کہ ایّس ن ّوے فیصد صورتوں می فیصلہ راضی نامے کی صورت می ہوتا ہے۔ ہمارےہاںایساہوتووکیلاورانکےدلال،سرشتہداراوراہلکار،عرضینویساور وثیقہنویسبھوکےمریںاورکلہیایمپلائمنٹایکسچینجکےسامنےقطارباندھ کھڑےنظرآئیں۔ 101
ووہانچلو،ووہانچلو بےعیبذاتتوخداکیہےلیکنافسانہطرازیکوئیہمارےمغربیمص ّٹنفوںسے سیکھے۔چینکےمتعلقاکیلے امریکہمی اتنیکتابیں چھپ ُُچ ہیںکہ ُاوپرتلے رکھیںتوپہاڑبنجائےلیکناکثرانمیسےواشنگٹناورنیویارکمیبیٹھکےلکھی گئیہیں۔وہاںایسےریسرچکےادارےہیںزیادہترسیآئیاےکےخوا ِننعمت سےخوشہچینیکرنےوالے،جوآپکیطرفسےواحدمٹکلّممیچشمدیدحالات لکھکردینےکوتیارہیں۔آپفقطاسپراپنانامدےدیجئے۔بعضےپبلشنگہاؤس(ًالثم پرایگر) تو چلتے ہی سی آئی اے کے پیسے سے ہیں۔ مشہور رسالہ انکاؤنٹر بھی انہی اداروںسےسانٹھگانٹھرکھتاہے۔قیمتاسکیڈھائیتینروپےہےلیکنکراچی 102
کے ُباسٹالوںپرایکروپےمیملجاتاہے۔معلومہواپاکستانمیعلمکانور پھیلانےکےلیےاسکیقیمتخاصطورپررکھیگئیہے۔ہمچاہتےہیںکہچیزیں سستیہوںلیکنایسابھینہیںکہکلکلاںافیمسستیہوجائےتوہمکھاناشروعکر دیںاورزہرکیقیمتتینچوتھائیرہجاتےتوموقعسےفائدہاٹھاکرخودکشیکرلیں۔ آٹھ آٹھ دس دس آنے کی کتابوں کا سیلاب بھی آیا اور برابر آ رہا ہے جن کو اسٹوڈنٹایڈیشنکانامدیاجاتاہے۔پراپیگنڈےکیکتابوںمیچندکتابیںبےضرر قسمکیبھیڈالدیجاتیہیںکہدیکھیےہمارامقصدتوفقطاشاع ِتتعلیمہے۔ پچھلےدنوںایکایسیکتاببھیاسٹالپردیکھیجسکےمصنفکےمتعلقدعو ٰی کیاگیاہےکہاسسےکوئیباتچینکیچ ُھنیہوئینہیںہےکیونکہفّنصمبرسوں ہانگکانگمیرہاہے۔چہخوش،ہانگکانگمیبیٹھکرچینکےمتعلقکتابکاایسا ہی ہے۔۔۔۔ جیسے کلکتے می بیٹھ کر اور ڈھاکے سے نقل مکان کر کے آنے والے متمولمارواڑیوںسےانٹرویوکرکےپاکستانکےمتعلقکوئیکتابلکھدے۔چین کےکمیونوںسےمتعلقایسیایسیہولناککتابیںاورمضامینپڑھنےمیآئےکہ راتوںکینیندحرامہو۔مطلعصافہواتودیکھاکہکچھبھینہتھا۔چھوٹےکوآپریٹی اداروںکوبڑےکوآپریٹیاداروںمیبدلدیاگیاتاکہوسائلضائعنہہوں۔ان 103
سےزیادہسےزیادہفائدہاٹھایاجاسک۔کوڑےلگالگاکرلوگوںسےمحنتلینامحض لکھنےوالوںکےزرخیزدماغکیاختراعتھ۔کمیونکیاہیں،یہہمبھیدیکھآئےہیں اورہمسےپہلےاوربعدچینجانےوالےبھی۔یہاںٹائم،لائفاورپراپیگنڈے کےدوسرےآلاتشورمچاتےرہگئکہ19۵8ءمیبیکجستآگےبڑھنےکی تحریک ) (Great Leap Forwardنےچینکودسسالپیچھےپہنچادیاہے۔یہ شورتھماتومعلومہواکہگراںخوابچینیبیسسالاورآگےبڑھگئ۔پیکنگمی دتحستماہتکھے۔عدرریصاہئمے یایینگدسیسپعرظایزماآلدشام تناعامنایردتوم پںکلینتہعبمنیارتھباھ۔یاووسہای”نناککااشما“نتداحرریپلک اکسےی جستمیبنا۔شنگھائیکابھاریمشینوںکاکارخانہدیکھئےتوعقلگمہوجائے۔بیچمی روسسےبگاڑہوااورروسیمشیرمنصوبےادھورےچھوڑکرچینسےچلےگئاور کہکاجےالتواہگےبکدہداپلنہےومتنصےویہبباےکتاےنقنشےکبےھیلسیاےتتاھزیلانےۂشگوئ۔قثلایکبنبتجاہوئئیےا۔ناینسک نٹکےگچمیین 19۵7ء می چار سو کمروں کا ایک ہوٹل بنا جس کے باتھ روموں می ٹائل اور ہر کمرےمیفونتھا۔متعددلفٹبھیتھ۔معلومہواکہاسکیبنیادکھدنےسے تکمیل اور قبضے ت کل سترہ ہفتے لگے۔ اس می وہ بڑے بڑے درخت بھی شامل 104
تھجواسہوٹلکےاحاطےپرچھائےہوتےہیں۔ خیر ذکر کمیونوں کا تھا اور ان کے متعلق مغربی پراپیگنڈے کا۔ آج کل رُسخ محافظوں یعنی ریڈ گارڈز کے متعلق جو اتنا کچھ پڑھنے کو مل رہا ہے وہ بھی گرد ہٹ جانےپردیکھناچاہئے۔حقیقتکتنیتھاورافسانہکسقدر،خبروںپرہیجاناہےتو ماؤزےتنگکویہلوگکئیبارنشنۂاجلبناچکےہیں۔جہاںاسنےکسیتقریبمی شرکتکاناغہکیا،اخباروالےبولےجناب!ابکےتوضرورمرگیا۔جندنوںہم چینمیتھاندنوںامریکیاورجاپاناخباروںنےانکونئےسرےسےتہتیغکیا تھا۔ایکجاپاناخبارمیپیکنگمیمقیممغربیسفیروںکےحوالےسےخبرچھپی کہماؤصاحبایکدعوتمیگئتھوہاںانکوکھانےمیزہردےدیاگیا۔ دعوتمیفلاںفلاںلوگبشمولچاؤاینلائیموجودتھ۔ہمارےیہاںجسخبر کےمتعلقذراسابھیاشتباہہواسکےساتھمبینہوغیرہکالفظلکھاجاتاہےیایہتحریر ہوتاہےکہاسکیتصدیقتاحالنہیںہوئیلیکناسخبرکےساتھاسقسمکاکوئی تکلفنہتھا۔ ہمنےپیکنگمیماؤزےتنگصاحبسےملنےکیخواہشظاہرکیتویہجوابملاکہ اِندنوںپیکنگمینہیں،دیہاتمیگئہوئےہیں۔ہماراماتھاٹھنکاکہہونہہویہ 105
یباہینگانسہیہمےی۔ پبیڑراکےیمکیارتں کےا ونصظرا آلئہوےچک۔ااہسےکا۔جلھٹیلکانناتتھوومڑشکےل تدھناولںیکبنع بدیماہریاووہردقریرایئبے المرگتوانکواببھیظاہرکیاجاسکتاتھا۔چنانچہایکانگریزیروزنامےنےلکھا کہماؤزےتنگمیکہاںاتنیہمّٹکہتیزسک۔وہتودوآدمینیچےڈبکیمارےہوتے تھاورماؤکےدونوںپاؤںکواپنےکندھےپراٹھائےتھاناخبارنویسوںکوگھر پہنچانےمیچینیوںکوخاصمزہآتاہے۔ابماؤزےتنگصاحبنےہرجلسےمی شریکہوناشروعکردیاہے،چاہےوہکسیکےختنےیامنگنیکیتقریبہیکیوںنہ ہو۔ آئیےآجپیکنگسےووہانچلیں۔یہوہیشہرہےجہاںماؤزےتنگصاحبنے پیراکی کا مظاہرہ کر کے دشمنوں کی چھاتی پر مونگ دلا تھا اور اسی شہر می ہمارے دوستوں شرکت صدیقی اور اشفاق احمد کو ان سے شر ِف ملاقات حاصل ہوا۔ اشفاقاحمدصاحبنےتوسناہےاسشرفکوبرقراررکھنےکےلیےاسدنکےبعد سےہاتھبھینہیں دھوئے۔ بس رومال باندھے رہتے ہیں۔ کوئیبہتہیقریبی یدہوشہردسرہیاوتئونےنیاگینےگہاستیھپرسواےقمعصہافےح،ہاکوررشکنگےھاائیسکاستبے ّرکوئکیادوسسوکوممنیتلقملغکررتبےمہییںپ۔ڑتخایہرو، 106
گا۔ اصل می یہ ایک نہیں تین شہر ہیں۔ جن می ایک ہانکو ہمارے لیے زیادہ معروف ہے۔ کیونکہ انگریزوں نے کمزور چینی شہنشاہوں سے زبردستی کے م ِعناہندک،شنےگھکارئیکاےورجتانط نشہرنئوکںاےوعلرابونہدہارنگکاوہبوھیںتکھاوا۔پہنمےیتکمصمرئیکفاتمہویارلپےیلیکانتگھا،مایندیکمھنای چاہتے تھ لیکن ہم سے کہا گیا کہ سب جگہ ایک سی بات ہے۔ ووہان می دیکھو۔ وہاںکےوائسگورنرصاحبآپکابےچینیسےانتظارکررہےہیں۔احوالاس انتظارکاکچھاسقسمکاہےکہایکشاهصاحبقبائلیعلاقےمیجانکلے۔وہاںکے لوگوںنےبہتّزعتوتکریمکی۔نذرنیازسمیٹنےکےبعدانہوںنےواپسیکیٹھانتو میزبانوںنےکہا”واہشاہصاحب!ابآپکوجانےکوندےگا۔ہمتوآپکومار کریہیںآپکامزاربنائیںگے۔ہمارےگاؤںمیفیالوقتکوئیدرگاہنہیںہے۔ بہتدورجاناپڑتاہے۔خیرچینیلوگہماریدرگاہتونہبناناچاہتےتھ۔لیکنچین میپاکستانلوگشاهصاحبہیگنےجاتےہیںاورانکیعزتوتکریماسیپیمانےپر ہوتی ہے۔ پیکنگ می تو اور بھی بہت سے پاکستان تھ۔ ووہان والوں نے کہا کہ پاکستانادیبوںکوہمارےہاںبھیجدیجئےتوہماریبھیعیدہوجائے۔ ووہان کا شہر سرسری گزرنے کی چیز نہیں ہے۔ اس کے در و دیوار پر انقلاب کی 107
چھینٹیںہیں۔19۲4ءتا19۲7ءکیپہلیانقلابیسولوارمیجوچیانگکائی ی ِشاور بااسئٹیرںابانزگوموشالہوورںامکریےکیدجرمرینالنسہٹوئ۵ی۲۔19وءوہامنیاچنقیلانبیکحےکحوالامتتککااممطراکلعزہتکھار۔نایےنا ِلنوئنکی پہنچیںتولوگوںنےانسےیہیکہاکہبیبییہاںکیادیکھوگی،کچھدیکھناہےتوووہان جاؤ۔ ووہانمییکممئیکوایسیسردیتھکہاوورکوٹکےبغیرگزارہنہتھا۔اسیووہانکی گرمیکیشکایتشوکتصدیقیاوراشفاقاحمدسےبھیسنیجوہمسےڈیڑھدوماہبعد وہاںگئتھ۔کہتےہیںکہدہکتاتنوربناہواتھا۔راتکوپیٹپربھیگاہواتولیہرکھتے تھتونیندآتیتھ۔ ہماراہوٹل،وکٹریہوٹل،ابسےپچاسبرسپہلےکےیورپینطر ِزتعمیرکانمونہ تھا۔ اس کے آس پاس بھی نفیس ُدھلی ہوئی اینٹوں کے مکانات تھ۔ ہماری کھڑکیوںمیسےدریا،دریامیکشتیاںاورکشتیوںمیمالاسبابایکساحلیشہرکا مثالینظارہتھا۔اسشہرمیہمکویکممئیکیریلیدیکھنیتھ۔بھاریصنعتوںکاکارخانہ دیکھنا تھا۔ پارٹ ورک پارٹ اسٹڈی اسکول دیکھنا تھا۔ جس می پڑھنے والے کام کرتےہیںیاکامکرنےوالےپڑھتےہیںاورفارغالتحصیلہوتےہیذمہداریکے 108
صنعتیکامسنبھاللیتےہیں۔پہلیفیکٹریبھیہمنےعمرمییہیںدیکھی۔اسسے کپوہیلاےینگاسیسککےےلشُکپوکہااپوررووگرسامعتھتاکجااینسدااکزہہانوہپتھرابیا۔لنیککیناگیساآبجسےپتہالےہمسابارغییاآومردکسیرششاومر دریاپرکوئیلُپنہبنسکاتھا۔مالساماناورمسافروںکےعلاوہفوجیوںکیآمدورفت اورباربرداریکےلیےکشتیاںاوربجرےاستعمالہوتےتھ۔یہپلکوئیمیلبھر لمباہے۔ہمجوپلکےسرےپرپہنچےتوکاریںٹھہرگئیں۔پلکامحافظیامتولیجوکچھ بھی وہ تھا ہمارے خیر مقدم کو موجود تھا۔ اس نے ایک ایک پیتل کا بیج ہمارے کوٹوںپرٹانکاجسپرپلکاایکنمونہبناتھااورکہاآئیےبسماللہ۔یہکہہکروہایک لفٹکےپاسلےگیاکہصاحبانایکپیالیچائےتوپیلیجئے۔ عینپلکےپیلپائے کےجوفمیوسیعدالانوںوالینشستگاہتھجسکی کھڑکیاںدریاپرکھلتیتھیں،یہنشستگاہصوفوں،قالینوںاورتصویروںسےمز ِّ نی تھ۔حسبرواجپہلےاسپلکیتفضیلبتائیگئیکہبہتمختصرعرصےمیبنا۔پھر چائےآئی۔پھرپلکیسیرہوئی۔پوراپلتینمنزلوںمیہے۔اُوپرسےموٹریں ٹرکاوردوسراٹریفکگزرتاہے۔اسکےنیچےکیمنزلمیریلوےلائنہےاور اسکےنیچےسےپانکےجہازگزرتےہیں۔کلخرچاسپرتیرہکروڑروپیہآیا۔ 109
ہممیازرباینٹیسمےکپوےچاھنیےلکگبزےرکہاگاسپسلپکولکجیناع نظ ن ِم طنڑتواوںرنشاےبننایااسےناکایکیساےحمشتارثہرواہو؟ئےکہ تمایزبجامحنلنجےتناع نج نب ِ طسنڑوےکںہا:ن”ےبحناشیراب؟عکیداممیطبالدشبا؟ہِ“وتقبتاننےبازرنکوگمنرواےودیضاتاھاتحاکتہکاییکسیہ کقوسئمیاکویارحعمتایارطکتانخیہاکہلینںبہنیاںدیآیاں۔۔ہبملاکہرغلےطمیییزہباہونئینکےہماعذنار ن نتِ طکنڑیوکہںکہومتلرویّگقودںکوےادیس گئی اور ان لوگوں کے حوصلے ایسے بڑھے کہ انہوں نے اور کئی پل بنائے جن کی وسعتوشوکتکےسامنےیہہماراپلکچھبھینہیں۔ 110
اےمرےگھوڑےآہست یکم مئی کا پروگرام بہت رنگ رنگ تھا۔ ایک پارک می کسی کلچرل مرکز کی عمارت تھ۔اسکےایکبہتوسیعآڈیٹوریممیلوگوںکےلیےسینماکاانتظامتھا۔کچھ ادھرمداریکاتماشادیکھرہےتھ۔کچھدوسرےکھیلکھیلرہےتھ۔رنگرنگ لباس،طالبعلم،مزدور،غیرمزدور،تیریدرگاہمیپہنچےتوسبھیایکہوئے۔ہم نےاپنےلیےعوامیگیتوںکےایکپروگرامکوپسندکیا۔مختلفعلاقوںکیسنگیت منڈلیاںآئیںاوراپنےجوہردکھاگئیں۔ہمارےلیےترجمےکاانتظامبھیتھا۔گیت توبہتتھلیکنایکہمارےایساجیلگاکہہممصرعبہمصرعترجمہکرتےگئ۔ اُدھرانکاگیتختمہوا،اِدھرہمارامکملتھا۔انکوتوکیاسناتے،آپکوسناتےہیں۔ 111
یہعوامیگیتنئےزمانےکاہےاورجمبولجابرکےگیتوںکییاددلاتاہے۔ آہست آہست اےمرےگھوڑےآہستسبزہزارکےمنظردیکھ موٹردیکھٹریکٹردیکھ اُجلےصافگھروندےدیکھ باڑیاںکھیتطویلےدیکھ بجلیکےیہکھمبےدیکھ سبزهزارکےچرواہوںکے ہاتھوںکیمحنتکےپھل میبھیدیکھوںتوبھیدیکھ 112
اےمرےگھوڑےآہست آہست چاروںجانبسبزهہے اسسبزےپربھیڑیںہیں بھیڑیں۔۔۔جیسےآسمانپر بادلسےگِ ڑھآئےہوں آجرِمےدلمیبھیخوشیاں بادلبنگِ ڑھآئیہیں بادلبنکرچھائیہیں چاروںاورسہانےمنظرپوربتحھمدکھناُ ّپڑ میبھیدیکھوںتوبھیدیکھ 113
اےمرےگھوڑےآہست آہست گیتتواوربھیتھلیکنشعریتہمیںاسیگیتمینظرآئی۔باقیکااندازذی کےبولوںسےجانلیجئے۔ سردیسےنہیںڈرتے گرمیسےنہیںڈرتے محنتسےنہیںڈرتے کلفتسےنہیںڈرتے ہملوگتوجیالےہیں ہاںہمّٹوالےہیں 114
ہہتامویناگکچرووئییماپہییلساییومعرنمزدزیہالبدپھہییعکنمہدنہتگھ۔تیشنںھگ،۔ھواہوائوہیاںپمنرکیمانہریااییںہسمتاشسرانےیادساچوراھایرو،ری ِسنموچنیکوتمھمیییاںاکگہسرہتمساھرنےنِایچورڑرآبنخہہرتیری،ں منزل تھا یہ لگتا تھا کہ ابھی ابھی کارخانے سے آئی ہیں۔ زیادہ لوگ پیکنگ جاتے ہیں۔بہترینکاریںوہاںرکھنیچاہتیتھیںلیکنیہبھیچینیوںکیایکاداہے۔اگر کہوتمہارےملکنےبہتترقیکیہے،تووہکہیںگےاجیکہاںابھیتوبہتغریبی ہے۔ہاںکوششکررہےہیں۔پتلونوںپرلوگپیوندلگائےپھرتےہیں۔یونیورسٹ میگئتوپیوندوالےطالبعلمسبسےاگلیصفمیڈاکٹرکےہاںگئتووہبھی بیٹھامطبمیجھاڑودےرہاتھا۔پیونداسکےبھیدونوںگھٹنوںپرتھ۔پھرایک 115
دونہیںبعضوںکےلباسپرتودسدسبیسبیسپیوند۔یہباتنہیںکہچینمی کپڑےکاتوڑاہو۔بازاربھرےرُپے،خریداروںکے،ہجوماستطاعتبھیموجود ہے۔کمیوندکھانےگئتوبولےکیادیکھوگے؟اچھےبھیہیںاورایسےبھیجنمی اتربھیینکآمغیاوزنہدےکاھاوؤرل۔ویگہوباںکتاظِانہ نرکیکاحےنووااحلا؟تبکسیدیہکھےئ،ےشگاہر۔ہسمےکنوےئکیہچاا۔لہیمسیںمتیوالپنُداوبدر کچھپرانےزمانےکےدیہاتکامجموعہتھا۔کمیونکےدفترمیبھیدیہاتیوںنے میزکرسیاںخودہیٹھوکپیٹکر بنارکھیںتھیں۔ایککارخانہچھوٹیموٹیاور صنعتی مشینیں مرمت کرنے کا بھی اسی کمیون کا ہّصح ہے۔ ایک دوسری فیکٹری می۔۔۔اسےفیکٹریکہیئےیاپژادہکہیئے،سینیٹریپائپوغیرہبنتےہیںاورانسے معقولآمدنہوتیہے۔اسکےایکطرفکچھتیزاباوردوسرےکیمیکلبنانے کی فیکٹری بھی تھ۔ آگے ایک مرغی خانہ تھا۔ بڑی موٹی اور مسٹنڈی مرغیاں تھیں۔ ہمارے ہمسائے می ہوتیں تو ہم کبھی نہ چھوڑتے ،ضرور رُچا کر احباب کی دعوت کرتے۔ ایک طرف گائے بھینسوں کا باڑا تھا۔ ہمارے کوی جسیم الدّین تو وہیںڈیرہڈالکربیٹھگئ۔ایکگائےکوانہوںنےدوہابھی۔انکادودھپوچھا،کتنا دیتیہیں؟اورآیاخالصبھیہوتاہے؟ہمارےکویجیرہتےڈھاکےشہرمیہیںاور 116
یورپ،امریکہسبجگہگھومآئےہیںلیکندلانکادیہاتمیہے۔ہمڈھاکے جائیںتوہماریڑُگکیدعوتکرتےہیں۔اورگھرکوانہوںنےمویشیوںکاباڑابنارکھا ہے۔پچھلےآنگنمیپوراگلہکھڑاہےاورچونکہانکےٹائلٹکاانتظامایساہیہے بالعمومہمارےہاںہوتاہےاسلیےانکاہینہیں،سارےمحلےوالوںکامشامجاں ہمیشہرّطعمرہتاہے۔خیرتوہّصقیہکہکویصاحبکوانگائیوںسےبجزالگکرناپڑا۔ پھر بھی ان کی نگہ واپسیں می کچھ اسی قسم کی فریاد تھ۔ مینوں لے چلے بابلا لے چلےوے۔ 117
انکارخانوںمیبھیلوگوںکےکپڑےصافبےشکتھلیکنموٹےجھوٹے اور نیلے بد رنگ۔ خیر نیلا تو ان لوگوں کا قومی رنگ ٹھہرا۔ اب ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے بچ کر گاؤں می گئ۔ ارشاد ہوا کہ جس گھر می چاہو جاؤ۔ اچھے رُبے ہر طرح کے مکانات تھ۔ گھروں می زیادہ تر بوڑھیائیں تھیں یا چھوٹے ےّچب۔بڑیخندہپیشانسےگھرکےاندرلےجاتیں۔پرانےگھرتھ۔ایکبڑھیا نےبتایاکہانقلابسےپہلےتوہمارےپاسگھرتھہینہیں۔بسبیگاریمزدوروں کیزندگیتھ۔یہسارےگھرزمینداروںکیملکیتتھ۔لیکنابتوہمارےہیں، یہفصلیںاورکھیتبھی۔جوانبیٹےاوربہوئیںکامپرگئیہوئیتھیں۔ایکپڑوسکی بڑھیااسگھرمیچاولکوٹنےآئیتھ۔ہمارےدیہاتکیگِ ڑھگِ ڑھکرنےوالیچکٹِااں جنپرگھرکیبیبیتڑکےہیاُٹھکربیٹھجاتیہےاورجسکیسریلیآوازہمارےلیے لیوہرتو ایکایکاکمگدڑیھتایتھتاھ،جاسنچمیینیلکدڑیہای کاتاکیےکلہتیھےوبڑڑا جیاتکریرّقپیڑاتفاتہتھما اشویرنشڈماھٹنرگلہویگیککیےوانکسہ سرے پر ایک عورت اسے دباتی اور چھوڑتی تھ اور ایک لمبی لٹھیا سے چاولوں کو الٹی پلٹتی تھ کہ ہتھوڑے کے نیچے آتے جائیں۔ ہمارے مشرقی پاکستان می اب بھی دھان یونہی کوٹا جاتا ہے۔ خیر ایک طرف یہ تھا اس کے برابر ہی باورچی 118
خانہ۔۔۔اسیکمرےمیایکطرفکوچھوٹیسیچارفٹاونچیدیوارکھینچکرسؤرکا باڑابنارکھاتھا۔خوابگاہالبتہالگتھاورسارےگھرمیسبسےاچھیوہیہوتی ہے۔چھپرکھٹہرگھرمی۔اوپرچھت،اِدھر ُادھرکھینچنےکےلیےپردے۔اندر تخت۔اسپربیلبوٹےدارفرش۔جوکٹ ِف ِّٹٹاسگھرکی قریبقریبویسیہی دوسرےگھرکی۔باہرسےیہگاؤںہمارےہیدیہاتکاساتھا۔اوراندرگلیاںبھی۔ اس کمیون کے بعد اور بھی کمیون دو تین دیکھے۔ لیکن باقی سب کا احوال ان سے کہیںاچھا،تریّقیافتہ،ایکبارتویہخیالبھیہواکہجسطرحچینیعورتیںاپنیعمر 119
زیادہکرکےبتاتیہیںاسیطرحغیرملکیوںکودکھانےکےلئےانلوگوںنےکچھ کمیونوںمیغریبیکےحالاترکھچھوڑےہیں۔واللہاعلم 120
تنخواہہماریزیادہہے چنوں کو یہ تو معلوم ہی تھا کہ ہم شاعر ہیں۔ اب کیسے شاعر ہیں اس سے کسی کو کیا قبافحیہثبتہرھحا۔الایکساکاانلتمزایممرسکھٹتوےُکہتوھائ،اےہمیاکروُچ،ےاترجیماک ُنفنااویرساےیمقکر ُیرشک۔ئہےماجروسبےھیلہیمے مشکل یہ تھ کہ کس کو کس نام سے پکاریں سب گڑ بڑ ہو جاتا تھا۔ باقی تو سب انگریزیکےتھ،مسٹوُکالبتہاُر ُدوبھیبولتےتھ،اورانگریزیبھی۔ ُار ُدوبولتے تھسہجسہجلیکنصحیح۔زبانکااشتراکبھیعجبچیزہے،ہماریفور ًاانسےدوستی ہوگئی۔دیوا ِرچینسےواپسآتےمییہہمارےاورسیدوقارعظیمکےساتھبیٹھے۔ ہمنےپوچھا”میاںتنخواہکیاہے؟“ 121
بولے”ساٹھیوان“یعنیایکسوبیسروپے۔ ہمنےکہا”گزارہکیسےہوتاہے؟“ بولے”مزےمیہوتاہے۔یہپوراسوٹ،بششرٹاورپتلونتیرهروپےکاہے۔ مکانکاکرایہپانچروپے۔بجلیپانسباسمیشامل“! ہمنےکہا”تنہارہتےہو؟“ بولے”نہیںدوکمرےکافلیٹہے۔ایکاورصاحبہمیرےساتھرہتیہیں۔“ ”وہکونہیں؟“ہمنےپوچھا۔ بولے”ایکاسکولمیاستانہیں۔“ ہمنےسوچالیجئے،بےراہرویکیایک مثالتو سامنےآئی۔رازداریسے پوچھا ”میاںاسسےعشقوشقبھیجھاڑتےہوگے،آخرنوجوانآدمیہو۔“ شرماکربولا”جیہاںجھاڑتاہوں۔وہمیریبیویہے۔“ ”ہتتیرےکی“کہہکرہمتوچپہوگئ۔وقارعظیمصاحبنےپوچھاکہ”شادی 122
کیسے ہوئی تھ؟ کتنے گہنے ڈالے گئ؟ کتنا جہیز دلہن کے والدین نے دیا؟ آرسی مصحف ،چوتھ ،چالے وغیرہ کی تفصیل بتاؤ۔“ وہ حیران ہو کر بولا” :یہ کیا چیزیں ہیں؟ یہ ہمارے ہاں نہیں ہوتا۔“ ہم نے پوچھا۔ ”کل کتنا خرچ تمہاری شادی خانہ آبادیپرہوا؟“حسابلگاکربولا۔”بسپچاسیوان“یعنیسوروپےکےلگبھگ، اسمیآدھامینےڈالا،آدھامیریبیوینے۔“سیدوقارعظیمبولے۔”قاضی کیفیسبھیاسمیشاملہے۔“وُکصاحبنےکہا۔”نہقاضینہفیس،ایکشخص باہندےاھسدیےجئرےجس۔اٹراسرکنہےہملییجریے۔ےااوسرمکیرےدیفتبیرومییکجاےککارکرہخاانکوہہںمکیںےرِ نیمڑطشاومناںکسحےتچامیل چلنکیتصدیقکیاورہمارےحقمیدعائےخیرکی۔بسشادیہوگئی۔“ہمنےکہا ”پھریہاتناز ِرکثیر۔۔۔سوروپےکسباتپرخرچآئے؟“بولے”وہ؟اجیایک جوڑااپنابنایا،ایکدلہنکودیا۔میراجوڑاانہوںنےبنایا۔اُنکامینے۔اسکےبعد ہمنےدعوتکی۔لوگوںکومٹھائیکھلائی۔“ہمنےپوچھا۔”دلہنکےوالدیناور ظالمسماجکااسکہانمیذکرنہیںآیا۔“وُکنےکہا۔”ظالمسماجکوتومینہیںجانتا کونصاحبہیں۔ہاںانکےوالدینسےرضامندیضروریتھ۔ہمارےہاں بالعموملیجاتیہےاوروہعموًاماجازتدےہیدیتےہیں۔“ 123
وُچسےہمنےایکموقعپراحوالپوچھاتووہبولاکہ”میراباپفلاںشہرمیایک فخیوکدٹرچھینّ نمنییوکاامنلکیرتاتاہوہےںا۔وسرامٹیرھایبواڑابنھایئعنییباتییسکیوساوبنپیاتساروہپےلےیتنکخنواوہہپااتباھیہاپےر۔نمٹسی ہے۔“ہمنےپوچھا”کچھگھربھیبھیجتےہو۔۔۔۔؟“وہکہنےلگا”،ہاںماںکوپیسےبھیجتا ہوںاورپڑھتابھیہوں۔بیاےپاسکرلیاہے۔“ہمنےکہا”اسکابھیخاصاخرچ ہوگا؟“معلومہوااسکاکچھخرچنہیں۔پڑھائیمفتہے۔ ُیشبہتاچھاآدمیتھا۔ہنسمکھ،تیزطرار،لیکن ُنفذرارومانتھا۔خداجانےپیرحسام ال ّدینراشدیصاحبنےکیسےتاڑلیاکہمریضِعشقہے۔اسکینبضپرہاتھ رکھاتواسنےسباُگلدیاکہہاںاسدلکےجھروکےمیاک ُروپکیران ہے۔ہمتوخیردیگرعلومکیطرحاسمیبھیکورےتھلیکنہانگوُچکیجھیلپر چودھویںکیراتکوبارہبجےپیرصاحباوراعجازبٹالوینےاسکوحافظاورمیرکے اشعارکےحوالوںسےایسےایسےرُگبتائےکہاےکاشہمیںبتائےہوتے۔یاان صاحبوںنےخودبھیاستعمالکئےہوتے۔جبہمنےاسےچھوڑاہےتومحبتکے اثرسےبالکلہمایساہوگیاتھا۔آہیںبھرتاتھا،رُپدرداشعارپڑھاتھا۔راتراتبھر جاگتاتھا۔غاًابلپیرصاحبنےاسےکوئیوظیفہبھیبتایاتھااورتعویذبھیدیاتھا۔ہم 124
نےمزیدتحقیقنہیںکیلیکنیہسچہےکہازکا ِررفتہہوگیاتھا۔ آجہماراموضوعتنخواہہےعاشقینہیں۔ہاںرنگِطبیعتکیمناسبتسےباتلمبی کرگئ۔ووہانمیہمنےبھاریمشینوںکاایکجغادریکارخانہدیکھا۔فرلانگوں لمبی،دیوہیکلعمارتوںمیدیوہیکلمشینیںبھریتھیں۔ ُُککامکرنےوالوںکی تعداد سات ہزار ہے اور یہ ایک فیکٹری دراصل می فیکٹریوں کا مجموعہ ہے۔ ان ساتہزارمیسولہسوعورتیںہیںاوراوسطعمر۲7سال،باقیتفصیلاتجاننیہوں توہمارےدوسڈاکٹروحیدقریشیسےرجوعکیجئے۔وہریسرچکےآدمیہیں۔اگر کوئیآدمیچھینکتابھیتھاتووہاسمینوٹکرلیتےتھ۔ پاسہیفولادکاکارخانہتھا۔یہبھیدیکھنےکیچیزتھا۔لوہاپگھلتا،ڈھلتا،ضربیںکھاتا، ٹھنڈاہوتااورغلامبنتاسبدیکھا۔اسمیساڑھےتینہزارآدمیکامکرتےہیں۔ اہویسںط۔تہنخموانہے۵پو6چیھواا”ن یسعنبی اسیےکزیساودہتتنیخوساہرکووپنےپاتہاےہ۔ےڈایئہرایکںٹر۔ک۔و۔ڈی؟ڑ“مھعسلوویوماہونام ِل نتےڑم صاحبہیں۔ایکسوایّسیوانلیتےہیں۔پتہچلاکہچواینلائیاورلیوشاؤچیکی تنخواہیںساڑھےتینسویوانفیکسہیں۔صدرماؤزےتنگالبتہبیشقرارمشاہرہ پاتےتھ۔چارسویوان۔پچھلےدنوںجانےانکےجیمیکیاآئیکہکہہدیامجھے 125
اتنےکیضرورتنہیں۔غیرملکیمہمانوںکوکھلاپلاکربھیکچھبچرہتےہیں۔چنانچہ انکیبھیساڑھےتینسویوانکردیگئیہے۔ معلومہواکہیہاںلوگتنخواہخودہیگھٹاتےبڑھاتےہیں۔جبکسیکےکوئیبچہ ہوایاکوئیاورخرچبڑھاتوکارخانےیااسشہرکےلوگجلسہکرتےہیںاورکہتےہیں ہاںبھئیانصاحبکیپگاربڑھاؤ۔۔۔چنانچہبڑھجاتیہے۔ہاںآکرہمنےاپنی 126
بہنسےذکرکیاتوبولیں”،واہیہچینہےجسکیآپاتنیتعریفیںکرتےہیں۔ ماؤزے تنگ سے زیادہ تو تنخواہ آپ ہی کی ہے۔“ ہم نے کہا ”ہم سے زیادہ تنخواہ فلاںصاحبکینہیںکیا۔۔۔؟حالانکہوہہمسےبھیزیادہنالائقہیں۔“اسپروہ چپہوگئیں۔ کھانے تو ہم نے بہت کھائے۔ ایک سے ایک رُپ فّلکت سولہ سولہ کورسوںکے قدحےمیزپرآئےتھلیکنجومزااسقیمےکےنمکینمسالےداربندمیآیاجوہم نے ووہان کی اسٹیل فیکٹری می مزدوروں کی کینٹین سے ایک آنے می خرید کر کھایا،اسکامزہکبھینہبھولےگا۔ہمیہدیکھناچاہتےتھکہلوگکیاکھاتےہیں۔ اسایکبندمیخوشبوّ،ذلتسبھیکچھبندتھا۔ایکپیالہوُسپکااوراسکےساتھ ایکآنےکابند،آپبہتکھانےوالےہیں،تودولیجئے۔چاولبھیلےسکتےہیں۔ یہاںبھیگرمپانکیٹنکیچڑھیتھ۔کھاتےجاؤاوراپنےاپنےمگبھرکےپیتے جاؤ۔ چینمییہلوگاتنےمحتاطتھکہہمارےلیےکچنہیالگہوتاتھاجہاںکسینے گفتگو می سؤر کا نام لیا۔ انہوں نے کان پر ہاتھ رکھا۔ نہ نہ مسلمان ،اسلام۔ یہ تو کھانے کی بات ہے فلٹ ِکس گرین نے ایک کارخانے می دیکھا کہ اس کے ہیر کٹنگ 127
سیلونمیمسلمانوںکےلیےتولیےالگ،قینچیاںالگ،استرےالگ۔کیامجالجو کسیاورکااُستراکسیمسلمانکےبالوںکوچھوجائے۔شہرتیہہےکہمسلمانبہت صفائیپسندہوتےہیں،یہسچہےتوبڑیوُخشیکیباتہے۔ورنہ۔۔۔۔ 128
ابآپماؤزےتنگکاکلامسنئے افقسےآفتابابھرا،گیادو ِرگراںخوابی 129
قارئینکرام۔ابآپصدرماؤزےتنگکاکلامملاحظہ فرمائیے۔نئےچینکی شاعریمیاگرکہیںلطافت،نرمیاوررومانویتملتیہےتوفقطچیئرمینماؤکےہاں۔ یہانکی ُاندسمشہورنظموںمیسےساتہیںجوپچھلےدنوںپوریآبوتاب سےچینکےسرکاریپبلشنگہاؤسنےچھاپیہیں: پریوںکیگپھا (پریوںکیگپھا،لوشانکےپہاڑپرایکخوشمنظرجگہہے) رنگڈالےشف ِقشامنےشمشادکےپیڑ ابرِخاموشکےّکّلہیںفضاؤںمیرواں روپقدرتکاہےپریوںکیگپھامیمرکوز ق ّل ِہکوہپہہےنسُحیہاں،نسُحوہاں 9ستمبر1961ء 130
فروری1961ء ملیشیادستوںکیلڑکیاں (ایکتصویرپرآٹوگراف) روشنچہرے،بڑیدلاور،لانبیزلفیںشانوںپر صبحپریڈکےمیدانوںمیچینکیبیٹیاںآتیہیں اطلسسےیانرماورنازکریشمسےانہیںکیالینا دلوالیہیںاوردلاپنیوردیہیسےلگاتیہیں سرماکےبادل جاڑےکےبادلوںپہجمیہےمہینبرف جیسےکہاُڑتےپھرتےہیںگالےکپاسکے پیڑوںکےپھولجھڑچکے،باقیہےایکآدھ 131
ٹھنڈیہوائیںچرتیہیںیہسینۂفضا گرمیہےایکدھرتیکےانفا ِسنرممی باگھوںسےکبڈرےہیںہمارےجریجواں چیتےہوںیاکہریچھہوںانکابھیمنہکہاں طوفاںبا ِدسردمیغنچےتوخوشرہیں طوفا ِنبادسردسےمرتیہیںمکھیاں ۲6دسمبر196۲ء نظمپریوںکیگپھاکےمس ّودےکاعکس ایکدوسکےخطکےجوابمی چٹےبادلتیررہےہیںکیویکوہکیچوٹیپر ق ّل ِہسبزسےدو ِشہواپرراجکماریاںاُتریہیں 132
بانسوںکےپیڑوںپراببھیداغہیںانکےاشکوںکے لیکنابتوانکےروشناورچمکیلےپیراہ آسمانکےلالگلابیبادلوںکوبھیشرمائیں جھیلمیسرکشبرفیلیموجوںنےدھوممچائیہے دریاکاٹاپوبھیابتو دھرتیکےدہلانےوالےگیتوںسےگونجاٹھاہے اورمیسپنوںمیکھویاہوں اسپھولوںکیدھرتیکےسپنوںمیجسکو صبحکےسورجکیکرنوںکیجوتسداروشنرکھتیہے 1961ء 133
ُلشانپربتپرچڑھکر (یہکیاینگسیصوبےکاایکٹھنڈاپہاڑہے) م ِٹننسیدریااساونچےپربتکےنیچےبہتاہے جسکیتیکھیکگریںچڑھتامیچوٹیپرپہنچاہوں اورچوٹیکےاوپردیکھوہرےبھرےانپودوںکو میرینظریںساتسمندرپاریہاںسےجاتیہیں گرمہوائیںمینہکیبوندیںپانیوںپرٹپکاتیہیں نوندیوںمیدنُسرپیلےسارستیررہےہیں انکےسرپربادلدیکھ جھاگ ُاڑاتیموجوںکیوُپربکےتٹپرہلچلدیکھ تاؤچودھریکہاںگیاہے،کونپتابتلائےگا 134
دیسمیشایدآلوچوںکیکلیوںکےوہجائےگا فصلنئی ُاگائےگا۔ظالمہاتھزمینداروںکےکوڑےجبلہراتےتھ ہاںاسجنمبھوممیبیری،کیاکیاظلمکماتےتھ لالپھریرےآنجگایامحنتکشدہقانوںکو قرباننےنیاارادہبخشاسوختہجانوںکو آجانہینےسورجچاندسےانبرنئےبسائےہیں دیہاتوںمیدھاناوراّکمکھیتکھیتلہرائےہیں پیلیشامکیدھندکےاندر گھرکولوٹنےوالےجریجوانوںہیکےسائےہیں (یہنوندیاںدریائےیاینگسیکیشاخیںہیں۔تاؤچودھری(تاؤیوانینگ36۵ءتا 4۲7ء)ایکدہقانشاعرتھااورعلاقےکاعہدےدار۔عہدیداریاسنےتجدی اورجوگلےلیا) 135
جبانقلابیقوتوںنےناینک نٹگآزادکرایا چنگشانکوآجاک ڑبےطوفاںنےآگھیراہے فوجنےاپنیدریاکےاسپاراتاراڈیراہے دیکھودیکھوشہرکودیکھو بیٹھاباگھمچلتاناگ عظمتِرفتہجسنےاپنیپالیہےبلکہاوربڑھالیہے دھرتیانبرفتحکاڈنکاسنکرکیسےدہلےہیں اےبلوانو۔ہمکوکچیشہرتنہیںکماناہے بھاگنےوالےدشمنکاابنامونشنمٹاناہے قدرتبھیگرجاندارہو،اسکاجوبنڈھلجائے لیکنانسانکیدنیامی 136
ساگربھیشہتوتکیباڑیبنجائےاورپھلجائے اپری1949ء (چنگشانپہاڑیہےناینک نٹگکےمشرقمیاورچیانگکائی ی ِشکادارالحکومت تھا۔شہتوتکیباڑیکیحکایتیہہےکہایکچینیخاتوننےایکزمانےمیاتنی عمرپا لی کہ اس نے سمندروںکو خشک ہوتے اوران کی جگہ شہتوت کی باڑیاں لہراتےدیکھا) 137
باباقربانتولومکیکہان باباقربانتولومماؤزےتنگکیتصویرکےساتھ 138
سنکیانگتوہمجانہسککیونکہمعلومہوارستہلمبااوردشوارگزارہے۔ہوائیجہازمی بھیجائیںتوکئیدنلگیں گے۔ادھرہمارےوفدکےاکثرلوگمصروفآدمی تھ۔ اپنے کالجوں،یونیورسٹیوں اوردفترسے محدودچھٹیاں لےکرآئے تھ۔ یہاں اس کی تلافی کی صورت یوں نکلی کہ ڈاکٹر عالیہ امام نے ہمیں پیکنگ کے سنکیانگریستورانمیکھاناکھلایااورقو ِمںکےمحلمیہمنےسنکیانگکاایوان دیکھااوربیبیرسالتسےباتیںکیں۔ کھاناتووہیپلاؤاورکبابوغیرہتھجسسےپہلےاقبالاورنذرالاسلامکےبارے میغا نلباینڈگوئٹےقسمکیتقریریںہوئیںاورہماراکلامبھیانُسیاگیاجسمیہمپر دو سانح گزرے۔ ایک تو یہ کہ ہم نے اپنی طرف سے اپنی اچھی اچھی آسان آسان غزلیںپڑھیں،لیکن کسینے ایک حرفداد کا نہ دیا۔ منہمی گھنگھنیاں ڈالےبیٹھےرہے،دوسرےیہکہجبہمتھکہارکےاپنیجگہآکربیٹھگئتوایک پاکستانبیبینےازراہِاخلاقیہماریطرفجھککرپوچھاکہ”یہغزلیںجوآپنے پڑھیں،آپکیاپنیتھیں؟کیاآپشعرکہتےہیں؟“ قو ِمںکامحلہمارےہوٹلکےساتھہیملاہواتھاجسکانامقو ِمںکاہوٹل ہے۔چینمیکوئیباونقوم ِنٹن ِنہیں۔اصلچینیقومہانکہلاتیہےاورانہیکی 139
زباندنیامی چینیزبانمشہور ہے۔ہانکے علاوہ جو قومنِٹن ِن یا اقلیتیں ہیںوہ آبادیمیتوچھفیصدسےزیادہنہیںلیکنچینکےساٹھفیصدرقبےپرچھائیہوئی کہہیلاں۔تاےنممیی۔سنسکیےابنہگتکسےیممسسللمماانونہںیںمبلیکہسخوےدکہاچھتناقوجمکمہییںب،ھکیچمھسالیمغاورن،ہکیچںھجکور ُ ن ِہئغڑنی، کچھقزاقاورکچھازبک۔یہعلاقہچینیترکستانکہلاتاتھااوراسکیسرحدیںروسی ترکستانسےملتیہیں۔انہیقو ِمںکےلوگسرحدکےاسپاربھیرہتےہیں۔ تقسیمسیاسیاورجغرافیائیہے۔ قو ِمںکےمحلمیتمامیااکثراہماقلیتوںکےلیےایکایکایوانمخصوصہے جہاںانکےلباساورانکیمعاشرتکےنقوشمحفوظہیں۔یہیںانکیتاریخ بھی تصویروں می رقم ہے اور آج کل کی ترقی کے نقشے ہیں۔ ہمارے پاس وقت زیادہنہتھااسلئےفقطسنکیانگاورتبتکےایواندیکھے۔اسعمارتکیخوبصورتی اورشکوہکاذکرکیاکیجئے۔یہبھیاندسعمارتوںمیسےہےجوانقلابکےدسویں برسمیدسماہکیمدتمیتعمیرہوئیں۔نہایتمُح ّ الپتھروںکےفرشاورستون۔ پہلیمنزلپرجاکردہنےہاتھکوپہلاایوانسنکیانگکاہے۔رسالتنامکیایکچھوٹی سیلڑکینےجسکےہاتھمیایکبڑیسیچھڑیتھاورجسنےدوچوٹیاںکر 140
کےشانوںپرڈالرکھیتھیں،ہماراخیرمقدمکیااوراسکےبعدفرفرتقریرشروع کی۔یہتقریراسبارےمیتھکہانقلابسےپہلےمستبدامیروںکےعہدمی وہاں کے عوام کا کیا حال تھا۔ خود تو حرم بنا کر عیش کرتے تھ اور عام لوگوں کو بکریوںکادودھبمشکلملتاتھا۔زمینکےبھیوہمالکنہتھ،رعیتتھاورتعلیمکا سوالہیپیدانہیںہوتا۔پیداواربھییونہیسیتھابوہاںسارےعلاقےمی اسکولوںکاجالبچھاہے۔کارخانےہیکارخانےہیںاوراجتماعیکھیتسونااگلتےہیں، پہلےہمنےسنکیانگکےایکگیتکاذکرکیاہے : اےمرےگھوڑےآہست سبزہزارکےمنظردیکھو موٹردیکھٹریکٹردیکھ باڑیاںکھیتطویلےدیکھ بجلیکےیہکھمبےدیکھ اےمرےگھوڑےآہست 141
اسگیتمیسنکیانگکےعوامکااحسا ِسآزادیاوراحسا ِسفراغتبساہواہے۔ پھلوں،فصلوںاورمعدنیاتکیبہارہے۔سنکیانگکارقبہانگلستان،فرانساورجرمنی کےمجموعیرقبےسےبھیزیادہہےاورارمچیسنکیانگکادارالحکومتپیکنگسےکوئی تینہزارمیلکےفاصلےپرہے۔کرمائیکےعلاقےمیجوتیلکامرکزدریافتہوا ہےوہچینبھرمیسبسےبڑاہے۔ بیبیرسالتنےکیاکیاکچھفرمایایہتوہمبھولگئ۔ہاںوہاںشیشےکےشوکیسمی انہوں نے کمیونوں کے جو ماڈل بنا رکھے ہیں ان کی سر سبزی اور شادابی اب ت آنکھوںمیہے۔رسالتایکمقامیکالجمیپڑھتیہیںاورہاسٹلمیرہتیہیں۔ اسکےوالدینسنکیانگکےکھیتوںمیکامکرتےہیں۔زباناورقومیترسالت کیایغورہےجوسنکیانگکیاکثریتیقومیتہے۔باباقربانتولومجنکانامسبجانتے ہیںاورجنکیچیئرمینماؤزےتنگسےملنےکیاّنمتایّسسالکیعمرمی19۵8ءمی پوریہوئی،اسیقومسےہیں۔ انکیکہانبھیایکمثالیکہانہے۔انقلابکےوقتانکااثاثہکچھبھینہتھا،نہ مکان،نہزمین،نہمویشی۔فقطایکپھٹاکمبلاورپیتلکیایکٹوٹیکیتلی۔قرضکابار اسپرمستزاد۔ 142
19۵6ءکیزرعیاصلاحاتمیانکوکچھزمینملیاورایکمکانرہنےکو،اسکے بعدانہوںنےکچھلوگوںسےملکرامدا ِدباہمیکیایکٹیمبنائیاوریوںانکی زندگیمیپہلیبارخوشیاورخوشحالیکاعملدخلہوا۔قربانتولومکویہمعلومنہتھا کہپیکنگکتنیدورہے۔لیکنچیئرمینماؤکیزیارتوہضرورکرناچاہتاتھا۔ایکدن تڑکےہیاسنےاپنیبیویسےپراٹھےپکوائےاورگدھےپرزینکسکرپیکنگکی طرفکوروانہہوا۔کوئیپچاسساٹھمیلگیاہوگاکہاسےکچھلوگملےجنہوںنے بتایا کہ پیکنگ تین ہزار میل دور ہے اور گدھا وہاں ت نہیں جا سکتا۔ واپس آ کر انہوںنےکسیسےچیئرمینماؤکےنامچٹھیلکھوائیجسکاجوابجلدہیملگیا۔ماؤ بصڑاھااحوربانسےانسےجےاابپجنایاامدیا ِدکباتہصموییکریبھسیوجسیااپطوِٹنرٹِخاایرںبینواتئپیوںچاھویرا۔جتقماربعایپنیتودالووامرکباڑحھواصنلےہ میہّصحلیا19۵8ءمیاسےایکمثالیکارکنقراردیاگیا۔ جون19۵8ءمیپیکنگمیزرعیآلاتکیایکقومینمائشہوناتھ۔ ُن نخکے علاقےنےجسکوہمغزالوںکےواسطےسےجانتےہیںاورجوقربانباباکیزادبوم ہے،کچھکارکنوںکووہاںبھیجنےکافیصلہکیااورانمیقربانصاحببھیتھ۔ان کیخوشیکاکچھنہپوچھٹے۔انہوںنےکچھخشکخوبانیاںاورکچھمیوےایکپوٹلی 143
میباندھےاورایککپڑااپنیبیبیکےہاتھکا ُ ن ابہوااورکڑھاہواچیئرمینماؤکینذر کرنےکوساتھلیا۔سفرکاایکبڑامرحلہریکاتھا،جہاںکہیںریٹھہرتییہکھڑکی سےسرنکالکربےتابیسےپوچھتے۔”کیاپیکنگآگیا؟اُتروں؟“ آخرمنز ِلمقصودآئی،قربانصاحبکوچیئرمینماؤسےرُپزورمصافحہکرنےکاموقع ملا۔قرباننےتحفنذرکیےجوچیئرمینماؤکوبہتپسندآئے۔واپسآکرقرباننے پڑھناسیکھنااورابتواپنےعلاقےکیمشہورشخصیتہے۔کونسلکاممبرہے۔ ِ ن نکمیایکاورموقعہمیںسنکیانگکےنزدیکہونےکاملا۔وہاںسنکیانگکے نوجوان رقاصوں اور موسیقاروں کا ایک کلچرل طائفہ آیا ہوا تھا ،جنہوں نے سن یات سن میموریہالمی اپنے کمال دکھائے۔ انمی ایکگیت ”تو بنڑے کا 144
گیت“تھا۔چینیوںکوخودسمجھنےاورسمجھانےمیدتّقپیشآرہیتھکہتوبنڑہکیا ہوتا ہے۔ آخر ہم نے کہا چپ رہو ہمیں معلوم ہے یہی اپنا تونبہ تھا (تونبہ بجدائی نا۔۔۔ تار بنا)۔ ایک گیت کا عنوان تھا ”سمندر می سفر کرتے وقت قطب نما مض نٹ ّقرویرس ٹیوپہیاےں۔ ا“اوریآکئایونہرطجوڑفاےنلممبیےبھلٹمکبیےہڈوھئییلبےھڈیھڑاولںےکلبےانامس پسہنےےتھلاڑک۔یخاوبںصپوریراںت معلومہوتیتھیں۔پروگرامکےاختتامپرہماریانسےملاقاتکاانتظامہوا۔پہلے تووہ السلا ُم علیکم سنکربہت خوش ہوئے۔ اسکے بعد چینیمترجمنے تعارف شروعکرایا۔پرنسپلابراہیمخانکانامچینیلہجےمیکسیکیسمجھمینہآیا۔آخر می نے آگے بڑھ کر کہا۔ ”ابراہیم خاں۔۔۔۔“ سب نے اسے دہرایا۔ پھر جسیم الدّینتھ۔یہبھیانکیسمجھمیآگیا۔اورہمنےلفظ”شاعر“کاپیوندلگایاتوسب نےتالیاںبجائیں۔اسپرہماریسمجھمیآیاکہئیلفظمشترکہے۔ہمکوئیمین میکھنکالنےتوگئنہیںتھذٰہلااسکےبعدبھیسبکےناموںکےساتھشاعر لگاتے گئ۔ ان می سے ایسے بھی تھ کہ شعر موزوں نہیں پڑھ سکتے لیکن بڑی خوشیسےدادوصولکرتےگئ۔البتہپیرحسامال ّدینراشدینےجنکانامسب سے آخر می آیا۔ بڑے زوروں سے انکار کیا اور دونوں ہاتھ ملا کر کہنے لگے ”می 145
شاعرنہیںہوں،میشاعرنہیںہوں۔“ 146
وہدکاناپنیبڑھاگئ ٹوکیو می ہمیں اپنے ہوٹل کے کاؤنٹر سے ایک کتابچہ ملا ”ٹوکیو ،نائٹ لائف اینڈ شاپنگ“اسشہرغ ّدارکیدنکیزندگیکماورراتکیزندگیزیادہمشہورہے۔کوئی سالبھرہوارسالہٹائمنےلکھاتھاکہوہاںکےنائٹکلبوںمیاتنیبھیڑبھاڑرہتی ہے کہ بےچاری میزبانوں کو بیٹھنے کی اور کوئی جگہ میسر نہیں آتی سوائے معزز مہمانوں کی گود کے۔۔۔ خیر کھولا تو پہلا ہی باب تھا Comments For Single Menیعنیہدایتنامہّرجمدین۔مضمونکاقیاسآپخودکرلیجئے۔اس کیتشریحنہیںکیجاسکتی۔اتفاقسےاسیروزہمیںٹوکیوسےباہرنکوجاناتھا۔رستے میریمیاپنےایکمیزبانتھجوجنگسےقبلاٹلیمیجاپانکاسفیررہچکا 147
تھا۔عرضکیاکہ”دیکھئےیہکتابچہایکامریکننےچھاپرکھاہےاورضبطہوناکیا مکعنےیمآتعلپقککیاےاناسپبشہناوٹلوپلںکھاکےہکاےؤکنہٹبراورکںیسِ نےمڑملیتااماماہسےا۔انکوسباہمریجلاپےاجاننکیےعکویرتفویںس دیجئےاورپھراپنیمیزبانبارگرلیا ِکڑےگرلکوکہیںبھیسکوناورتنہائیکیجگہ پرلےجائیےاوراسسےفلسفےکیبحثکیجئے۔جاپانمردوںکوبھینہیںمعافکیا۔ لکھاہےکہسختلیچڑہوتےہیں۔اچھیاچھیلڑکیاںاپنےلیےرکھناجانتےہیںلیکن آپیہکیجئے،یہنہہوتویہترکیبنمبر۲آزمائیےوغیرہ۔۔۔معلومہوتاہےجاپانان کتابچوں کو نہیں پڑھتے۔ ہمارے ہاں تو ذرا اخباروں می احتجاج ہو اور پابندی لگ جائے۔“ وہ صاحب چپ بیٹھےسنتے رہے۔پھر بولے ”اجیکیا ہوتا ہے ان باتوںسے،ہم پابندیوںکےقائلنہیں۔“ ہمنےشرمندہہوکرکتابچہتہہکیااورجیبمیرکھا۔ابہانگکانگکی ُُ ن طسٹوکیو سے وہاں پہنچ کر اپنے ہوٹل می نہا دھو کپڑے بدل کر سڑک پر نکلے ہی تھ کہ ایکذاتتشریفنےروکا۔ 148
”کیاباتہے؟“ہمنےوُپچھا۔ بولا”چوکری چہٹے؟“ ہمنےکہا”ہمچینینہیںجانتے،انگریزیبولو“ کہنےلگا”میچینینہیںہندوستانبولرہاہوں۔سستاچوکریجوانچوکری۔“ ظالموںنےاس ِبعظیمکےانپڑھوںکوپھانسنےکےلیےچھوکریکالفظیادکررکھا ہے۔ہمنےکہا۔”ہتترےکی،بھاگ۔“لیکناسسےدورقدمپرایکسائیکل رکشاوالے نے،اسسے ذراآگے ایک اوربے فکرے نے رستہ روکا۔ مضمون وہی۔آخرمیخودوہاںسےبھاگناپڑا۔ ادھرہوٹلمیدیکھاکہٹیلیفونکےبرابرہیتختیلگیہےکہہمارےکرمفرماؤں کوبہتسےغیرمتعلقاورناشائستہلوگفونپربنفسِ نفیسآکر تنگکرنےکی کوششکریںگے۔ہمبارہبجےکےبعدکوئیایسافونملائیںگےنہکسیکوآنےدیں گےتاآنکہہمارےکرمفرماہمیںاسکےبرعکسہدایتنہکریں۔چینمییہسوچا بھینہیںجاسکتا۔ 149
سارےچینمیایکہیجسمفروشنہیں۔ایکبھیقحبہخانہنہیں۔ایکبھینائٹ کلبنہیں۔کوئیفلمخاصبرائےبالغاںنہیں۔دہیدہانویکےناولتنہیں۔ خیریت اسی می ہے کہ جیسے گئ ہیں ویسے ہی پھر کے آ جائیے۔ یوں آپ کا جی للچانےکےمواقعبھیزیادہنہیں۔لباستمیزہدشکنیکاکوئیعنصرنہیں۔عریان تو ایک طرف بغیر آستین کا چست لباس بھی نہ ملے گا اور نہ ٹخنوں سے اوپر کسی عورتکیٹانگنظرآئےگی۔بدکاریشوقکیکممعاشیضرورتکیزیادہہوتیہے سووہکسیکونہیں۔سبکھاتےکماتےہیں۔شادیکیمنزلآئیتورفیقِزندگیمل جائےگا۔تفریحکیحاجتہےتوتھیٹرجائیے،سینماجائیے،کلچرلپیلسجائیے۔کچھ کھیلئے۔لوگوںکوکرتبکرتےدیکھئے۔گھرآکرسوجائیے۔ہمارےایکرومانطبیعت کےساتھنےتنگآکرکہا۔”چینبڑابورملکہےجی۔“ یہباتانقلابسےپہلےنہتھ۔انقلابسےپہلےکاشنگھائیسینۂچینکاناسورکہلاتا تھا۔چوری،ڈکیتی،قتلوغارت،سمگلنگکاتوا ّڈہتھاہیقحبہخانوںکےلیےبھیدنیا بھرمیمشہورتھا۔اورپھردیکھتےہیدیکھتےیہباتیںخوابوخیالہوگئیں۔وہاںہفتے منانےکادستورنہیںکہایکہفتےکےلیےگداگروںکومحتاجگھرلےگئاورچند دنمیوہپھرکشکولبدسمصنوعیزخموںپرمکھیاںبھنکاتےواپسآگئ۔نہاِّک 150
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166
- 167
- 168
- 169
- 170
- 171
- 172
- 173
- 174
- 175
- 176
- 177
- 178
- 179
- 180
- 181
- 182
- 183
- 184
- 185
- 186
- 187
- 188
- 189
- 190
- 191
- 192
- 193
- 194
- 195
- 196
- 197
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266