روپے کا سامان ہندوستان سے انگلستانپہنچایاتھامگر کیامجالجوایکپائی کیبھیبےایمانی کیہو۔وہ چونکہخودایکنیکاوربھلاآدمیتھااسلئےاُسےایسےلوگپسندتھے جونیکیاوربھلائیکیباتیںکریں۔اسنےبڑیسنجیدگیسےکہا: ”مسٹبلیکبرڈ!آپبالکلبجافرماتےہیں۔ہمانگریزوںنےہندوستان میںبڑاملُظکیاہے۔اورجبمیںسوچتاہوںکہمیںظالموںکیمددکررہا ہوںاوراُنکالوٹمارکاسامانلےجارہاہوںتویقینکریںمیراسرشرم سےج ُھکجاتاہے۔“ 23
اّکمربلیکبرڈنےتیرنشانےپرٹھیکبیٹھتےدیکھکرکہا: ”آپبہتنیکآدمیہیںمسٹجان،جُُمتوآپکیصورتدیکھکرہی آپکیایّھچسیرتکالِِعہوگیاتھا۔لیکنآپشرمسارنہوں۔آپ بےقصورہیں۔آپکاتوپیشہہیجہازچلانااورمسافروںکومنزلپرپہنچانا ہے۔آپکوبھلااسسےکیاکہکوئیمسافرڈاکوہےیاشریف“! کپتاننےکہا: ”یہتوٹھیکہےمسٹبلیکبرڈ۔لیکنمیںآپسےدرخواستکروںگا کہآپمیریبخششکےلیے ُدعاضرورکریں۔اسلئےکہآپایمان داراورمذہبیآدمیہیں۔خداوندآپکی ُدعاضرورقبولکرےگا“! ”میںضرور ُدعاکروںگا۔“ اّکمر بلیک برڈ نے کپتان پر اپنا خوب اثر جما لیا تھا۔ وہ چائے پر اس کے 24
ساتھمذہب،دینایماناورپرہیزگاریکیباتیںکرتارہا۔پھرموقعدیکھ کربولا: ”کپتانصاحب!آپکوایکباتکاضرورخیالرکھناچاہیےکہلوگوں نے جو آپ کی تحویل میں اپنا کروڑوںروپے کا مال دیا ہے ،وہ محفوظ رہے۔لوگوںکوانکیامانتیںوُجںکی ُ وتںملجائیں۔“ کپتاننےفور ًاجوابدیا: ”اُسکیطرفسےتوآپبالکلبےفکررہیں۔میراریکارڈہےکہجہاز ڈیون شائر پر جب سے یہ چلا ہے ایک دھیلے کی بھی امانت میں خیانت نہیں ہوئی۔ جُُم کسی شے کا لالچ نہیں ہے۔ میں ُخداوند کی دی ہوئی نعمتوںسےمالامالہوں۔“ بلیکبرڈجھٹبولا: 25
”آپمیرامطلب َََغسمجھےہیںمسٹجان!خدانخواستہمیںآپکی تّین پر تو شک نہیں کر رہا۔ آپ تو انتہائی نیک اور ایماندار کپتان ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہر شخص آپ کی تعریف کرتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلبیہتھاکہزمانبڑاخرابجارہاہے۔آجکلہرآدمیلوٹکھسوٹ میںلگاہے۔جہازپرہرقسمکامسافرسوارہوتاہے۔آپکوخزانےکے بارےمیںبڑاچوکساورہوشیاررہنےکیضرورتہے۔“ کپتانقہقہہلگاکرہنسپڑا: ”ارے مسٹ بلیک برڈ! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میری ساری رمُع سمندریجہازوںمیںقسمقسمکےمسافروںکےساتھسفرکرتےگزری ہے۔ میں تو انسان کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتا ہوں کہ یہ کون ہے۔ کہاںجارہاہےاورکسارادےسےسفرکررہاہے۔“ 26
”اِسمیںکوئیشکنہیںکپتانصاحب!لیکناِس ُدنیامیںایسےلوگ بھیہیںجوآنکھوںمیںدھولجھونککرنکلجاتےہیںاورکسیکوکانوں کانخبرنہیںہوتی۔یہبتائیںکیاآپخزانےکیحفاظتکیطرفتسے مطمئنہیں؟“ ”کیوںنہیں!خزانجہازکےتہہخانےمیںجسکمرےمیںبندہے،اُس کیدیواریںاورچھتلوہےکےہیں۔ ُاسمیںجوتالہلگاہےاسےسوائے میرےاورکوئینہیںکھولسکتا۔“ ”آپکامطلبہےکہاسمیںنمبروںوالاتالہلگاہے؟“ ”ارےنہیںمسٹبلیکبرڈ!نمبروںوالاتالہتوکسینکسینمبرپرُ ُھکہی جاتا ہے۔ اس کمرے میں جو تالہ لگا ہے اس کی چابی ایک خاص بٹن گ ُھماانےسےکھلتیہے۔“ 27
ّعاربلیکبرڈنےفوراًکہا: ”کپتانصاحب!ہمنےایسیبھیکئیچابیاںدیکھیہیں۔“ کپتانجوشمیںآکراٹھا۔اُسنےکونےوالیالماریکھولکرایکآہنی ڈ ّبباہرنکالیاور ُاسےلےکربلیکبرڈکےسامنےآبیٹھا۔ ”یہدیکھئے،اسمیںوہچابیہے۔“ اوراسکےساتھہیکپتاننےڈ ّبکےبائیںپہلومیںانگلیسےایکہلکاسا ٹہوکادیا۔ڈ ّبکاڈھکناُ ُھکگیا۔کپتاننےڈ ّبکےاندرسےایکچابینکال کربلیکبرڈکو ِدکھائی۔ ”یہہےجنابوہخاصچابی۔ابآپاسےلےجاکرنیچےخزانےکے کمرے کے تالے میں لگا دیں اور جُُم کھول کر دکھائیں۔ میں کہتا ہوں آپسارا ِدناسےگھماتےرہیںتالہہرگزنہیںکھلےگا۔“ 28
بلیکبرڈنےگرملوہےپرچوٹمارتےہوئےکہا: ”اورآخرتالہکھلےگاکیسے؟“ ”یہدیکھیے۔۔۔یہ۔۔۔جبتکآپیہبٹننہیںگھمائیںگےتالہہرگز ہرگزنہیںکھلےگا۔“ اسکےساتھہیکپتاننےجلدیسےکنجیڈ ّبمیںڈالدیاورفکرمند ساہوکربولا: ”جُُمچابیکارازاصولیطورپرآپکونہیںبتاناچاہیےتھا۔لیکنخیرآپ نیکاوربھلےآدمیہیں۔“ بلیکبرڈنےبڑیغیردلچسپیسےکہا: ”کپتانصاحب!آپبےفکررہیں۔بلکہیوںسمجھیںکہآپنےچابیکا رازایک چ ّپزکےٹکڑےکوبتایاہے۔جُُمنآپکیچابیسےکوئیغرض 29
ہےاورنخزانےسےکوئیواسطہہے۔میںتوایکدرویشاورفقیرآدمی ہوں۔ساریعمرہندوستانمیںرہااورآجخالیہاتھمحضایکملازماور دوجوڑسےکپڑوںکےساتھواپسوطنجارہاہوں۔“ کپتاننےمُشک زراکرکہا: ”شایداسیلئےمیںنےچابیکارازآپکوبتادیاہے۔آپکےلیےاور چائےبناؤں؟“ ”جینہیںشکریہ!میراخیالہےجُُمابچلناچاہئے۔بےسہاراملازملڑکا میراانتظارکررہاہوگا۔آپکیرُپفّلکتچائےکابہتبہتشکریہکپتان صاحب“! ”ذ ّرہ نوازی ہے مسٹ بلیک برڈ! اور ہاں! میرے لئے ُدعا کرنی مت بھولئےگا۔“ 30
”بھلایہبھیکوئیبھولنےوالیباتہے! ُ دخاحافظ“! ” ُ دخاحافظ“! بلیکبرڈبڑےسکونسےپادریوںکیطرحچلتاہواکپتانکےکیبنسے نکلکراپنےکیبنمیںآگیا۔کیبنمیںآتےہی ُاسنےبڑی چ ُ زپتیسے دروازہبندکیااوراطمینانکاایکگہراسانسلیا۔ٹاماسکےلیےپیالے میںانڈےپھینٹرہاتھا۔ ”یہکیاکررہےہو ُت؟“ ”جناب!آپکےدودھکےلیےانڈےپھینٹرہاہوں۔“ ”چھوڑوانہیںاوروہ۔۔۔وہمیریڈائریجُُمدےدو۔“ ٹامنےالماریمیںسےبلیکبرڈکیسبزجلدوالیڈائرینکالکراسےدی۔ بلیک برڈ ڈائری کی ورق گردانی کرتا رہا۔ پھر اس نے ایک جگہ گول 31
دائرےکانشانڈالکرآگےھچُکالٹےسیدھےنشانلگائےاورڈائریرکھ دی۔ ”لاؤجُُمانڈےاوردودھدےدو۔“ ٹاماپنےآقاکےلیےدودھمیںانڈےحلکرنےلگااوربلیکبرڈکے اّکمردماغنےبڑیتیزیسےسوچناشروعکردیاکہکپتانکےکیبنسے چابیکسطرح ُاڑائیجائے۔بہظاہریہکوئیلکشُمکامنہیںتھا۔جسڈ ّب میںخزانےکیچابیرکھیہوئیتھیاُسےکھولنےکارازبلیکبرڈکومعلومہو چکاتھا۔خزانےکاتالہکھولنےکےرازسےبھیوہواقفہوگیاتھا۔اب سوالصرفیہتھاکہکپتانکےکیبنسےیہچابی ِِکوقتاڑائیجائے، وہچاہتاتھاکہچابیاُسوقتچوریکرےجبکپتاناپنےکیبنسےکماز کمدوگھنٹوںلیےباہرجاچکاہو۔یعنیجسوقتوہچابیلےکرنیچےتہخانے میںجائےتواسوقتسےلےکرتہخانےسےواپسآکرچابیکیبنمیں 32
رکھنےتککپتانواپسنآئے۔اسکےلیےضروریتھاکہکپتانکیروز ّرمہکیمصروفیاتکاغورسےمطالعہکیاجائے۔ چنانچہبلیکبرڈنےایساہیکیا۔ایکدوروزکینگرانیکےبعدہیبلیکبرڈ کومعلومہوگیاکہسارے ِدنمیںشامچاربجےسےلےکرساڑھےچھ بجےتککپتاناپنےکیبنسےغیرحاضررہتاہے۔اسوقتوہجہازکے ڈیک،کچناورمشینرومکامعائنہکرتاہے۔بلیکبرڈنےفیصلکرلیاکہ وہچوریکےلیےیہیوقتےنُچگا۔ایکہفتہ ُگزرگیا۔اِسدورانمیں ُاسنےکپتانکےساتھگ ُھلملکراپنےتغلّقااتکواوربھیبڑھالیا۔اب وہبلاروکٹوککپتانکےکیبنمیںداخلہوجاتا۔ایکروزآسمانپر بادلچھارہےتھے۔سمندرکیلہریںدوردورسےآکرجہازکےپیندے سےٹکرارہیتھیں۔بلیکبرڈاپنےکیبنمیںبسترپر ٹلاپرانااخبارپڑھرہا تھا۔اخبارپڑھتےپڑھتےاسنےجیبمیںسےچاندیکیگھڑینکالکر 33
وقتدیکھا۔چاربجکردسمنٹہوچکےتھے۔وقتہوچکاتھا۔ بلیکبرڈنےچشمہلگاکرسرپرہیٹرکھااوراپنےکیبنسےباہرنکلگیا۔ لمبیراہداریمیںسےگزرکروہبائیںپہلوکوگُ وھمگیا۔ذراآگےجاکرلکڑی کیبڑیخوبصورتسیڑھیاوپرچلیگئیتھی۔بلیکبرڈسیڑھیپرسےہو کراوپروالیراہداریمیںآگیاجسکےفرشپرقالینبچھاتھا،ابتین کیبنچھوڑکرسامنےکپتانکاکیبنتھا۔ نبکلایکلبکررڈمُات ٹیّھکیلممیحںےسنکبھےاللیلےی ُراورکرگایہادا۔رُایسمینںےاِدجھیربُادسھےرلدویکہھاے۔کویہاتاںر کوئینہیںتھا۔وہچپکےسےکپتانکےکیبنکےدروازےپرجاکرکھڑاہو گیااوراسنےجلدیسےتارتالےکےسوراخمیںگ ُھم اائی۔کھٹاکسے دروازہُ ُھکگیا۔بلیکبرڈپلکجھپکنےمیںکیبنکےاندرتھا۔اندرجاتے ہی ُاسنےصندوقمیںسےڈ ّبنکالکرکھولیاوراسمیںسےچابیلے 34
کرجیبمیںرکھلی،پھر ُاسنےکیبنمیںسےجھانککرراہداریمیں دائیںبائیںدیکھا۔وہاںکوئیبھینہیںتھا۔وہباہرنکلآیا۔کپتانکاکیبن اسنےویسےہیدوبارہبندکردیا۔ اب ُاس کے سامنے ایک ہی مرحلہ تھا۔ جہاز کے ِنچلے ےّصح میں جا کر خزانےکےکمرےمیںداخلہونااوراسسےکوئیقیمتیہیراچراکرلانا۔ بلیکبرڈراہداریسےنکلکرسیڑھیاں ُاترتاہواجہازکے ِنچلےےّصحمیںآ گیا۔جہازکے ِنچلےےّصحکیفضامرطوبتھیاورکافیکیخو ُ وشپھیلیہوئی تھی۔خزانےکےکمرےتکپہنچناکوئیلکشُمنہیںتھا۔اسلئےکہبلیک برڈکئیباراسکمرےکاجائزہلےچکاتھا۔یہآہنیدیواروں،چھتوںاور دروازےوالاکمرہجہازکےعقبیےّصحمیںتھااوریہاںتکپہنچنےکےلیے مال گودام سے ہو کر ایک تنگ سے راستے سے گزرنا پڑتا تھا۔ بلیک برڈ گوداممیںسےبھینکلگیااوریہاسکیخوشقسمتیتھیکہراستےمیں 35
اسےکوئیبھیواقفکاراوراسکاجاننےوالانملا۔بلیکبرڈبڑےآرام اورسکونکےساتھخزانےکےکمرےکےدروازےپرپہنچگیا۔یہاں ھچُکاندھیراتھا۔اوریہبلیکبرڈکےلیےبہتموزوںتھا۔اسنےجیب سےچابینکالکراسکابٹندبایااورتالےکےسوراخمیںلگاکرگھمائی۔ کھٹاککیآوازآئیاوردروازہُ ُھکگیا۔ دروازہکیاُ ُھکاگویاعلبابااورچالیسچورکےغارکادروازہکھلگیا۔بلیک برڈ نے اندر داخل ہو کر اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔ اس کے سامنے کمرے میں جا بجا سونے چاندی کے نوادرات کا ڈھیر لگا تھا۔ وہ جلدی جلدیانچیزوںکودیکھنےلگا۔وہکوئیبھیبھاریبھرکمیاایسیچیزنہیں چراناچاہتاتھاجواسکیجیبمیںنآسکے۔بلیکبرڈکیتیزنگاہیںایک انتہائیقیمتیجڑاؤہارپرپڑیں۔یہہارایکصندوق چچیمیںبندتھاجسکاڈھکنا شیشےکاتھا۔ ُاسنےتارکیمددسےصندوق چچیکاتالہکھولااورجڑاؤہارکوغور 36
سےدیکھنےلگا۔اسےہیرےموتیوںکیخاصپہچانتھی۔ہارکےدرمیان میںلگےہوئےایکبہتہیقیمتییاقوتکودیکھکر ُاسکیآنکھیںچکا چوندہوگئیں۔ یہیاقوتبےحدانمولاورنادرروزگارتھا۔ولایتمیںاسکیقیمتبڑی آسانیسےوہرّتسہزارپونڈتکوصولکرسکتاتھا۔بلیکبرڈنےتھوڑیسی کوششکےبعدہارمیںسےیاقوتنکاللیا۔اِسقیمتی چ ّپزکواُسنے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھا اور بڑے محتاط قدموں کے ساتھ چلتا دروازےکےپاسآکر ُرکگیا۔اسےیوںلگاجیسےکوئیشخصکسیسے باتیںکررہاہے،اسکااندیشہدرستتھا۔جہازکےدوملازممالگودام میںھچُکساماننکالرہےتھےاورساتھساتھباتیںبھیکررہےتھے۔ بلیک برڈ دم بخود ہو کر کھڑا رہا۔ چند لمحوں کے بعد ان کی آوازیں دور ہوتے ہوتے بالکل غائب ہو گئیں۔ بلیک برڈ نے اطمینان کا سانس لیا۔ 37
ُاسنےبڑےسکونسےدروازہکھولا۔باہرنکلا۔آہستہسےدروازہبندکر کےتالہلگایا۔چابیجیبمیںڈالیاورواپسکپتانکےکیبنکیطرفچل پڑا۔جبوہکپتانکےکیبنمیںداخلہوکرصن ُدوقمیںچابیرکھنےکے بعدواپسپلٹرہاتھاتواُسےیوںانُسئیدیاجیسےکوئیدروازےکیطرف بڑھرہاہے۔ ُاسکاحلقایکدمخشکہوگیااور ِدلدھڑکنےگا۔مگر قدموںکیآوازراہداریمیںدورہٹتےہٹتے ُگمہوگئی۔بلیکبرڈنےسکون کاسانسلیااورجلدیسےکپتانکےکیبنکوتالہلگاکرراہداریمیںلمبے لمبےقدماُٹھاتاغائبہوگیا۔ 38
عذا ِبایہٰل جہازمڈغاسکرکوبہتپیچھےچھوڑآیاتھا۔ ابوہجنوبیافریقہکی ِ چِنتکونکارّکچکاٹکرکیپآفگڈہوپکی خطرناکساحلیچٹانوںکےقریبسےگزررہاتھا۔یہخطرناکچٹانیں ساحل کے ساتھ ساتھ سمندر کے نیچے چالیس میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔بریڈزڈراپکاڈینجرپوائنٹنکلچکاتھا۔جہازکاکپتانبرجپر ُدور 39
بینلیےحبُصسےکھڑاتھااورسمندرکامسلسلجائزہلےرہاتھا۔یہاںسے ُ زگرتےہوئے ُاسےہروقتچوکسرہناپڑتاتھا۔ذراسیبےاحتیاطیسے جہازسمندرمیںجچ ُھ چتیہوئیاّٹچنوںسےٹکراکرپاشپاشہوسکتاتھا۔لیکن تجربہکارکپتانجانہمیشہبڑیمہارتکےساتھجہازڈیونشائرکواِن خونیچٹانوںسےنکالکرلےگیاتھا۔وہآجبھیمطمئنتھا۔ ُاسےاپنے تجربےاورمہارتپرپورابھروسہتھا۔بلیکبرڈبھیٹامکےساتھعرشے کےجنگلےکےساتھلگا ُدورکیپٹاؤنکےساحلکیسیاہلکیرکودیکھرہاتھا۔ جہاز کے دوسرے مسافر بھی وہاںکھڑے جائزہلے رہے تھے۔ ُان سبکوعلمتھاکہوہایکانتہائیخطرناکسمندریکھاڑیکوعبورکررہے تھے۔کمزور ِدلتاجراورعورتیں ِدلہی ِدلمیں ُدعائیںمانگرہیتھیں کہجہازخیریتسے ُگزرجائے۔ٹامکےسنہریبالسمندرکیہوامیں اُس کے ماتھے پر لہرا رہےتھے۔بلیک برڈ کےچہرےپرفاتحان چمک 40
تھی۔قیمتییاقوت ُاسکیتھیلیمیںانموللعلکےساتھاسکیکمرمیں بندھاتھا۔یاقوتکیچوریکاکسیکوبالکلعلمنہیںہواتھا۔اورہوبھیکیسے سکتا تھا۔ کوئی خزانے کے آہنی کمرے کی جانچ پڑتال کرتا تو حقیقت سامنےآتی۔ دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان بالکل صاف تھا۔ سمندر میں ہلکی ہلکی موجیں ُاآٹنکھھروہںی تسھےیلںگا۔ئہوےابربڑجپرےکسھکڑواتنھااسورےجہچازلکرہےیا تھیے زن۔ ککپتےاسانتُدھورسابتیھن احکامدےرہاتھا۔کپتانکے ُکُحکےمطابقایکتنومندا ےنزجہازکی چرخیکوکبھیدائیںاورکبھیبائیںگ ُھماارہاتھا۔جہازکےپھولےہوئے بادبانوںمیںسےھچُکبادبانوںکولپیٹدیاگیاتھا۔جہازسائمنسٹونکے علاقےسےنکلکہابکا ٹنٹائینکےحلقےسےگزرنےلگاتھا۔ اچانککپتاننےاّلچکرکہا۔ 41
”نارتھویسٹ۔۔۔۳ڈگری۔“ اوراِسکےآرڈرکےساتھہیجہازتیندرجےکازاویہبناتےہوئےشمال مغرب کی طرف گ ُھوم گیا۔ کپتان کو اچانک جہاز کے بالکل سامنے ایک سیاہاّٹچنسی ُابھرتی ِدکھائیدیتھی۔جہازاِسسیاہچٹانسےبچکرآگے نکلاتواّٹچننےسمندرمیںغوطہلگادیا۔معلومہواکہوہایکبہتبڑی وہیلمچھلیتھیجوبھٹکتیہوئیاِدھرآنکلیتھی۔کپتاننے ُدوربینسے دیکھا۔ وہیل مچھلی کوئی دو میل کے فاصلے پر جا کر ایک بار پھر اُبھری۔ اُسکےسرسےپانیکاایکزوردار ُبدف ّوارهچھوٹااورمچھلیغوطہلگاکر سمندرمیںغائبہوگئی۔ نائبا ےنزنےکپتانسےکہا: ”کیپ گڈ ہوپ میں وہیل مچھلیاں کبھی نہیں آتیں۔ یہ کہاں سے آ 42
گئی؟“ کپتاننے ُدوربینلگاتےہوئےکہا: ”معلوم ہوتا ہے وہیل زخمی ہے۔ وہ راستہ ُ وبل گئی ہے۔ ًانیقی وہ گڈ ہوپکیسمندریچٹانوںسےٹکراکرمرجائےگی۔وہیلمچھلیجہازکے مسافروںنےبھیدیکھیتھی۔وہزورزورسےخوشہوکرتالیاںبجانے لگے۔ٹامنےبلیکبرڈسےکہا: ”چچا!کیااِسمچھلیکابھیگوشتکھایاجاتاہے؟“ بلیکبرڈنےہنسکرکہا: ”تم ِنزے ُ دبھوکے ُبدھوہو۔احمقوہیلمچھلیکاگوشتنہیںکھایاجاتا۔ بلکہ ُاسکیچربیسےتیلحاصلکیاجاتاہےجوکارخانوںمیںکامآتا ہے۔“ 43
جہازکیرفتاربہتہیتسُستھی۔معلومہوتاتھاکہوہپھونکپھونککر سمندر میں قدم رکھ رہا ہے۔ ایسے خطرناک ساحلی سمندروں میں جہاز ا ِسی محتاط رفتار کے ساتھ گزرا کرتے ہیں۔ اگر ذرا سی بھی رفتار تیز ہو جائے اور جہاز ساحلی چٹانوں کی وجہ سے سمندر میں پیدا ہونے والے بھنور میں پھنس جائے تو اس کا چٹانوں سے ٹکرا کر ڈوب جانا یقینی ہوتا ہے۔ ڈیونشائردوپہرتکخطرےسےنکلچکاتھا۔ جہازکاکپتانمسٹجان ُدوربینگلےمیںلٹکائےبرجسےنیچےاُترآیاتھا اور مسافروں سے ہنس ہنس کر باتیں کررہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرمایہدارتاجرمُصییتسے ِنآنےکیخوشخبرینُسکربڑےہ ّش ااش ّباشتھےاورایکدوسرےکوراتکےکھانےکیدعوتیںدےرہے تھے۔بلیکبرڈکوتوپہلےہیمعلومتھاکہکپتانایکتجربہکاراّلمحہےاور 44
ُاسےکیپگڈہوپکےسمندروںکابڑاتجربہہے۔وہاپنےکیبنمیںآکر بستر پر نیمدراز ہوگیا اورلندن میں چھپنےوالا ایکرُپانا اخبارنکال کر پڑھنےلگا۔اساخبارمیںمسٹسمتھاینسنایکاشتہارچھپاہواتھا۔یہ کمپنیپاکوہندپرانگریزوںکے ّعارانقبضےکےبعدبنیتھیاوراِسکا کامہیلوٹمارمیںحاصلکئےہوئےمالکواونےپونےخریدناتھا۔بلیک برڈاسسےپیشتربھیسمتھاینکمپنیکوجانتاتھا۔اُسےایّھچطرحمعلوم تھاکہیہکمپنیایسٹانڈیاکمپنیکےڈاکونماتاجروںسےہندوستانمیںلوٹا ہوامالخریدکرسرکا ِرانگریزیکےہاںمہنگےداموںفروختکرتیہے۔ بلیکبرڈبسترپرلیٹےلیٹےہنسدیا۔ ُاسنے ِدلہی ِدلمیںفیصلکرلیاکہ وہ اپنا مال اس کمپنی کے ہاتھوں فروخت نہیں کرے گا بلکہ بلا واسطہ حکومت سے رابطہ قائم کر کے محکمۂ نوادرات سے بات کرے گا۔ ا ِس طرح اُسے اپنے لعل اور یاقوت کے زیادہدام وصول ہونے کی توقع 45
تھی۔ اچانک اسے خیال آیا کہ ہیروں کو ایک نظر دیکھا جائے ،اِس خواہشکےپیداہوتےہیاسنےاپنےکیبنکواندرسےتالہلگایااورکمر کے ساتھ لپٹی ہوئی گتھلی نکال کر سامنے رکھ لی۔ کیبن کے گول گول سوراخمیںسےسورجکیکرنیںاندرآرہیتھیں۔یاقوتاورلعلکے گتھلیسےباہرنکالتےہیبلیکبرڈکیآنکھیںچکاچوندہوگئیں۔اُنقیمتی چ ّپزوںمیںسےرنگبرنگکیتیزکرنیںپھوٹرہیتھیں۔رُسخلعل توایکگہرےرُسخگلابکیمانندنظرآرہاتھاجسکےاندرکئیچھوٹے چھوٹےسورجروشنہوں۔یہیحالیاقوتکاتھا۔اُسےخیالآیااگرکسی وجہ سے کپتان خزانے کے کمرے میں چلا گیا اور اسے معلوم ہو گیا کہ جڑاؤہارمیںسےقیمتییاقوتغائبہےتوکیاہوگا؟ یہاتنیبڑیچوریکاانکشافہوگاکرکپتانجانایسےایماندارشخص کےہاتھوںکےطوطے ُاڑجائیںگے۔وہکسیصورتبھیاتنیبڑیبدنامی 46
اوراسقدرشرمناکالزاماپنےسرپرلینےکواّیترنہوگا۔وہًانیقیجہازکو روک دے گا اور تمام مسافروں کے سامان کی تلاشی لے گا۔ اور اگر یاقوتپھربھینملاتووہایکایککیجامہتلاشیلینےسےبھیگریزن کرےگا۔بلیکبرڈکےجسممیںایکسنسنیسیپھیلگئیاوروہپریشانہو گیا۔ جس طرح کہ چور پکڑے جانے کے خیال سے پریشان ہوا کرتے ہیں۔اسکا ِدلچاہاکہوہجتنیجلدیہوسکےلندنپہنچجائےاورکسیکے ہاتھنآئے۔پھراسنےسوچاکہنہیںایسانہیںہوسکتا۔بھلاکپتانکوکیا پڑیہےکہخزانےوالےکمرسےمیںجاکرتلاشیلیتاپھرے۔ ”ٹھک۔ٹھک۔ٹھک“! بلیکبرڈکا ِدل ُاچھلکرحلقکےقریبآگیا۔دروازےپرکوئیدستک دےرہاتھا۔اسنےبڑی چ ُپزتیکےساتھقیمتی چ ّپزوںکودوبارہگتھلی میںبندکرکےاپنیکمرکےساتھباندھااور ُاٹھکردروازہکھولدیا۔ٹام 47
ایکرقعہلےکراندرآیا۔ ”چچاجان!یہخطکپتانصاحبنےدیاہے۔“ بلیکبرڈکا ِدلزورسےدھڑکنےلگا۔ ُاسکےماتھےپرپسینہآگیا۔اسنے دھڑکتے ِدل کے ساتھ اور کانپتی انگلیوں سے خط کھولا اور پڑھنے لگا۔ صرفایکسطرلکھیتھی: ”محترمیوقابلعزتبلیکبرڈصاحب! جُُم بے حد خوشی ہو گی اگر آپ چائے میرے ساتھ بیٹھ کر نوش فرمائیں۔ آپکاکپتانجانبروک۔“ بیکبرڈکیجانمیںجانآئی۔ ”یہخطتمہیںکپتاننےکبدیا؟“ 48
”ابھیابھیچچاجان۔میںراہداریمیںسے ُ زگررہاتھاکہکپتانصاحب جُُمملے۔وہجُُماپنےساتھکیبنمیںلےگئےاوریہخطاپنےذاتیپیڈپر لکھکردیا۔“ ”اچھادیکھو۔میرےآنےتک ُتکیبنمیںہیرہنا۔ ُتنےکھاناکھالیا؟“ ”کھالیاچچاجان“! بلیکبرڈنےٹامکو ِجزٹککرکہا۔ ”تمہیں ہزار بار منع کیا ہے کہ جُُم چچا جان مت کہا کرو۔ سر کہا کرو۔ جنابکہاکرو۔سمجھے؟“ ”سمجھگیاچچا۔۔۔معافکیجئےگا۔۔۔سمجھگیاجناب۔“ بلیکبرڈنےکپڑےتبدیلکئے۔چھڑیہاتھمیںلےکرسرپرباؤلرہیٹ رکھا اور کپتان کے کیبن کی سمت روان ہو گیا۔ بے چارہ ٹام کیبن میں 49
چیزوںکوقرینےسےرکھتےہوئےسوچنےلگاکہچچاجان ُاسسےنفرت کیوںکرتےہیں؟اُسےاپنابھتیجاسمجھنےکیبجائےایکگھٹیانوکرکیوںسمجھتے ہیں؟ ُاسکا ِدلاپنےمرحومماںباپکیتّبحمسےبھرآیا۔اگر ُاسکے ماں باپ زندہ ہوتے تو ُاسے یہ ِدن دیکھنے نصیب ن ہوتے۔ وہ اپنی خیالاتمیں ُگمکامکرتارہا۔ اُدھرمسٹبلیکبرڈنےکپتانکےکیبنکےباہرکھڑےہوکردروازے پرآہستہسےدستکدی۔ ”کون؟“اندرسےکپتانکیآوازانُسئیدی۔ ”میں،مسٹبلیکبرڈسر“! ”تشریفلائیے۔“ اور بلیک برڈ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ کپتان نے انتہائی خندہ 50
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166