ُدّکدعو ِتگناہدینےوالوںکوپکڑنےکیخبریں ُُ ن نسمیآتیہیں۔چینمیجسم فروشیکوایکمعاشرتیروگیامجبوریجانکراسکاعلاجکیاگیا۔محتاجوںکوشہروں سےنکالکرقصبوںاوردیہاتمیمنتشرکردیاگیاجہاںانکےماضیکےذکرسے شرمندہکرنے والا کوئینہ تھا۔ انکی نفسیات اورزندگیبھرکیعادات کودیکھتے ہوئےایسےکارخانوںمیتعینکیاگیاجہاںشامسےصبحتکامہوتاہےاوردن میلوگآرامکرتےہیں۔پھراُنکیتعلیمکاانتظامہوا۔رفتہرفتہانہوںنےزندگی کےرفیقڈھونڈلیےاوریوںمعاشرےکاکارآمداورصحتمندجزوبنگئیں۔البتہ انکاشوقلاعلاجتھا۔بالخصوصاسکاروبارپرپلنےوالے۔انہوںنےنئےچینسے کناراکیااورہانگکانگمیآکردکانیںبسالیںاورآتےہیبیاندیاکہنئےچینمی آزادینہیں۔جبرکادوردورہہےاسلیےہمآزاددنیامیسانسلینےکویہاںآگئ ہیں۔ہمارےکرمفرماکا ِرلائقہسےیادفرمائیں۔ چینمیبےشمارغیرملکیجاتےہیںیابطورطال ِبعلمرہتےہیں۔چنددنمیانکو اسملککامزاجمعلومہوجاتاہے۔چینیوںکےجنسیبےراہردیکےمعاملےمی اتنےّدشتمدہونےکیایکبڑیوجہچِف ِظنفسہے،قومیخودداریہے۔انلوگوںکا کہنا ہے کہ ہم اتنے دنوں نکبت و افلاس کا شکار رہے ہیں کہ ہماری ّزعت ،ہماری 151
ّزعت نہیں رہی تھ۔ اب ہم بیدار ہوئے ہیں تو یہ کچھ نہ ہونے دیں گے۔ اب ہماریبہنوںبیٹیوںکیطرفکوئینظراُٹھاکرنہدیکھسکگا۔چینیوںکواپنےایشیائی اورافریقیدوستوںکیاتنیخاطرمنظوررہتیہے۔اسکےباوجودفلٹِکسگرینبیان کرتاہےکہایکافریقیطال ِبعلمنےایکچینیلڑکیسےجوبسکنڈکٹرتھ،دلچسپی لینیشروعکردی۔وہبسشاپپرکھڑاتھااورفقطاسیکیبسمیسوارہوتااوراس سےباتکرنےکیکوششکرتا۔ایکروزاسنےاسسےکہاکہمیفلاںجگہرہتا ہوں۔ڈیوٹیختمہوتو”پیتمآنملو“وہتوخیرنہآئیلیکندوسرےروزایکخطاسکو موصولہواکہبعضناگزیروجوہکیبناپرآپکووطنواپسچلاجاناضروریہے۔ وظیفہآپکامنسوخ،ٹکٹآپکاتیارہے۔ کہاجاتاہےکہروسیوںسےبگاڑکیتہہمیبھیچینیوںکاِظفحنفسکاحدسےبڑھاہوا احساس تھا۔ روسی اپنے کمیونسٹ حلیف کی مدد کرنے کے لیے آئے تھ لیکن وہ مارکسکوتوجیساکچھسمجھسکتےتھ،سمجھتےتھ،چینیمزاجکونہسمجھے۔انہوںنے خودکوچینیوںسےارفعکوئیچیزسمجھنشروعکردیااوراسکااپنےرویےسےاظہار کئےبنانہرہسک۔ٰیتحکہایکروزچینیوںکوکہناپڑاکہنمازہوچکیمصلّے ُاٹھائیے۔یہ رہے آپ کے ٹکٹ۔ اس وقت بے شمار منصوبے ادھورے تھ۔ بہت سے 152
کارخانوںکاسامانآدھاپوناتھااورچینیوںکاکہناہےکہروسیجاتےجاتےکارخانوں اور منصوبوں کے خاکے (بلیو پرنٹ) بھی ساتھ لے گئ۔ اس بڑھیا کی طرح جو گاؤںسےناخوشہوکراپنامرغبغلمیدابکرچلیگئیتھکہدیکھیںتوابیہ لوگکیسےصبحکواُٹھتےہیں۔نہرِمامرغہوگانہوہبانگدےگانہصبحہوگی۔ پشانگنھااوئریطمبییہعمتدنونےوجوںبکھااارصیومشلینہوےںککاہکارروخکاینہےتدویاکھوارورہوااںسہقوستمیکیہمننےٹ،قم اانہڑبکتایررہواےئ۔ی سمجھیے۔ہمتوخیرٹیکنیکلآدمینہتھ۔فلکبوساوردیوہیکلمشینیںچینمیپہلے پبرھییدسیککوھدچیککھےنےتکھےللیکینےمفعرلاونمسہ،وساککینہڈایےکنیخوایااوصرمبشرطیاننیدہباؤسدےیبنھےیواا نل ن ِےطہنڑاائویرڈصراحالفکی آئے ہوئے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ آخر کیا خاص بات ہے اس می؟ معلوم ہوا کہ اتنیبڑیّوقتیعنی16ہزارٹنکادباؤدینےوالےپریسفقطدنیاکےآٹھملکوںمی ہچییںن۔ا۔و۔ر۔فچقیطپنایناچنم ن ِل ط ڑنکاونںکنےےبنیاہپنرےیپرسقااپدنریہمیحںن۔تاامورریذکہاہ،نبرتطاسنیےہب،نامیاغرہبیےج۔رامننیامویر سےفقطایککوبیرونملکچیکوسلواکیہمیاسےسرسریطورپردیکھنےکااتفاقہوا تھا۔ًاتجیتنڈیڑھسالاسکیریسرچاورڈیزائننگمیلگااورڈیڑھسالبنانےمی۔ 153
دقّٹن ِنبہتتھیں۔اتنابڑاخرادانکےپاسنہتھا۔کرینیںفقط76ٹن ُاٹھانےوالی تھیں اوریہاں ۲00ٹن ُاٹھانےوالی چاہیںتھیں۔ بہرحال اب جو بن گیاہے تو دوسرےملکوںکےپریسوںسےقویترہےکیونکہانکےدباؤدینےکیانتہائیقوت جوبالعموماستعمالنہیںکیجاتیلیکنکبھیضرورتپڑبھیجاتیہے۔پندرہہزارٹن ہےلیکناسپریسکیسولہہزارٹنہے۔خاصباتیہہےکہروسکےپاسایسا پریسنہیںہے۔ وہاںکےادیبوںکوخاصطورپرروسکےمعاملےمیشمشیربرہنہپایا۔ووہانمی ایکبڑےجغادریادیبملےجوتینبارروسہوآئےتھ۔وہبولےجناباگر کوئی غیر کمیونسٹ ہے تو ٹھیک ہے۔ آپ لوگ بھی غیر کمیونسٹ ہیں۔ آپ سے ہمیں تعرض نہیں۔ آپ لوگ کم از کم کمیونزم کو خراب تو نہیں کرتے۔ اس می تحریف کر کے لوگوں کو گمراہ تو نہیں کرتے۔ روس کے ادیبوں کی کتابوں کے مندرجاتکوتوجانےدیجئے۔انکیگفتگوفرصتمیہوگی۔ایلیااہرنبرگسے پوچھاگیاکہآپآجکللکھتےکیوںنہیں۔بولامجھےکیاضرورتہےلکھنےکی۔میرے پاسرائلٹیکےکوئیدوکروڑروبلہیں۔وہیختمنہیںہوںگے۔شوفوخوفصاحب کاگھربھیدیکھا۔ایکنہیںتینتینجنہیںمحل،بنگلے،کوٹھیاںکہہلیجئے۔جبکہ 154
بہتوںکودوکمرےکےمکانبھیمشکلسےمیسرہوتےہیں۔پڑےاینڈتےہیں۔ کاریںہیںاورایکذاتیہوائیجہازبھی۔بیسیوںنوکرمٹھیچاپیکرنےکوہیں۔کیونکہ لاکھوں کی رائلٹی آتی ہے۔ ابھی کل ہی ٹوکیو می جہاں وہ استراحت فرما رہے ہیں، انسےکسینوجوانفّنصمنےآشیروادمانگیتوبولے۔میرامشورہیہہےکہکسیلکھ پتی کی لڑکی سے شادی کرو تاکہ دلجمعی سے لکھ لکھا سکو۔ بھلا ایسے ہوتے ہیں کمیونسٹ ،ان می اور جاگیرداری دور کے کسی رئیس می کیا فرق ہے؟ سرخ محافظوںکیتحریکاسزمانےمیتوشروعنہہوئیتھجبہمچینمیتھلیکن ہمارےجودوساسکےبعدوہاںہوکرآئےہیں۔شوکتصدیقیاوراشفاقاحمد وغیرہ ،ان کا بیان ہے کہ یہ تحریک اس قسم کے بیانات کے خلاف ہے جو سرمایہ ٰدیاترحکیہکیجنطسریبفوےاپراسہیکراورایسکتہیکاھتونلیتخبےرہییںں۔آارنہکیاکہہیناں۔ہاےکسہسدیکےھوبرعوضطسبقسےاے نچون ِرطنڑی، عسواائمناٹ ّن السٹ،سفسّنےبصہمتورغسمیجرھہنےجلگنےکیہییاںف۔اتزیسادکہےہبرےخعوکدسکوچالیلہنکمےیببارہگمزییدآہمبدندنکافےاروقر بتدریجکمکیاجارہاہے۔پہلےاوپرکیحدساتسوآٹھسویوانتھ۔ابساڑھے تین سو پر آ گئی ہے۔ نیچے کی حد پچاس سے بڑھ کر سو ہو گئی ہے۔ فقط وہ لوگ جو 155
طالبِعلمبھیہیں،اورکامبھیکرتےہیںاسسےکمپاتےہیں۔کوئیدنمینیچےکی حداوپرکیحدسےجاملےگیاوراسکےبعدپوریقومکیمحنتپوریقومکیہمسطح خوشحالیکےکامآئےگی۔ چینمیمص ّٹنفوںکورائلٹیانکیکتابوںکیاشاعتکےحسابسےملاکرتیتھجو بعضصورتوںمیبہتہوجاتیتھ۔196۵ءمیاسکیحدمقررکردیگئی۔اب فقطکتابکےپہلےایڈیشنپرمقررہرائلٹیملتیہے۔اسپرہماریاپنیچینیدوستوں سےبہتبحثرہی۔ہمبطورشاعراورادیبکےسوچتےتھ،وہچینیقومکےایک فردکے۔انکاکہناتھاکہروپےکےعلاوہبھیدنیامیایسیقدریںہیںجنکےلیے انسانمحنتکرتاہے،لکھتاہے۔یہباتپہلےتوہماریسمجھمینہآئی۔پھرجوساری قومکایہرنگدیکھاتوآگئی۔اسےکہتےہیں: حیاتلےکےچلو،کائناتلےکےچلو چلوتوسارےزمانےکوساتھلےکےچلو 156
ہرقسمکیصفائیہے،سوائےہاتھکیصفائیکے پیکنگکیسڑکوںپرجبپہلےپہلہمیںایسےلوگنظرآئےجنہوںنےاپنےمنہ اومرناتککےپپریرسوفہییدںکپ۔ڑچ ِٹننٹےِوکںےکماااسیککطچبڑقھہاایرساکھہےمنتےھدتویکہھمایہںےشبجہوہموناہکپرہکیپہڑلوےگکیجپیٹنی باندھے رکھتا ہےتاکہ ان کے سانس کی آمد و شد سے ان کیڑوں اورجراثیم کو جسمان گزند نہ پہنچے جو فضا می موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں یہ بات نہیں۔ ان می سے کچھ لوگ یہ احتیاط کر رہے ہیں کہ ان کا زکام دوسرے کو نہ لگ جائے۔ لیکنزیادہتربطوراحتیاطایساکرتےہیںکہباہرکےگردوغباراورجراثیمکےاثرات سےمحفوظرہیں۔ووہانکےہسپتالمیہمنےاشتیاقظاہرکیاتوایکایکماسک 157
ہمیںاوراعجازبٹالویکوبھیعنایتہوا۔ہمیںتوراسنہآیا۔اعجازصاحبدودنت منہباندھتےپھرتےرہے۔انکاعملکمازکمہمارےلیےفائدےسےخالینہتھا کیونکہوہعموًامکمگوئیسےاحترازکرتےہیںاوراپنےپیشےوکالتسےمجبورسیدھی سادھیباتکوبھیدلائلاوربراہینسےثابتکرنےکیکوششکرتےہیں۔نتیجہ یہ کہ اور لوگ منہ کھولتے تھ تو گفتگو کرتے تھ ،اعجاز صاحب تقریر۔ ان دو دنوںمیہمارےاعصابکوخاصہسکونرہا۔صحتکاخیالچینیوںکواسحدت رہتاہےکہوحشتہوتیہے۔ہمایسےآرامطلٹوںکاتووہاںجیناحرامہوجائے۔ ورزش ہر کوئی ہر روز کرتا ہے۔ ہمارے ایک دوس ڈھاکے کے رہنے والے سڑکوںپراتناتھوکتےہیںکہڈھاکہمیونسپلٹیکوایکالگداروغہصفائیرکھناپڑاہے۔ جہاںیہجاتےہیں،وہسیآئیڈیکیطرحانکےپیچھےپیچھےرہتاہے۔انکووہاں بڑی تکلیف ہوئی کہ یہاں یہ رواج نہیں۔ نہ اجازت ہے۔ پان ابال کر پیتے ہیں۔ موبلآئلوہاںگاڑیوںمیڈالاجاتاہے،اصلییابناسپتیگھیکہہکرفروختنہیںکیا جاتا۔بھٹےکیاینٹیںبھیمکانبنانےمیاستعمالہوتیہیں۔ہلدیاورمرچمیملاکر انسےتعمی ِرمعدہکاکامنہیںلیاجاتا۔وہاںدودھبھیگائیوںبھینسوںکاہوتاہے۔ تالابوںیاکمیٹیکےنلکوںسےحاصلنہیںکیاجاتا۔پھرمحنتہرکوئیکرتاہے۔ذٰہلا 158
سارےچینمیہمایسےکسیشخصکیتلاشمیرہےجوبڑینہسہیچھوٹیموٹی توندہیکامالکہو۔سوچوکےہوٹلمیہمنےکچھچینیتوندوںوالےدیکھےتوخوش ہوئے اوروط ِن عزیزکی یادآئیلیکن معلوم ہوا وہ یہاں کے نہیں،سنگا پورسے بغر ِضتفریحآئےہوئےہیں۔لاغرآدمیبھیچینمیکوئینظرنہآیا۔واپسیپر ہمارےایکامریکندوسنےاسکییہتوجیہکیکہجبکوئیغیرملکیآتاہےتو ڈھنڈوراپٹجاتاہےکہلاغرلوگاپنےاپنےگھروںمیبندہوجائیںاوراندرسے کنڈیاںچڑھالیںتاکہغیرملکیلوگمتاثرہوجائیں۔ 159
ہمنےکہاوہاںتوکوئیایساوقتنہیںآتاکہغیرملکیوںکےغولکےغولنہگھومتے ینپکلھٹرےیہںیاںو۔رچکینئییوبارںتکوووبہبہلاتاطتلکالیعفبہھویتیدیہہواگیت۔اووہرصکھایتوحںب،بکوارلخاےنو۔خںیاروآرگلپیویقںینمنہییجںا کرتے،نہسہیمینےایککتابمیپڑھاہے۔ چین میہمارےلیےایکپریشانیہتھکہجہاںکہیںذراساکھانسےیاچھینکے، ہمارےمہمانوںنےٹیلیفوناٹھایاکہبلائیںڈاکٹرکو۔انکیتّنمسماجتکرکےمنع کرناپڑتاتھااوربعضاوقاتتوکوئیتکلیفواقعیہوتوبھیچھپاناپڑتاتھا۔دّیسوقار عظیمیہاںسےکچھعلیلگئتھ،کچھدیوا ِرچینکیسردیسےصاِبحفراشہو گئ۔ ان کا مرض خاص ہے اور خاص خاص دوائیں ان کو راس آتی ہیں۔ ذٰہلا وہ شنگھائیسےقبلازوقتواپسآناچاہتےتھ۔اِدھرچینیوںکاخیالتھاکہہمارے ہاںسےکوئیشخصتندرسواپسنہگیاتوہماریبدنامیہوگی۔انہوںنےکئیڈاکٹر انپرلگادیے۔پیٹنٹدوائیںتہانگکانگسےمنگاکردینےکوتیارتھلیکنوقار صاحب کا اصرار اور ہمارا اپنا یہ خیال تھا کہ ان کا واپس جانا بہتر ہے۔ می چونکہ ادیبوں کے وفد کا سیکریٹری بھی تھا اس لیے جانتا ہوں کہ چینوں نے ان کو وہاں روکنےکےلیےکیاکیاجتنکئے۔بسماؤزےتنگسےصدرایوبکےنامتاردلوان 160
رہگئی۔ورنہکونسیسفارشہے،جواسکےلیےانہوںنےاستعمالنہکی۔ووہان میہمارےہسپتالجانےکیتقریبیہتھکہوہاںہمیںکچھفلوکااثرمعلومہوا۔کم اسزرکبمرازہکاتممضسرےومرلتاھقاا۔دتیککھاامکنرم ّنڈناکیٹرہپرےڈ۔اکآٹخرچرلاہمآرنہاےہکہےا۔باپباھرہامطلخاودعمچلیلےکجہاہستپتاے ہلیکاں ہسپتال۔وہاںگئتوانہوں نےہمارےاع نص اائےرئیسہو غیررئیسہآنکھ،کان، ٹانگوغیرہسبدیکھڈالے۔دراصلاسیباعثہموہاںجانےسےکتراتےتھ اورخودکوقتلعاشقاںسےمنعکرتےتھکہباقیسبلوگوطنسدھاریںگے۔ ہممیداخلدفترہوجائیںگے۔کیونکہہمجانتےہیںکہفارماکوپیامیشایدہیکوئی مرضہوگاجوہممینہہوگا۔خیرہسپتالتوہمداخلہوکرنہدیے۔دواضرورلے آئےاورابھیاستعمالبھینہکیتھکہتندرسہوگئ۔ یہہسپتالساڑھےساتسوبیڈکاتھا۔ڈاکٹرصاحبنےجرمنزبانمیساتسال تڈاکٹریپڑھیتھاوربیسسالسےپریکٹسکررہےتھ۔ہمارےجیمیآئی کہ ان سے پوچھیں کہ آپ کینیڈا کیوں نہیں چلے جاتے۔ وہاں ڈاکٹروں کو زیادہ تنخواہملتیہے۔یہسوالپوچھاتونہیںلیکنجیاسلیےچاہاکہہمخودکتنےڈاکٹروںکو جانتےہیںجوتنخواہاورآمدنکےلیےوط ِنعزیزچھوڑکرکینیڈا،امریکہاوربرطانیہ 161
میپریکٹسکررہےہیںاورہمارےہاںآدھیموتیںبروقتڈاکٹرمیسرنہآنے سے ہوتی ہیں۔ ان سے پوچھئے تو کہتے ہیں کہ ہاں وطن کی خدمت کرنے می اعتراض نہیں لیکن یہاں ہماری قدر نہیں۔ ہمیں سر آنکھوں پر نہیں بٹھایا جاتا۔ اسپرہمیںاسچینیادیبکییہباتیادآئیکہتنخواہاورآمدنکےعلاوہبھیکچھ ڈقادکٹرریوںںہ،یا نں ن ِج طنڑنوکںاےولریدوےسآردمیےمکااہرموکرںتکایتہعےداادوسریجنہکاڑوںںسبولکزہہیزابررتتواںہےت۔پاہنیچستیے ہےجوامریکہاوریورپکےملکوںسےآراماورتم ّولکیزندگیچھوڑکرواپسآئے اورابمعمولیکپڑوںمیمعمولیتنخواہلےکرمعمولیمکانوںمیرہتےہیںلیکن خوشہیں۔یہاںڈاکٹروںکےلیےچندسالسرکاریخدمتلازمقراردیگئیتھ توکہراممچگیاتھااوردیہاتمیجانےکےنامسےتوہرکوئیکانپرہاتھرکھتاتھا۔ وہجانںکادپیاہان،بتجکلیو،بتھعیلیممل،کصکاححتص،ہتسفمرجھیاحج،اتتاہذہےیاوبردسیہباپتریانحساقنوہےں۔ماپنیٹشلکماچورہلوکتہلاےہنیےں والےطبقےکےلوگوں۔ادیبوں،پروفیسروں،ڈاکٹروںوغیرہکوسالمیدومہینےجا کر دیہات می دیہاتوں کے ساتھ ان کے مکانوں می رہنا پڑتا ہے اور اسی کے ساتھکھیتوںکھلیانوںاورکارخانوںمیکامکرناپڑتاہے۔اسکااثرہےکہیہلوگ 162
خود کو کوئی علیحدہ آسمان مخلوق نہیں گردانتے۔ اور اس قاعدے سے صدر ماؤزے تنگتمستثنینہیںہیں۔ اوپرہمنےسنگاپورکےچینیوںکاذکرکیاہےیہلوگ OVERSEASیعنیسمندر پارکےچینیکہلاتےہیںاورانکےلیےہوٹلاورکلبوغیرہبھیہیں۔یہلوگسنگا پور ہی نہیں ایشیا اور یورپ کے سبھی ملکوں سے آتے ہیں۔ سوچو می ہمیں جو حضراتملےیہلکھپتیقسمکےتھ۔اورتینماہسےاقصائےچینمیسیرکرتے پھرتے تھ۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کا تاثر کیا ہے؟ آپ لوگ کیوں یہاں آئے؟انمیسےایکصاحبنےکہاکہہمارےدادایہاںسےبھوکےمرتےقلی بھرتی ہو کر ملایا گئ تھ۔ وہاں انہوں نے رفتہ رفتہ ترقی کی۔ ہماری پیدائش اور پرورشسبوہیںکیہے۔ابہمنےسناکہہماراآبائیملکجہاںسےہمارےاجداد کوبھوکنےبھگایاتھااتنیترقیکرگیاہےاتناخوشحالاورطاقتورہوگیاہےتوجیچاہاکہ جاکردیکھیںاورواقعیہمبہتخوشہیں۔اکثرلوگتوگھومپھرکرواپسچلےجاتے ہیلیکنبہتسےٹھہربھیجاتےہیں۔جسسائنسدانکےسرچینکےایٹمبمکی تیاریکاسہراباندھاجاتاہےوہبھیامریکہسےواپسگیاتھااورامریکہمیایکبہت اونچےسائنسیادارےمیبڑیممتازحیثیتکامالکتھا۔صحتمیعلاجکیسہولتیں 163
اورورزشومحنتکےعلاوہکچھدخلخوراککوبھیہے۔چینیروغنجوشنہیں کھاتے،سادہخوراککھاتےہیں۔یہرواجہمارےہاںکاہےکہجبتکسیچیز کےتماماجزاءکوجنمیوٹامنیادوسریغذائتیںہونےکاخطرہہے،پوریطرح ضائعنہکردیا جائےمزانہیںآتا۔خیراسمسئلےپرہمزیادہزورنہیںدیناچاہتے کیونکہبہتسےڈاکٹرحکیم ہمارےحلقۂاحبابمیہیں۔انکیخوشحالیپرآنچ آنےسےہمخوشنہہوںگےتاہمگھروںکیاورکوچہوبازارکیصفائیہمیںبھی پسندہے۔یہاںکسیکواپنےگھریاگلیمیجھاڑودینےمیعذرنہیں۔ریگاڑیت کیدھلائیہرروزہوتیہے۔یہحالتومادیاورظاہریصفائیکاہے۔انکیاخلاقی صفائی اور پاکیزگی کا کچھ ذکر ہم گزشتہ باب می کر چکے ہیں جو مغرب کی تمام آلائشوںاورجنسکےمظاہرےدوررہنےسےپیداہوئیہے۔معلومہواکہسب خرابیوںکیجڑزرکیفراوانیااسبابتم ّولکیہوسہےاوریہہوستبپیداہوتی ہےجبہماپنےہمسائےکودیکھتےہیںکہاسکےہاںکاراورریفریجریٹرآگئہیں، میرے پاس کیوں نہیں۔ خواہ مجھے اس کے لیے رشوت یا بے ایمان کیوں نہ کرن پڑے۔چینمیشایدہیکوئیگھرکوتالالگاتاہو۔چوریہوناایکطرفوہاںکسیچیز کاگمہوکرگمرہنامحالہے۔مثالیںاسکیہمپہلےدےچکےہیں۔ 164
چین می مال کی فراوان ہے اور قیمتیں یکساں ہیں۔ آپ کی چیز کو پیکنگ سے خنرہییدںمیلےےیاگاشن۔گدھکاائنییمںہیرلیقجسئےم،کہوےامائیالڈہسہےومیانبھاازمانرہکاباھسرٹویرہ،وکئہییہںیںقایومرتکسمییڈپکاورئتیمفننٹرلق اسٹورمیجائیےتوبھیڑمیرستہپانامشکلہوجاتاہے۔ہمارےوفدکےارکانکو یہاںسےدسدسپندرہپندرہپونڈزرمبادلہملاتھاجوسبکوتھوڑامحسوسہوتاتھا لیکنہمارےپیرصاحب،پیراّسحمالدّینراشدینےفرمایاکہمیاںکیوںپریشان ہوتےہو،میتواتنابھینہیںلےرہا۔تمکوکمیونسٹملکوںکاحالمعلومنہیں۔می پچھلےسالروسہوآیاہوں۔وہاںدکانوںمیاتنیچیزیںہیںکہاں؟معمولیمعمولی چیزوںکےلیےبڑےبڑےکیولگتےہیں۔آخرہمنےکہاکہآپلےلیجیےبچرہے گاتوواپسکردیجیےگا۔وہاںوہچیزوںکیفراوانکاعالمدیکھکرحیرانرہگئ۔نہ صرفاپنےبیسپونڈصرفکئےبلکہاسسے ُدگنےوہاںدوستوںسےادھارلیے۔ پھربھیواپسیمیرستہبھرافسوسکرتےآئےکہہائےفلاںچیزنہیںلی،فلاںچیز رہگئی۔ 165
خانصاحبکیبھوککمزورہوگئیتھ جن بزرگ کا تذکرہ ہے وہ چین کا دورہ کرنے والے ادیبوں کے وفد می ہمارے ساتھتھ۔طبعیانکسارکےباعثاپنےنامکااعلانشایدپسندنہکریں،ذٰہلاہمانکو صرفخانصاحبکےنامسےیادکریںگے۔ خاںصاحببزرگآدمیہیں،ساتھپینسٹھسےاوپرعمرہےلیکنبڑےکینڈےکے آدمیہیں۔(کاتبصاحب!کینڈےکےککوگبنانےکیکوششنہکیجئے)پیکنگ میپہلےہیروزہمجبناشتےکیمیزپربیٹھےاوربیرےنےآرڈرلیناشروعکیاتوسب سے پہلے ہماری باری تھ۔ ہم نے کہا ”ایک انڈا ہاف بوائلڈ۔“ ہمارے دوسرے رفیق نے کہا ”دو انڈے۔“ خان صاحب کے آگے شمع پہنچی تو بولے ”تین 166
انڈے۔“ہمنےپہلےیہسمجھاکہیہناشتےکیمیزنہیں،نیلامگھرہےاوربولیبڑھرہی ہے۔اباسسےاگلاآدمیچارانڈےمانگےگا۔پھریہخیالکیاکہخانصاحبکو کچھغلطفہمیہوئیہےذٰہلاعرضکیاکہقبلہصرفاپنےلیےآرڈردیجئے،ساریمیز کےلیےنہیں۔اپناآرڈرہمدےچکے۔ خانصاحبنےکہا”جیمیاپناہیآرڈردےرہاہوں۔۔۔اوردیکھنابیراآٹھتوس، چندٹکیاںمکھنکی،دلیہ،دہیاورکچھبھنےہوئےرُگدےاورسبزیمچھلیوغیرہبھی۔ لیکنجلدی۔۔۔ہاںکافیبھی۔“ ”بہتبہترجناب!“ ”چاولہیں؟“ ”جیہاں،ہیں۔“ ”ایکپلیٹانکیبھی۔شاباشمیرےبھائیجھپاکسے۔“ بعضلوگناشتہڈٹکرکرلیںتوپھردنبھرکچھنہیںکھاتے۔ہمنےخانصاحب کوانہیمیسےشمارکیا۔لیکنلنچپرجبآدھےلوگوںنےچینیکھانےکاآرڈردیا۔ 167
اورآدھوںنےیورپینکھانےکا۔توبیرافخرسےبولاکہجنابپاکستانکھاناچاہئےتو اسکابھیانتظامہے۔پراٹھےہیں،دالہے،سبزیہے،بھناگوشتہےوغیرہ۔ خان صاحب نے کہا۔ ”میاں ہمارے لیے تینوں لے آؤ۔ ولائتی کھانا تو خیر ہمیں مرغوبہےلیکنابچینمیہیںتوتھوڑاچینیکھانابھیچکھکردیکھیںاورپاکستان کھانےبھیدیکھیں،تمکیابناتےہو۔اسموقعپرانہوںنےحاضرینسےخطابکر کے ماؤزے تنگ کا مشہور مقولہ بھی دہرایا کہ ”رنگ رنگ پھولوں کو اپنی اپنی بہار دکھانےدو۔“ابچیئرمینماؤکانامبیچمیآئےاورکوئیدممارسک،ناممکن۔ ہّصقمختصریہکہخانصاحبنےپہلےروزسےجسصلح ُُکپالیسیکاآغازکیااسے آخر ت نبھایا۔ کسی پلیٹ سے اور کسی قسم کے کھانے سے کوئی تعصب نہ برتا اور کوئیپلیٹدوررکھیجائےتوفور ًاکسیرفیقسےفرماتےتھوہکیاچیزہےاسےبھیتو ذرادیکھیں،ابہمجیسےنیازمندبھیتعاونکرنےلگے۔جہاںانکیپلیٹکوخالی ہوتےدیکھاایکبڑےچمچےسےایکنئیقسطڈالدی۔انصافسےکہناپڑتاہےکہ انہوںنےکبھیکسیکاہاتھنہروکا۔کبھیکسیکیدلشکنینہکی۔مچھلیہویاسبزی،بیف ہویادبنےکیچکی،خانصاحبنےسبکوایکہیآنکھسےدیکھا۔(دوسریوہبند کرلیتےتھ) 168
چینکیچائےتوخیرخاصقسمکیہوتیہے۔چندپتیاںاورپان۔نہدودھ،نہمیٹھا۔ لیکنہمارےلیےخاصطورپراسجوشاندےکاانتظامکیاجاتاتھاجسےہماپنےہاں چائےکہتےہیں۔وہاںاسکانامخونچاہے۔خانصاحببھییہیپیتےتھلیکناسکا نسخہبھیانکااپناتھا۔وہاسمیایکٹکیامکھنکیضرورڈالتےتھاوراسکےبعد دودھ۔لیکنایکروزبیرےکودودھلانےمیکچھدیرہوگئیتوہمارےمخدومپیر حسامالدّینراشدینےجوانکاخاصخیالرکھتےتھ،فرمایاکہحضرتدودھنہیں تونہسہیایکمکھنکیٹکیااسکےےّصحکیاورڈاللیجئے۔آخراصلتودونوںچیزوں کیایکہیہے۔خانصاحبکویہباتپسندآگئی،تھوڑیدیرمیدودھآگیاتواندو ٹکیوںکےعلاوہانہوںنےکوئیآدھپاؤدودھبھیڈالدیا(یادرہےکہوہاںچائے اسکلاسمیدیجاتیہےجسمیہمارےہاںموچیدروازےکےپہلوانل ّسی پستےہیں)اسکےبعددوٹکیاںانکامعمولہوئیں۔آپنےکبھیآئسکریمکو دیکھاہےجورکھےرکھےپگھلگئیہو۔بسیہیرنگہوتاتھاخانصاحبکیچائے کا۔ چینمیہماریقسمتمیحیرانہیحیرانلکھیتھ۔باہرجاتےتوچینوالوںکے کارخانے،میوزیم،کمیونوغیرہدیکھکرحیرانہوتےتھاورہوٹلمیہوتےتھ 169
توخانصاحبکودیکھکروجدکرتےتھ۔ہمکبھیفیصلہنہکرپائےکہاندونوں میزیادہحیرانکرنےوالیکونسیباتہے۔ ؏ادھرجاتاہےیادیکھیںادھرپروانہآتاہے۔ لیکن خان صاحب کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پیکنگ سے چل کر ہم وسط چین کےشہرووہانپہنچےتوایکشامخانصاحبکوقدرےپریشانپایا۔ہمنےکہا”خان صاحب!کیاباتہے؟“ بولے۔”باتتوکچھخاصنہیںلیکنیہاںکےبیرےمیریزباننہیںسمجھتے۔“ ہمنےکہا”آخرانکواپنیزبانسمجھانےاورانکیزبانسمجھنےکیضرورتہیکیا ہے۔وہبہتسالاکررکھدیتےہیں۔ہمبہتساکھالیتےہیں۔ابرہیزبانداناس کاانتظامپیکنگیونیورسٹمیہےجہاںہماریزبانسکھائیجاتیہےلیکنیہخالص علمیمسئلہہےاسمیہمیںآپکوتر ّددکیکیاضرورت؟“ بولے”آپنہیںسمجھتے۔باتیہہےکہپیکنگمیبیروںکومعلومتھاکہصبحچار بجےاٹھکرمیچائےکےساتھدوانڈےاورتینچارتوسکھاتاہوںوہاسلیےکہ 170
پھرناشتہمیدیرسےیعنیآٹھساڑھےآٹھبجےکرتاہوںلیکنیہاںکےبیروںکو معمولکیسےسمجھاؤں۔ترجمانبھیکوئیاسوقتموجودنہیں۔“ ہمنےکہا۔”وہجوآپنےپونسیردودھکاگلاساپنےکمرےمیبھجوایاہےاور سیبوںکیقاببھیمیدیکھآیاہوں،انکاکیاہوگا؟“ فرمایا۔”وہتومیراسوتےوقتکاناشتہہے۔میتوصبحکیباتکررہاہوں۔“ ہمنےکہا۔”یہسحریآپہمیشہسےکھاتےآئےہیں۔“ بولے۔ ”گھر می تو نہیں لیکن پیکنگ می اس کی پابندی کرتا رہا ہوں۔“ خان صاحب سیب بہت رغبت سے کھاتے تھ اور انگریزی کے اس مقولے کا ورد کرتےجاتےتھکہروزانہایکسیبکھاؤ،ڈاکٹرکوبھگاؤ۔ہمنےکہا”خانصاحب چینمیتوخیربہتڈاکٹرہیںاوریوںبھییہاںہمارینوبتچندروزہہےلیکناپنے ملکمیآپنےاسترکیبسےڈاکٹروںکودفعدفانکرناشروعکیاتومسئلہپیدا ہوجائےگا۔“ ہمارےخانصاحبکےاتناکھانےکااثریہتھاکہوہہفتےمیبمشکلدوروزصاِبح 171
فراشہوتےتھ۔ہمارےمیزبانہمپرایسےمہربانتھکہڈاکٹرکابندوبستفور ًا کرتےتھ۔ایکروزجبڈاکٹرانکااحوالپوچھرہاتھاتوہمبھیقریبہیتھبس اتنیبھنککانمیپڑی۔۔ ”اوربھوک۔۔۔“ ”بس بھوک ہی تو کمزور ہو گئی ہے۔“ خان صاحب نے کنکھیوں سے ہماری طرف دیکھتےہوئےسرگوشیمیکہا۔ 172
ہماراصحیحمقامشنگھائیوالوںنےپہچانا شنگھائیمیہماراجوعدیمالمثالاستقبالہوااگروہواقعیہماراتھاتوہمیںچاہیےکہہر ماہ بس ایک بار شنگھائی ہو آیا کریں۔ وٹامن بی کمپلیکس اور ماء اللحم وغیرہ کے استعمال کی ضرورت نہیں ،خون سیروں کے حساب سے خود بخود بڑھتا رہے گا۔ وہاںہمریسےپہنچےتھ۔جھٹپٹےکاوقتتھا۔دیکھاکہریلوےاسٹیشنکے صدر دروازے کے باہر قطار در قطار ہزاروں آدمی ہاتھوں می ہار گلدستے اور غبارےلیےکھڑےہیں۔ہماریصورتدیکھتےہیسبنےنعرۂحیدریبلندکیا۔ پہلےتوخلقتکےاساژدہامکودیکھکرہمحیرانوپریشانہوئے۔پھرہمّٹکرکے خودبھینہاؤنہاؤ۔۔یعنیبخیربخیرکاآوازہلگایا۔ہملوگکاروںمیبیٹھےتویہہجوم 173
اور بے قابو ہو گیا۔ ہر شخص ہماری دس بوسی پر مصر تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے اپنے کالے کالے پنجے باہر نکال دیے کہ لو ان کو چوم لو ،آنکھوں سے لگا لو۔ پھر جانےہماراچینآناہوکہنہہو۔نتیجہاسوالہانہخیرسگالیکایہہوکہٹریفکرکنےلگا۔ ہمسمجھےکہہنگامہاسٹیشنکیحدودتہے،اسکےبعدمیدانصافملےگا۔لیکن اسٹیشنسےہوٹلتکئیمیلتیہیمنظرتھا۔لوگیونہیصفآراتھاوردلو جگرہماریراہمینچھاورکرنےکوبےتابتھ۔ہمارااندازہعموًامغلطہوتاہےتاہم قیاسہےکہکوئیدوتینلاکھآدمیہوںگے،اتنےنہیںتوپینتیسہزارسےکمتوکسی صورت نہ تھ۔ زیادہ تر ےّچب اور نوجوان لڑکے لڑکیاں ،پولیس کے سنتری ان کو روکنےکیبرابرکوششکررہےتھکہہماریکاروںکےلیےرستہرہےلیکنبے کار۔آخرہمنےاپنےساتھیوںسےکہاکہبھائیو!بہتہوچکا۔اباپنےہاتھاندرکر لواوربسدورسےسلامکرو،ورنہکوئیحادثہہوجائےگا۔دوتینبارکسیزہرہجبیںکو کہچینمیبھیہوتیہیںمصافحہکیسعادتبخشنےکےلیےہمنےہاتھنکالاتووہکسی اوربھلےمانسنےاُچکلیا۔ ابسنئے!ہمارےسبھیدوستوںکیباچھیںتواسطرحکھلیہوئیتھیںکہوہکوشش بھیکرتےتوسمیٹنہسکتے۔لیکنہمارےدلکودگداتھکہیہسبکسیغلطفہمیکا 174
شاخسانہہے۔خیرمقدمہماراسبھیشہروںمیہواتھااوراچھاہیہواتھا۔صدرجا ن نن کا سانہیں کہ جہاں جاتے ہیں لوگ انہیں کالی جھنڈیاں دکھاتے ہیں۔ لیکن ایسا جلوسکہیںنہنکلاتھا۔ہمنےاپنےدوستوںسےکہاکہرفیقو،خداجانےیہحضرات کیا سمجھ کر آپ کو یہ ّزعت بخش رہے ہیں۔ ہم نے اخبار می پڑھا تھا کہ آج شام البانیہکاایکوزیرشنگھائیپہنچنےوالاہے۔ہونہہویہاہتماماسیکےلیےہے۔جب حقیقتکھلےگیتویہلوگبھیشرمسارہوںگےاورہمیںبھیشرمسارکریںگے۔ ہماریباتایکاورساتھکےتوجیکولگیباقینےاسےہمارےاحسا ِسکمتریپر محمولکیااورکہاتماسباتسےاندازہمتکروکہاندرو ِنملکہمارییوںآؤ بھگتنہیںہوتی،وہاںتولوگہمسےجلتےہیں۔ہماراصحیحمقاموہیہےجوچینیوں نےپہچاناہےچونکہچینیلوگنہاردوجانتےہیںنہبنگلہ۔ذٰہلاہمارےدوستوںکی استوجیہمیکچھوزنضرورتھالیکنہمسوچرہےتھکہاباصلمہما ِنعزیز نجانےکیاکیاتوقعاتلےکرجوشنگھائیکیسرزمینپرقدمرکھےگاتوکیاسوچےگا۔ اسکےےّصحکےہارتوہمارےگلےمیحمائلہیںاورجوگلدستےاتنیمحنتسےاس کے لیے بنائے گئ تھ ،یہ رہے۔ اس دوران می لوگ بھی اپنا فرض ادا کر کے گھروںکوجاچکےہوںگے۔ہمنےازراہِتحقیقترجمانوںسےپوچھاکہصاحبوتمبھی 175
بیچ اس مسئلے کے کچھ بولو۔ انہوں نے منڈیا ہلا کر کہا ”جناب یہ خیر مقدم چاروں خانےآپکاہے؏گرقبولافتدزہےعزوشرف۔”خیرہمبھیانکیجگہہوتےتو ابجبکہچڑیاںکھیت ُچگہیگئیتھیںیہیکہتےاورمفتکاکریڈٹلیتےکیونکہ دروغمصلحتآمیزبہازراستیفتنہانگیز۔نوکریجائےگیتواسکیجواساستقبال کےہنگامےکاانچارجتھا۔ہمنےپیچھےمڑکردیکھاکہجہاںسےہماراجلوسگزرلیتا ہے بھیڑ چھٹنی شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ اپنےہوٹلپہنچکرہمنےاسکھڑکیسےجھانکاجوبڑیسٹرکپرکھلتیتھتودوتین کاریں بصورتجلوس ایکدوسرےکےپیچھےآتی نظرآئیں۔ انمیسے کچھ لوگشرمندہاورپریشان،گردنیںنکالنکالکرسڑککےدورویہجانےکیادیکھ رہےتھ،غاًابلاستقبالکرنےوالوںکوتلاشکررہےتھ۔ہمارےخیالمیہوا یوںکہّزعمزمہمان(اصلی)کیگاڑیہمارےبعدآئی۔تبتمطلعصافہوگیا تھا۔خیرمقدمکرنےوالےاپنےفرضسےاداہوئے۔الاعمالبالنیات۔ یہتوخیرہماریبےلاگرائےہےلیکناگرہمارےساتھیوںکیرائےدرسہے اور وہ تحسینِ ناشناس واقعی ہمارے لیے تھ تو چینیوں کے حس ِن اخلاق معارف پروریاورکجمنوازیکیداددینیپڑےگی۔ہماببھیاپنےکسیساتھسےاس 176
شبہےکااظہارکرتےہیںکہیہسبغلطفہمیکاکارخانہتھاتووہسمجھاتےہیںکہیہبات نہیں۔انسانکیقدرہمیشہوطنسےباہرجاکرہوتیہےجہاںاسکیاصلیتجاننے والاکوئینہیںہوتا۔سفروشٹ ِل اطہظفرکےمقولےکایہیمطلبتوہے۔ ہماراہوٹل۔ہوٹلساسون،عینرودبارکےسامنےاسبندگارڈنکےپہلومیواقع تھاجسپرانگریزوںکےزمانےمییہتختیلگیرہتیتھ۔۔۔وّتکںاورچینیوںکا داخلہممنوعہے۔۔۔دریاکے ُرخجتنیبھیعالیشانعمارتیںتھیںانگریزوںاور دوسرے غیر ملکیوں کی تجارتی کوٹھیاں اور بینک وغیرہ تھ۔ بعضوں کے سامنے پیتلکےبڑےبڑےشیر۔۔۔مرحومشیربرطانیہکینشن،ابتایستادہتھ 177
(اب انُس ہے رُسخ محافظوں نے ان کی ُدم می بھی نمدہ باندھ دیا ہے۔ شیرِبرطانیہکی ُدممینمدہ یعنیانکیزیارتکرنےوالےہمآخریلوگتھ)ہوٹلساوُسن،ایکیہودی ساسوننامینےاسصدیکےاوائلمیبنایاتھا۔اورشنگھائیکاچوٹیکاہوٹلتھا۔ اس کی طوی و عریض خواب گاہوں می اب ت انگریزوں کی روحیں منڈلاتی ہآئوینوںگںیا۔وردرموٹنا ّقز یوس مں،یزغوسںلپخرالنندےنیکاماےنسچاسٹزروکسیامکاسینن،ہبھکاسریکیمپصنویفکواناںم،پشایہاتنلہکپلینگپولیںٹم ُحپّرلا نقشہے۔برناڈشاجب1934ءمیشنگھائیآیاتواسیہوٹلمیفروکشہواتھا۔اور اسیکےعالیشاندروازےپرچینکےادی ِباعظملوہسونکواندرجانےسے روکدیاگیاتھاکیونکہوہچینیپاجامہکرتاپہنےتھا،جیسےکراچیکےاونچےہوٹلوںاور 178
کلبوںمیاببھیبغیرٹائیاورمغربیلباسکےجانےوالوںکوروکتےہیں۔برناڈشا کواسسےملنےکےلیےہوٹلکےباہرآناپڑا۔ ابایکعجیباورآسیبیاتفاقکیباتسنئےیاپھریہزمانومکانکےاسرارہیںکہ جبہمنے1949ءمیاپنینظمشنگھائیلکھیتواسکےدوسرےبندمیفرودگاہکی منظرکشییوںکیتھ۔ پائیںباغکےگرجاکےگھڑیاںمیگیارہبجبھیچکےہیں بازاروںکاشوروشعببھیلمحہبہلمحہتھمتاجائے دریاکیپہنائیمیایکاسٹیمرکیسیٹیگونجے کسکوخبرہےکسمنزلکوجائےہےاورکسکوبلائے چاندنےبھیپوربکےجھروکےمیاپنامُکھدکھلایاہے چاندسےباتیںکونکرےجبدردہیدلمیامڈآئے اوپرڈائننگہالمیکھاناکھاتےاورباتیںکرتےہمیںخاصیدیرہوگئیتھ۔نیچے 179
پانچویںمنزلپراُترکرہمنےاپنیخوابگاہکےدریچےسےباہرجھانکاتوتمتماتاہوا پوراچاندنیلےآسمانمیقّلعمتھا۔یکایکسامنےدریاسےایکسٹیمرکیسیٹیگونجی اورپھرہوٹلکےگھڑیالنےٹنٹنوقتکےگزرنےکیمنادیدی۔انِگتوپورے گیارہبجرہےتھ۔ شنگھائیمیدیکھنےکوبہتکچھتھا۔چندقدمپردریاکاوہلُپتھاجہاںشنگھائیکےلیے 180
چیانگکائی ی ِشاورماؤزےتنگکےسپاہیوںمیخوفناکاورفیصلہ ُ نکجنگلڑی گئی۔ سینکڑوں آدمی اس چھوٹے سے قطعہ زمین پر کھیت رہے اور دریا کا پان خونا خونہوگیا۔کومنتانگوالوںنےاِردگردکیتمامعمارتوںمی،ہمارےہوٹلکی کھڑکیوںمیبھی،مورچےبنارکھےتھیعنیخودوارکرسکتےتھلیکنانقلابیوںکی زدسےمحفوظتھ۔ادھرتاریخکافیصلہسبپرروشنتھا۔شنگھائیکوانقلابوںکی آغوشمیآناہیتھا۔اسلیےانکیکوششتھکہکسیعمارتکوگزندنہپہنچے۔ہر چیزصحیحسالمرہےاوروہیوںہواکہبستیکےلوگوںنےچن ّھےبناکرچیانگکائی ی ِش کے سپاہیوں کو ان کمین گاہوں سے کھدیڑ باہر کیا۔ ساسون ہوٹل کے بیروں، خانساموںنےیلّموں،بانسوں،چھریوں،کانٹوں،میزوںکرسیوںاوراسٹولوںکے اسلحہاستعمالکیےاورساریبستی۔ ”یہفتحمبین،فتحمبین،فتحمبینہے“کےترانوںسےگونجاٹھی۔ 181
شنگھائیمیلوہسونکامکان 182
چینکاگورکی۔۔لوہسون شنگھائیمیہماریسیرکاآغازبھاریاورہلکیصنعتوںکینمائشگاہسےہواجوہمنے صبحکودیکھیںاورشامہماریلوہسونکےمیوزیممیگزری۔نمائشگاہکےراستے میایکبہتبڑاچوکآتاہے۔جبچھستمبرکوبھارتیفوجیںلاہورپریکایکحملہ آورہوئیںتواسچوکمیکوئیدسلاکھآدمیوںکیریلیہوئیتھجسمیاعلان کیاگیاہےکہاسجارحیتکےخلافہمپاکستانکےدوشبدوشلڑنےکوتیارہیں۔ ملکی اور تجارتی صنعتوں کی نمائش گاہ بھی دیکھنے کی چیز ہے۔ اس کے ہال کو جو شخص 183
ایک باردیکھ لےوہاسکی رفعت اوروسعت کو نہیں بھول سکتا۔ بڑے بڑے کصسہنتکعوشتناویمںشںکییکنیصےںوبرررکآھمتیدہاہیلںےکا۔اچسفہرسےہوگچذھسمرحککمہاارتاہانمندظرمرجیاآائتنای نں ِہتطونڑےکس۔واائمیننسےہتاکھایے۔کہکائیمخںہااینیبےنکریہُمیخقںدوجبسنیمممییی سبنےدلچسپیلیجوکسیچیزکودولاکھگنابڑاکرکےدکھاسکتیہے۔جاننےوالےکہتے ہیںکہایسالنزتیارکرنامعمولیباتنہیں۔ لوہسون کہ چین کا گورکی کہلاتا ہے ،پیدا تو غاًابل ہاینگچو می ہوا تھا لیکن رہا زیادہ تر شنگھائیمی۔یہیںاسکامکانتھا۔اوائلجوانمییہبھاگکہجاپانچلاگیاتھا۔ واپسآکرصحافتاوردرسوتدریسمیمشغولہوگیااورنوجوانوںکیذہنیتربیت کیطرفتوجہکی۔یہآزادیاورآزادئرائےکامتوالاتھاذٰہلاکومنتانگکےجبرو تشدد کا شکار رہا۔ اس کی کہانیاں اردو می بھی ترجمہ ہوئی ہیں جن می سب سے مشہورآہکیوکیکہانہے۔تمنائینےزندہچینکےنامسےنئےچینکیکہانیوںکا مجموعہشائعکیاتھااسمیتینکہانیاںلوہسونکیہیں۔اتفاقسےیہمجموعہہمارے پاستھا۔جبہمنےلوہسونکےمیوزیممیدیکھاکہدنیابھرکیزبانوںمیچھپے ہوئےلوہسونکےتراجمکےمجموعےوہاںرکھےہیںتواردوکیماندگیکےلیےیہبھی 184
اسمیوزیمکونذرکیا۔لوہسونمیوزیمکےمختلفشعبوںمیلوہسونکیزندگیکے مختلف ادوار دکھائے گئ ہیں۔ اس کی تحریریں بھی ہیں تصویریں بھی۔ اس کے جوتے ،کپڑے ،چھڑی ،ٹوپی وغیرہ سبھی موجود ہیں۔چیزوںسےزیادہانکےرکھنےکاسلیقہدیکھنے کا تھا۔ ہم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر ہمارا اسیطرحکامیوزیمبنادیاجائےتوہممرنےکوتیار ہیں۔ ایک دل جلے بولے تم نے کیا ہی کیا ہے؟ اورمیوزیمبناناہےتواقبالکاکیوںنہبنایاجائے۔تم بڑےہویااقبال؟ ہماری ذاتی رائے اس بابمی کچھبھی ہو،اس وقتہمخو ِففسا ِدخلقسےخاموشہیہے۔ لوہسونکاایکمشہورشعربمعنی ’خاکساروںسےخاکساریہے سربلندوںسےانکسارینہیں‘ 185
کرناتجویزٹوسٹکا اردومیکہتےہیںجا ِمصحتنوشکرنا،انگریزیمیکہتےہیںٹوسٹتجویزکرنا۔جا ِم صحتکیمثالہمنےیہدیکھیکہہمارےایکدوسبہتدناسپتالمیرہکر آئےتوہمانسےملنےگئ۔دیکھاکہایکطرفسامنےدھریہےصراحیبھری ہوئی۔ ایک پیگ ہمارے سامنے خالی کیا ،دوسرا بھرا۔ ہم نے کہا عزیزِ من یہ کیا حرکاتہیں۔بولے”بیماریسےاُٹھکےآیاہوں،جا ِمصحتنوشکررہاہوں۔“ دوسرے روز معلوم ہوا کہ دوبارہ پابدس دگرے دس بدس دگرے اسپتال میپہنچادیےگئ۔انکیبیماریکاباعثہیجا ِمصحتحدسےزیادہنوشکرناتھا۔ حقمغفرتکرےعجبآزادمردہیں۔(زندہہیں) 186
ٹوسٹتجویزکرنامغربیرسمہے۔جبپہلیبارہمارےسامنےایکدعوتمیکسی نےکھڑے ہوکر کہاکہ میٹوسٹتجویزکر رہا ہوںتو ہم نےمیزپر نظر دوڑائیاور سبکچھتھاایکٹوسٹہینہیںتھ۔ہمنےفور ًابیرےکواشارہکیالیکنایک تجربہکارشخصنےہمیںروکلیاکہہوشکیدواکرو۔خیرچینجانےتتمخود تجربہکارہوچکےتھ۔وہاںکیدعوتیںایسیفّلکمہوتیتھیںکہکئیبارہمنےاپنے چٹکی لی اور ساتھیوں سے پوچھا کہ ہم نواب واجد علی شاہ تو نہیں ہیں؟ قدحوں پر قدحےاورقابوںپرقابیںآ رہیہیں۔ہمنےاندازہکیاکہاگرکھانےوالاتمام کھانوںکےساتھعد ِلجہانگیریبرتےاورذراآہستکھائےتولنچکےڈانڈےڈنر سےاورڈنرکےناشتےسےبخوبیملسکتےہیں۔ہمتوخیرپیٹکےہلکےہیں۔زیادہکھانا توکیا،باتتہضمنہیںکرسکتے،لیکنہمارےایکرفیقنےچینیوںکاچیلنجقبول کیااورانکوچاروںشانےتِچکیا۔قابیںبھریآتیتھیںاورخالیچمکتیہوئیاٹھتی تھیں۔یہیصاحبتوتھکہدنمیپانچوںوقتکےکھانےکےعلاوہتہحّ ددکاناشتہ بھیکیاکرتےتھ،یعنیآدھیراتکواُٹھکرچندانڈےٹوسٹپھلوغیرہزہرمار کرتےتھ۔ ٹوسٹمییوںہوتاہےکہایکشخصگلاساٹھاکرلمبیچوڑیتقریرکرتاہے۔اس 187
موقعپرہمیںاقوا ِممتحدہکیایکدعوتیادآگئیجسمیامریکیمندوبنےروسی مندوبی کے سامنے ٹوسٹ تجویز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور روس بھائی بھائی ہیں۔انکیدوستیمخلصانہاورگہریہےلیکناگرروسکیطرفسےکوئیایسیویسی حرکت ہوئی تو ہم ہائیڈروجن بم کے استعمال می تا ّّم نہیں کریں گے۔ روسی نمائندےنےاپنےجوابیٹوسٹمیاسیطرحکےخیرسگالیکےجذباتکااظہارکیا اورکہاکہہمبھیامریکہکواپناایکگہرامخلصاوربےریادوسجانتےہیں۔لیکن اس کو اپنی طاقت کے بارے می کسی دھوکے می نہ رہنا چاہئے۔ اس نے ایٹم بم وغیرہاستعمالکرنےکی کوششکیتووہ میزائلوںسے اسکا بھرکس نکالدیں گے۔ خیر یہ مثال تو یونہی یاد آ گئی۔ کہنا یہ تھا کہ ٹوسٹ می باہمی خیر سگالی کے جذبات کے بعد لوگ اپنے جام ایک دوسرے کے ساتھ لگاتے ہیں اور پھر نوش کرتےہیں۔عامطورپرتوجرعہجرعہنوشکیاجاتاہےلیکنچینمیجبمیزبانیا ٹوسٹ تجویز کرنے والا انتہائے اخلاص می ’کنمٹے‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے تو اس کا مطلبہوتاہےکہتمامترحلقمیانڈیجاؤ۔جامٹکرانےمیخاصیاحتیاطدرکار ہوتیہے۔ہمنےایکبارمیزبانکاجامزورکیٹکرمارکرمیزپرگرادیاتھا۔اورایک بار خود اپنا گلاس توڑ لیا تھا۔ لوگ تو چھوٹے چھوٹے جام استعمال کرتے تھ لیکن 188
ہمیںگلاسکےبغیرتسکیننہہوتیتھجسکیوجہبلانوشینہیںبےتوفیقیتھ۔ہم شرابکیبجائےسنگترےکارسپیتےتھاورچونکہہرکنمٹےکےبعدگلاسخالیکرنا ہوتاتھاذٰہلاجتناسنگترہہمنےچینمینو ِشجانکیاہےعمربھرنہکیاہوگا۔کراچی واپسآنےکےچنددنبعدہمیںاپناخونکاگروپمعلومکرنےکےلیےبلڈٹیسٹ کراناپڑاتوہمارےدوسڈاکٹراکرمنےلیبارٹریسےواپسآکرکہاکہفیالحالتو آپکےسنگترےکےرسکاگروپبتاسکتاہوں۔چنددنبعدجبآپکیرگوں میخونکیگنجائشپیداہوئیتودوبارہتشریفلائیےگا۔ ہمارے ایک دوس ہم سے کچھ پہلے اپنی بیگمکے ہمراہ چین تشریفلے گئ تھ۔ ان کی آؤ بھگت ہم سے کچھ زیادہ ہی ہوئی۔ ذٰہلا ٹوسٹ تجویز کرتے کرتے ہلکانہوگئ۔رسمکےتقاضےسےکبھیانکیبیگمکوبھییہفرضاداکرناہوتاتھا۔ انکیبیگمانرسوماتکوجانتیتوہیںلیکنانکیقائلنہیں۔انکےساتھایک نستعلیق اردو مترجم بھی ہوتا تھا۔ لیکن جب کبھی وہ غیر حاضر ہوتا تب ان کے ٹوسٹآ ِبزرسےلکھنےکےقابلہوتےتھ۔میاںکہتےبیبیابتمٹوسٹتجویز کرو۔ہمانگریزیمیاسکاترجمہکیےجاتےہیں۔بیبیفرماتیں”اےنوج۔یہکیا کھڑاگہے۔مجھسےتقریریںنہیںہوتیں۔“میاںاسکاترجمہکرتےکہہماری 189
بیبیفرماتیہیںکہچینکیترقینےانکوبہتمتاثرکیاہےاورآخرمیفتححقکیہو گی۔ کبھی کبھی بی بی جھلا کر کہتیں۔ ”میاں تمہی بولے جاؤ ،مجھے تو پان کی طلب ہو رہیہے۔اےہےکیساملکہےجہاںپانبھینہیںکھایاجاتا۔انشءاللہماشااللہکا قوامتنہیںملتا۔انکےمیاںاسکاترجمہبھیفصیحانگریزیمیکرتےکہیہاں کیعورتوںکےعزموہمّٹنےہمیںبہتمتاثرکیاہے۔اےماؤں،بہنو،بیٹیو،دنیاکی ّزعتتمسے ہے۔“بیبی انگریزیبھیجاتی ہیں۔ اگرچہ بولتی نہیں۔ فرماتیں۔ ”اےمیاںیہتمکیاکاکیاکہےجارہےہو!“اسپروہکہتےبیبیچپرہومیتمہارے دلیجذباتکیترجمانکررہاہوں۔تمہاریظاہریگفتگوسےمجھےمطلبنہیں۔ شنگھائیکےہوٹلمیایکروزہمارےدوسڈاکٹروحیدقریشیپرایکحادثہگزر گیا۔بیرےنےمینوپیشکیاتوڈاکٹرصاحبنےمچھلیکھانےکےموڈمیتھ۔جیلی فشپسندکی۔یہایکلجلجاساسمندریجانورہوتاہےذٰہلاجیلیمعلومہوتاہے۔ڈاکٹر صاحبنےایکدولقمےکھائےتھکہہمارےمخدومپیرحسامالدّینراشدینے ذکر چھیڑ دیا کہ ہمارے ہاں خوامخواہ سانپ کے خلاف بّصعت پایا جاتا ہے حالانکہ اسکےکھانےوالوںکوجوڑوںکادردکبھینہیںہوتااورموٹاپاکمکرنےکےلیے بھیمفیدہے۔ہاںذائقےکامعلومنہیںکیاہوتاہے۔پھرڈاکٹرصاحبسےمخاطب 190
ہوکرکہا”،کیوںڈاکٹرصاحبآپتوکھارہےہیں۔کیساذائقہہےاسکا؟“ڈاکٹر صاحبیکلخت ُرکگئاورکہا۔”یہسانپہےکیا؟جینہیںیہتومچھلیہے۔“ہم سےگواہیلیگئیتوہمنےوضاحتکیکہہرچندیہمچھلینہیں،سمندریسانپہیہے لیکناسکےکھانےمیمضائقہنہیں۔چینیاسےبہتاشتیاقسےکھاتےہیںاس کلھیاےنمےتعکدیدشبیمکالریدویکھںکسرخےومدحفہویگظھربرہاتئےہےیکںہ۔یاہلحلحباینہسویچںیزنہےےغموشرتبسہے۔پپیلریصٹاکوحدیبکھناتےو کہا”ڈاکٹرصاحب!آپتوتعلیمیافتہآدمیہیں۔کیوںایسےوہموںمیپڑتےہیںاور یوں بھی خدانخواستہ یہ ایسا جانور تو نہیں کہ ممنوع ہو یا مضر ہو۔ ہانگ کانگ می تو چینیلوگآپکےسامنےزندہسانپکاٹکراسکےٹکڑےکردیتےہیں۔ڈاکٹر صاحبنےدوسروںکیطرفدیکھا۔بعضوںنےکہایہپیرصاحبآپکوبنارہے ماہیلںش۔مکچرھنالیشہریوہعےکر۔ادنیادیہشہےانہکنیجکئیےغ،کلھطافئہمییےد۔ورہکمرننےےبکھویکہیاہکدیہکیھہکن ِرپڑاامذناکیقطہبیےع۔تمچنھلیے ہےشوقسےکھائیے۔لیکنڈاکٹرصاحبکیطبیعتانکےقابوسےگزرچکیتھ۔ سیدھےباتھرومگئاوراپنےسینےکابارہلکاکیا۔اسکےبعددوروزتوہصاِبح فراشرہےاورکچھنہکھاسک۔ 191
چلوتوسارےزمانےکوساتھلےکےچلو شنگھائیکےپاسجوکمیونہمنےدیکھاوہ ِ ن نکاورہاینگچوکےکمیونوںسےزیادہتریّق یافتہتھا۔اسمیپانچہزارخاندانہیں۔۲7ہزارآبادی،گیارہہزارانمیسے زراعتکاکامکرتےہیں۔کمیونکےحلقےمیپندرہپرائمریسکولہیںجنمی پانچہزارلڑکےپڑھتےہیں۔ایکمڈلسکولہےگیارہسولڑکوںکا۔1۲۲طلباءاس آبادیمیسےیونیورسٹپڑھنےجاتےہیں۔زرعیرقبہگیارہسوایکڑہے۔ہمیںبتایا گیاکہ19۵0ءمیفیایکڑپیداوارساڑھےبائیسٹنتھ۔19۵7ءمیاکاونٹنہو 192
گئیاور196۵ءمی103ٹنفیایکڑکوپہنچگئی۔ایکسون ّوےقسمکیسبزیاںیہاں پیداہوتیہیںجوشنگھائیشہرکواّیہمکیجاتیہیںاوراسکےلیےکمیونکیملکیتمی ایکٹرکہے۔3سائیکلرکشہاور۵سوریڑھیاں۔یہکمیون19۵8ءمیقائمہوا۔ آمدن فی کس 19۵7ء می ۲40یوان سالانہ تھ۔ (ایک یوان یعنی دو روپے) 196۵ءمی38۲یوانفیکس۔یادرہےکہیہفیکسآمدنہےفیخانداننہیں۔ اشیائے ضرورتجیسی سستی چینمی ہیں اورکہیں نہیں۔ اسکمیونمی ایک کارخانہچارہکترنےکیمشینوںکاہےاورایککھادبنانےکا۔یہمصنوعاتدوسرے کمیونوں کو بھی سپلائی ہوتی ہیں اور کمیون کی مشترکہ خوشحالی کی ضامن ہیں۔ حکومتکااسکاممیکیاہّصحہے؟پانچفیصدٹیکساوربس۔ یہاںہمکمیونکےگھروںمیگئ۔چارچارگھرکاایکدومنزلہبلاکہےاوراس کےساتھباغیچہ،پلنگچھپرکھٹ۔میزیںکرسیاںسباچھیقسمکی۔ہمنےپوچھا چھوٹےےّچبکہاںہیں۔معلومہوانرسریمی۔ہمنےکہاکہنرسریدیکھیںگے۔ نرسریپہنچےتوننھےننھےبچےبےتابیسےہماریطرفلپکے۔ترانہگایااورسبسے ہاتھملائے۔دوتیناستانیاںانکیخبرگیریکےلیےتھیںاورچھوٹیچھوٹیکرسیاں بنچیں جن پر تین سال ،چار سال،پانچ سال کا بچہ بیٹھ سک۔ یہاں ان کو ان کی 193
استعداد کے مطابق کچھ حروف اور ہندسے بھی سکھائے جاتے ہیں لیکن اصل تربیتعاداتکیہوتیہے۔صحتوصفائیکیوُخڈالیجاتیہے۔یہاںنہڈنڈاہےنہ چھڑیجواستادکیضرورتہینہیں۔بچےدنبھرکھیلتےہیں،خوشرہتےہیں،کھاتے پیتےہیں،گاتےناچتےہیںاورسہپہرکووالدینکےکامسےآنےسےپہلےگھروں میپہنچجاتےہیں۔بہتسےگھروںمیبیبیوںکوہمنےگھرپرہیدیکھا۔غاًابلہر روزانکاکامپرجاناضرورینہیں۔معاوضہکامکےیونٹوںکےحسابسےملتاہے۔ نرسریمیہملوگوںکوبھیانہیبچوںکےبرابرانہیننھیمنیکرسیوںپرجگہملی۔ کویجسیمال ّدیننےایکبنگلہگیتانکوسنایا۔کچھگیتبچوںنےگائےاوراس کےبعدناچہوا۔اورتوسبھیلوگثقہتھ،ہاںہماوراعجازبٹالویاسناچمیبچوں کےساتھشریکہوئے۔ 194
چینجانےوالےپہلےمسلمانہمنہیںتھ پچھلےسالکاذکرہےہمارےایکعزیزدوسہمارےپاستشریفلائے۔مزاج پرسیکےبعدکہنےلگےکہمجھےوضوکرناسکھادواورنمازکیسورتیںآتیہوںتووہبھی یادکرادو۔وضوکرناتوایککتابمیدیکھکرہمنےانہیںسکھادیالیکنسورتوںکے متعلقمعذرتکردیکہہمیںبسچارسورتیںنمازکییادہیں۔وہآپکوسکھادیں توہمارےپاسکیارہےگالیکنیہآخریوقتمیمسلمانہونےکاخیالکیوںآیا؟ فرمانےلگے۔میچینجارہاہوں۔یہاںتواگرنمازنہپڑھوںتوکوئیمضائقہنہیں کیونکہاسلامیملکہےلیکندوسرےدیسمیجاکرتوباقاعدہنمازپڑھنیہیچاہئے ورنہوہلوگجانےکیاخیالکریںاورپھروہلوگتوکمیونسٹہیں۔بالکلہیخداکو 195
بھولگئہیں۔مجھےتماسلامسےایسابھیبیگانہنہسمجھو۔ریسکورسبھیجاتاہوں تومیرےہاتھمیتسبیحہوتیہےاورکسیگھوڑےپرداؤلگانےسےپہلےایکبزرگ سےفالضرورلیتاہوں۔پیناپلاناتوتمخودجانتےہوایکزمانےسےکمکررکھاہے۔ اباسسےزیادہاسعمرمیتوہوتانہیں۔ سنکیانگکےکچھعلم 196
ہمنےدیکھاہےکہامریکییابرطانیہکوشایدلوگدارالاسلامسمجھتےہیں۔وہاںجاتے ہوئےکوئیاسقسمکاتر ّددنہیںکرتالیکنچینیاروسجاتےوقتاپنےکپڑوںکے ساتھساتھاپنےاسلامکوبھیڈرائیکلینکرکےلےجاتاہےاورکوششکرتاہےکہ ایکآدھنمازتوپیکنگیاماسکوکیجامعمسجدمیپڑھکراپنیتصویرکھنچوائے،پھران ملکوںمیکوئیمسلمانملجائےتوپہلاخیاللوگیہیکرتےہیںکہضرورکوئیجعلیا لہیےےت۔یاارنکیکایہحکےو۔مہمتسنےےاببھھییاِ نس نکےسککیھماسپجڑدھامکیہاکوہرواہالسلںا ُکمعےلیمکسملکمہانناوسکںھاککرےہممحالّےرمیے واقعہے۔دوصاحبوںسےملوایاگیاتوہمنےگمانکیاکہمولویصاحبکیداڑھیپر جوپانچچھبالہیںمحضہمارےاعزازمیاگائےگئہیں۔ناماندونوںصاحبوں نے ہمیں مسلمانوں کے سے بتائے۔ ایک ابراہیم صاحب تھ ،اگرچہ اس کے ساتھ چوں چوں چن وغیرہ بھیلگتا تھا۔ دوسرے صاحب کا نام ہم بھول گئ۔ ہمارےساتھیوںنےوہاںقرآنمجیدکےنسخےملاحظہکرنےکےبعدشککافائدہ ملزموںکردیاوہبھیتبجبکہایکصاحبنےمولویصاحبسےسورۃفاتحہ سنلی۔اسایکسورتکوسنکرانہوںنےمولویصاحبکوپاسہونےکےنمبر اسلیےدےد ِ طیکہخودانکوصرفیہیسورتآتیتھ۔ 197
اوروںکیباتتوجانےدیجئے،ہمتوسمجھدارآدمیہیں۔ہمنےانلوگوںکےآٹو گرافاپنینوٹبکمیلیےمحضیہدیکھنےکےلیےکہعربیرسمالخطسےواقف ہیںیانہیں۔بےچاؤںنےیہسمجھکرکہہمانکییادگاررکھنےکےلیےایساکررہے ہیں،چپچاپدستخطکردیے۔ایکنےانمیسےبتایاکہوہعربیبھیبوللیتے ہیں۔یہزبانچونکہہممیسےکوئینہجانتاتھااسلیےانکیلیاقتکاتعینکرنے کیہمنےضرورتمحسوسنہکیبلکہانکےبیانکوکافیسمجھا۔ہاںاسخیالسےکہ یہلوگہمیںعربیسےبالکلنابلدہینہسمجھلیں،ہرفقرےکےساتھساتھ(جوہم انگریزیمیبولتےتھ)الحمدللہ،الحمدللہکاالتزامہمضروررکھتےتھ۔ایکآدھ بارہمنےماشاءاللہاورجزاکاللہکہہکربھیاپنےعلمکیوسعتکاثبوتدیا۔ ن ّن نتبرطرف،یہاںسےجانےوالےبہتسےمسلمانچینجاتےہوئےواقعییہ سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں جو چین کی دھرتی پر قدم رکھیں گے۔ وہاں جا کر انہیںبّجعت(اورشائدافسوسبھی)ہوتاہےکہانسےکوئیساڑھےتیرہسوبرس پہلےہیکچھلوگجاکرانسےفضیلتکایہشرفچھینچکےہیں۔چینکےتانگ خاندانکیتاریخقدیممیمرقومہےکہبادشاہکاؤسننےجسکاپایۂتختسیان تھا۲۵اگست6۵1ءکوجو31ہجریکےپہلےمہینےکادوسراروزتھا،خلیفۃالاسلامکے 198
بھیجےہوئےایکوفدکوشر ِفبازیابیبخشا۔عرباّلمحاپنےبیڑےلےکرجنوبی چین کی بندرگاہوں می زمانہ قبل اسلام می بھی آتے جاتے تھ لیکن وہ سلسلہ محضتجارتیتھا۔تہذیبیتعلقاتکیبناظہو ِراسلامکےبعدپڑیاورجیساکہبیانکیا گیاپہلیصدیہجریکےاوائلہیمیامویاورعباسیخلفاکےعہدمیچینمیجو سفارتیںعربسےآئیںانکیتعداد بیسیوںت پہنچتیہے۔ابھیپچھلےدنوں سیانمیجوکھدائیہوئیتووہاںسےامویعہدکے ِِ ّسبھیبرآمدہوئے۔بعدکی داستانطویہے،جنکودلچسپیہووہانجمنتریّقاردوپاکستانکیشائعکردہکتاب ”چینوعربکےتعلقات“میدیکھسکتےہیںجوایکچینیعالممولویبدرال ّدین چینینےلکھیتھ۔یہصاحبجامعازہرکےفاضلبھیتھاورجامعہہیّلمدہلیمی زی ِرتعلیمبھیرہے۔ چین می مسلمانوں کی تعداد کروڑوں می ہے۔ عالم اسلام سے آنے والوں کا اثر صرفدینمبینکیتبلیتمحدودنہیںرہابلکہاسلامیدنیاسےوہسائنساورطب، ریاضیات اورہئیتکے علوم کےتحف بھی لائے۔ چینی کیلنڈرکی تدوینمی بھی ہجریتقویمسےمددلیگئی۔ چینیسائنسدانجمالالدّینجوبارہویںصدیعیسویمیگذراہےایکبڑے 199
ہیئت دان تھا۔ چودھویں صدی می ماشی اور دوسرے مترجموں نے عربی سے ترجمےکرکےچینکیسائنسکوایسےہیمالامالکیاجیسےعباسیعہدکےمترجموںنے اپنےہاںکےعلومکیزمینکوآسمانکیاتھا۔تیرہویںصدیکےسربرآوردہچینی مترجموںمیبھیکاؤکےکنگکےنامکےایکمسلمانتھاوراسیعہدکےایک عجاغلرماش فمٹےسٰایلت ّدحیکنہتاو نب ن ِہ طنڑتمنشہگوپرربہیسییںوجنںہتوصاںننیےففچلھسفوےڑ،تیاہرییںخ،۔اچدینبخ،اریاصضکی،ےفملکسیلاماتن، گورنروں اور جرنیلوں کے تذکرے کا یہاں موقع نہیں جنہوں نے ہر عہد می بڑےمعرکےمارےنہدینیعلومکیدرسگاہوںکاتفصیلیاحوالہملکھسکتےہیں۔ چینکیایککتاب”مسلمانا ِنچینکیاصلیت“میجوسولہویںصدیکیتصنی خہواےلکبھامہیےدکیکہھاسکلراامیچکینعجمییب ا8ل یس۲ک6ءلجمانیوپہرناچا،سوہپیروحمںلکہہکباردرہشااہہچیےااونرگاکویآکنسفنیدے عمامے والا شی آ کر اسے بچاتا ہے۔صبح کو بادشاہنے وزیر سےاس کی تعبیر پوچھی تو ایکبڑےعالمنےبتایاکہسفیدعمامےوالاشیوہعربقومہےجوغربمیرہتی ہے۔انکیبڑیشوکتاورقوتہے۔معلومہوتاہےکوئیمخالفتعنصربغاوت کرنےوالاہےجسکامقابلہعربکیقوتکےبغیرنہیںہوسکتا۔ 200
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166
- 167
- 168
- 169
- 170
- 171
- 172
- 173
- 174
- 175
- 176
- 177
- 178
- 179
- 180
- 181
- 182
- 183
- 184
- 185
- 186
- 187
- 188
- 189
- 190
- 191
- 192
- 193
- 194
- 195
- 196
- 197
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266