Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore چلتے ہو تو چین کو چلیے

چلتے ہو تو چین کو چلیے

Published by Muhammad Umer Farooq, 2022-04-22 05:29:04

Description: Chalte Ho To Cheen Ko Chaliay

Search

Read the Text Version

‫چلتےہوتوچینکوچلی‬ ‫زیدیکےکارٹونوںکےساتھ‬ ‫اِنبانش‬



‫جنابابنانشصاحب!‬ ‫آپسےملکرمجھےبڑیخوشیہوئی۔آپکےچینینغموںکاترجمہکرکے‬ ‫پاک چین دوستی کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔ امید ہے کہ آپ واپس‬ ‫جانے کے بعد چین کے متعلق کچھ لکھیں گے اور پاک چین دوستی کو اور‬ ‫استوارکریں۔‬ ‫پاکچیندوستیزندہباد!‬ ‫شانیون‬ ‫‪۲۵‬اپری‬ ‫پیکنگیونیورسٹ‬ ‫شعبیزبانانشرقی‬



‫فہس‬ ‫دیباچہ ‪10‬‬ ‫طب ِعسومکےموقعپر ‪1۲‬‬ ‫کیاقافلہجاتاہے ‪16‬‬ ‫حاتمطائیکےنقشقدمپر ‪۲۵‬‬ ‫کچھچینکےالہدینوںاورجنوںکےبارےمی ‪37‬‬ ‫عجائبنئےاورپرانے ‪4۵‬‬ ‫ذرادیوا ِرچینت ‪۵7‬‬ ‫ایکدناردوکےطالبعلموںکےساتھ ‪69‬‬ ‫آپکیعمرکیاہے؟ ‪78‬‬

‫آزادیکیسختکمیہے ‪89‬‬ ‫چینمیعورتیںنہیںہوتیں ‪94‬‬ ‫ووہانچلو‪،‬ووہانچلو ‪10۲‬‬ ‫اےمرےگھوڑےآہست ‪111‬‬ ‫تنخواہہماریزیادہہے ‪1۲1‬‬ ‫ابآپماؤزےتنگکاکلامسنیئے ‪1۲9‬‬ ‫باباقربانتولومکیکہان ‪138‬‬ ‫وہدکاناپنیبڑھاگئ ‪147‬‬ ‫ہرقسمکیصفائیہے‪،‬سوائےہاتھکیصفائیکے ‪1۵7‬‬ ‫خانصاحبکیبھوککمزورہوگئیتھ ‪166‬‬ ‫ہماراصحیحمقامشنگھائیوالوںنےپہچانا ‪173‬‬

‫کرناتجویزٹوسٹکا ‪186‬‬ ‫چینجانےوالےپہلےمسلمانہمنہیںتھ ‪19۵‬‬ ‫ہمبھیایکدنکےلیےگوریلےبنگئ ‪۲06‬‬ ‫سوچومیتیندن ‪۲13‬‬ ‫حالسرنگوںکیلڑائیکا ‪۲۲۵‬‬ ‫لانگمارچکیکہان (‪۲36 )1‬‬ ‫لانگمارچکیکہان (‪۲49 )۲‬‬ ‫اخبارتوہوتےہیں‪،‬لیکنخبریںنہیں ‪۲6۲‬‬

‫دیباچہ‬ ‫ہمکیااورہماراجاناکیا۔جہازمیبیٹھےاورزمینکیطنابیںکھینچلیں۔اندرونچینبھی‬ ‫اڑنکھٹولےاوردھویںکیگاڑیسےواسطہرہا۔یہبھیکوئیسیاحتہے‪،‬نہسرمی‬ ‫گردنہپاؤںمیآبلہ۔سیاحتکامنصبتومارکوپولوکاتھا‪،‬اِنببطوطہکاتھا۔صاحبو۔‬ ‫اندنوںایکشخص ُاٹھتیجوانمیسیروسفرپرنکلتاتھاتوواپسیپر’اگرواپسیہوتی‬ ‫‪10‬‬

‫تھ‘تواسکےپوتےاسکااستقبالکرتےتھ۔بعضوںکےتوپہچاننےوالےبھینہ‬ ‫ملتےتھ۔کمازکممارکوپولوکےساتھیہیگزری۔اورجباسنےیورپکےِدہع‬ ‫تاریککےباسیوںکوچینکیچکاچوندکیکہانیاںسنائیںتولوگوںنےاسےدنیاکے‬ ‫سبسےبڑےجھوٹےکاخطابدیا۔‬ ‫‪11‬‬

‫طبعِسومکےموقعپر‬ ‫یہ اس کتابکاتیسرا ایڈیشن ہے‪،‬اورروزنامہ جنگمی ان مضامینکی قسطوار‬ ‫اشاعتکوبھیشمارکیاجائےتوطبعچہارمکہیے۔ہمارےملکمیکتابوںکیمانگکاجو‬ ‫حال ہے اسے دیکھتے ہوئے اس کتاب کی یہ پذیرائی معمولی بات نہیں۔ لیکن یہ‬ ‫ساری خوبی موضوع کی ہے۔ لوگ اس عظیم اور نادر روزگار ملک کے بارے می‬ ‫زیادہ سے زیادہ جاننے کو بےتاب ہیں‪ ،‬اس کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے نہیں تو‬ ‫کتابکےذریعےسہی۔محضاسلیےنہیںکہیہہمارادوسیاہمسایہہےبلکہاس‬ ‫لیےکہپوریدنیاکےلیےمنارۂنورہےاورآلائشوںسےپاکمعاشرےکےلیے‬ ‫دلیلِراہ۔امریکیہفتروزہ’نیوزویک‘صدرنکسنکیچینیاتراکےمتعلقسےان‬ ‫‪12‬‬

‫امریکیاخبارنویسوںکاذکرکرتاہےجوحالہیمیچینسےلوٹکرآئےہیں؟‬ ‫”یہلوگجوکچھبتاتےہیںوہایکخوابمعلومہوتاہے۔ناممکننظرآتاہے۔پھلا‬ ‫روئےزمینپرکوئیایساملکبھیہوسکتاہےجسمیجرائمنہہوں‪،‬جنسیامراضنہ‬ ‫ہوں‪،‬گندیبستیاںاورجھگیاںنہہوں‪،‬فضااورپانمسممنہہو‪،‬عادیشرابخوار‬ ‫اورنشےبازنہہوں‪ٰ،‬یتحکہچھوٹےبڑےافسراورماتحتکاامتیازبھینہہو۔“‬ ‫بیشکجبتاپنیآنکھوںنہدیکھیے‪،‬یقیننہیںآتاکہکوئیملکتریّقبھیکررہاہو‬ ‫اورانآلائشوںسےمحفوظہوجنکااوپرذکرآیاہے۔جہاںچورنہہوںاورلوگوں‬ ‫کو گھروں می تالے نہ لگانے پڑتے ہوں۔ گران نہ ہو‪ ،‬ذخیرہ اندوزی نہ ہو‪،‬‬ ‫بیروزگاری نہ ہو‪ ،‬فحاشی نہ ہو ٹھاہ ٹھاہ فلمیں نہ ہوں اور ملاوٹ نہ ہو‪ ،‬ٹریفک کے‬ ‫حادثےنہہوںاورجھوٹیاشتہاربازینہہو‪،‬ہمہگیرتعلیمکےساتھساتھسیاسیشعور‬ ‫کایہحالہےکہ”نیوزویک“ہیکےالفاظمی‪:‬‬ ‫”آپکسیچینیدہقانسےکوئیسیاسیسوالکیجئےتووہمعقولجوابدےگا۔ایشیا‬ ‫کےکسیدوسرےملککےدہقانکیطرح ُ دبھوؤںکیطرحمنہنہیںدیکھتارہے‬ ‫گا۔“‬ ‫‪13‬‬

‫صحتکایہانتظامہےکہڈاکٹرلوگشانداردفتروںمینہیںبیٹھتےاوربیرونملک‬ ‫نوکریوںکیتلاشنہیںکرتے‪،‬بلکہلالٹینلیے‪،‬دواؤںکےبکساُٹھائےقریہقریہ‬ ‫گھومتےرہتےہیں۔یہوہیچینیلوگتوہیںکہسرپرچوٹیاںرکھےافیمکےنشےمی‬ ‫غین رہتے تھ اور جن کی اخلاقیات کا ناک نقشہ اب بھی ہانگ کانگ و سنگاپور کی‬ ‫گلیوںمیدیکھاجاسکتاہے۔لیکنیہانقلاب۔۔۔گراںخوابچینیوںکااسطور‬ ‫سنبھلنا کہ چمتکار معلوم ہوتا ہے‪ ،‬کوئی راتوں رات کی بات نہیں‪ ،‬اس کے پیچھے‬ ‫جدوجہد‪،‬قربانیوںاوربےلوثقیادتکیایکلمبیداستانہے۔‬ ‫پاکستانادیبوںکاوفدجسکیسیاحتکیداستانیہسفرنامہہےاپری‪1966‬ءمی‬ ‫چینگیاتھا۔آجچینکاجادودنیاکےسرچڑھکربولرہاہے۔چیناقوا ِممتحدہکاممبر‬ ‫بنچکاہے۔دنیاکیسےبڑیطاقتکاسربراہاسکے َدرپرخودجاکردستکدیتاہے۔‬ ‫خودہمارےملکمیسیاساورفکرکینہجمیجوانقلابآیاہے‪،‬اسمیچینکی‬ ‫مثالکوبہتکچھدخلہے۔‬ ‫؏جسوقتدیکھانہتھاابادھردیکھاتوہے‬ ‫اسایڈیشنمیکچھنئیتصویریںشاملہیں‪،‬ہمارےمحترمپیرحسامال ّدینراشدیکا‬ ‫‪14‬‬

‫عطیہہیںکہاسسفرمیہمارےرفیقتھاورجنکیباغوبہارطبیعتکےجوہرہم‬ ‫پراسسفرمیکھلے۔‬ ‫ابنانش‬ ‫‪ 18‬فروری‪197۲‬ء‬ ‫‪15‬‬

‫کیاقافلہجاتاہے‬ ‫ہم نے بہت کوشش کی کہ ہمارے چین جانے کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو‪ ،‬لیکن‬ ‫تدبیرکندبندہتقدیرزندخندہ۔یہباتنہیںکہہمچھپچھپکربھیسبدلکربلا‬ ‫پاسپورٹچینجارہےتھ‪،‬یامغربیدنیاسےاسامرکوچھپانامقصودتھا‪،‬بلکہمحض‬ ‫دوستوںادرہمسایوںسےتعلقاتخوشگواررکھنےکےلیے۔تفصیلاساجمالکییہ‬ ‫ہےکہہمجبایرانگئہیںتوہماریجیبمیدوستوں‪،‬رشتہداروںاورہمسایوں‬ ‫ماںجایوںکیفرمائشوںکیایکلمبیل ِسٹتھ۔منجملہ‬ ‫‪1‬۔ گیسپرچلنےوالاچولھاجسپرروٹیبھیپکسک‬ ‫‪۲‬۔ پانچسیرکشمش‪،‬اچھیسیدیکھکر‬ ‫‪16‬‬

‫‪3‬۔ فلپسکابڑاٹرانسسٹرریڈیو‬ ‫اصفہانتمباکوکاایک ُ ڑپا‬ ‫‪4‬۔‬ ‫جاپانڈنر ِ ِس‬ ‫‪۵‬۔‬ ‫ایکچھوٹاسامعمولیایرانقالی‬ ‫‪6‬۔‬ ‫شیرازکاوُخشبودارتیل‪،‬ایک ُ ّک‬ ‫‪7‬۔‬ ‫‪8‬۔‬ ‫کنگھیاںاورپراندے( ُچٹلے)‬ ‫‪9‬۔ سوکھیہوئیمچھلیکےچندڈبے‬ ‫‪10‬۔ سوئیٹربننےکیسلائیاں‪،‬آٹھنمبرکی‬ ‫کہنگمھایانںف‪،‬رماچئنشدوپراںندمیےساوےرصآرٹھفننممببررک‪8‬یاسولرائ‪0‬یا‪1‬کںیتسعومیٹیرلک ُر نپناب کئیےلاتسھک۔ی۔عبنایقفیقپطندچنردہ‬ ‫فرمائشکرنےوالوںسےہمارےتعلقاتکیپرانخوشگواریاورخلوصکبھیبحال‬ ‫نہہوسکا۔‬ ‫‪17‬‬

‫اسرازداریکےباوجودہمارےایکدوسنےہماریڈائریمیلکھواہیدیاکہ‬ ‫بھابھیکےلیےدوسوٹبروکیڈکے‪،‬ایکپریشرککراورایکسلائیمشینلےکر‬ ‫آنا۔ایکبزرگہمسائےمیسےتشریفلائےاورکہاکہآپکومعلومہےمی‬ ‫یہاں کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتا۔ میرے گھر می سب چیزی ولایت کی ہیں۔‬ ‫میرے لیے مسالہ پیسنے کی بجلی کی مشین ضرور لانا۔ یہاں نہیں ملتی‪ ،‬چین می مل‬ ‫جائے گی۔ ایک دوس کو معلوم تھا کہ چینی جوتا اچھا بناتے ہیں۔ وہ اپنے پاؤں کا‬ ‫ناپہمیںدےگئکہبسدوجوتےلیتےآنا۔قیمتیہاںآنےپرنذرکردوںگا‬ ‫بشرطیکہ میرے ناپ کے نکلے۔ ایک صاحب نے کہا پیکنگ کے تالابوں می رنگ‬ ‫رنگ کی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ ایک مرتبان میرے لیے بھر لائیو۔ ایک دوس ذرا‬ ‫روشنخیالقسمکےتھ۔انہوںنےفقطاتنیفرمائشپراکتفاکیاکہکامریڈماؤزے‬ ‫تنگسےمیراسلامکہنااوربتادیناکہمیانکےسیاسیبیاناتسےپوریطرحمتفق‬ ‫ہوں۔کچھصاحبوںنےجاتےہوئےتحفبھیساتھکئےجنمیایکسیٹچواین‬ ‫لائی کے لیے مولانا ابو الا علی مودودیکی تصانیف کا بھی تھا۔ لیکن زیادہ تر دوستوں‬ ‫نےخوداپنیتخلیقاتسےنوازا۔ہمارےدوسدیوانہبھاگپورینےاپناپھڑکت‬ ‫ہوئی ِدلگدازغزلوںکادیواناورراتوںکینیندحرامکرنےوالااردوناولدیتےہوئے‬ ‫‪18‬‬

‫تاکیدکیکہانکوذاتیطورپرماؤزےتنگکوپہنچانا۔کسیاورکےہاتھمتبھیجنا۔‬ ‫آجکللوگوںکااعتبارنہیں۔‬ ‫جہازصبحچھبجےجاناتھالیکنکسینےکہاکہچاربجےہوائیا ّڈےپرپہنچناضروریہے۔‬ ‫مطلب اس کا یہ ہوا کہ ساڑھے تین بجے سے پہلے گھر سے کوچ کرو اور ڈھائی بجے‬ ‫بسترِاستراحتسے ُاٹھکھڑےہو۔ہمنےوُپچھاکوئیایساجہازنہیںکہہماپنے‬ ‫وقتپرعلیالصبحآٹھساڑھےآٹھبجے ُاٹھیںاورناشتہکھاتےپانگھماتےچھڑی‬ ‫گھماتے دس گیارہ بجے ہوائی اڈے پر پہنچ جائیں۔ لیکن پی آئی اے کے باکمال‬ ‫لوگوںنےکہاکہجینہیں۔ہماریلاجوابپروازٹھیکچھبجےروانہہوجائےگی۔‬ ‫ایکبارتوجیمیآئیکہنہجائیں۔چینتوکبھیبھیدیکھاجاسکتاہے۔آجراتکی‬ ‫‪19‬‬

‫نیندناحقخرابہوگی۔لیکنکچھلوگجنکوہماراپاکستانمیمسلسلزیادہدنقیام‬ ‫جانےکیوںکھلتاہے‪،‬کہنےلگے”میاںجاؤ‪،‬ہچرمچرکیوںکرتےہو۔“انہیمیسے‬ ‫کسینےہمارےبازوپرامامضامنبھیباندھدیا۔یعنیہمارےنہجانےکیراہبالکل‬ ‫ہیمسدودکردی۔‬ ‫ہم صبح کیسے اٹھے یا اٹھائے گئ‪ ،‬اس کی داستان کا یہاں موقع نہیں لیکن ٹھیک چار‬ ‫بجےہوائیاڈےپرپہنچے۔انتظارمخدومیپیرحسامال ّدینراشدیاورپروفیسروقار‬ ‫عظیمکاتھا۔چینجانےوالےادیبوںکےوفدمیہمتینکوکراچیسےروانہہونا‬ ‫تھا۔تینآدمیڈھاکےسےاسآ ِبجومیملنےتھ۔پرنسپلابراہیمخاں‪،‬کوی‬ ‫جسیم الدّین اور ڈاکٹر انعام الحق لاہور سے‪ ،‬اعجاز بٹالوی اور ڈاکٹر وحید قریشی بھی‬ ‫ڈھاکےپہنچچکےتھ۔اوریوںیہسارسوںکاقافلہڈھاکےمیمکملہوکرآگےچلنا‬ ‫تھا۔‬ ‫جبہمنےکھڑےکھڑےایکٹانگکابوجھدوسریپراوردوسریکاپہلیپرمنتقل‬ ‫کرتےہوئےایکگھنٹہگزاردیاتوپیرحسامال ّدینراشدیتشریفلائے۔انکے‬ ‫جلومیڈاکٹرعبداللہچغتائیبھیتھجوپاکستانمیترکیٹوپیپہنےوالےغاًابلآخری‬ ‫مسلمانرہگئہیں۔دیکھاکہبڑےپیرصاحبمخدومناعلیمحمدراشدیبھیانہیں‬ ‫‪20‬‬

‫دِباکرنےآئےہیں۔ایکدوچینیاورافری ِقٹ ِوںکیایکٹولیبھیاسیجہازسےجارہی‬ ‫تھاورانمیایکصاحبافریقہکےکسیملککے‪،‬بڑیمشکلمیگرفتارتھ۔‬ ‫انہیںانگریزینہآتیتھاورپیآئیاےکےآدمیکوفرنچمیدخلنہتھا۔آخر‬ ‫ڈاکٹرعبداللہچغتائیکی‪1933‬ءکیفرنچسےمسئلہحلہوا۔وہاسکیانگریزی ُاسے‬ ‫سمجھاتے‪ ،‬اس کی فرنچ کا اس کے لیے ترجمہ کرتے۔ کون کیا سمجھا یہ ہمیں معلوم‬ ‫نہیں۔اتنادیکھکردونوںچپہوگئ۔ابہمیںانتظارفقطپروفیسروقارعظیمکاتھا۔‬ ‫ساڑھے پانچ بجے ت ان کی راہ دیکھی۔ پھر پی آئی اے والوں نے کہا کہ صاحبو‬ ‫جلدیچلوورنہتمبھیرہجاؤگے۔جہازچلنےکوہے۔ابیہاںکوئینہیںکوئینہیں‬ ‫آئےگا۔‬ ‫وقارعظیمصاحبکاہّصقبعدمیمعلومہوا۔ٹکٹپرٹریولایجنٹنےبجائےچھکے‬ ‫ساڑھےچھبجےکاوقتڈالدیاتھا۔اوروقارصاحبلدےپھندےعزیزوںکے‬ ‫جلومیچھبجےہوائیاڈےپرپہنچےتوہماراجہازپرِپروازکھولچکاتھا۔وقارصاحبکو‬ ‫تیندنکراچیمیچینکیاگلیپروازکاانتظارکرناپڑا۔‬ ‫ڈھاکہمی جہاز گھنٹہبھر ٹھہرنا ہے۔ ہمارے باقی رفیق یہاںہمسےآنملے۔‬ ‫پرنسپلابراہیمخاںوہیازلی ابدیمہربانمسکراہٹلیے‪،‬کویجسیمال ّدیناسی‬ ‫‪21‬‬

‫طرحکنگھےسےبےنیاززلفیںلہراتے‪،‬ڈاکٹرانعامالحقبنےٹھنے‪،‬اعجازبٹالویبھیاور‬ ‫ڈاکٹر وحید قریشی بھی۔ ڈھاکہ سے اس جہاز کو پرواز کئے بس اتنی ہی دیر لگی ہو گی‬ ‫بکجھہاادئیجیئہےو۔سچنٹدسلمنحےے امعلیاآن کیپا ِ”نص ناکحبکاےنہاوپانئےی‬ ‫ڈھاکہ پہنچنے می‬ ‫جتنی کراچی سے‬ ‫لیجئے اور سگریٹ‬ ‫حفاظتی بند باندھ‬ ‫اڈےپراتریںگے۔“‬ ‫یہ ائی ہوسٹس ِدکھنےمی چینیلگتی تھیں لیکن بولتی انگریزیکے علاوہ اردو بھی‬ ‫تھیں۔آخرہمّٹکرکےہمارےایکساتھنےانکااتاپتہپوچھہیلیا۔وہکراچی‬ ‫کےرہنےوالےچینیوںمیسےتھیں۔یعنیپاکستانچینی۔ڈھاکہسےچینجہازجاتا‬ ‫ہے تو اس می پورے مسافر شائد ہی کبھی ہوتے ہیں۔ بہت سی نشستیں خالی جاتی‬ ‫ہیں۔ ہمارے دوس ڈاکٹروحید قریشی کے ساتھ والی نشست خالی تھ۔ اس پر‬ ‫انہوںنےاپنیٹوپیاتارکررکھدی۔ہمنےانسےکہاکہجناباسےاٹھالیجئےورنہ‬ ‫اس نشست کا کرایہ بھی وہ آپ سے چارج کر لیں گے۔ ہمارے کہنے کو تو انہیں‬ ‫اعتبارنہآیالیکنجباعجازبٹالوینےاورراشدیصاحبنےبھیہماریتائیدکیتو‬ ‫انہیںیقینآگیااوربقیہسفرمیوہپیآئیاےوالوںکی غیرمعقولیتپرتبصرہ‬ ‫کرتےہوئےاپنیٹوپیاپنےسرپررکھےرہے۔‬ ‫‪22‬‬

‫امموریییچکوارارںبچججیکرابٹہاہمئےامرتریہھگن‪،‬ھےہڑدمیایتنھماےایِو نرچاھعنجک‪،‬اپکزییرپنہصلےایڈجھحاھبکلہکککیداگ‪،‬یہھکمڑاھریی۔یپمگیھریڑصتایینکحاوےبرچانعھجابےازجپکےنییِ نگگھھڑڑنککایی‬ ‫ٹائمتھا۔چینکاٹائممغربیپاکستانکےٹائمسےتینگھنٹےآگےہے۔اسیلیےتوابھی‬ ‫ناشتہپیٹمیموجودتھاکہلنچکاٹائمہوگیااوراسکےفور ًابعدسہپہرکیچائےآگئی‬ ‫اورجلدہیشنگھائیپہنچتےہیراتکاکھاناکھاناپڑگیا۔بےشکاسوقتشنگھائیمی‬ ‫آٹھبجےتھلیکنہمارےمعدےکویہباریکیاںکیامعلوم۔کراچیمیتوابھیپانچ‬ ‫بجےشامہیکاعملتھا۔ایکدوروزتوہمیونہیوقتوںکےفرقکےمخمصےمیگرفتار‬ ‫رہے۔ایکبجےلنچپربیٹھتےاوریادآتاکہابھیتوکراچیکےدسبجےہیں‪،‬توبھوک‬ ‫آدھیرہجاتیاورصبحآٹھبجے ُاٹھتےاورسوچتےکہکراچیمیابھیپانچکاعملہے‬ ‫اورلوگخوا ِبخرگوشکےمزےلوٹرہےہوںگےتوبےاختیاروطنِعزیزپر‬ ‫رگشئ۔ک ِآنتا نک۔۔لی۔ک۔نقچدنیدمدتانریمخکیااانمہیینامویراشنیقلراوبیشتکحرریہکووگںکئابگلہکوہایروہہمںاکرہئےےکسہاچمیننےیحہدو‬ ‫نظرتپھیلاتھا۔یہیںمغربیوںکےقدمپہلےپہلآئے۔یہیںچینکےایکبا‬ ‫ہمّٹمح ِبوطنعہدےدارنے‪1839‬ءمیافیمکیوہبیسہزارپیٹیاںبرسرِعامنذ ِر‬ ‫‪23‬‬

‫آتش کر دی جو ایسٹ انڈیا کمیٹی کے تاجر چینیوں کو افیمی بنانے کے لیے زبردستی‬ ‫لانےپرمصرتھاورجسسےمشہورجن ِگافیمکاآغازہواجسمیچینکیشکست‬ ‫کےبعدانگریزوںامریکیوںاوردوسرےمغربیملکوںکےقدمچینمیجمگئاور‬ ‫اچیناہینںگکمالئیک یکوِلوشٹننےےکہھزاسوروٹنںےاانقولرابیمونںماکونا کیرکندےنکاممویقتعہ مہلتای۔غکیرہیدیںااو‪7‬ر‪ ِ9۲‬ن‪1‬ء نکمکیی‬ ‫سڑکیںّدمتوںخو ِنشہیداںسےرنگیںرہیں۔اسیشہرمیِدہعرسالتکےایک‬ ‫غازیکےنقو ِشپابھیثبتہیںیعنیرسولاللہکےایکصحابیابیوقاصکاروضۂ‬ ‫مط ّہرڑہےجنہوںنےمشر ِقبعیدکےاسدیا ِردورمیاسلامکاپوداکاشتکیالیکن‬ ‫آجاسشہرپرہماریفقطنظرِخوشگزرےتھ۔یہاںہمیںکچھدنبعدآنااورچند‬ ‫دنٹھہرنااورزیارتیںکرناتھا۔اسوقتتوفقطہوائیا ّڈےپرگھنٹےبھرکوقیامتھا‬ ‫لیکناسیایکگھنٹےمیچشمِشوقنےوہنظارہیہاںدیکھاکہکبھینہبھولےگا۔یہی‬ ‫ہمارےسفرکادیباچہاورنقطۂآغازثابتہوا۔‬ ‫‪24‬‬

‫حاتمطائیکےنقشقدمپر‬ ‫ِ ن نککاموسماسروزطرفہخوشگواراورفرحناکتھا۔بادلچھائےتھاورٹھنڈی‬ ‫ٹڈھھناڈکیےہموایہچیلںر۔اہگیرتپیھک۔نمگکچایننکدارراوخلپتنپڈودیاورےشسنبگھھایئیسچےیینہکمالعالہوومرہہوتےاتتوھا ِ نکہ نکہکمو‬ ‫چین کا ڈھاکہ کہئے۔ اس سے پہلے ایک شہر اور دیکھا تھا کہ ڈھاکے کو چھپاؤ اسے‬ ‫نکالو۔نہصرفسڑکیں‪،‬مکان‪،‬پرند‪،‬چرند‪،‬پودے‪،‬درخت‪،‬پھل‪،‬پھولعینمین‬ ‫کڈوھلمابوک۔ے ِکنی نتکصموییریہتباھبلتکاہلوسگحودںکوتندیہکھتکھرلییہکگمناایناکوگرومنضہبگوومطناہوستابتتھات۔وھہضشرہورترھ۔ا‬ ‫دونوںسےمشر ِقبعیدیت صافجھلکتیتھجبکہلاہوراورکراچیکیآبو‬ ‫‪25‬‬

‫ہوائیاورجغرافیائیرشتہمشر ِقوسطیسےہے۔‬ ‫ِ ن نکمیہماریآمدکیکسیکواِ ّّ اطعنہتھکیونکہہماریمنزلتوپیکنگتھذٰہلا‬ ‫آزادانہگھومتےپھرے۔دیکھاکہہوائیا ّڈےکےمیدانمیسینکڑوںبچیاںرنگ‬ ‫رنگ پوشاکیں پہنے بیر بہوٹیاں بنی ہاتھوں می گجرے لیے پریڈ یا کسی پریڈ کی‬ ‫ریہرسلکررہیہیں۔ہوائیا ّڈےکےصدردروازےسےباہرجھانککردیکھاتو‬ ‫اورایسیہیکئیٹولیاںنظرآئیںاورپھرانٹولیوںمیاضافہہوگیا۔ابہمسمجھ‬ ‫گئکہکوئیبڑاآدمیآنےوالایاجانےوالاہے۔ایکدوآدمیوںسےپوچھاتوپتہچلا‬ ‫کوئیوفداسیجہازسےروانہہوگا۔اتنےمیہوائیاڈےکےایکاوربرآمدےمی‬ ‫ایکسکھکھڑانظرآیا۔سکھاورچینمی!ہمنےقریبجاکردیکھاکہاپنےسائیں‬ ‫خمیسوخاںالغوزےوالےتھ۔بڑےتپاکسےسلامعلیکہوئیاوریہبھیدکھلاکہ‬ ‫پاکستانکاثقافتیوفدہے۔ابھیوداعیرسومسےفارغہوکرانتظارگاہسےبرآمدہو‬ ‫گا۔‬ ‫اسرندمیہمارےکئیشناسااوردوستھ۔بعضآرٹسٹوںسےبھی ُدعاسلام‬ ‫تھ۔نذیربیگمنظرآئیںکہچینکیٹھنڈیآبوہوانےانکوبیربہوٹیبنارکھاتھا۔‬ ‫فردوسیبیگمکوکبھیپہچانا۔پاکستانکونسللاہورکیڈائریکٹرفرخنگرعزیزسےبھی‬ ‫‪26‬‬

‫یاد اللہ تھ ۔ انہوں نے ہائیں کہہ کر اعجاز کو آگیا۔ وفد کے لیڈر ظل الرنٰمح کہ‬ ‫ڈھاکہر نیڈیواسٹیشنکےڈائریکٹرہیں‪،‬ہمارےپرانےدوسہیںانسےمصا فحے‬ ‫اورمعانکیمنازلطےہوئیتوبولے‪،‬تمکہاں؟‬ ‫ہمنےکہا۔میاںجی!یہدنیاکارواںسراہے۔کسیکاکوچکسیکامقامہوتاہے۔جس‬ ‫کام سے تم آئے تھ اسی سے ہم آئے ہیں۔ وہ ہے اس ہمسایہ قدیم سے کلچرل‬ ‫تعلقاتکی استواری اتنا البتہ ہےکہتمنے جس زبانمی باتکی ۔ رقص اور‬ ‫‪27‬‬

‫موسیقی‪،‬وہہرجگہسمجھیجاتیہے۔ہملکھنےلکھانےوالےترجمانوںکےمحتاجہوں‬ ‫گے۔لیکنخیر‪،‬میاںآزاددیکھیںگے۔‬ ‫ابدونوںوفدیوںکےلوگملجلگئ۔آنےوالوںنےجانےوالوںسےپوچھا‬ ‫کہچینکیساپایا؟کیسےمیاسدیارکےلوگ؟جسسےخطابکرولفظوںکیتلاش‬ ‫میکھویاجاتاہے۔خمیسوخاںنےکہاکہسائیںہمنےتوایسےآدمیزندگیمیکبھینہ‬ ‫دیکھے۔ ایک اور آرٹسٹ بولے ایسے دوس اور مہمان نواز نہ دیکھے نہ سنے۔ جو‬ ‫محبتانلوگوںنےہمپرنچھاورکیہےبیانسےباہرہے۔فرخعزیزنےکہاہمنہیں‬ ‫بتاتے تم لوگ خود دیکھو‪ ،‬لیکن وفور جذبات می سب سے بے حال وہی نظر آتی‬ ‫تھیں۔‬ ‫اموغنرّننیباےورشرقکاآنصباےروباالریکبتاغلگبیکارہدیوبارچہہہےمتنھے۔وگہیلںےدمیکلھرلیاہ۔ےچیتنیھا۔وجرہپااکزسکتااونقآترہٹوسرہاٹ‬ ‫تھالیکنایکدوسرےسےجدانہہورہےتھ۔جوانجہانلڑکیاںبرہکےماروں‬ ‫کی طرح زار و قطار رو رہیں تھیں۔ فردوسی بیگم کے آنسو نہ تھمتے تھ۔ سب کے‬ ‫سبگُل ددستوں‪،‬پھولوںاورانواعواقسامکےتحفوںسےلدےتھ۔باہرباجابج‬ ‫رہاتھا‪،‬کرتبہورہےتھ۔کچھکھلاڑیکاغذکاایکبڑااژدھالیےکہچینکاقومی‬ ‫‪28‬‬

‫نشنہے‪،‬اپنےخاصطربیہاندازمی ُاسےنچارہےتھ۔ابیہسباور ُرخصت‬ ‫کرنےوالوںکیدورویہقطارمیسےجلوسکیصورتگذرے۔انکےپچھےپیچھے‬ ‫اساندازرخصتیکوتقریبپذیرائیبناکرہمبھیچلےاورکچھگجرے‪،‬کچھنعرےاور‬ ‫ددبووبہساتررجساییتباتاارلہیڈاھےا۔ںاہکمایےرکسباےےرپبڈہلھھےایےِکّنصےحنکسمپھےیرششآننگئگھیھاںائئ۔ییوصاہاواحربںوہوا!سپاںکےستسِانے ننسکیاسدوھرےاپچڈھھیراڈنھکجہاےاکز۔ہاہوفاتےسپرمسو۔یز‬ ‫یہدوسریپروازتھ‪،‬ذٰہلاشنگھائیتانتمامپاکستاندوستوںکیمغ ّٹِٹرہی۔‬ ‫راستےمیپیرصاحبکےحکمسےخمیسوخاںدیرتالغوزہسنایاکئے‪،‬سماںباندھ‬ ‫دیا۔‬ ‫شنگھائیمیاترےظ ِلّالرنٰمحنےکہا۔”تمہارااوورکوٹکہاںہے؟“‬ ‫ہم نے کہا ”اوور کوٹ تو ہمارے پاس کبھی نہ تھا اور یہاں اس کی کیا ضرورت‪ ،‬یہ‬ ‫سوٹکیاکافینہیں؟اورسوئیٹربھیایکہے۔“‬ ‫بولے‪”،‬تمہاریمرضی‪،‬دیوا ِرچیندیکھنےجاؤگےتوتمہاریقلفیجمجائےگی۔“‬ ‫قلفی ہمیں پسند ہے بشرطیکہ ہماری اپنی نہ ہو۔ ذٰہلا ہم نے کھڑے کھڑے ظ ِّل‬ ‫‪29‬‬

‫الرنٰمحکااوورکوٹ ُاتروالیا۔بولے”شوقسےلےجاؤلیکنواپسکردینااورکہیں‬ ‫بھولنہآنا۔“‬ ‫اسپراُنکےوفدکےایکمغن ّننیکہلاہورکےتھلیکنانکانامنہیںمعلوم‪،‬بے‬ ‫اختیارہنسدیے۔ بولے۔ ”خیر صاحب یہاں بھولنے کا امکان نہیں‪،‬آپ ہزار‬ ‫بھولیںیہلوگنہیںبھولنےدیںگے۔اسسڑیہوئیٹوپیکولیجئےجوآپمیرے‬ ‫قریب دیکھ رہے ہیں۔ اسے می لے تو آیا تھا لیکن چونکہ دوسری بھی موجود تھ‬ ‫ذٰہلا اسے پیکنگ کے ایک ہوٹل می پھینک دیا۔ انہوں نے میرے پیچھے ہانگ چو‬ ‫پبوھینجچدھکیر۔یہہاانںگچِ نو نمکبیھیمجیدایس۔اےایبڈکپھاارکےکممییبجناچکپرراچھوسڑسآیاےچ۔ھکٹکسایرانحاےاُٹصھالککررجوھاڑں‬ ‫‪30‬‬

‫گا۔عذاببنگئیہےمیرےلیے۔“‬ ‫شنگھائی۔۔۔وہ شہر غ ّدارکہ انقلاب سےپہلے اپنےقحبہ خانوں‪،‬نائٹ کلبوں‪،‬اہ ِل‬ ‫یورپکےاستحصالاورمقامیباشندوںکینکبتاورافلاسکیبناپرسینۂچینکاناسور‬ ‫کہلاتاتھا۔حدنظرتہمارےسامنےپھیلاتھا۔یہہمارےسفرکادوسراپڑاؤتھایعنی‬ ‫آگے چلیں گے دم لے کر۔ یہاں شنگھائی کی انجمن نیفّنصم کی طرف سے ایک‬ ‫صاحبہ ہمارے خیر مقدم کو موجود تھیں۔ سامان وغیرہ چھڑوانے کے لیے انہوں‬ ‫نےٹکٹہمسےلےلیےاورکہااسدورانمیماحضرتناولفرمائیں۔‬ ‫پہلیمنزلکےاسشانداراوردلکشاریستورانمییہطےکرتےاورآپسمیبحث‬ ‫کرتےکہچینیکھانےکیبسماللہکیجائےیاولایتیکیفرمائشکریں‪،‬پندرہمنٹگزر‬ ‫گئ۔چینیکھانےمیاحتیاطکیوجہیہتھکہترجمانکوئیآسپاسنہتھااورہم‬ ‫میسےمینڈکوغیرہکوئینہکھاتاتھا۔خیرپندرہمنٹبعدجوبھیکھاناآیاخواہوہ‬ ‫چینکاتھایامغربی‪،‬ہمارےلیےتھایاکسیاورکےلیے‪،‬سبنےبڑیرغبتسےنو ِش‬ ‫جان کیا اور اب ہم پھر سفر کے لیے تیار تھ۔ شنگھائی سے پیکنگ کے لیے چینی‬ ‫فضائیکمپنیکاجہازتھا۔‬ ‫‪31‬‬

‫ُپُ ّینکمنلگڑجکایانئےیواہولسےاٹسسجتہاھز۔بمریہمساپرندرہےیعالاسووہلہبکاسدسونچا۔رکاموارزمکسماہفمراراتانھد۔اازہییکہنینتھھیا‬ ‫لیکناسسےپوچھاتواسنےبائیسسالبتائے۔ہمیںچینکےقیاممیبارہاشبہ‬ ‫ہواکہجسطرحہمارےہاںآدا ِبمجلسیکاتقاضاہےکہاپنیعمرپانچساتبرسکم‬ ‫کرکےبتاؤ‪،‬خصوًاصآپخاتونہیں‪،‬تواسیطرحچینکےضا طبااخلاقکےبموجب‬ ‫اپنیعمربڑھاکربتانامستحسنخیالکیاجاتاہوگا۔لیکنتحقیقپرحقیقتیہنکلیکہلوگ‬ ‫بدن چور ہیں۔ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ لیکن صاحبو اب گفتگو کے دفتر‬ ‫تہہکروکہشہروںکاشہرپیکنگآیاجاتاہے۔وہپیکنگجسکاذکرہمنےپہلےپہل‬ ‫حاتمطائیکےق ّصوںمیپڑھاتھا۔اپنےدوسمنیرشامیکیمحبوبہکےایکسوالکا‬ ‫جوابتلاشکرنےکےلیےاساولوالعزمکویہاںبھیآناپڑاتھا۔مارکوپولویہاں‬ ‫بارہویں صدیعیسویمیآتاہےاورقبلائیخاںکےدربارمیسندوخلعتپاتا‬ ‫ہے۔وطنواپسجاکراسشہرکااحوالاسنےرقمکیاتوزمانہوٰیطسکےیورپنے‬ ‫جوابھیجہالتاورمذلتکیدلدلمیتھا‪،‬اسےدنیاکےسبسےبڑےجھوٹے‬ ‫کےلقبسےنوازا۔ابنبطوطہاسکےکوئیآدھیصدیبعدآتاہےاورابہماری‬ ‫باری ہے۔ لیکن ہم تو کراچی سے صبح چلے اور ہنستے کھیلتے‪ ،‬چائے پیتے‪ ،‬لنچ کھاتے‪،‬‬ ‫‪32‬‬

‫حفاظتیبندکھولتےباندھتےشامکوپیکنگمیجااترے۔مارکوپولوکواسمسافتمی‬ ‫کئیبرسلگےاورپھراسعرصےمینہاسکوپیچھےوالوںکیخبرتھنہپیچھےوالوںکو‬ ‫اس کی۔ بلکہ قبلائی خان نے خطا کی‪ ،‬ایک شہزادی کو دلہن بنا کر ایران کے ایک‬ ‫شہزادےکےلیےمارکوپولوکیمغ ّٹِٹمیبھیجاتومنزلپرپہنچنےپرپتہچلاکہشہزادہ‬ ‫نامدار کو وفات پائے تو ّدمت ہوئی۔ خیر سفر ان لوگوں کا حق تھا۔ ٹکٹ کٹا کر پل‬ ‫جھپکنےمیزمینکیطنابیںکھینچلیناسائنسکاکمالتوہوا‪،‬ہماراتونہہوا۔‬ ‫پیکنگکےہوائیاڈےپرچینیادیبوںکاایکپوراجتھاخیرمقدمکوموجودتھا۔ٹکٹ‬ ‫ہمارےانمیسےایکصاحبنےسنبھالےاورہمایکفّلکمویٹنگروممی‬ ‫نصہودفوودںھپاروجرابجیوٹھہمےا۔ریہیاواںپفسویر ًاہیتچہامائرےیآرگگئیو۔ںچیمنییچگاٹِلئٹ نوےںجکسیممقیدناہرچیمنییہدووتڑیرہہےی‬ ‫تھ۔میزبانوںنےاپناتعارفکرایا۔یہرسمیکاروائیتھ۔سنتےگئاورہوںہاں‬ ‫کرتے گئ۔ اگلی صبح ت سب ایک دوسرے کا نام بھول چکے تھ۔ مہمانوں کا‬ ‫تعارف کرانا ہمیشہ ہمارے ذمہ رہا۔ کیونکہ وفد کے لیڈر اراکین کے ناموں اور‬ ‫کاموںسےابھیپوریطرحواقفنہتھ۔‬ ‫ایکآدمجگہالبتہشمعانکےسامنےپہنچیتوانہوںنےہمیںپاکستانکیممتازاور‬ ‫‪33‬‬

‫مشہورناولنویسقراردیااورچونکہتردیدکرناخلا ِفآدابتھا‪،‬ذٰہلاایکمیزبان‬ ‫کے اشتیاق آمیز استفسار کے جواب می ہمیں اپنے ناولوں (آگ کا دریا‪ ،‬خدا کی‬ ‫بستی‪،‬آنگنوغیرہ)کیتعدادبتانپڑی۔وہانتصانیفکےنامبھینوٹکرناچاہتے‬ ‫تھلیکنہمنےازرا ِهانکسارکہاکہاسکیچنداںضرورتنہیں۔‬ ‫پرنسپل ابراہیم خاں ہمارے بار بار کے تعارف کے باوجود اہلِ چین کے لیے مسٹ‬ ‫خان ہی رہے اور ان کو یہی گمان رہا کہ پاکستان می خان نام کے سبھی لوگ ایوب‬ ‫خاں‪،‬صبورخاں‪،‬خمیسوخاںوغیرہانکےاّزعہہیں۔جسیمال ّدینکووہلوگمسٹ‬ ‫الدّین ‪ UDDIN‬کہنےپر ُُمڑتھ۔آخرہمنےکہاانکوفقطجسیمکہہلیاکرو۔‬ ‫کوئیبےحرمتیکااحتمالنہیں۔راشدیصاحبکےنامسےانہوںنےصرفالف‬ ‫گرادیاکہیوںبھیحر ِف ِ ّعہےاورحسبِضرورتہمارےہاںبھیگرایاجاسکتا‬ ‫ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق کو مسٹ ہک ہونا ہی تھا۔ ڈاکٹر قریشی فقط ڈاکٹر کوائی چی بنے‬ ‫رہے۔وقارعظیمصاحبمسٹعظیمسےآگےنہبڑھےبلکہہمارےرئیسوفدنہ‬ ‫جانے کیوں ان کو آخر ت باقر عزمی ہی کہتے رہے۔ اعجاز بٹالوی کو کسی نے مسٹ‬ ‫باٹلویکےعلاوہکچھنہکہا۔ہمنےکہااوررکھووطنکینسبت۔اچھےخاصےاعجازسے‬ ‫باٹلویبنگئلیکنوہاسمیخوشتھ۔ہمارانامسبکوآساننظرآیا۔مسٹانش‬ ‫‪34‬‬

‫بولنےمیسبٹھیکتھالیکناسلکھےکوکوئیپڑھتاتھاتومسٹہنسایایاایِننس اابنجاتا‬ ‫تھا۔مسٹکےلیےانکےہاںکوئیلفظہےجوصاحبکیطرحنامکےبعدآتاہے‪،‬‬ ‫پہلےنہیں۔“‬ ‫گیارہساڑھےگیارہبجےہوںگےکہہمفرودگاہسےقیامگاہکوچلے۔خاصیمسافت‬ ‫متیھاخوورشٹگھوانڈرسیرہدوایچکلےرگہنیےجتاھت۔ےیہہایپںرورنیہکمیہبیینسہوبھیرںپکاہلذےکرہتتےوابورر نی افہرا ّ ِاییامشومارلسیرچدینی‬ ‫نےلوگوںکومرزاپھویابناگھروںمیقیدکررکھاتھا۔آدھیراتکاعملتھالیکن‬ ‫سڑکوںکےدو رویہکامکرنے والے کامکر رہے تھ۔روشنیکے بڑے بڑے‬ ‫ہنڈےراتکودنبنائےہوئےتھ۔ٹریکٹراور ُبڈوزرخردشاںاوررواںدواں‬ ‫تھ۔مولویمحمدحسینآزادکینظم’راتکاسماں‘یادآئیجسمیشبکاسرورچور‬ ‫تکواسکےفرائ ِضمنصبیسےغافلکرکے ُُ اسدیتاہےاوریہاںشاہتبیدار‬ ‫تھاورملککیدولتبیدارمیاضافےکیدھنمیپلکنہجھپکارہےتھ۔‬ ‫لطیکےنکہرمتتوےدیاہ ِرماُدویرککعےظمیہمماال ّیس اانتنعمھااوررنیتنکدیہدمہیلیںزپیپاررتیھت۔ھچ۔یکنتینےمہییککیواناچمےاہوےر؟رایہہیتوں‬ ‫ہمیں کبھی یاد نہ رہا لیکن دائمی امن کی شاہراہ پر یہ ہوٹل یا قیام گاہ قومی اقلیتوں کا‬ ‫‪35‬‬

‫ہوٹلکہلاتیہے۔ا ّولدرجےکاہوٹل۔کمرےپہلےسےمقررتھ۔کپڑےبدلنے‬ ‫کے بعد ہم یہ بھی نہ طے کر پائے تھ کہ آج کون سا خواب دیکھا جائے کہ نندیا‬ ‫دیوینےہماریآنکھیںمونددیں۔‬ ‫‪36‬‬

‫کچھچینکےالہدینوںاورجنوںکےبارےمی‬ ‫پرانحکایتہےکہایکپیرمرددقیانوس‪ ُ ،‬دبھے ُپس‪،‬رّتسایّسبرسکا ِ نساللہ‬ ‫اللہکرنےکےدن‪،‬اپنےگھرکےباہرآموںکےپیڑلگارہےتھ۔ایکراہگیر‪،‬تو‬ ‫کونمیخواهمخواہ‪،‬کھڑاہوکردیکھنےلگا۔امابعدبولاکہباباابََکدناورتمہاری‬ ‫زندگی ہے۔ ان درختوں کا پھل کھانے کو زندہ تھوڑا ہی رہو گے۔ ناحق کو زحمت‬ ‫اٹھاتے ہو۔ بڑے میاں نے بھنوؤں کی جھالریں ہٹا کر اجنبی کو دیکھا اور کہا کہ یہ‬ ‫تناورجغادریدرختجنکےپھلمینےکھائےاورکھاتاہوںمیرےپرکھوں‬ ‫نےلگائےتھ۔میجولگارہاہوںاسکاپھلمیرےبچےپوتےکھائیںگے۔‬ ‫درختلگاناایکسمبلہے۔ہمآججسچیزکیبناڈالتےہیںخواہوہکوئیباغہےیا‬ ‫‪37‬‬

‫صنعتہےیانظامہے۔ضرورینہیںکہاسکاپھلکھانےکوہمخودزندہرہیں۔یہ‬ ‫باتہوتیتوماؤزےتنگاوراسکےساتھیوںکوجوعمرکےآخریمراحلمیہیں‬ ‫کبھیاتنےکشٹاُٹھانےکیضرورتنہہوتی۔مزےسےسوئٹزرلینڈکےبنکوںمی‬ ‫موٹیموٹیرقمیںجمعکراکےعیشکرتے۔جائدادیںبناتےاورجبکبھیعوامکی‬ ‫بطھیرجوچفھ ّنس نےنککورئویڑخکطیرچہوپتیھداائہیو۔تاآسؤافوجتیسا ّمڈندرےپبانارؤاسورےاخپدناےئویففاوداجرودارںوکیںپکوشالُتبپنتاہےیککاہ‬ ‫حقاداکرو۔کچھخودکھاؤکچھہمیںکھلاؤ۔‬ ‫لیکندوستو!یہموقعاسقسمکیگفتگوکانہیں‪،‬یہتوسیرپانچویںدرویشکیہےاور‬ ‫تقریباسذکرکایہکہپہلےہیروزہمجوپیکنگکیسڑکوںپرنکلےتوکیادیکھتےہیںکہ‬ ‫اسکول کے لڑکوں کے غول کے غول ٹہنیاں‪ ،‬پودے‪ ،‬قلمیں اور پیڑ ہاتھوں می‬ ‫ُاٹھائےشجرکاریمیمصروفہیں۔چہروںپرذوقوشوقاورچلبلاہٹ‪،‬ایکسے‬ ‫دوسرا بازی لے جانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ ہمیںوہ دنیاد آ گئ جب‬ ‫پرائمریکیجماعتوںمیپڑھتےہوئےہماریپوریکلاسکھیتوںمینکلجاتیتھ‬ ‫اوردودومیلتپوہلیکاٹتیچلیجاتیتھ۔یہایکخارداربوٹیہوتیہےجوپھیل‬ ‫جائےتوفصلکابڑانقصانکرتیہے۔اسعالممینہدھوپکاخیالہوتاتھانہکسی‬ ‫‪38‬‬

‫صلے کی توقع۔ سو یہی جذبہ ہم نے ان سیکڑوں ہزاروں طالب علموں می دیکھا جو‬ ‫سڑکوںکےگرددرختلگاتےہیں۔چائےکےباغوںمیجاکرچائےےتنُچہیںاور‬ ‫مضافاتکےکمیونوںمیجاکرسبزیاںاورفصلیںبوتےاورکاشتکرتےہیں۔یہ‬ ‫رضاکارجتھےوہکامکرتےہیںجوتنخواہدارکارگرصلےکےعوضنہکرسکیں۔انکونہ‬ ‫کہیںسےکھاناملتاہےنہکوئیاورسہولت۔دیکھاکہکھانےکیپو ِاٹںساتھہیںاور‬ ‫پیدل مارچ کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی ٹرک پاس سے گزرا تو لفٹ دے دی۔ بعض‬ ‫اوقات تو یہ لوگ ایک دو دن نہیں بلکہ ہفتے ہفتے بھر کے لیے باہر نکل جاتے ہیں‪،‬‬ ‫ہانگوُچکےچائےکےباغوںکےکمیونمیہمنےایسیہیایکچمٹ ِغٹدیکھی‪،‬یہ‬ ‫لوگگھروںسےپانچپانچساتساتروپےلےکےنکلےتھ۔کامکرتےتھ‪،‬‬ ‫کھیلتےتھ۔سایۂدیوارمیآرامکرتےتھاورجسروزوہہمیںملےہیںانکے‬ ‫بستر ایک ٹرک پر بار تھ۔ اس می بھی قرار داد یہ تھ کہ سامان یہ ٹرک ایک‬ ‫خاص منزل می پہنچا دے گا لیکن ساری نفری خود مارچ کرتی جائے گی۔ ‪19۵8‬ء‬ ‫تپیکنگمیخالخالدرختنظرآتےتھلیکن‪19۲0‬ءتاسشہرمینوّے‬ ‫لاکھدرختلگچکےتھ۔اسکےبعدجولگےانکیگنتیمعلومنہیں۔لیکنتعداد‬ ‫ایککروڑسےاوپرہوگی۔یہلوگسڑککےدورویہفاصلےفاصلےسےایکدرخت‬ ‫‪39‬‬

‫لگانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ بعض جگہ پانچ پانچ سات سات متوازی قطاریں چلی‬ ‫گئیہیں۔ایسیبھیشاہراہیںہیںجنکےکنارےبیسبیسقطاریںایککےپیچھے‬ ‫ایک چلی گئی ہیں۔ درخت نہیں جنگل کہیے۔ شہر کے مرکز می ان لوگوں نے‬ ‫چھوٹے پیڑ کاشت کرنے اور پھر سالوں انتظار کرنے کے بجائے یہ کیا ہے قد آدم‬ ‫بلکہاسسےڈیوڑھے ُدگنےدرختاُکھاڑلائے۔پنجابیمیتواسےچکلینکالناکہتےہیں‬ ‫اردواصطلاحمعلومنہیں۔چکلیتوآجکلدرختوںہیکینہیںعمارتوںکیبھینکالی‬ ‫جاتیہے۔ماسکومیعمارتوںکیعمارتیں‪،‬بلاکوںکےبلاککھودکرانکےنیچےآہنی‬ ‫شہتیر پھنسا کر اوران می پہئے لگاکر کہیں سے کہیں منتقل کر دیے گئ۔ لیکن یہاں‬ ‫درختوںکاذکرہے۔گڑھےپہلےکھودلیےجاتےہیں۔کریندرختکو ُاٹھاکراس‬ ‫میرکھدیتیہےاورمٹیبرابرکرکےپاندےدیاجاتاہے۔چندروزمیوہجمجاتا‬ ‫ہےجیسےپانچساتسالپہلےلگاہو۔یہاحوالہمنےصرفپیکنگمینہیںسبھی‬ ‫شہروںاورقصبوںمیدیکھا۔دعوتوںمیکہیںجا ِمصحتتجویزکرنےکاموقعآیا‬ ‫توہمنےچینکےدرختکاروںہیکےنامکیاجوسڑکوںاورکھیتوںمیفصلیںاور‬ ‫پیڑ کاشت کر رہے ہیں اور نئے ذہنوں می عزم خود داری اور محنت دوستی کے‬ ‫نونہال۔‬ ‫‪40‬‬

‫جغادریاوردیوہیئت‪،‬عمارتوںکیتعمیربھیاسذو ِقتعمیرکادوسراپہلوہے۔‪19۵9‬ء‬ ‫میچینکےانقلابکیدسویںسالگرہتھ۔‪19۵8‬ء کےاواخرمیاستقریب‬ ‫سےپیکنگکےلوگوںنےعزمکیاکہوہدسعظیمال ّیساانعمارتیںبنائیںگئاوردس‬ ‫مہینےکےاندربنائیںگے۔تاکہیکماکتوبر‪19۵9‬ء کودسویںیومانقلابپروہتیار‬ ‫ملیں۔انعمارتوںکیوسعتکااندازہکرناہوتوہیجانیےکہایکایکمیاسٹیٹ‬ ‫بینکاورنیشنلبینککیکئیکئیعمارتیںسماجائیں۔قمرہاؤسکیسیبلڈنگیںتوجانے‬ ‫کتنیہوںگی۔اندوسعمارتوںمیایکتوعوامکاتالا ِرعظیمہےجواپنیوسعت‬ ‫میشایددنیابھرمینظیرنہرکھتاہو۔کوئیبڑاغیرملکیمہمان‪،‬صد ِرمملکتیاوزیر‬ ‫اعظموغیرہآئےیاکوئیاہمتقریبہوتواسمیجلسہہوتاہےاسکےکمرہطعامکا‬ ‫اہدنیدںاس۔زہہازاابرھسیآحدسامیےولکیہجںئیےککمےہپبیایاٹنھفنچرےہوکزااییگشرنیجاآائدیئمیمشبصیہّنٹٹھفےکواروکںرھکیاانہاّجکدوھماہونسگرکاباتملےکیہنناٹیِجااںلا۔ںہبالاسلسہکتوایوبنااولوکروںنیجوکےسںقاممئیمی‬ ‫پاکستانکےنمائندےبھیشریکہوئےانکیدعوتبھیوزیراعظمچواینلائی‬ ‫نےاسیعمارتمیکی۔پیکنگکامرکزتائنمنچوکہےیہاںایکپراناتاریخی‬ ‫دروازہہے۔جسکےپیچھےشاہیمحلاتہیں۔پرانےزمانےمیشاہیفرماناسکی‬ ‫‪41‬‬

‫بالکنی سے نیچے انتظار کرنے والے امراء‪،‬و وزراء اورحکا ِم مملکت کو پھینکے جاتے‬ ‫تھ۔ عوامی جمہوریہ چین کا اعلان بھی ماؤزے تنگ اور اس کے رفیقوں نے اسی‬ ‫بالکنیسےکیااوراسکاپرچمبھیپہلیباریہیںکھلاجسکییادگاربھیقائمہے۔پہلے‬ ‫یہاںکچھچھوٹیموٹیعمارتیںتھیں۔ابانکیجگہایکبہتوسیعچوکہےجس‬ ‫میخاصموقعوںپرپریڈبھیہوتیہے۔اسچوککوپیکنگبلکہچینکادلکہیئے۔‬ ‫عوامکاتالا ِرعظیماسیکےایکپہلوپرواقعہےاوربالمقابلپہلوپرچینکیتاریخاور‬ ‫چینکےانقلابکےڈھنڈارعجائبخانےہیں۔تالا ِرعظیمکیوسعتاوراسلو ِب‬ ‫تعمیرنےبہتسےمغربیم ّ ڑبوںکوحیرانکیاہے۔انمیسےایکصاحبلکھتے‬ ‫ہیں کہ صوتیات کا کوئی مّلسم یا مروج اصول ایسا نہیں جس سے انحراف کیا گیا ہو۔‬ ‫اسکےباوجوداسکےہرےّصحمیآوازیکساںطورپرسنیجاسکتیہے۔ہالکیدس‬ ‫ہزار نشستوں می سے ہر ایک کے پیچھے ایک ننھا سا مائیکرو فون چھپا ہوا ہے۔ ہر‬ ‫نشستکےساتھکانوںکولگاکرمختلفزبانوںمیترجمہسننےکےآلاتبھیلگے‬ ‫ہیں۔اگرتقریرچینیزبانمیہورہیہےتوچاہےاسکاترجمہانگریزیمیسنئے‪،‬‬ ‫چاہےروسیمی۔کچھاورزبانوںکابھیانتظامہے‪،‬فقطایکبٹندباناہوگا۔‬ ‫اسعمارتکیتعمیرمیچودہہزارآدمی‪،‬کاریگراورکارندےوغیرہتولگےہیتھ‬ ‫‪42‬‬

‫لیکنپیکنگکےلوگبھیرضاکارانہآکرکاممی ُجگئ۔شاموںکواوراتوار‬ ‫وغیرہکوہزاروںشہریآکرہاتھبٹاتےرہےاورابفخرسےکہتےہیںکہہاںہمارا‬ ‫ہاتھبھیاسکیتعمیرمیہے۔فلٹِکسگرینکہتاہےکہاگریہہاںدسسالمیبھی‬ ‫پایۂتکمیلکوپہنچتاتوتعمیراتکاایکشاندارکارنامہقرارپاتالیکندسماہمیاسکابننا‬ ‫ایکعجوبہسےکمنہیں۔‬ ‫‪43‬‬

‫یہتحیِّرڑدوسریعمارتوںکودیکھکرہوتاہےکہاندسماہمیبنیں۔چینکیتاریخاور‬ ‫انقلابکےعجائبگھروںکاذکرہمتفصیلسےکریںگے۔انہیںدیکھکربھیاللہکی‬ ‫قدرتیادآتیہے۔قو ِمںکامحلبھیاپنیشانکیایکہیعمارتہےاورہمیں‬ ‫خیالہوتاہےکہوہہوٹلبھیجسمیہمقیامفرماتھاسمنصوبےمیشاملتھا۔‬ ‫پیکنگکانیااوربےمثالریلوےاسٹیشنبھیانہیدسماہمیبنا‪،‬بلکہدسماہمینہیں‬ ‫ساڑھےساتماہمی۔اسکےمتعلقبھیہمارااندازہہےکہکہاگرپانچساتبرس‬ ‫میبنتاتوقاِلبتعریف کارگزاری ہوگی‪،‬لیکن ساڑھے ساتماہمی؟اگرلوگ‬ ‫آنکھوںدیکھینہکہیںتوکبھییقیننہآئے۔ایکصاحب‪19۵8‬ءکےاواسطمی‬ ‫وہاںتھتوکچھنہتھا۔‪19۵9‬ءکےیو ِمانقلابپرگئتوحیرانہیحیران۔الہدین‬ ‫نےاپنیعروسکےلیےراتبھرمیمحلکھڑاکردیاتھاجواسکےچراغکےجنکا‬ ‫کارنامہتھا۔الہدینچینیتھااسکاجنبھیچینیہوگا۔ذٰہلاخیالہوتاہےکہایسی‬ ‫باتیںچینمیہیہوسکتیہیں۔فرقیہہےکہوہچراغغیرکےقبضےمیگیاتوالہ‬ ‫دینکامحلبھیغائبہوگیا۔ماؤزے تنگکاچراغمحنتکاجادوہےاسےزوال‬ ‫نہیں۔اسیمحنتکوچراغجانیے۔‬ ‫‪44‬‬

‫عجائبنئےاورپرانے‬ ‫پیکنگ کا ریلوے اسٹیشن اپنے جلال و جمال می ایک نادرہ کار عمارت ہے۔ سامنے‬ ‫کےچوگانمیجہاںقاعدےکےمطابقکیلےاورمونگپھلیوںکےچھلکے‪،‬چاٹ‬ ‫کےخالیدونے‪،‬پانکیپ ِٹکن ِن‪،‬سگریٹکےٹکڑےاوردوسریغلاظتوںکےڈھیر‬ ‫ہونےچاہیں‪،‬آپکچھبھینہپاکرمایوسساہوجائیںگے‪،‬کیامُح ّ الاوردھلادھلایافرش‬ ‫ہے۔اندرداخلہوکرایوانکیچھتپرنظرڈالنےکےلیے‪،‬آپکےپاسپگڑی‬ ‫ہےتوپگڑیسنبھالیے‪،‬ٹوپیہےتوٹوپی۔احتیاطکیجئے۔فرشپرپاؤںنہپھسلجائے۔‬ ‫یہاںآپکوچینکےطولوعرضکےبھانتبھانتکےلوگملجائیںگے۔کچھ‬ ‫کامکینیلیوردیمی‪،‬کچھروئیکیبنڈییامرزئیپہنے‪،‬کوئیشمالکاہے‪،‬کوئیجنوب‬ ‫‪45‬‬

‫کا۔سنکیانگکےلوگتودورہیسےپہچانےجائیںگئ۔ال ّسلامعلیکمکہیئے‪،‬وعلیکمسلام‬ ‫کہیںگے۔اسکےبعدنہآپانکیباتسمجھسکیںگےنہوہآپکی۔زیادہسے‬ ‫زیادہآپاپنےسینےپرہاتھرکھکرپاکستانکہیے۔(چینیلوگپاچستانکہتےہیں)وہ‬ ‫سنکیانگکہےگا۔سامانخوداٹھائےہوئےہیں۔ابایوانکےدونوںسروںپرآپ‬ ‫بجلی کی سیڑھیاں (ایسکے لیٹر) دیکھیں گے‪ ،‬ان پر چڑھ کر ٹکٹ گھر کی کھڑکیوں اور‬ ‫آرامگاہوںتپہنچے۔کچھانمیسےزیریںمنزلپرہیں۔اوپرپہلیمنزلکے‬ ‫فرشتوںپربھیاتنیصفائیاورجلاہےکہہمجیسوںکاجیگھبراجائے‪،‬دورویہبڑے‬ ‫لمبےلمبےتالا ِرہیں۔اسٹیشنماسٹرصاحب۔۔۔۔یہاںہمیںاجازتدیجئےکہہماپنا‬ ‫ہیقطعکلامکرکےکچھچینکےضا طاباخلاقکےمتعلقعرضکریں۔اگرآپکو‬ ‫کوئی جگہ دیکھنی ہے۔ یونیورسٹ ہے یا لائبریری‪ ،‬عجائب گھر یا کارخانہ‪ ،‬اسکول یا‬ ‫ریلوےاسٹیشنتوآپکےمیزبانمتعلقہافسراعلیکوفونکردیںگےکہہمفلاں‬ ‫وقتپہنچیںگے۔افسرِاعلیوق ِتمقرہسےپانچمنٹپہلےآپکےخیرمقدمکے‬ ‫لیےباہرکھڑاہوگا۔اسکےلیےیہکوئیشرطنہیںکہآپکوئیسرکاریمہمانیا‬ ‫بھاریبھرکمشخصیتہیں۔ماؤزےتنگنےبھیآپکووقتدیاہےتودروازےپر‬ ‫آکرآپکوخوشآمدیدکہےگا۔یہنہیںکہفرلانگبھرچوڑیمیزپرسےہاتھلمباکر‬ ‫‪46‬‬

‫کےآپکیانگلیوںکوچھولیاجائے۔اگرآپدیرکرتےہیںتواتنیدیر ُاسےبھی‬ ‫انتظارمیکھڑارہناہوگا۔اسکےبعدسبسےپہلےآپایکمخصوصکمرےمی‬ ‫جاتےہیں جہاںصوفےبچھےہیں اورچائے اورسگرٹ حاضر ہیں۔ یہاںآپ کو‬ ‫بریفکیاجائےگا۔یعنیادارےکاتعارفکرایاجائےگا۔پسمنظربتایاجائےگا۔‬ ‫اس دوران می اسے کتنا ہی ضروری کام ہو‪ ،‬وہ بے چینی ظاہر نہیں کرے گا۔ کسی‬ ‫ٹیلیفون کا جواب نہیں دے گا‪،‬بے صبری می بار بار گھڑی نہیں دیکھے گا۔ ان‬ ‫لوگوںکیپابندیاوقاتکاہمیںشروعمیاتناخیالنہتھا۔ہوتابھیتوعادتسے‬ ‫مجبور تھ۔ ہمارے مستقل میزبان یعنی وہ جو ہماری خاطر داری کے لیے ہمارے‬ ‫ہمراہرہتےتھ۔اورترجمانحضراتہمیںیہبتاکرکےنوبجےفلاںجگہپہنچناہے‪،‬‬ ‫ہمیںلینےکےلیےپونےنوبجےپہنچکرہوٹلکیانتظارگاہمیآبیٹھتےتھ۔ہماری‬ ‫منڈلیمیسےایکآدھآدمینوبجےنیچےاُترآتاتھا۔دوسراکوئیپانچمنٹبعدچلاآ‬ ‫رہاہے۔تیسراکوئیدسمنٹبعدبرآمدہوتاہے‪،‬ابگنتیہوئیتوساتمیسےچھ‬ ‫موجود ہیں۔ فلاں صاحب باقی ہیں اور آخری اطلاع کے مطابق غسل خانے می‬ ‫تھ۔خداخداکرکےوہآئےاورچلنےکیتیاریہوئیتوایکنہایکصاحبکویادآیا‬ ‫کہمیریپنسلیامیرےسگریٹیامیرینوٹبککمرےمیرہگئیہے۔انکے‬ ‫‪47‬‬

‫اپنےکمرےتجانےاورشیشےکےسامنےکھڑےہوکرآخریبارکنگھاکرنےاور‬ ‫اپنیچیزتلاشکرکےلانےمیپانچساتمنٹاوربیتجاتے‪،‬ایسااکثرہواکہوقت‬ ‫نو بجے کا دیا اور منزل پر ساڑھے نو بجے پہنچے۔ میزبان بیچارے کو آدھ گھنٹہ انتظار‬ ‫کرایا۔ہم نے ساتھیوںسے ایک آدھبار مؤدبانہ کچھ عرض کیا تو بولے ہم ان‬ ‫لوگوںکےلیےعمربھرکیعادتبگاڑنےسےرہے۔‬ ‫سوسلسلہکلامکووہیںسےجوڑتےہوئےعرضکریںکہاسٹیشنماسٹرصاحبنے‬ ‫ہمیںآرامگاہیںبھیدکھائیںاورپلیٹفارمبھیجوفرلانگفرلانگدودوفرلانگ‬ ‫لمبےتھ۔ہرمنزلکیگاڑیکےلیےالگالگآرامگاہہے۔کلسترہآرامگاہیں‬ ‫یعنی سترہ ہزار آدمیوں کی گنجائش‪ ،‬ننھے منوں کے لیے دو نرسریاں اور بچوں کے‬ ‫کھیلنے اوردلبہلانے کے لیے چار کمرے ان کے علاوہ ہیں۔ نرسریوں می بچے‬ ‫سوتےہیںاورنرسیںانکیخبرگیریکرتیہیں۔بڑےبچےجھولاجھولتےہیںیاکوئی‬ ‫کھیل کھیلتے ہیں اور جاتے می ماں ان کو وہاں سے لے لیتی ہے۔ پلیٹ فارم پر اس‬ ‫وقتماسکوجانےوالیگاڑیکھڑیتھ۔معلومہواایکدناورراتکیمنزلہے۔‬ ‫جبسےروساورچینکےتعلقاتمیکشیدگیپیداہوئیہےاسراستےپرٹریفک‬ ‫کمہوگیاہے۔‬ ‫‪48‬‬

‫اساسٹیشنپرٹیلیوژنکاایساانتظامہےکہمختلفپلیٹفارموںاورآرامگاہوںکا‬ ‫نظارهایکمرکزیکمرےمیبیٹھےبیٹھےکیاجاسکتاہے۔ایککھڑکیمعلوماتکیبھی‬ ‫ہےجسمیکوئینہیںہوتا۔یہنہسمجھئےکہہمارےہاںکیطرحکہیںچائےپینےگیا‬ ‫ہوتاہے‪،‬بلکہہوتاہینہیں۔ہمنےاسٹیشنماسٹرصاحبسےپوچھاکہپھرجواب‬ ‫کیسےملتاہے۔انہوںنےکہاکہیہکھڑکیکےسامنےپااندازرکھاہےاسپرکھڑے‬ ‫ہوجائیے۔کھڑےہوتےہیاندرسےایکشیریںآوازآئےگی”فرمائیے“آپ‬ ‫پوچھئےوہجوابدےگی۔ہمیںپوچھناتوکچھنہتھاہمنےکھڑےہوکر”نہاؤ۔ن‬ ‫ہاؤ“یعنیمزاجشریفکہہدیا۔اسکےجوابمی ُادھرسےکچھکہاگیا۔ہمارے‬ ‫ترجمان نے اس کا یوں ترجمہ کیا کہ ”اے اجنبی مہمان ہم تیرا خیر مقدم کرتے‬ ‫ہیں۔“‬ ‫اوریہہےپیکنگکاعجائبگھر۔عمارتایکہیہےلیکندووّصحںمیبٹیہوئی۔‬ ‫داہنے ےّصح می چین کی تاریخ کا عجائب گھر ہے اور بائیں می چینی انقلاب کا عجائب‬ ‫خانہ۔پہلےےّصحمیلاکھوںسالقبلمسیحسےشروعہوکر‪1840‬ءتکےعجائب‬ ‫ہیںاورانقلابوالےےّصحمیاسکےبعدسے‪1949‬ءتکییادگاریں۔‪1840‬ء‬ ‫وہسالہےجبکہجنگافیمکاآغازہوا۔یعنیانگریزوںنےچینیوںپرزبردستیافیم‬ ‫‪49‬‬

‫مسلطکرنےاورناجائزمراعاتحاصلکرنےکےلیےچینسےجنگلڑیاورجیتی‬ ‫اور‪194۵‬ءعوامیجمہوریہچینکاسالتاسیس۔‬ ‫یہعمارتاندسعالیشانعمارتوںمیسےہےجوانقلابکیدسویںسالگرہکے‬ ‫لیےدسماہمیتیارکیگئیں۔یہاکتوبر‪19۵8‬ءمیبننیشروعہوئیاوراگست‪19۵9‬ء‬ ‫کومکمل۔تاری ِخچینکامیوزیمتینوّصحںمیتقسیمہے۔ایکزمانہقدیمکاہالجو‬ ‫پانچ لاکھ سال پہلے سے شروع ہو کر اب سے چار ہزار سال پہلے ختم ہو جاتا ہے۔‬ ‫دوسرا غلام معاشرے کا ہال جس کا دور اکیسویں صدی ق م سے ‪47۵‬ء ت محیط‬ ‫ہے۔ تیسرے ےّصح می جو جاگیرداری دور سے متعلق ہے ‪ 47۵‬ق م سے ‪1840‬ء‬ ‫تکےآثارمحفوظہیں۔‬ ‫دو ِرقدیمزیادہترعہدپاستانکےآثارقدیمہسےدلچسپیرکھنےوالےاسکالروںکی‬ ‫دلچسپیکیچیزہے۔ہمارےایکساتھنےکہابھیکہیہکیاصراحیاںاورپیالےاور‬ ‫کچھانجرپنجرجمعکرد ِ طیہیں۔خیرانہیدوسنےموہنجوداڑوکےآثارکےمتعلق‬ ‫بھیاسیرائےکااظہارکیاتھااورکہاتھاکہ”ایسےپیالےاورمٹکےتوہمارےگاؤںکے‬ ‫کمہاربھیبنالیتےہیںانمیکونسرخابکاپرلگاہے۔“پانچچھہزارسالپرانے‬ ‫باجرے اورگیہوں کے دانے بھی محفوظ ہیں۔ یہ لوگ پرانےمصریوں کی طرح‬ ‫‪50‬‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook