رُمدےکےساتھطرحطرحکینعمتیںبھیدفنکردیتےتھتاکہوہمرنےکے بعددوسریدنیامیعیشکرتارہے۔اننعمتوںکےجوںکےتوںبرآمدہونےسے خیالہوتاہےکہمردےانہیںاستعمالکرناپسندنہیںکرتےیانہیںکرسکتے۔ دو ِرغلامان(۲1ویںصدیقمتا4۵8قم)میزراعتترقیپزیرہوئی۔ریشم کےکیڑےپالےجانےلگےاورریشمکاکپڑابننےلگا۔دنمہینوںکےحسابکےلیے باقاعدہتقویمبنی۔پیتلکےبرتناوراوزاروجودمیآئے۔روغنمٹیکاکامبھی ہونےلگا۔ َرتھاورناؤکےلفظاسدورکےکتبوںمیملنےکامطلبیہہےکہیہ چیزیںبھیتھیں۔ لیکنیہدوربہرحالغلاموںکادورتھاجنکوزندگانکےکوئیحقوقنہحاصلہوتے تھ۔بعضاوقاتمرنےوالےامیرکےساتھاسکےغلاموںکوبھیقتلکرکے دفنادیاجاتاتھاتاکہدوسریدنیا میاسکیمٹھیچاپیکرسکیں۔کنفیوشساور لاؤزےاسدورکےآخریا ّ ِایممیپیداہوئےاوراسکےبعدجاگیرداریعہدکی ابتداہوتیہے۔ اتنےبڑےملککیتاریخکوکوزےمیبھیبندکرناہوتوبہتبڑاکوزہدرکارہوگا۔ 51
ہم اس قسم کا خلاصہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ جیسا ایک بزرگ نے حضرت یداعقوشتبگاموکررحدضبارزیاتفیوت“ستیفسعرلیہیماصلسدلایمقبکلےمقیصشےہکناشکایہاوتاھلااکقہدر” یپشدنِرہہہوےابوندگستپیرسےے آغازکیجئےجسنےشہنشاہا ّولکالقباختیارکیا۔اسنےحکمدیاکہطب،زراعت اورنجومکوچھوڑکربقیہسبھیعلومکیکتابیںنذ ِرآتشکردیجائیں۔خیرپروہتوںاور عالموںنےکچھصحیفےچھپالیےاوروہبچگئورنہآجکنفیوشسکانامبھیکوئینہ جانتالیکناسنےایکبڑاکامکیااوروہہےدیوا ِرچینکیتعمیر۔ ا(8س61کءےتباع9د0دو9خءا)ند۔اہاننمدشوہرورمہییکںلا۔ہسایکیناخادندابکنوح(یاِ 06تَ ۲ننقملمیتا۔ب0د۲ھ۲مقمت)آایاور۔تماجسنمہگ سازیاورکاغذسازیشروعہوئی۔چینیخودکوآجبھیہانہیکہتےہیں۔تانگدور اسسےبھیزیادہترقییافتہتھا۔اسیمیچھاپاخانہایجادہوا۔شاعری،مصوریاور چینیظروفکیاّقنشیعروجکوپہنچی۔یہچینکیتاریخکاسبسےشانداردورسمجھا جاتاہے۔اسوقتیورپمیِدہعتاریکتھا۔اسکےبعدسونگدور(1۲80ءتا 1960ء)آیا۔یہآرٹخصوًاصمصوریکےلیےمشہورہے۔ تیرہویںصدیمیجبیورپمیصلیبیجنگیںہورہیتھیں،منگولدیوا ِرچینکو 52
توڑکرسونگخاندانکو ّتڑ ّ ڑتکرکےشمالیچینپرچھاگئ۔چ نٹگی ِ نڑرخاںنے1۲14ء میپیکنگپرقبضہکرلیا۔اسکےجانشینقبلائیخاننے1۲3۵ءسے1۲94ءت راجکیااورجنوبیچینتاسکےتسلطمیآگئ۔مارکوپولواسیشہنشاہکےدربار می آیا تھا۔ 1368ء سے 1644ء ت پھر ایک چینی خاندان منگ آتا ہے اور سترہویں صدی می عنا ِن حکومت مانچو خاندان کے ہاتھ آئی۔ یہ آخری شاہی خاندانتھا۔1911ءمیاسکاخاتمہہوااورسنیاتسنکیقیادتمیجمہوریدور شروعہوا۔آخریمانچوبادشاہجومعزولیکےوقتصغرسنتھااببھیزندہہےاور نئےچینمیعامآدمیکیلیکنخوشباشزندگیبسرکررہاہے۔ تاری ِخچینکاعجائبگھرانتمامادوارکےآثارسےرُپہے۔1901ءمیجبآٹھ سامراجیملکوںکیفوجوںنےپیکنگپرحملہکرکےاسےتاختوتاراجکیاتوادب اورآرٹکےخزانےبھیلوٹلیےگئجوابمغربیملکوںکےعجائبگھروںکی زینتہیں۔اسکےباوجودباقیاتکیوسعتکااندازہاسسےکیجئےکہچینکے مختلف شہروںکے عجائب گھروںاورشاہی محلوںمی ایوانکے ایوان مصوری، اّقنشیاورظروفسازیکےشاہکاروںسےرُپہیں۔انذخیروںکودیکھکراحساس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم نے ایران مصوری اور راجپوت 53
مصوریکےنمونےدیکھےہیںلیکنوہکتنےہیںاورکیسےہیں۔؏ہےادبشرطمنہنہ کھلوائیں۔ چینیوں نے مصوری اور شاعری کے علاوہ صدیوں پہلے کی انجینئری کے بڑے بڑے کارنامے چھوڑے ہیں۔ دیکھا جائے تو عہد عباسی کے فضلا اور سائنسدانوں کے بعد جب معقولات کو زوال آیا تو ایران می صفوی دور اور ہندوستانمیاکبرتاشاہجہاںکےدورکےجزیروںکوچھوڑکرباقیظلماتکادریانظر آتاہے۔ دونوںعجائبگھروںمیچیزیںاسنفاساورسلیقےسےسجیہیںکہجیخوشہوتا ہےاورلطفکیباتہےکہڈائریکٹرصاحبانگریزییاکسیمغربیزبانکاایکبھی لفظ نہیں جانتے تھ۔ انہوں نے ساری تعلیم چینی زبان می چین کے اندر ہی حاصل کی۔ ہماری خاصی دلچسپی کی چیز چینی انقلاب کا عجائب خانہ تھا جو جنگ افیم 1840ءسےشروعہوتاہے۔اسمیانگریزیفوجوںکےرایتوپرچم،ہتھیاراور خودسبموجودہیںاورحریتپسندوںکیباقیاتبھیجوزیادہترنیزوں،تلواروں اورکلہاڑیوںسےلڑتےتھ۔اسکےبعدتائےپنگبغاوت(18۵0ءتا186۵ء) اورباکسربغاوت(1899ءتا1901ء)کےآثارباقیدیکھے۔بعدازاںکامنتانگیعنی چیانگکائی ی ِشکیافواجقاہرہکےخلافجدوجہداورجاپانیوںسےگوریلاجنگکی 54
نشنیاںہیں۔انمیلانگمارچاورسرنگوںکیلڑائیکوماڈلوںکےذریعےدکھایاگیا ہے جو خاص دلچسپی کی چیز ہے۔ چین کی تاریخ اورچینکے انقلاب کے عجائب خانوںکےعلاوہایکفوجیعجائبخانہالگہےجسمیجاپانیوںاورامریکیوںسے چھینا ہوا اسلحہ ہے اور ایک احاطہ می ان امریکی جہازوں کے ڈھانچے کھڑے ہیں جنہیںچینیوںنےمختلفاوقاتمیاپنےعلاقےمیمارگرایا۔ انسبمی طالبعلموں اورمضافاتکےدیہاتیوں کے ہجومدیدن تھ۔ یہ عجائب گھر فقط تاریخ ہی نہیں سکھاتے۔ نظری اور سیاسی تعلیم کا بھی ذریعہ ہیں۔ بڑے دروازے سے داخل ہوتے ہی مارکس اینگلز اور لینن کے ساتھ اسٹالی کی تصویردیکھکرایکبارتوسبٹھٹکگئ۔وہیاسٹالیجومغربیدنیامیتومقہورتھا ہیاباپنےوطنمیبھیمردودہے۔چینیوںنےاسےسینےسےلگارکھاہے۔اس کیکتابوںکوباربارچھاپتےہیںاوراسکیتصویرہرپبلکمقامپرٰیتحکہہرکمیونمی ملتی ہے۔ ماؤزے تنگ کو اس می پانچویں سوار کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا بلکہ الگایکممتازجگہدیجاتیہے۔ہرجگہاسکےاقوالنظرآتےہیں۔قومیعجائب گھرمیاسکاایکقولمشہورشاعراورچینکےنائبصدرکوموجوکےاپنےہاتھ بلکہبرشکالکھاہواآویزاںہے۔پیکنگاپنیجگہایکبلدۂآثارصنادیدہے۔یہاں 55
اوربھیچھوٹےبڑےعجائبخانےہیںلیکنوہدیکھنےکیچیزیںہیں۔ہماراقلمانکی تصویرکہاںتکھینچسکتاہے۔فلمہوتوشایدانصافکاکچھحقاداکرے۔ اور اب اے صاحبو! اٹھاؤ ڈھول اور تاشے اور چلو ہمایوں کے مقبرے۔ یعنی چار دیواریوںسےنکلیںاورکھلیفضاکیسیرکےلیےذرادیوا ِرچینتچلیںجوپیکنگ سےکوئیچالیسمیلکیمسافتپرہے۔ 56
ذرادیوا ِرچینت اپریمہینےکیچوبیستھاوراتوارکاروزکہہمعلیالصبحدیوا ِرچینکیزیارتکو روانہہوئے۔یہپیکنگسےکوئیپچیستیسمیلکیدوریپرہےاورچینکالاکھوں مربع میل علاقہ اس کے شمال می پھیلا ہے۔ اب سے بائیس تئیس سو برس پہلے جبیہبنیتھتواسکامقصدشمالسےتاتاریوںکےحملےکوروکناتھا۔تحقیقکہتی ہےکہجہاںتہاںدیواریںتومختلفحکمرانوںنےپہلےہیکھڑیکررکھیتھیں۔ہاں شہنشاہا ّولچنشہہوانگتینے۲14قممیانکومربوطکیا۔انپررُبجبنائے اوردھوئیںکےسگنلدینےکاطریقہرائجکیاجواسکےپایۂتختسیانسےنظرآ سکیں۔چینوالےاپنیزبانمیاسکودسہزارمیللمبیدیوارکہتےہیں،لیکنفی 57
الحقیقتیہڈیڑھہزارمیلکےلگبھگہے۔کہیںیہپندرہفٹاونچیہےکہیں پچاسفٹ۔کچھہّصحبڑیبڑیاینٹوںسےبناہےکچھپتھروںسے۔دیوارکےزیادہ ترےّصحکےساتھایکبیرونخندقبھیکھدیدکھائیدےگی۔یہڈیڑھہزارمیلکا تسلسلبھیٹوٹگیاہے۔کہیںسےرید ّراتیگذرتیگئیہے،کہیںسڑکبنگئی ہے۔کہیںامتددزمانہنےشکستوریختکاعملکیاہےلیکنجہاںسےہمنےاسے دیکھااوراسپرچڑھےوہاںسڑکاُسےکاٹکرنہیںبلکہاسکےنیچےسےگزرتی ہے۔سیڑھیاںچڑھکےآپایکرُبجپرپہنچتےہیںجسپرچھتبھیہے۔وہاں سےچڑھائیشروعہوتیہےاورفرشاینٹوںکاہے۔یہاینٹوںکافرشبعدکامعلوم ہوتا ہے کیونکہ چودھویں اور سولہویں صدی می بھی اس کی مرمت ہو چکی ہے۔ بایںہمہنیچےکےآثارضروردوہزاربرسسےزیادہپرانےہوںگے۔ یہاںسیرکوآنےوالوںکاہمیشہہجومرہتاہےاوراتوارکوبالخصوص۔زیادہترلوگ ریسےآتےہیںاورریکےاسٹیشنسےجوغاًابلمیلبھر ُدورہے۔پیدل۔اس کےبعدمیلوںتچڑھتےچلےجاتےہیں۔اسروزسردیبھیخاصیتھ۔یہاں میاںظ ِّلالرنٰمحکاکوٹکامآیا۔ہمارےلیڈرپرنسپلابراہیمخاننےاونٹکے رنگکاایکڈریسگوننکالاجواوورکوٹکابہتعمدہکامدےرہاتھا۔چونکہاسپر 58
ریشمیدھاگےکیکشیدہکاریبھیتھلہذاسبنےانکوخاقا ِنچینکاخطابدیا۔ ہماریپارٹیکےزیادہترلوگپچاسساٹھرّتسکیعمرکےدائرےمیتھوہتورُبجکی منڈیر پر بیٹھ گئ ،ڈاکٹر وحید قریشی باوجود اپنی جوان کے چڑھائی چڑھنے سے گھبرائے۔اعجازبٹالویالبتہہمیشہچاقوچوبندہوتےہیں،اگرکسیپگوڈاپرچڑھنےکی نوبتآئیتوہمیںدونوںنےجرأتکی۔لیکنیہاںدیوا ِرچینکیچڑھائیمیبازی ہمارےہاتھرہی۔اعجازدورُبجپیچھے ُرکگئ۔جیتواورآگےجانےکوچاہتاتھالیکن ساتھیوںکےساتھواپسبھیتوپہنچناتھا۔انآخریدورُبجوںکےدرمیانچڑھائی ازتیانیدہستیھاد،ھجویتاہپتےھکرہورّںتسپررّتھسچپےدررپجٹےرکاپزاٹوجیاہتبانتتھااہاوگسال۔یاُتےرہنمےنمےنیعگلریںنکوےدکاراینغنلدن ِیشننہ کیایعنیاپنےجوتے ُاتارکرہاتھمیلےلیےجسنےدیکھاتماشاسمجھااوربچوںنےتو تالیاںبھیبجائیں۔ نیچےاسکےچھوٹاساچائےخانہہے۔وہاںچائےپیگئیاورپھردیوا ِرعظیمکےسائے می تصویر کھنچوائی گئی۔ یہ دیوار جبری مزدوری سے بنی تھ۔ ہماری کتاب ’چینی نظمیں‘میایکنوحہہے۔ایکبیبیمینگچیانگنوکےمیاںکوزبردستیبیگارمی پکڑکرلےگئتھ۔پھرکیاہوامعلومنہیں۔غاًابلہزاروںدوسرےمزدوروںکی 59
طرحوہیںمشقتکرتاہوامرکھپگیا۔یہنوحہبارہماسہکیصورتمیہے۔نئے سالیعنیجنوریسےشروعہوتاہے۔ صاحبنوراللّغن ااتکےنزدیکدیوارِچینہیدیوارِقہقہہہے لو نیا سال آیا بہاریں لیے آج آلوچے پھولوں سے بھر پور ہیں آج ہر گھر کے در پر ہیں روشن دئیے لوگ خوش بخت ہیں ،لوگ مسرور ہیں 60
ہرطرف،ہرجگہتازگیچھاگئیجنوریآگئی آج پورا ہے بستی کا ہر خاندان ایک میرا ہی دل زار و مہجور ہے دا ؔن کو لے گئ ہیں وہ بے گار می اب وہ دیوار عظیم کا مزدور ہے میرے دل کو یہاں بے کلی کھا گئی جنوری آ گئی۔ فروری آئی ہے اور دامن می لائی ہے خوبانیاں چڑیاں آنے لگیں اور دکھن کی جانب کی دیوار پر ایک اک کر کے ڈیرے جمانے لگیں گھونسلوں کو سجا کر دلہن کی طرح ان کے جوڑے تو گلگشت کرنے لگے بڑھ گئیں میرے دل ہی کی ویرانیاں 61
فروری آئی ہے مارچ،اپری،مئی،جون،جولائیسبکیاپنیاپنیکیفیتہے۔پنجابی،سندھی،دکنی سبمیبارهماسےموجودہیں۔اردومیبیسپچیسبرسپہلےسلاممچھلیشہرینے ایکبارہماسہلکھاتھاجسےاردوادبمیاعلیمقامملناچاہیے۔خیرہمارےچینیبارہ ماسہمیسےابایکاگستکیسنی: ماہِ اگست می ُُگ بدس آ گیا تیج پات آ کے گلشن کو مہکا گیا ہنس آنے لگے چھٹیاں خوش نصیبوں کی لانے لگے اور بے فکرے گاؤں کے چوپال می سارا دن بیٹھ کر گپ ُاڑانے لگے یہ مہینہ بھی یونہی گزر جائے گا اس کی پوشاک کوئی نہ پہنچائے گا۔ آخر نومبر می وہ خود فیصلہ کرتی ہے۔ 62
ردی بھر پور ہے۔ برف کے گالے پھر چار سو چھا گئ یعنی پھر سے نومبر کے دن آ گئ آپ ہی جاؤں گی وا ؔن کو اس کی پوشاک پہنچاؤں گی جنگلوں اور پہاڑوں کے ّوکے مجھے راہ بتلائیں گے اور می روتی ہوئی زی ِر دیوا ِر عظیم پہنچ جاؤں گی۔ عجیبحسرتآمیزنوحہہے۔خصوًاصایکجگہجہاںوہکہتیہے : میرے پیتم مرے وا ؔن کو چھوڑ دو ظالمو چھوڑ دو زیردیوا ِرعظیمبیٹھےاپنےہیدوستوںسےہمنےذکرکیا۔سبنےاسےسنرکھا تھا۔شمالیچینکےایکادبکییہمشہورچیزہے۔ 63
مسافرکوپرانتہذیبوںاورگزرےزمانوںکےآثارہرجگہہرملکمینظرآتے ہیں۔کچھایسے ہیںکہدلکوفور ًاگدازکرتے ہیں۔ہمپر جواثرشیرازمیمزار سعدیکیزیارتپرہواویسیکیفیتتوپھریااسسےپہلےکبھینہہوئی۔لیکندیوا ِر عمظییمپڑنھاےتکھاہاجیکسکعااجحیواباثلردنجیایپکرےچسھاوڑات۔عیجاوپبھوردںکلگےدضاخمتگنیمکیییہہمکنیفےیبتہ ِت نصغنکرسمنیی رسولاللہؐکےصحابیابیوقا ؓصکےمقبرےاورنواحیقبرستانکےگلبوٹوںکودیکھ کرطاریہوئی۔ توصاحبو!ابواپسی،لیکنراستےمیمنگبادشاہوںکےزیرِزمینمقابربھیدیکھتے چلو۔یہمقبرےکہزمینکیسطحسےچالیسپچاسگزنیچےہوںگے۔غاًابلاسلیے زمینرگزومہیچنیبننایخئاےنداگئنتکھاہبجعدسکنےےآچ نٹنگی ِےنڑرخواالونںککےیوتاارثخوتںوتساےراسجلطسنےتمچحھفیونیظاوررہیعںہد۔ اسکا1368ءسے1644ءتہے۔یوںکہیےکہمقبروںوالےیہبادشاہاکبراعظم کےہمزمانہتھ۔صدیوںیہمقبرےدنیاکینظروںسےپنہاںرہے۔یہغاًابلپچھلی صدیکیباتہےکہتجسسکرنےوالوںکوایکلوحملیجسمیانکےراستےکی سمتمرموزتھ۔برسوںکیکھدائیکےبعدایکدروازہتیغہکیاملا۔اندرا ُاترےتو 64
بندایوانوںمیمقبروںکےعلاوہبڑےبڑےچینیکےظروفمیانواعواقسام کینعتیںموجودپائیں۔سونےچاندیاورجواہرکےڈھیرلگےتھ۔چوبیتابوتتو سیلناورموسمیاثراتسےخستہوخرابہوکرمٹیہوچلےتھاوربعدمیدوبارہ انہی نقشوں پر بنوائے گئ لیکن باقی چیز سلامت تھیں۔ سیڑھیاں اترنے کے بعد دروازوںکوکھولناآساننہتھا۔جنلوگوںنےدروازےبندکئےانہوںنےاندرکی ّ ِاٹںگراکرایساانتظامکیاتھاکہکوئیباہرسےنہکھولسک۔لیکندانشمندوںنےیہ گرہ بھی کھول ہی لی۔ عجیب آسیبی ماحول ہے۔ اوپر رّتس ایّس فٹ اونچی چھت ہے، نیچےغلامگردشیںاورطا قحے۔ایکبڑےظرفمیقربانگاهکیبتیوںکےلیے تیلبھراتھا،اببھیموجودہےلیکنبہتگاڑھاہوگیاہے۔اتنےمیہمارےچینی دوستوںنےکہاایکچیزاوررہگئیہے۔اِدھرآؤ۔ ایک بہت بوسیدہ چار پانچ سو برس پہلے کا چوبی دروازہ جھک کر پار کیا تو اندر پہنچ کر سبآنکھیںجھپکنےلگے۔توکیامنگزمانےمیہماریطرحکےصوفے،کرسیاں اورمیزبھیہوتےتھ۔میزبانمسکرائے۔اسدورکےاسبغلیکمرےکومہمانوں کینشستکےلیےدرسکرلیاگیاتھا۔فقطدروازہِدہعقدیمکاباقیرکھاتھا۔سب بیٹھے،چائےآئی،اورسباپنیحیرانپرہنسے۔ 65
معلومہواکہابھیایکدومقبرےکھولےگئہیں۔نشندہیسترہاٹھارہکیہوچکی ہے،جواننواحاتمیمیلوںتنصفدائرےکیشکلمیپھیلےہوئےہیں۔ باہرآئےتومیزبانوںنےسبکو ٹھنڈاپلوایا۔ٹھنڈاسےیہاںمطلباورنجہی لیجئے۔رّتسکروڑکایہملککوکاکولا،پیپسیکولا،سیوناپ،کناڈاڈرائیاورفانٹا،دو ِرجدید کےانتماملذایذکوجانتابھینہیں۔انکےبغیرہیتریّقکررہاہے۔تعجبہوتاہے کہکیسےکررہاہے۔جبیہبیروننعتیںاسکےدروازے،ہانگکانگاورپڑوسی جاپانمیموجودہیںتواپنےہیسنگترےنچوڑنےپراتنااصرارکیوں؟ کھانے کی باتیں پھر کبھی سہی اب ذرا پینے کی بات سن لیجئے۔ عام آدمی کا مشروب گرمپانہے۔آجسےنہیںصدیوںسے۔یاتوگھرمیپتیلاچڑھارہےگاورنہبازار میدیگ ُابلرہیہے۔وہاںسےدوپیسےمیبالٹیبھروالائیے۔طالبعلماسکول جاتا ہے یا باہر تفریح کو تو اس کے بستے کے ساتھ ایک مگ لٹکا رہتا ہے۔ اس سے زیادہعیاشیمطلوبہےتوچندپتیاںچائےکیڈاللیجئےاورچسکیلیتےرہیے۔جہاں گئاسیمشروبسےخاطرہوئی۔ وزیرخارجہچنژینےبھیاسیسےتواضعکیاورفیکٹریمزدوروںنےبھی۔بازار 66
مییہچیزایکپیسےکیہے،گھرمیتومفتہیسمجھئے،اسیایکمدمیدیکھاجائےتو ہمجوشکراوردودھکاجوشاندہپیتےہیںاسکےمقابلےمیچینیلوگسالبھرمی کروڑوں روپے بچاتے ہوں گے۔ ہم کالی چائے کے رسیا لوگوں کے لیے البتہ ہوٹلوںمیانتظامہے۔آپبلیکٹیمعدودھاورشکرمانگئے۔چینیمیاسےخونچا کہتےہیں۔اسایکلفظمیملباریہوٹلکیچائےکامزہ،مٹھاساورگاڑھاپنبھیآ جاتےہیں۔ ریمیہرنشستکےساتھچائےکےگلاسرکھنےکیجگہہے۔اکثرسینماؤںاور تھیٹروںمیکرسیکےدہنےہتھےکےاندرگلاسرکھنےکےلیےسوراخبناہے۔کام کرتےجائیےاورایکایکگھونٹ ُچسکٹےرہئے۔تھوڑیدیرمیکوئیآئےگااوراس میمزیدگرمپانڈالجائےگا۔معلومہواکہاسسےمعدےکانظامدرسرہتا ہے۔جراثیمکادفعیہبھیہوجاتاہے۔کمخرچبلکہبےخرچبالانشیں۔ہمنےبھی کچھدنگرمپانپیا۔پھرچھوڑدیا۔کسبرتےپرتتاپان۔ کھانےسےپہلےاوربعد۔بلکہآپیوںبھیباہرسےآئیںتوآپکوگرمپانمیبھیگا ایکتولیایارومالپیشکیاجائےگا۔اسسےمنہہاتھپونچھئےاورتروتازہہوجائیے۔یہ رواج ہم لوگوں کو بہت اچھا لگا۔ واقعی خستگی اور ماندگی اس سے دور ہو جاتی تھ۔ 67
ہمارےپیرسائیںحسامالدّینراشدیصاحبنےتوکچھتولیےوہاںسےخریدے بھیکہوط ِنعزیزجاکرمیبھییہیکیاکروںگا،لیکنوطنعزیزآکرتواوربھیبہت کچھکرنےکاعزمہمارےسارےساتھیوںنےکیاتھا۔کسیسےایسےآثارابھیظاہر نہیں ہوئے۔ شاید کان نمک می آ کر پھر سب نمک ہو گئ۔ پیر صاحب تولیے استعمالکرنےکیحدتثابتقدمرہےہوںتوشایدرہےہوں۔ 68
ایکدناردوکےطالبعلموںکےساتھ چینوالےہماریچینیزبانکیمہارتپرحیرانرہجاتے 69
جبہمچینگئہیںتوچینیزبانسےبالکلکورےتھلیکنہمّٹکرےانسانتو کیاہونہیںسکتا۔سترہاٹھارہدنبھینہگزرنےپائےتھکہدولفظنہایتروانسے بولنےلگے۔ایکنہاؤ(یعنیمزاجشریف)دوسراچائیچن(یعنیاچھاپھرملیںگے) سو مہمان کو یہی دو لفظ آنے چاہیں باقی گفتگو کے لیے ترجمان موجود ہے۔ ہاں یاد آیا۔ایکاورلفظبھیہمبرجستہاورباموقعبولکرچینیوںکوحیرانکرتےتھ۔وہ ہےشےشے(یعنیشکریہ)بعضوںنےپوچھابھیکہآپنےاتنیجلدیاتنیچینی زبانکیسےسیکھلی۔ چنددنبعدہمجاپانگئتوجاپانزبانمیبھیاسیطرحمہارتحاصلکرنےکا عزم کیا کیونکہ ہم کو لسانیات سے ہمیشہ شغف رہا ہے۔ افسوس کہ وہاں ہمارا قیام مختصرتھایعنیکلآٹھدن۔اسکےباوجودہماپنیزبانمیشکریہاداکرنےپرقادر فہروقگیلئ ّفیظعنمی”یتآھاربیھگیاتتووتگھوزاڑائسیاچم ُھش“کککارلسفیظناےہپرلِہازتباھرنککھینےطسرےح ُبُ نو نلسوتاےلاجتاھنل۔یاتاگترھاککچہھ ہماظہا ِرممنونیتکررہےہیں۔ایسےبھیاعتراضکرنےوالےموجودہیںجنہوں نےکہاکہواہایکہفتےمیایکلفظجانلیناکیاکمالہے۔ہمارےقارئینانصاف 70
سےکہیںانمیسےکتنوںکومعلومتھاآریگاتوگزائیمشکا۔ہمیںیقینہےکہ ہمچندماهاوروہاںرہتےتوانہیکیزبانمیصاحبسلامکرنےلگتے۔ ہاںتوچینمیایسابھیہواکہترجمانپاسنہتھاپھربھیہمکوچینیوںسےمکالمٹ میکبھیدتّقنہہوئی۔ہمنہاؤکہتےتھاُدھرسےچینیزبانمیکچھارشادہوتا تھا۔ہمشےشےشےشےکرتےجاتےٰیتحکہاسکیباتختمہوجاتیاورہمچائی چن،چائیچنکرکے ُرخصتہوجاتے۔ ممکنہےہمچینیزبانمیمزیدلیاقتبھیپیداکرنےکیکوششکرتےبلکہاب یاد آتا ہے کہ ہم گرم پان بھی چینی زبان ہی می طلب کرتے تھ اور ”کے سوائے“ کہتے تھ۔ لیکن ڈاکٹر عالیہ امام کی مثال کو دیکھ کر ہم نے تحصیل السنہ کا ارادہترککردیا۔وہوہاںکئیماہسےہیں،پیکنگریڈیوپرکامکرتیہیں۔ایکروز تشریفلائیںتوہمنےکہاآپکےلیےچائےکابندوبستکریں؟فرمایاکرو۔ہمنے کہاشکلیہہےکہہماردومیکرسکتےہیں،حدسےحدانگریزیمی۔بیراہمبلائے دیتےہیں،گفتگوآپکیجئےگا۔ بیراآیا۔بیگمعالیہامامنےاپنےلکھنویلہجےمیبہتکچھکہا۔اتنایادہےکہچکے 71
مرکباتتھ۔بیراکھڑاسرہلاتارہااورہمنےازراہِتحسینعالیہامامصاحبہکودیکھا بلکہکہابھیکہآپنےایسیقاِلبرشکمہارتکیسےپیداکی۔انہوںنےبتایاکہ آدمیذہینہوتوچینیزبانمشکلنہیں۔چونکہہمیہشرطپوریکرسکتےتھذٰہلاکچھ دلگیراورمایوسہوگئ۔لیکناتنےمیبیراآگیا۔دیکھاکہدوق ِدّآدمگلاسدودھ کےہیں۔بیگمعالیہبیرےپربہتخفاہوئیںکہتماتنیچینیزبانبھینہیںسمجھتےکہ می کہوں چائے تو چائے لے آؤ۔ لیکن وہ بس کھڑا ہاتھ ملتا رہا۔ دلمی ضرور شرمندہہواہوگا۔ اردوکےمشہورادیبخاطرغزنویبھیوہاںہیںاورزیادہ ِدنوںسےہیں۔انکاکام 72
ہیتحصیلِزبانہےتاکہواپسآکریہاںچینیزبانسکھاسکیں۔ہمنےدیکھاکہوہ ٹیکسیوالےکوسمجھالیتےہیںکہکدھرچلناہے۔بولےدوڈھائیسولفظسیکھگیاہوں۔ پانچ ہزار فقط سیکھ کر اخبار پڑھا جا سکتا ہے۔ ہم نے کہا کتنے دن لگیں گے۔ بولے بشر ِطحیاتچندبرساور۔ہمنےکہا۔خیریہرہااخبارکچھتوپڑھو۔کافیدیرکوشش کےبعدانہوںنےکئیلفظوںپرانگلیرکھیکہیہآتےہیںفیالحال،خیرقطرہقطرہ بہمشوددریا۔ تالیبجاتےبجاتےیہحالہوجاتاتھا پھرایکروزہمنےسوچاکہدیکھیںچینیلوگاردوسیکھتےہیںتوکیسیسیکھتےہیں۔اگر 73
چینیوںکواپنیزبانکےمشکلاورپیچیدہہونےپرنازہےتوہمکوبھیہے۔خیرایک روزبندوبستہوااورہملوگپیکنگیونیورسٹکےشعبہاردومیجانکلے۔ پہلےتو ایکبیٹھک میوائس چانسلر صاحبنےہمیں شرفملاقات بخشا۔پھر تعارفکراتےکراتےکہا۔یہہیںمادامشانیون،یہاںاردوپڑھاتیہیں۔ہمنےکہا آئیےبیگمصاحبہہمارےپاسآجا ِ طی۔وہمُسکرڑاتیہوئیاٹھکرآگئیںاوربولیں ”آپاِنبانشصاحبہیںنا۔آپکینظمیںہمنےپڑھیہیں۔افکارہمارےپاس آتاہےاورآپکیکتابہماریلائبریریمیہے۔“ چائےوائےپینےکےبعدہمنےوہکتابیںنذرکیںجوہمیہاںسےلےگئتھ۔ اورمادامشانیوننےکہا۔”آئیےابآپکوطالبعلموںسےملائیں۔“ پیکنگ یونیورسٹ ایک وسیع و عریض رقبے می پھیلی ہوئی ہے۔ راستے می مختلف شعبوں کی عمارتیں تھیں۔ ہر جگہ طالب علموں کے ٹھٹ تھ جو ہمیں دیکھ کر دو رویہ کھڑے ہو جاتے اور تالیوں سے استقبال کرتے۔ رسم یہ ہے کہ مہمان بھی جواًابتالیبجاتاہے۔چینکےقیامکےدنوںمیہمکوہرروزاتنیتالیاںبجانپڑتی تھیںکہراتکوآکرہاتھآگپرسینکتےتھاوروِکسکیمالشکرتےتھ۔ 74
شعبہاُر ُدوکےطالبعلمہمارےخیرمقدمکےلیےپہلےسےکھڑےتھ۔انمی سےآدھےلڑکےتھ،آدھیلڑکیاں۔بڑےتپاکسےعلیکسلیکہوئی۔بعضے فرفربولتےتھ۔بعضےاٹکاٹککر۔ہمنےکہاچلئےکلاسدیکھیںلیکنطالبعلم مصر تھ کہ پہلے ہم ان کی قیام گاہیں دیکھیں۔ وہاں دکھانے کی کوئی ایسی بات نہ تھ۔بہتچھوٹےچھوٹےکمرےتھاورہرایکمیایکدومنزلہچارپائی۔ایک کونےمیایکمیزاورکتابوںکےلیےایکالماری۔ایکطالبعلمنیچےکیچارپائی پرسوتاتھا۔دوسرااُوپرٹنگتاتھا۔ویسےنرمّدگےاور ُاجلیچادریںتھیں۔ہملوگ قریبقریبسبکےسبدوکمروںمیتقسیمہوگئ۔وہاںاتنیکرسیاںکہاں 75
تھیں۔بسچارپائیوںپراورمیزپرچڑھبیٹھے۔باقیباتیںتوفروعاتتھیں۔اردوکی محبتاصلشوقچیزتھ۔ اکثرلڑکےلڑکیاںفرفربولتےتھاورسبسےبّجعتکیباتیہتھکہکسیسے تذکیر و تانیث کی کوئی غلطی نہ سنی۔ جیسی اندرون پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگوںسےضرورہوتیہے۔دوسریباتیہہےکہخطپختہتھ۔بعضوںکےمنشیانہ اوراملامیکوئیغلطی ہح ّےکینہتھ۔ہمنےکہاپڑھتےکیاہیںآپلوگ۔معلوم ہوااچھیخاصیلائبریریاردوکتابوںکیہےاورپھراخبار”جنگ“آتاہے۔اسمی سےمضامین،اداریےیاخبریںلےکرسائیکلواسٹائلکرالیجاتیہیںاورطالبعلموں میبانٹدیجاتیہیں۔ہمنےدیکھاتوپہلاہیسبقصدرایوبکےدورۂچینپر تھا۔ لائبریریمیگئتوواقعینئےادبکیبہتسیاچھیکتابیںموجودتھیںاورطالب علمہمارےبعضہمعصروں کاذکرانکیکہانیوںکےحوالےسےکرتےتھ۔ مادامہےکہامیآپکینظمشنگھائیکاترجمہچینیمیکررہیہوں۔ ہمارےوفدکےرکنجواُر ُدوکےآدمیتھانکیسرشاریکابیانکرنامشکلہے۔ 76
اتنیدورایکمختلفتہذیبکےملکمی ُار ُدوکےپودےکوپھولتےپھلتےدیکھنا واقعیایکجذباتیتجربہتھا۔ہمنےمادامسےکہاکہانطالبعلموںکوہمچائےکی دعوتدیتےہیں۔انسبکولائیےوہاںاورباتیںہوںگی۔ہمانکواورکتابیں دیںگے۔اردوپاکستانجاکرکتابوںکیلیڈوریباندھدیںگے۔یادرہےکہایسے وعدےوفانہیںہواکرتے۔ طالب علم تو پھر آئے اور ہمارے ساتھ چائے پی۔ ان کو کتابیں بھی ہم نے دیں، لیکن مادام کسی وجہ سے تشریف نہ لا سکیں ،تیس برس کی ہوں گی۔ بہت پسندیدہ اطوارکیاورسنجیدہ۔ہمنےکہاکہہماریڈائریمیاپنےدستخطدےدیجئے۔انہوں نےیہمہربانکیکہدستخطوںکےعلاوہایکعبارتبھیلکھدی۔انکاخطکمازکم ہمارےخطسےتوبہترہے۔یہبھییادرہےکہطالبعلموںنےاتنیمہارتفقطدو سالبلکہکممیحاصلکیتھاوربیگمصاحبہنےبھیاُر ُدوایکچینیسےپڑھی ہے۔ 77
آپکیعمرکیاہے؟ دیکھنے می طالب علم لڑکے اور لڑکیاں دس بارہ چودہ سال ت کے لگتے تھ اور چونکہانہیںاُر ُدوپڑھتےابھیدوسراسالتھااسلیےانکیاستعدادکااندازہکرکے ہمنےانکوبچوںکیکتابیںدیں۔وّلبکابستہاورچاندتاراوغیرہ۔انمیلڑکیاںبھی تھیںجنکوہمازرا ِهسرپرستیتھپکیرہےتھ۔اتفاًاقایکلڑکیسےہمنےپوچھلیا تمہاریعمرکیاہےبٹیا؟ایکلڑکابول ُاٹھابیسسالکیہیںیہ۔لڑکینےفور ًاتردیدکی اورکہا۔”یہشرارتکرتاہےجی،جھوٹکہتاہے۔“ہمنےاطمینانکاسانسلیاکہ ہماراپہلااندازہدرستھا۔تاہماحتیاًاطانبٹیاسےپوچھا۔۔۔”توپھرکیاہےتمہاری صحیحعمر؟“بولیںابکےجونمیبائیسبرسکیہوجاؤںگی۔“ 78
ہمذراالگہوکربیٹھگئاوروّلبکابستہواپسلےکرانکوموازنہانیسودبیروغیرہ دیں۔ اسسلسلےمیایکعجیبحادثہہمپرووہانمیگذرا۔وہیوںکہہمایکڈرامادیکھنے گئ۔ کیا بات ہے ڈرامے کی۔ بہت عمدہ تھا لیکن اس کا مرکزی کردار ایک نرم و نازکاستانتھ۔آوازچاندیکےگھنگھرواورہاتھباہیںکوملکچنار۔ہماُر ُدوکے شاعر ٹھہرے دلوں کی پوٹلی ہمارے ساتھ ہی تھ۔ ایک دل ادھر می پھینکا۔ عمر اسچنچلکیاٹھارہبیسہو گی۔چونکہمیکاپبھیہوتاہےذٰہلاچوبیسپچیس جانئے۔اسسےزیادہرعایتدینیمشکلہے۔ہمنےدوستوںسےکہایارودوروز اور ووہان می ٹھہرو تو اس پر ایک مثنوی سحر البیان کے رّکٹ کی ہم لکھ جائیں۔ دوستوں نے ہمارا اشتیاق دیکھ کر اس عفیفہ کو الُب بھیجا اور اس سے ہمارا تعارف کرا دیا۔ہمنےتعریفکیکہاےناظورۂدلفریب،تیرےانگانگمیجادوہے،تو ُ ِنںہےاور ُنووںہے۔ڈرامےمیتونےکمالکردیا۔ بولی۔منآنمکہمیدانم۔اتنےدنسےسٹیجپرکامکررہیہوںاتنابھینہکروں؟ ہمنےکہااےلعب ِتچینکبتونے ِدلوںکوبرمانےکایہشغلاختیارکیاتھا۔تھوڑا 79
ُرکی۔حسابلگاکربولی۔چالیسبرسسے۔بہتچھوٹیعمرمیسٹیجپرآناشروعکر دیاتھا۔اسوقتعمراسبندیکیاڑتالیسبرسدومہینےہے۔ ہماراعلمتوخیرسبجانتےہیںسطحیہے۔تھوڑابہتشاعریافسانہادبتاریخپڑھ رکھاہے۔ریسرچسےکبھیرغبتنہرہی۔مخطوطاتوغیرہکےبارےمیہمکچھ نہیںجانتےسوائےایکمخطوطہکےکسیکابنظرِغائرمطالعہنہیںکیااوروہہےہمارا غیرمطبوعہدیوان۔لیکنہمارےساتھڈاکٹروحیدقریشیبھیتھجوتحقیقکےمرد میدانہیںاورکسیکتابکوہاتھنہیںلگاتےتاآنکہاسکودیمکنہچاٹگئیہو۔ شعبۂاردولائبریریمیہمنے ُار ُدو ادبکیبہتسی کتابیںدیکھیںاورخوش ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب سے بھی کہا کہ آپ بھی خوش ہو جائیے۔ اقبال ،جوش، سرشار،شرراورغالبسبموجودہیں۔ڈاکٹرصاحبنےکہاکوئیمخطوطےبھیہیں آپکےپاس۔یہلفظچینیطالبعلموںکےلیےشایدنیاتھا۔اسلیےہمنےسمجھایا کہوہکتابیںجنکوپبلشرنہملیںآخرمیمخطوطہکہلاتیہیں۔ہمارےچینیمیزبانوں نےبہتمعذرتکیکہنہیںہمارےپاسحاتمؔاورقایمؔاورولیؔاورلچھمیؔنرائنشفیق کےہاتھکیلکھیہوئیکوئیتحریرنہیں۔اسپرڈاکٹرصاحببےتعلقہوکربیٹھگئ کہیہمبتذلمطبوعہکتابیںتمدیکھو۔میرےکامکینہیں۔ 80
اعجازبٹالوینےدعو ٰیکیاکہاردوزبانچینمیعامسمجھیجاتیہےبلکہپنجابیبھی۔ اسکاانہوںنےثبوتبھیدیا،وہیوںکہکھانےکاآرڈربیرےکواردویاپنجابیمی دیتے تھ۔ فقط۔۔۔ ضرورًات کوئی لفظ اس می انگریزی کا آ جاتا تھا۔ جیسے ہم اپنی روزمرہگفتگومیکرتےہیں۔ًالثموہبیرےسےکہتے۔۔۔۔بریکفاسٹلاؤجس میدوہافبوائلڈایگہوں،بٹرہو،ٹوسٹہواورچائےکےساتھ ِلِماورشوگر بھی۔آپیقیننہیںمانیںگےبیرافور ًایہچیزیںلےآتاتھا۔کبھیغلطینہکرتاتھا۔ خودہمنےبھیتجربہکیا۔بیرےسےکہاسگریٹلاؤ،ماچسبھیلاؤ۔اوروہدونوں چیزیںلےآیا۔ایکبارہمنےخالصجلندھریلہجےمیپنجابیبھیبولدیکھیکہ میاںبیرےٹیلیاتےشوگربھیلیاتے ِلِمبھیلیا۔اسنےچائےدودھشکرسب حاضر کر دیے۔ پیر حسام ال ّدین راشدی صاحب نے ایک روز کھانے کی میز پر سندھیبولی۔اسکےسمجھنےمیبھیبیروںکوکوئیدتّقنہہوئی۔انہوںنےاورنج مانگاورواقعیتھوڑیدیرمیسائیںبیراسنگترےکےرسکاایکگلاسلےآیا۔ہم سبنےحیرتکی۔ چینیوں کی مہمان نوازی مشہور ہے۔ ایک روز ہم ایک چینی فلم دیکھ رہے تھ۔ بڑےمعرکےکیتھ۔نہایتڈرامائیمنظرتھاکہہمارےایکمعمّ ڑرساتھنےہمکو 81
ٹہوکا دے کر کچھ کہا ہم نے سمجھا فلم کے بارے می کچھ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہہمہتنمتوجہہوئے۔انہوںنےکہامونگپھلیکھانےکوجیچاہتاہے۔وہاں وطنمیبھیجبتمونگپھلیسےجیبنہبھریہومیفلمنےنہیںدیکھتا۔ ہمنےپہلےٹالناچاہا۔آخرترجمانتانکیسفارشپہنچادی۔کچھوقتترجمانکویہ سمجھانےمیبھیلگاکہمونگپھلیکیاہوتیہےاوراسکیاسوقتاشدضرورت کیوںپڑگئیہے۔وہکوئیآدھےگھنٹےمیواپسآیا۔ہمنےپوچھادیرکیوںلگی۔اس نےبتایاکہیہاںتویہدستورنہیںلوگبالعموممونگپھلیکےبغیرہیفلمدیکھلیتے ہیں۔میٹیکسیلےکرخشکپھلوںوالےبازارگیاتھاوہاںسےمونگپھلیلی۔پھر ایکجگہبھٹیپرلےجاکر ُاسےبھنوایااوریہلیجئے۔ چینکےسفرمیہمارےاکثرساتھجوفقط۔۔۔روزابروشبماہتابمیسگریٹ پیتے تھ یکایک چین سموکر ہو گئ۔ سگریٹ سے سگریٹ سلگاتے تھ۔ دیا سالی جلانےکینوبتکمہیآتیتھ۔انمیسےایکآدھبزرگسےہمنےکہابھیکر تھوڑاپرہیزکریںآپکوکھانسیہورہیہے۔بولےکھانسیہورہیہےتوکیاہے؟ یہاںڈاکٹریعلاجبھیتومفتہے۔یہکہکرپھرایککشلگایااورکھانسے۔کھانے کی میز پر کوئی چیز آ جائے اسے واپس کرنا ہمارے بعض ساتھ آداب کے خلاف 82
جانتےتھ۔اگرناشتےمیٹوسٹپرلگانےکےبعدمکھنبچرہاہےتواسےچائے میڈاللیتےتھکہمق ّویصحتہے۔ایکصاحبکوتوہمنےچائےمیدہی ڈالتےبھیدیکھا۔راتکودودھپینااکثرمعمولتھااورایکصاحبتوتہجدکےوقت بھی ُاٹھکرکھاتےتھبلکہکھانےکےلیے ُاٹھتےتھ۔ہمارےکویجسیمال ّدین بہتدلچسپشخصیتہیں۔یورپاورامریکہسبجگہگھومآئےہیںاوربغیربالوں میکنگھاکئےاورکوٹپتلونکےپورےبٹنلگائےبعضاوقاتترجمانسےایسا سوالپوچھتےتھکہاسےجوابد ِ طینہبنپڑتی۔بغلیںجھانکتارہجاتاتھا۔گائیڈ آخرتانکامطلبنہسمجھا۔حالانکہکویصاحبنےسیدھاساداسوالکیاتھاکہ میاں Adulterated Foodملتا ہے؟یعنیآٹے می ریت،گھیمی موبل آئل،مرچوںمیبرادہاورہلدیمیپسیاینٹیںڈالیجاتیہیں۔گائیڈنےکہا۔’می سمجھانہیں۔‘ابہمنےآسانترہممعنیالفاظاستعمالکیے۔ Mixوغیرہ،لیکن وہپھربھیکچھنہبتاسکا۔شایداسکیوجہیہہوکہوہاںیہچیزیںہوتیہینہیں۔ایک اوربزرگنےتوشنگھائیمییہبھیپوچھلیاکہیہاںامریکیسفارتخانہکہاںہے اورجبہموزی ِرخارجہچنژیسےملنےجارہےتھتودریافتکیا۔ ”یہچنژیکونصاحبچیں؟“ 83
ہمنےکہا۔”وزی ِرخارجہہیں۔“ ”کہاںکےوزیرِخارجہ؟“ مارشلچنژی ”چینکے،پاکستانبھیآچکےہیں۔“ 84
اسپرانہوںنےکہا۔”میاخبارنہیںپڑھا۔اچھاکیانامبتایاآپنےانکا؟اچانگ پو؟“ ہمنےکہا۔”چنژی۔چنژی۔چنژی۔“ لیکنجبہمانسےملکرآرہےتھتببھیانہوںنےیہیکہاکہیہچانگپو صاحبیاجوبھیانکانامہےآدمیاچھےہیں۔کسچیزکےوزیرہیںیہ؟پھربتانامی ڈائریمیلکھلوں۔ “ ایکآدھموقعپرترجمانکےفرائضاعجازبٹالوینےبھیسرانجامدیے۔عالیہامام نےایکجلسہبلایا۔مقصودانکاہمیںسنکیانگکےکبابکھلاناتھا۔لیکنوہاقبالاور نذرالاسلامکوبھیبیچمیگھسیٹلائیںکہتملوگآئےہوتوکچھانکےمتعلقبھی بولو۔ کوی جسیم الدّین نے اس موقع پر بتایا کہ ان کے نذر الاسلام سے کیا کیا اختلافاترہےہیں۔بہتعمدہتقریرتھ۔اسکےبعدایکصاحبنےاقبالکے متعلقخطبہدیا۔وہانگریزیبولرہےتھاورترجمانکوچینیزبانمیترجمہکرنا تھا کیونکہ تین چار مہمان چینی بھی تھ۔ یہ صاحب بہت ّبحم وطن سیاسی کارکن رہےہیںاورانگریزدشمنیکےلیےمشہور۔انگریزتوخیرابنہیںرہےلیکنانکی 85
یادگارانگریزیتوموجودہے۔ابوہاپنیدشمنیاسسے نکالتےہیںاوراسکی ذٰصہلراچیفنونیحموتمحراجومرتوتھےورڑوزیمدریرمےویہغایرمراہنسکےاےرببیاٹھ ِگبیاو۔طانکسینبےاےیبسسییینکنا ِایسنلتقسامٹلاینتگےرہییزں۔ی کہاںسنیتھ۔پھرموضوعبھیکچھایساتھا۔فرمایا،اقبالبہتپہلےچینکےمتعلق کہہگئہیںکہچینوعربہمارا،ہندوستانہمارا۔یعنیچینپربھیہمارامسلمانوںکا حقہےاورعربپربھیاورہندوستانپرتھ۔اسپراعجازبٹالویکسمسااکر ُاٹھےاور کہا۔میوضاحتکرتاہوں۔انکامقصدیہہےکہچینہماراپرانادوسہےاور ہمیشہرہےگااوروہسامراجیوںکامنہتوڑجوابدیںگے۔اسپرسبنےخوشی سےتالیاںبجائیں۔جنابمقررنےاسکےبعدروحانیت،عرفا ِناقبالکےّوصت ِر جنونوغیرہکےبارےمیفصاحتکےدریابہائے۔لیکنچینیمہمانسوکھےہی ُاٹھتےاگراعجازبٹالویصاحبتوضیحوتشریحنہکرتےکہروحانیتکامطلبطبقاتی جدوجہدہےاورجنونکامطلبہےسامراجکامقابلہ اورمر ِدمومناورشاہین وغیرہپرولتاریتکےسمبلہیں۔بہرحالجلسہخوشاسلوبیسےختمہوااورسب نےجنابمقررکومبارکباددی۔ چنژیصاحبخوبمزےکےآدمیہیں۔انہوںنےدروازےپرآکراستقبال 86
کیا۔اورپھربیٹھتےہیہمارےقائ ِدوفدسےپوچھاجنابمولانا،کیاعمرہوگیآپکی؟ الیبجرئاےہییمکخاسرںسصبھایحکبےچنہرےوکہاںک،اتتحناھیؤ ُڑرربرخصسکتاہہووگیںاا۔ورچمنحفژلیمبویلشگفےت۔گایچآھگائتیو۔آپرنپسمپجلھ سےتیرہبرسبڑےہیں۔پھرڈاکٹرانعامالحقسےخطابکیا”آپ؟“انہوںنے بتایاکہپینسٹھبرس،ابہمارانمبرتھا۔مسکراکرکہنےلگے،تمانسےچھوٹےمعلوم ہوتےہو؟مینےعرضکیاکہزیادہچھوٹانہیں۔حدسےحدپینتیسچالیسبرسکا فرق ہو گا۔ اس پر ہنسے۔ فرمایا ہم تو ایشیا کی روح کا اصل نمائندہ پاکستان کو جانتے ہیں۔ تبھی تو اس سے دوستی کی ہے۔ دوستی کا لفظ آیا ہے تو یہ جان لو کہ اس کے آدابہمجانتےہیں۔آدھیراتکوبھیآوازدوتوحاضرہیں۔ معلومپڑتاہےڈپلومیسییعنیباتکوگ ُھم ااپھراکےکرنےاوربگلےکواسکیآنکھوںپر مومرکھکرپکڑنےکافنچینینہیںجانتے۔آخرمیانہوںنےکہاتمادیبلوگ مجاہدہو۔اپنےدلکیباتکہہدیتےہو۔ہموزیرِخارجہلوگتوڈپلومیٹہیں۔کہتے کچھ ہیں ،کرتے کچھ۔ ہم دل می شرمندہ ہوئے کہ اپنے کو خود ہی بہتر جانتے ہیں بہرحالانکسارسےمسکراکررہگئ۔ ہمارےقائ ِدوفدنےکہا۔آپنےڈپلومیٹوںکےمتعلقصحیحفرمایا،یہمنافقتپیشہ 87
ہوتے ہیں۔ لیکن چن ژی صاحب! سب کے سب نہیں ،بعضے وزیرِ خارجہ منافق نہیںبھیہوتے۔اسپرچنژیصاحبنےقہقہہلگایااورکہاکدھرہےفوٹوگرافر، میاںتصویریںلوہماری،آئیےجیایکگروپفوٹوہوجائے۔ حیدرقریشی،وقارعظیم،جسیمالدّین،پرنسپلابراہیمخان،مارچلچنژی،ابنانش،ڈاکٹرانعامالحق،اعجازبٹالوی۔ (پیچھےکیصف)چینیمیزباناورپیرحسامالدّینراشدی 88
آزادیکیسختکمیہے چینمیچارہفتےکےقیامکےبعدہمنےیہنتیجہنکالاہےکہوہاںآزادیکیسختکمی ہے۔ہمارےایکساتھجواپنےساتھپانلےکرگئتھباربارفرماتےتھکہیہ کیسا ملک ہے جہاں سڑکوں پر تھوک بھی نہیں سکتے۔ زیادہ دن یہاں رہنا پڑے تو زندگیحرامہوجائے۔ایکاوربزرگنےفرمایاکہیہاںکوئیدیوارایسینظرنہیں آئیجسپرلکھاہوکہ”یہاںپیشابکرنامنعہے“جواسامرکابلیغاشارہہوتاہے کہتشریفلائیےآپکیحوائ ِجضروریہاورغیرضروریہکےلیےاسسےبہترکوئی جگہنہیں۔ایکصاحبشاکیتھکہیہاںخریداریکالطفنہیں ُدکانداربھاؤتاؤ نہیںکرتے۔ہرچیزکیقیمتلکھیہےکمکرنےکوکہئےتومسکراکرسرہلادیتےہیں۔ 89
ہوٹلکےبیروںکوبخششلینےاورمسافروںکوبخششدینےکیآزادینہیں۔بسوں اورکاروںکےاختیاراتبھیبےحدمحدودہیں،آپاپنیبسکوفٹپاتھپرنہیں چڑھا سکتے،نہ کسی مسافر کے اوپر سے گزار سکتے ہیں اورتو اوربجلی کے کھمبے سے ٹکرانے ت کی آزادی نہیں۔ اور بھی کئی آزادیاں جو آزاد دنیا کا خاصہ ہیں وہاں مفقودنظرآئیں۔گداگریممنوع،نائٹکلبممنوع،جوئےپرقدغن،کامنہکرنا اورمفتکیروٹیاںتوڑناخارجازامکان،لڑائیدنگ،چاقوزن،اغواوغیرہکیوارداتیں اور خبریں نہ ہونے کے باعث اخبارات سخت پھیکے سیٹھے۔ ملک کیا ہے ،اچھا خاصا خوجہجماعتخانہہے۔ ہمیںذاتیطورپرانآزادیوںکوبرتنےکاشوقوہاںتوکیاہوتا،یہاںبھیکبھینہیں ہوابسایکدوبےضررسیرعائتیںمعاشرےسےلےرکھیہیںجنہیںوًاتقفوًاتق استعمالکرلیتےہیں۔انمیسےایکبھولجانےاوراپنیچیزیںکھوبیٹھےیاچوری کرانے کی بھی ہے۔ عادت سے مجبور چین می بھی ہم نے اس سے دریغ نہ کیا۔ پیکنگسےچلتےوقتہماپناایکپاجامہغسلخانےمیلٹکاچھوڑگئتھ۔اسکی ہمیںضرورتنہتھہمارےپاساورپاجامےبھیتھلیکنبہرحالہماریروایتی بھولسےایساہوا۔وہاںسےووہانپہنچکرابھیہمدمبھینہلینےپائےتھکہہوٹل 90
والوںنےایکپیکٹدیاجسمیہماراپاجامہدھلادھلایا،استریشدهاورایکچپل پالشاورمرمتشدهنفاسسےلپٹیہوئیپائیگئی۔پاجامہہماراتھااورچپلہمارے دوسڈاکٹرانعامالحقکی۔وہبولےارےاسےتومیخودہیوہاںچھوڑآیاتھاکہ کوناسےمرتّمکراتاپھرے۔ووہانمیہمچندپرانےرسالےاورسنہوانیوز ابیھجینس ِینکنکےمبلییٹآنملچاھ۔وڑِ نآ نئکےستےہاھانگسچلویرےکیہہممایرآتےےکاممیکہےمنہنےتناھخ۔انکانٹکانےپیککٹے لیےایکپرانابلیڈاستعمالکیااوراسےوہیںمیزپرپڑاچھوڑآئے۔دوسرےدنوہ ایکلفافےمیرکھاہمیںملاکہریلوےکاایکملازمدےگیاہے۔دیکھلیجئےآپ ہیکاہے۔ 91
وپفندکاککےللیپڈیارارِبگراگیہاییماخیاہخنوادیپھکیرنوکزاآیئکےمڈتلھس۔کووہبلھدییکھدنوےسگرئ۔ےوہراوزںہاونٹکلےکفوےن ِٹ نیمڑن نےلاتھمایاکہایکسکولکےلڑکےآئےتھاوریہدےگئہیں۔نتیجہیہہواکہ شنگھائی سے چلتے وقت ہم کچھ چیزیں پھینک کے آنا چاہتے تھ جن می ایک ہیئر آئلکیخالیشیشیتھ۔انچیزوںکوہمنےر ّدیکیٹوکریمیڈالااورہوٹلکے بکیرےلےیکےوہالُوبٹکرلوکضاے ِح نمڑتککویسمکجہھاینہاچپیڑازکیہںیہہمسخاموادچنھہومڑکنرےجبالارجبہرےوہکیراںه۔چمیزیندامطمیینآاپن کوئیچیزگمنہیںکرسکتے۔اوربرضاورغبتپھینکاہے۔یہاحتیاطاسڈرسےکیکہ کبھیایسانہہویہچیزیںدریافت ہوں اور ہوٹل والے ہوائی ا ّڈے کو فون کریں کہ ان لوگوںکاجہازروکلیاجائےاور جب ت مسافر مذکور اپنی ہیر آئلکیشیشیوصولنہکرلیں جہازکوپاکستانجانےکیاجازت 92
نہدیجائے۔ تعجبہےانپابندیوںمیچینکےلوگکیسےزندگیبسرکرتےہیں۔ہمنےتواس وقت اطمینان کا سانس لیا جب ڈھاکے کے ہوائی اڈے پر ہمارا ہوائی سفر کا بیگ ہمارے دیکھتے دیکھتے ہماری نظروں سے غائب ہوا اور ہم سب نے مسافر خانے کی میزوں پر ایش ٹرے کے باوجود اپنے اپنے سگریٹ فرش پر پھینکے اور ہمارے دوسنےغسلخانےکیدیوارپرپانکیپچکاریماری۔ ن چائے ُچلڑکیاں 93
چینمیعورتیںنہیںہوتیں ایک پاکستان بزرگ چین تشریف لے گئ۔ کئی روز وہاں کوچہ و بازار می گھومتے پھرے۔واپسیسےایکروزپہلےاپنےدوسسےپوچھا”کیوںجنابکیاچینمی عورتیںنہیںہوتیں؟“ انکےدوسنےکہا۔”خیرباشد!آپکیسیباتکررہےہیں؟ذرااپنےسوالکی معقولیتپرغورفرمائیے۔“ کہنےلگے۔”بےشکیہمیبھیجانتاہوںکہعورتکےبغیرمحف ِلہستیکیقدر نہیں ہوسکتی۔فیالحالانسانڈھالنےکیمشینیںاورکارخانےنہیںبنےلیکناگر 94
عورتیںہیںتوکہاںہیں۔کیاانکوپردےمیرکھاجاتاہے؟“ یہواقعہپیکنگکےپاکستانسفارتخانےمیایکصاحبنےسنایا۔ممکنہےیہ داستاننہہوزی ِبداستانہو،لیکنمقصودانکےکہنےکایہتھاکہچینمیعورتوں اورمردوںکےلباسمیکوئیفرقنہیں۔وہیبندگلےکیجیکٹ،وہیپتلون،ایک سا جوتا ،نہ رُسخی نہ لپ اسٹک ،نہ بندے نہ جھومر ،غرارہ نہ ساڑھی ،نہ دوپٹہ نہ پرس،یہسبسچہے۔ہمخودجاتےہوئےاپنیہینڈیکرافٹشاپسےموتیوںکا ایکپرسلےگئتھ۔خیالیہتھاکہکوئیبیگمادیبہملیںگییاکسیادیبکیبیگم کو نذر کریں گے تو خوش ہوں گی۔ لیکن وہاں کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر آخر ایک پاکستانخاتونکےحوالےکرآئے۔وہاںتوکوئیخاتونسوداسلفلینےکونکلےتوزیادہ سےزیادہکپڑےکاتھیلاساتھہوتاہےاوربس۔ بایںہمہیہباتمبالغہہےکہعورتاورمردکیپہچاننہیںہوسکتی۔حسنورعنائی وہاںبہتہے۔ایسےایسےچہرےنظرآئےکہبس۔اورپھرچہروںکاحسنصحت اورشادابیسےعبارتہوتاہےکہکسیمصنوعیمددکامحتاجنہیں۔ 95
نئینسلپراننسلکوپڑھارہیہے ایکجگہکچھخواتینغازہپوتے،بھڑکیلےلباسپہنےنظرآئیں۔تحقیقپرمعلومہوا کہبےشکچینیہیںلیکنسمندرپارکیچینی۔سنگاپورسےسیرکےلیےیہاںآئی ہوئیہیں۔کسیشخصکولاغردیکھئےیاکسیکاپیٹبڑھاہوپائیےتویہبھیدکھلےگاکہیہاں کےمتوطننہیں۔باہرسےآیاہواہے۔سارےچینمیکسیمردیاعورتکولاغرنہ پایا۔ہسپتالوںمیبہتکممریضہوتےہیں۔وارڈکےوارڈخالیپڑےرہتےہیں، کوئیبیمارہوتوآئے۔ 96
عورتیںدوسرےبہتسےملکوںمیبھیکامکرتیہیںلیکنچینکیطرحنہیں۔ کامکرنےمیعورتاورمردکاکوئیفرقنہیں۔عورتیںبھاریمشینیںچلاتیہیں۔ کاریں اور ٹرک چلاتیں ہیں۔ دکانیں اور کارخانے چلاتی ہیں کھیتوں می ہل چلاتی ہیں۔ سڑکیں بناتی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ بڑے بڑے بوجھ اُٹھاتی اور کھینچتیہیں۔ چینکیایکباتجوہماریسمجھمینہیںآئییہبھیہےکہایکمردیاعورتاتنا بوجھ کیسےکھینچلیتےہیںجسکےلیےہمارےہاںگھوڑےکیضرورتہو۔ایک 97
ریڑھا لوہے کی سلاخوں یا سرخ اینٹوں یا اناج کی بوریوں سے لدا ہوا ہے اور ایک شخصبڑےآرامسےاسےکھینچےیادھکیلےجارہاہے۔اگراتناسامانہوجتناہمارےہاں اونٹگاڑیمیعموًامہوتاہےتوایکمردیاعورتاسےکھینچرہیہوگیاورایکیادو اورمرد یا عورت اس کی مدد کر رہے ہوں گے۔ لیکن ہانپتے کانپتے نہیں،بڑے اطمیناناورآرامکےساتھجیسےخالیچلرہےہوں۔مویشییاباربرداریکےجانور ہمیں خال خال ہی نظر آئے۔ زیادہ بھاری کاموں کے لیے ٹرک اور ٹریکٹر ہیں۔ لیکنزیادہتربارکشیانسانکرتےہیں۔بعضحالتوںمیسائیکلیاسائیکلگاڑیاں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ کارخانوں می کام کرنے والوں می عورتوں کا تناسب تینتیسفیصدہوتاہےبلکہزیادہ۔ ہسپتالوںمیتوکچھمریضہوتےہیہیں۔عدالتیںبالکلہیخالیرہتیہیں۔بعض اوقاتہفتوںکوئیکیسنہیںہوتا۔ایکپاکستاندوسجوقانونسےدلچسپیرکھتے ہیںکوئیعدالتدیکھناچاہتےتھ۔پیکنگکیعدالتعالیہکےچیفججنےکہاکہ اّیھبہمارےہاںتوبہتدنسےکوئیکیسنہیںلگا،ہاںفلاںگاؤںمیایکمقدمہ ہے وہ چل کے دیکھ لو۔ چیف جج کو لے کر وہاں پہنچے۔ مقدمہ طلاق کا تھا۔ ایک کارخانے کے کاریگر نے عرضی دی تھ میری بیوی بہت بد مزاج ہے۔ بہت ہتھ 98
چھٹبھیہے۔تکراراورمارپیٹکرتیہے۔میریبڑھیاماںکاخیالنہیںکرتی۔ میاسسےعلیحدگیچاہتاہوں۔وہاںاشٹاموغیرہکارواجنہیں،سادہکاغذپرلکھکر عرضیدےدیجئے۔پوسٹکردیجئے۔دوسرےتیسرےروزعدالتبیٹھجائےگی اورعموًامایکہیدنمیفیصلہہوجاتاہے۔وکیلبھیپارٹٹائمہیں۔انکوفیسیا مشاہرہحکومتکیطرفسےملتاہےاورانکاکاممدعییامدعاعلیہکیبےجاپچکرنا نہیںبلکہقانونکیتشریحکرناہوتاہے۔ خیریہلوگاسگاؤںمیپہنچےتوعدالتشروعہوگئیتھ۔کوئیعباقباتھنہاونچی کرسیججکاہتھوڑا۔ایکمیزکےگردججبھیبیٹھاتھا۔ساتھہیمدعیبیٹھاچائےپیرہا تھا اورسگریٹکادھواں اڑارہا تھا۔ اسکے علاوہدوآدمی اسکے کارخانےکی انتظامیہکےبھیموجودتھ۔ دوسریطرفاسکیبیویاوربیویکےکارخانےکےدوآدمی۔انآدمیوںنے دونوں کے حق می شہادتیں دیں کہ محنتی کارکن ہیں۔ البتہ بیوی کے کارخانے والوںنےکہاکہیہبیبیمزاجکیتیزہیں۔کبھیکبھیمغلوبالغضبہوجاتیہیں۔ بیوینےاسالزامکوتسلیمکیاکہبےشکمیرامزاجبگڑارہتاہےلیکنمیرامیاں 99
شامکودیرسےگھرآتاہے۔ڈرامادیکھنےچلاجاتاہےیااپنےدوستوںکےساتھوقت گزارنا ہے۔ اس کی ماں کا خیال بے شک می نے کبھی نہیں کیا کیونکہ میری ماں بچپن می انتقال کر گئی تھ۔ مجھے معلوم نہیں ماں کیا ہوتی ہے۔ اب البتہ مجھے احساسہواہےکہمیغلطیپرہوں۔مردنےبھیکہاکہمیجلدیگھرآجایاکروں گا۔وہیںبیٹھےبیٹھےراضینامہہوگیا۔ججنےکہامیوًاتقفوًاتقتمہارے گھرآکردیکھاکروںگاکہتملوگوںکاایکدوسرےسےکیساسلوکہے۔معلومہوا 100
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166
- 167
- 168
- 169
- 170
- 171
- 172
- 173
- 174
- 175
- 176
- 177
- 178
- 179
- 180
- 181
- 182
- 183
- 184
- 185
- 186
- 187
- 188
- 189
- 190
- 191
- 192
- 193
- 194
- 195
- 196
- 197
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266