Important Announcement
PubHTML5 Scheduled Server Maintenance on (GMT) Sunday, June 26th, 2:00 am - 8:00 am.
PubHTML5 site will be inoperative during the times indicated!

Home Explore چلتے ہو تو چین کو چلیے

چلتے ہو تو چین کو چلیے

Published by Muhammad Umer Farooq, 2022-04-22 05:29:04

Description: Chalte Ho To Cheen Ko Chaliay

Search

Read the Text Version

‫ُدّکدعو ِتگناہدینےوالوںکوپکڑنےکیخبریں ُُ ن نسمیآتیہیں۔چینمیجسم‬ ‫فروشیکوایکمعاشرتیروگیامجبوریجانکراسکاعلاجکیاگیا۔محتاجوںکوشہروں‬ ‫سےنکالکرقصبوںاوردیہاتمیمنتشرکردیاگیاجہاںانکےماضیکےذکرسے‬ ‫شرمندہکرنے والا کوئینہ تھا۔ انکی نفسیات اورزندگیبھرکیعادات کودیکھتے‬ ‫ہوئےایسےکارخانوںمیتعینکیاگیاجہاںشامسےصبحتکامہوتاہےاوردن‬ ‫میلوگآرامکرتےہیں۔پھراُنکیتعلیمکاانتظامہوا۔رفتہرفتہانہوںنےزندگی‬ ‫کےرفیقڈھونڈلیےاوریوںمعاشرےکاکارآمداورصحتمندجزوبنگئیں۔البتہ‬ ‫انکاشوقلاعلاجتھا۔بالخصوصاسکاروبارپرپلنےوالے۔انہوںنےنئےچینسے‬ ‫کناراکیااورہانگکانگمیآکردکانیںبسالیںاورآتےہیبیاندیاکہنئےچینمی‬ ‫آزادینہیں۔جبرکادوردورہہےاسلیےہمآزاددنیامیسانسلینےکویہاںآگئ‬ ‫ہیں۔ہمارےکرمفرماکا ِرلائقہسےیادفرمائیں۔‬ ‫چینمیبےشمارغیرملکیجاتےہیںیابطورطال ِبعلمرہتےہیں۔چنددنمیانکو‬ ‫اسملککامزاجمعلومہوجاتاہے۔چینیوںکےجنسیبےراہردیکےمعاملےمی‬ ‫اتنےّدشتمدہونےکیایکبڑیوجہچِف ِظنفسہے‪،‬قومیخودداریہے۔انلوگوںکا‬ ‫کہنا ہے کہ ہم اتنے دنوں نکبت و افلاس کا شکار رہے ہیں کہ ہماری ّزعت‪ ،‬ہماری‬ ‫‪151‬‬

‫ّزعت نہیں رہی تھ۔ اب ہم بیدار ہوئے ہیں تو یہ کچھ نہ ہونے دیں گے۔ اب‬ ‫ہماریبہنوںبیٹیوںکیطرفکوئینظراُٹھاکرنہدیکھسکگا۔چینیوںکواپنےایشیائی‬ ‫اورافریقیدوستوںکیاتنیخاطرمنظوررہتیہے۔اسکےباوجودفلٹِکسگرینبیان‬ ‫کرتاہےکہایکافریقیطال ِبعلمنےایکچینیلڑکیسےجوبسکنڈکٹرتھ‪،‬دلچسپی‬ ‫لینیشروعکردی۔وہبسشاپپرکھڑاتھااورفقطاسیکیبسمیسوارہوتااوراس‬ ‫سےباتکرنےکیکوششکرتا۔ایکروزاسنےاسسےکہاکہمیفلاںجگہرہتا‬ ‫ہوں۔ڈیوٹیختمہوتو”پیتمآنملو“وہتوخیرنہآئیلیکندوسرےروزایکخطاسکو‬ ‫موصولہواکہبعضناگزیروجوہکیبناپرآپکووطنواپسچلاجاناضروریہے۔‬ ‫وظیفہآپکامنسوخ‪،‬ٹکٹآپکاتیارہے۔‬ ‫کہاجاتاہےکہروسیوںسےبگاڑکیتہہمیبھیچینیوںکاِظفحنفسکاحدسےبڑھاہوا‬ ‫احساس تھا۔ روسی اپنے کمیونسٹ حلیف کی مدد کرنے کے لیے آئے تھ لیکن وہ‬ ‫مارکسکوتوجیساکچھسمجھسکتےتھ‪،‬سمجھتےتھ‪،‬چینیمزاجکونہسمجھے۔انہوںنے‬ ‫خودکوچینیوںسےارفعکوئیچیزسمجھنشروعکردیااوراسکااپنےرویےسےاظہار‬ ‫کئےبنانہرہسک۔ٰیتحکہایکروزچینیوںکوکہناپڑاکہنمازہوچکیمصلّے ُاٹھائیے۔یہ‬ ‫رہے آپ کے ٹکٹ۔ اس وقت بے شمار منصوبے ادھورے تھ۔ بہت سے‬ ‫‪152‬‬

‫کارخانوںکاسامانآدھاپوناتھااورچینیوںکاکہناہےکہروسیجاتےجاتےکارخانوں‬ ‫اور منصوبوں کے خاکے (بلیو پرنٹ) بھی ساتھ لے گئ۔ اس بڑھیا کی طرح جو‬ ‫گاؤںسےناخوشہوکراپنامرغبغلمیدابکرچلیگئیتھکہدیکھیںتوابیہ‬ ‫لوگکیسےصبحکواُٹھتےہیں۔نہرِمامرغہوگانہوہبانگدےگانہصبحہوگی۔‬ ‫پشانگنھااوئریطمبییہعمتدنونےوجوںبکھااارصیومشلینہوےںککاہکارروخکاینہےتدویاکھوارورہوااںسہقوستمیکیہمننےٹ‪،‬قم اانہڑبکتایررہواےئ۔ی‬ ‫سمجھیے۔ہمتوخیرٹیکنیکلآدمینہتھ۔فلکبوساوردیوہیکلمشینیںچینمیپہلے‬ ‫پبرھییدسیککوھدچیککھےنےتکھےللیکینےمفعرلاونمسہ‪،‬وساککینہڈایےکنیخوایااوصرمبشرطیاننیدہباؤسدےیبنھےیواا نل ن ِےطہنڑاائویرڈصراحالفکی‬ ‫آئے ہوئے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ آخر کیا خاص بات ہے اس می؟ معلوم ہوا کہ‬ ‫اتنیبڑیّوقتیعنی‪16‬ہزارٹنکادباؤدینےوالےپریسفقطدنیاکےآٹھملکوںمی‬ ‫ہچییںن۔ا۔و۔ر۔فچقیطپنایناچنم ن ِل ط ڑنکاونںکنےےبنیاہپنرےیپرسقااپدنریہمیحںن۔تاامورریذکہاہ‪،‬نبرتطاسنیےہب‪،‬نامیاغرہبیےج۔رامننیامویر‬ ‫سےفقطایککوبیرونملکچیکوسلواکیہمیاسےسرسریطورپردیکھنےکااتفاقہوا‬ ‫تھا۔ًاتجیتنڈیڑھسالاسکیریسرچاورڈیزائننگمیلگااورڈیڑھسالبنانےمی۔‬ ‫‪153‬‬

‫دقّٹن ِنبہتتھیں۔اتنابڑاخرادانکےپاسنہتھا۔کرینیںفقط‪76‬ٹن ُاٹھانےوالی‬ ‫تھیں اوریہاں ‪ ۲00‬ٹن ُاٹھانےوالی چاہیںتھیں۔ بہرحال اب جو بن گیاہے تو‬ ‫دوسرےملکوںکےپریسوںسےقویترہےکیونکہانکےدباؤدینےکیانتہائیقوت‬ ‫جوبالعموماستعمالنہیںکیجاتیلیکنکبھیضرورتپڑبھیجاتیہے۔پندرہہزارٹن‬ ‫ہےلیکناسپریسکیسولہہزارٹنہے۔خاصباتیہہےکہروسکےپاسایسا‬ ‫پریسنہیںہے۔‬ ‫وہاںکےادیبوںکوخاصطورپرروسکےمعاملےمیشمشیربرہنہپایا۔ووہانمی‬ ‫ایکبڑےجغادریادیبملےجوتینبارروسہوآئےتھ۔وہبولےجناباگر‬ ‫کوئی غیر کمیونسٹ ہے تو ٹھیک ہے۔ آپ لوگ بھی غیر کمیونسٹ ہیں۔ آپ سے‬ ‫ہمیں تعرض نہیں۔ آپ لوگ کم از کم کمیونزم کو خراب تو نہیں کرتے۔ اس می‬ ‫تحریف کر کے لوگوں کو گمراہ تو نہیں کرتے۔ روس کے ادیبوں کی کتابوں کے‬ ‫مندرجاتکوتوجانےدیجئے۔انکیگفتگوفرصتمیہوگی۔ایلیااہرنبرگسے‬ ‫پوچھاگیاکہآپآجکللکھتےکیوںنہیں۔بولامجھےکیاضرورتہےلکھنےکی۔میرے‬ ‫پاسرائلٹیکےکوئیدوکروڑروبلہیں۔وہیختمنہیںہوںگے۔شوفوخوفصاحب‬ ‫کاگھربھیدیکھا۔ایکنہیںتینتینجنہیںمحل‪،‬بنگلے‪،‬کوٹھیاںکہہلیجئے۔جبکہ‬ ‫‪154‬‬

‫بہتوںکودوکمرےکےمکانبھیمشکلسےمیسرہوتےہیں۔پڑےاینڈتےہیں۔‬ ‫کاریںہیںاورایکذاتیہوائیجہازبھی۔بیسیوںنوکرمٹھیچاپیکرنےکوہیں۔کیونکہ‬ ‫لاکھوں کی رائلٹی آتی ہے۔ ابھی کل ہی ٹوکیو می جہاں وہ استراحت فرما رہے ہیں‪،‬‬ ‫انسےکسینوجوانفّنصمنےآشیروادمانگیتوبولے۔میرامشورہیہہےکہکسیلکھ‬ ‫پتی کی لڑکی سے شادی کرو تاکہ دلجمعی سے لکھ لکھا سکو۔ بھلا ایسے ہوتے ہیں‬ ‫کمیونسٹ‪ ،‬ان می اور جاگیرداری دور کے کسی رئیس می کیا فرق ہے؟ سرخ‬ ‫محافظوںکیتحریکاسزمانےمیتوشروعنہہوئیتھجبہمچینمیتھلیکن‬ ‫ہمارےجودوساسکےبعدوہاںہوکرآئےہیں۔شوکتصدیقیاوراشفاقاحمد‬ ‫وغیرہ‪ ،‬ان کا بیان ہے کہ یہ تحریک اس قسم کے بیانات کے خلاف ہے جو سرمایہ‬ ‫ٰدیاترحکیہکیجنطسریبفوےاپراسہیکراورایسکتہیکاھتونلیتخبےرہییںں۔آارنہکیاکہہیناں۔ہاےکسہسدیکےھوبرعوضطسبقسےاے نچون ِرطنڑی‪،‬‬ ‫عسواائمناٹ ّن السٹ‪،‬سفسّنےبصہمتورغسمیجرھہنےجلگنےکیہییاںف۔اتزیسادکہےہبرےخعوکدسکوچالیلہنکمےیببارہگمزییدآہمبدندنکافےاروقر‬ ‫بتدریجکمکیاجارہاہے۔پہلےاوپرکیحدساتسوآٹھسویوانتھ۔ابساڑھے‬ ‫تین سو پر آ گئی ہے۔ نیچے کی حد پچاس سے بڑھ کر سو ہو گئی ہے۔ فقط وہ لوگ جو‬ ‫‪155‬‬

‫طالبِعلمبھیہیں‪،‬اورکامبھیکرتےہیںاسسےکمپاتےہیں۔کوئیدنمینیچےکی‬ ‫حداوپرکیحدسےجاملےگیاوراسکےبعدپوریقومکیمحنتپوریقومکیہمسطح‬ ‫خوشحالیکےکامآئےگی۔‬ ‫چینمیمص ّٹنفوںکورائلٹیانکیکتابوںکیاشاعتکےحسابسےملاکرتیتھجو‬ ‫بعضصورتوںمیبہتہوجاتیتھ۔‪196۵‬ءمیاسکیحدمقررکردیگئی۔اب‬ ‫فقطکتابکےپہلےایڈیشنپرمقررہرائلٹیملتیہے۔اسپرہماریاپنیچینیدوستوں‬ ‫سےبہتبحثرہی۔ہمبطورشاعراورادیبکےسوچتےتھ‪،‬وہچینیقومکےایک‬ ‫فردکے۔انکاکہناتھاکہروپےکےعلاوہبھیدنیامیایسیقدریںہیںجنکےلیے‬ ‫انسانمحنتکرتاہے‪،‬لکھتاہے۔یہباتپہلےتوہماریسمجھمینہآئی۔پھرجوساری‬ ‫قومکایہرنگدیکھاتوآگئی۔اسےکہتےہیں‪:‬‬ ‫حیاتلےکےچلو‪،‬کائناتلےکےچلو‬ ‫چلوتوسارےزمانےکوساتھلےکےچلو‬ ‫‪156‬‬

‫ہرقسمکیصفائیہے‪،‬سوائےہاتھکیصفائیکے‬ ‫پیکنگکیسڑکوںپرجبپہلےپہلہمیںایسےلوگنظرآئےجنہوںنےاپنےمنہ‬ ‫اومرناتککےپپریرسوفہییدںکپ۔ڑچ ِٹننٹےِوکںےکماااسیککطچبڑقھہاایرساکھہےمنتےھدتویکہھمایہںےشبجہوہموناہکپرہکیپہڑلوےگکیجپیٹنی‬ ‫باندھے رکھتا ہےتاکہ ان کے سانس کی آمد و شد سے ان کیڑوں اورجراثیم کو‬ ‫جسمان گزند نہ پہنچے جو فضا می موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں یہ بات نہیں۔ ان‬ ‫می سے کچھ لوگ یہ احتیاط کر رہے ہیں کہ ان کا زکام دوسرے کو نہ لگ جائے۔‬ ‫لیکنزیادہتربطوراحتیاطایساکرتےہیںکہباہرکےگردوغباراورجراثیمکےاثرات‬ ‫سےمحفوظرہیں۔ووہانکےہسپتالمیہمنےاشتیاقظاہرکیاتوایکایکماسک‬ ‫‪157‬‬

‫ہمیںاوراعجازبٹالویکوبھیعنایتہوا۔ہمیںتوراسنہآیا۔اعجازصاحبدودنت‬ ‫منہباندھتےپھرتےرہے۔انکاعملکمازکمہمارےلیےفائدےسےخالینہتھا‬ ‫کیونکہوہعموًامکمگوئیسےاحترازکرتےہیںاوراپنےپیشےوکالتسےمجبورسیدھی‬ ‫سادھیباتکوبھیدلائلاوربراہینسےثابتکرنےکیکوششکرتےہیں۔نتیجہ‬ ‫یہ کہ اور لوگ منہ کھولتے تھ تو گفتگو کرتے تھ‪ ،‬اعجاز صاحب تقریر۔ ان دو‬ ‫دنوںمیہمارےاعصابکوخاصہسکونرہا۔صحتکاخیالچینیوںکواسحدت‬ ‫رہتاہےکہوحشتہوتیہے۔ہمایسےآرامطلٹوںکاتووہاںجیناحرامہوجائے۔‬ ‫ورزش ہر کوئی ہر روز کرتا ہے۔ ہمارے ایک دوس ڈھاکے کے رہنے والے‬ ‫سڑکوںپراتناتھوکتےہیںکہڈھاکہمیونسپلٹیکوایکالگداروغہصفائیرکھناپڑاہے۔‬ ‫جہاںیہجاتےہیں‪،‬وہسیآئیڈیکیطرحانکےپیچھےپیچھےرہتاہے۔انکووہاں‬ ‫بڑی تکلیف ہوئی کہ یہاں یہ رواج نہیں۔ نہ اجازت ہے۔ پان ابال کر پیتے ہیں۔‬ ‫موبلآئلوہاںگاڑیوںمیڈالاجاتاہے‪،‬اصلییابناسپتیگھیکہہکرفروختنہیںکیا‬ ‫جاتا۔بھٹےکیاینٹیںبھیمکانبنانےمیاستعمالہوتیہیں۔ہلدیاورمرچمیملاکر‬ ‫انسےتعمی ِرمعدہکاکامنہیںلیاجاتا۔وہاںدودھبھیگائیوںبھینسوںکاہوتاہے۔‬ ‫تالابوںیاکمیٹیکےنلکوںسےحاصلنہیںکیاجاتا۔پھرمحنتہرکوئیکرتاہے۔ذٰہلا‬ ‫‪158‬‬

‫سارےچینمیہمایسےکسیشخصکیتلاشمیرہےجوبڑینہسہیچھوٹیموٹی‬ ‫توندہیکامالکہو۔سوچوکےہوٹلمیہمنےکچھچینیتوندوںوالےدیکھےتوخوش‬ ‫ہوئے اوروط ِن عزیزکی یادآئیلیکن معلوم ہوا وہ یہاں کے نہیں‪،‬سنگا پورسے‬ ‫بغر ِضتفریحآئےہوئےہیں۔لاغرآدمیبھیچینمیکوئینظرنہآیا۔واپسیپر‬ ‫ہمارےایکامریکندوسنےاسکییہتوجیہکیکہجبکوئیغیرملکیآتاہےتو‬ ‫ڈھنڈوراپٹجاتاہےکہلاغرلوگاپنےاپنےگھروںمیبندہوجائیںاوراندرسے‬ ‫کنڈیاںچڑھالیںتاکہغیرملکیلوگمتاثرہوجائیں۔‬ ‫‪159‬‬

‫ہمنےکہاوہاںتوکوئیایساوقتنہیںآتاکہغیرملکیوںکےغولکےغولنہگھومتے‬ ‫ینپکلھٹرےیہںیاںو۔رچکینئییوبارںتکوووبہبہلاتاطتلکالیعفبہھویتیدیہہواگیت۔اووہرصکھایتوحںب‪،‬بکوارلخاےنو۔خںیاروآرگلپیویقںینمنہییجںا‬ ‫کرتے‪،‬نہسہیمینےایککتابمیپڑھاہے۔‬ ‫چین میہمارےلیےایکپریشانیہتھکہجہاںکہیںذراساکھانسےیاچھینکے‪،‬‬ ‫ہمارےمہمانوںنےٹیلیفوناٹھایاکہبلائیںڈاکٹرکو۔انکیتّنمسماجتکرکےمنع‬ ‫کرناپڑتاتھااوربعضاوقاتتوکوئیتکلیفواقعیہوتوبھیچھپاناپڑتاتھا۔دّیسوقار‬ ‫عظیمیہاںسےکچھعلیلگئتھ‪،‬کچھدیوا ِرچینکیسردیسےصاِبحفراشہو‬ ‫گئ۔ ان کا مرض خاص ہے اور خاص خاص دوائیں ان کو راس آتی ہیں۔ ذٰہلا وہ‬ ‫شنگھائیسےقبلازوقتواپسآناچاہتےتھ۔اِدھرچینیوںکاخیالتھاکہہمارے‬ ‫ہاںسےکوئیشخصتندرسواپسنہگیاتوہماریبدنامیہوگی۔انہوںنےکئیڈاکٹر‬ ‫انپرلگادیے۔پیٹنٹدوائیںتہانگکانگسےمنگاکردینےکوتیارتھلیکنوقار‬ ‫صاحب کا اصرار اور ہمارا اپنا یہ خیال تھا کہ ان کا واپس جانا بہتر ہے۔ می چونکہ‬ ‫ادیبوں کے وفد کا سیکریٹری بھی تھا اس لیے جانتا ہوں کہ چینوں نے ان کو وہاں‬ ‫روکنےکےلیےکیاکیاجتنکئے۔بسماؤزےتنگسےصدرایوبکےنامتاردلوان‬ ‫‪160‬‬

‫رہگئی۔ورنہکونسیسفارشہے‪،‬جواسکےلیےانہوںنےاستعمالنہکی۔ووہان‬ ‫میہمارےہسپتالجانےکیتقریبیہتھکہوہاںہمیںکچھفلوکااثرمعلومہوا۔کم‬ ‫اسزرکبمرازہکاتممضسرےومرلتاھقاا۔دتیککھاامکنرم ّنڈناکیٹرہپرےڈ۔اکآٹخرچرلاہمآرنہاےہکہےا۔باپباھرہامطلخاودعمچلیلےکجہاہستپتاے ہلیکاں‬ ‫ہسپتال۔وہاںگئتوانہوں نےہمارےاع نص اائےرئیسہو غیررئیسہآنکھ‪،‬کان‪،‬‬ ‫ٹانگوغیرہسبدیکھڈالے۔دراصلاسیباعثہموہاںجانےسےکتراتےتھ‬ ‫اورخودکوقتلعاشقاںسےمنعکرتےتھکہباقیسبلوگوطنسدھاریںگے۔‬ ‫ہممیداخلدفترہوجائیںگے۔کیونکہہمجانتےہیںکہفارماکوپیامیشایدہیکوئی‬ ‫مرضہوگاجوہممینہہوگا۔خیرہسپتالتوہمداخلہوکرنہدیے۔دواضرورلے‬ ‫آئےاورابھیاستعمالبھینہکیتھکہتندرسہوگئ۔‬ ‫یہہسپتالساڑھےساتسوبیڈکاتھا۔ڈاکٹرصاحبنےجرمنزبانمیساتسال‬ ‫تڈاکٹریپڑھیتھاوربیسسالسےپریکٹسکررہےتھ۔ہمارےجیمیآئی‬ ‫کہ ان سے پوچھیں کہ آپ کینیڈا کیوں نہیں چلے جاتے۔ وہاں ڈاکٹروں کو زیادہ‬ ‫تنخواہملتیہے۔یہسوالپوچھاتونہیںلیکنجیاسلیےچاہاکہہمخودکتنےڈاکٹروںکو‬ ‫جانتےہیںجوتنخواہاورآمدنکےلیےوط ِنعزیزچھوڑکرکینیڈا‪،‬امریکہاوربرطانیہ‬ ‫‪161‬‬

‫میپریکٹسکررہےہیںاورہمارےہاںآدھیموتیںبروقتڈاکٹرمیسرنہآنے‬ ‫سے ہوتی ہیں۔ ان سے پوچھئے تو کہتے ہیں کہ ہاں وطن کی خدمت کرنے می‬ ‫اعتراض نہیں لیکن یہاں ہماری قدر نہیں۔ ہمیں سر آنکھوں پر نہیں بٹھایا جاتا۔‬ ‫اسپرہمیںاسچینیادیبکییہباتیادآئیکہتنخواہاورآمدنکےعلاوہبھیکچھ‬ ‫ڈقادکٹرریوںںہ‪،‬یا نں ن ِج طنڑنوکںاےولریدوےسآردمیےمکااہرموکرںتکایتہعےداادوسریجنہکاڑوںںسبولکزہہیزابررتتواںہےت۔پاہنیچستیے‬ ‫ہےجوامریکہاوریورپکےملکوںسےآراماورتم ّولکیزندگیچھوڑکرواپسآئے‬ ‫اورابمعمولیکپڑوںمیمعمولیتنخواہلےکرمعمولیمکانوںمیرہتےہیںلیکن‬ ‫خوشہیں۔یہاںڈاکٹروںکےلیےچندسالسرکاریخدمتلازمقراردیگئیتھ‬ ‫توکہراممچگیاتھااوردیہاتمیجانےکےنامسےتوہرکوئیکانپرہاتھرکھتاتھا۔‬ ‫وہجانںکادپیاہان‪،‬بتجکلیو‪،‬بتھعیلیممل‪،‬کصکاححتص‪،‬ہتسفمرجھیاحج‪،‬اتتاہذہےیاوبردسیہباپتریانحساقنوہےں۔ماپنیٹشلکماچورہلوکتہلاےہنیےں‬ ‫والےطبقےکےلوگوں۔ادیبوں‪،‬پروفیسروں‪،‬ڈاکٹروںوغیرہکوسالمیدومہینےجا‬ ‫کر دیہات می دیہاتوں کے ساتھ ان کے مکانوں می رہنا پڑتا ہے اور اسی کے‬ ‫ساتھکھیتوںکھلیانوںاورکارخانوںمیکامکرناپڑتاہے۔اسکااثرہےکہیہلوگ‬ ‫‪162‬‬

‫خود کو کوئی علیحدہ آسمان مخلوق نہیں گردانتے۔ اور اس قاعدے سے صدر ماؤزے‬ ‫تنگتمستثنینہیںہیں۔‬ ‫اوپرہمنےسنگاپورکےچینیوںکاذکرکیاہےیہلوگ ‪ OVERSEAS‬یعنیسمندر‬ ‫پارکےچینیکہلاتےہیںاورانکےلیےہوٹلاورکلبوغیرہبھیہیں۔یہلوگسنگا‬ ‫پور ہی نہیں ایشیا اور یورپ کے سبھی ملکوں سے آتے ہیں۔ سوچو می ہمیں جو‬ ‫حضراتملےیہلکھپتیقسمکےتھ۔اورتینماہسےاقصائےچینمیسیرکرتے‬ ‫پھرتے تھ۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کا تاثر کیا ہے؟ آپ لوگ کیوں یہاں‬ ‫آئے؟انمیسےایکصاحبنےکہاکہہمارےدادایہاںسےبھوکےمرتےقلی‬ ‫بھرتی ہو کر ملایا گئ تھ۔ وہاں انہوں نے رفتہ رفتہ ترقی کی۔ ہماری پیدائش اور‬ ‫پرورشسبوہیںکیہے۔ابہمنےسناکہہماراآبائیملکجہاںسےہمارےاجداد‬ ‫کوبھوکنےبھگایاتھااتنیترقیکرگیاہےاتناخوشحالاورطاقتورہوگیاہےتوجیچاہاکہ‬ ‫جاکردیکھیںاورواقعیہمبہتخوشہیں۔اکثرلوگتوگھومپھرکرواپسچلےجاتے‬ ‫ہیلیکنبہتسےٹھہربھیجاتےہیں۔جسسائنسدانکےسرچینکےایٹمبمکی‬ ‫تیاریکاسہراباندھاجاتاہےوہبھیامریکہسےواپسگیاتھااورامریکہمیایکبہت‬ ‫اونچےسائنسیادارےمیبڑیممتازحیثیتکامالکتھا۔صحتمیعلاجکیسہولتیں‬ ‫‪163‬‬

‫اورورزشومحنتکےعلاوہکچھدخلخوراککوبھیہے۔چینیروغنجوشنہیں‬ ‫کھاتے‪،‬سادہخوراککھاتےہیں۔یہرواجہمارےہاںکاہےکہجبتکسیچیز‬ ‫کےتماماجزاءکوجنمیوٹامنیادوسریغذائتیںہونےکاخطرہہے‪،‬پوریطرح‬ ‫ضائعنہکردیا جائےمزانہیںآتا۔خیراسمسئلےپرہمزیادہزورنہیںدیناچاہتے‬ ‫کیونکہبہتسےڈاکٹرحکیم ہمارےحلقۂاحبابمیہیں۔انکیخوشحالیپرآنچ‬ ‫آنےسےہمخوشنہہوںگےتاہمگھروںکیاورکوچہوبازارکیصفائیہمیںبھی‬ ‫پسندہے۔یہاںکسیکواپنےگھریاگلیمیجھاڑودینےمیعذرنہیں۔ریگاڑیت‬ ‫کیدھلائیہرروزہوتیہے۔یہحالتومادیاورظاہریصفائیکاہے۔انکیاخلاقی‬ ‫صفائی اور پاکیزگی کا کچھ ذکر ہم گزشتہ باب می کر چکے ہیں جو مغرب کی تمام‬ ‫آلائشوںاورجنسکےمظاہرےدوررہنےسےپیداہوئیہے۔معلومہواکہسب‬ ‫خرابیوںکیجڑزرکیفراوانیااسبابتم ّولکیہوسہےاوریہہوستبپیداہوتی‬ ‫ہےجبہماپنےہمسائےکودیکھتےہیںکہاسکےہاںکاراورریفریجریٹرآگئہیں‪،‬‬ ‫میرے پاس کیوں نہیں۔ خواہ مجھے اس کے لیے رشوت یا بے ایمان کیوں نہ کرن‬ ‫پڑے۔چینمیشایدہیکوئیگھرکوتالالگاتاہو۔چوریہوناایکطرفوہاںکسیچیز‬ ‫کاگمہوکرگمرہنامحالہے۔مثالیںاسکیہمپہلےدےچکےہیں۔‬ ‫‪164‬‬

‫چین می مال کی فراوان ہے اور قیمتیں یکساں ہیں۔ آپ کی چیز کو پیکنگ سے‬ ‫خنرہییدںمیلےےیاگاشن۔گدھکاائنییمںہیرلیقجسئےم‪،‬کہوےامائیالڈہسہےومیانبھاازمانرہکاباھسرٹویرہ‪،‬وکئہییہںیںقایومرتکسمییڈپکاورئتیمفننٹرلق‬ ‫اسٹورمیجائیےتوبھیڑمیرستہپانامشکلہوجاتاہے۔ہمارےوفدکےارکانکو‬ ‫یہاںسےدسدسپندرہپندرہپونڈزرمبادلہملاتھاجوسبکوتھوڑامحسوسہوتاتھا‬ ‫لیکنہمارےپیرصاحب‪،‬پیراّسحمالدّینراشدینےفرمایاکہمیاںکیوںپریشان‬ ‫ہوتےہو‪،‬میتواتنابھینہیںلےرہا۔تمکوکمیونسٹملکوںکاحالمعلومنہیں۔می‬ ‫پچھلےسالروسہوآیاہوں۔وہاںدکانوںمیاتنیچیزیںہیںکہاں؟معمولیمعمولی‬ ‫چیزوںکےلیےبڑےبڑےکیولگتےہیں۔آخرہمنےکہاکہآپلےلیجیےبچرہے‬ ‫گاتوواپسکردیجیےگا۔وہاںوہچیزوںکیفراوانکاعالمدیکھکرحیرانرہگئ۔نہ‬ ‫صرفاپنےبیسپونڈصرفکئےبلکہاسسے ُدگنےوہاںدوستوںسےادھارلیے۔‬ ‫پھربھیواپسیمیرستہبھرافسوسکرتےآئےکہہائےفلاںچیزنہیںلی‪،‬فلاںچیز‬ ‫رہگئی۔‬ ‫‪165‬‬

‫خانصاحبکیبھوککمزورہوگئیتھ‬ ‫جن بزرگ کا تذکرہ ہے وہ چین کا دورہ کرنے والے ادیبوں کے وفد می ہمارے‬ ‫ساتھتھ۔طبعیانکسارکےباعثاپنےنامکااعلانشایدپسندنہکریں‪،‬ذٰہلاہمانکو‬ ‫صرفخانصاحبکےنامسےیادکریںگے۔‬ ‫خاںصاحببزرگآدمیہیں‪،‬ساتھپینسٹھسےاوپرعمرہےلیکنبڑےکینڈےکے‬ ‫آدمیہیں۔(کاتبصاحب!کینڈےکےککوگبنانےکیکوششنہکیجئے)پیکنگ‬ ‫میپہلےہیروزہمجبناشتےکیمیزپربیٹھےاوربیرےنےآرڈرلیناشروعکیاتوسب‬ ‫سے پہلے ہماری باری تھ۔ ہم نے کہا ”ایک انڈا ہاف بوائلڈ۔“ ہمارے دوسرے‬ ‫رفیق نے کہا ”دو انڈے۔“ خان صاحب کے آگے شمع پہنچی تو بولے ”تین‬ ‫‪166‬‬

‫انڈے۔“ہمنےپہلےیہسمجھاکہیہناشتےکیمیزنہیں‪،‬نیلامگھرہےاوربولیبڑھرہی‬ ‫ہے۔اباسسےاگلاآدمیچارانڈےمانگےگا۔پھریہخیالکیاکہخانصاحبکو‬ ‫کچھغلطفہمیہوئیہےذٰہلاعرضکیاکہقبلہصرفاپنےلیےآرڈردیجئے‪،‬ساریمیز‬ ‫کےلیےنہیں۔اپناآرڈرہمدےچکے۔‬ ‫خانصاحبنےکہا”جیمیاپناہیآرڈردےرہاہوں۔۔۔اوردیکھنابیراآٹھتوس‪،‬‬ ‫چندٹکیاںمکھنکی‪،‬دلیہ‪،‬دہیاورکچھبھنےہوئےرُگدےاورسبزیمچھلیوغیرہبھی۔‬ ‫لیکنجلدی۔۔۔ہاںکافیبھی۔“‬ ‫”بہتبہترجناب!“‬ ‫”چاولہیں؟“‬ ‫”جیہاں‪،‬ہیں۔“‬ ‫”ایکپلیٹانکیبھی۔شاباشمیرےبھائیجھپاکسے۔“‬ ‫بعضلوگناشتہڈٹکرکرلیںتوپھردنبھرکچھنہیںکھاتے۔ہمنےخانصاحب‬ ‫کوانہیمیسےشمارکیا۔لیکنلنچپرجبآدھےلوگوںنےچینیکھانےکاآرڈردیا۔‬ ‫‪167‬‬

‫اورآدھوںنےیورپینکھانےکا۔توبیرافخرسےبولاکہجنابپاکستانکھاناچاہئےتو‬ ‫اسکابھیانتظامہے۔پراٹھےہیں‪،‬دالہے‪،‬سبزیہے‪،‬بھناگوشتہےوغیرہ۔‬ ‫خان صاحب نے کہا۔ ”میاں ہمارے لیے تینوں لے آؤ۔ ولائتی کھانا تو خیر ہمیں‬ ‫مرغوبہےلیکنابچینمیہیںتوتھوڑاچینیکھانابھیچکھکردیکھیںاورپاکستان‬ ‫کھانےبھیدیکھیں‪،‬تمکیابناتےہو۔اسموقعپرانہوںنےحاضرینسےخطابکر‬ ‫کے ماؤزے تنگ کا مشہور مقولہ بھی دہرایا کہ ”رنگ رنگ پھولوں کو اپنی اپنی بہار‬ ‫دکھانےدو۔“ابچیئرمینماؤکانامبیچمیآئےاورکوئیدممارسک‪،‬ناممکن۔‬ ‫ہّصقمختصریہکہخانصاحبنےپہلےروزسےجسصلح ُُکپالیسیکاآغازکیااسے‬ ‫آخر ت نبھایا۔ کسی پلیٹ سے اور کسی قسم کے کھانے سے کوئی تعصب نہ برتا اور‬ ‫کوئیپلیٹدوررکھیجائےتوفور ًاکسیرفیقسےفرماتےتھوہکیاچیزہےاسےبھیتو‬ ‫ذرادیکھیں‪،‬ابہمجیسےنیازمندبھیتعاونکرنےلگے۔جہاںانکیپلیٹکوخالی‬ ‫ہوتےدیکھاایکبڑےچمچےسےایکنئیقسطڈالدی۔انصافسےکہناپڑتاہےکہ‬ ‫انہوںنےکبھیکسیکاہاتھنہروکا۔کبھیکسیکیدلشکنینہکی۔مچھلیہویاسبزی‪،‬بیف‬ ‫ہویادبنےکیچکی‪،‬خانصاحبنےسبکوایکہیآنکھسےدیکھا۔(دوسریوہبند‬ ‫کرلیتےتھ)‬ ‫‪168‬‬

‫چینکیچائےتوخیرخاصقسمکیہوتیہے۔چندپتیاںاورپان۔نہدودھ‪،‬نہمیٹھا۔‬ ‫لیکنہمارےلیےخاصطورپراسجوشاندےکاانتظامکیاجاتاتھاجسےہماپنےہاں‬ ‫چائےکہتےہیں۔وہاںاسکانامخونچاہے۔خانصاحببھییہیپیتےتھلیکناسکا‬ ‫نسخہبھیانکااپناتھا۔وہاسمیایکٹکیامکھنکیضرورڈالتےتھاوراسکےبعد‬ ‫دودھ۔لیکنایکروزبیرےکودودھلانےمیکچھدیرہوگئیتوہمارےمخدومپیر‬ ‫حسامالدّینراشدینےجوانکاخاصخیالرکھتےتھ‪،‬فرمایاکہحضرتدودھنہیں‬ ‫تونہسہیایکمکھنکیٹکیااسکےےّصحکیاورڈاللیجئے۔آخراصلتودونوںچیزوں‬ ‫کیایکہیہے۔خانصاحبکویہباتپسندآگئی‪،‬تھوڑیدیرمیدودھآگیاتواندو‬ ‫ٹکیوںکےعلاوہانہوںنےکوئیآدھپاؤدودھبھیڈالدیا(یادرہےکہوہاںچائے‬ ‫اسکلاسمیدیجاتیہےجسمیہمارےہاںموچیدروازےکےپہلوانل ّسی‬ ‫پستےہیں)اسکےبعددوٹکیاںانکامعمولہوئیں۔آپنےکبھیآئسکریمکو‬ ‫دیکھاہےجورکھےرکھےپگھلگئیہو۔بسیہیرنگہوتاتھاخانصاحبکیچائے‬ ‫کا۔‬ ‫چینمیہماریقسمتمیحیرانہیحیرانلکھیتھ۔باہرجاتےتوچینوالوںکے‬ ‫کارخانے‪،‬میوزیم‪،‬کمیونوغیرہدیکھکرحیرانہوتےتھاورہوٹلمیہوتےتھ‬ ‫‪169‬‬

‫توخانصاحبکودیکھکروجدکرتےتھ۔ہمکبھیفیصلہنہکرپائےکہاندونوں‬ ‫میزیادہحیرانکرنےوالیکونسیباتہے۔‬ ‫؏ادھرجاتاہےیادیکھیںادھرپروانہآتاہے۔‬ ‫لیکن خان صاحب کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پیکنگ سے چل کر ہم وسط چین‬ ‫کےشہرووہانپہنچےتوایکشامخانصاحبکوقدرےپریشانپایا۔ہمنےکہا”خان‬ ‫صاحب!کیاباتہے؟“‬ ‫بولے۔”باتتوکچھخاصنہیںلیکنیہاںکےبیرےمیریزباننہیںسمجھتے۔“‬ ‫ہمنےکہا”آخرانکواپنیزبانسمجھانےاورانکیزبانسمجھنےکیضرورتہیکیا‬ ‫ہے۔وہبہتسالاکررکھدیتےہیں۔ہمبہتساکھالیتےہیں۔ابرہیزبانداناس‬ ‫کاانتظامپیکنگیونیورسٹمیہےجہاںہماریزبانسکھائیجاتیہےلیکنیہخالص‬ ‫علمیمسئلہہےاسمیہمیںآپکوتر ّددکیکیاضرورت؟“‬ ‫بولے”آپنہیںسمجھتے۔باتیہہےکہپیکنگمیبیروںکومعلومتھاکہصبحچار‬ ‫بجےاٹھکرمیچائےکےساتھدوانڈےاورتینچارتوسکھاتاہوںوہاسلیےکہ‬ ‫‪170‬‬

‫پھرناشتہمیدیرسےیعنیآٹھساڑھےآٹھبجےکرتاہوںلیکنیہاںکےبیروںکو‬ ‫معمولکیسےسمجھاؤں۔ترجمانبھیکوئیاسوقتموجودنہیں۔“‬ ‫ہمنےکہا۔”وہجوآپنےپونسیردودھکاگلاساپنےکمرےمیبھجوایاہےاور‬ ‫سیبوںکیقاببھیمیدیکھآیاہوں‪،‬انکاکیاہوگا؟“‬ ‫فرمایا۔”وہتومیراسوتےوقتکاناشتہہے۔میتوصبحکیباتکررہاہوں۔“‬ ‫ہمنےکہا۔”یہسحریآپہمیشہسےکھاتےآئےہیں۔“‬ ‫بولے۔ ”گھر می تو نہیں لیکن پیکنگ می اس کی پابندی کرتا رہا ہوں۔“ خان‬ ‫صاحب سیب بہت رغبت سے کھاتے تھ اور انگریزی کے اس مقولے کا ورد‬ ‫کرتےجاتےتھکہروزانہایکسیبکھاؤ‪،‬ڈاکٹرکوبھگاؤ۔ہمنےکہا”خانصاحب‬ ‫چینمیتوخیربہتڈاکٹرہیںاوریوںبھییہاںہمارینوبتچندروزہہےلیکناپنے‬ ‫ملکمیآپنےاسترکیبسےڈاکٹروںکودفعدفانکرناشروعکیاتومسئلہپیدا‬ ‫ہوجائےگا۔“‬ ‫ہمارےخانصاحبکےاتناکھانےکااثریہتھاکہوہہفتےمیبمشکلدوروزصاِبح‬ ‫‪171‬‬

‫فراشہوتےتھ۔ہمارےمیزبانہمپرایسےمہربانتھکہڈاکٹرکابندوبستفور ًا‬ ‫کرتےتھ۔ایکروزجبڈاکٹرانکااحوالپوچھرہاتھاتوہمبھیقریبہیتھبس‬ ‫اتنیبھنککانمیپڑی۔۔‬ ‫”اوربھوک۔۔۔“‬ ‫”بس بھوک ہی تو کمزور ہو گئی ہے۔“ خان صاحب نے کنکھیوں سے ہماری طرف‬ ‫دیکھتےہوئےسرگوشیمیکہا۔‬ ‫‪172‬‬

‫ہماراصحیحمقامشنگھائیوالوںنےپہچانا‬ ‫شنگھائیمیہماراجوعدیمالمثالاستقبالہوااگروہواقعیہماراتھاتوہمیںچاہیےکہہر‬ ‫ماہ بس ایک بار شنگھائی ہو آیا کریں۔ وٹامن بی کمپلیکس اور ماء اللحم وغیرہ کے‬ ‫استعمال کی ضرورت نہیں‪ ،‬خون سیروں کے حساب سے خود بخود بڑھتا رہے گا۔‬ ‫وہاںہمریسےپہنچےتھ۔جھٹپٹےکاوقتتھا۔دیکھاکہریلوےاسٹیشنکے‬ ‫صدر دروازے کے باہر قطار در قطار ہزاروں آدمی ہاتھوں می ہار گلدستے اور‬ ‫غبارےلیےکھڑےہیں۔ہماریصورتدیکھتےہیسبنےنعرۂحیدریبلندکیا۔‬ ‫پہلےتوخلقتکےاساژدہامکودیکھکرہمحیرانوپریشانہوئے۔پھرہمّٹکرکے‬ ‫خودبھینہاؤنہاؤ۔۔یعنیبخیربخیرکاآوازہلگایا۔ہملوگکاروںمیبیٹھےتویہہجوم‬ ‫‪173‬‬

‫اور بے قابو ہو گیا۔ ہر شخص ہماری دس بوسی پر مصر تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے‬ ‫اپنے کالے کالے پنجے باہر نکال دیے کہ لو ان کو چوم لو‪ ،‬آنکھوں سے لگا لو۔ پھر‬ ‫جانےہماراچینآناہوکہنہہو۔نتیجہاسوالہانہخیرسگالیکایہہوکہٹریفکرکنےلگا۔‬ ‫ہمسمجھےکہہنگامہاسٹیشنکیحدودتہے‪،‬اسکےبعدمیدانصافملےگا۔لیکن‬ ‫اسٹیشنسےہوٹلتکئیمیلتیہیمنظرتھا۔لوگیونہیصفآراتھاوردلو‬ ‫جگرہماریراہمینچھاورکرنےکوبےتابتھ۔ہمارااندازہعموًامغلطہوتاہےتاہم‬ ‫قیاسہےکہکوئیدوتینلاکھآدمیہوںگے‪،‬اتنےنہیںتوپینتیسہزارسےکمتوکسی‬ ‫صورت نہ تھ۔ زیادہ تر ےّچب اور نوجوان لڑکے لڑکیاں‪ ،‬پولیس کے سنتری ان کو‬ ‫روکنےکیبرابرکوششکررہےتھکہہماریکاروںکےلیےرستہرہےلیکنبے‬ ‫کار۔آخرہمنےاپنےساتھیوںسےکہاکہبھائیو!بہتہوچکا۔اباپنےہاتھاندرکر‬ ‫لواوربسدورسےسلامکرو‪،‬ورنہکوئیحادثہہوجائےگا۔دوتینبارکسیزہرہجبیںکو‬ ‫کہچینمیبھیہوتیہیںمصافحہکیسعادتبخشنےکےلیےہمنےہاتھنکالاتووہکسی‬ ‫اوربھلےمانسنےاُچکلیا۔‬ ‫ابسنئے!ہمارےسبھیدوستوںکیباچھیںتواسطرحکھلیہوئیتھیںکہوہکوشش‬ ‫بھیکرتےتوسمیٹنہسکتے۔لیکنہمارےدلکودگداتھکہیہسبکسیغلطفہمیکا‬ ‫‪174‬‬

‫شاخسانہہے۔خیرمقدمہماراسبھیشہروںمیہواتھااوراچھاہیہواتھا۔صدرجا ن نن‬ ‫کا سانہیں کہ جہاں جاتے ہیں لوگ انہیں کالی جھنڈیاں دکھاتے ہیں۔ لیکن ایسا‬ ‫جلوسکہیںنہنکلاتھا۔ہمنےاپنےدوستوںسےکہاکہرفیقو‪،‬خداجانےیہحضرات‬ ‫کیا سمجھ کر آپ کو یہ ّزعت بخش رہے ہیں۔ ہم نے اخبار می پڑھا تھا کہ آج شام‬ ‫البانیہکاایکوزیرشنگھائیپہنچنےوالاہے۔ہونہہویہاہتماماسیکےلیےہے۔جب‬ ‫حقیقتکھلےگیتویہلوگبھیشرمسارہوںگےاورہمیںبھیشرمسارکریںگے۔‬ ‫ہماریباتایکاورساتھکےتوجیکولگیباقینےاسےہمارےاحسا ِسکمتریپر‬ ‫محمولکیااورکہاتماسباتسےاندازہمتکروکہاندرو ِنملکہمارییوںآؤ‬ ‫بھگتنہیںہوتی‪،‬وہاںتولوگہمسےجلتےہیں۔ہماراصحیحمقاموہیہےجوچینیوں‬ ‫نےپہچاناہےچونکہچینیلوگنہاردوجانتےہیںنہبنگلہ۔ذٰہلاہمارےدوستوںکی‬ ‫استوجیہمیکچھوزنضرورتھالیکنہمسوچرہےتھکہاباصلمہما ِنعزیز‬ ‫نجانےکیاکیاتوقعاتلےکرجوشنگھائیکیسرزمینپرقدمرکھےگاتوکیاسوچےگا۔‬ ‫اسکےےّصحکےہارتوہمارےگلےمیحمائلہیںاورجوگلدستےاتنیمحنتسےاس‬ ‫کے لیے بنائے گئ تھ‪ ،‬یہ رہے۔ اس دوران می لوگ بھی اپنا فرض ادا کر کے‬ ‫گھروںکوجاچکےہوںگے۔ہمنےازراہِتحقیقترجمانوںسےپوچھاکہصاحبوتمبھی‬ ‫‪175‬‬

‫بیچ اس مسئلے کے کچھ بولو۔ انہوں نے منڈیا ہلا کر کہا ”جناب یہ خیر مقدم چاروں‬ ‫خانےآپکاہے؏گرقبولافتدزہےعزوشرف۔”خیرہمبھیانکیجگہہوتےتو‬ ‫ابجبکہچڑیاںکھیت ُچگہیگئیتھیںیہیکہتےاورمفتکاکریڈٹلیتےکیونکہ‬ ‫دروغمصلحتآمیزبہازراستیفتنہانگیز۔نوکریجائےگیتواسکیجواساستقبال‬ ‫کےہنگامےکاانچارجتھا۔ہمنےپیچھےمڑکردیکھاکہجہاںسےہماراجلوسگزرلیتا‬ ‫ہے بھیڑ چھٹنی شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔‬ ‫اپنےہوٹلپہنچکرہمنےاسکھڑکیسےجھانکاجوبڑیسٹرکپرکھلتیتھتودوتین‬ ‫کاریں بصورتجلوس ایکدوسرےکےپیچھےآتی نظرآئیں۔ انمیسے کچھ‬ ‫لوگشرمندہاورپریشان‪،‬گردنیںنکالنکالکرسڑککےدورویہجانےکیادیکھ‬ ‫رہےتھ‪،‬غاًابلاستقبالکرنےوالوںکوتلاشکررہےتھ۔ہمارےخیالمیہوا‬ ‫یوںکہّزعمزمہمان(اصلی)کیگاڑیہمارےبعدآئی۔تبتمطلعصافہوگیا‬ ‫تھا۔خیرمقدمکرنےوالےاپنےفرضسےاداہوئے۔الاعمالبالنیات۔‬ ‫یہتوخیرہماریبےلاگرائےہےلیکناگرہمارےساتھیوںکیرائےدرسہے‬ ‫اور وہ تحسینِ ناشناس واقعی ہمارے لیے تھ تو چینیوں کے حس ِن اخلاق معارف‬ ‫پروریاورکجمنوازیکیداددینیپڑےگی۔ہماببھیاپنےکسیساتھسےاس‬ ‫‪176‬‬

‫شبہےکااظہارکرتےہیںکہیہسبغلطفہمیکاکارخانہتھاتووہسمجھاتےہیںکہیہبات‬ ‫نہیں۔انسانکیقدرہمیشہوطنسےباہرجاکرہوتیہےجہاںاسکیاصلیتجاننے‬ ‫والاکوئینہیںہوتا۔سفروشٹ ِل اطہظفرکےمقولےکایہیمطلبتوہے۔‬ ‫ہماراہوٹل۔ہوٹلساسون‪،‬عینرودبارکےسامنےاسبندگارڈنکےپہلومیواقع‬ ‫تھاجسپرانگریزوںکےزمانےمییہتختیلگیرہتیتھ۔۔۔وّتکںاورچینیوںکا‬ ‫داخلہممنوعہے۔۔۔دریاکے ُرخجتنیبھیعالیشانعمارتیںتھیںانگریزوںاور‬ ‫دوسرے غیر ملکیوں کی تجارتی کوٹھیاں اور بینک وغیرہ تھ۔ بعضوں کے سامنے‬ ‫پیتلکےبڑےبڑےشیر۔۔۔مرحومشیربرطانیہکینشن‪،‬ابتایستادہتھ‬ ‫‪177‬‬

‫(اب انُس ہے رُسخ محافظوں نے ان کی ُدم می بھی نمدہ باندھ دیا ہے۔‬ ‫شیرِبرطانیہکی ُدممینمدہ‬ ‫یعنیانکیزیارتکرنےوالےہمآخریلوگتھ)ہوٹلساوُسن‪،‬ایکیہودی‬ ‫ساسوننامینےاسصدیکےاوائلمیبنایاتھا۔اورشنگھائیکاچوٹیکاہوٹلتھا۔‬ ‫اس کی طوی و عریض خواب گاہوں می اب ت انگریزوں کی روحیں منڈلاتی‬ ‫ہآئوینوںگںیا۔وردرموٹنا ّقز یوس مں‪،‬یزغوسںلپخرالنندےنیکاماےنسچاسٹزروکسیامکاسینن‪،‬ہبھکاسریکیمپصنویفکواناںم‪،‬پشایہاتنلہکپلینگپولیںٹم ُحپّرلا‬ ‫نقشہے۔برناڈشاجب‪1934‬ءمیشنگھائیآیاتواسیہوٹلمیفروکشہواتھا۔اور‬ ‫اسیکےعالیشاندروازےپرچینکےادی ِباعظملوہسونکواندرجانےسے‬ ‫روکدیاگیاتھاکیونکہوہچینیپاجامہکرتاپہنےتھا‪،‬جیسےکراچیکےاونچےہوٹلوںاور‬ ‫‪178‬‬

‫کلبوںمیاببھیبغیرٹائیاورمغربیلباسکےجانےوالوںکوروکتےہیں۔برناڈشا‬ ‫کواسسےملنےکےلیےہوٹلکےباہرآناپڑا۔‬ ‫ابایکعجیباورآسیبیاتفاقکیباتسنئےیاپھریہزمانومکانکےاسرارہیںکہ‬ ‫جبہمنے‪1949‬ءمیاپنینظمشنگھائیلکھیتواسکےدوسرےبندمیفرودگاہکی‬ ‫منظرکشییوںکیتھ۔‬ ‫پائیںباغکےگرجاکےگھڑیاںمیگیارہبجبھیچکےہیں‬ ‫بازاروںکاشوروشعببھیلمحہبہلمحہتھمتاجائے‬ ‫دریاکیپہنائیمیایکاسٹیمرکیسیٹیگونجے‬ ‫کسکوخبرہےکسمنزلکوجائےہےاورکسکوبلائے‬ ‫چاندنےبھیپوربکےجھروکےمیاپنامُکھدکھلایاہے‬ ‫چاندسےباتیںکونکرےجبدردہیدلمیامڈآئے‬ ‫اوپرڈائننگہالمیکھاناکھاتےاورباتیںکرتےہمیںخاصیدیرہوگئیتھ۔نیچے‬ ‫‪179‬‬

‫پانچویںمنزلپراُترکرہمنےاپنیخوابگاہکےدریچےسےباہرجھانکاتوتمتماتاہوا‬ ‫پوراچاندنیلےآسمانمیقّلعمتھا۔یکایکسامنےدریاسےایکسٹیمرکیسیٹیگونجی‬ ‫اورپھرہوٹلکےگھڑیالنےٹنٹنوقتکےگزرنےکیمنادیدی۔انِگتوپورے‬ ‫گیارہبجرہےتھ۔‬ ‫شنگھائیمیدیکھنےکوبہتکچھتھا۔چندقدمپردریاکاوہلُپتھاجہاںشنگھائیکےلیے‬ ‫‪180‬‬

‫چیانگکائی ی ِشاورماؤزےتنگکےسپاہیوںمیخوفناکاورفیصلہ ُ نکجنگلڑی‬ ‫گئی۔ سینکڑوں آدمی اس چھوٹے سے قطعہ زمین پر کھیت رہے اور دریا کا پان خونا‬ ‫خونہوگیا۔کومنتانگوالوںنےاِردگردکیتمامعمارتوںمی‪،‬ہمارےہوٹلکی‬ ‫کھڑکیوںمیبھی‪،‬مورچےبنارکھےتھیعنیخودوارکرسکتےتھلیکنانقلابیوںکی‬ ‫زدسےمحفوظتھ۔ادھرتاریخکافیصلہسبپرروشنتھا۔شنگھائیکوانقلابوںکی‬ ‫آغوشمیآناہیتھا۔اسلیےانکیکوششتھکہکسیعمارتکوگزندنہپہنچے۔ہر‬ ‫چیزصحیحسالمرہےاوروہیوںہواکہبستیکےلوگوںنےچن ّھےبناکرچیانگکائی ی ِش‬ ‫کے سپاہیوں کو ان کمین گاہوں سے کھدیڑ باہر کیا۔ ساسون ہوٹل کے بیروں‪،‬‬ ‫خانساموںنےیلّموں‪،‬بانسوں‪،‬چھریوں‪،‬کانٹوں‪،‬میزوںکرسیوںاوراسٹولوںکے‬ ‫اسلحہاستعمالکیےاورساریبستی۔‬ ‫”یہفتحمبین‪،‬فتحمبین‪،‬فتحمبینہے“کےترانوںسےگونجاٹھی۔‬ ‫‪181‬‬

‫شنگھائیمیلوہسونکامکان‬ ‫‪182‬‬

‫چینکاگورکی۔۔لوہسون‬ ‫شنگھائیمیہماریسیرکاآغازبھاریاورہلکیصنعتوںکینمائشگاہسےہواجوہمنے‬ ‫صبحکودیکھیںاورشامہماریلوہسونکےمیوزیممیگزری۔نمائشگاہکےراستے‬ ‫میایکبہتبڑاچوکآتاہے۔جبچھستمبرکوبھارتیفوجیںلاہورپریکایکحملہ‬ ‫آورہوئیںتواسچوکمیکوئیدسلاکھآدمیوںکیریلیہوئیتھجسمیاعلان‬ ‫کیاگیاہےکہاسجارحیتکےخلافہمپاکستانکےدوشبدوشلڑنےکوتیارہیں۔‬ ‫ملکی اور تجارتی صنعتوں کی نمائش گاہ بھی دیکھنے کی چیز ہے۔ اس کے ہال کو جو شخص‬ ‫‪183‬‬

‫ایک باردیکھ لےوہاسکی رفعت اوروسعت کو نہیں بھول سکتا۔ بڑے بڑے‬ ‫کصسہنتکعوشتناویمںشںکییکنیصےںوبرررکآھمتیدہاہیلںےکا۔اچسفہرسےہوگچذھسمرحککمہاارتاہانمندظرمرجیاآائتنای نں ِہتطونڑےکس۔واائمیننسےہتاکھایے۔کہکائیمخںہااینیبےنکریہُمیخقںدوجبسنیمممییی‬ ‫سبنےدلچسپیلیجوکسیچیزکودولاکھگنابڑاکرکےدکھاسکتیہے۔جاننےوالےکہتے‬ ‫ہیںکہایسالنزتیارکرنامعمولیباتنہیں۔‬ ‫لوہسون کہ چین کا گورکی کہلاتا ہے‪ ،‬پیدا تو غاًابل ہاینگچو می ہوا تھا لیکن رہا زیادہ تر‬ ‫شنگھائیمی۔یہیںاسکامکانتھا۔اوائلجوانمییہبھاگکہجاپانچلاگیاتھا۔‬ ‫واپسآکرصحافتاوردرسوتدریسمیمشغولہوگیااورنوجوانوںکیذہنیتربیت‬ ‫کیطرفتوجہکی۔یہآزادیاورآزادئرائےکامتوالاتھاذٰہلاکومنتانگکےجبرو‬ ‫تشدد کا شکار رہا۔ اس کی کہانیاں اردو می بھی ترجمہ ہوئی ہیں جن می سب سے‬ ‫مشہورآہکیوکیکہانہے۔تمنائینےزندہچینکےنامسےنئےچینکیکہانیوںکا‬ ‫مجموعہشائعکیاتھااسمیتینکہانیاںلوہسونکیہیں۔اتفاقسےیہمجموعہہمارے‬ ‫پاستھا۔جبہمنےلوہسونکےمیوزیممیدیکھاکہدنیابھرکیزبانوںمیچھپے‬ ‫ہوئےلوہسونکےتراجمکےمجموعےوہاںرکھےہیںتواردوکیماندگیکےلیےیہبھی‬ ‫‪184‬‬

‫اسمیوزیمکونذرکیا۔لوہسونمیوزیمکےمختلفشعبوںمیلوہسونکیزندگیکے‬ ‫مختلف ادوار دکھائے گئ ہیں۔ اس کی تحریریں بھی ہیں تصویریں بھی۔ اس کے‬ ‫جوتے‪ ،‬کپڑے‪ ،‬چھڑی‪ ،‬ٹوپی وغیرہ سبھی موجود‬ ‫ہیں۔چیزوںسےزیادہانکےرکھنےکاسلیقہدیکھنے‬ ‫کا تھا۔ ہم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر ہمارا‬ ‫اسیطرحکامیوزیمبنادیاجائےتوہممرنےکوتیار‬ ‫ہیں۔ ایک دل جلے بولے تم نے کیا ہی کیا ہے؟‬ ‫اورمیوزیمبناناہےتواقبالکاکیوںنہبنایاجائے۔تم‬ ‫بڑےہویااقبال؟‬ ‫ہماری ذاتی رائے اس بابمی کچھبھی ہو‪،‬اس‬ ‫وقتہمخو ِففسا ِدخلقسےخاموشہیہے۔‬ ‫لوہسونکاایکمشہورشعربمعنی‬ ‫’خاکساروںسےخاکساریہے‬ ‫سربلندوںسےانکسارینہیں‘‬ ‫‪185‬‬

‫کرناتجویزٹوسٹکا‬ ‫اردومیکہتےہیںجا ِمصحتنوشکرنا‪،‬انگریزیمیکہتےہیںٹوسٹتجویزکرنا۔جا ِم‬ ‫صحتکیمثالہمنےیہدیکھیکہہمارےایکدوسبہتدناسپتالمیرہکر‬ ‫آئےتوہمانسےملنےگئ۔دیکھاکہایکطرفسامنےدھریہےصراحیبھری‬ ‫ہوئی۔ ایک پیگ ہمارے سامنے خالی کیا‪ ،‬دوسرا بھرا۔ ہم نے کہا عزیزِ من یہ کیا‬ ‫حرکاتہیں۔بولے”بیماریسےاُٹھکےآیاہوں‪،‬جا ِمصحتنوشکررہاہوں۔“‬ ‫دوسرے روز معلوم ہوا کہ دوبارہ پابدس دگرے دس بدس دگرے اسپتال‬ ‫میپہنچادیےگئ۔انکیبیماریکاباعثہیجا ِمصحتحدسےزیادہنوشکرناتھا۔‬ ‫حقمغفرتکرےعجبآزادمردہیں۔(زندہہیں)‬ ‫‪186‬‬

‫ٹوسٹتجویزکرنامغربیرسمہے۔جبپہلیبارہمارےسامنےایکدعوتمیکسی‬ ‫نےکھڑے ہوکر کہاکہ میٹوسٹتجویزکر رہا ہوںتو ہم نےمیزپر نظر دوڑائیاور‬ ‫سبکچھتھاایکٹوسٹہینہیںتھ۔ہمنےفور ًابیرےکواشارہکیالیکنایک‬ ‫تجربہکارشخصنےہمیںروکلیاکہہوشکیدواکرو۔خیرچینجانےتتمخود‬ ‫تجربہکارہوچکےتھ۔وہاںکیدعوتیںایسیفّلکمہوتیتھیںکہکئیبارہمنےاپنے‬ ‫چٹکی لی اور ساتھیوں سے پوچھا کہ ہم نواب واجد علی شاہ تو نہیں ہیں؟ قدحوں پر‬ ‫قدحےاورقابوںپرقابیںآ رہیہیں۔ہمنےاندازہکیاکہاگرکھانےوالاتمام‬ ‫کھانوںکےساتھعد ِلجہانگیریبرتےاورذراآہستکھائےتولنچکےڈانڈےڈنر‬ ‫سےاورڈنرکےناشتےسےبخوبیملسکتےہیں۔ہمتوخیرپیٹکےہلکےہیں۔زیادہکھانا‬ ‫توکیا‪،‬باتتہضمنہیںکرسکتے‪،‬لیکنہمارےایکرفیقنےچینیوںکاچیلنجقبول‬ ‫کیااورانکوچاروںشانےتِچکیا۔قابیںبھریآتیتھیںاورخالیچمکتیہوئیاٹھتی‬ ‫تھیں۔یہیصاحبتوتھکہدنمیپانچوںوقتکےکھانےکےعلاوہتہحّ ددکاناشتہ‬ ‫بھیکیاکرتےتھ‪،‬یعنیآدھیراتکواُٹھکرچندانڈےٹوسٹپھلوغیرہزہرمار‬ ‫کرتےتھ۔‬ ‫ٹوسٹمییوںہوتاہےکہایکشخصگلاساٹھاکرلمبیچوڑیتقریرکرتاہے۔اس‬ ‫‪187‬‬

‫موقعپرہمیںاقوا ِممتحدہکیایکدعوتیادآگئیجسمیامریکیمندوبنےروسی‬ ‫مندوبی کے سامنے ٹوسٹ تجویز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور روس بھائی بھائی‬ ‫ہیں۔انکیدوستیمخلصانہاورگہریہےلیکناگرروسکیطرفسےکوئیایسیویسی‬ ‫حرکت ہوئی تو ہم ہائیڈروجن بم کے استعمال می تا ّّم نہیں کریں گے۔ روسی‬ ‫نمائندےنےاپنےجوابیٹوسٹمیاسیطرحکےخیرسگالیکےجذباتکااظہارکیا‬ ‫اورکہاکہہمبھیامریکہکواپناایکگہرامخلصاوربےریادوسجانتےہیں۔لیکن‬ ‫اس کو اپنی طاقت کے بارے می کسی دھوکے می نہ رہنا چاہئے۔ اس نے ایٹم بم‬ ‫وغیرہاستعمالکرنےکی کوششکیتووہ میزائلوںسے اسکا بھرکس نکالدیں‬ ‫گے۔ خیر یہ مثال تو یونہی یاد آ گئی۔ کہنا یہ تھا کہ ٹوسٹ می باہمی خیر سگالی کے‬ ‫جذبات کے بعد لوگ اپنے جام ایک دوسرے کے ساتھ لگاتے ہیں اور پھر نوش‬ ‫کرتےہیں۔عامطورپرتوجرعہجرعہنوشکیاجاتاہےلیکنچینمیجبمیزبانیا‬ ‫ٹوسٹ تجویز کرنے والا انتہائے اخلاص می ’کنمٹے‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے تو اس کا‬ ‫مطلبہوتاہےکہتمامترحلقمیانڈیجاؤ۔جامٹکرانےمیخاصیاحتیاطدرکار‬ ‫ہوتیہے۔ہمنےایکبارمیزبانکاجامزورکیٹکرمارکرمیزپرگرادیاتھا۔اورایک‬ ‫بار خود اپنا گلاس توڑ لیا تھا۔ لوگ تو چھوٹے چھوٹے جام استعمال کرتے تھ لیکن‬ ‫‪188‬‬

‫ہمیںگلاسکےبغیرتسکیننہہوتیتھجسکیوجہبلانوشینہیںبےتوفیقیتھ۔ہم‬ ‫شرابکیبجائےسنگترےکارسپیتےتھاورچونکہہرکنمٹےکےبعدگلاسخالیکرنا‬ ‫ہوتاتھاذٰہلاجتناسنگترہہمنےچینمینو ِشجانکیاہےعمربھرنہکیاہوگا۔کراچی‬ ‫واپسآنےکےچنددنبعدہمیںاپناخونکاگروپمعلومکرنےکےلیےبلڈٹیسٹ‬ ‫کراناپڑاتوہمارےدوسڈاکٹراکرمنےلیبارٹریسےواپسآکرکہاکہفیالحالتو‬ ‫آپکےسنگترےکےرسکاگروپبتاسکتاہوں۔چنددنبعدجبآپکیرگوں‬ ‫میخونکیگنجائشپیداہوئیتودوبارہتشریفلائیےگا۔‬ ‫ہمارے ایک دوس ہم سے کچھ پہلے اپنی بیگمکے ہمراہ چین تشریفلے گئ‬ ‫تھ۔ ان کی آؤ بھگت ہم سے کچھ زیادہ ہی ہوئی۔ ذٰہلا ٹوسٹ تجویز کرتے کرتے‬ ‫ہلکانہوگئ۔رسمکےتقاضےسےکبھیانکیبیگمکوبھییہفرضاداکرناہوتاتھا۔‬ ‫انکیبیگمانرسوماتکوجانتیتوہیںلیکنانکیقائلنہیں۔انکےساتھایک‬ ‫نستعلیق اردو مترجم بھی ہوتا تھا۔ لیکن جب کبھی وہ غیر حاضر ہوتا تب ان کے‬ ‫ٹوسٹآ ِبزرسےلکھنےکےقابلہوتےتھ۔میاںکہتےبیبیابتمٹوسٹتجویز‬ ‫کرو۔ہمانگریزیمیاسکاترجمہکیےجاتےہیں۔بیبیفرماتیں”اےنوج۔یہکیا‬ ‫کھڑاگہے۔مجھسےتقریریںنہیںہوتیں۔“میاںاسکاترجمہکرتےکہہماری‬ ‫‪189‬‬

‫بیبیفرماتیہیںکہچینکیترقینےانکوبہتمتاثرکیاہےاورآخرمیفتححقکیہو‬ ‫گی۔ کبھی کبھی بی بی جھلا کر کہتیں۔ ”میاں تمہی بولے جاؤ‪ ،‬مجھے تو پان کی طلب ہو‬ ‫رہیہے۔اےہےکیساملکہےجہاںپانبھینہیںکھایاجاتا۔انشءاللہماشااللہکا‬ ‫قوامتنہیںملتا۔انکےمیاںاسکاترجمہبھیفصیحانگریزیمیکرتےکہیہاں‬ ‫کیعورتوںکےعزموہمّٹنےہمیںبہتمتاثرکیاہے۔اےماؤں‪،‬بہنو‪،‬بیٹیو‪،‬دنیاکی‬ ‫ّزعتتمسے ہے۔“بیبی انگریزیبھیجاتی ہیں۔ اگرچہ بولتی نہیں۔ فرماتیں۔‬ ‫”اےمیاںیہتمکیاکاکیاکہےجارہےہو!“اسپروہکہتےبیبیچپرہومیتمہارے‬ ‫دلیجذباتکیترجمانکررہاہوں۔تمہاریظاہریگفتگوسےمجھےمطلبنہیں۔‬ ‫شنگھائیکےہوٹلمیایکروزہمارےدوسڈاکٹروحیدقریشیپرایکحادثہگزر‬ ‫گیا۔بیرےنےمینوپیشکیاتوڈاکٹرصاحبنےمچھلیکھانےکےموڈمیتھ۔جیلی‬ ‫فشپسندکی۔یہایکلجلجاساسمندریجانورہوتاہےذٰہلاجیلیمعلومہوتاہے۔ڈاکٹر‬ ‫صاحبنےایکدولقمےکھائےتھکہہمارےمخدومپیرحسامالدّینراشدینے‬ ‫ذکر چھیڑ دیا کہ ہمارے ہاں خوامخواہ سانپ کے خلاف بّصعت پایا جاتا ہے حالانکہ‬ ‫اسکےکھانےوالوںکوجوڑوںکادردکبھینہیںہوتااورموٹاپاکمکرنےکےلیے‬ ‫بھیمفیدہے۔ہاںذائقےکامعلومنہیںکیاہوتاہے۔پھرڈاکٹرصاحبسےمخاطب‬ ‫‪190‬‬

‫ہوکرکہا‪”،‬کیوںڈاکٹرصاحبآپتوکھارہےہیں۔کیساذائقہہےاسکا؟“ڈاکٹر‬ ‫صاحبیکلخت ُرکگئاورکہا۔”یہسانپہےکیا؟جینہیںیہتومچھلیہے۔“ہم‬ ‫سےگواہیلیگئیتوہمنےوضاحتکیکہہرچندیہمچھلینہیں‪،‬سمندریسانپہیہے‬ ‫لیکناسکےکھانےمیمضائقہنہیں۔چینیاسےبہتاشتیاقسےکھاتےہیںاس‬ ‫کلھیاےنمےتعکدیدشبیمکالریدویکھںکسرخےومدحفہویگظھربرہاتئےہےیکںہ۔یاہلحلحباینہسویچںیزنہےےغموشرتبسہے۔پپیلریصٹاکوحدیبکھناتےو‬ ‫کہا”ڈاکٹرصاحب!آپتوتعلیمیافتہآدمیہیں۔کیوںایسےوہموںمیپڑتےہیںاور‬ ‫یوں بھی خدانخواستہ یہ ایسا جانور تو نہیں کہ ممنوع ہو یا مضر ہو۔ ہانگ کانگ می تو‬ ‫چینیلوگآپکےسامنےزندہسانپکاٹکراسکےٹکڑےکردیتےہیں۔ڈاکٹر‬ ‫صاحبنےدوسروںکیطرفدیکھا۔بعضوںنےکہایہپیرصاحبآپکوبنارہے‬ ‫ماہیلںش۔مکچرھنالیشہریوہعےکر۔ادنیادیہشہےانہکنیجکئیےغ‪،‬کلھطافئہمییےد۔ورہکمرننےےبکھویکہیاہکدیہکیھہکن ِرپڑاامذناکیقطہبیےع۔تمچنھلیے‬ ‫ہےشوقسےکھائیے۔لیکنڈاکٹرصاحبکیطبیعتانکےقابوسےگزرچکیتھ۔‬ ‫سیدھےباتھرومگئاوراپنےسینےکابارہلکاکیا۔اسکےبعددوروزتوہصاِبح‬ ‫فراشرہےاورکچھنہکھاسک۔‬ ‫‪191‬‬

‫چلوتوسارےزمانےکوساتھلےکےچلو‬ ‫شنگھائیکےپاسجوکمیونہمنےدیکھاوہ ِ ن نکاورہاینگچوکےکمیونوںسےزیادہتریّق‬ ‫یافتہتھا۔اسمیپانچہزارخاندانہیں۔‪۲7‬ہزارآبادی‪،‬گیارہہزارانمیسے‬ ‫زراعتکاکامکرتےہیں۔کمیونکےحلقےمیپندرہپرائمریسکولہیںجنمی‬ ‫پانچہزارلڑکےپڑھتےہیں۔ایکمڈلسکولہےگیارہسولڑکوںکا۔‪1۲۲‬طلباءاس‬ ‫آبادیمیسےیونیورسٹپڑھنےجاتےہیں۔زرعیرقبہگیارہسوایکڑہے۔ہمیںبتایا‬ ‫گیاکہ‪19۵0‬ءمیفیایکڑپیداوارساڑھےبائیسٹنتھ۔‪19۵7‬ءمیاکاونٹنہو‬ ‫‪192‬‬

‫گئیاور‪196۵‬ءمی‪103‬ٹنفیایکڑکوپہنچگئی۔ایکسون ّوےقسمکیسبزیاںیہاں‬ ‫پیداہوتیہیںجوشنگھائیشہرکواّیہمکیجاتیہیںاوراسکےلیےکمیونکیملکیتمی‬ ‫ایکٹرکہے۔‪3‬سائیکلرکشہاور‪۵‬سوریڑھیاں۔یہکمیون‪19۵8‬ءمیقائمہوا۔‬ ‫آمدن فی کس ‪19۵7‬ء می ‪ ۲40‬یوان سالانہ تھ۔ (ایک یوان یعنی دو روپے)‬ ‫‪196۵‬ءمی‪38۲‬یوانفیکس۔یادرہےکہیہفیکسآمدنہےفیخانداننہیں۔‬ ‫اشیائے ضرورتجیسی سستی چینمی ہیں اورکہیں نہیں۔ اسکمیونمی ایک‬ ‫کارخانہچارہکترنےکیمشینوںکاہےاورایککھادبنانےکا۔یہمصنوعاتدوسرے‬ ‫کمیونوں کو بھی سپلائی ہوتی ہیں اور کمیون کی مشترکہ خوشحالی کی ضامن ہیں۔‬ ‫حکومتکااسکاممیکیاہّصحہے؟پانچفیصدٹیکساوربس۔‬ ‫یہاںہمکمیونکےگھروںمیگئ۔چارچارگھرکاایکدومنزلہبلاکہےاوراس‬ ‫کےساتھباغیچہ‪،‬پلنگچھپرکھٹ۔میزیںکرسیاںسباچھیقسمکی۔ہمنےپوچھا‬ ‫چھوٹےےّچبکہاںہیں۔معلومہوانرسریمی۔ہمنےکہاکہنرسریدیکھیںگے۔‬ ‫نرسریپہنچےتوننھےننھےبچےبےتابیسےہماریطرفلپکے۔ترانہگایااورسبسے‬ ‫ہاتھملائے۔دوتیناستانیاںانکیخبرگیریکےلیےتھیںاورچھوٹیچھوٹیکرسیاں‬ ‫بنچیں جن پر تین سال‪ ،‬چار سال‪،‬پانچ سال کا بچہ بیٹھ سک۔ یہاں ان کو ان کی‬ ‫‪193‬‬

‫استعداد کے مطابق کچھ حروف اور ہندسے بھی سکھائے جاتے ہیں لیکن اصل‬ ‫تربیتعاداتکیہوتیہے۔صحتوصفائیکیوُخڈالیجاتیہے۔یہاںنہڈنڈاہےنہ‬ ‫چھڑیجواستادکیضرورتہینہیں۔بچےدنبھرکھیلتےہیں‪،‬خوشرہتےہیں‪،‬کھاتے‬ ‫پیتےہیں‪،‬گاتےناچتےہیںاورسہپہرکووالدینکےکامسےآنےسےپہلےگھروں‬ ‫میپہنچجاتےہیں۔بہتسےگھروںمیبیبیوںکوہمنےگھرپرہیدیکھا۔غاًابلہر‬ ‫روزانکاکامپرجاناضرورینہیں۔معاوضہکامکےیونٹوںکےحسابسےملتاہے۔‬ ‫نرسریمیہملوگوںکوبھیانہیبچوںکےبرابرانہیننھیمنیکرسیوںپرجگہملی۔‬ ‫کویجسیمال ّدیننےایکبنگلہگیتانکوسنایا۔کچھگیتبچوںنےگائےاوراس‬ ‫کےبعدناچہوا۔اورتوسبھیلوگثقہتھ‪،‬ہاںہماوراعجازبٹالویاسناچمیبچوں‬ ‫کےساتھشریکہوئے۔‬ ‫‪194‬‬

‫چینجانےوالےپہلےمسلمانہمنہیںتھ‬ ‫پچھلےسالکاذکرہےہمارےایکعزیزدوسہمارےپاستشریفلائے۔مزاج‬ ‫پرسیکےبعدکہنےلگےکہمجھےوضوکرناسکھادواورنمازکیسورتیںآتیہوںتووہبھی‬ ‫یادکرادو۔وضوکرناتوایککتابمیدیکھکرہمنےانہیںسکھادیالیکنسورتوںکے‬ ‫متعلقمعذرتکردیکہہمیںبسچارسورتیںنمازکییادہیں۔وہآپکوسکھادیں‬ ‫توہمارےپاسکیارہےگالیکنیہآخریوقتمیمسلمانہونےکاخیالکیوںآیا؟‬ ‫فرمانےلگے۔میچینجارہاہوں۔یہاںتواگرنمازنہپڑھوںتوکوئیمضائقہنہیں‬ ‫کیونکہاسلامیملکہےلیکندوسرےدیسمیجاکرتوباقاعدہنمازپڑھنیہیچاہئے‬ ‫ورنہوہلوگجانےکیاخیالکریںاورپھروہلوگتوکمیونسٹہیں۔بالکلہیخداکو‬ ‫‪195‬‬

‫بھولگئہیں۔مجھےتماسلامسےایسابھیبیگانہنہسمجھو۔ریسکورسبھیجاتاہوں‬ ‫تومیرےہاتھمیتسبیحہوتیہےاورکسیگھوڑےپرداؤلگانےسےپہلےایکبزرگ‬ ‫سےفالضرورلیتاہوں۔پیناپلاناتوتمخودجانتےہوایکزمانےسےکمکررکھاہے۔‬ ‫اباسسےزیادہاسعمرمیتوہوتانہیں۔‬ ‫سنکیانگکےکچھعلم‬ ‫‪196‬‬

‫ہمنےدیکھاہےکہامریکییابرطانیہکوشایدلوگدارالاسلامسمجھتےہیں۔وہاںجاتے‬ ‫ہوئےکوئیاسقسمکاتر ّددنہیںکرتالیکنچینیاروسجاتےوقتاپنےکپڑوںکے‬ ‫ساتھساتھاپنےاسلامکوبھیڈرائیکلینکرکےلےجاتاہےاورکوششکرتاہےکہ‬ ‫ایکآدھنمازتوپیکنگیاماسکوکیجامعمسجدمیپڑھکراپنیتصویرکھنچوائے‪،‬پھران‬ ‫ملکوںمیکوئیمسلمانملجائےتوپہلاخیاللوگیہیکرتےہیںکہضرورکوئیجعلیا‬ ‫لہیےےت۔یاارنکیکایہحکےو۔مہمتسنےےاببھھییاِ نس نکےسککیھماسپجڑدھامکیہاکوہرواہالسلںا ُکمعےلیمکسملکمہانناوسکںھاککرےہممحالّےرمیے‬ ‫واقعہے۔دوصاحبوںسےملوایاگیاتوہمنےگمانکیاکہمولویصاحبکیداڑھیپر‬ ‫جوپانچچھبالہیںمحضہمارےاعزازمیاگائےگئہیں۔ناماندونوںصاحبوں‬ ‫نے ہمیں مسلمانوں کے سے بتائے۔ ایک ابراہیم صاحب تھ‪ ،‬اگرچہ اس کے‬ ‫ساتھ چوں چوں چن وغیرہ بھیلگتا تھا۔ دوسرے صاحب کا نام ہم بھول گئ۔‬ ‫ہمارےساتھیوںنےوہاںقرآنمجیدکےنسخےملاحظہکرنےکےبعدشککافائدہ‬ ‫ملزموںکردیاوہبھیتبجبکہایکصاحبنےمولویصاحبسےسورۃفاتحہ‬ ‫سنلی۔اسایکسورتکوسنکرانہوںنےمولویصاحبکوپاسہونےکےنمبر‬ ‫اسلیےدےد ِ طیکہخودانکوصرفیہیسورتآتیتھ۔‬ ‫‪197‬‬

‫اوروںکیباتتوجانےدیجئے‪،‬ہمتوسمجھدارآدمیہیں۔ہمنےانلوگوںکےآٹو‬ ‫گرافاپنینوٹبکمیلیےمحضیہدیکھنےکےلیےکہعربیرسمالخطسےواقف‬ ‫ہیںیانہیں۔بےچاؤںنےیہسمجھکرکہہمانکییادگاررکھنےکےلیےایساکررہے‬ ‫ہیں‪،‬چپچاپدستخطکردیے۔ایکنےانمیسےبتایاکہوہعربیبھیبوللیتے‬ ‫ہیں۔یہزبانچونکہہممیسےکوئینہجانتاتھااسلیےانکیلیاقتکاتعینکرنے‬ ‫کیہمنےضرورتمحسوسنہکیبلکہانکےبیانکوکافیسمجھا۔ہاںاسخیالسےکہ‬ ‫یہلوگہمیںعربیسےبالکلنابلدہینہسمجھلیں‪،‬ہرفقرےکےساتھساتھ(جوہم‬ ‫انگریزیمیبولتےتھ)الحمدللہ‪،‬الحمدللہکاالتزامہمضروررکھتےتھ۔ایکآدھ‬ ‫بارہمنےماشاءاللہاورجزاکاللہکہہکربھیاپنےعلمکیوسعتکاثبوتدیا۔‬ ‫ن ّن نتبرطرف‪،‬یہاںسےجانےوالےبہتسےمسلمانچینجاتےہوئےواقعییہ‬ ‫سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں جو چین کی دھرتی پر قدم رکھیں گے۔ وہاں جا کر‬ ‫انہیںبّجعت(اورشائدافسوسبھی)ہوتاہےکہانسےکوئیساڑھےتیرہسوبرس‬ ‫پہلےہیکچھلوگجاکرانسےفضیلتکایہشرفچھینچکےہیں۔چینکےتانگ‬ ‫خاندانکیتاریخقدیممیمرقومہےکہبادشاہکاؤسننےجسکاپایۂتختسیان‬ ‫تھا‪۲۵‬اگست‪6۵1‬ءکوجو‪31‬ہجریکےپہلےمہینےکادوسراروزتھا‪،‬خلیفۃالاسلامکے‬ ‫‪198‬‬

‫بھیجےہوئےایکوفدکوشر ِفبازیابیبخشا۔عرباّلمحاپنےبیڑےلےکرجنوبی‬ ‫چین کی بندرگاہوں می زمانہ قبل اسلام می بھی آتے جاتے تھ لیکن وہ سلسلہ‬ ‫محضتجارتیتھا۔تہذیبیتعلقاتکیبناظہو ِراسلامکےبعدپڑیاورجیساکہبیانکیا‬ ‫گیاپہلیصدیہجریکےاوائلہیمیامویاورعباسیخلفاکےعہدمیچینمیجو‬ ‫سفارتیںعربسےآئیںانکیتعداد بیسیوںت پہنچتیہے۔ابھیپچھلےدنوں‬ ‫سیانمیجوکھدائیہوئیتووہاںسےامویعہدکے ِِ ّسبھیبرآمدہوئے۔بعدکی‬ ‫داستانطویہے‪،‬جنکودلچسپیہووہانجمنتریّقاردوپاکستانکیشائعکردہکتاب‬ ‫”چینوعربکےتعلقات“میدیکھسکتےہیںجوایکچینیعالممولویبدرال ّدین‬ ‫چینینےلکھیتھ۔یہصاحبجامعازہرکےفاضلبھیتھاورجامعہہیّلمدہلیمی‬ ‫زی ِرتعلیمبھیرہے۔‬ ‫چین می مسلمانوں کی تعداد کروڑوں می ہے۔ عالم اسلام سے آنے والوں کا اثر‬ ‫صرفدینمبینکیتبلیتمحدودنہیںرہابلکہاسلامیدنیاسےوہسائنساورطب‪،‬‬ ‫ریاضیات اورہئیتکے علوم کےتحف بھی لائے۔ چینی کیلنڈرکی تدوینمی بھی‬ ‫ہجریتقویمسےمددلیگئی۔‬ ‫چینیسائنسدانجمالالدّینجوبارہویںصدیعیسویمیگذراہےایکبڑے‬ ‫‪199‬‬

‫ہیئت دان تھا۔ چودھویں صدی می ماشی اور دوسرے مترجموں نے عربی سے‬ ‫ترجمےکرکےچینکیسائنسکوایسےہیمالامالکیاجیسےعباسیعہدکےمترجموںنے‬ ‫اپنےہاںکےعلومکیزمینکوآسمانکیاتھا۔تیرہویںصدیکےسربرآوردہچینی‬ ‫مترجموںمیبھیکاؤکےکنگکےنامکےایکمسلمانتھاوراسیعہدکےایک‬ ‫عجاغلرماش فمٹےسٰایلت ّدحیکنہتاو نب ن ِہ طنڑتمنشہگوپرربہیسییںوجنںہتوصاںننیےففچلھسفوےڑ‪،‬تیاہرییںخ‪،‬۔اچدینبخ‪،‬اریاصضکی‪،‬ےفملکسیلاماتن‪،‬‬ ‫گورنروں اور جرنیلوں کے تذکرے کا یہاں موقع نہیں جنہوں نے ہر عہد می‬ ‫بڑےمعرکےمارےنہدینیعلومکیدرسگاہوںکاتفصیلیاحوالہملکھسکتےہیں۔‬ ‫چینکیایککتاب”مسلمانا ِنچینکیاصلیت“میجوسولہویںصدیکیتصنی‬ ‫خہواےلکبھامہیےدکیکہھاسکلراامیچکینعجمییب ا‪8‬ل یس‪۲‬ک‪6‬ءلجمانیوپہرناچا‪،‬سوہپیروحمںلکہہکباردرہشااہہچیےااونرگاکویآکنسفنیدے‬ ‫عمامے والا شی آ کر اسے بچاتا ہے۔صبح کو بادشاہنے وزیر سےاس کی تعبیر پوچھی تو‬ ‫ایکبڑےعالمنےبتایاکہسفیدعمامےوالاشیوہعربقومہےجوغربمیرہتی‬ ‫ہے۔انکیبڑیشوکتاورقوتہے۔معلومہوتاہےکوئیمخالفتعنصربغاوت‬ ‫کرنےوالاہےجسکامقابلہعربکیقوتکےبغیرنہیںہوسکتا۔‬ ‫‪200‬‬


Like this book? You can publish your book online for free in a few minutes!
Create your own flipbook