چلتےہوتوچینکوچلی زیدیکےکارٹونوںکےساتھ اِنبانش
جنابابنانشصاحب! آپسےملکرمجھےبڑیخوشیہوئی۔آپکےچینینغموںکاترجمہکرکے پاک چین دوستی کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔ امید ہے کہ آپ واپس جانے کے بعد چین کے متعلق کچھ لکھیں گے اور پاک چین دوستی کو اور استوارکریں۔ پاکچیندوستیزندہباد! شانیون ۲۵اپری پیکنگیونیورسٹ شعبیزبانانشرقی
فہس دیباچہ 10 طب ِعسومکےموقعپر 1۲ کیاقافلہجاتاہے 16 حاتمطائیکےنقشقدمپر ۲۵ کچھچینکےالہدینوںاورجنوںکےبارےمی 37 عجائبنئےاورپرانے 4۵ ذرادیوا ِرچینت ۵7 ایکدناردوکےطالبعلموںکےساتھ 69 آپکیعمرکیاہے؟ 78
آزادیکیسختکمیہے 89 چینمیعورتیںنہیںہوتیں 94 ووہانچلو،ووہانچلو 10۲ اےمرےگھوڑےآہست 111 تنخواہہماریزیادہہے 1۲1 ابآپماؤزےتنگکاکلامسنیئے 1۲9 باباقربانتولومکیکہان 138 وہدکاناپنیبڑھاگئ 147 ہرقسمکیصفائیہے،سوائےہاتھکیصفائیکے 1۵7 خانصاحبکیبھوککمزورہوگئیتھ 166 ہماراصحیحمقامشنگھائیوالوںنےپہچانا 173
کرناتجویزٹوسٹکا 186 چینجانےوالےپہلےمسلمانہمنہیںتھ 19۵ ہمبھیایکدنکےلیےگوریلےبنگئ ۲06 سوچومیتیندن ۲13 حالسرنگوںکیلڑائیکا ۲۲۵ لانگمارچکیکہان (۲36 )1 لانگمارچکیکہان (۲49 )۲ اخبارتوہوتےہیں،لیکنخبریںنہیں ۲6۲
دیباچہ ہمکیااورہماراجاناکیا۔جہازمیبیٹھےاورزمینکیطنابیںکھینچلیں۔اندرونچینبھی اڑنکھٹولےاوردھویںکیگاڑیسےواسطہرہا۔یہبھیکوئیسیاحتہے،نہسرمی گردنہپاؤںمیآبلہ۔سیاحتکامنصبتومارکوپولوکاتھا،اِنببطوطہکاتھا۔صاحبو۔ اندنوںایکشخص ُاٹھتیجوانمیسیروسفرپرنکلتاتھاتوواپسیپر’اگرواپسیہوتی 10
تھ‘تواسکےپوتےاسکااستقبالکرتےتھ۔بعضوںکےتوپہچاننےوالےبھینہ ملتےتھ۔کمازکممارکوپولوکےساتھیہیگزری۔اورجباسنےیورپکےِدہع تاریککےباسیوںکوچینکیچکاچوندکیکہانیاںسنائیںتولوگوںنےاسےدنیاکے سبسےبڑےجھوٹےکاخطابدیا۔ 11
طبعِسومکےموقعپر یہ اس کتابکاتیسرا ایڈیشن ہے،اورروزنامہ جنگمی ان مضامینکی قسطوار اشاعتکوبھیشمارکیاجائےتوطبعچہارمکہیے۔ہمارےملکمیکتابوںکیمانگکاجو حال ہے اسے دیکھتے ہوئے اس کتاب کی یہ پذیرائی معمولی بات نہیں۔ لیکن یہ ساری خوبی موضوع کی ہے۔ لوگ اس عظیم اور نادر روزگار ملک کے بارے می زیادہ سے زیادہ جاننے کو بےتاب ہیں ،اس کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے نہیں تو کتابکےذریعےسہی۔محضاسلیےنہیںکہیہہمارادوسیاہمسایہہےبلکہاس لیےکہپوریدنیاکےلیےمنارۂنورہےاورآلائشوںسےپاکمعاشرےکےلیے دلیلِراہ۔امریکیہفتروزہ’نیوزویک‘صدرنکسنکیچینیاتراکےمتعلقسےان 12
امریکیاخبارنویسوںکاذکرکرتاہےجوحالہیمیچینسےلوٹکرآئےہیں؟ ”یہلوگجوکچھبتاتےہیںوہایکخوابمعلومہوتاہے۔ناممکننظرآتاہے۔پھلا روئےزمینپرکوئیایساملکبھیہوسکتاہےجسمیجرائمنہہوں،جنسیامراضنہ ہوں،گندیبستیاںاورجھگیاںنہہوں،فضااورپانمسممنہہو،عادیشرابخوار اورنشےبازنہہوںٰ،یتحکہچھوٹےبڑےافسراورماتحتکاامتیازبھینہہو۔“ بیشکجبتاپنیآنکھوںنہدیکھیے،یقیننہیںآتاکہکوئیملکتریّقبھیکررہاہو اورانآلائشوںسےمحفوظہوجنکااوپرذکرآیاہے۔جہاںچورنہہوںاورلوگوں کو گھروں می تالے نہ لگانے پڑتے ہوں۔ گران نہ ہو ،ذخیرہ اندوزی نہ ہو، بیروزگاری نہ ہو ،فحاشی نہ ہو ٹھاہ ٹھاہ فلمیں نہ ہوں اور ملاوٹ نہ ہو ،ٹریفک کے حادثےنہہوںاورجھوٹیاشتہاربازینہہو،ہمہگیرتعلیمکےساتھساتھسیاسیشعور کایہحالہےکہ”نیوزویک“ہیکےالفاظمی: ”آپکسیچینیدہقانسےکوئیسیاسیسوالکیجئےتووہمعقولجوابدےگا۔ایشیا کےکسیدوسرےملککےدہقانکیطرح ُ دبھوؤںکیطرحمنہنہیںدیکھتارہے گا۔“ 13
صحتکایہانتظامہےکہڈاکٹرلوگشانداردفتروںمینہیںبیٹھتےاوربیرونملک نوکریوںکیتلاشنہیںکرتے،بلکہلالٹینلیے،دواؤںکےبکساُٹھائےقریہقریہ گھومتےرہتےہیں۔یہوہیچینیلوگتوہیںکہسرپرچوٹیاںرکھےافیمکےنشےمی غین رہتے تھ اور جن کی اخلاقیات کا ناک نقشہ اب بھی ہانگ کانگ و سنگاپور کی گلیوںمیدیکھاجاسکتاہے۔لیکنیہانقلاب۔۔۔گراںخوابچینیوںکااسطور سنبھلنا کہ چمتکار معلوم ہوتا ہے ،کوئی راتوں رات کی بات نہیں ،اس کے پیچھے جدوجہد،قربانیوںاوربےلوثقیادتکیایکلمبیداستانہے۔ پاکستانادیبوںکاوفدجسکیسیاحتکیداستانیہسفرنامہہےاپری1966ءمی چینگیاتھا۔آجچینکاجادودنیاکےسرچڑھکربولرہاہے۔چیناقوا ِممتحدہکاممبر بنچکاہے۔دنیاکیسےبڑیطاقتکاسربراہاسکے َدرپرخودجاکردستکدیتاہے۔ خودہمارےملکمیسیاساورفکرکینہجمیجوانقلابآیاہے،اسمیچینکی مثالکوبہتکچھدخلہے۔ ؏جسوقتدیکھانہتھاابادھردیکھاتوہے اسایڈیشنمیکچھنئیتصویریںشاملہیں،ہمارےمحترمپیرحسامال ّدینراشدیکا 14
عطیہہیںکہاسسفرمیہمارےرفیقتھاورجنکیباغوبہارطبیعتکےجوہرہم پراسسفرمیکھلے۔ ابنانش 18فروری197۲ء 15
کیاقافلہجاتاہے ہم نے بہت کوشش کی کہ ہمارے چین جانے کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو ،لیکن تدبیرکندبندہتقدیرزندخندہ۔یہباتنہیںکہہمچھپچھپکربھیسبدلکربلا پاسپورٹچینجارہےتھ،یامغربیدنیاسےاسامرکوچھپانامقصودتھا،بلکہمحض دوستوںادرہمسایوںسےتعلقاتخوشگواررکھنےکےلیے۔تفصیلاساجمالکییہ ہےکہہمجبایرانگئہیںتوہماریجیبمیدوستوں،رشتہداروںاورہمسایوں ماںجایوںکیفرمائشوںکیایکلمبیل ِسٹتھ۔منجملہ 1۔ گیسپرچلنےوالاچولھاجسپرروٹیبھیپکسک ۲۔ پانچسیرکشمش،اچھیسیدیکھکر 16
3۔ فلپسکابڑاٹرانسسٹرریڈیو اصفہانتمباکوکاایک ُ ڑپا 4۔ جاپانڈنر ِ ِس ۵۔ ایکچھوٹاسامعمولیایرانقالی 6۔ شیرازکاوُخشبودارتیل،ایک ُ ّک 7۔ 8۔ کنگھیاںاورپراندے( ُچٹلے) 9۔ سوکھیہوئیمچھلیکےچندڈبے 10۔ سوئیٹربننےکیسلائیاں،آٹھنمبرکی کہنگمھایانںف،رماچئنشدوپراںندمیےساوےرصآرٹھفننممببررک8یاسولرائ0یا1کںیتسعومیٹیرلک ُر نپناب کئیےلاتسھک۔ی۔عبنایقفیقپطندچنردہ فرمائشکرنےوالوںسےہمارےتعلقاتکیپرانخوشگواریاورخلوصکبھیبحال نہہوسکا۔ 17
اسرازداریکےباوجودہمارےایکدوسنےہماریڈائریمیلکھواہیدیاکہ بھابھیکےلیےدوسوٹبروکیڈکے،ایکپریشرککراورایکسلائیمشینلےکر آنا۔ایکبزرگہمسائےمیسےتشریفلائےاورکہاکہآپکومعلومہےمی یہاں کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتا۔ میرے گھر می سب چیزی ولایت کی ہیں۔ میرے لیے مسالہ پیسنے کی بجلی کی مشین ضرور لانا۔ یہاں نہیں ملتی ،چین می مل جائے گی۔ ایک دوس کو معلوم تھا کہ چینی جوتا اچھا بناتے ہیں۔ وہ اپنے پاؤں کا ناپہمیںدےگئکہبسدوجوتےلیتےآنا۔قیمتیہاںآنےپرنذرکردوںگا بشرطیکہ میرے ناپ کے نکلے۔ ایک صاحب نے کہا پیکنگ کے تالابوں می رنگ رنگ کی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ ایک مرتبان میرے لیے بھر لائیو۔ ایک دوس ذرا روشنخیالقسمکےتھ۔انہوںنےفقطاتنیفرمائشپراکتفاکیاکہکامریڈماؤزے تنگسےمیراسلامکہنااوربتادیناکہمیانکےسیاسیبیاناتسےپوریطرحمتفق ہوں۔کچھصاحبوںنےجاتےہوئےتحفبھیساتھکئےجنمیایکسیٹچواین لائی کے لیے مولانا ابو الا علی مودودیکی تصانیف کا بھی تھا۔ لیکن زیادہ تر دوستوں نےخوداپنیتخلیقاتسےنوازا۔ہمارےدوسدیوانہبھاگپورینےاپناپھڑکت ہوئی ِدلگدازغزلوںکادیواناورراتوںکینیندحرامکرنےوالااردوناولدیتےہوئے 18
تاکیدکیکہانکوذاتیطورپرماؤزےتنگکوپہنچانا۔کسیاورکےہاتھمتبھیجنا۔ آجکللوگوںکااعتبارنہیں۔ جہازصبحچھبجےجاناتھالیکنکسینےکہاکہچاربجےہوائیا ّڈےپرپہنچناضروریہے۔ مطلب اس کا یہ ہوا کہ ساڑھے تین بجے سے پہلے گھر سے کوچ کرو اور ڈھائی بجے بسترِاستراحتسے ُاٹھکھڑےہو۔ہمنےوُپچھاکوئیایساجہازنہیںکہہماپنے وقتپرعلیالصبحآٹھساڑھےآٹھبجے ُاٹھیںاورناشتہکھاتےپانگھماتےچھڑی گھماتے دس گیارہ بجے ہوائی اڈے پر پہنچ جائیں۔ لیکن پی آئی اے کے باکمال لوگوںنےکہاکہجینہیں۔ہماریلاجوابپروازٹھیکچھبجےروانہہوجائےگی۔ ایکبارتوجیمیآئیکہنہجائیں۔چینتوکبھیبھیدیکھاجاسکتاہے۔آجراتکی 19
نیندناحقخرابہوگی۔لیکنکچھلوگجنکوہماراپاکستانمیمسلسلزیادہدنقیام جانےکیوںکھلتاہے،کہنےلگے”میاںجاؤ،ہچرمچرکیوںکرتےہو۔“انہیمیسے کسینےہمارےبازوپرامامضامنبھیباندھدیا۔یعنیہمارےنہجانےکیراہبالکل ہیمسدودکردی۔ ہم صبح کیسے اٹھے یا اٹھائے گئ ،اس کی داستان کا یہاں موقع نہیں لیکن ٹھیک چار بجےہوائیاڈےپرپہنچے۔انتظارمخدومیپیرحسامال ّدینراشدیاورپروفیسروقار عظیمکاتھا۔چینجانےوالےادیبوںکےوفدمیہمتینکوکراچیسےروانہہونا تھا۔تینآدمیڈھاکےسےاسآ ِبجومیملنےتھ۔پرنسپلابراہیمخاں،کوی جسیم الدّین اور ڈاکٹر انعام الحق لاہور سے ،اعجاز بٹالوی اور ڈاکٹر وحید قریشی بھی ڈھاکےپہنچچکےتھ۔اوریوںیہسارسوںکاقافلہڈھاکےمیمکملہوکرآگےچلنا تھا۔ جبہمنےکھڑےکھڑےایکٹانگکابوجھدوسریپراوردوسریکاپہلیپرمنتقل کرتےہوئےایکگھنٹہگزاردیاتوپیرحسامال ّدینراشدیتشریفلائے۔انکے جلومیڈاکٹرعبداللہچغتائیبھیتھجوپاکستانمیترکیٹوپیپہنےوالےغاًابلآخری مسلمانرہگئہیں۔دیکھاکہبڑےپیرصاحبمخدومناعلیمحمدراشدیبھیانہیں 20
دِباکرنےآئےہیں۔ایکدوچینیاورافری ِقٹ ِوںکیایکٹولیبھیاسیجہازسےجارہی تھاورانمیایکصاحبافریقہکےکسیملککے،بڑیمشکلمیگرفتارتھ۔ انہیںانگریزینہآتیتھاورپیآئیاےکےآدمیکوفرنچمیدخلنہتھا۔آخر ڈاکٹرعبداللہچغتائیکی1933ءکیفرنچسےمسئلہحلہوا۔وہاسکیانگریزی ُاسے سمجھاتے ،اس کی فرنچ کا اس کے لیے ترجمہ کرتے۔ کون کیا سمجھا یہ ہمیں معلوم نہیں۔اتنادیکھکردونوںچپہوگئ۔ابہمیںانتظارفقطپروفیسروقارعظیمکاتھا۔ ساڑھے پانچ بجے ت ان کی راہ دیکھی۔ پھر پی آئی اے والوں نے کہا کہ صاحبو جلدیچلوورنہتمبھیرہجاؤگے۔جہازچلنےکوہے۔ابیہاںکوئینہیںکوئینہیں آئےگا۔ وقارعظیمصاحبکاہّصقبعدمیمعلومہوا۔ٹکٹپرٹریولایجنٹنےبجائےچھکے ساڑھےچھبجےکاوقتڈالدیاتھا۔اوروقارصاحبلدےپھندےعزیزوںکے جلومیچھبجےہوائیاڈےپرپہنچےتوہماراجہازپرِپروازکھولچکاتھا۔وقارصاحبکو تیندنکراچیمیچینکیاگلیپروازکاانتظارکرناپڑا۔ ڈھاکہمی جہاز گھنٹہبھر ٹھہرنا ہے۔ ہمارے باقی رفیق یہاںہمسےآنملے۔ پرنسپلابراہیمخاںوہیازلی ابدیمہربانمسکراہٹلیے،کویجسیمال ّدیناسی 21
طرحکنگھےسےبےنیاززلفیںلہراتے،ڈاکٹرانعامالحقبنےٹھنے،اعجازبٹالویبھیاور ڈاکٹر وحید قریشی بھی۔ ڈھاکہ سے اس جہاز کو پرواز کئے بس اتنی ہی دیر لگی ہو گی بکجھہاادئیجیئہےو۔سچنٹدسلمنحےے امعلیاآن کیپا ِ”نص ناکحبکاےنہاوپانئےی ڈھاکہ پہنچنے می جتنی کراچی سے لیجئے اور سگریٹ حفاظتی بند باندھ اڈےپراتریںگے۔“ یہ ائی ہوسٹس ِدکھنےمی چینیلگتی تھیں لیکن بولتی انگریزیکے علاوہ اردو بھی تھیں۔آخرہمّٹکرکےہمارےایکساتھنےانکااتاپتہپوچھہیلیا۔وہکراچی کےرہنےوالےچینیوںمیسےتھیں۔یعنیپاکستانچینی۔ڈھاکہسےچینجہازجاتا ہے تو اس می پورے مسافر شائد ہی کبھی ہوتے ہیں۔ بہت سی نشستیں خالی جاتی ہیں۔ ہمارے دوس ڈاکٹروحید قریشی کے ساتھ والی نشست خالی تھ۔ اس پر انہوںنےاپنیٹوپیاتارکررکھدی۔ہمنےانسےکہاکہجناباسےاٹھالیجئےورنہ اس نشست کا کرایہ بھی وہ آپ سے چارج کر لیں گے۔ ہمارے کہنے کو تو انہیں اعتبارنہآیالیکنجباعجازبٹالوینےاورراشدیصاحبنےبھیہماریتائیدکیتو انہیںیقینآگیااوربقیہسفرمیوہپیآئیاےوالوںکی غیرمعقولیتپرتبصرہ کرتےہوئےاپنیٹوپیاپنےسرپررکھےرہے۔ 22
امموریییچکوارارںبچججیکرابٹہاہمئےامرتریہھگن،ھےہڑدمیایتنھماےایِو نرچاھعنجک،اپکزییرپنہصلےایڈجھحاھبکلہکککیداگ،یہھکمڑاھریی۔یپمگیھریڑصتایینکحاوےبرچانعھجابےازجپکےنییِ نگگھھڑڑنککایی ٹائمتھا۔چینکاٹائممغربیپاکستانکےٹائمسےتینگھنٹےآگےہے۔اسیلیےتوابھی ناشتہپیٹمیموجودتھاکہلنچکاٹائمہوگیااوراسکےفور ًابعدسہپہرکیچائےآگئی اورجلدہیشنگھائیپہنچتےہیراتکاکھاناکھاناپڑگیا۔بےشکاسوقتشنگھائیمی آٹھبجےتھلیکنہمارےمعدےکویہباریکیاںکیامعلوم۔کراچیمیتوابھیپانچ بجےشامہیکاعملتھا۔ایکدوروزتوہمیونہیوقتوںکےفرقکےمخمصےمیگرفتار رہے۔ایکبجےلنچپربیٹھتےاوریادآتاکہابھیتوکراچیکےدسبجےہیں،توبھوک آدھیرہجاتیاورصبحآٹھبجے ُاٹھتےاورسوچتےکہکراچیمیابھیپانچکاعملہے اورلوگخوا ِبخرگوشکےمزےلوٹرہےہوںگےتوبےاختیاروطنِعزیزپر رگشئ۔ک ِآنتا نک۔۔لی۔ک۔نقچدنیدمدتانریمخکیااانمہیینامویراشنیقلراوبیشتکحرریہکووگںکئابگلہکوہایروہہمںاکرہئےےکسہاچمیننےیحہدو نظرتپھیلاتھا۔یہیںمغربیوںکےقدمپہلےپہلآئے۔یہیںچینکےایکبا ہمّٹمح ِبوطنعہدےدارنے1839ءمیافیمکیوہبیسہزارپیٹیاںبرسرِعامنذ ِر 23
آتش کر دی جو ایسٹ انڈیا کمیٹی کے تاجر چینیوں کو افیمی بنانے کے لیے زبردستی لانےپرمصرتھاورجسسےمشہورجن ِگافیمکاآغازہواجسمیچینکیشکست کےبعدانگریزوںامریکیوںاوردوسرےمغربیملکوںکےقدمچینمیجمگئاور اچیناہینںگکمالئیک یکوِلوشٹننےےکہھزاسوروٹنںےاانقولرابیمونںماکونا کیرکندےنکاممویقتعہ مہلتای۔غکیرہیدیںااو7ر ِ9۲ن1ء نکمکیی سڑکیںّدمتوںخو ِنشہیداںسےرنگیںرہیں۔اسیشہرمیِدہعرسالتکےایک غازیکےنقو ِشپابھیثبتہیںیعنیرسولاللہکےایکصحابیابیوقاصکاروضۂ مط ّہرڑہےجنہوںنےمشر ِقبعیدکےاسدیا ِردورمیاسلامکاپوداکاشتکیالیکن آجاسشہرپرہماریفقطنظرِخوشگزرےتھ۔یہاںہمیںکچھدنبعدآنااورچند دنٹھہرنااورزیارتیںکرناتھا۔اسوقتتوفقطہوائیا ّڈےپرگھنٹےبھرکوقیامتھا لیکناسیایکگھنٹےمیچشمِشوقنےوہنظارہیہاںدیکھاکہکبھینہبھولےگا۔یہی ہمارےسفرکادیباچہاورنقطۂآغازثابتہوا۔ 24
حاتمطائیکےنقشقدمپر ِ ن نککاموسماسروزطرفہخوشگواراورفرحناکتھا۔بادلچھائےتھاورٹھنڈی ٹڈھھناڈکیےہموایہچیلںر۔اہگیرتپیھک۔نمگکچایننکدارراوخلپتنپڈودیاورےشسنبگھھایئیسچےیینہکمالعالہوومرہہوتےاتتوھا ِ نکہ نکہکمو چین کا ڈھاکہ کہئے۔ اس سے پہلے ایک شہر اور دیکھا تھا کہ ڈھاکے کو چھپاؤ اسے نکالو۔نہصرفسڑکیں،مکان،پرند،چرند،پودے،درخت،پھل،پھولعینمین کڈوھلمابوک۔ے ِکنی نتکصموییریہتباھبلتکاہلوسگحودںکوتندیہکھتکھرلییہکگمناایناکوگرومنضہبگوومطناہوستابتتھات۔وھہضشرہورترھ۔ا دونوںسےمشر ِقبعیدیت صافجھلکتیتھجبکہلاہوراورکراچیکیآبو 25
ہوائیاورجغرافیائیرشتہمشر ِقوسطیسےہے۔ ِ ن نکمیہماریآمدکیکسیکواِ ّّ اطعنہتھکیونکہہماریمنزلتوپیکنگتھذٰہلا آزادانہگھومتےپھرے۔دیکھاکہہوائیا ّڈےکےمیدانمیسینکڑوںبچیاںرنگ رنگ پوشاکیں پہنے بیر بہوٹیاں بنی ہاتھوں می گجرے لیے پریڈ یا کسی پریڈ کی ریہرسلکررہیہیں۔ہوائیا ّڈےکےصدردروازےسےباہرجھانککردیکھاتو اورایسیہیکئیٹولیاںنظرآئیںاورپھرانٹولیوںمیاضافہہوگیا۔ابہمسمجھ گئکہکوئیبڑاآدمیآنےوالایاجانےوالاہے۔ایکدوآدمیوںسےپوچھاتوپتہچلا کوئیوفداسیجہازسےروانہہوگا۔اتنےمیہوائیاڈےکےایکاوربرآمدےمی ایکسکھکھڑانظرآیا۔سکھاورچینمی!ہمنےقریبجاکردیکھاکہاپنےسائیں خمیسوخاںالغوزےوالےتھ۔بڑےتپاکسےسلامعلیکہوئیاوریہبھیدکھلاکہ پاکستانکاثقافتیوفدہے۔ابھیوداعیرسومسےفارغہوکرانتظارگاہسےبرآمدہو گا۔ اسرندمیہمارےکئیشناسااوردوستھ۔بعضآرٹسٹوںسےبھی ُدعاسلام تھ۔نذیربیگمنظرآئیںکہچینکیٹھنڈیآبوہوانےانکوبیربہوٹیبنارکھاتھا۔ فردوسیبیگمکوکبھیپہچانا۔پاکستانکونسللاہورکیڈائریکٹرفرخنگرعزیزسےبھی 26
یاد اللہ تھ ۔ انہوں نے ہائیں کہہ کر اعجاز کو آگیا۔ وفد کے لیڈر ظل الرنٰمح کہ ڈھاکہر نیڈیواسٹیشنکےڈائریکٹرہیں،ہمارےپرانےدوسہیںانسےمصا فحے اورمعانکیمنازلطےہوئیتوبولے،تمکہاں؟ ہمنےکہا۔میاںجی!یہدنیاکارواںسراہے۔کسیکاکوچکسیکامقامہوتاہے۔جس کام سے تم آئے تھ اسی سے ہم آئے ہیں۔ وہ ہے اس ہمسایہ قدیم سے کلچرل تعلقاتکی استواری اتنا البتہ ہےکہتمنے جس زبانمی باتکی ۔ رقص اور 27
موسیقی،وہہرجگہسمجھیجاتیہے۔ہملکھنےلکھانےوالےترجمانوںکےمحتاجہوں گے۔لیکنخیر،میاںآزاددیکھیںگے۔ ابدونوںوفدیوںکےلوگملجلگئ۔آنےوالوںنےجانےوالوںسےپوچھا کہچینکیساپایا؟کیسےمیاسدیارکےلوگ؟جسسےخطابکرولفظوںکیتلاش میکھویاجاتاہے۔خمیسوخاںنےکہاکہسائیںہمنےتوایسےآدمیزندگیمیکبھینہ دیکھے۔ ایک اور آرٹسٹ بولے ایسے دوس اور مہمان نواز نہ دیکھے نہ سنے۔ جو محبتانلوگوںنےہمپرنچھاورکیہےبیانسےباہرہے۔فرخعزیزنےکہاہمنہیں بتاتے تم لوگ خود دیکھو ،لیکن وفور جذبات می سب سے بے حال وہی نظر آتی تھیں۔ اموغنرّننیباےورشرقکاآنصباےروباالریکبتاغلگبیکارہدیوبارچہہہےمتنھے۔وگہیلںےدمیکلھرلیاہ۔ےچیتنیھا۔وجرہپااکزسکتااونقآترہٹوسرہاٹ تھالیکنایکدوسرےسےجدانہہورہےتھ۔جوانجہانلڑکیاںبرہکےماروں کی طرح زار و قطار رو رہیں تھیں۔ فردوسی بیگم کے آنسو نہ تھمتے تھ۔ سب کے سبگُل ددستوں،پھولوںاورانواعواقسامکےتحفوںسےلدےتھ۔باہرباجابج رہاتھا،کرتبہورہےتھ۔کچھکھلاڑیکاغذکاایکبڑااژدھالیےکہچینکاقومی 28
نشنہے،اپنےخاصطربیہاندازمی ُاسےنچارہےتھ۔ابیہسباور ُرخصت کرنےوالوںکیدورویہقطارمیسےجلوسکیصورتگذرے۔انکےپچھےپیچھے اساندازرخصتیکوتقریبپذیرائیبناکرہمبھیچلےاورکچھگجرے،کچھنعرےاور ددبووبہساتررجساییتباتاارلہیڈاھےا۔ںاہکمایےرکسباےےرپبڈہلھھےایےِکّنصےحنکسمپھےیرششآننگئگھیھاںائئ۔ییوصاہاواحربںوہوا!سپاںکےستسِانے ننسکیاسدوھرےاپچڈھھیراڈنھکجہاےاکز۔ہاہوفاتےسپرمسو۔یز یہدوسریپروازتھ،ذٰہلاشنگھائیتانتمامپاکستاندوستوںکیمغ ّٹِٹرہی۔ راستےمیپیرصاحبکےحکمسےخمیسوخاںدیرتالغوزہسنایاکئے،سماںباندھ دیا۔ شنگھائیمیاترےظ ِلّالرنٰمحنےکہا۔”تمہارااوورکوٹکہاںہے؟“ ہم نے کہا ”اوور کوٹ تو ہمارے پاس کبھی نہ تھا اور یہاں اس کی کیا ضرورت ،یہ سوٹکیاکافینہیں؟اورسوئیٹربھیایکہے۔“ بولے”،تمہاریمرضی،دیوا ِرچیندیکھنےجاؤگےتوتمہاریقلفیجمجائےگی۔“ قلفی ہمیں پسند ہے بشرطیکہ ہماری اپنی نہ ہو۔ ذٰہلا ہم نے کھڑے کھڑے ظ ِّل 29
الرنٰمحکااوورکوٹ ُاتروالیا۔بولے”شوقسےلےجاؤلیکنواپسکردینااورکہیں بھولنہآنا۔“ اسپراُنکےوفدکےایکمغن ّننیکہلاہورکےتھلیکنانکانامنہیںمعلوم،بے اختیارہنسدیے۔ بولے۔ ”خیر صاحب یہاں بھولنے کا امکان نہیں،آپ ہزار بھولیںیہلوگنہیںبھولنےدیںگے۔اسسڑیہوئیٹوپیکولیجئےجوآپمیرے قریب دیکھ رہے ہیں۔ اسے می لے تو آیا تھا لیکن چونکہ دوسری بھی موجود تھ ذٰہلا اسے پیکنگ کے ایک ہوٹل می پھینک دیا۔ انہوں نے میرے پیچھے ہانگ چو پبوھینجچدھکیر۔یہہاانںگچِ نو نمکبیھیمجیدایس۔اےایبڈکپھاارکےکممییبجناچکپرراچھوسڑسآیاےچ۔ھکٹکسایرانحاےاُٹصھالککررجوھاڑں 30
گا۔عذاببنگئیہےمیرےلیے۔“ شنگھائی۔۔۔وہ شہر غ ّدارکہ انقلاب سےپہلے اپنےقحبہ خانوں،نائٹ کلبوں،اہ ِل یورپکےاستحصالاورمقامیباشندوںکینکبتاورافلاسکیبناپرسینۂچینکاناسور کہلاتاتھا۔حدنظرتہمارےسامنےپھیلاتھا۔یہہمارےسفرکادوسراپڑاؤتھایعنی آگے چلیں گے دم لے کر۔ یہاں شنگھائی کی انجمن نیفّنصم کی طرف سے ایک صاحبہ ہمارے خیر مقدم کو موجود تھیں۔ سامان وغیرہ چھڑوانے کے لیے انہوں نےٹکٹہمسےلےلیےاورکہااسدورانمیماحضرتناولفرمائیں۔ پہلیمنزلکےاسشانداراوردلکشاریستورانمییہطےکرتےاورآپسمیبحث کرتےکہچینیکھانےکیبسماللہکیجائےیاولایتیکیفرمائشکریں،پندرہمنٹگزر گئ۔چینیکھانےمیاحتیاطکیوجہیہتھکہترجمانکوئیآسپاسنہتھااورہم میسےمینڈکوغیرہکوئینہکھاتاتھا۔خیرپندرہمنٹبعدجوبھیکھاناآیاخواہوہ چینکاتھایامغربی،ہمارےلیےتھایاکسیاورکےلیے،سبنےبڑیرغبتسےنو ِش جان کیا اور اب ہم پھر سفر کے لیے تیار تھ۔ شنگھائی سے پیکنگ کے لیے چینی فضائیکمپنیکاجہازتھا۔ 31
ُپُ ّینکمنلگڑجکایانئےیواہولسےاٹسسجتہاھز۔بمریہمساپرندرہےیعالاسووہلہبکاسدسونچا۔رکاموارزمکسماہفمراراتانھد۔اازہییکہنینتھھیا لیکناسسےپوچھاتواسنےبائیسسالبتائے۔ہمیںچینکےقیاممیبارہاشبہ ہواکہجسطرحہمارےہاںآدا ِبمجلسیکاتقاضاہےکہاپنیعمرپانچساتبرسکم کرکےبتاؤ،خصوًاصآپخاتونہیں،تواسیطرحچینکےضا طبااخلاقکےبموجب اپنیعمربڑھاکربتانامستحسنخیالکیاجاتاہوگا۔لیکنتحقیقپرحقیقتیہنکلیکہلوگ بدن چور ہیں۔ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ لیکن صاحبو اب گفتگو کے دفتر تہہکروکہشہروںکاشہرپیکنگآیاجاتاہے۔وہپیکنگجسکاذکرہمنےپہلےپہل حاتمطائیکےق ّصوںمیپڑھاتھا۔اپنےدوسمنیرشامیکیمحبوبہکےایکسوالکا جوابتلاشکرنےکےلیےاساولوالعزمکویہاںبھیآناپڑاتھا۔مارکوپولویہاں بارہویں صدیعیسویمیآتاہےاورقبلائیخاںکےدربارمیسندوخلعتپاتا ہے۔وطنواپسجاکراسشہرکااحوالاسنےرقمکیاتوزمانہوٰیطسکےیورپنے جوابھیجہالتاورمذلتکیدلدلمیتھا،اسےدنیاکےسبسےبڑےجھوٹے کےلقبسےنوازا۔ابنبطوطہاسکےکوئیآدھیصدیبعدآتاہےاورابہماری باری ہے۔ لیکن ہم تو کراچی سے صبح چلے اور ہنستے کھیلتے ،چائے پیتے ،لنچ کھاتے، 32
حفاظتیبندکھولتےباندھتےشامکوپیکنگمیجااترے۔مارکوپولوکواسمسافتمی کئیبرسلگےاورپھراسعرصےمینہاسکوپیچھےوالوںکیخبرتھنہپیچھےوالوںکو اس کی۔ بلکہ قبلائی خان نے خطا کی ،ایک شہزادی کو دلہن بنا کر ایران کے ایک شہزادےکےلیےمارکوپولوکیمغ ّٹِٹمیبھیجاتومنزلپرپہنچنےپرپتہچلاکہشہزادہ نامدار کو وفات پائے تو ّدمت ہوئی۔ خیر سفر ان لوگوں کا حق تھا۔ ٹکٹ کٹا کر پل جھپکنےمیزمینکیطنابیںکھینچلیناسائنسکاکمالتوہوا،ہماراتونہہوا۔ پیکنگکےہوائیاڈےپرچینیادیبوںکاایکپوراجتھاخیرمقدمکوموجودتھا۔ٹکٹ ہمارےانمیسےایکصاحبنےسنبھالےاورہمایکفّلکمویٹنگروممی نصہودفوودںھپاروجرابجیوٹھہمےا۔ریہیاواںپفسویر ًاہیتچہامائرےیآرگگئیو۔ںچیمنییچگاٹِلئٹ نوےںجکسیممقیدناہرچیمنییہدووتڑیرہہےی تھ۔میزبانوںنےاپناتعارفکرایا۔یہرسمیکاروائیتھ۔سنتےگئاورہوںہاں کرتے گئ۔ اگلی صبح ت سب ایک دوسرے کا نام بھول چکے تھ۔ مہمانوں کا تعارف کرانا ہمیشہ ہمارے ذمہ رہا۔ کیونکہ وفد کے لیڈر اراکین کے ناموں اور کاموںسےابھیپوریطرحواقفنہتھ۔ ایکآدمجگہالبتہشمعانکےسامنےپہنچیتوانہوںنےہمیںپاکستانکیممتازاور 33
مشہورناولنویسقراردیااورچونکہتردیدکرناخلا ِفآدابتھا،ذٰہلاایکمیزبان کے اشتیاق آمیز استفسار کے جواب می ہمیں اپنے ناولوں (آگ کا دریا ،خدا کی بستی،آنگنوغیرہ)کیتعدادبتانپڑی۔وہانتصانیفکےنامبھینوٹکرناچاہتے تھلیکنہمنےازرا ِهانکسارکہاکہاسکیچنداںضرورتنہیں۔ پرنسپل ابراہیم خاں ہمارے بار بار کے تعارف کے باوجود اہلِ چین کے لیے مسٹ خان ہی رہے اور ان کو یہی گمان رہا کہ پاکستان می خان نام کے سبھی لوگ ایوب خاں،صبورخاں،خمیسوخاںوغیرہانکےاّزعہہیں۔جسیمال ّدینکووہلوگمسٹ الدّین UDDINکہنےپر ُُمڑتھ۔آخرہمنےکہاانکوفقطجسیمکہہلیاکرو۔ کوئیبےحرمتیکااحتمالنہیں۔راشدیصاحبکےنامسےانہوںنےصرفالف گرادیاکہیوںبھیحر ِف ِ ّعہےاورحسبِضرورتہمارےہاںبھیگرایاجاسکتا ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق کو مسٹ ہک ہونا ہی تھا۔ ڈاکٹر قریشی فقط ڈاکٹر کوائی چی بنے رہے۔وقارعظیمصاحبمسٹعظیمسےآگےنہبڑھےبلکہہمارےرئیسوفدنہ جانے کیوں ان کو آخر ت باقر عزمی ہی کہتے رہے۔ اعجاز بٹالوی کو کسی نے مسٹ باٹلویکےعلاوہکچھنہکہا۔ہمنےکہااوررکھووطنکینسبت۔اچھےخاصےاعجازسے باٹلویبنگئلیکنوہاسمیخوشتھ۔ہمارانامسبکوآساننظرآیا۔مسٹانش 34
بولنےمیسبٹھیکتھالیکناسلکھےکوکوئیپڑھتاتھاتومسٹہنسایایاایِننس اابنجاتا تھا۔مسٹکےلیےانکےہاںکوئیلفظہےجوصاحبکیطرحنامکےبعدآتاہے، پہلےنہیں۔“ گیارہساڑھےگیارہبجےہوںگےکہہمفرودگاہسےقیامگاہکوچلے۔خاصیمسافت متیھاخوورشٹگھوانڈرسیرہدوایچکلےرگہنیےجتاھت۔ےیہہایپںرورنیہکمیہبیینسہوبھیرںپکاہلذےکرہتتےوابورر نی افہرا ّ ِاییامشومارلسیرچدینی نےلوگوںکومرزاپھویابناگھروںمیقیدکررکھاتھا۔آدھیراتکاعملتھالیکن سڑکوںکےدو رویہکامکرنے والے کامکر رہے تھ۔روشنیکے بڑے بڑے ہنڈےراتکودنبنائےہوئےتھ۔ٹریکٹراور ُبڈوزرخردشاںاوررواںدواں تھ۔مولویمحمدحسینآزادکینظم’راتکاسماں‘یادآئیجسمیشبکاسرورچور تکواسکےفرائ ِضمنصبیسےغافلکرکے ُُ اسدیتاہےاوریہاںشاہتبیدار تھاورملککیدولتبیدارمیاضافےکیدھنمیپلکنہجھپکارہےتھ۔ لطیکےنکہرمتتوےدیاہ ِرماُدویرککعےظمیہمماال ّیس اانتنعمھااوررنیتنکدیہدمہیلیںزپیپاررتیھت۔ھچ۔یکنتینےمہییککیواناچمےاہوےر؟رایہہیتوں ہمیں کبھی یاد نہ رہا لیکن دائمی امن کی شاہراہ پر یہ ہوٹل یا قیام گاہ قومی اقلیتوں کا 35
ہوٹلکہلاتیہے۔ا ّولدرجےکاہوٹل۔کمرےپہلےسےمقررتھ۔کپڑےبدلنے کے بعد ہم یہ بھی نہ طے کر پائے تھ کہ آج کون سا خواب دیکھا جائے کہ نندیا دیوینےہماریآنکھیںمونددیں۔ 36
کچھچینکےالہدینوںاورجنوںکےبارےمی پرانحکایتہےکہایکپیرمرددقیانوس ُ ،دبھے ُپس،رّتسایّسبرسکا ِ نساللہ اللہکرنےکےدن،اپنےگھرکےباہرآموںکےپیڑلگارہےتھ۔ایکراہگیر،تو کونمیخواهمخواہ،کھڑاہوکردیکھنےلگا۔امابعدبولاکہباباابََکدناورتمہاری زندگی ہے۔ ان درختوں کا پھل کھانے کو زندہ تھوڑا ہی رہو گے۔ ناحق کو زحمت اٹھاتے ہو۔ بڑے میاں نے بھنوؤں کی جھالریں ہٹا کر اجنبی کو دیکھا اور کہا کہ یہ تناورجغادریدرختجنکےپھلمینےکھائےاورکھاتاہوںمیرےپرکھوں نےلگائےتھ۔میجولگارہاہوںاسکاپھلمیرےبچےپوتےکھائیںگے۔ درختلگاناایکسمبلہے۔ہمآججسچیزکیبناڈالتےہیںخواہوہکوئیباغہےیا 37
صنعتہےیانظامہے۔ضرورینہیںکہاسکاپھلکھانےکوہمخودزندہرہیں۔یہ باتہوتیتوماؤزےتنگاوراسکےساتھیوںکوجوعمرکےآخریمراحلمیہیں کبھیاتنےکشٹاُٹھانےکیضرورتنہہوتی۔مزےسےسوئٹزرلینڈکےبنکوںمی موٹیموٹیرقمیںجمعکراکےعیشکرتے۔جائدادیںبناتےاورجبکبھیعوامکی بطھیرجوچفھ ّنس نےنککورئویڑخکطیرچہوپتیھداائہیو۔تاآسؤافوجتیسا ّمڈندرےپبانارؤاسورےاخپدناےئویففاوداجرودارںوکیںپکوشالُتبپنتاہےیککاہ حقاداکرو۔کچھخودکھاؤکچھہمیںکھلاؤ۔ لیکندوستو!یہموقعاسقسمکیگفتگوکانہیں،یہتوسیرپانچویںدرویشکیہےاور تقریباسذکرکایہکہپہلےہیروزہمجوپیکنگکیسڑکوںپرنکلےتوکیادیکھتےہیںکہ اسکول کے لڑکوں کے غول کے غول ٹہنیاں ،پودے ،قلمیں اور پیڑ ہاتھوں می ُاٹھائےشجرکاریمیمصروفہیں۔چہروںپرذوقوشوقاورچلبلاہٹ،ایکسے دوسرا بازی لے جانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ ہمیںوہ دنیاد آ گئ جب پرائمریکیجماعتوںمیپڑھتےہوئےہماریپوریکلاسکھیتوںمینکلجاتیتھ اوردودومیلتپوہلیکاٹتیچلیجاتیتھ۔یہایکخارداربوٹیہوتیہےجوپھیل جائےتوفصلکابڑانقصانکرتیہے۔اسعالممینہدھوپکاخیالہوتاتھانہکسی 38
صلے کی توقع۔ سو یہی جذبہ ہم نے ان سیکڑوں ہزاروں طالب علموں می دیکھا جو سڑکوںکےگرددرختلگاتےہیں۔چائےکےباغوںمیجاکرچائےےتنُچہیںاور مضافاتکےکمیونوںمیجاکرسبزیاںاورفصلیںبوتےاورکاشتکرتےہیں۔یہ رضاکارجتھےوہکامکرتےہیںجوتنخواہدارکارگرصلےکےعوضنہکرسکیں۔انکونہ کہیںسےکھاناملتاہےنہکوئیاورسہولت۔دیکھاکہکھانےکیپو ِاٹںساتھہیںاور پیدل مارچ کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی ٹرک پاس سے گزرا تو لفٹ دے دی۔ بعض اوقات تو یہ لوگ ایک دو دن نہیں بلکہ ہفتے ہفتے بھر کے لیے باہر نکل جاتے ہیں، ہانگوُچکےچائےکےباغوںکےکمیونمیہمنےایسیہیایکچمٹ ِغٹدیکھی،یہ لوگگھروںسےپانچپانچساتساتروپےلےکےنکلےتھ۔کامکرتےتھ، کھیلتےتھ۔سایۂدیوارمیآرامکرتےتھاورجسروزوہہمیںملےہیںانکے بستر ایک ٹرک پر بار تھ۔ اس می بھی قرار داد یہ تھ کہ سامان یہ ٹرک ایک خاص منزل می پہنچا دے گا لیکن ساری نفری خود مارچ کرتی جائے گی۔ 19۵8ء تپیکنگمیخالخالدرختنظرآتےتھلیکن19۲0ءتاسشہرمینوّے لاکھدرختلگچکےتھ۔اسکےبعدجولگےانکیگنتیمعلومنہیں۔لیکنتعداد ایککروڑسےاوپرہوگی۔یہلوگسڑککےدورویہفاصلےفاصلےسےایکدرخت 39
لگانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ بعض جگہ پانچ پانچ سات سات متوازی قطاریں چلی گئیہیں۔ایسیبھیشاہراہیںہیںجنکےکنارےبیسبیسقطاریںایککےپیچھے ایک چلی گئی ہیں۔ درخت نہیں جنگل کہیے۔ شہر کے مرکز می ان لوگوں نے چھوٹے پیڑ کاشت کرنے اور پھر سالوں انتظار کرنے کے بجائے یہ کیا ہے قد آدم بلکہاسسےڈیوڑھے ُدگنےدرختاُکھاڑلائے۔پنجابیمیتواسےچکلینکالناکہتےہیں اردواصطلاحمعلومنہیں۔چکلیتوآجکلدرختوںہیکینہیںعمارتوںکیبھینکالی جاتیہے۔ماسکومیعمارتوںکیعمارتیں،بلاکوںکےبلاککھودکرانکےنیچےآہنی شہتیر پھنسا کر اوران می پہئے لگاکر کہیں سے کہیں منتقل کر دیے گئ۔ لیکن یہاں درختوںکاذکرہے۔گڑھےپہلےکھودلیےجاتےہیں۔کریندرختکو ُاٹھاکراس میرکھدیتیہےاورمٹیبرابرکرکےپاندےدیاجاتاہے۔چندروزمیوہجمجاتا ہےجیسےپانچساتسالپہلےلگاہو۔یہاحوالہمنےصرفپیکنگمینہیںسبھی شہروںاورقصبوںمیدیکھا۔دعوتوںمیکہیںجا ِمصحتتجویزکرنےکاموقعآیا توہمنےچینکےدرختکاروںہیکےنامکیاجوسڑکوںاورکھیتوںمیفصلیںاور پیڑ کاشت کر رہے ہیں اور نئے ذہنوں می عزم خود داری اور محنت دوستی کے نونہال۔ 40
جغادریاوردیوہیئت،عمارتوںکیتعمیربھیاسذو ِقتعمیرکادوسراپہلوہے۔19۵9ء میچینکےانقلابکیدسویںسالگرہتھ۔19۵8ء کےاواخرمیاستقریب سےپیکنگکےلوگوںنےعزمکیاکہوہدسعظیمال ّیساانعمارتیںبنائیںگئاوردس مہینےکےاندربنائیںگے۔تاکہیکماکتوبر19۵9ء کودسویںیومانقلابپروہتیار ملیں۔انعمارتوںکیوسعتکااندازہکرناہوتوہیجانیےکہایکایکمیاسٹیٹ بینکاورنیشنلبینککیکئیکئیعمارتیںسماجائیں۔قمرہاؤسکیسیبلڈنگیںتوجانے کتنیہوںگی۔اندوسعمارتوںمیایکتوعوامکاتالا ِرعظیمہےجواپنیوسعت میشایددنیابھرمینظیرنہرکھتاہو۔کوئیبڑاغیرملکیمہمان،صد ِرمملکتیاوزیر اعظموغیرہآئےیاکوئیاہمتقریبہوتواسمیجلسہہوتاہےاسکےکمرہطعامکا اہدنیدںاس۔زہہازاابرھسیآحدسامیےولکیہجںئیےککمےہپبیایاٹنھفنچرےہوکزااییگشرنیجاآائدیئمیمشبصیہّنٹٹھفےکواروکںرھکیاانہاّجکدوھماہونسگرکاباتملےکیہنناٹیِجااںلا۔ںہبالاسلسہکتوایوبنااولوکروںنیجوکےسںقاممئیمی پاکستانکےنمائندےبھیشریکہوئےانکیدعوتبھیوزیراعظمچواینلائی نےاسیعمارتمیکی۔پیکنگکامرکزتائنمنچوکہےیہاںایکپراناتاریخی دروازہہے۔جسکےپیچھےشاہیمحلاتہیں۔پرانےزمانےمیشاہیفرماناسکی 41
بالکنی سے نیچے انتظار کرنے والے امراء،و وزراء اورحکا ِم مملکت کو پھینکے جاتے تھ۔ عوامی جمہوریہ چین کا اعلان بھی ماؤزے تنگ اور اس کے رفیقوں نے اسی بالکنیسےکیااوراسکاپرچمبھیپہلیباریہیںکھلاجسکییادگاربھیقائمہے۔پہلے یہاںکچھچھوٹیموٹیعمارتیںتھیں۔ابانکیجگہایکبہتوسیعچوکہےجس میخاصموقعوںپرپریڈبھیہوتیہے۔اسچوککوپیکنگبلکہچینکادلکہیئے۔ عوامکاتالا ِرعظیماسیکےایکپہلوپرواقعہےاوربالمقابلپہلوپرچینکیتاریخاور چینکےانقلابکےڈھنڈارعجائبخانےہیں۔تالا ِرعظیمکیوسعتاوراسلو ِب تعمیرنےبہتسےمغربیم ّ ڑبوںکوحیرانکیاہے۔انمیسےایکصاحبلکھتے ہیں کہ صوتیات کا کوئی مّلسم یا مروج اصول ایسا نہیں جس سے انحراف کیا گیا ہو۔ اسکےباوجوداسکےہرےّصحمیآوازیکساںطورپرسنیجاسکتیہے۔ہالکیدس ہزار نشستوں می سے ہر ایک کے پیچھے ایک ننھا سا مائیکرو فون چھپا ہوا ہے۔ ہر نشستکےساتھکانوںکولگاکرمختلفزبانوںمیترجمہسننےکےآلاتبھیلگے ہیں۔اگرتقریرچینیزبانمیہورہیہےتوچاہےاسکاترجمہانگریزیمیسنئے، چاہےروسیمی۔کچھاورزبانوںکابھیانتظامہے،فقطایکبٹندباناہوگا۔ اسعمارتکیتعمیرمیچودہہزارآدمی،کاریگراورکارندےوغیرہتولگےہیتھ 42
لیکنپیکنگکےلوگبھیرضاکارانہآکرکاممی ُجگئ۔شاموںکواوراتوار وغیرہکوہزاروںشہریآکرہاتھبٹاتےرہےاورابفخرسےکہتےہیںکہہاںہمارا ہاتھبھیاسکیتعمیرمیہے۔فلٹِکسگرینکہتاہےکہاگریہہاںدسسالمیبھی پایۂتکمیلکوپہنچتاتوتعمیراتکاایکشاندارکارنامہقرارپاتالیکندسماہمیاسکابننا ایکعجوبہسےکمنہیں۔ 43
یہتحیِّرڑدوسریعمارتوںکودیکھکرہوتاہےکہاندسماہمیبنیں۔چینکیتاریخاور انقلابکےعجائبگھروںکاذکرہمتفصیلسےکریںگے۔انہیںدیکھکربھیاللہکی قدرتیادآتیہے۔قو ِمںکامحلبھیاپنیشانکیایکہیعمارتہےاورہمیں خیالہوتاہےکہوہہوٹلبھیجسمیہمقیامفرماتھاسمنصوبےمیشاملتھا۔ پیکنگکانیااوربےمثالریلوےاسٹیشنبھیانہیدسماہمیبنا،بلکہدسماہمینہیں ساڑھےساتماہمی۔اسکےمتعلقبھیہمارااندازہہےکہکہاگرپانچساتبرس میبنتاتوقاِلبتعریف کارگزاری ہوگی،لیکن ساڑھے ساتماہمی؟اگرلوگ آنکھوںدیکھینہکہیںتوکبھییقیننہآئے۔ایکصاحب19۵8ءکےاواسطمی وہاںتھتوکچھنہتھا۔19۵9ءکےیو ِمانقلابپرگئتوحیرانہیحیران۔الہدین نےاپنیعروسکےلیےراتبھرمیمحلکھڑاکردیاتھاجواسکےچراغکےجنکا کارنامہتھا۔الہدینچینیتھااسکاجنبھیچینیہوگا۔ذٰہلاخیالہوتاہےکہایسی باتیںچینمیہیہوسکتیہیں۔فرقیہہےکہوہچراغغیرکےقبضےمیگیاتوالہ دینکامحلبھیغائبہوگیا۔ماؤزے تنگکاچراغمحنتکاجادوہےاسےزوال نہیں۔اسیمحنتکوچراغجانیے۔ 44
عجائبنئےاورپرانے پیکنگ کا ریلوے اسٹیشن اپنے جلال و جمال می ایک نادرہ کار عمارت ہے۔ سامنے کےچوگانمیجہاںقاعدےکےمطابقکیلےاورمونگپھلیوںکےچھلکے،چاٹ کےخالیدونے،پانکیپ ِٹکن ِن،سگریٹکےٹکڑےاوردوسریغلاظتوںکےڈھیر ہونےچاہیں،آپکچھبھینہپاکرمایوسساہوجائیںگے،کیامُح ّ الاوردھلادھلایافرش ہے۔اندرداخلہوکرایوانکیچھتپرنظرڈالنےکےلیے،آپکےپاسپگڑی ہےتوپگڑیسنبھالیے،ٹوپیہےتوٹوپی۔احتیاطکیجئے۔فرشپرپاؤںنہپھسلجائے۔ یہاںآپکوچینکےطولوعرضکےبھانتبھانتکےلوگملجائیںگے۔کچھ کامکینیلیوردیمی،کچھروئیکیبنڈییامرزئیپہنے،کوئیشمالکاہے،کوئیجنوب 45
کا۔سنکیانگکےلوگتودورہیسےپہچانےجائیںگئ۔ال ّسلامعلیکمکہیئے،وعلیکمسلام کہیںگے۔اسکےبعدنہآپانکیباتسمجھسکیںگےنہوہآپکی۔زیادہسے زیادہآپاپنےسینےپرہاتھرکھکرپاکستانکہیے۔(چینیلوگپاچستانکہتےہیں)وہ سنکیانگکہےگا۔سامانخوداٹھائےہوئےہیں۔ابایوانکےدونوںسروںپرآپ بجلی کی سیڑھیاں (ایسکے لیٹر) دیکھیں گے ،ان پر چڑھ کر ٹکٹ گھر کی کھڑکیوں اور آرامگاہوںتپہنچے۔کچھانمیسےزیریںمنزلپرہیں۔اوپرپہلیمنزلکے فرشتوںپربھیاتنیصفائیاورجلاہےکہہمجیسوںکاجیگھبراجائے،دورویہبڑے لمبےلمبےتالا ِرہیں۔اسٹیشنماسٹرصاحب۔۔۔۔یہاںہمیںاجازتدیجئےکہہماپنا ہیقطعکلامکرکےکچھچینکےضا طاباخلاقکےمتعلقعرضکریں۔اگرآپکو کوئی جگہ دیکھنی ہے۔ یونیورسٹ ہے یا لائبریری ،عجائب گھر یا کارخانہ ،اسکول یا ریلوےاسٹیشنتوآپکےمیزبانمتعلقہافسراعلیکوفونکردیںگےکہہمفلاں وقتپہنچیںگے۔افسرِاعلیوق ِتمقرہسےپانچمنٹپہلےآپکےخیرمقدمکے لیےباہرکھڑاہوگا۔اسکےلیےیہکوئیشرطنہیںکہآپکوئیسرکاریمہمانیا بھاریبھرکمشخصیتہیں۔ماؤزےتنگنےبھیآپکووقتدیاہےتودروازےپر آکرآپکوخوشآمدیدکہےگا۔یہنہیںکہفرلانگبھرچوڑیمیزپرسےہاتھلمباکر 46
کےآپکیانگلیوںکوچھولیاجائے۔اگرآپدیرکرتےہیںتواتنیدیر ُاسےبھی انتظارمیکھڑارہناہوگا۔اسکےبعدسبسےپہلےآپایکمخصوصکمرےمی جاتےہیں جہاںصوفےبچھےہیں اورچائے اورسگرٹ حاضر ہیں۔ یہاںآپ کو بریفکیاجائےگا۔یعنیادارےکاتعارفکرایاجائےگا۔پسمنظربتایاجائےگا۔ اس دوران می اسے کتنا ہی ضروری کام ہو ،وہ بے چینی ظاہر نہیں کرے گا۔ کسی ٹیلیفون کا جواب نہیں دے گا،بے صبری می بار بار گھڑی نہیں دیکھے گا۔ ان لوگوںکیپابندیاوقاتکاہمیںشروعمیاتناخیالنہتھا۔ہوتابھیتوعادتسے مجبور تھ۔ ہمارے مستقل میزبان یعنی وہ جو ہماری خاطر داری کے لیے ہمارے ہمراہرہتےتھ۔اورترجمانحضراتہمیںیہبتاکرکےنوبجےفلاںجگہپہنچناہے، ہمیںلینےکےلیےپونےنوبجےپہنچکرہوٹلکیانتظارگاہمیآبیٹھتےتھ۔ہماری منڈلیمیسےایکآدھآدمینوبجےنیچےاُترآتاتھا۔دوسراکوئیپانچمنٹبعدچلاآ رہاہے۔تیسراکوئیدسمنٹبعدبرآمدہوتاہے،ابگنتیہوئیتوساتمیسےچھ موجود ہیں۔ فلاں صاحب باقی ہیں اور آخری اطلاع کے مطابق غسل خانے می تھ۔خداخداکرکےوہآئےاورچلنےکیتیاریہوئیتوایکنہایکصاحبکویادآیا کہمیریپنسلیامیرےسگریٹیامیرینوٹبککمرےمیرہگئیہے۔انکے 47
اپنےکمرےتجانےاورشیشےکےسامنےکھڑےہوکرآخریبارکنگھاکرنےاور اپنیچیزتلاشکرکےلانےمیپانچساتمنٹاوربیتجاتے،ایسااکثرہواکہوقت نو بجے کا دیا اور منزل پر ساڑھے نو بجے پہنچے۔ میزبان بیچارے کو آدھ گھنٹہ انتظار کرایا۔ہم نے ساتھیوںسے ایک آدھبار مؤدبانہ کچھ عرض کیا تو بولے ہم ان لوگوںکےلیےعمربھرکیعادتبگاڑنےسےرہے۔ سوسلسلہکلامکووہیںسےجوڑتےہوئےعرضکریںکہاسٹیشنماسٹرصاحبنے ہمیںآرامگاہیںبھیدکھائیںاورپلیٹفارمبھیجوفرلانگفرلانگدودوفرلانگ لمبےتھ۔ہرمنزلکیگاڑیکےلیےالگالگآرامگاہہے۔کلسترہآرامگاہیں یعنی سترہ ہزار آدمیوں کی گنجائش ،ننھے منوں کے لیے دو نرسریاں اور بچوں کے کھیلنے اوردلبہلانے کے لیے چار کمرے ان کے علاوہ ہیں۔ نرسریوں می بچے سوتےہیںاورنرسیںانکیخبرگیریکرتیہیں۔بڑےبچےجھولاجھولتےہیںیاکوئی کھیل کھیلتے ہیں اور جاتے می ماں ان کو وہاں سے لے لیتی ہے۔ پلیٹ فارم پر اس وقتماسکوجانےوالیگاڑیکھڑیتھ۔معلومہواایکدناورراتکیمنزلہے۔ جبسےروساورچینکےتعلقاتمیکشیدگیپیداہوئیہےاسراستےپرٹریفک کمہوگیاہے۔ 48
اساسٹیشنپرٹیلیوژنکاایساانتظامہےکہمختلفپلیٹفارموںاورآرامگاہوںکا نظارهایکمرکزیکمرےمیبیٹھےبیٹھےکیاجاسکتاہے۔ایککھڑکیمعلوماتکیبھی ہےجسمیکوئینہیںہوتا۔یہنہسمجھئےکہہمارےہاںکیطرحکہیںچائےپینےگیا ہوتاہے،بلکہہوتاہینہیں۔ہمنےاسٹیشنماسٹرصاحبسےپوچھاکہپھرجواب کیسےملتاہے۔انہوںنےکہاکہیہکھڑکیکےسامنےپااندازرکھاہےاسپرکھڑے ہوجائیے۔کھڑےہوتےہیاندرسےایکشیریںآوازآئےگی”فرمائیے“آپ پوچھئےوہجوابدےگی۔ہمیںپوچھناتوکچھنہتھاہمنےکھڑےہوکر”نہاؤ۔ن ہاؤ“یعنیمزاجشریفکہہدیا۔اسکےجوابمی ُادھرسےکچھکہاگیا۔ہمارے ترجمان نے اس کا یوں ترجمہ کیا کہ ”اے اجنبی مہمان ہم تیرا خیر مقدم کرتے ہیں۔“ اوریہہےپیکنگکاعجائبگھر۔عمارتایکہیہےلیکندووّصحںمیبٹیہوئی۔ داہنے ےّصح می چین کی تاریخ کا عجائب گھر ہے اور بائیں می چینی انقلاب کا عجائب خانہ۔پہلےےّصحمیلاکھوںسالقبلمسیحسےشروعہوکر1840ءتکےعجائب ہیںاورانقلابوالےےّصحمیاسکےبعدسے1949ءتکییادگاریں۔1840ء وہسالہےجبکہجنگافیمکاآغازہوا۔یعنیانگریزوںنےچینیوںپرزبردستیافیم 49
مسلطکرنےاورناجائزمراعاتحاصلکرنےکےلیےچینسےجنگلڑیاورجیتی اور194۵ءعوامیجمہوریہچینکاسالتاسیس۔ یہعمارتاندسعالیشانعمارتوںمیسےہےجوانقلابکیدسویںسالگرہکے لیےدسماہمیتیارکیگئیں۔یہاکتوبر19۵8ءمیبننیشروعہوئیاوراگست19۵9ء کومکمل۔تاری ِخچینکامیوزیمتینوّصحںمیتقسیمہے۔ایکزمانہقدیمکاہالجو پانچ لاکھ سال پہلے سے شروع ہو کر اب سے چار ہزار سال پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ دوسرا غلام معاشرے کا ہال جس کا دور اکیسویں صدی ق م سے 47۵ء ت محیط ہے۔ تیسرے ےّصح می جو جاگیرداری دور سے متعلق ہے 47۵ق م سے 1840ء تکےآثارمحفوظہیں۔ دو ِرقدیمزیادہترعہدپاستانکےآثارقدیمہسےدلچسپیرکھنےوالےاسکالروںکی دلچسپیکیچیزہے۔ہمارےایکساتھنےکہابھیکہیہکیاصراحیاںاورپیالےاور کچھانجرپنجرجمعکرد ِ طیہیں۔خیرانہیدوسنےموہنجوداڑوکےآثارکےمتعلق بھیاسیرائےکااظہارکیاتھااورکہاتھاکہ”ایسےپیالےاورمٹکےتوہمارےگاؤںکے کمہاربھیبنالیتےہیںانمیکونسرخابکاپرلگاہے۔“پانچچھہزارسالپرانے باجرے اورگیہوں کے دانے بھی محفوظ ہیں۔ یہ لوگ پرانےمصریوں کی طرح 50
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166
- 167
- 168
- 169
- 170
- 171
- 172
- 173
- 174
- 175
- 176
- 177
- 178
- 179
- 180
- 181
- 182
- 183
- 184
- 185
- 186
- 187
- 188
- 189
- 190
- 191
- 192
- 193
- 194
- 195
- 196
- 197
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266