Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore ڈوبے جہاز کا راز

ڈوبے جہاز کا راز

Published by Muhammad Umer Farooq, 2023-08-06 11:32:33

Description: اے حمید

Search

Read the Text Version

‫ایکتاریخی ّچاسواقعہ‬ ‫ڈوبےجہازکاراز‬ ‫اےحمی‬ ‫شیخغلامعلاینسن‬

‫ای ُببشکریہ‪:‬روشنئیڈاٹکام‬

‫انمولخزان‬ ‫سمندریجہازڈیونشائرسکونسےچلاجارہاتھا۔‬ ‫وہ رات ہی رات بحیرہ عرب سے نکل کہ اب مغربی افریقہ کے ساحل‬ ‫کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کی منزل انگلستان تھی۔ یہ جہاز‬ ‫ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت تھا اور اس میں کمپنی کے بڑے بڑے امیر‬ ‫سوداگر‪،‬ےّصحداراورانکیعورتیںاورےّچبسوارتھے۔یہجہازکوئیڈیڑھ‬ ‫‪5‬‬

‫سو فٹ لمبا تھا اور کمپنی کا سب سے طاقت ور‪ ،‬مضبوط اور تیز رفتار جہاز‬ ‫تھا۔سمندریڈاکوؤںکااقُمبلہکرنےکےلیےاسکےعرشےپرچالیس‬ ‫توپیںلگیہوئیتھیں۔اسسےپہلےکہہمکہانیشروعکریںآپکوہمیہ‬ ‫بتانابہتضروریسمجھتےہیںکہیہزمانکونساتھااورایسٹانڈیاکمپنیکون‬ ‫تھی۔‬ ‫آپنےاپنیتاریخکیکتابوںمیںیہتوضرورپڑھاہوگاکہپاکوہندپر‬ ‫انگریزوںنےپونےتینسوبرسکےقریبحکومتکی۔انگریزسب‬ ‫سےپہلےپاکوہندمیںتجارتکرنےوالےسوداگروںکےبھیسمیں‬ ‫آئے۔انہوںنےمُغلبادشاہعالمگیرسےاجازتلےکرمغربیساحلپر‬ ‫اپنیتجارتیکوٹھیاںبنائیںاوریہاںسےاونےپونےمالخریدکرانگلستان‬ ‫بھیجناشروعکردیا۔تجارتکےساتھہیساتھانگریزوںنےپاکوہند‬ ‫کیسیاستمیںبھیدخلدیناشروعکردیا۔ھچُکوقت ُگزرجانےکےبعد‬ ‫‪6‬‬

‫انگریزوں کے سیاسی جوڑ توڑ اور سازشیں مُغل دربار تک پہنچ گئیں۔‬ ‫غ ّداروںنے ُانکاساتھدیااورآجسےقرًابیدوسوبرسپہلےیعنی‪۱۷۷۰‬ء‬ ‫تکانگریزپاکوہندکیسرزمینپرقبضہکر ُُچچتھےاورمُغلیہخاندانکی‬ ‫عظیمال ّشاانحکومتسمٹسمٹاکر ِدیّلکےلالقلعےمیںدمتوڑرہیتھی۔‬ ‫ابانگریزوںنےدھڑادھڑیہاںسےمالودولت‪،‬سوناجواہراتاور‬ ‫انتہائیقیمتینوادراتسمندریجہازوںمیںبھربھرکرانگلستانروانکرنا‬ ‫شروعکرد ےی۔انمیںمُغلبادشاہوںکےتختوتاجبھیتھےاور‬ ‫شاہا ِناُودھاوردکنکیسلطنتکالوٹاہوابیشقیمتخزانبھیتھا۔‬ ‫جہاز ”ڈیون شائر“ بھی ایسا ہی لوٹا ہوا قیمتی اور انمول خزان لے کر‬ ‫انگلستانکیطرفجارہاتھا۔یہبہتبڑاجہازتھااورجیساکہہمپہلےبیانکر‬ ‫ُُ چچ ہیں‪ ،‬یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا سب سے مضبوط اور طاقت ور جہاز تھا۔‬ ‫اِس میں آرام دہ اور خوبصورت بے شمار کیبن تھے اور نہانے کا ایک‬ ‫‪7‬‬

‫تالاببھیتھا۔یہجہازپاکوہندسےلوٹکاماللےکرانگلستانتکدو‬ ‫رّکچلگا ُچ اچتھا۔ابوہتیسریبارخزانلےکرجارہاتھا۔اِسجہازمیں‬ ‫کروڑوں روپے کا سونا‪ ،‬چاندی‪ ،‬ہیرے جواہرات‪ ،‬قیمتی تاج‪ ،‬لعل و‬ ‫یاقوت‪ ،‬کمخواب سے بھرے ہوئے صندوق اور مُغل بادشاہ شاہجہان کا‬ ‫بنایاہوامشہو ِرزمانتختطاؤسبھیتھا۔جسکیقیمتکااندازہ ُاسدور‬ ‫میں بیس کروڑ روپے لگایا گیا ہے تھا۔ جہاز مئی ‪۱۷۸۲‬ء میں مدراس کی‬ ‫بندرگاہسےروانہوا۔‬ ‫مدراسسےانگلستانتکاسزمانےمیںبحریجہازچھمہینےکاطویلسفر‬ ‫طے کرنے کے بعد پہنچا کرتے تھے۔ اس سفر میں جہازوں کو سمندری‬ ‫طوفانوں کے علاوہ بحری ڈاکوؤں سے بھی اقُمبلہ کرنا پڑتا تھا۔ جیسا کہ‬ ‫آپنےجغرا فیےکیکتابوںمیںپڑھاہوگا‪،‬مئیجوناورجولائیاگست‬ ‫کے مہینوں میں سمندر چڑھاؤ پر ہوتا ہے اور اُس میں بڑے طوفان آیا‬ ‫‪8‬‬

‫کرتےہیں۔مگرجہازڈیونشائرچونکہبہتبڑاجہازتھااوراِسسےپہلےوہ‬ ‫اِسقسمکےموسموںمیںکئیبارسمندرمیںسفرکرچکاتھااسلیےجہاز‬ ‫کےکپتانکوفکرنہیںتھی۔بحریڈاکوؤںسےاقُمبلہکرنےکےلیےجہاز‬ ‫میںبڑیبڑیتوپیںلگیہوئیتھیں۔اساعتبارسےجہازکاکپتاناورسفر‬ ‫کرنےوالےسوداگربڑےخوشاورمطمئنتھے۔انہیںیقینتھاکہوہ‬ ‫کروڑوںروپےکےخزانےکےساتھخیریتسےوطنواپسپہنچجائیں‬ ‫گے۔‬ ‫لیکن ایک عجیب بات تھی کہ جس وقت جہاز مدراس کے ساحل سے‬ ‫روانہوئےتومسافرھچُکپریشانسےتھے۔جہازکےملازمبھیاپنےاندر‬ ‫ایکایسیبےچینیمحسوسکررہےتھےجواسسےپہلےانہوںنےکبھی‬ ‫محسوس نہیں کی تھی۔ ھچُک سوداگروں نے کپتان سے کہا بھی کہ سفر کا‬ ‫ارادہایکماہکےلیےملتویکردیاجائے۔مگرکپتاننےکہا‪:‬‬ ‫‪9‬‬

‫”سفرملتوینہیںکیاجائےگا۔جومسافرجہازمیںسوارہونانہیںچاہتاوہاُتر‬ ‫جائے۔“‬ ‫اسدوٹوکجوابسےمسافرخاموشہوگئےاورپھریہسوچکرمطمئن‬ ‫سے ہو گئے کہ جہاز بہت بڑا ہے‪ ،‬کئی بار انگلستان کا رّکچ لگا چکا ہے۔ اور‬ ‫جہاز کا کپتان بھی تجربہ کار ہے۔ جہاز کے کپتان کا نام ”جان“ تھا‪ ،‬وہ‬ ‫ادھیڑ عمر کا گٹھے ہوئے جسم والا ایک مضبوط آدمی تھا۔ اس کی داڑھی‬ ‫بھوریاورشانےچوڑےتھے۔بدنموسموںکیمارکھاکھاکرسختہوگیا‬ ‫تھا۔وہہنسمُکھ‪،‬ملنساراورحوصلہمندآدمیتھا۔لیکناسکےساتھہی‬ ‫ساتھوہاپنےملازموںکےساتھبڑیسختیسےبھیپیشآتاتھا۔ذراسی‬ ‫غفلتبھیبرداشتنہیںکرسکتاتھا۔کسیملازمسےکوئیغَلَطیہوجاتیتو‬ ‫اسےبےدریغہنٹروںسےپیٹنےلگتا۔یہیوجہتھیکہاسجہازکاساراعملہ‬ ‫بڑا فرض شنس‪ ،‬چوکس اور چاق و چوبند تھا۔ جہاز پر بڑی صفائی رہتی۔‬ ‫‪10‬‬

‫کھاناوقتپرتقسیمہوتا۔مسافروںکونہانےکےلیےتازہپانیملنا۔کسی‬ ‫مسافرکوذراسیبھیتکلیفہوتیتوفوراًڈاکٹرپہنچجاتااورتکلیف ُدورکردی‬ ‫جاتی۔‬ ‫سارےکاساراخزانجہازکے ِنچلےےّصحمیںلوہےکےایککمرےمیںبند‬ ‫تھا۔یہخزانبڑےبڑےصن ُدوقوںمیںمقفّلتھاجسپرہرسوداگرکانام‬ ‫اورپتہدرجتھا۔ابھیتکیہخزانانگریزیحکومتکیملکیتمیںنہیں‬ ‫آیا تھا۔ اس کے مالک ایسٹ انڈیا کمپنی کے سوداگر تھے جنہوں نے یہ‬ ‫خزانچالبازی‪،‬دھوکےاور ّ اعریسےلوٹاتھااورجوجہازپہسفرکررہے‬ ‫تھے۔ ُانکااِرادہیہتھاکہولایتجاکریہخزانحکومتکےہاتھبھاری‬ ‫رقمکےعوضفروختکردیاجائے۔اوراِسطرحکروڑوںروپےکماکر‬ ‫باقی رمُع آرام و عیش سے بسر کی جائے۔ قدرت اُن کے ا ِن ا ِرادوں پر‬ ‫مُشک زرارہیتھی۔قدرتکوھچُکاورہیمنظورتھا۔‬ ‫‪11‬‬

‫جہازکوسفرپرروانہوئےایکمہینہ ُگزرگیاتھا۔کسیکےوہموگمانمیں‬ ‫بھییہباتنہیںتھیکہانہیںتھوڑےہی ِدنوںبعدکسقدرخوفناک‬ ‫بلاؤںکاسامناکرناپڑنےوالاہے۔ ِدنکوجہازپرہرطرفبڑیچہلپہل‬ ‫ہوتی۔عرشےپرمسافررنگبرنگکیبڑیبڑیچھتریاںلگاکر ُانکے‬ ‫سائےمیںآرامکرتے۔عورتیںاورےّچباِدھر ُادھرٹہلتے چ ِ زپتے۔جہاز‬ ‫کےباورچیخانےمیںسینکڑوںمسافروںکےلیےقسمقسمکےکھانے‬ ‫اّیتر ہورہے ہوتے‪،‬طرحدار انگریزاوررُپتگالی باورچی لمبی لمبی سفید‬ ‫ٹوپیاںپہنےایکدوسرےسےہنسہنسکےمذاقکررہےہوتے۔رات‬ ‫کواِسرونقمیںاضافہہوجاتا۔جہازکےہرکیبن‪،‬ہرکمرےمیںلیمپ‬ ‫روشن ہو جاتے۔ ا ِن روشنیوں کا عکس سمندر میں جھلمل جھلمل کرتا۔‬ ‫جہاز کے کامن روم میں امیر کبیر سوداگر تاش کھیلتے ہوئے خوب قہقہے‬ ‫لگاتے۔ رات گئے تک یہ محفلیں سجی رہتیں اور جہاز سمندر میں آگے‬ ‫‪12‬‬

‫بڑھرہاہوتا۔‬ ‫انگریز سوداگروں میں ایک ”بلیک برڈ“ نام کا سوداگر بھی تھا۔ وہ‬ ‫دوسرےتاجروںکیطرحزیادہامیرسوداگرنہیںتھا۔اسنے ِدیّلمیں‬ ‫ایکہندوجوہریکوقتلکرکےایکبیشقیمتلعلحاصلکیاتھاجوایک‬ ‫گتھلیمیںرکھکراسنےاپنیکمرکےساتھباندھرکھاتھا۔ ُاسلعلکا‬ ‫ذکراسنےکسیسےبھینہیںکیاتھا۔وہبڑےسکونکےساتھجہازکے‬ ‫جنگلےکےساتھلگکرشامکوسمندرمیںچلنےوالیہواسےلُطفاُٹھاتااور‬ ‫یہسوچسوچکرخوشہوتاکہولایتجاکروہلعلکوکمازکمایککروڑ‬ ‫روپےمیںفروختکرےگا۔اسرقمسےوہایکمحلخریدےگاجہاں‬ ‫وہ باقی رمُع عیش و عشرت میں بسر کر دے گا۔ مسٹ بلیک برڈ کے ساتھ‬ ‫ایکسولہسترہسالکالڑکابھیتھاجسکانام”ٹام“تھا۔ٹاممسٹبلیکبرڈ‬ ‫کا ُدورکارشتےدارتھااوروہمسٹبلیکبرڈکوچچاکہتاتھا۔بلیکبرڈنےاس‬ ‫‪13‬‬

‫شرط پر ٹام کا کرایہ ادا کیا تھا کہ وہ ولایت جا کر ساری رمُع بلیک برڈ کی‬ ‫خدمتکرےگا۔ٹامنےہامیبھرلیتھی۔اصلمیںٹامکابھیاس ُدنیا‬ ‫میںکوئینہیںتھا۔اسکےماںباپبچپنہیمیںمرگئےتھےاوراس‬ ‫نےبلیکبرڈکےپاسہیپرورشپائیتھی۔بلیکبرڈکا ِدیّلشہرمیںچھوٹاسا‬ ‫کاروبارتھا۔ٹام ُاسکےپاسنوکروںکیطرحرہتاتھا۔بلیکبرڈواپس‬ ‫وطنجانےلگاتوٹامنے ُاسسےدرخواستکیکہوہ ُاسےبھیواپس‬ ‫وطنلےجائے۔‬ ‫ٹام ِدنبھرجہازپربھیبلیکبرڈکیخدمتمیںمصروفرہتا۔یہشخص‬ ‫اسقدرسنگدلتھاکہآدھیراتکوبھیٹامکونیندسےاُٹھاکرکہتا‪:‬‬ ‫”ٹام!ارےاُٹھواورمیراسردباؤ۔سختدردہورہاہے۔“‬ ‫اوربےچارہٹامفور ًا ُاٹھکر چ ّ زپ ِدلچچاکاسردباناشروعکردیتا۔ٹامکی‬ ‫‪14‬‬

‫ساریرمُعخدمتمیںگزریتھی۔اسنےآنکھکھولیتواپنیماںکوباپ‬ ‫کیخدمتکرتےدیکھا۔ماںکاانتقالہواتوٹامکیپرورشاُسکیخالہنے‬ ‫اپنےذےّملےلی۔کیونکہاُسکاباپسالمیںبارہمہینےباہررہتاتھا۔خالہ‬ ‫کےانتقالکےبعدٹامچچابلیکبرڈکےپاسآگیا۔اورپھرایکروزاسے‬ ‫یہخبرملیکہاسکاباپبرازیلکےجنگلوںمیںمرگیاہے۔ٹاماپنےباپ‬ ‫کویادکرکےبہترویا۔مگرصبرکرنےکےسواوہھچُکبھینکرسکتاتھا۔‬ ‫بلیکبرڈچچانےٹامکوایکزرخریدغلامکیطرحاپنےپاسرکھلیااوراس‬ ‫سےہرطرحکیخدمتلینیشروعکردی۔‬ ‫بلیکبرڈیوںتوبڑاخاموشطبعآدمیتھااورجہازپربھیوہزیادہکسیسے‬ ‫گ ُھلملکرباتنکرتاتھالیکناندرسےوہبڑاگہرااورسازشپرست‬ ‫حاسدآدمیتھا۔اسےایکایکباتکیخبرتھیکہجہازپرکسقدرسونا‬ ‫چاندی‪،‬ہیرےجواہراتلدےہیںاورکونکونسوداگرکیاکیاچیزلوٹ‬ ‫‪15‬‬

‫کھسوٹکرولایتلےجارہاہے۔اسےیہبھیمعلومتھاکہیہسارےکا‬ ‫ساراخزانجہازکے ِنچلےےّصحمیںلوہےکےایککمرےمیںبندہےاور‬ ‫اسکیچابیکپتانجانکےذاتی کمرےمیںہوئیہے۔جہازپرسوار‬ ‫ہونےسےپہلےجہازکےکپتاننےسبھیمسافروںسےانکیقیمتیچیزیں‬ ‫لےکراپنیذےّمداریمیںرکھلیتھیںاورانہیںرسیدلکھکردےدی‬ ‫تھی۔ لیکنبلیکبرڈنےاپنیکمرکےساتھبندھےہوئےقیمتیلعلکو‬ ‫چھپائے رکھا تھا۔ اس نے کپتان کو بالکل نہیں بتایا تھا کہ وہ ڈیڑھ کروڑ‬ ‫روپےکیمالیتکاقیمتی چ ّپزچھپائےہوئےہے۔‬ ‫اسکیوجہصرفیہیتھیکہبلیکبرڈبےحدکنجوساورشکیآدمیتھا۔‬ ‫اسےوہمتھاکہاگراسنےقیمتی چ ّ زپکپتانکےحوالےکردیاتووہاسے‬ ‫نقلی چ ّ زپسےبدلدےگا۔یعنیاسکےاصلیلعلکیجگہنقلیلعلرکھ‬ ‫دے گا۔ اپنا خزان تو اس نے اپنی کمر کے ساتھ باندھ رکھا تھا جس کی‬ ‫‪16‬‬

‫سوائےاسکےاورکسیکوخبرنتھی۔لیکناسکےساتھہیساتھوہ‬ ‫دوسروںکےخزانوںپربھیرُبینظررکھےہوئےتھا۔اسکے ِدلمیں‬ ‫بسایکہیخواہشمچلرہیتھیکہکسینکسیطرحجہازکے ِنچلےےّصح‬ ‫میںبندخزانےتکپہنچکراپنیپسندکیھچُکچیزیںوہاںسےاُڑالائے۔‬ ‫یہ کام کوئی اتنا آسان نہیں تھا۔ اس لئے کہ خزان لوہے کی دیواروں‬ ‫والےکمرےمیںبندتھااوراسکیچابیکپتانکےپاستھی۔بلیکبرڈنے‬ ‫کپتانکےساتھتعلقاتبڑھانےکافیصلکرلیا۔چنانچہایکروزجبکہ‬ ‫کپتانعرشےپرجنگلےکےساتھلگا ُدوربینسےسمندرمیںدیکھرہاتھا‪،‬‬ ‫بلیکبرڈبھیکھسکتاکھسکتااسکےپاسجاپہنچا۔‬ ‫”حبُصبخیرکپتانصاحب!میراخیالہےسمندراِسیطرحرُپسکونرہاتوہم‬ ‫بہتجلدولایتپہنچجائیںگے“!‬ ‫‪17‬‬

‫کپتانجاننے ُدوربینسےنظریںہٹائےبغیرکہا‪:‬‬ ‫”ضرور۔“‬ ‫بیکبرڈنےکپتانکیخوشامدکرتےہوئےکیا‪:‬‬ ‫”اورپھربھلاجسجہازکاکپتانآپایسابہادراورتجربہکارانسانہو‪،‬اسے‬ ‫طوفانوںکیبھیکیاپروا“!‬ ‫کپتاننےمُشک زراکربلیکبرڈکیطرفدیکھا۔‬ ‫”مسٹ!آپکتناسامانلےکرانگلستانجارہےہیں۔“‬ ‫”ھچُکبھینہیں۔میںتوایکغریبتاجرہوں۔میرےپاسسوائےایک‬ ‫ملازملڑکےکےاورھچُکنہیں۔“‬ ‫کپتاننےحیرانیسےبلیکبرڈکیطرفدیکھکرپوچھا‪:‬‬ ‫‪18‬‬

‫”بھلایہکیونکر ُمُمہوسکتاہےکہہندوستانسےایکانگریزتاجرخالی‬ ‫ہاتھوطنواپسجائے؟“‬ ‫بلیکبرڈنےسینےپرصلیبکانشانبناکرکہا‪:‬‬ ‫”میںقسم ُاٹھاکرکہتاہوںکہمیرےپاسسوائےایکبستراورچندکپڑوں‬ ‫کے اور ھچُک نہیں‪ ،‬میں مذہبی آدمی ہوں اور ایمانداری کو اپنی زندگی کا‬ ‫سبسےبڑااصولسمجھتاہوں۔میںنےآجتکحلالکیروزیکمائی‬ ‫ہےاورحلالہیکھایاہے۔میںنےہندوستانکیلوٹمارمیںکوئیہّصح‬ ‫نہیںلیا۔“‬ ‫کپتانمسٹبلیکبرڈکیباتوںسےبڑامتاثرہوا۔وہاپنیجہازرانیکیزندگی‬ ‫میں پہلے ایماندار انگریز تاجر کو دیکھ رہا تھا اور پھر اّکمر بلیک برڈ نے ھچُک‬ ‫اِسماہراناندازمیںایماندارآدمیکیاداکاریکیکہکپتانمتاثرہوئے‬ ‫‪19‬‬

‫بغیرنرہسکا۔اسنےکہا‪:‬‬ ‫”مسٹبلیک برڈ!جُُم آپسے مل کر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ اگر آپ‬ ‫مناسبسمجھیںتومیرےساتھکیبنمیںچلکرایککپچائےنوش‬ ‫فرمائیں۔“‬ ‫”شکریہ!ضرور‪،‬ضرور۔“‬ ‫بلیکبرڈکوبھلااورکیاچاہیےتھا۔وہیہیتوچاہتاتھا۔چنانچہوہخوشیخوشی‬ ‫کپتان کے ساتھ چائے پینے اس کے کیبن کی طرف چل پڑا۔ کپتان کا‬ ‫کیبن جہاز ڈیون شائر کا سب سے خوبصورت کیبن تھا۔ دیواروں کے‬ ‫ساتھقیمتیصوفےلگےتھے۔فرشپرشاندارایرانیقالینبچھاتھا۔ایک‬ ‫طرفبسترپررُسخریشمیچادریںپڑیتھیں۔الماریمیںجہازکاچاندیکا‬ ‫ماڈلسجرہاتھا۔‬ ‫‪20‬‬

‫”تشریفرکھیںمسٹبلیکبرڈ۔“‬ ‫تھوڑیہیدیرمیںوہاںچائےآگئیاورکپتاناپنےمہمانکےلیےچائے‬ ‫بنانےلگا۔‬ ‫‪21‬‬

‫یاقوتکیچوری‬ ‫باتوںہیباتوںمیںبلیکبرڈنےخزانےکاذکرچھیڑدیا۔‬ ‫”کپتانصاحب!ویسےتوہمنےہندوستانپرقبضہکررکھاہے۔ہندوستان‬ ‫کیہرشےہماریہے۔پھربھیہمیںاپنےپیارےیسوعمسیحکیتعلیمکو‬ ‫فراموشنہیںکرناچاہیے۔مگریہکسقدر ُدکھکیباتہےکہہمارےہی‬ ‫بعض انگریز بھائی لوٹ مار کر کے‪ ،‬قتل و ڈاکہ زنی کر کے مال اسباب‬ ‫‪22‬‬

‫انگلستان لےجارہےہیں۔ کیاانہیںاپنی موتبھولگئی ہے۔ہائے!‬ ‫انسانکسقدرلالچیہے۔ایکنایک ِدنہمسبکو ُ دخاکےحضورجانا‬ ‫ہے۔پھروہاںہمکیاجوابدیںگے؟“‬ ‫کپتانپائپلگارہاتھا۔وہبلیکبرڈکیباتسےبڑامتاثرہوا۔وہخودایک‬ ‫ایمان دار شخص تھا۔ اس نے کروڑوں روپے کا سامان ہندوستان سے‬ ‫انگلستانپہنچایاتھامگر کیامجالجوایکپائی کیبھیبےایمانی کیہو۔وہ‬ ‫چونکہخودایکنیکاوربھلاآدمیتھااسلئےاُسےایسےلوگپسندتھے‬ ‫جونیکیاوربھلائیکیباتیںکریں۔اسنےبڑیسنجیدگیسےکہا‪:‬‬ ‫”مسٹبلیکبرڈ!آپبالکلبجافرماتےہیں۔ہمانگریزوںنےہندوستان‬ ‫میںبڑاملُظکیاہے۔اورجبمیںسوچتاہوںکہمیںظالموںکیمددکررہا‬ ‫ہوںاوراُنکالوٹمارکاسامانلےجارہاہوںتویقینکریںمیراسرشرم‬ ‫سےج ُھکجاتاہے۔“‬ ‫‪23‬‬

‫اّکمربلیکبرڈنےتیرنشانےپرٹھیکبیٹھتےدیکھکرکہا‪:‬‬ ‫”آپبہتنیکآدمیہیںمسٹجان‪،‬جُُمتوآپکیصورتدیکھکرہی‬ ‫آپکیایّھچسیرتکالِِعہوگیاتھا۔لیکنآپشرمسارنہوں۔آپ‬ ‫بےقصورہیں۔آپکاتوپیشہہیجہازچلانااورمسافروںکومنزلپرپہنچانا‬ ‫ہے۔آپکوبھلااسسےکیاکہکوئیمسافرڈاکوہےیاشریف“!‬ ‫کپتاننےکہا‪:‬‬ ‫”یہتوٹھیکہےمسٹبلیکبرڈ۔لیکنمیںآپسےدرخواستکروںگا‬ ‫کہآپمیریبخششکےلیے ُدعاضرورکریں۔اسلئےکہآپایمان‬ ‫داراورمذہبیآدمیہیں۔خداوندآپکی ُدعاضرورقبولکرےگا“!‬ ‫”میںضرور ُدعاکروںگا۔“‬ ‫اّکمر بلیک برڈ نے کپتان پر اپنا خوب اثر جما لیا تھا۔ وہ چائے پر اس کے‬ ‫‪24‬‬

‫ساتھمذہب‪،‬دینایماناورپرہیزگاریکیباتیںکرتارہا۔پھرموقعدیکھ‬ ‫کربولا‪:‬‬ ‫”کپتانصاحب!آپکوایکباتکاضرورخیالرکھناچاہیےکہلوگوں‬ ‫نے جو آپ کی تحویل میں اپنا کروڑوںروپے کا مال دیا ہے‪ ،‬وہ محفوظ‬ ‫رہے۔لوگوںکوانکیامانتیںوُجںکی ُ وتںملجائیں۔“‬ ‫کپتاننےفور ًاجوابدیا‪:‬‬ ‫”اُسکیطرفسےتوآپبالکلبےفکررہیں۔میراریکارڈہےکہجہاز‬ ‫ڈیون شائر پر جب سے یہ چلا ہے ایک دھیلے کی بھی امانت میں خیانت‬ ‫نہیں ہوئی۔ جُُم کسی شے کا لالچ نہیں ہے۔ میں ُخداوند کی دی ہوئی‬ ‫نعمتوںسےمالامالہوں۔“‬ ‫بلیکبرڈجھٹبولا‪:‬‬ ‫‪25‬‬

‫”آپمیرامطلب َََغسمجھےہیںمسٹجان!خدانخواستہمیںآپکی‬ ‫تّین پر تو شک نہیں کر رہا۔ آپ تو انتہائی نیک اور ایماندار کپتان ہیں۔‬ ‫ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہر شخص آپ کی تعریف کرتا ہے۔ میرے کہنے کا‬ ‫مطلبیہتھاکہزمانبڑاخرابجارہاہے۔آجکلہرآدمیلوٹکھسوٹ‬ ‫میںلگاہے۔جہازپرہرقسمکامسافرسوارہوتاہے۔آپکوخزانےکے‬ ‫بارےمیںبڑاچوکساورہوشیاررہنےکیضرورتہے۔“‬ ‫کپتانقہقہہلگاکرہنسپڑا‪:‬‬ ‫”ارے مسٹ بلیک برڈ! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میری ساری رمُع‬ ‫سمندریجہازوںمیںقسمقسمکےمسافروںکےساتھسفرکرتےگزری‬ ‫ہے۔ میں تو انسان کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتا ہوں کہ یہ کون ہے۔‬ ‫کہاںجارہاہےاورکسارادےسےسفرکررہاہے۔“‬ ‫‪26‬‬

‫”اِسمیںکوئیشکنہیںکپتانصاحب!لیکناِس ُدنیامیںایسےلوگ‬ ‫بھیہیںجوآنکھوںمیںدھولجھونککرنکلجاتےہیںاورکسیکوکانوں‬ ‫کانخبرنہیںہوتی۔یہبتائیںکیاآپخزانےکیحفاظتکیطرفتسے‬ ‫مطمئنہیں؟“‬ ‫”کیوںنہیں!خزانجہازکےتہہخانےمیںجسکمرےمیںبندہے‪،‬اُس‬ ‫کیدیواریںاورچھتلوہےکےہیں۔ ُاسمیںجوتالہلگاہےاسےسوائے‬ ‫میرےاورکوئینہیںکھولسکتا۔“‬ ‫”آپکامطلبہےکہاسمیںنمبروںوالاتالہلگاہے؟“‬ ‫”ارےنہیںمسٹبلیکبرڈ!نمبروںوالاتالہتوکسینکسینمبرپرُ ُھکہی‬ ‫جاتا ہے۔ اس کمرے میں جو تالہ لگا ہے اس کی چابی ایک خاص بٹن‬ ‫گ ُھماانےسےکھلتیہے۔“‬ ‫‪27‬‬

‫ّعاربلیکبرڈنےفوراًکہا‪:‬‬ ‫”کپتانصاحب!ہمنےایسیبھیکئیچابیاںدیکھیہیں۔“‬ ‫کپتانجوشمیںآکراٹھا۔اُسنےکونےوالیالماریکھولکرایکآہنی‬ ‫ڈ ّبباہرنکالیاور ُاسےلےکربلیکبرڈکےسامنےآبیٹھا۔‬ ‫”یہدیکھئے‪،‬اسمیںوہچابیہے۔“‬ ‫اوراسکےساتھہیکپتاننےڈ ّبکےبائیںپہلومیںانگلیسےایکہلکاسا‬ ‫ٹہوکادیا۔ڈ ّبکاڈھکناُ ُھکگیا۔کپتاننےڈ ّبکےاندرسےایکچابینکال‬ ‫کربلیکبرڈکو ِدکھائی۔‬ ‫”یہہےجنابوہخاصچابی۔ابآپاسےلےجاکرنیچےخزانےکے‬ ‫کمرے کے تالے میں لگا دیں اور جُُم کھول کر دکھائیں۔ میں کہتا ہوں‬ ‫آپسارا ِدناسےگھماتےرہیںتالہہرگزنہیںکھلےگا۔“‬ ‫‪28‬‬

‫بلیکبرڈنےگرملوہےپرچوٹمارتےہوئےکہا‪:‬‬ ‫”اورآخرتالہکھلےگاکیسے؟“‬ ‫”یہدیکھیے۔۔۔یہ۔۔۔جبتکآپیہبٹننہیںگھمائیںگےتالہہرگز‬ ‫ہرگزنہیںکھلےگا۔“‬ ‫اسکےساتھہیکپتاننےجلدیسےکنجیڈ ّبمیںڈالدیاورفکرمند‬ ‫ساہوکربولا‪:‬‬ ‫”جُُمچابیکارازاصولیطورپرآپکونہیںبتاناچاہیےتھا۔لیکنخیرآپ‬ ‫نیکاوربھلےآدمیہیں۔“‬ ‫بلیکبرڈنےبڑیغیردلچسپیسےکہا‪:‬‬ ‫”کپتانصاحب!آپبےفکررہیں۔بلکہیوںسمجھیںکہآپنےچابیکا‬ ‫رازایک چ ّپزکےٹکڑےکوبتایاہے۔جُُمنآپکیچابیسےکوئیغرض‬ ‫‪29‬‬

‫ہےاورنخزانےسےکوئیواسطہہے۔میںتوایکدرویشاورفقیرآدمی‬ ‫ہوں۔ساریعمرہندوستانمیںرہااورآجخالیہاتھمحضایکملازماور‬ ‫دوجوڑسےکپڑوںکےساتھواپسوطنجارہاہوں۔“‬ ‫کپتاننےمُشک زراکرکہا‪:‬‬ ‫”شایداسیلئےمیںنےچابیکارازآپکوبتادیاہے۔آپکےلیےاور‬ ‫چائےبناؤں؟“‬ ‫”جینہیںشکریہ!میراخیالہےجُُمابچلناچاہئے۔بےسہاراملازملڑکا‬ ‫میراانتظارکررہاہوگا۔آپکیرُپفّلکتچائےکابہتبہتشکریہکپتان‬ ‫صاحب“!‬ ‫”ذ ّرہ نوازی ہے مسٹ بلیک برڈ! اور ہاں! میرے لئے ُدعا کرنی مت‬ ‫بھولئےگا۔“‬ ‫‪30‬‬

‫”بھلایہبھیکوئیبھولنےوالیباتہے! ُ دخاحافظ“!‬ ‫” ُ دخاحافظ“!‬ ‫بلیکبرڈبڑےسکونسےپادریوںکیطرحچلتاہواکپتانکےکیبنسے‬ ‫نکلکراپنےکیبنمیںآگیا۔کیبنمیںآتےہی ُاسنےبڑی چ ُ زپتیسے‬ ‫دروازہبندکیااوراطمینانکاایکگہراسانسلیا۔ٹاماسکےلیےپیالے‬ ‫میںانڈےپھینٹرہاتھا۔‬ ‫”یہکیاکررہےہو ُت؟“‬ ‫”جناب!آپکےدودھکےلیےانڈےپھینٹرہاہوں۔“‬ ‫”چھوڑوانہیںاوروہ۔۔۔وہمیریڈائریجُُمدےدو۔“‬ ‫ٹامنےالماریمیںسےبلیکبرڈکیسبزجلدوالیڈائرینکالکراسےدی۔‬ ‫بلیک برڈ ڈائری کی ورق گردانی کرتا رہا۔ پھر اس نے ایک جگہ گول‬ ‫‪31‬‬

‫دائرےکانشانڈالکرآگےھچُکالٹےسیدھےنشانلگائےاورڈائریرکھ‬ ‫دی۔‬ ‫”لاؤجُُمانڈےاوردودھدےدو۔“‬ ‫ٹاماپنےآقاکےلیےدودھمیںانڈےحلکرنےلگااوربلیکبرڈکے‬ ‫اّکمردماغنےبڑیتیزیسےسوچناشروعکردیاکہکپتانکےکیبنسے‬ ‫چابیکسطرح ُاڑائیجائے۔بہظاہریہکوئیلکشُمکامنہیںتھا۔جسڈ ّب‬ ‫میںخزانےکیچابیرکھیہوئیتھیاُسےکھولنےکارازبلیکبرڈکومعلومہو‬ ‫چکاتھا۔خزانےکاتالہکھولنےکےرازسےبھیوہواقفہوگیاتھا۔اب‬ ‫سوالصرفیہتھاکہکپتانکےکیبنسےیہچابی ِِکوقتاڑائیجائے‪،‬‬ ‫وہچاہتاتھاکہچابیاُسوقتچوریکرےجبکپتاناپنےکیبنسےکماز‬ ‫کمدوگھنٹوںلیےباہرجاچکاہو۔یعنیجسوقتوہچابیلےکرنیچےتہخانے‬ ‫میںجائےتواسوقتسےلےکرتہخانےسےواپسآکرچابیکیبنمیں‬ ‫‪32‬‬

‫رکھنےتککپتانواپسنآئے۔اسکےلیےضروریتھاکہکپتانکیروز‬ ‫ّرمہکیمصروفیاتکاغورسےمطالعہکیاجائے۔‬ ‫چنانچہبلیکبرڈنےایساہیکیا۔ایکدوروزکینگرانیکےبعدہیبلیکبرڈ‬ ‫کومعلومہوگیاکہسارے ِدنمیںشامچاربجےسےلےکرساڑھےچھ‬ ‫بجےتککپتاناپنےکیبنسےغیرحاضررہتاہے۔اسوقتوہجہازکے‬ ‫ڈیک‪،‬کچناورمشینرومکامعائنہکرتاہے۔بلیکبرڈنےفیصلکرلیاکہ‬ ‫وہچوریکےلیےیہیوقتےنُچگا۔ایکہفتہ ُگزرگیا۔اِسدورانمیں‬ ‫ُاسنےکپتانکےساتھگ ُھلملکراپنےتغلّقااتکواوربھیبڑھالیا۔اب‬ ‫وہبلاروکٹوککپتانکےکیبنمیںداخلہوجاتا۔ایکروزآسمانپر‬ ‫بادلچھارہےتھے۔سمندرکیلہریںدوردورسےآکرجہازکےپیندے‬ ‫سےٹکرارہیتھیں۔بلیکبرڈاپنےکیبنمیںبسترپر ٹلاپرانااخبارپڑھرہا‬ ‫تھا۔اخبارپڑھتےپڑھتےاسنےجیبمیںسےچاندیکیگھڑینکالکر‬ ‫‪33‬‬

‫وقتدیکھا۔چاربجکردسمنٹہوچکےتھے۔وقتہوچکاتھا۔‬ ‫بلیکبرڈنےچشمہلگاکرسرپرہیٹرکھااوراپنےکیبنسےباہرنکلگیا۔‬ ‫لمبیراہداریمیںسےگزرکروہبائیںپہلوکوگُ وھمگیا۔ذراآگےجاکرلکڑی‬ ‫کیبڑیخوبصورتسیڑھیاوپرچلیگئیتھی۔بلیکبرڈسیڑھیپرسےہو‬ ‫کراوپروالیراہداریمیںآگیاجسکےفرشپرقالینبچھاتھا‪،‬ابتین‬ ‫کیبنچھوڑکرسامنےکپتانکاکیبنتھا۔‬ ‫نبکلایکلبکررڈمُات ٹیّھکیلممیحںےسنکبھےاللیلےی ُراورکرگایہادا۔رُایسمینںےاِدجھیربُادسھےرلدویکہھاے۔کویہاتاںر‬ ‫کوئینہیںتھا۔وہچپکےسےکپتانکےکیبنکےدروازےپرجاکرکھڑاہو‬ ‫گیااوراسنےجلدیسےتارتالےکےسوراخمیںگ ُھم اائی۔کھٹاکسے‬ ‫دروازہُ ُھکگیا۔بلیکبرڈپلکجھپکنےمیںکیبنکےاندرتھا۔اندرجاتے‬ ‫ہی ُاسنےصندوقمیںسےڈ ّبنکالکرکھولیاوراسمیںسےچابیلے‬ ‫‪34‬‬

‫کرجیبمیںرکھلی‪،‬پھر ُاسنےکیبنمیںسےجھانککرراہداریمیں‬ ‫دائیںبائیںدیکھا۔وہاںکوئیبھینہیںتھا۔وہباہرنکلآیا۔کپتانکاکیبن‬ ‫اسنےویسےہیدوبارہبندکردیا۔‬ ‫اب ُاس کے سامنے ایک ہی مرحلہ تھا۔ جہاز کے ِنچلے ےّصح میں جا کر‬ ‫خزانےکےکمرےمیںداخلہونااوراسسےکوئیقیمتیہیراچراکرلانا۔‬ ‫بلیکبرڈراہداریسےنکلکرسیڑھیاں ُاترتاہواجہازکے ِنچلےےّصحمیںآ‬ ‫گیا۔جہازکے ِنچلےےّصحکیفضامرطوبتھیاورکافیکیخو ُ وشپھیلیہوئی‬ ‫تھی۔خزانےکےکمرےتکپہنچناکوئیلکشُمنہیںتھا۔اسلئےکہبلیک‬ ‫برڈکئیباراسکمرےکاجائزہلےچکاتھا۔یہآہنیدیواروں‪،‬چھتوںاور‬ ‫دروازےوالاکمرہجہازکےعقبیےّصحمیںتھااوریہاںتکپہنچنےکےلیے‬ ‫مال گودام سے ہو کر ایک تنگ سے راستے سے گزرنا پڑتا تھا۔ بلیک برڈ‬ ‫گوداممیںسےبھینکلگیااوریہاسکیخوشقسمتیتھیکہراستےمیں‬ ‫‪35‬‬

‫اسےکوئیبھیواقفکاراوراسکاجاننےوالانملا۔بلیکبرڈبڑےآرام‬ ‫اورسکونکےساتھخزانےکےکمرےکےدروازےپرپہنچگیا۔یہاں‬ ‫ھچُکاندھیراتھا۔اوریہبلیکبرڈکےلیےبہتموزوںتھا۔اسنےجیب‬ ‫سےچابینکالکراسکابٹندبایااورتالےکےسوراخمیںلگاکرگھمائی۔‬ ‫کھٹاککیآوازآئیاوردروازہُ ُھکگیا۔‬ ‫دروازہکیاُ ُھکاگویاعلبابااورچالیسچورکےغارکادروازہکھلگیا۔بلیک‬ ‫برڈ نے اندر داخل ہو کر اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔ اس کے سامنے‬ ‫کمرے میں جا بجا سونے چاندی کے نوادرات کا ڈھیر لگا تھا۔ وہ جلدی‬ ‫جلدیانچیزوںکودیکھنےلگا۔وہکوئیبھیبھاریبھرکمیاایسیچیزنہیں‬ ‫چراناچاہتاتھاجواسکیجیبمیںنآسکے۔بلیکبرڈکیتیزنگاہیںایک‬ ‫انتہائیقیمتیجڑاؤہارپرپڑیں۔یہہارایکصندوق چچیمیںبندتھاجسکاڈھکنا‬ ‫شیشےکاتھا۔ ُاسنےتارکیمددسےصندوق چچیکاتالہکھولااورجڑاؤہارکوغور‬ ‫‪36‬‬

‫سےدیکھنےلگا۔اسےہیرےموتیوںکیخاصپہچانتھی۔ہارکےدرمیان‬ ‫میںلگےہوئےایکبہتہیقیمتییاقوتکودیکھکر ُاسکیآنکھیںچکا‬ ‫چوندہوگئیں۔‬ ‫یہیاقوتبےحدانمولاورنادرروزگارتھا۔ولایتمیںاسکیقیمتبڑی‬ ‫آسانیسےوہرّتسہزارپونڈتکوصولکرسکتاتھا۔بلیکبرڈنےتھوڑیسی‬ ‫کوششکےبعدہارمیںسےیاقوتنکاللیا۔اِسقیمتی چ ّپزکواُسنے‬ ‫کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھا اور بڑے محتاط قدموں کے ساتھ چلتا‬ ‫دروازےکےپاسآکر ُرکگیا۔اسےیوںلگاجیسےکوئیشخصکسیسے‬ ‫باتیںکررہاہے‪،‬اسکااندیشہدرستتھا۔جہازکےدوملازممالگودام‬ ‫میںھچُکساماننکالرہےتھےاورساتھساتھباتیںبھیکررہےتھے۔‬ ‫بلیک برڈ دم بخود ہو کر کھڑا رہا۔ چند لمحوں کے بعد ان کی آوازیں دور‬ ‫ہوتے ہوتے بالکل غائب ہو گئیں۔ بلیک برڈ نے اطمینان کا سانس لیا۔‬ ‫‪37‬‬

‫ُاسنےبڑےسکونسےدروازہکھولا۔باہرنکلا۔آہستہسےدروازہبندکر‬ ‫کےتالہلگایا۔چابیجیبمیںڈالیاورواپسکپتانکےکیبنکیطرفچل‬ ‫پڑا۔جبوہکپتانکےکیبنمیںداخلہوکرصن ُدوقمیںچابیرکھنےکے‬ ‫بعدواپسپلٹرہاتھاتواُسےیوںانُسئیدیاجیسےکوئیدروازےکیطرف‬ ‫بڑھرہاہے۔ ُاسکاحلقایکدمخشکہوگیااور ِدلدھڑکنےگا۔مگر‬ ‫قدموںکیآوازراہداریمیںدورہٹتےہٹتے ُگمہوگئی۔بلیکبرڈنےسکون‬ ‫کاسانسلیااورجلدیسےکپتانکےکیبنکوتالہلگاکرراہداریمیںلمبے‬ ‫لمبےقدماُٹھاتاغائبہوگیا۔‬ ‫‪38‬‬

‫عذا ِبایہٰل‬ ‫جہازمڈغاسکرکوبہتپیچھےچھوڑآیاتھا۔‬ ‫ابوہجنوبیافریقہکی ِ چِنتکونکارّکچکاٹکرکیپآفگڈہوپکی‬ ‫خطرناکساحلیچٹانوںکےقریبسےگزررہاتھا۔یہخطرناکچٹانیں‬ ‫ساحل کے ساتھ ساتھ سمندر کے نیچے چالیس میل تک پھیلی ہوئی‬ ‫تھیں۔بریڈزڈراپکاڈینجرپوائنٹنکلچکاتھا۔جہازکاکپتانبرجپر ُدور‬ ‫‪39‬‬

‫بینلیےحبُصسےکھڑاتھااورسمندرکامسلسلجائزہلےرہاتھا۔یہاںسے‬ ‫ُ زگرتےہوئے ُاسےہروقتچوکسرہناپڑتاتھا۔ذراسیبےاحتیاطیسے‬ ‫جہازسمندرمیںجچ ُھ چتیہوئیاّٹچنوںسےٹکراکرپاشپاشہوسکتاتھا۔لیکن‬ ‫تجربہکارکپتانجانہمیشہبڑیمہارتکےساتھجہازڈیونشائرکواِن‬ ‫خونیچٹانوںسےنکالکرلےگیاتھا۔وہآجبھیمطمئنتھا۔ ُاسےاپنے‬ ‫تجربےاورمہارتپرپورابھروسہتھا۔بلیکبرڈبھیٹامکےساتھعرشے‬ ‫کےجنگلےکےساتھلگا ُدورکیپٹاؤنکےساحلکیسیاہلکیرکودیکھرہاتھا۔‬ ‫جہاز کے دوسرے مسافر بھی وہاںکھڑے جائزہلے رہے تھے۔ ُان‬ ‫سبکوعلمتھاکہوہایکانتہائیخطرناکسمندریکھاڑیکوعبورکررہے‬ ‫تھے۔کمزور ِدلتاجراورعورتیں ِدلہی ِدلمیں ُدعائیںمانگرہیتھیں‬ ‫کہجہازخیریتسے ُگزرجائے۔ٹامکےسنہریبالسمندرکیہوامیں‬ ‫اُس کے ماتھے پر لہرا رہےتھے۔بلیک برڈ کےچہرےپرفاتحان چمک‬ ‫‪40‬‬

‫تھی۔قیمتییاقوت ُاسکیتھیلیمیںانموللعلکےساتھاسکیکمرمیں‬ ‫بندھاتھا۔یاقوتکیچوریکاکسیکوبالکلعلمنہیںہواتھا۔اورہوبھیکیسے‬ ‫سکتا تھا۔ کوئی خزانے کے آہنی کمرے کی جانچ پڑتال کرتا تو حقیقت‬ ‫سامنےآتی۔‬ ‫دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان بالکل صاف تھا۔ سمندر میں ہلکی ہلکی موجیں‬ ‫ُاآٹنکھھروہںی تسھےیلںگا۔ئہوےابربڑجپرےکسھکڑواتنھااسورےجہچازلکرہےیا تھیے زن۔ ککپتےاسانتُدھورسابتیھن‬ ‫احکامدےرہاتھا۔کپتانکے ُکُحکےمطابقایکتنومندا ےنزجہازکی‬ ‫چرخیکوکبھیدائیںاورکبھیبائیںگ ُھماارہاتھا۔جہازکےپھولےہوئے‬ ‫بادبانوںمیںسےھچُکبادبانوںکولپیٹدیاگیاتھا۔جہازسائمنسٹونکے‬ ‫علاقےسےنکلکہابکا ٹنٹائینکےحلقےسےگزرنےلگاتھا۔‬ ‫اچانککپتاننےاّلچکرکہا۔‬ ‫‪41‬‬

‫”نارتھویسٹ۔۔۔‪۳‬ڈگری۔“‬ ‫اوراِسکےآرڈرکےساتھہیجہازتیندرجےکازاویہبناتےہوئےشمال‬ ‫مغرب کی طرف گ ُھوم گیا۔ کپتان کو اچانک جہاز کے بالکل سامنے ایک‬ ‫سیاہاّٹچنسی ُابھرتی ِدکھائیدیتھی۔جہازاِسسیاہچٹانسےبچکرآگے‬ ‫نکلاتواّٹچننےسمندرمیںغوطہلگادیا۔معلومہواکہوہایکبہتبڑی‬ ‫وہیلمچھلیتھیجوبھٹکتیہوئیاِدھرآنکلیتھی۔کپتاننے ُدوربینسے‬ ‫دیکھا۔ وہیل مچھلی کوئی دو میل کے فاصلے پر جا کر ایک بار پھر اُبھری۔‬ ‫اُسکےسرسےپانیکاایکزوردار ُبدف ّوارهچھوٹااورمچھلیغوطہلگاکر‬ ‫سمندرمیںغائبہوگئی۔‬ ‫نائبا ےنزنےکپتانسےکہا‪:‬‬ ‫”کیپ گڈ ہوپ میں وہیل مچھلیاں کبھی نہیں آتیں۔ یہ کہاں سے آ‬ ‫‪42‬‬

‫گئی؟“‬ ‫کپتاننے ُدوربینلگاتےہوئےکہا‪:‬‬ ‫”معلوم ہوتا ہے وہیل زخمی ہے۔ وہ راستہ ُ وبل گئی ہے۔ ًانیقی وہ گڈ‬ ‫ہوپکیسمندریچٹانوںسےٹکراکرمرجائےگی۔وہیلمچھلیجہازکے‬ ‫مسافروںنےبھیدیکھیتھی۔وہزورزورسےخوشہوکرتالیاںبجانے‬ ‫لگے۔ٹامنےبلیکبرڈسےکہا‪:‬‬ ‫”چچا!کیااِسمچھلیکابھیگوشتکھایاجاتاہے؟“‬ ‫بلیکبرڈنےہنسکرکہا‪:‬‬ ‫”تم ِنزے ُ دبھوکے ُبدھوہو۔احمقوہیلمچھلیکاگوشتنہیںکھایاجاتا۔‬ ‫بلکہ ُاسکیچربیسےتیلحاصلکیاجاتاہےجوکارخانوںمیںکامآتا‬ ‫ہے۔“‬ ‫‪43‬‬

‫جہازکیرفتاربہتہیتسُستھی۔معلومہوتاتھاکہوہپھونکپھونککر‬ ‫سمندر میں قدم رکھ رہا ہے۔ ایسے خطرناک ساحلی سمندروں میں جہاز‬ ‫ا ِسی محتاط رفتار کے ساتھ گزرا کرتے ہیں۔ اگر ذرا سی بھی رفتار تیز ہو‬ ‫جائے اور جہاز ساحلی چٹانوں کی وجہ سے سمندر میں پیدا ہونے والے‬ ‫بھنور میں پھنس جائے تو اس کا چٹانوں سے ٹکرا کر ڈوب جانا یقینی ہوتا‬ ‫ہے۔‬ ‫ڈیونشائردوپہرتکخطرےسےنکلچکاتھا۔‬ ‫جہازکاکپتانمسٹجان ُدوربینگلےمیںلٹکائےبرجسےنیچےاُترآیاتھا‬ ‫اور مسافروں سے ہنس ہنس کر باتیں کررہا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے‬ ‫سرمایہدارتاجرمُصییتسے ِنآنےکیخوشخبرینُسکربڑےہ ّش ااش‬ ‫ّباشتھےاورایکدوسرےکوراتکےکھانےکیدعوتیںدےرہے‬ ‫تھے۔بلیکبرڈکوتوپہلےہیمعلومتھاکہکپتانایکتجربہکاراّلمحہےاور‬ ‫‪44‬‬

‫ُاسےکیپگڈہوپکےسمندروںکابڑاتجربہہے۔وہاپنےکیبنمیںآکر‬ ‫بستر پر نیمدراز ہوگیا اورلندن میں چھپنےوالا ایکرُپانا اخبارنکال کر‬ ‫پڑھنےلگا۔اساخبارمیںمسٹسمتھاینسنایکاشتہارچھپاہواتھا۔یہ‬ ‫کمپنیپاکوہندپرانگریزوںکے ّعارانقبضےکےبعدبنیتھیاوراِسکا‬ ‫کامہیلوٹمارمیںحاصلکئےہوئےمالکواونےپونےخریدناتھا۔بلیک‬ ‫برڈاسسےپیشتربھیسمتھاینکمپنیکوجانتاتھا۔اُسےایّھچطرحمعلوم‬ ‫تھاکہیہکمپنیایسٹانڈیاکمپنیکےڈاکونماتاجروںسےہندوستانمیںلوٹا‬ ‫ہوامالخریدکرسرکا ِرانگریزیکےہاںمہنگےداموںفروختکرتیہے۔‬ ‫بلیکبرڈبسترپرلیٹےلیٹےہنسدیا۔ ُاسنے ِدلہی ِدلمیںفیصلکرلیاکہ‬ ‫وہ اپنا مال اس کمپنی کے ہاتھوں فروخت نہیں کرے گا بلکہ بلا واسطہ‬ ‫حکومت سے رابطہ قائم کر کے محکمۂ نوادرات سے بات کرے گا۔ ا ِس‬ ‫طرح اُسے اپنے لعل اور یاقوت کے زیادہدام وصول ہونے کی توقع‬ ‫‪45‬‬

‫تھی۔ اچانک اسے خیال آیا کہ ہیروں کو ایک نظر دیکھا جائے‪ ،‬اِس‬ ‫خواہشکےپیداہوتےہیاسنےاپنےکیبنکواندرسےتالہلگایااورکمر‬ ‫کے ساتھ لپٹی ہوئی گتھلی نکال کر سامنے رکھ لی۔ کیبن کے گول گول‬ ‫سوراخمیںسےسورجکیکرنیںاندرآرہیتھیں۔یاقوتاورلعلکے‬ ‫گتھلیسےباہرنکالتےہیبلیکبرڈکیآنکھیںچکاچوندہوگئیں۔اُنقیمتی‬ ‫چ ّپزوںمیںسےرنگبرنگکیتیزکرنیںپھوٹرہیتھیں۔رُسخلعل‬ ‫توایکگہرےرُسخگلابکیمانندنظرآرہاتھاجسکےاندرکئیچھوٹے‬ ‫چھوٹےسورجروشنہوں۔یہیحالیاقوتکاتھا۔اُسےخیالآیااگرکسی‬ ‫وجہ سے کپتان خزانے کے کمرے میں چلا گیا اور اسے معلوم ہو گیا کہ‬ ‫جڑاؤہارمیںسےقیمتییاقوتغائبہےتوکیاہوگا؟‬ ‫یہاتنیبڑیچوریکاانکشافہوگاکرکپتانجانایسےایماندارشخص‬ ‫کےہاتھوںکےطوطے ُاڑجائیںگے۔وہکسیصورتبھیاتنیبڑیبدنامی‬ ‫‪46‬‬

‫اوراسقدرشرمناکالزاماپنےسرپرلینےکواّیترنہوگا۔وہًانیقیجہازکو‬ ‫روک دے گا اور تمام مسافروں کے سامان کی تلاشی لے گا۔ اور اگر‬ ‫یاقوتپھربھینملاتووہایکایککیجامہتلاشیلینےسےبھیگریزن‬ ‫کرےگا۔بلیکبرڈکےجسممیںایکسنسنیسیپھیلگئیاوروہپریشانہو‬ ‫گیا۔ جس طرح کہ چور پکڑے جانے کے خیال سے پریشان ہوا کرتے‬ ‫ہیں۔اسکا ِدلچاہاکہوہجتنیجلدیہوسکےلندنپہنچجائےاورکسیکے‬ ‫ہاتھنآئے۔پھراسنےسوچاکہنہیںایسانہیںہوسکتا۔بھلاکپتانکوکیا‬ ‫پڑیہےکہخزانےوالےکمرسےمیںجاکرتلاشیلیتاپھرے۔‬ ‫”ٹھک۔ٹھک۔ٹھک“!‬ ‫بلیکبرڈکا ِدل ُاچھلکرحلقکےقریبآگیا۔دروازےپرکوئیدستک‬ ‫دےرہاتھا۔اسنےبڑی چ ُپزتیکےساتھقیمتی چ ّپزوںکودوبارہگتھلی‬ ‫میںبندکرکےاپنیکمرکےساتھباندھااور ُاٹھکردروازہکھولدیا۔ٹام‬ ‫‪47‬‬

‫ایکرقعہلےکراندرآیا۔‬ ‫”چچاجان!یہخطکپتانصاحبنےدیاہے۔“‬ ‫بلیکبرڈکا ِدلزورسےدھڑکنےلگا۔ ُاسکےماتھےپرپسینہآگیا۔اسنے‬ ‫دھڑکتے ِدل کے ساتھ اور کانپتی انگلیوں سے خط کھولا اور پڑھنے لگا۔‬ ‫صرفایکسطرلکھیتھی‪:‬‬ ‫”محترمیوقابلعزتبلیکبرڈصاحب!‬ ‫جُُم بے حد خوشی ہو گی اگر آپ چائے میرے ساتھ بیٹھ کر نوش‬ ‫فرمائیں۔‬ ‫آپکاکپتانجانبروک۔“‬ ‫بیکبرڈکیجانمیںجانآئی۔‬ ‫”یہخطتمہیںکپتاننےکبدیا؟“‬ ‫‪48‬‬

‫”ابھیابھیچچاجان۔میںراہداریمیںسے ُ زگررہاتھاکہکپتانصاحب‬ ‫جُُمملے۔وہجُُماپنےساتھکیبنمیںلےگئےاوریہخطاپنےذاتیپیڈپر‬ ‫لکھکردیا۔“‬ ‫”اچھادیکھو۔میرےآنےتک ُتکیبنمیںہیرہنا۔ ُتنےکھاناکھالیا؟“‬ ‫”کھالیاچچاجان“!‬ ‫بلیکبرڈنےٹامکو ِجزٹککرکہا۔‬ ‫”تمہیں ہزار بار منع کیا ہے کہ جُُم چچا جان مت کہا کرو۔ سر کہا کرو۔‬ ‫جنابکہاکرو۔سمجھے؟“‬ ‫”سمجھگیاچچا۔۔۔معافکیجئےگا۔۔۔سمجھگیاجناب۔“‬ ‫بلیکبرڈنےکپڑےتبدیلکئے۔چھڑیہاتھمیںلےکرسرپرباؤلرہیٹ‬ ‫رکھا اور کپتان کے کیبن کی سمت روان ہو گیا۔ بے چارہ ٹام کیبن میں‬ ‫‪49‬‬

‫چیزوںکوقرینےسےرکھتےہوئےسوچنےلگاکہچچاجان ُاسسےنفرت‬ ‫کیوںکرتےہیں؟اُسےاپنابھتیجاسمجھنےکیبجائےایکگھٹیانوکرکیوںسمجھتے‬ ‫ہیں؟ ُاسکا ِدلاپنےمرحومماںباپکیتّبحمسےبھرآیا۔اگر ُاسکے‬ ‫ماں باپ زندہ ہوتے تو ُاسے یہ ِدن دیکھنے نصیب ن ہوتے۔ وہ اپنی‬ ‫خیالاتمیں ُگمکامکرتارہا۔‬ ‫اُدھرمسٹبلیکبرڈنےکپتانکےکیبنکےباہرکھڑےہوکردروازے‬ ‫پرآہستہسےدستکدی۔‬ ‫”کون؟“اندرسےکپتانکیآوازانُسئیدی۔‬ ‫”میں‪،‬مسٹبلیکبرڈسر“!‬ ‫”تشریفلائیے۔“‬ ‫اور بلیک برڈ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ کپتان نے انتہائی خندہ‬ ‫‪50‬‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook