یہسنکربادشاہنےایکسفیربلا ِدعرببھیجااورعربفوجکیکمکمانگی۔تینہزار عرب سپاہی اسدعوتکے جوابمیآئے جو چینیمسلمانوںکےآباو اجداد ہوئے۔ اس وفد کی قیادت تین معرکہ آرا کر رہے تھ۔ ایک کا نام قیس تھا۔ دوسرےکااویساورتیسراوقاص۔پہلےدوتوہواکیتاثیرسےراستےمیانتقالکر گئ۔ مگر وقاص کو اللہ تعاٰیل نے سلامت رکھا۔ وہ بادشاہ کے بڑے مکرم مہمان ہوئے۔ کچھاورکتابوںمیبھیروایتیںآئیہیں۔کچھقویکچھضعیف۔بہرحال ِ ن نککے نواحمیجومقبرہحضرتابیوقاصکاہےاسکےمتعلقبیاناورروایتیہیہے کہرسولاللہکےصحابیتھ۔جنکواسمیشکہےوہبھییہمانتےہیںکہوہعالم عربکیکوئیممتازشخصیتتھجوپہلیصدیہجریمیوار ِدچینہوئی۔ پیکنگکیشاندارمساجدکاجلالوجمالدیکھنےوالےکومبہوتومتحیرکرتاہے۔ہانگ چومی مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے۔ یاد رہےاسوقت ہمخالص چینیالاصل علاقوںاورآبادیوںکیباتکررہےہیںورنہسنکیانگکےایغور،ترکاورتاجکستان اورقزاقتوہیںہیسلمانجووسطایشیاکاہّصحہیںاورقوقندوختنسےہمتہذیبیاور تاریخیطورپرآشناہیں۔ 201
ِ ن نک کی جس مسجد می ابراہیم صاحب اور دوسرے بزرگ ہمیں ملے ،پرانے زمانے کی ہے اور اس کے احاطے می ایک مینار ہے جسے ہم نے ماذنہ خیال کیا تھا لیکنمعلومہواکہلائٹہاؤسکاکامدیتارہاہے۔ہماریمنزلحضرتابیوقاصکا 202
روضہتھ۔یہشہرسےچارپانچمیلباہرہے۔راستےمیمسلمانوںکاپراناقبرستان آیا۔بڑیہریبھریجگہ ہےاورانقبروںکےدرمیانگزرتےہوئےدلکی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ اس روضۂ مطہر کا اثر دل پر گہرا اور پائیدار ثابت ہوا۔ بزرگ دفن تو یہاں ہیں لیکن ان کے قدم ہانگ چو اور مشرقی چین کے دوسرے شہروں می بھی پہنچے اور یوں کہنا چاہئے کہ اسلام کا پودا چین کی سرزمین می انہی بزرگنےکاشتکیا۔روضےکےاندربھیایکمسجدہے۔ایکتنگدروازےکے روضےکیگنبدیعمارتمیداخلہوکرہمسبنےفاتحہپڑھیاوردلکوگدازگیا۔ سوچو می کہ شنگھائی سے ڈیڑھ سو میل شمال می ایک شہر باغات ہے اور رُپفضا یہوونہنیےبازماریہمماریگھوےنمزردہیےکہاتنھگکچہواکییدکلبکڑشاائہجیوکومبہمھایرماےتگکررتداجمہعےہ۔واگییا۔کش ِانم نکہیام شنگھائی یا پیکنگ می ایسا کبھی نہ ہوا تھا لیکن سوچو چھوٹا قصبہ ہے اس لیے ان کا استعجابقدرتیتھا۔خیرسگالیکےسلاموںاورنعروںکےبعدہمنےانلوگوںکو رخصتکرناچاہالیکن Pied Piperکیکہانکیطرحیہساریچمٹ ِغٹہمارے پیچھے ہو لی۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے ہم ایک احاطے می داخل ہو گئ ،جو لاوزےکامعبدتھااوراسمیکوئیبیسگزاونچیمورتیاسکیرکھیتھ،وہاںسے 203
نکلےتومعلومہواکہہجومچھٹانہیںاوربڑھگیاہے۔ابہمنےٹیڑھیٹیڑھیگلیوں کی بھول بھلیوں می جانے می عافیت دیکھی۔ یہاں کچھ امان ملی۔ یکایک کسی صاحبنےاشارہکیا” ُادھردیکھو۔“ہمنےنظردوڑائیتوبورڈنظرآیا”اسلامیہ ہوٹل۔“ اسلامیہہوٹلوالوںنےہماریتواضعکرنےکیبہتکوششکیجبیہمعلومہوا کہہمپاکستانمسلمانہیںیعنیکریلےاورنیمچڑھے۔لیکناسکاموقعنہتھااورپھر یہہوٹلبہتصافبھینہتھاجیسامسلمانوںکاہوناچاہیےاورہمارےہاںہوتاہے، ویسا ہی تھا۔ ہماری براہِ راس گفتگو تو اسلام علیکم اور الحمد للہ ت محدود رہی لیکن ترجمانکےذریعےمعلومہواکہوہساریآبادیمسلمانوںکیہےیعنیاسہّصحشہر میبارہمسجدیںہیںاوراٹھائیسسوگھرمسلمانوںکےہیں۔ہمپاکستانحلالوحرامکا خاصخیالرکھتےہیںٰیتحکہلندنمیبھیبڑےبڑےبورڈلگےہوتےہیں”یہاں حلالگوشتملتاہے۔“دریافتکرنےپرمعلومہوااسہوٹلمیبھیذبیحہہوتا ہے۔ےّتکبلیوںکاگوشتجسکےمتعلقکہاجاتاہےکہچینیکھاتےہیں(اسمی بھی بہت مبالغ ہے) اسلامی ہوٹلوں می نہیں ہوتا۔ اس پر مشرق وٰیطس کا ایک اسلامی ملک یاد آیا جس کے ایک سولہ آنے اسلامی ریستوران می ہم جا کر بیٹھے تو 204
بیرےنےکہا”صاحبکیاکھائیےگا۔بکرےکاگوشتبھیہے۔گائےکابھیہے اورسؤرکاگوشتتوبہتہیعمدہہے۔“ ِ ن نککیانگتامسجد،اندرسے 205
ہمبھیایکدنکےلیےگوریلےبنگئ چینکوہمنےاورہمارےرفیقوںنےایسےدیکھاجیسےایککہانمیساتاندھے ایکہاتھکودیکھتےہیںاورپھراپنیاپنیٹٹولکےمطابقاسپرحکملگاتےہیں۔جس کےہاتھاسکےکانوںپرجاپڑےاسنےکہاہاتھپنکھےجیساہے۔جسکےہاتھدم آئی اسے وہ ریّس کا سا معلوم ہوا۔ ہمارے ایک ساتھ جن کا یہاں یونیورسٹ می تنخواہ کا چکر چل رہا ہے کسی کارخانے می جاتے تو یہی پوچھتے کہ یہاں لوگوں کی تنخواہیںکیاہیںاورترقیکاچانسکیاہے۔ایکاوربزرگیہاںٹھیکےپرلُپ،چاہ،مسجد وتالاباورایسےہیدیگرفیضکےاسباببناتےہیں،وہیہیدریافتکرتےکہاس عمارتپرکیاخرچآیاٰیتحکہدیوا ِرچینکےبارےمیبھیانہوںنےیہیاستفسار 206
کیا۔ ایک محقق تھ کہ جاتے ہی پوچھتے ،یہاں قلمی کتابیں ہیں کیا؟ ایک ہمیشہ سبزیوںکےبھاؤپوچھتےیایہکہیہاںکیگائیںکتنادودھدیتیہیں۔لیکنایکصاحب ایسےبھیتھکہکسیجگہپرپہنچتےہیپہلاسوالیہدریافتکرتےیہاںکوئیٹائلٹ ہے؟بھائیومجھےبیتالخلاکیراہبتاؤ۔انسےہمنےکئیبارعرضکیاکہخوراکبے شکمفتہےلیکنپیٹتوآپکااپناہےلیکنوہاسبرہا ِنقاطعسےہمیںخاموش کردیتےکہچینکوئیہرروزتھوڑیآتاہے۔کھانےمیفّلکتکیاتویہلوگکیاکہیں گے؟ 207
ایک شام ہم نے شنگھائی کے بچوں کے کلچرل پیلس می گزاری۔ بچوں کے لیے کلچرلپیلسیاقصرِثقافتوہاںہرشہرمیہےاوربڑےشہروںمیتوکئیکئیہیں۔ واپسی سے ایک روز پہلے شنگھائی می یہ ہمارے پروگرام می تھا۔ گھر کے بھاگ دروازے سے نظر آ گئ۔ ہمیں کانٹے دار تاروں می سے بچ بچ کے گزرنا پڑا۔ آگےایکتینانچچوڑیدیوارپرچلناپڑا۔پلصراطکیچوڑائیغاًابلاسسےکچھہی کمہوگی۔ہمارےمعمّ ڑرساتھتوبڑیمشکلسےسنبھلے۔ایکآدھجگہکودپھاندبھی کرنپڑی۔تبہماسقصر کےدروازےپرپہنچے۔ہمنےایکخندقبھیاس طرحپارکیکہآرپارراّسبندھاتھا۔اسےہاتھوںسےپکڑکرچلے۔ٹانگیںہماریخلا می قّلعم تھیں اور نیچے خندق تھ۔ معلوم ہوا کہ یہ سب مشقیں بچوں کو سکھائی جاتی ہیں کہ کل کلاں ملک پر کوئیآفت آنپڑے،لڑائی ہو تو یہ ساری گوریلا کاروائیاں کام آئیں۔۔۔۔ ہمارے ہاں ایسے ہرڈلیا رکاوٹی فقط باقاعدہفوج کو سکھائیجاتیہیں،وہاںبچوںسےشروعکیجاتیہیں۔ ابدروازےپربچےبچیوںکاہجومہماریپیشوائیکےلیےکھڑاتھا۔سبنےنعرے لگائےاورترانہگایا۔فور ًاہیلپککردودوبچیاںاوربچےہمسےآچمٹےاورہمیںانکل بنالیا۔ابہماریرہنمائیانہیکوکرنتھ۔بڑےخوبصورتاورسمارٹبچےتھ 208
اور ہمیں اپنے قصر کے ایک ایک شعبے می لے گئ۔ ایک جگہ بچیاں تصویریں بنا جرہہایزتتھاھایوںرا۔اسییککیجیشِگسہبٹچلیےننیشہنوہتبایزتیھک،اییمشکجقگکہرمریوہزےکتہھور۔ہانتھشان۔ےبپرساسایکاتسماریکتی آٹھآٹھبرسکےبچےہوںگے۔ایکجگہمشینیںریڈیووغیرہکاانجرپنجرکھلاتھا۔ بچےخودہیریڈیوتوڑجوڑرہےتھ۔ایکطرفبیسیوںبچےمطالعےمیمشغول تھ۔اچھیخاصیلائبریریتھ۔یہعمارتسہمنزلہتھاوریہاںبچےگردونواح سےہرشامآتےہیں۔کھیلتےہیںاورکچھنہکچھسیکھتےہیں۔کتابوںاورکھیلوںمیوزک اورڈرامےسبمیہمنےدیکھاکہقومینصبالعینکوکسیصورتاوجھلنہیں ہونے دیا گیا۔ یہیں ایک کمرے می پتیلیوں کا تماشا دکھایا گیا۔ ہم نے پتلیوں کے تماشےاوربھیدیکھےہیںلیکنایساکمخرچبالانشیںنہیں۔ایکمشاقاستادبچوںکو یہ سب کچھ دکھاتا ہے۔ باہر ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس می اگن بوٹ ایک دوسرےکاپیچھاکررہےتھ۔یہبھیجنگیسرگرمیوںکیایکشکلتھ۔ ہمارےدوساحمدعلیخاںڈانوالےابھیحالمیچینسےواپسآئےہیں۔ بچوںکےکلچرلپیلسمیوہبھیگئتھ۔پوچھنےلگےتمسرنگمیبھیگھسے؟ہم نےکہانہیں۔بولے۔ظالموںنےمجھےتوایکلمبیسرنگمیگ ُھس اادیاکہدوسری 209
طرف نکلو۔ سوٹ کا ستیاناس ہو گیا اور گھٹنے چھل گئ۔۔۔ چونکہ وہ سرنگ بڑوں کےلیےنہیںبچوںکےلیےتھاسلیےایکجگہتومیایسےپھنسگیاجیسےڈاٹ لگگیاہو۔عینکنیچےرِگپڑیاورہاتھمیرےآزادنہتھکہ ُاٹھاسکتا۔آخرایکبچی نےدوسریطرفسےجھانکا،خیریتدریافتکی۔پہلےمیریعینکنکالیپھرمجھے برآمدکیاگیا۔ اسیطرحمزدوروںکےلیےثقافتیمرکزہیں۔مزدوروںکاایککلچرلپیلسہمنے پیکنگمیدیکھاتھاجوایکپرانےشاہیمحلکیعمارتہےاورجسکےچوبیستون خداجانےکسدرختکےہیںکہچالیسفٹ،ساٹھفٹشایداسسےبھیزیادہ سیدھےچلےگئہیں۔ایکہیتنےکاپوراستونہےاوربیسیوںستونہیں۔نہجانے سےہمنے شکنتگنھیادئویراوسرے ِ نک ننکجنکگلےوپںیلسسےدلیاکھئےے۔یگہائہںوبھںیگلوے۔گلیآکتنےزیہایدہںپتڑفھصتیےل ہیں۔ ڈرامہ منڈلیاں ہیں جو ڈرامے کھیلتی ہیں۔ ایک طرف میوزک کی کلاس ہے۔ دوسری طرفلائبریریہے۔شنگھائیکےکلچرلپلیسمیسائیکلوںکےکرتببھیایسے ایسےدیکھےکہپیشہورمداریہارمانجائیں۔انمیجوشخصہمیںسبسے ّیماق اور باکمال نظر آیا تعارف پر معلوم ہوا کہ ڈاک خانہ می ملازم ہے۔ چٹھیاں بانٹتا 210
ہے۔ مزدوروںکاایکثقافتیمحل انہیکسرتوںاورمشقوںکاتوطفیلہےکہوہاںنہٹیڈیازمہےنااعصابیبیماریاں،نہ نفسیاتی عارضوں کے ڈاکٹر۔ غاًابل ہم نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ سارے چین می ایکہیآدمیایسا نظرنہآیاجسکاپیٹذرابھیبڑھاہواہویاجسکےچہرےپر 211
زردیہو۔آخرکیوںہو؟ چینیمغربیطریقۂعلاجاورمغربیطرزکیدوائیںبھیہیںاورمشرقییعنیچینیبھی۔ ہرشہرمیہمنےمغرباوردیسیدواؤںکےسٹوردیکھے۔انکاطریقۂعلاجبہت پرانااورمؤثرہے۔ہمارےحکیممحمدسعیددہلویصاحبنےتواسپرانگریزیمی ایککتاببھیلکھدیہےلیکناسطبچینسےاسکاتعلقہوناضرورینہیں جسکےاشتہاراتآپاخباروںمیپڑھتےہیں۔یہصاحبانکبچینگئ۔۔۔؟ کیوںگئ؟کسیسےطبسیکھیاورکہاںسےسندحاصلکی۔یہوہیجانیںیاانکے مریضپوچھیں۔۔۔جاپانمیہمنےانگوٹھیوںاوروّلھچںکےمتعلقبھیپوچھاتو معلومہواعطائیوںکاکاروبارہے۔ایٹمویٹمکیبابتمحضافسانہہے۔وہاںکےمحکمۂ صحت یا میڈیکل پیشے والا کا استناد اسے حاصل نہیں۔ یورپ می بھی یہ ےّلھچ اور انگوٹھیاںبہتچلےاورانکےقّلعتمبھییہیدعوےتھکہہرمرضکاعلاجہیں لیکن بعد می پیسے کمانے کا کارخانہ ثابت ہوئے تو حکومت نے پابندی لگا دی۔ ہمارےہاںدیکھئےچیناورجاپانکےنامپریہکارخانےکبتچلتےہیں۔ 212
سوچومیتیندن مئیکیآٹھویںتاریختھکہہمنےساما ِنسفرباندھا۔پیکنگدیکھچکےتھ۔ ِ ن نک جاچکےتھ۔ووہانمیتینراتیںگزاریتھیںاورہانگچوکیسیرسےبھیدلکو شاد کام کیا تھا۔ لیکن ح ِبّ وطن از مل ِک سلیمان خوشتر والی بات ٹھیک ہی ہے۔ چینیوںکیبےپناہخاطرعاطراورمتنجنوبریانکےباوجودہمیںابوطنکیدالاور وطنکاخشکہبلارہاتھا۔تینہفتےبہتنہیںہوتےلیکنابدلاُوبگیاتھا۔شنگھائی می قیام کو بھی اب قریب قریب ایک ہفتہ ہو رہا تھا۔ ذٰہلا ا ہم نے جلدی جلدی ااچپھنےیبخااقیصمانیدرہقپمیسبےیرخورںچ،کخئانےسااومروسرِںشااورمچجویکبییدںاجرھواڑںککریبیتٹچنھیسن ِگ یئس۔ککوئےیحاسوارمبلکمہیوتپاتوس 213
اندازکرنپڑتیلیکنیہاںتچن یسن ِ یسکابھیکوئیٹنٹانہتھا۔آخریبارساسونہوٹلکے کمرہنمبر۵36کےدرودیوارپرحسرتکینظرکیاورچائیچن،چائیچن(خداحافظ، خداحافظ)کرتےہوئےنیچےاُترے۔موسمکچھابرآلودساتھابلکہپچھلیراتمینہ بھیبرساتھااوردنمیبھیترشحہوتارہاتھالیکنابکچھتھمساگیاتھا۔ش ِبگذشتہ مشہورافسانہنگرپاچنکیمعیتمیدیرتپاکستاناورچینکےادبیمسائلپر گفتگورہیتھ۔پاچنہماراہوائیاڈےپرخیرمقدمکرنےکےلیےپہلےسےروانہہو گئتھ۔ہمارےدوسلیجاہہمارےساتھتھ۔موٹردریاکےگھاٹکےساتھ ساتھ چل رہی تھ جس کی ساحلی سیر گاہ انقلاب سے پہلے جسم فروشوں کا مرکز تھ۔پھروہمحلّےآئےکہچینکاہّصحہوتےہوئےبھیچینوالوںکےنہتھاس ےّصحکوفرانسیسیس ِنٹلمٹ نٹکہتےتھ۔وہہّصحجرمنوںکےزیرنگیںتھااوریہساری قلمروانگریزوںکیتھاوریہاںسےوہاںتجاپانیوںکاراجتھا۔یعنییہاںپولیس بھیاورقانونبھیغیرملکیوںکےتھ۔ لیجاہکوکہوہاںکاایکنامیانقلابیاورناولنویستھااوربےحدخوشباشاورخوش اطوار۔ہماپنےدورا ِنقیاممیہمیشہعالیجاہکہتےآئےتھ۔اسنےمعنیپوچھےتو ہمنےبتایاکہاسکامطلبہےعالیشان،بلندمرتبہوغیرہ۔اسنےبطیبخاطر 214
اسےقبولکیالیکنابواپسیمیہمنےاسسےکہاکہمیاںہمتمکویہخطابدیے جارہےہیںاسےباقیرکھنا۔بڑیّزعتکاخطابہے۔ہمارےہاںرؤسااوروالیا ِن ریاسوغیرہکوعالیجاہکہہکرخطابکیاجاتاتھا۔تووہیکلختسنجیدہہوگیا۔بولاکیا جاگیرداروںاوروالیا ِنریاسکوعالیجاہکہہکرخطابکرتےتھ۔ہمنےکہابے شک ،بولا پھر آپ اسے واپس لیجئے۔ می لیجاہ ہی ٹھیک ہوں۔ مجھے لیجاہ ہی کہئے۔ عالیجاہکہلانامجھےمنظورنہیں۔ ابیہساراچینکہجسکیزندگیکینہجبھینئیہےاورسوچنےکیروشبھینئیپیچھے برتہھارجھاک۔سرہہایاینکگتاچھاچور۔کچکیاسجکیرھشیاتلعےررجکاہسمکےصارطتوعاھیا۔دف ِآنہرہم ناکتینھاادے۔آعویایہجگنلہیاچاوںدںیھہاومدیآ4ںئمکیئیںیگراکیجےوتشاکہوینکدیجاوتھنںااکمویییراکدھشگوائبیر کےباغمیرنگرنگلباسوالےہزاروںطالبعلموںکےساتھملکرہمارے ساتھیوںنےانکےانقلابیپرچماُٹھائےتھ۔پیکنگکےقو ِمںکےمحلمی ّتکےہالمیوہپنجرہیادآیاجسمیانسانکےبسکھڑےہونےکیجگہتھ۔ وہبیٹھنہیںسکتاتھا۔پیٹھبھینہٹیکسکتاتھاکیونکہاسکیچوبیسلاخوںپرخاردارتار چڑھےتھ۔ابوہلوگکہانپنجروںکےاندرتھ۔اقصائےچینکےحکمران 215
نظرآئے اوران کو قفسبندکرنےوالےلوگوں کوہانگ کانگ اورتا طیمی، کالمپونگاوردہلیمیغیروںکےآگےبےغیرتیکاکاسہپھیلائےسرگرداںدیکھا۔ پیکنگکاچنشنپارکبھییادآیاجوامپیریپیلسکےسامنےاونچیپہاڑیپرواقع ہےاورجہاںپہلےفقطبادشاہہیقدمرکھسکتےتھ۔یہاںہمنے دیہاتیوںاور کسانوںاورمزدوروںکواسمیدندناتےدیکھا۔خودامپیریپیلسکاشہ ِرممنوعبھی یادآیاجسمیدروازےہیدروازے،غلامگردشیںہیغلامگردشیںتھیںاور آنگنہیآنگنتھ۔اسکےدیوا ِنخاصاوردیوا ِنعامکیکرسیاںاونچیرکھیگئی تھتاکہکسیعامیکامکاناتنااونچانہہوپائے۔اوراباناونچےمکانوںکےمکینوں اکییہڈکیومںمڑکوابابدھشیاپہتہننہےتھخاو۔دہُا یںکوکہیدرتھخ۔تااببابھنیمبارقتیفتھعامیجداسنوکیںشامخوینیںلیسپتےلولٹنکاوکرر واسکٹوںوالےمزدورجوتوںسمیتگھومتےنظرآئے۔دیوا ِرچینبھییادآئیکہ جسکیبنیادوںمیہزاروںبےگاریمزدوروںکیّڈہیاںفاسفورسبنچکیتھیں۔ اببادشاہتھ،نہدرباری،نہکاہ،نہامیر۔کانوںمیجمبولجابرکاآوازہگونجرہا تھا۔”اےامیرابنہبدخشاںکیطرف ُرخکرنا۔“ نہجانےکبشنگھائیکاائیپورٹآگیا۔پاچناورانکےساتھصفبستہکھڑے 216
کتےھچہ۔رہمخےوسشنجییخدوہاشویرنمیتچوے ُاحترشتےکھہ۔امعنلکوومخہداواحاکفہظپیکہآیئںیااوررےکاخجہصازت ِہ نو نکںلسیکےناچنل کرشنگھائیآیاضرور،لیکنبادلوںکےگھٹاٹوپاندھیرےکےباعثنیچے ُاترنہیں سکااورسیدھاپاکستانچلاگیاہے۔ابتینروزبعدآئےگا۔انتظار،صاحبا ِنانتظار، صبرحضراتصبر۔ابپھراوسسیپڑگئی۔تھوڑیدیربیٹھےجسجسسےہوسکااس نےٹیلیکسپرکراچیپیغامبھجوادیا۔چائےپیاورپھرانہیموٹروںمیسواریہقافلہ ساسون ہوٹل کو رواں ہو گیا۔ جاتے وقت جو رقت آمیز اور پر خلوص کلمات میزبانوںاورمہمانوںنےایکدوسرےپرصرفکئےتھوہضائعگئ۔خیراب مزیدتینروزتھاورشنگھائیتھ۔پھردوستوںکاشہرہےاورہمہیںدوستو!لیکن راستےمییکایکمجھےخیالآیاکہروانگیکےوقتپیرحسامالدّینراشدیصاحب کوبڑےراشدیصاحبیعنیپیرعلیمحمدراشدیّدمِط ّلہچھوڑنےآئےتھتوتاکیدکی تھکہشنگھائیجاؤاورموقعلگےتوسوچوضرورجانا۔اسیرُپفضامقاماورکہیںنہپاؤ گے۔ذٰہلاہمنےاپنیڈائرینکالکراپنییادداشتکوتازہکیااورمیزبانوںسےکہا کہصاحبوشنگھائیتوہوچکیمضائقہنہہوتویہجبری ُرخصتسہروزہسوچومیصرف کیجائے۔انکےبھیجیکویہباتلگی۔چنانچہہوٹلپہنچتےپہنچتےیہفیصلہہوگیاکہ 217
راتشنگھائیمیگزاریجائے۔اگلیصبحریسےسوچوچلیںگئ۔دوگھنٹےکاراستہ ہےاورپھرروانگیکیدوپہرشنگھائیواپس۔سبھینےکہشنگھائیکیاونچیعمارتوںسے اُکتاچکےتھاستجویزپرصادکیا۔ہمنےاپنےکمرےمیآکرر ّدیکیٹوکریسے اپنیہیئرآئلکیشیشیاورچپلنکالیجنکیہمارےخیالمیہمیںضرورتنہرہی تھاورجنبیروںکوچائیچناورخداحافظکہہکرگئتھانہیکونہاؤاورالسلا ُم علیکمکہہکرپھریادکیا۔ سوچوکاسفربہتخوشگواررہا۔دوگھنٹےکیتوباتتھ۔چائےکےنامپرخوشبودارگرم پساینرپگیاتہےوگںئاکوےرلگیےپہامنشکہتوےرگہئے۔دپاریناچئلاےکیھاینگکیسآیباکدےیکجانیوہقبدیممشیہشرنجگھواائپینےسباغےنواینکںنٹاوگر جانےوالیریکیراہپرواقعہے۔تاریخاسکیڈھائیہزارسالپرانہےاسکے فلکبوسپہاڑوںاورمناروںنےخداجانےزندگیکیکتنیگردشیںدیکھیہوں گی۔یہباغیوںکاشہرہےلیکنباغسےمطلباسشہرمیمحضسبزہباغنہیںہے کہپتھروںاورچٹانوںکوتراشکرعجبعجبنقشےبنائےگئہیں۔جھیلیںہیںاور ان کے اوپر سے گزرتے پیچ دار پل ہیں۔ جھروکے ہیں جن سے رؤسائے وقت بارش کے گرنے کا منظر دیکھتے تھ اور لطف اٹھاتے تھ۔ ان پرانے باغوں کا 218
اسلوب عجیب ہے۔ جس طرح پنجاب کے دیہات کے گھروں می آنگن گھر کے آگےہوتےہیںاورچاردیواریمیسامنےایکدروازہہوتاہے،ایساہیچینکے باغوںکاحالہے۔سڑکسےگزرتےہوئےکبھییہقیاسنہیںہوسکتاکہاسعام قسمکےدروازہکےپیچھےکیدنیائےرنگرنگہے۔ باغایکسےایکاچھاہےلیکنہماریکوششکےباوجودحافظےمیانسبکے نامگ ُھلملگئہیں۔کسیکیجھیلیادہےکسیکاسبزہ۔کسیکاسائبانکسیکیپہاڑی۔ ہاںجویادگارتصویریںاسموقعپرکیمرےنےکھینچیںانسےنقشہکچھنہکچھبنتا ہے۔ چینیوں کی ایک خاص خصوصیت کہ ان کے آرٹ کا کمال ہے۔ کوتاہ قد درختہیں۔باکمالباغبانانکیتراشخراشاسطورپرکرتےہیںکہپورادرخت معاپنےٹہنیوںکےایکڈیڑھفٹاونچاجاکر ُرکجاتاہے۔ہمنےایسےدرخت دکیکےھیےہمچجن ّفنکفی،علمورایگاکپنصےدڈرایئسنےگبرھویمزیمادیہسجتاتھلےیہکینںگم۔لوںمیلگےتھ۔درختوں دنبھرسیرہوئی۔بعضپگوڈےبھیدیکھےکہدیکھنےکےہیں۔انپرہمچڑھےبھی اوراترےبھیلیکنسیرشبانہکالطفہیکچھاورتھا۔اسمیسوائےاعجازکےکوئی ہماراساتھنہدیتاتھا۔پہلیشامکوچوںمیہوتےہوئےراتکےگیارہبجےہمایک 219
آبادگلیمیپہنچے۔سامنےدیکھاکہریلوےاسٹیشنکوجانےوالیراہپرایکشخصبڑا سامٹکالیےکوئیہانکلگارہاہے۔معلومہواکہچائےبیجرہاہےاورخو ِندلکییہکشید مفتلگادیہے۔یعنیدودوپیسےکیپیالیہے۔ساتھہیکچھرُمرُمےبھیتھ۔واپسی پرایکدیوارپرکچھلکھادیکھکرہم ُرکگئ۔ایکاورشخصبھیہمیںدیکھکر ُرک گیااورہمارےپوچھےبغیرہیبتانےلگاکہیہکیاہے۔لکھاتھا”پنجسالہپلانکوکامیاب بنائیے۔“ یہ شخص جس کے ہاتھ می ایک ٹونٹی دار کیتلی تھ اور لباس سے کسی کارخانے کا مزدورلگتاتھابڑاہیغالیقسمکاانقلابیتھا۔اسکاکوئیفقرہماؤزےتنگکیستائشسے خالی نہ تھا۔ افسوس اس کی پوری کہان ہمیں یاد نہیں رہی لیکن اس کی اپنی زندگی محنتاورقربانکیمثالتھاوراسکاخلوصہمیںمتاثرکیےبغیرنہرہا۔ اگلیشبپروگرامتواوربھیتھلیکنمعلومہواکہفلاںتھیٹرمیداستانگوئیکی محفل ہے۔ ہم نے شنگھائی کے مزدوروں کے محل می۔۔۔ جو ان کا قصر ثقافت ہے،داستانگوئیدیکھیتھکہایکشخصکھڑاکہانکہہرہاہےاورلوگہمہتن توجہاسےسنرہےہیںلیکنیہاںکانقشہدوسراتھا۔دیکھاکہاسٹیجپرایکمیزپرتین فردبیٹھےہیں۔ایکمردکہمیزکےصدرمیہےاوردوخواتینداہنےبائیں۔تھوڑی 220
دیر می کسی نے طنبورے پر تنا تن کی ،جو منادی تھ اس بات کی کہ صاحبو اب توہّج۔اسکےبعدمرکزمیبیٹھےآدمینےگفتگوکاآغازکیا۔سادھارنساآدمیتھا اورمعمولیاندازمیبولرہاتھالیکنپھراسکاچہرہجاگا۔بھوئیںجاگیں۔آنکھیں روشن ہوئیں اور ہر موئے بدن زبان بن گیا۔ چہرے کا ایسا اتار چڑھاؤ ہم نے آج تنہیںدیکھا۔یہداستانبھیطوطےمینایاحاتمطائیکیتھنہاسمیہوشربائیکا کوئیعنصرتھاکہجاپانقبضےکےدنوںکاایکہّصقتھا۔جبکہانمیایکڈرامائیموڑ آیاتواسمرکزوالےشخصنےتوقفکیااوردوسریلڑکینےمالکمکانکاروپ دھارکرپٹپٹبولناشروعکردیا۔اسکہانکےگوریلاسپاہیکیباریتھ۔اس موقع پر سرشتہ تقریر دوسری صاحبہ نے سنبھالا اور پھر بیچ می وہ مرکز والا آدمی شروعہوگیا۔کسیکاکوئیپارٹمخصوصنہتھااسلحاظسےیہداستانگوئیڈرامے سےالگچیزرہیلیکنہمنےایسےباکمالایکٹرنہدیکھےتھکہفقطآوازاورچہرے کےاتارچڑھاؤسےپورانقشہکھینچدیں۔بعدمیمعلومہواکہیہتوچینکیمشہور منڈلیتھ۔دیہاتیزبانمیبولتیتھاورساراسالیہاںوہاںدیہاتاورقصبوں میگردشکرتیرہتیتھ۔سوچوشہرتھااسلیےیہاںٹکٹبھیتھالیکنہاؤسفل تھا۔ہمیںتوّزعمزمہمانہونےکیوجہسےجگہدیگئیتھ۔ 221
اپنےمترجمسےہمنےکہاعزی ِزمنجوکچھیہشخصکہہرہاہےذرااسکاترجمہکرتے جاؤ۔ اس نے کہا۔ ترجمہ کیسے کریں۔ اس کی زبان سمجھ می نہیں آتی۔ یہ شنگھائی کےنواحاتکیبولیہے۔میپیکنگکارہنےوالاہوں۔ہمنےکہاتمشنگھائیکااخبار توصبحخوبپڑھرہےتھ۔انہوںنےبتایاکہمکتوبییعنیلکھنےکیصورتہرجگہایک ہے۔ فقط اس کو پڑھنے اور بولنے می اختلاف ہے۔ اصل می چینی حروف وتاصلویےروکیںلککاھشیاہروئیٹکہتیانڈربوکوپ ِ نہی نںک۔واسلماجھسنمےجوھاللیاتااہنکےا۔مفلہیوکنماسمگجرھبتوالہنےےک۔اذاٰتہفلااپقیہکونتوگ زبانیارمنترکیبنجاتیہے۔اسکیمثالیوںلیجئےکہایکچینیحرفہے#۔ اسکومیکہوںکا”یہگھوڑاہے۔“آپپڑھیںگے”ایںاسپاس“تیسراآدمی اسکایلفّظیوںکرےگا(ترجمہنہیں) This is a horse۔ہندیاُر ُدوکامعامل بالکلاسکےبالعکسہےکہآپبولتےتوایکدوسرےکوسمجھنےمیدتّقنہیں۔ ہاںلکھاہواہےتو ُار ُدورسمالخطکوپانڈےجینہپڑھسکیںگئاورہندیرسمالخطکا منہحافظصاحبدیکھتےرہجائیںگے۔ سوچوکاسوزنکاریکااسکولدیکھنےکیچیزہے۔یہاں باریکریشمیدھاگےسے کڑھائی کی تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن کڑھائی ایسی کہ برش سے بنی ہوئی تصویر 222
معلومہوااورپھردونوںطرفسیدھاالٹاکچھنہیںاگراِدھرسےمورہےتو ُادھرسے بھیجیتاجاگتامورہے۔بہتدیدہریزیکاکامہے۔اگرکپڑےپریّلببنانہےتوپہلے ریشمی دھاگے کی بارہ باریک تاریں بنائی جائیں گی۔ پھر ویسی ہی ریشمی تار کشی کی چوبیس تاروں سے یّلب کی آنکھ کی سفیدی اور پتلی وغیرہ بنائیں گے۔ سینکڑوں شیڈ ہیں۔ایکدوسرےسےبہتمعمولیسہیلیکنفرقہے۔یہاںہمنےدھاگےسے بنی ہوئی بڑی بڑی تصویریں دیکھیں۔ بعض کے بنانے می دو دو تین تین سال صرفہوئےٹانکوںکینئیاقسامایجادہوئیںہیں۔ایسیکہننگیآنکھوںسےکہیں جوڑنظرنہآئے۔ 223
شنگھائیکےبچوںکےقصرمیپاکستانادیب 224
حالسرنگوںکیلڑائیکا چینیوںکیخاصاختراعوںمیایکچیزانڈرگراؤنڈیازیرِزمینلڑائیہے۔وہیحربہ ہےجسےابجنوبی ویتناممیگوریلےاستعمالکررہےہیں۔شمالیویتناممیبھی کرتےہوںگےیاکریںگے۔ انڈرگراؤنڈکالفظاصطلاحاًکنمعنوںمیاستعمالہوتا ہےسبجانتےہیں۔جو لوگکھلےعامکوئیسیاسیکامنہکرسکیںوہچوریچھپےکرتےہیں۔چوریچھپےکام خواہوہکسیمینارکیچوٹیپرہیپڑھکرکیوںنہکریںانڈرگراؤنڈہیکہلائےگا۔قیام پاکستانکےکوئیدوسالبعدکیباتہےکہروسسےایکوفدلاہورآیاجسمی تاجکستانادیبترسو ؔنزادہبھیتھ۔اندنوںسجادظہیرپاکستانمیہواکرتے 225
تھلیکنکہیںچھپےہوئےتھ۔ترسونزادہنے،جوانکےنامسےواقفتھ، ایکمحفلمیپوچھاکہ”سیدسجادظہیرکجاس۔“ فارسیاورتاُچاپنیاصلسےایکہیزبانہیںذٰہلاایکفارسیدانپاکستاننےکہا ”اوزیرِزمیناس“۔ترسوںزادہاورانکےساتھیوںنےتھوتھاسامنہبنالیااورکہا ”اچھا ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی ،کیا بیماری ہوئی تھ انہیں؟“ اب یہ پاکستان صاحب گبھرائےکہترسونزادہکوکیسےسمجھائیںکہزی ِرزمینہونےاورمدفونہونےمی فرق ہے۔ یہ تو ابھی فارسی الفاظ ڈھونڈ ہی رہے تھ لیکن ترسین زادہ ان کے اضطرابسےباتکوپاگئاوربولے۔ ”فہٹ ِ ددمفہٹ ِ ددم۔اوروپوشاس۔“یعنیمیسمجھگیا۔روپوشہیںوہ۔ لیکنیہلڑائیجسکاذکرہےواقعیزمینکےنیچےسےلڑیجاتیہے۔اسےسرنگوں کیلڑائیبھیکہتےہیں۔آغازاسلڑائیکاجاپانیوںکےخلافجنگکےدنوںمیہوا تھا۔جاپانکسیگاؤںمیآتےتوگھروالےنیچےتہہخانےمیچلےجاتے۔قریب قریبہرگھروالےنےایکزیرِزمینسرنگکھودرکھیتھجسکامنہڈھانپدیا جاتااورساریرسدلےکرافرادخانداناسمیسمٹبیٹھتے۔جاپانیوںکوپتہچلاتووہ 226
آ کر ان کو کھدیڑ نکالتے۔ اس سے بچنے کے لیے ہر گھر کے تہہ خانے یا سرنگ کو پسڑروسےکیسسےردونسگرسےےمےلّاصدحیاکگویچاالوےرجیاو ِں طیس۔رنکگچوھدںہنییہسہرنواگولیںکنمایابجیاپکاگانؤآکںرپکوےراسے گاؤںکامحاصرہکرلیتے۔اسکاعلاجانباہمّٹلوگوںنےیہنکالاکہایکگاؤںسے دوسرے گاؤں ت سرنگ لے گئ اور یوں پورے علاقے یا ضلع می سرنگوں کا جالپھیلگیا۔ جہاںمیاہلِایمانصور ِتخورشیدجیتےہیں اِدھرڈوبے ُادھرنکلےُ ،ادھرڈوبےاِدھرنکلے لڑائیمیدونوںطرفسےیہیہوتاہے۔یہڈالڈالوہپاتپات۔وہڈالڈالیہ پاتپات۔ابجاپانیہکرنےلگےکہدوگاؤںکےدرمیانمیایکآڑیسرنگ کھودتےجوچینیوںکیسرنگکوکاٹدیتی۔پیکنگاورہانگوکےدرمیانبتیانمیتو ایکبارجاپانیوںنےایکسرنگکودوجگہسےکاٹدیا۔دونوںجگہوںکےدرمیان آدھمیلکاٹکڑابالکلمحصورہوگیا۔اسمیانہوںنےزہریلیگیسچھوڑدیاور آٹھسودیہاتیمارےگئ۔ابگاؤںوالوںنےمسکوٹکیکہاسکاکیااُپائےکیا 227
جائے۔ پہلی بات تو یہ کہ سرنگیں سیدھی نکالنا چھوڑ دیں۔ ٹیڑھی میڑھی گھما پھرا کےلاتےتھ۔پھرایکسرنگکےساتھساتھتھوڑےفاصلےپردوسریسرنگ جاتیتھ۔ایکمیگیسآئییاکوئیاورخطرہپیداہواتودوسریمیچلےگئاور درمیانراستہبندکردیا۔ایکسرنگزمینسےدسفٹنیچےہےتودوسریبیسیا تیسفٹنیچےبنالی۔ہوتےہوتےگیسکےد فغٹےکےلیےدوسریتدبیریںبھی نکاللیگئیں۔معلومہوالہسناورٹھنڈےپانکامحلولاسکےاثراتکوزائلکر دیتاہے۔زیادہّدشتہوتیتوزیرِزمینہسپتالبھیموجودتھ۔ جاپانگاؤںمیجاتےتوآدمنہآدمزاد۔ہّلغنہمویشی۔ہاںپاؤںاِدھرسےاُدھرپڑ گیایاکسیطا قحےمیہاتھڈالاتوفور ًابمپھٹااورپرخچےاڑگئ۔انسرنگوںمیجابجا ایسےروشنداناورسوراخرہتےتھجوباہرسےنظرنہآتےتھ۔ہاںاندروالے خالیآنکھسےیادوربیسے ُدور ُدورکیخبررکھتے۔باہربارودیسرنگیںبچھیرہتی تھیں جو اندر سے ایک رسی کھینچنے سے پھٹ جاتیں۔ جونہی کوئیجاپان دستہ ان سرنگوںکےپھندےمیآیابسریّسکوایکجھٹکادیااورسبکاجھٹکاکرڈالا۔ان بارودیسرنگوںکاسنئے۔یہلوگخسخانہوبرفابکہاںسےلاتے،بسدیسیہوتی تھیں۔کوئیکیتلیکوئیبدھنا۔کوئیبوتلہاتھآگئیاسمیباروداورکرچیاںبھریں 228
اورٹھیکہے۔ کوئیکنسترملگیاتوواہوا،بڑیسرنگبنگئی۔جہاںانکیبھی ِّقہوئیوہاں پتھروںکوکھوکھلاکرکےبمبنالیاگیا۔پتھرکوکھوکھلاکرناآسانکامنہیں۔کرکےتو دیکھئےلیکنبسیہکرتےتھاورمنہمیلکڑیکاڈاٹلگاسڑککےکنارےڈال 229
دیا۔ اب سڑک پر سینکڑوں پتھر پڑے ہیں۔ کسی کسی سے بچیں۔ جاپان فوجی خربوزوںاورتربوزوںکےکھیتوںمیبھیبہتلوٹمچایاکرتےتھ۔اباسسے بھیہاتھکھینچاکیونکہایکدوبارایساہواکہکسیتربوزپرہاتھڈالااوراسکےاندرچھپی ہوئیسرنگبھکسےپھٹی۔ابوہکھیتوںمیسےبھوکےگزرجاتےتھ۔بھوک کاخیالکریںیاجانکا۔طرحطرحکیسرنگیںتھیںاورقسماقسمکےبم،اورلطفیہ ہےکہکسیکارخانےکےبنےہوئےنہیں۔دیہاتمیپٹاخےبنانےوالےآ ی اتز انہیںبناتےتھبلکہپھرتوسببنانےلگے۔پتھرکیسرنگوںمیایکبڑاکمالتھاکہ جاپانیوںکےدریافتکرنےوالےبہترینآلاتبھیبیکارہوجاتےتھ۔جاپانخود ان سرنگوں می قدم دھرتے ڈرتے تھ۔ جا بجا بم چھپے ہوئے ہیں اور پھر جا بجا سرنگکےفرشمیگڑھاکھودکراسےگھاسپھوسسےپاٹرکھاہے۔اندربانس کینوکیلیکھنِچٹ ِااںگڑیہیںجوگراوہیںچھدکررہگیا۔یاپھرکسیموڑپرکوئیکولکیسی بنیہےجوکسیطورنظرنہیںآتی۔اسمیایکدیہاتیگنڈاسالیےکھڑاہے۔ایک وارکیااورت ُھٹااساسراُڑادیا۔سرنگوںکیبغلمیحجرےبھیبنےتھ۔اگرکوئی چمٹ ِغٹکسیحجرےمیچلیگئیتویکلختکھٹکاگرتاتھااورسباندربند۔اسحصار می یا تو کسی نے باہر سے کوئی بم اچھال دیا یا کسی بارودی سرنگ کی ریّس کھینچ دی۔ 230
الق ّصہزندہکوئینہنکلتاتھا۔ جاپانبہتزچہوگئتویوںکرنےلگےکہکسیچینیدیہاتیکوجوانکیقیدمیہوتا آگےآگےرکھتے۔لیکنرسیہمیشہایسےموقعپرکھینچیجاتیجبوہگذرچکتا۔چھپے ہوئےلوگوںکوقدموںکیچاپہیسےاندازہہوجاتاکہکونہے۔اگرننگےپاؤں ہےیابانکےسینڈلپہنےہےتوکوئیچینیہے۔چمڑےکےبوٹکیبھاریدھمک موتکاپروانہتھ۔ 231
ایکبارکیسنئے۔جاپانایکگاؤںمیگئ۔کھیتکھلیانسبچھانمارے،نہکوئی آدمی ،نہ کوئی دانہ اناج کا ہاتھ آیا۔ لیکن سرنگ کا راستہ دریافت ہو گیا۔ ایک سؤر شامتکاماراملگیا۔اسکیدمسےانہوںنےزہریلیگیسکاکنسترباندھااورپیٹھپر یّٹم کا تیل ڈال آگ لگا دی۔ وہ چنگھاڑتا ہوا سرنگ می گھس گیا۔ اب ترکیب نمبر 14استعمالکرنےکاوقتتھا۔فرشمیایکبڑاساگڑھاپانسےبھراتھا،اسکاتختہ اٹھادیاگیا،حضرتسؤرقعرفنامیغرقہوئےاورگیسبیکارہوگئی۔لیکنیہساری ترکیبیںتبایجادہوئیںجببےاماںدشمنکےہاتھوںکتنیہیجانوںکانقصانہو چکتا۔ جاپاندیہاتیوںکوہراساںکرنےکےلیےاوریہجتانےکےلیےکہانکیبھاری ّوقتموجودہےطرحطرحکےہتھکنڈےاستعمالکرتےتھ۔انہوںنےجابجا دمدمےبنارکھےتھ۔سپاہیوںسے(بظاہر)بھراہواٹرکآتااوردمدمےمیخالی ہو کر چلا جاتا۔ اصل می آدمی چار چھ ہی ہوتے تھ ،باقی سب ربڑ کے ڈمی سپاہی ہوتے۔دمدمےمیانکیہوانکاللیجاتیاوروہپچکجاتے۔یہبھیدبھیجلدہی کھلگیا۔ایکگاؤںمی جبکہ سبھیلوگزیرِ زمینجاچکےتھ،انہوںنے گراموفونپرایکریکارڈلگادیاجسمیٹرکوںکیگِ ڑھرگِھڑربندہوتیتھ،یوںلگتا 232
تھاکہدسٹرکآرہےہیں،دسجارہےہیں۔گاؤںوالےدودنتودبکےبیٹھےرہے کہباہرنکلنےمیجاںکازیاںہے۔اسکےبعدکسیسیانےنےغورکیااورکہاکہآواز تو آتی ہے لیکن دھمک نہیں آتی۔ باہر نکل کے دیکھا کہ دو تین جاپان ہیں یا گراموفون ہے۔ جاپانیوں کو تو انہوں نے قابو کیا اور گراموفون پر نور جہاں کے نغموںکےریکارڈلگاکرجشنمنایا۔ چینیوں کے لڑنے کے طریقے اب تو ممکن ہے کسی کتاب می ہوں لیکن بس دہقانوںکیایجادتھ۔ہوتایہکہکچھچینیوںنےجاپانیوںکےکیمپپرچھاپہمارااور 233
انہوںنےچھ ّ الکرانکاتعاقبشروعکردیا۔جہاںراستےمیکوئیبستیآتیدوچار سٹک کے رہ گئ۔ پانچ چھ نے اگلے گاؤں می کنارہ کیا۔ دیہاتی برابر طرح دیے جاتے کہ ا ِدھر کو گئ ہیں۔ جانے نہ پائیں۔ تیسرے گاؤں کے باہر نکل کر جاپان آنکھیںململکےدیکھتےکہزمینکھاگئییاآسماننگلگیا۔الٹےپاؤںلوٹےتومارنے کوچوکس،کوئیکسیدرختپرلٹکاہے،کوئیچھتکیمنڈیرسےنشنہلیےہے،بس کوئیقسمتوالاہیجانسلامتلےکرجاتاتھا۔ ہمارییہبڑیخواہشتھکہسرنگوںکایہجالاپنیآنکھوںدیکھتےجائیںلیکنپیکنگ یا شنگھائی کے نواحات می کوئی ایسی جگہ نہ تھ اور پھر یہ جاپانیوں سے لڑائی کے زمانے کی بات ہے۔ بیس برس سے اوپر ہو گئ۔ سنا ہے شمالی چین کے صوبہ ہوپی میجواسقسمکیجنگکاگڑھتھاکچھآثاراببھیباقیہیں۔ایکفلمالبتہسرنگوں کیلڑائیکےمتعلقہمنےدیکھیاورواقعیدیکھنےکیچیزہے۔یاپھرچینیانقلابکے میوزیممیانہوںنےماڈلبنارکھےہیں۔یہیںوہپتھروںکیسرنگیںنظرآئیںاور لکڑیکیتوپیںبھی۔اتنااسلحہیااسلحہکےلیےدھاتیںکہاںسےلاتے۔چینیتوبس کسیمضبوطسیلکڑیکالن ّھ االیتےاوراسمیآرپارسوراخکرلیتے۔یہتوپکینالبن گئی۔زیادہمضبوطیکےہےکہپھٹنہجائےاوپرسےلوہےیاتانبےکےتاروںسے 234
جکڑ دیا۔ بات یہ ہے کہ اصل چیز اسلحہ نہیں ہوتا۔ اسلحے کے پیچھے والا آدمی ہوتا ہے۔ لانگمارچکاآخریمرحلہ،دشتتودشتتھدریابھینہچھوڑےہمنے 235
لانگمارچکیکہان ()1 جانےََکصدیاںپہلےہنیبالبادشاہنےہاتھیوںکےساتھکوہالپسعبورکیاتھا،وہ واقعدنیا کی تاریخمی اب تسنِ میل گنا جاتا ہے۔ لیکن 3۵-1934ء می چینیوںکےلانگمارچکےسامنےوہوّچبںکاکھیلتھا۔دوسریہجرتوںمیسےبھی تعداداورفاصلےکےلحاظسےکوئیاسکااّگلنہکھاسکگی۔ہاںمنگولوںکےخروجکو آپنظیرمیپیشکرسکتےہیںلیکنوہایکفاتحانہخروجتھااورجہاںرکاوٹدیکھتا تھا،یہسیلاباپنیمرضیسےاپنا ُرخبدللیتاتھا۔1947ءمیجوقافلےآگاور خونکےدریاعبورکرکےسرزمی ِنپاککیامانمیآئےانکواسواقعےسےایک گونہنسبتدیجاسکتیہےلیکنخیرآپیہداستانسنکرخودفیصلہکیجئےگا۔ 236
اسقافلےنے16اکتوبر1934ءکودریائےیاینگسیکےجنوبمیکیاینگسیکےصوبے سےکوچکیااور۲0اکتوبر193۵ءکوانتہائےشمالمغربمیاّیننمیپہنچکردملیا۔ کسیکےےّصحمیچھہزارمیلکیمسافتپڑی۔کسیکےےّصحمیآٹھہزارمیلبھی آئے۔چٹاگامسےپشاورتکافاصلہانداز ًادوہزارمیلہوگا۔یہمسافتاسسے تینچارگناجانیےاورپھرتمامترپیدل۔جتنےلوگکمرہمّٹباندھکرنکلےتھانکا یب ِساشکییناکینکہ نٹّصحگحمکنوزملتکتیاپہفنوچاا۔جبقااقہیرتہاکرئییگناکجرامہعویتںممییگمھایررےےڈاگلیئت۔ھچییاںن۔رگاکساتئےی می مورچے بنائے ہوئے تھیں۔ آبادیوں اور کھیتوں کو اُجاڑ رہی تھیں۔ دریاؤں کےناکےروکےہوئےتھیںاوردجلوتلبیسکےپھندےپھیلائےہوئےتھیں۔ اسقافلےکو368دنکےسفرمیدشمنسےروزانہایکجھڑپکااوسطپڑا۔ پورے پندرہ دن گھمسان کی خونریز لڑائی می صرف ہوئے۔ ۲3۵دن چلنے چلنے مدامچلنےمیصرفہوئےاور18راتیںکوچمیبسرہوئیں۔100دنکےمجموعی پڑاؤ می جس می بے شمار جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ۵6دن اکیلے شمالی زیچوان می صرفہوئےاورباقیپانچہزارمیلکیمسافت44دنمیطےکرنپڑیگویا114 میلچلنےکےبعدایکپڑاؤکیاوسطرہی۔روزانہمسافتکااوسط۲4میلپڑا۔اور 237
وہ ایسے ہیں کہ یہ سیدھا اور صاف اورمیدان راستہ نہ تھا۔ دشوار گزار پہاڑیاں تھیں۔خطرناکگھاٹیاںتھیں۔وحشیجنگلتھاورغ ّداردلدلیںتھیںاوردشمن کیبےمحابافوجیںتھیں۔تمامجدیدساما ِنحربسےآراستہ۔ یہقافلہ18پہاڑیخطوںسےگزراجنمیسےپانچایسےبھیتھکہبارہمہینےبرف میڈھکےرہتےتھاورقافلےمیجنوبیچینکےلوگوںکیاکثریتتھجوہمیشہ گرمآبوہواکےعادیرہےہیں۔ اسقافلےنےچوبیسدریاپارکئے1۲صوبےاسکےراستےمیآئےاوردسجنگجو سرداروںکیفوجوںکاگھیرااسنےتوڑا۔چھقبائلیعلاقےبھیسنِراہبنےجنکے باشندے وحشی اور خونخوار تھ اور ان ان علاقوں می سے اس قافلے کا گذر ہوا جہاںکبھیکسیچینیفوجکےقدمنہپہنچےتھاوراسپیدلقافلےمیماؤزےتنگ بھیتھ۔چواینلائیبھی۔کمانڈراِنچیفچوتہبھیتھاور ِ نلپیاؤبھیڈاکٹرسن یاتسن۔۔۔چینکےجمہوریانقلابکےقائدکیزندگیمیماؤزےتنگاورچو اینلائیبھیاسکےساتھتھاورچیانگکائی ی ِشبھی19۲4،ءمیسنیاتسنکا انتقال ہوا تو دونوں دھے الگ ہو گئ۔ ایک وہ جو مزدوروں اور کسانوں کو انقلابکےثمراتکاوارثجانتےتھ۔دوسریطرفوہجنکےجائدادوںاور 238
پصہنلعےتو ِ نں نککمےمیفہازدارتوھں۔انچقیلاابنیکگاکارئکنیو ی ِںکشوتنیغےفکوےجگیھاطاقٹاتتاپرراق۔بضِ نہک نرککمےیہسمبنےسوےہ مقامات دیکھے جہاں یہ خون ڈراما کھیلا گیا تھا۔ اور شہیدوں کی یادگار پر پھول چڑھائے۔اسدن4مئییعنیچینکےیومبیداریکیسالگرہبھیتھ۔19۲7ءاور 19۲9ء می شنگھائی می مزدوروں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ فرانس کے دانشورآمذرےمالردکاناولانسانکیقسمت،شنگھائیکیانہیخونریزیوںکےپس منظرمیہے۔ دشمنپراچانکحملہ 239
اکنیقالینگابسویکںانصوےبخہوتدھکاو،گجنوےشنچگنھےاعئلیااقوورں ِ نم نیکمکرکےوزدکرمریلایا۔ناپڑنتامہیےس۔یےہاسںبچسھسےابڑالگڑھت انقلابیحکومتقائمرہیاورچیانگکائی ی ِشکیچھاتیپرمونگدلتیرہی۔چانگ نےپےدرپےچارمہمیںانقلابیوںکاقلعقمعکرنےکےلیےبھیجیںلیکنیہّرجارلشکر سلامتلوٹکےنہآئے۔ انقلابوںکیجمعیتشروعمیسینکڑوںتمحدود تھ۔پھرہزاروںہوئی،پھرلاکھوں۔ہتھیارانکےپاسوہتھجوکومنتانگکی فوجوںسےچھینےجاتےتھ۔پہلیچارمہموںمیچیانگکےپورےپورےبریگیڈ اور ڈویژن خاک می ملا دیے گئ۔ لیکن پانچویں مہم کہ سب سے بڑی مہم تھ، انقلابیوںکےلیےقیامتثابتہوئی۔ 1933ءکااوائلتھاکہچانگکائی ی ِشنےاسپانچویںمہمکاطبلجنگبجایااور اع0نلقا6لاقب3یورےاچومںننرکٹوصوجوبڑںوپرسںمےشماتکیھمابلھڑ پیتھیھتنک۔نھاے۔دتکنھہاےرکاینلاقیلینگاےبسینوویپلارںاککھسکےپکیایفوچاسجررلیازلکرھےدفکووردجسچحڑتمےلھہشاآآیوامر۔لہاکونرقئلیاکجبوےی بھیایکلاکھایّسہزارکینفریتھ۔بےقاعدہرضاکار،دولاکھکےقریبانکے علاوہ تھ جن کو اس زمانے می کبھی سرخ محافظ کہتے تھ بلکہ آج کے رُسخ 240
ملحااکفھظوسےںکنمےہییہرناایطفلمن ِوہنیتںھسیںے۔مُبسھانغر ااریلتیواہپےخا۔نہہتناھیماکروونہںتھاک۔ےبنامگموالنےکاوےرپبااروسادبیھکی کم ہی تھا۔ ایک ہی تو اسلحہ خانہ تھا وہ بھی چھوٹا سا۔ چوکی جن کے مقام پر اس کی پیداواراونٹکےمنہمیزیرہسمجھنیچاہیے۔اسکےمقابلےمیچائیکائی ی ِش کے پاس وسائل کی کمی نہ تھ۔ نئے سے نئے اور بھاری سے بھاری ہتھیار تھ۔ جرمنفوجیمشیرتھ۔باہرکےملکوںسےبےپناہرسدملرہیتھ۔لوٹکھسوٹ سےخزانہبھرپورتھا۔مشینیاوربکتربنددستےتھ۔طاقتورہوائیبیڑاتھاجسمی کوئیچارسوجنگیجہازتھ۔اسکےمقابلےمیانقلابوںکےپاسفقطچندجہازتھ جوانہوںنےچیانگکیسپاہسےچھینےتھاورتینیاچارپائلٹ۔لیکنپٹرولنہتھا۔ بمنہتھ،مک ِن نٹکنہتھ۔پانچویںمہممیچانگکائی ی ِشنےاپنالڑائیکانقشہبھی بدلدیاتھا۔کہاجاتاہےیہنقشہجرمنجنرلفاکنہازنکاتیارکردہتھااورمقصودیہتھا کہانقلابیوںکوگھیرےمی لیاجائے۔انکیرسدکے راستےبندکیےجائیںاور محاصرہتنگکرتےکرتےانکاگلاگھونٹدیاجائے۔ یہ تدبیر کاری ثابت ہوئی۔ رسد کی تّلق پڑنے لگی۔ نمک تو بالکل نایاب ہو گیا۔ روزّرمهکیبمباریسےہزاروںکسانمارےگئ۔سرخفوجکےکوئیساٹھہزار 241
آدمی اس مہممیمقتولو مجروح ہوئے۔ شہریآبادیکا اورزیادہنقصان ہوا۔ پورےپورےعلاقےآبادیوںسےخالیاورویرانہوگئ۔کومنتانگکےاپنے دعوےکےمطابقاسمہممیتہتیغہوئےاورفاقےسےمرنےوالوںکیتعداد کوئیدسلاکھہوگی۔ اسوقتانقلابوںمیبھیدودھےتھ۔ایکجوبرس ِراقتدارتھا۔اسسےکئی غلطیاںبھیسرزدہوئیںلیکنبہتکچھنقصاناٹھانےکےبعد۔ماؤزےتنگکے ہمخیالوںکییہباتمانلیگئیکہاسوقتہجرتہیمناسبہے۔اسوقتشمال مغربکےانقلابیعلاقوںکواپناٹھکانہبناکراپنیطاقتمستحکمکرنچاہیے۔پھرکومن تانگسےنپٹاجائےگا۔ منصوبہبنایاگیااوراسےچپچاپاسپرعملشروعہواکہکومنتانگکیفوجوں کواسوقتسنگنملیجبکہنوّےہزارانقلابیفوجراتوںکےپردےمیمارامارا کوچکرتیہوئیکئیروزکیراہنکلگئیتھ۔پہلیتین راتوںمیتوانقلابیوںنے مغرباورجنوبکیطرفتھوڑےتھوڑےپاؤںپھیلائےلیکنچوتھراتغیر متوقع طور پر یک بارگی انہوں نے ہنان اور کوانگ تونگ کے صوبوں می کومن تانگکیقلعہبندیوںپرحملہکیا۔سرکاریفوجیںبھاگکھڑیہوئیںاورجنوبکی 242
تمامقلعہبندیوںپرانقلابیوںکاقبضہہوگیا۔یوںجنوباورمغربکےراستےان کےلئےکھلگئ۔ اس منزل ت پہنچنے کے لیے انقلابیوں کو محاصرے کے چار حلقے توڑنے پڑے۔ ایک کے بعد ایک 16اکتوبر کو کوچ شروع ہوا۔ ۲1کو پہلا حلقہ ٹوٹا۔ 3نومبر کو دوسرےحلقےکیزنجیریںشکستہوئیاورہفتہبھربعدتیسرابھیپامالہوا۔چوتھ مورچوں کی لائن ۲9نومبر کو سرخ فوج کے دباؤ کی تاب نہ لا کر جواب دے گئی۔ استاریخکےبعدانقلابیفوجظفرموجسیلابکیصورتسارےجہانمیپھیل گئیتھ۔جہاںسےانہیںسیدھےزیچوانجاناتھاجسکیسرحدمغربمی ّتسے ملیہوئیہے۔زیچوانسےآگےپھرانقلابیعلاقہشروعہوتاہےاوریہیاسقافلے کیمنز ِلمقصودتھ۔کوچ کرنےوالیچمٹ ِغٹمی فقطفوجہینہتھ۔ہزاروں ککمسیاوننسبھٹیبھتی،ھکی۔وبنچکہےابنقھلیاب،یبووڑںھنےےباپھنیی،چمھرسدابھلیک،یعوعرمتلیدںابرھیی،مکمییوسنارسٹبےھکییا،ینگغسیری میزمینوںکوزمینداروںسےلےکرکسانوںمیتقسیمکردیاتھا۔ٹیکسگھٹادیے تھ۔امدا ِدباہمیکےادارےبنادیےتھ۔بےروزگاری،افیم،چکلےبازی،بچوں کیغلامیاورزبردستیکیشادیکایکسرقلعقمعکردیاتھا۔تعلیمعامہوچکیتھ۔بعض 243
علاقوںمیتوخواندگیکاتناسب80فیصدہوگیاتھا۔کومنتانگکےدوبارہقبضےکا مطلباناصلاحاتکاصفایاتھااورانتمامبلاؤںکیواپسی۔ چسھوونڑقاتشھہاا۔کنوکئویتچہنِک نٹرگینےمویالخوراںدکاکیہےتپھرازکہکے ُاسٹیھانئےےکتھسای۔مکشیویننککہاکپوہیچہککارندنھےےسپےرپرہکلےھ اسلحہخانہاکھاڑلیاگیاتھا۔فیکٹریاںادھیڑیلیگئیتھیں۔بھاریمشینیںخچروںاور گتدھھوذٰہلںاپربباہرتکسیامگائینںسلریکرانہپزھییاندکنہاترہبیوپجڑھال۔وبگلوکہںہزناےروخوںدارٹایطھفالیان ِ۔نرااسوترےمدششیوانرگگنزیاںر، بارودٰ،یتحکہچاندیکےذخیرےبھیسرِراہدفنکرنےپڑے۔ابآکرشایدوہ نکالے گئ ہوں۔ ادھر پیچھے اس کوچ کے باوجود کومن تانگ کو شہروں پر قبضہ کرنےمیہفتوںلگےکیونکہہزاروںشہریوںاورباقیماندہسرخفوجیوںنےڈٹکر مقابلےکئے۔یہلوگجنکیتباہیاورموتیقینیتھرضاکارانہطورپرپیچھےرہگئ تاکہ ان کی قربان کی بدولت باقیوں کی سلامتی کا راستہ کھلا رہے۔ ان کو بجا طور پر مجاہدوںاورشہیدوںمیگناجاتاہے۔یہلوگمقابلےپرنہہوتےتوکومنتانگکی ساریفوجکوچکویوُچکیسرحدتکیمسافتانبےسروسامانمسافروںکے لیےموتکیوادیکےسمانتھ۔یہپیدل،دشمنسوار۔یہخستہوخراب،دشمن 244
تازہ دم اورکیل کانٹے سے لیس یہ کم۔ دشمن لا تعداد۔ دشمن کو ان کا راستہ معلوم تھا۔وہپہلےسےپھندےبچھامورچےجماانکیتاکمیبیٹھجاتاتھا۔کویوُچت پہنچتےپہنچتےکوچکرنےوالوںمیسےایکتہائیختمہوچکےتھ۔ گھاتمیلگےہوئےکرنےوالےقافلےپرجاگرتیںاورپھرنہجانےکیاہوتا؟ ابطےہواکہیہتوتباہیکاراستہہے۔تیرکیطرحسیدھےجانےکیبجائےراہوںکو الجھاتےہوئےچلو۔نتیجہیہہواکہمرکزیقافلےکوبیچمیرکھکرچاردستےیمینو 245
یسارجھڑپوںمیمشغولہوجاتےاورمرکزیقافلہآگےبڑھتارہا۔کومنتانگ نکےےیہہواتائیڑجلیہااکزبہھیہیالوسلگہردیاریداارئخےریواینگجسیککےوپآارگکےرزکچےہزویجچاواتےن۔امیبداچیخانلہگوکائںی یگ ِے۔ش ہزاروںسپاہبھیجکردریاکےناکےاورپہاڑکےد ّرےمسدودکردیے۔تمامکشتیاں جنوبیکنارےسےشمالیکنارےمنتقلکردیگئیں۔فصلیں ُاجاڑدیگئیں۔کویوُچ میایکلاکھکومنتانگسپاہانقلابیوںکےخیرمقدمکوکھڑیتھ۔ چیانگچاہتاتھاکہانقلابیوںپریاینگسیکیراہبندکرکےانکوجنوبمغربمی ّت کےویرانوںکیطرفدھکیلدےاوروہاںانکوختمکردےلیکناپری193۵ء میاسکیتوقعکےبرعکسرُسخفوجوںنےیکلخت ُرخبدلااورجنوبمینیان کےصوبےمیہوکربرمااورویتنامکیطرفبڑھناشروعکیا۔چاردنمییہفوجیں نیانکےدارالحکومتینانفو کےدسمیلکےاندرپہنچ گئیں۔مادامچیانگکائی ی ِشجواندنوںوہاںتھیںریسےفرانسیسیہندچینیکیطرفبھاگیں۔چیانگ نےانقلابیوںکےپیچھےاپنیفوجّرجارڈالدیلیکنیہتومحضایکچالتھ۔ینانفو کیطرفتوفقطتھوڑیسیفوجگئیتھبڑاہّصحتومغربکو ُمڑگیاتھاکہلینگکائیکے مقامپردریاعبورکرے۔ 246
یہلینگکائیہے۔۔۔۔یاینگسیکےدونوںطرففلکبوسپہاڑعمود ًاکھڑےہیں۔ د ّروںمیکومنتانگکےمورچےہیں۔دریاکیکشتیاںشمالیکنارےلےجاکرجلا دیگئیہیں۔سرخفوجکےتیندستےوہاںپہنچتےہیں۔کشتیاںجلیدیکھکربانسکاپل بناناشروعکردیاہے۔لیکنلُپتوکئیہفتےمیبنتاہے۔چیانگنےنعرہلگایا”وہمارا۔ ابیہلوگزندہبچکرنہیںجاسک۔“ لیکنیہدوسریچالتھ۔رُسخفوجکیایکبٹالینےیکلخت ُرخموڑکرچو پنگکےقلعےکیراہپکڑی۔کشتیوںسےدریاپارکرنےکایہیایکناکہرہگیاتھا۔اس بٹالینے8۵میلکیراہایکدنراتمیطےکیاورسرکاریفوجوںسےچھینی ہوئیوردیوںمیملبوسسرشامچوپنگکےقصبےمیجااترےاورغنیمکےہتھیار رکھوالیے۔ کونگمانکرسکتاتھاکہانقلابیجوتیندنکیراہپرتھ۔راتوںراتآموجودہوں گے۔ ذٰہلا کشتیاں شمالی کنارے پہنچا تو دی گئی تھیں لیکن جلائی نہ گئی تھیں۔ اندھیرےمییہسرخفوجیبستیکےکچھافسروںکودریاکےکنارےلےگئاور دریاپارکےمحافظوںکوپیغامبھجوایاکہایککشتیاِدھربھیجو۔سرکاریفوجکےکچھ لوگ ا ِدھر آنا چاہتے ہیں۔ ایک دستہ ان می سوار ہو کر دریا پار پہنچا۔ اس وقت 247
کومنتانگفوجیرایطفلن ِنایکطرفلٹکائےتاشکھیلرہےتھ۔وہاّکہاّکبرہ گئ۔ اب باقی ماندہ انقلابی سپاہ بھی پہنچ گئی۔ چھ کشتیاں نو دن ت متواتر پھیرے کپریتسیکررہریہںگایوار۔کہشتویاائیںجہجالازکمریمززیچوےاسنپےہناچاتسوپباولراپیاڑیانگؤسڈیالکای۔خچییرانہگےک۔اائیبشدککھوداںنیہت لوگ دریائے تاتو کیسے پار کرتے ہیں۔ ان کی قبریں اس پار نہ بنیں تو چیانگ نام نہیں۔ 248
لانگمارچکیکہان ()۲ گدنرییاجائتیےتاہتوےکا۔پادرریکارنئالاے یانینگگسمایرکچکےیعبوسربسسےےکخہطیرںنازیادکہاو۔ریہاسںبسسرےحخیفروجتناکےکقمدہمم ُرک جاتے تو وہ نیست و نابود ہو جاتی۔ تاریخ می اس سے پہلے کتنی ہی فوجیں دریائےتاتوکےکنارےتباہہوچکیتھیں۔انیسویںصدیمیتائےپنگکیبغاوت مشہورہے۔مانچوؤںکیشاہیفوجوںنےایکلاکھتائےپنگفوجکویہیںروکااور ختمکردیااورابچیانگکائی ی ِشنےسوچاکہانقلابیوںکاحشریہیہوناہے۔یہدریا انکےخونسےرنگینہوگالیکنتائےپنگفوجکیکمانکرنےوالےشہزادہشہ نےیہغلطیکیتھکہتیندنکووہاں ُرکگیاتھااپنےبیٹےکیسالگرہمنانےکے 249
لیےانتیندنمیشاہیفوجنےاسےگھیرکرراہِفرارمسدودکردی۔انقلابیوںکو یہغلطیدہرانامنظورنہتھا۔ ذٰہلایاینگسیسےشمالرویہزیچوانمیداخلہوکرجلدہیوہآزادلولولینڈکےعلاقے میداخلہوگئجہاںسفیداورسیاہجنگجولولوقبائلآبادہیں۔یہقبیلےکبھیچینکے مطیع نہیں رہے اور چینیوں سے ان کو ازلی دشمنی ہے۔ سرخ فوجی اس سے پہلے دوسرےصوبوںکےقبائلکےدرمیانسےبخیروخوبیگزرچکےتھاورانقبائل کے کچھ آدمی ان کی فوجوں می شامل ہو چکے تھ۔ اب ان کو ایلچی بنا کہ لولو سرداروںکےپاسبھیجاگیا۔رستےمیسرخفوجوںنےبہتسےقبائلیسرداروں کوکومنتانگافسروںکیقیدسےچھڑایا۔اتفاقسےرُسخفوجکےہراولدستےکا کمانڈراننواحمیرہچکاتھااورانکیزبانبھیکچھکچھبوللیتاتھا۔وہجاکرلولو سرداروںسےملا۔انہیںبتایاکہوہچینیجنسےتمنفرتکرتےہواورہیں۔۔۔ہم اورہیں۔ہمیںتمہاریآزادیکااحترامہے۔کومنتانگکےدشمنتمبھیہو،ہم بھیہیں۔انلولوسرداروںنےآزمانےکےلیےکہاکہاچھایہباتہےتوہمیںاپنی حفاظتکےلیےہتھیاردو۔سرخفوجنےیہباتفور ًامانلی۔اسپرلولوحیرانرہ گئ۔ نہ صرف یہ راستہ سلامتی سے طے ہوا بلکہ سینکڑوں لولو بھی رُسخ فوج می 250
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166
- 167
- 168
- 169
- 170
- 171
- 172
- 173
- 174
- 175
- 176
- 177
- 178
- 179
- 180
- 181
- 182
- 183
- 184
- 185
- 186
- 187
- 188
- 189
- 190
- 191
- 192
- 193
- 194
- 195
- 196
- 197
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266