101 پوری بےدردی سے لگائے تھے۔چھوٹی گھروالی کا ہسپتال جا کر پوچھنا تو بہت دور کی بات ہےاسے گھر میں آ جانے کے بعد آدھی زبان سے پوچھنے تک کی توفیق نہ ہوئی۔ میں نیم مردہ سی حالت میں لیٹا ہوا تھا۔ اچانک اسے کوئی خیال آیا‘ پھر کیا تھا کہ بلاتکان دو گھنٹے انتالیسمنٹ بولتی رہی۔ لب لباب یہ تھا کہ میں نے بیمار ہونے کا محض ڈونگ رچایا ہے۔ بیمار اس کا ابا ہوا تھا اور علاج معالجے کےباوجود قبر میں جا بسیرا کیا۔ اگر میں بیمار ہوا ہوتا تو لاش گھرپر آتی۔ اس کی بات میں چوں کہ دم تھا اس لیے دوسری دفع کو بیچ میں لانے کی ایسی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی۔ ہاں البتہ تیسری دفع اوج کمال کو چھوتی نظر آتی ہے اس لیےاس کا ذکر خصوص میں داخل کرنا اصؤلی سی بات نظر آتی ہے۔ ہوا یہ کہ میں بیمار پڑا تو میری ہائے اوے ہائے اوے کے نعروں سے بےزار ہو گئی۔ میں بھی تو بلاوقفہ اور بلاتکان یہ آوازے کسے جا رہا تھا۔ ان آوازوں سے اس کا سر بوجھل ہو گیا۔ کچھ بولی تو نہ‘ البتہ سر پر کپڑا باندھ کر باہر صحن میں بیٹھ گئی اور میری آخری سانس کا انتظار کرنے لگی۔ آخریسانس بڑی ڈھیٹ تھی‘ کم بخت نہ آئی۔ میں نے اس کی آوازاری محسوس کر لی اور پوری طاقت سمیٹ کر بیٹھک میں آ کر صوفے پر لیٹ گیا۔ پتا نہیں رات کتنی دیر تک صوفے پر لیٹا رہا‘ جب قدرے بہتری ہوئی تو جا کر چارپائی پر لیٹ گیا۔ میرے
102 پاؤں کی آہٹ سے جاگ گئی لیکن سونے کا ناٹک جاری رکھا۔ میں نے بھی ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا اور چپکا رہا۔ اللہ کے احسان سے رات گزر گئی۔ ٹھیک سے ٹھیک نہ ہوا‘ ہاں البتہ پہلے سے قدرے بہتر ضرور تھا۔ میں نے اس کی جانب یوں ہی بلاوجہ دیکھ لیا۔ چہرے پر بیمار ہونے کی کیفیت طاری کر لی۔ میں نے فورا سے پہلے نگاہ نیچی کر لی۔ آدھگھنٹے بعد چارپائی لگ گئی۔ پوچھا کیا ہوا۔ سخت بیمار ہوں۔ میں پوچھنا چاہتا تھا ابے والی بیمار ہو یا میرے والی بیماری ہے۔ چپ رہا‘ جانتا تھا آج اور آتا کل بےمزگی میں گزرے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ میری شوگر چھے سو ستر پر پہنچ گئی ہے۔ بی پیبھی ہائی ہو گیا ہے۔ صبح سے مسلسل اور متواتر الٹیاں کر رہی ہوں۔ سر پھٹ رہا ہے۔ ایک دو بیماریاں اور بھی گنوائیں۔ میں نے کہا اللہ آسانی پیدا کرے گا۔ کہنے لگی سب اللہ پر چھوڑےرکھنا‘ خود سے کچھ نہ کرنا۔ چاہا کہ کہوں سر دبا دیتا ہوں پھر فورا خیال آیا بچو شام تک اسی کام میں رہو گے۔ مجبور قدموں چلتا ہوا بازار گیا نان چنے اور ساتھ میں حفظ ما ماتقدم سلائس اور انڈے بھی لے آیا۔ بےچاری نے اوکھے سوکھے ہو کر دونوں نان چنے اور ایک انڈا ڈکار لیا۔ اصولا بہتری آ جانی چاہیے تھی‘ قدرے آ بھی گئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا زبان کی کوترا کتری سے بچ گیا ہوں۔ شام تک حالات درست رہے۔ شام کو فائرنگ شروع ہو گئی۔ وجہ یہ تھی کہ نان چنے اور انڈے
103سلائس تو لے آئے لیکن منہ میں بڑ بڑ کر رہے تھے‘ حالاں کہ ایسا نہیں تھا۔ تاہم دیر تک چل سو چل ہی رہی اور میں بھول گیا کہ بیمار ہوں۔
104 انگلی مہاجا بڑے سکون اور آرام سے دکان پر بیٹھا‘ دودھ اوبال رہا تھا‘ ساتھ میں ُپڑوسی دکان دار سے باتیں کیے جا رہا تھا اور دودھ میں کڑچھا بھی مارے جا رہا تھا۔ اس کا پالتو بلا اس کی نشت کے نیچے‘ پرسکون بیٹھا ہوا تھا۔ وقت بلا کسی پریشانی کے گزر رہا تھا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اگلے لمحے کیسے ہوں گے۔ سب جانتے ہیں‘ شیطان انسانی سکون کا دشمن ہے۔ انسان کیپرسکون زندگی‘ اسے ہمیشہ سے کھٹکتی آئی ہے۔ اس نے ایک انگلی‘ جس پر ایک یا دو بوند ہی دودھ چڑھا ہو گا‘ سامنے دیوار پر لگا دی۔ دودھ پر مکھیاں عاشق ہوتی ہیں‘ جھٹ سے مکھیاں دیوار پر لگے دودھ پر آ گئیں۔ جہاں مکھیاں ہوں‘ وہاں چھپکلی کا آنا غیرفطری نہیں۔ جھٹ سے ایک چھوڑ‘ کئی چھپکلیاں آ گئیں۔ بلا چھپکلیوں کو برداشت نہیں کرتا وہ چھپکلیوں پر جھپٹا‘ اتفاق دیکھیے اسی لمحے‘ ایک نواب صاحب اپنے ٹومی سمیت ادھر سے گزرے۔ ٹومی بلے کو کیسے برداشت کرتا۔ وہ بلے پر بڑی تیزی سے جھپٹا۔ بلا دودھ میں گر گیا۔
105 ردعمل ہونا فطری سی بات تھی۔ مہاجے نے پوری طاقت سے ٹومی کے سر پر کڑچھا مارا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ نواب صاحب ٹومی کی بےحرمتی اور اس پر ہونے والا یہ تشددکیسے دیکھ سکتے تھے۔ انہوں نے چھے کی چھے مہاجے کے سینے میں اتار دیں۔ مہاجا اتنی بڑی فیملی کا واحد کفیل تھا چل بسا۔ پوری فیملی لاغر و اپاہج ہو گئی۔ وہ کیا کر سکتے تھے بس قسمت کو ہی کوس سکتے تھے۔ نواب صاحب کا کیا بگڑنا تھا۔ یہ لوگوں کاکب سنوارتے ہیں لوگ ان کا گلپ کرنے اور ظلم سہنے کے لیےجنم لیتے ہیں۔ ان کا گلپ ہی اقتداری طور رہا ہے اور شائد رہے گا۔ ان پر یا ان کے کیے پر انگلی اٹھانے والے زہر پیتے رہیں گے سولی چڑھتے رہیں گے۔ اقتدار کا یہ ہی اصولی فیصلہ رہا ہے۔حال کیا مستقبل قریب میں بھی ان سے مکتی ملتی نظر نہیں آتی۔ قصوروار کون تھا صاف ظاہر ہے مہاجا۔۔ نواب کبھی غلطی پر نہیں یا شیطان کوسنوں کی زد میں رہے گا۔ کوئی خود کو سدھارنے کی جسارت نہیں کرے گا۔ جی ہاں‘ یہ ہی سچ اور یہ ہی حقیقت ہے۔
106 آخری تبدیلی کوئی نہیں :نوٹ ہم چھوٹے چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے مخدومی و مرشدیبابا جی سید غلام حضور حسنی اس طرح کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ وہ کہانیاں آج بھی لوح دل پر نقش ہیں۔ دن کبھی ایکسے نہیں رہتے۔ ہر لمحہ تبدیلی سے گزرتا ہے اور کل من عیھا فان کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ بھلے وقتوں کی بات ہے۔ دو دوست ہوا کرتے تھے۔ ایک سوداگر جب کہ دوسرا کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ ایک دن سوداگر دوست نے کہا فارغ رہنے سے وقت نہیں گزرتا۔ ضرورتیں تومنہ پھاڑے رہتی ہیں۔ آؤ تمہیں اوبےنگر کی فوج میں بھرتی کرا دیتا ہوں۔ اس کی ریاست اوبے نگر میں وقفیت تھی لہذا جلد ہی اس کا دوست فوج میں بھرتی ہو گیا۔ دونوں کو خوشی ہوئی۔ بات بھی خوشی والی تھی کہ روٹی کا سلسلہ چل نکلا۔ دو چار سال کے بعد اس کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے سوچا کیوں نہ دوست ہی سے مل لوں۔ چھاؤنی گیا۔ اس نے پوچھا سپاہی تیغا رام کدھر ہوتا ہے۔ پتا چلا اچھی کارگزاری کی وجہ
107 سے وہ حوالدار ہو گیا ہے۔ اسے خوشی ہوئی کہ اس کا دوست ترقی کر گیا ہے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ سوداگر دوست نے :اپنی خوشی کا اظہار کیا تو جوابا تیغا رام نے کہا یار دن وہ نہیں رہے دن یہ بھی نہیں رہیں گے۔ اسے دوست کے جواب پر حیرانی ہوئی۔ کچھ نہ کہا‘ چپ رہا۔ وقت اپنی مرضی‘ مزاج اور روٹین کی ڈگر پر چلتا رہا۔ شخصاوروں سے بےنیاز اپنے اپنے طور سے روٹی ٹکر تلاشنے میں مصروف تھا۔ سوداگر بھی سوداگری میں مصروف تھا۔ اس کا روٹین میں اوبےنگر جانا ہوا۔ اس نے اپنے دوست حوالدار تیغا رام کا چھاؤنی میں جا کر پوچھا۔ وہاں سے پتا چلا تیغا رامصوبےدار ہوگیا ہے۔ اس خبر نے اسے خوشی سے نہال کر دیا۔ ملاقات پر اس نے مبارک باد دی۔ تیغا رام نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ یار دن وہ نہیں رہے دن یہ بھی نہیں رہیں گے۔ تیغا رام موج اور ٹھاٹھ کی گزار رہا تھا۔ حیرانی تو ہونا ہی تھی لیکن وہ چپ رہا۔ جواب میں کیا کہتا۔ سالوں میں تبدیلی تو آئی تھی۔ تیغا رام غلط نہیں کہہ رہا تھا۔کچھ سالوں کے بعد سوداگر کا اوبے نگر سے گزر ہوا۔ وہ اپنے دوست تیغا رام سے ملنے چلا گیا۔ وہاں سے معلوم پڑا کہ وہ
108 بادشاہ کا منظور نظر ہو گیا ہے اور وزیر مقرر کر دیا گیا ہے۔اس نے سوچا وزیر ہو گیا تو کیا ہوا میرا تو دوست ہے۔ بامشکل ملاقات ہوئی۔ سوداگر نے اپنی خوشی کا اظہار کیا تو جوابا تیغا رام نے وہ ہی پرانا ڈائیلاگ دوہرا۔ اس کا کہنا غلط نہ تھا‘ لہذا اس نے ہاں میں ہاں ملائی اور تھوڑا وقت گزار کر رخصت ہو گیا۔ جب قسمت کا ستارہ زحل سے نکل کر مشتری میں آ جائےانسان کچھ سے کچھ ہو جاتا۔ اوبےنگر کے بادشاہ کی موت کے بعد بادشاہی تیغا رام کے ہاتھ میں آئی۔ اصل بات یہ تھی کہ تیغا رام کی عادات میں تبدیلی نہ آئی۔ وہ اپنے سوداگر دوست سے اسی طرح پیش آیا۔ پہلے کی طرح کھل ڈھل کر گپ شپ لگائی۔ اس کا کہنا وہ ہی رہا کہ دن وہ نہیں رہے دن یہ بھی نہیں رہیں گے۔ سوداگر حیران تھا کہ تیغا رام ترقی کی آخری سیڑھی کراس کر گیا اب بھی اسی بات پر ہے۔ اس سے آگے تو زندگی میں کچھ بھی نہیں۔ وہ اسے ڈائیلاگ سمجھ کر چپ رہا۔ اگلی بار جب سوداگر اوبے نگر آیا تو اسے معلوم پڑا کہ بادشاہ تیغا رام انتقال کر گیا ہے۔ شہر کے باہر کھلے میدان میں چاردیواری کے اندر اس کی یادگار بنائی گئی تھی۔ مختلف طرح کے پودے لگائے گئے تھے۔ اسے خوب صورت بنانے میں
109 کوئی کسر نہ چھوڑی گئی تھی۔ لوح یادگار پر تحریر کیا گیا تھا عادل بادشاہ مہاراج تیغا رام دن وہ نہیں رہے دن یہ بھی نہیں رہیں گے سوداگر حیران تھا اب آخری تبدیلی بھلا کیا آئے گی۔ موت کے بعد بھلا کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔ سوداگر کا اوبے نگر میں وہ آخری پھیرا تھا۔ وہ تیغا رام کی آخری یاگار کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ماضی کا ہر لمحہ شعور کےدریچوں سے جھانک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں۔اس نے سوچا تیغا رام درست کہتا تھا کہ دن وہ نہیں رہے دن یہ بھی نہیں رہیں گے۔ وہ سوچ رہا تھا اب بھلا اور کیا تبدیلی آئے گی۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا وہاں دریا بہہ رہا تھا۔ اس کے منہ ‘سے بےاختیار نکل گیا دن وہ نہیں رہے دن یہ بھی نہیں رہیں گے۔
110 کھڑ پینچ دی جئے ہو۔ ہیلو مسٹر! یو ار سویٹ اینڈ لولی ہوم غور منٹ کمپلینٹ اس دیٹ یو پھڑکائیٹڈ ہر برسرعام لاسٹ ڈے۔ وائی۔ نو حجور شی از جھوٹ مارنگ۔ آئی اونلی ون ویری سلو مکا ماریڈ او مائی گاڈ‘ یو بےغیرت مین۔ وائی یو مکا ماریڈ ہر ان دی بازار۔ یو نو پیپل ور ویکھنگ اینڈ لافنگ ایٹ یو آئی ایم ناٹ بےغیرت حجور شی از بےغیرت بی کاز شی مارڈ می سو مےنی لیترز ویری ٹھوک ٹھوک کر پیوپل ور لافنگ ایٹ ہر ری ایکشن اٹ از یو ار کیس وچ مے بی ڈسکسڈ لیٹر اون۔ فسٹ ٹل اس وائی یو مکا مارڈ حجور اٹ از آ شیم فل سٹوری اینڈ کن ناٹ ناریٹ ان دی پنچایت ڈونٹ وری یو گلٹی کمی کمین حجور آئی ناٹ کمی کمین۔ مائی کاسٹ از انصاری
111 او یس یو مین جولایا ،آئی نو یو ار جولایا۔ جولایا کاسٹ از ان فیکٹ کمی کمین۔ وائل یو ار ہوم گورمنٹ از قریشی گویا شی از ناٹ کمی کمین یس حجور شی از مراسی۔ ڈونٹ بارک‘ ان فیکٹ دس ورڈ از مراثی۔ از آئی ایم رائٹ او یو سویٹ ای ٍنڈ جنٹل لیڈی حجور یو ار ابسلوٹلی رائٹ او مین ناؤ سم تھنگ ہریلی پہونکو حجور شی ہیز ناٹ ذرا بھورا شرم وٹ ہپنڈ ٹل اس حجور شی واز ممانائزنگ ان دی بازار او مائی گارڈ واٹس آمیزنگ سیچویشن ول بی گوئنگ دیئر او جنٹل اینڈ سویٹ لیڈی شو اس یو ار فنشی سٹارٹیڈ ہر فن ود آؤٹ اینی ہیزیٹیشن۔ ایوری ون انجوائڈ اٹ اے لاٹ او مسٹر جولاہے طلاق ہر ایٹ دی سپاٹ اینڈ یو دفع دفان فروم ہیئر۔ شی ہیز اے ونڈرفل کوالٹی۔ ان فیوچر شی ول سٹے ہیئر۔
112 وین مسٹر جولایا ڈو نٹھنگ ون مین گٹ اپ اینڈ رکھڈ پنج ست لتر ایٹ ہیز بوٹم۔ ہی گیو طلاق دایٹ سویٹ ممانئیزر اینڈ دوڑ لگائیڈ۔ اٹ واز اے نائس فیصلہ۔ پیوپل واز ریزنگ سلوگن کھڑ پینچ دی جئے ہو۔ ناؤ آ ڈئیز شی از سرونگ ایٹ کھڑ پینچز ڈیرہ اینڈ ارننگ اچھیخاصی اماؤنٹ ود نائس فیم۔ شی ہیزناٹ کمپلینٹ فروم اینی سائڈ۔ پیوپل ار سیٹسفائیڈ اینڈ ہیپی فروم دیئر چودھری ساب۔
113 سراپے کی دنیا اس کے حسن کی تعریف کرنے بیٹھوں تو شاید‘ بہت ساری تشبیہات کے استعمال کے باوجود‘ بات نہ بن پائے گی۔ اسے زمین پر اللہ کا تخلیق کردہ ماسٹر پیس کہنا‘ کسی طرح غلط نہ ہو گا۔ لباس کے اندر بھی شاید یہ ہی صورت رہی ہو گی۔ ہم لباس کے باہر پر مر مٹتے ہیں‘ جب لباس کے اندر جھانکتےہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب گوشت پوست اورہڈیوں کے پیچھے جھانکنے کا موقع ملتا ہے‘ تو سر پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے۔ جب تک یہ جاننے کا موقع ملتا ہے‘ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ گویا نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے بعد‘ پھسی کو پھڑکن کیسا ہی باقی رہ جاتا ہے۔ اس کے پاس میرا کسی کام کے سلسلے میں جانا ہوا تھا۔ اسےدیکھ کر‘ مجھے اصل مدعا ہی یاد نہ رہا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میں کچھ دیر بعد‘ اپنے آپے میں آ گیا۔ میں قریب چلا گیا‘ سلام بلایا۔ اس نے بلا اوپر دیکھے‘ سلام کا تقریبا سا جواب دیا۔ میں نے
114 اسے ہی غنیمت سمجھا اور بڑے ملائم اور پریم بھرے لہجےمیں عرض کیا‘ میڈم میں ایک سماجی معاملے پر ریسرچ کر رہا ہوں‘ اس ذیل میں چند ایک سوالات کے جواب درکار ہیں۔ اس نے سر اٹھایا اور بڑی بے رخی سے جواب دیا :میں بہت مصروف ہوں جو پوچھنا ہے جلدی سے پوچھ لو۔ جی میڈم‘ آپ کا نام تانیہ آپ مقامی ہیں یا باہر سے تشریف لائی ہیں کوئی ڈھنگ کا اور متعلق سوال پوچھو بہتر میڈم‘ پڑھائی سے وابستہ ہیں ایم فل فارمیسی کر رہی ہوں اس کے چہرے کی اکتاہٹ دیکھ کر میں نے آخری سوال کیا ایم فل فارمیسی کرنے کے بعد کیا جذبہ اور ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے‘ ٹیبل پر بیٹھی ون لیگ روزانہ کا کماؤں گی۔ میرا خیال تھا کہ کہے گی‘ انسان کی بےلوث خدمت کروں گی۔ خوب صورت لباس اور خوب صورت سراپے میں چھپا پیٹو شیطان‘ میرے سوچ کی دھجیاں بکھر رہا تھا۔ میرے سوچ کا
115 شیش محل کرچی کرچی ہو کر گندگی کی دلدل میں دھنس چکا تھا۔ میں نے سوچا‘ یہ کیسا انسان سا پتلا ہے جو من میں اپنی ذات سے ہٹ کر‘ کچھ نہیں رکھتا۔ آگہی کا حصول محض پیٹ کے لیے ہو گیا ہے۔ پھر میں نے سوچا‘ اتنا کما کر آخر کیا کر لے گی۔ کوٹھی بنگلہ اور بینک بیلنس بنا لے گی۔ اس سے کیا فرق پڑے گا۔ قبر میں تو کچھ نہیں جا سکے گا۔ مر جانے کے بعد‘ پیار کرنے والوں کو بھی جلدیاں ہوں گی۔ لاش کے لیے کون بےکار میں وقت ضائع کرتا پھرے۔ اس کوٹھی بنگلے اور بینک بیلنس کی تقسیم پر‘ سگے بہن بھائیوں کے کئی یدھ ہوں گے۔ کورٹ کچریچڑھیں گے۔ کسی کو کبھی اس کی قبر پر بھولے سے بھی‘ چار پھول چڑھانے کی توفیق نہ ہو گی۔ مرنے والے نے ڈگری لے لی‘ پیسے بھی کما لیے‘ لیکن آگہی اس کا مقدر نہ بن سکی۔ حسین گوشت پوست کے پیچھے اتنی پوشیدہ غلاظت۔ توبہ بھی میری روح میں‘ توبہ کرنے لگی۔ جھوٹ نہیں بولوں گا‘ میں تو اس کے سراپے کی دنیا کا اسیر ہو کر‘ اسے جیون ساتھی بنانے کی سوچ بیٹھا تھا۔ اگر اللہ کی عنایت شامل نہ ہوتی‘ میں تو مارا گیا تھا۔
116 میں ہی قاتل ہوں کاما کبو‘ تیز قدموں سے کھیتر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ آج کھیتر پر کام کافی تھا۔ دوسرا چودھری کے موڈ کا بھی کچھ پتا نہیںچلتا تھا۔ اس کے بگڑنے کے لیے‘ کسی وجہ کا ہونا ضروری نہ تھا۔ چودھرین سے اپنے لچھنوں کی وجہ سے‘ چھتر کھاتا رہتا تھا۔ گھر کا غصہ باہر آ کر کاموں پر نکالتا۔ کام کاج کوئی کرتانہیں تھا‘ گھر سے یوں سج سنور کر نکلتا جیسے جنج چڑھنےجا رہا ہو۔ سارا دن ڈیرہ پر بیٹھا‘ آئے گئے کے ساتھ گپیں ہانکتا یا پنڈ کی سوہنی کڑیوں کے ناز و ادا کے قصے سنتا۔ کوئی ہتھے چڑھ جاتی تو معافی کا دروازہ بند کر دیتا۔ ناکامی کیصورت رہتی‘ تو سارا غصہ کاموں پر نکالتا۔ سب چپ رہتے‘ ہر کسی کو جان اور چمڑی بڑی عزیز ہوتی ہے۔کھیتر پر آتے جاتے اس طرح کی سوچیں اسے گھیرے رکھتیں، غلطی یا ظلم‘ زیادتی چودھری کرتا ڈال گریب کاموں پر دی جاتی۔ وہ سوچ رہا تھا‘ یہ زندگی بھی کیسی ہے گھر جاؤ‘ کوئی ناکوئی مسلہ راہ روکے کھڑا ہوتا۔ باہر آؤ تو کامے پر وہ کچھ بیت جاتا جو اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوتا۔ جب وہ کھیتر پہنچا‘ وہاں عجب کھیل رچا ہوا تھا۔ چودھری کےہاتھ میں خون آلودہ چھرا تھا اور سامنے کاما ابی‘ خون میں لت
117 پت پڑا تھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا۔ چودھری سختغصے میں تھا۔ اس نے چھرا کامے کبو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا :ذرا اسے پکڑنا‘ کبو نے پکڑ لیا اور خود کامے ابی کےپاس پہنچ گیا اور افسردہ و پریشان ہو کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ دریں اثنا پولیس پہنچ گئی اور کبو کو پکڑ لیا۔چودھری غصے سے اٹھا اور پان سات کبو کو رکھ دیں۔ مجھے پتا نہ تھا کہ تم اتنے ظالم اور کمینے ہو۔ پولیس والوں نے کہا چودھری تم چھوڑو‘ تھانے جا کر ہم اس کی طبیعت صاف کر دیں گے۔ وہاں موقع پر اور بھی دو تین کامے موجود تھے‘ کسی کے منہ سے سچ نہ پھوٹا۔ اس اچانک نازلی آفت نے اس کے ہوش ہی گم کر دیے۔ تھانے جا کر اس کی خوب لترول کی گئی۔ وہ کہے جا رہا تھا‘ میں نے کچھ نہیں کیا۔ اس کی کب کوئی سن رہا تھا۔ ایک شپائی بولا :تمہیں ہم نے کچھ نہ کرنے سے روکا تھا۔ ایک اور نے نعرہ لگاؤ :کچھ کر لیتے نا ایک نے کہا :اب یہاں سے جا کر کچھ کر لینا پہلے والا بولا :یہاں سے جائے تو ہی کچھ کرئے گاایک جو ذرا پرے کھڑا تھا کہنے لگا :تو پھر یہ قتل کس نے کیا ہے۔ خون سے بھرا چھرا تو تمہارے ہاتھ میں تھا۔
118 حجور قتل کرنا تو دور کی بات‘ میں تو ایسا قیمتی چھرا خرید ہی نہیں سکتا۔ چھرا تو چودھری نے مجھے پکڑایا تھا۔ الزام تراشی کرتے ہو۔ اس کے بعد لاتوں مکوں اور تھپڑوں کی برسات ہو گئی۔ تھانہ تو تھانہ‘ کورٹ کچہری بھی اس کی سن نہیں رہی تھی۔ لگتا تھا‘ کہ کورٹ کچہری بھی چودھری ہی کی تھی۔ ہر کوئی اسے دشنام کر رہا تھا۔ اس کی تو کوئی سن ہی نہیں رہا تھا۔ ماجرے کو آنکھوں سے دیکھنے والے‘ اس کے ہی گریب ساتھی تھے۔ وہ بھی دیکھ اور جان کر‘ کبو ہی کو مجرم ٹھہرا رہے تھے۔ اس کے حق میں‘ ایک بھی نہ تھا۔ ہر کوئی اسے قاتل کہے جا رہا تھا۔ اس نے سوچا‘ جب اتنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں قاتل ہوں تو یقینا میں ہی قاتل ہوں۔ پھر اس نے کہنا شوع کر دیا :ہاں ہاں میں ہی قاتل ہوں۔۔۔۔ابی کو میں نے ہی قتل کیا تھا۔
119 خیالی پلاؤ اللہ بخشے پہا خادم بڑے ہنس مکھ اور جی دار قسم کے بندے تھے۔ خوش حالی سے تہی دست ہوتے ہوئے بھی‘ انہیں کبھیکسی نے رنج و ملال کی حالت میں نہ دیکھا۔ منہ میں خوش بولرکھتے تھے۔ کبھی کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ اندر سے کتنے دکھی ہیں۔ ان کی بیگم فیجاں‘ اتنی ہی سڑیل اور بدمزاج تھی۔ کردار کی بھی صاف ستھری نہ تھی۔ مزے کی بات یہ کہ گھر سے کبھی کسی نے دونوں کی اونچی آواز تک نہ سنی تھی۔ یہ تو محض خوش فہمی ہو گی کہ ان کے درمیان تلخی نہ ہوتی ہو گی۔ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے لاڈ پیار کر رہے تھے۔ منہ سے بھی بہت کچھ کہے جا رہے تھے۔ کہہ رہے تھے‘ میں اپنے بیٹےکو ڈاکٹر بناؤں گا‘ پھر سونے کے سہرے سجا کر‘ ہاتھی پر بٹھا کر‘ پیچھے گاڑیوں کی قطار ہو گی‘ بہو بیانے جاؤں گا۔ اس کی شادی پر بٹیروں کے گوشت کی دیگیں چڑھیں گی۔ ساتھ میں بیسیوں بکرے زبح کر ڈالے۔ میٹھے میں بھی بہت ساری چیزیں دستر خوان پر سجا دیں۔ میں کچھ دیر تو ان کی آسمان بوس باتیں سنتا رہا۔ پھر مجھ سے چپ نہ رہا گیا‘ میں نے پوچھ ہی لیا‘ پہا جی یہ آپ کیا کہہ
120 رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہو سکے گا۔ میری طرف انہوں نے ہنس کر دیکھا اور کہا‘ جب خیالی پلاؤ پکایا جا رہا ہو تو راشن رسد کی کیوں کمی رکھی جائے۔ یہ کہہ کر ان کی آنکھیں لبریز ہو گیئں‘ ہاں منہ سے کچھ نہ بولے۔ میں نے سوچا‘ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر صاحبان ووٹ کی حصولی کے لیے بڑے خیالی پلاؤ پکاتے ہیں۔ راشن رسد کی اس میں کمی نہیں چھوڑتے۔ ایسے ایسے نقشے کھنچتے ہیں‘ کہ شداد کی ارم بھی کوسوں کے فاصلے پر چلی جاتی ہے۔ امن و سکون کی وہ فضا‘ خیالوں اور خوابوں کو سکھ چین سے نوازتی ہے۔ عملی طور پر بھوک‘ دکھ‘ درد اورمصیبت ان کے کھیسے لگی ہے۔ ہاں البتہ یہ رشک ارم دنیا‘ ان لیڈروں کی دنیا میں ضرور بسی چلی آتی ہے۔ گماشتے انہیں سب اچھا کا سندیسہ سناتے آئے ہیں۔ اگر عورت چاہے تو صفر کو بھی‘ سو کے مرتبے پر فائز کر سکتی ہے۔ اگر الٹے پاؤں چلنے لگے تو سو کو صفر بھی نہیں رہنے دیتی۔ دوسرا گریب صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے‘ اس سے آگے اس کی اوقات و بسات ہی نہیں ہوتی۔ فیجاں کو تو اہلاخگر سے‘ موج مستی سے ہی فرصت نہ تھی‘ شوہر اور بچوں پر کیا توجہ دیتی۔ وہ ملکی لیڈر صاحبان کے قدموں پر تھی۔
121 ایک روز پتا چلا‘ اس نے پہا خادم سے طلاق لے لی ہے اور کسی کے ساتھ چلی گئی ہے۔ پہا خادم اکیلا ہی زندگی کی گاڑی چلاتا رہا۔ ایک روز شراب کے نشہ میں دھت‘ ایک سیٹھ صاحب کی گاڑی کے نیچے آ کر‘ اللہ کو پیارا ہو گیا۔ بچے در بہ در ہوگئے۔ جس بچے کو وہ ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا‘ منڈی میں پلے داری کرنے لگا۔ بعد میں لاری اڈے ہاکری کرنے لگا۔ اس کی ایک مزدور کی بیٹی سے شادی ہو گئی۔ اللہ نے اسے چاند سا بیٹاعطا کیا۔ بےشک باپ کی طرح بڑا محنتی ہے اور آج کل باپ کے سے خیالی پلاؤ پکاتا ہے۔ اس کی بیوی سگھڑ ہے‘ عابی کی وفادار بھی ہے۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ اس کے خیالی پلاؤ کسی حد تک سہی‘ منزل پا ہی لیں۔
122 تعلیم اور روٹی وہ کم پڑھا لکھا کامیاب ہنرمند تھا۔ گزارے سے بڑھ کر کما لیتا تھا لیکن اپنی ایک الگ سے فکر رکھتا تھا۔ ہنرمندوں کی بدحالی اسے خون کے آنسو رولاتی۔ کیا کر سکتا تھا۔ وہ کیا‘ معاملات روٹی ٹکر میں بڑے بڑے کھنی خان مجبور و بےبس ہو گیے تھے۔ دفتر شاہی ہو کہ انتظامیہ‘ اقتداری طبقے کیگماشتہ چلی آتی تھی۔ اسی طرح اقتداری طبقہ اس کے بغیر زیرو میٹر تھا۔ وہ دیر تک سوچتا رہا‘ آخر ہنرمند طبقے کی کس طرح مدد کرے۔ پھر اسے ایک خیال سوجھا۔ خوشی سے اس کا چہرا دمک اٹھا اور اس نے تعلیم ایسے مشکل گزار رستے پر چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ کتاب‘ کاپی اور قلم کی خریدداری کے لیے اس کے پاس پیسے تھے۔ تعلیمی معاملات میں مشکل پیش آ جانے کی صورت میں ماسٹر نور دین سے رابطہ ممکن تھا۔ صبح اٹھتے ہی‘ وہ سب سے پہلے کتابوں کی دکان پر گیا۔ پانچپاس تھا‘ چٹھی کی کتابیں‘ ایک بڑا رجسٹر اور قلم خرید کیا۔ اس نے یہ غور ہی نہ کیا کہ پڑھے لکھے باشعور طبقے‘ روز اول سے‘ شعور سے عاری بااختیار طبقے کی چھتر چھاؤں میں زندگی کرتے آئے ہیں۔ ہنرمندوں کو‘ مکہ بردار اپنے محل اور
123 خودسر گھروالیوں کے مقبرے بنانے کے لیے استعمال کرتےآئے ہیں۔ دوسرا تعلیم اور روٹی کا کوئی رشتہ ہی نہیں‘ تعلیم تو آگہی فراہم کرتی ہے۔ یہ دماغ سے سوچنے کا درس دیتی ہے۔ پیٹ سے سوچنے کے لیے جہالت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دماغ کی سوچ شخص تعمیر کرتی ہے جب کہ پیٹ کی سوچ میں کو ہوا دیتی ہے اور کم زور سروں کی کھوپڑوں سے محل تعمیر کرتی ہے۔ وہ دیر تک کتابوں کے اوراق الٹ پلٹ کرتا رہا۔ رجسٹر پر کچھ لکھنے کی کوشش بھی کرتا رہا۔ اس کی ذہنی کیفیت جنونیوںکی سی تھی۔ چوں کہ سورج روشنی دے رہا تھا‘ اس لیے اسے احساس تک نہ ہوا کہ بجلی کتنی بار گئی ہے۔ رات ہو گئی تھی‘ پھر اچانک ایک جھٹکے سے بجلی چلی گئی۔ اس کے منہ سے بےاختیار او تیرے کی نکل گیا۔ دوسرے ہی لمحے اسے خیال آیا‘ کہ وہ میٹرک پاس کرکے واپڈا میں بھرتی ہو کر ہنرمندوںکی مدد کرنا چاہتا تھا۔ حکومت تو خود ہنرمندوں کی مدد کر رہی تھی۔ فیکس ٹائم کے علاوہ بھی چار چھے اچانکیہ جھٹکے‘ انرجی سیور ہی نہیں‘ اور بھی بہت ساری چھوٹی بڑی چیزوں کو لے دے جاتے تھے۔ بڑی بڑی کمپنیوں سے لے کر‘ چھوٹے سے چھوٹے ہنر مند کی دال روٹی کا سامان تو ہو رہا تھا۔ یہ ہی تو وہ کرنا چاہتا تھا جو پہلے سے ہی ہو رہا تھا۔ اسے اپنی گھٹیا
124 سوچ پر بڑی شرمندگی ہوئی‘ کہ صاحب اختیار طبقے تو پہلے ہی ہنرمندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس نے کاپیاں کتابیں الماری میں رکھ دیں اور سر کے نیچے بازو رکھ کر سکون کی نیند سو گیا۔
125 بوسیدہ لاششباب مرزا ایمرجنسی وارڈ میں پڑا‘ زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہا تھا۔ ڈاکٹر اور نرسیں‘ اس کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس پر کھل گیا تھا کہ اب کہانی‘ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ دوا دارو دوبارہ سے‘ اسے زندگی کی شاہراہ پر لا کر‘ کھڑا نہیں کرسکتے۔ بچ بھی گیا تو وہ پہلے سی توانائی‘ میسر نہ آ سکے گی۔ وہ زندگی بھر کسی کا سہارا نہیں بنا‘ اس کا کوئی کیوں سہارا بنے گا۔ ہر کسی کا قول و فعل‘ محض دکھاوے اور اسے خوش کرکے‘ کچھ حاصل کرنے کے لیے ہو گا۔ زندگی کا ہر بیتا لمحہ‘ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گھومگیا۔ ابھی وہ اتنا بڑا نہیں ہوا تھا کہ اسے لذت کا احساس ہو گیا۔ ہوا یوں کہ ان کے گھر اس کی خالہ اور اس کی بیٹی ملنے یا کسی کام سے آئیں۔ خالہ نے اسے گلے لگایا اور اس کی بلائیںلیں۔ اس کی خالہ زاد‘ جو عمر میں کوئی اس سے زیادہ بڑی نہ تھی‘ بھی اسے گلے ملی۔ خالہ کے گلے ملنے میں کوئی مزا نہ تھا لیکن خالہ زاد کے ملنے سے‘ اس کے بدن میں عجب سی لذت دوڑ گئی۔ وہ اسے بار بار ملنا چاہتا تھا۔ اس کے رونگٹے میں ان جانی سی ہلچل مچ گئی۔ کئی بار کھڑا بھی ہوا۔ شاید اس
126 لڑکی کی استفادہ میں بھی یہ ہی کیفیت رہی ہو گی۔ اس کی اماں اور خالہ باتوں میں جھٹ گئیں۔ سسرالی خاندانوں کی خامیاں موضوع گفتگو تھیں۔ وہ تو اپنے مجازی خداؤں کو بھی لتاڑے چلی جا رہی تھیں۔ وہ اور اس کی خالہ زاد‘ اپنی ماؤں کے باہمی مذاکرات سے بےنیاز‘ رومان کی دنیا آباد کیے ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا‘ جب تک اس کی خالہ نے اپنی بیٹی کو آواز نہ دے دی۔ لذت کے اس احساس نے‘ اسے متحرک کر دیا۔ تعلیمی معاملاتطے کرنے کے لیے‘ اس نے ہر جائز ناجائز حربہ اختیار کیا۔ یہہی طور اس نے اچھے روزگار کے لیے اپنایا۔ اچھی رہائش اور اس کے لوازمات کے لیے جائز کو مستقل طور پر‘ زندگی سےخارج ہی کر دیا۔ دنیا کی کون سی ایسی آسائش ہو گی‘ جو اسے میسر نہ آئی۔ کوٹھی‘ کار‘ بنگلہ‘ بینک بیلس‘ نوکر چاکر گویا سب کچھ اس کے کھیسے لگ چکا تھا۔ ایسے حالات میں‘ بڑے گھر کی بیٹی بھی رونق افروز ہو گئی۔ وہ ہی کیا‘ حسیناؤں کا ایک ہجوم اس کے گرد رہتا۔ اس کا قرب‘ بڑے حسن اور ناز و ادا والیوں کو ہی نصیب ہوتا۔ رونگٹا ذرا کم زور پڑتا تو دواؤں کا انبار لگ جاتا۔ اٹھنےبیٹھنے‘ آنے جانے‘ کھانے پینے‘ سونے جاگنے غرض ہر نوع کی لذت اس کے قدم لیتی رہی۔ آخر کب تک‘ معدہ اپ سٹ رہنے
127 لگا۔ رونگٹا بھی ڈھیٹ سا ہو گیا۔ باہر تو باہر‘ اس ذیل میں گھر پر بھی ذلت اٹھانا پڑتی اور وہ وہ باتیں سنتا‘ جن کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ماں کی دیکھا دیکھی‘ بچے بھی اس کی پرواہ چھوڑ گیے۔ اب وہ بااختیار افسر نہیں تھا جو اردگرد چمچے کڑچھے ہوتے۔ باہر نکلتا تو ناانصافی برداشت کرنےوالوں کی غصیلی نظریں کھانے کو دوڑتیں گھر آتا تو نادیہ پاگلکتیا کی طرح‘ کاٹنے کو آتی۔ لذت نے آزار کا بھیس اختیار کر لیا تھا۔ ایک دو دن نہیں‘ پانچ سے زیادہ عرصہ‘ اس نے ذلت و عذاب میں گزارا۔ رونگٹے کی بےوفائی اس حالت تک لے آئی تھی۔ ہسپتال بھی اسے شرم کوشرمی لایا گیا تھا دوسرا سارا دن اس عذاب کو کون جھیلتا۔ یہاں سابقہ سرکاری افسر ہونے کی وجہسے‘ کسی حد تک سہی‘ خدمت میسر آ رہی تھی۔ وہ آنکھیں بند کیے یہ ہی سوچے جا رہا تھا کہ لذت کے لمحے آخر کیوں ختم ہو جاتے ہیں۔ آخر سب کچھ برقرار کیوں نہیں رہتا۔ پھر اس نے سوچا کہ اگر زندگی کی لذت کو استحقام نہیں تو زندگی کی اذیت کو بھی بقا نہیں ہو سکتی‘ یہ بھی ختم ہو جائے گی۔ سوچوں کے گرداب میں پھنسی اذیت آمیز زندگی نے‘ آخری ہچکی لی اور پھر وہاں ایک بوسیدہ لاش کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔
128 وبال دیکھیے لالے دینو سے‘ اکثر چائے کے کھوکھے پر ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ اس کے محنتی اور مشقتی ہونے میں‘ کوئی شک نہیں۔ سارا دن ریڑھی پر سبزی بیچتا اور رات کو ریڑھی گھر ڈک کر‘ یہاں چار یاری میں آ بیٹھتا۔ ہم سب مل کر گپ شپ کرتے‘ ہنسیمذاق بھی خوب چلتا‘ دن بھر کی باتیں ہوتیں‘ سیاسی موضوعات بھی گفتگو میں آ جاتے‘ ذاتی معاملات پر مشاورت ہوتی۔ شقے کو بیوی کی بدسلوکی کے سوا‘ کچھ نہ آتا تھا۔ غریب توسارے ہی تھے‘ لیکن لبھے پر غربت کچھ زیادہ ہی نازل ہو گئیتھی۔ طافی نے چوں کہ داڑھی رکھی ہوئی تھی‘ اس لیے ہم سباسے مولوی کہہ کر پکارتے‘ مسلمان جرنیلوں کے کچھ تاریخی اور کچھ پاس سے گھڑ گھڑ کر قصے سناتا۔ اگر پڑھا لکھا ہوتاتو دوھائی کا کہانی کار ہوتا۔ لالے دینو کو اپنے بڑوں کی وڈیائی کے سوا کچھ نہ آتا تھا۔ وہ وہ چھوڑتا‘ کہ ہم سب دھنگ رہ جاتے۔ اکبر بادشاہ بھی جاہ و جلال اور مال و منال میں پیچھے رہ جاتا۔ صدیقا منہ پھٹ بھی ہماری سلام دعا میں شامل تھا۔ اس کا کام ہی ہر اچھے برے‘ سچ جھوٹ پر تنقید کرنا تھا۔تنقید‘ مولوی اور لالے دینو کو تو آڑے ہاتھوں لیتا تھا۔ اس کی
129 کسی حد تک غلط بھی نہ تھی۔ اس کا کہنا تھا‘ ان جرنیلوں نے اسلام نہیں پھیلایا۔ جرنیل مسلمان ہوں یا غیرمسلم‘ قتل و غارتکا ہی بازار گرم کرتے آئے ہیں‘ ان پر فخر کیسا‘ ہاں داتا صاحب یا ایسے دوسروں نے‘ اپنے عجز و انکسار‘ پیار‘ رواداری‘ بھائی چارے‘ انسانی برابری کے درس سے اسلام پھیلایا ہے۔ اسی طرح لالے دینو سے کہتا‘ او چھوڑو یار‘ جو تم بتاتے ہو‘ وہ ہوں گے‘ دیکھنا تو یہ ہے کہ تم کیا ہو‘ بس ماضی پر اتراتے رہو اور خود صفر رہو۔ یار ہمیں بھی کوئی خاص کرنا چاہیے تا کہ آتی نسل کے کام آ سکے۔ اکثر معاملہ بحث اور پھر تو تکرار کی حدوں کو چھونے لگتا۔ میرا موقف تھا‘ اس بیٹھک کو شغل میلے تک رہنا چاہیے۔ کوشش کے باوجود‘ تو تکرار ہو ہی جاتی۔ اس روز لالا دینو کچھ زیادہ ہی گرم ہو گیا۔ صدیقا بھی تو زبان کو تالہ نہیں لگا رہا تھا۔ صدیقے نے لالے دینو کا گریبان پکڑ لیا۔ لالے دینو نے وٹ کر صدیقے کے سینے میں گھونسہ مارا اور وہ نیچے گرپڑا۔ لالے دینو کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ صدیقہ زمین پر آ رہے گا۔ اب وہ ہی سب سے زیادہ ترلے لینے والوں میں تھا۔ افسوس صدیقا لالے دینو کی ایک نہ سہہ سکا اور اللہ کو پیارا ہو گیا۔ پلس آئی اور ہم سب کو پکڑ کر لے گئی۔ ہماری تو کچھ جھڑ جھڑا کرتھانے سے رخصتی ہو گئی ہاں لالے دینو کو پھنٹی کے ساتھ جیل بھی جانا پڑا۔ وبال دیکھیے‘ ہمیں بھی باطور گواہ حاضری پر رکھ لیا گیا۔
130 عصری ضرورت میں جدید لبرل مسلمان ہوں اور یہ سب جانتے ہیں‘ بتانے کیضرورت نہیں۔ ایک شیطان ہی ہے جو نہیں مانتا‘ اس کا کہنا ہے کہ میں اس کا ہم پیشہ و ہم مشرب ہوں۔ پرسوں ہم انٹرنیشنل فائیو سٹار ہوٹل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آتے جاتے جوڑوں کے لباس اور ان کے طور و اطوار کو پرذوق اور پرحسرت نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ یقین مانیئے ہر آنے والی کا حسن وجمال اور ادائیں‘ کاش کے تند و تیز چھرے سے‘ میری روح کو زخمی کر رہی تھیں۔ بدبخت پاس ہی بیٹھا‘ ان کے حسن و جمال اور اداؤں سے کم‘ میری بےچینی پر زیادہ خوش ہو رہا تھا۔بیٹھا بیٹھا اچانک سنجیدہ سا ہو گیا۔ میں نے پوچھا‘ او سالے یہاچانک تمہارا بوتھا شریف کیوں لمک گیا ہے۔ کہنے لگا یار دنیا بڑی خودی غرض ہے۔ کیوں کیا ہو گیا ہونا کیا تھا‘ پرسوں بھابی اور بٹیا ادھر ہی‘ ملکوں کے ایک شوخے کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ کم بخت بھابی کا آنا پسند نہیں کر رہا تھا۔ پہلے اس نے اپنا مطلب نکال لیا۔ بھابی نے کیا کہنا تھا‘ بےچاری چپ چاپ بیٹھی ناشتے پانی کا انتظار کر رہی تھی۔ کافی دیر بعد کھانے میں کافی کچھ منگوایا گیا۔ خود بھی
131 کھاتا مرتا رہا۔ پھر واش روم جانے کے بہانے سے اٹھا اور کھسک گیا۔ ان بےچاریوں نے چھوٹے کے ہاتھ پیسے منگائے اور وہاں سے خلاص ہوئیں۔مجھے بڑا تاؤ آیا۔ ان کی اس بیٹھک کا تو مجھے علم تھا‘ لیکن ملکوں کے شوخے کی اس کمینی حرکت سے آگاہ نہ تھا۔ سب بےمزا اور کرکرا ہو گیا۔ دل چاہتا تھا کہ اس شوخے کے ڈکرے ڈکرے کر دوں۔ میں نے اسے کہا‘ یار بس اب اٹھو‘ چلتے ہیں۔ دنیا کی چال بازی پر مجھے دکھ اور افسوس ہوا۔ معاملات میںآدمی کو اتنا بھی نہیں گرنا چاہیے۔ میں اگر جھوٹ بولتا ہوں‘ تولوگ میرے کہے کا یقین کرتے ہیں۔ اگر یقین نہ کریں تو مجھے کیا پڑی ہے‘ جوجھوٹ بولوں۔ معاملات میں‘ میں نے کبھی دونمبری نہیں کی۔ وہ پیسے دیتےہیں‘ میں گواہی دیتا ہوں۔ ان کا احسان نہ میرا احسان۔ رشوت کی رقم مفت میں تو نہیں لیتا‘ کام کرتا اور کرواتا ہوں۔ کسیدوسرے دفتر سے کام کرواتا ہوں تو ٹن پرسنٹ میرا اصولی حق بنتا ہے۔ میں دودھ میں پانی ملاتا ہوں تو اس میں غلط کیا ہے‘ پیچھے سے کب کھرا آتا ہے۔ میرا پانی ملانا دکھتا ہے تو سپلائی کرنے والا کیوں نظر نہیں آتا۔ دوسرا میں کون سا زور زبردستی فروخت کرتا ہوں‘ نہ خریدیں۔ انہیں حکیم نے کہا ہے‘ جو وہ پانی یا کیمیکل ملا دودھ خریدتے ہیں۔ خریددار کے سب
132 علم میں ہے تو یہ دو نمبری کس حساب سے ہوئی۔ میں لبرل ماڈرن مسلمان ہوں‘ دو نمبری کو غلط اور قابل تعزیر سمجھتا ہوں۔ عہد قدیم کے مسلمانوں کا دائرہ محدود تھا‘ اس لیے اصول بھی اسی دور کے مطابق تھے۔ میرا واسطہ گلوبل ہے۔ امریکہ اور جاپان اب دو قدم کے ملک رہ گئے ہیں‘ لہذا مجھے عصری اصولوں کو فالو کرنا ہوتا ہے۔ حضرت بلال حضور کریم کے قریب تھے‘ لہذا وہ ویسے تھے۔ حضور کریم میرے قریب نہیں ہیں‘ کیا یہ میری برخورداری نہیں کہ میںحضور کریم سے بڑی محبت کرتا ہوں‘ ہاں ان کے کہے پر نہیں چلتا‘ بل کہ آج کی ضرورت کے مطابق زندگی کر رہا ہوں۔ لبرل ماڈرن مسلمان ہونے کے ناتے‘ گیو ٹیک کو اپنائے ہوئے ہوں۔ میں نے ہر اس عورت کو اپنی ماں بہن سمجھا ہے جو میرے ساتھ پھنستی نہیں۔ بڑی سالی تکبر میں رہی‘ میں نے بھی اسے جوتے کی نوک پر رکھا۔ ہمیشہ باجی باجی کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ ہاں چھوٹی لبرل ماڈرن مسلمان تھی‘ اس سے سلام دعا ہو گئی۔ اس کی شادی ہو گئی‘ اب جب کبھی آتی ہے‘تو ہمارا گیو ٹیک ہو جاتا ہے۔ ہاں البتہ ساس مجھ پر مہربان ہے تو میں بھی اس کے معاملہ میں بخیل نہیں۔ مجھے ملکوں کے شوخے پر تاؤ آتا ہے‘ بےغیرت دونمبری کرتا ہے۔ کچھ لیا ہے تو کچھ دو بھی۔ ایسے ہی دو نمبر لوگ
133 قابل تعزیر ہوتے ہیں۔ اگر ملک کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں آ جائے تو اس طور کے ہر دونمبری کو‘ چوراہے میں الٹا لٹکا دوں تا کہ کسی کو دونمبری کرنے کی جرآت ہی نہ ہو۔ وہ لبرل ماڈرن مسلمان نہیں ہیں‘ مولوی کو‘ ایسے دو نمبریوں پر کفر کا فتوی لگا دینا چاہیئے۔ مولوی عصری ضرورت سے ہٹ کر‘ فتوی سازی میں مصروف ہیں۔ انہیں آج کی ضرورت اور حقائق کے مطابق چلنا ہو گا‘ ورنہ انہیں لبرل ماڈرن مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔
134 اماں جیناں اماں جیناں محلہ کیا‘ اردگرد کے محلوں میں بھی پسند نہیں کی جاتی تھی۔ اسے بیوہ ہوئے آٹھ سال ہو گئے تھے۔ اس کا خاوند مشقتی تھا‘ لیکن تھا بھلا آدمی۔ صبح کام پر چلا جاتا اور رات دیر تک مشقت کرتا۔ اس نے اپنی محنت سے‘ چھوٹا اور کچا پکا ذاتی مکان بھی بنا لیا تھا۔ ضرورت کی ہر شے اس میں لا کر رکھ دی تھی۔ جتنا ایک مشقتی سے ممکن ہوتا ہے کیا۔ اپنی بولار بیوی کو ہر طرح کا سکھ‘ فراہم کرنے کا جتن کیا۔ اماں جیناں نے اپنے خاوند سحاکے کے ہر رشتہ دار‘ یہاں تک کہ اس ماں کی بھی دڑکی لگا دی۔ وہ بڑی برداشت کا مالک تھا۔ اس زیادتی کو کوڑا گھونٹ سمجھ کر پی گیا اور حسب معمولمحنت مشقت پر جھٹا رہا۔ ماں اور بہن بھائیوں کو وقت نکال کر مل لیتا۔ ہاں البتہ پانچ دس منٹ کے لیے سہی‘ ماں کو ہر روز بھرجائی کے کوسنے سن کر بھی‘ ملنے چلا جاتا۔ معلوم پڑ جانے کے بعد جیناں بھی وقت کووقت اور اپنے خاوند کی حالت دیکھے بغیر‘ منہ میں زبان رکھنا بھول جاتی۔ اس کی زبان نے بابے سحاکے کے اپنے تو اپنے‘ ملنے والے بھی بہت دور کر دیے تھے۔ ہر کوئی اس سے بات کرتے ڈرتا‘
135 مبادا کوئی گلاواں ہی گلے آ پڑے گا۔ الٹی کھوپڑی کی مالک تھی‘ سیدھی بات کو غلط معنوں میں لے لیتی تھی۔ مثلا کوئی بھولے سے بھی پوچھ بیٹھتا :مائی جیناں کیا حال ہے۔ جواب میں اسے یہ ہی سننا پڑتا‘ اندھے ہو نظر نہیں آتا‘ چنگی بھلی ہوں۔ جب ایسی صورت ہو تو کوئی اس کے منہ کیوں لگتا۔ منہ متھے لگتی تھی‘ علاقے میں انھی ڈال سکتی تھی۔ ہمیشہ سے بوڑھی نہ تھی۔ مجال ہے کوئی اس کے بارے غلط بھی سوچتا۔ کھگو نے جوانی کے دور میں‘ ٹرائی ماری تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا جگ جانتا ہے۔ جب بھی وہ نظر آ جاتا‘ شروعہو جاتی۔ اس نے معافی بھی مانگی لیکن جیناں نے معاف نہ کیا۔ اس کا موقف تھا کہ کھگو کو ایسی جرآت ہی کیوں ہوئی۔ اس نے ایسا سوچ بھی کس طرح لیا۔ چوں کہ قریب کی گلی کے تھے‘ وہ گلی دیکھ کر گزرتا۔ اگر جیناں نظر آ جاتی تو بل باش ہو جاتا۔ اس کے برعکس اگر جیناں کی اس پر نظر پڑ جاتی‘ تو رانی توپ کا منہ کھل جاتا۔ جب تک زندہ رہا‘ نزع کی حالت میں ہی رہا۔ اماں جیناں کی کوئی اولاد نہ تھی۔ خاوند کے مرنے کے بعد بےسہارا سی ہو گئی۔ پورے محلہ میں کوئی اسے پوچھنے والا نہ تھا۔ جب تک گھر پر جمع پونجی باقی رہی‘ گزارا کرتی رہی۔ فاقوں پر آ گئی‘ اس نے کسی پر ظاہر تک نہ کیا۔ سب کچھ ذات اور آنسوؤں میں ضبط کرتی رہی۔ میری گھروالی کو جانے
136 کیسے معلوم ہو گیا۔ اس نے بات میرے سامنے رکھی۔ مجھے عزت عزیز تھی۔ میں اس کی مدد کرنا چاہتا تھا‘ لیکن ڈرتا تھا کہ کہیں معاملہ گلے ہی نہ آ پڑے۔ایک دن گلی سے گزر رہا تھا‘ اماں جیناں اپنے گھر کی دہلیز پر اداس اور افسردہ بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ میں دور سے‘ جو اسے سنائی دے رہا جعلی بڑبڑاتا ہوا اس کے قریب سے گزرا۔ اس نے مجھے کبھی اس انداز میں نہ دیکھا تھا۔ قریب آیا تو اس :نے پوچھ ہی لیا پتر کیا ہوا ماں جی ہونا کیا ہے‘ کیسا دور آ گیا ہے‘ پیسے پورے لے کربھی چیز درست نہیں دیتے۔ میرے بیگ میں کیلے تھے میں نے کیلے انہیں پکڑائے اور خود دوبارہ سے بڑبراتا ہوا آگے بڑھگیا۔ اس نے بڑی حیرت سے میری طرف دیکھا اور کیلے لے کر اندر چلی گئی۔ مجھے شہہ مل گئی اور پھر میں‘ آنے بہانے اماں جیناں کو کچھ ناکچھ دے کر کام پر چلا جاتا۔ ایک مرتبہ میں نے کچھ پیسے بھی چیز کے ساتھ رکھ دیے۔ اگلے روز گھر واپس آتے اس نے مجھے روک لیا اور کہا غلطی سے پیسے بھی آ گیے تھے۔ میں نے کہا نہیں ماں جی‘ آپ کے حصہ ہی کے تھے اورمیں جلدی سے وہاں سے رخصت ہو گیا‘ کہ کوئی تماشا کھڑا نہ
137کر دے۔ جب اگلے دن وہاں سے گذرا تو دیکھا‘ اماں کی آنکھوں میں تشکر لبریز آنسو تھے۔ سچی بات ہے میری بھی آنکھیںچھلک پڑیں۔ اس کے بعد میں بلاڈرے اس کی خدمت کرنے لگا۔۔ دن گزر گئے‘ اور آج اماں کو حق ہوئے بھی کئی سال ہو چلے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا‘ وڈ ٹک سے پہلے اماں بڑے کھاتے پیتے خاندان کی تھی۔ سحاکا ہی اسے زخمی حالت میں‘ اس کی جان بچا کر لے آیا تھا ورنہ اللہ جانے اس کے ساتھ کیا گزرتی۔اماں نے سحاکے کے ساتھ نکاح کر لیا۔ سحاکا ازدواجی معاملات میں پیدل تھا‘ اماں نے پھر بھی پاک صاف رہ کر زندگی گزار دی۔ مائی صوباں کا یہ انکشاف‘ حیرت سے خالی نہ تھا۔ سب خلائی سا معلوم ہو رہا تھا۔ سچ میں‘ اللہ کی اس زمین پر یہ وقوع میں آ چکا تھا۔
138 اس کا نام ہدایتا ہی رہاتجربہ زندگی کو سنوارتا‘ نکھارتا اور بعض اوقات شخصیت میں انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ ہداتے اور اس کی رن ماجدہ کا‘ ہردوسرے تیسرے رن کچھ سا رن لگتا۔ وہ جند جان میں اس سے کہیں بھاری تھی۔ اڑبڑ کرتا‘ تو سیدھا چمٹا چلاتی‘ جو اس کے کہیں ناکہیں آ لگتا۔ آشاں کا نشانہ بڑے کمال کا تھا۔ اس کے وڈ وڈیروں میں یقینا کوئی بہت بڑا شکاری رہا ہو گا۔ ایک بار تو سیدھا وہاں سے‘ تھوڑا ہی فاصلے پر آ لگا۔ کئی دن ٹانگیں چوڑی کرکے چلتا رہا۔ اگر خدا نخواستہ وہاں لگ جاتا‘ تو آجصحن میں اٹھکیلیاں کرتی منی سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ اس چوٹ نے آشاں پر تو کوئی اثر نہ ڈالا‘ ہاں البتہ اس تجربے نے اس کے معمول میں انقلابی تبدیلی ضرور کر دی۔ اب جب بھی رن‘ رن میں اترنے کا موڑ بناتی‘ یہ فورا سے پہلے گھر کی دہلیز کے اس پار ہوتا۔ وہ اندر فائرنگ کرتی یہ باہر کھڑا کبھی گولے اور کبھی تھری نٹ تھری کی گولیاں چلاتا۔ ہاں البتہ‘ ہر دو تین گولیاں یا گولے چلانے کے بعد‘ اتنا ضرور کہتا‘ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ اس کے بعد اللہ تمہیں ہدایت دے اس کا تکیہءکلام ہی بن گیا۔ اس کا اصل نام نور محمد تھا لیکن اس تکیہءکلام کی وجہ سے‘ اس کا نام
139بھی ہدایتا پڑ گیا۔ پھر ہر دو تین کلمے منہ سے نکالنے کے بعد‘ اللہ تمہیں ہدایت دے ضرور کہتا۔ لوگ چوں کہ اس کے اس تکیہءکلام سے آگاہ ہو چکے تھے‘ اس لیے غصہ نہ کرتے۔ ایک بار سردار صاحب کے بیٹے کی جنج چڑھنا تھا۔ اچھےکپڑے سلوا لیے‘ اسی طرح اوکھے سوکھے ہو کر نیا جوتا بھیخرید لیا۔ اگلے دن جنج چڑھنا تھا‘ رن سرکار سے خوب حجامتکروانے کے بعد‘ شہر حجامت اور شیو بنوانے چلا گیا۔ حجام کی دکان پر تھوڑا رش تھا۔ وہ ادھر ہی بیٹھ گیا اور موجود لوگوں کی باتیں سننے لگا اور ساتھ میں ہوں ہاں بھی کرنے لگا۔ خدا خدا کرکے‘ اس کی بھی باری آ ہی گئی۔ حجام باتونی تھا۔ حجامت بھی بنائے جا رہا تھا اور ساتھ میں باتیں بھی کیے چلے جا رہا تھا۔ ہدایتا اس کی ہاں میں ہاں ملارہا تھا۔ ساری باتیں وہ ہی کیے جاتا تھا۔ خدا خدا کرکے ایک دو باتیں اسے بھی کرنے کا موقع مل گیا۔ حسب عادت دو تین باتیںکرنے کے بعد‘ اللہ تمیں ہدایت دے کہہ بیٹھا۔ حجام کام چھوڑ کر‘ لال لال آنکھیں نکال کر کہنے لگا‘ اوئے پینڈو کیا میں بےہدایتا ہوں اور ہدایت تو سکھائے گا۔ چپ رہتا یا معذرت کر لیتا تو بات نہ بگڑتی۔لفظ پینڈو اسے چبھ سا گیا اور گھر سمجھ کر بکنے لگا۔ پھر کیا تھا‘ وہاں موجود لوگوں نے اسے پکڑ کر خوب وجایا۔ اور تو
140 اور چہرے پر بھی اچھے خاصے آلو ڈال دیے۔ ابھی آدھے ہی بال کٹے تھے کہ بقیہ جان بچا کر واپس آ گیا۔ آشاں زخموں پر مرہم رکھنے یا اس حجام کا گھر پر ہی زبانی کلامی گھر پورا کرنے کی بجائے‘ اس کے چہرے کے آلو دیکھ کر خوب ہنسی۔ اس واقعے کے بعد وہ جنج چڑھنے سے محروم ہو گیا اورگاؤں بھر کے مردوں‘ عورتوں اور بچوں کے لیے مذاق بن گیا۔ ہاں البتہ اس کا تکیہءکلام ضرور بدل گیا۔ اللہ تمہیں ہدایت دے کی بجائے‘ اللہ مجھے ہدایت دے بولنے لگا۔ یہ بات قطعی الگ سے ہے کہ زبان پر مجھے اور دل میں تجھے ہی ہوتا۔ اس نےاپنے لیے کبھی ہدایت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی‘ جیسے پیدایشی ہدایت یافتہ ہو۔ اس حادثے کے بعد‘ نام بھی تبدیل ہو جانا چاہیے تھا‘ لیکن اس کا نام ہدایتا ہی رہا۔
141 بھاری پتھرمغرب میں اماں بابوں کا گلاواں‘ اولاد گلے میں نہیں ڈالتی۔ وہاں ان پرانے وقتوں کے لوگوں کو‘ بڈھا ہاؤسز میں چھوڑ دیا جاتا ہے‘ جہاں وہ اپنے وقتوں کی کہانیاں‘ ایک دوسرے کو سنا کر‘ ہنسی خوشی زندگی گزار لیتے ہیں۔ ہر نئے دور کے تقاضے اپنے ہوتے ہیں۔ نئے دور کے لوگ‘ اپنے ان تقاضوں کے ساتھکھل ڈھل کر زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی کرنی میں‘ کوئی میم میخنکالنے والا نہیں ہوتا۔ ناہی انہیں ایک دوسرے کی کرنی پر کوئی اعتراض ہوتا ہے۔ جہاں جانا ہو دوڑ کر جا سکتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں‘ انہیں بھی کندھا پکڑا کر ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔ واپس آ کر ان کی تقریریں سننا پڑتی ہیں۔ دور کیا جانا ہے‘ کل ہی کی بات کو لے لیں۔ بابے مہنگے کو بھی شادی حال میں لے گئے۔ خیال تھا کہ نیا ماحول دیکھ کر‘ تازہ دم ہو جائے گا اور آج کل کا پیٹ بھر کر کھا کر‘ خوش ہو گا۔ مگر کہاں جی‘ جتنی دیر وہاں بیٹھا‘ بڑ بڑ کرتا رہا۔ بہو اور بیٹیوں کو گھور گھور کر اور کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہا۔ گھر آ کر‘ اماں پر برس پڑا کہ کتنا بےحیا دور آ گیا ہے۔ کسی کو اپنی عزت آبرو کا احساس تک نہیں رہا۔ یہ لباس تھا‘ باریک‘ آدھا اور وہ بھی ٹائٹ۔ ٹانگوں کی اگلی پچھلی اور
142 سینے کی لکیریں‘ نمایاں ہو رہی تھیں۔ کسی کے سر پر دوپٹہنہ تھا۔ یوں نچ ٹپ رہی تھیں‘ جیسے چوتڑوں میں کیڑا گھس گیاہو۔ بھائی اور خاوند ساتھ تھے‘ کسی کو غیرت نہیں آ رہی تھی۔ اب پتا چلا کہ ہم مسلمان ہو کر بھی‘ دنیا جہان کے چھتروں کی زد میں کیوں ہیں۔ بابے نے اتنے اعلی کھانے میں بھی‘ ہزار طرح کے کیڑے نکالے۔ اماں جس نے بابے کو ساری عمر نپ کر رکھا تھا‘ آجاسے قابو نہ کر پا رہی تھی۔ اپنی کہے جا رہی تھی لیکن پورا نہ اتر رہی تھی۔ بابا مکمل طور پر چھایا ہوا تھا اور پٹری سے اتر چکا تھا۔ ملک کے سربراہوں کے بھی بابے ہوں گے‘ معلوم نہیں وہ ان پر کس طرح قابو پاتے ہوں گے یا پھر ان کے بابے بھی لکیر پسند ہوں گے۔ سربراہ بابا ہو تو بھی بابا نہیں ہوتا۔ حکیم ڈاکٹر ان کے مطیع ہوتے ہیں۔ دوسرا وہ سب کے ہوتے ہیں اس لیےان کا لبرل اور لکیر نواز ہونا ضروری ہوتا ہے۔ رہ گئی بات دنیا جہاں کے چھتر کھانے کی‘ وہ تو ہم صدیوں سے کھا رہے ہیں۔ اگر کوئی ان موقعوں پر ہماری بیویوں‘ بیٹیوں اور بہنوں کی لکیروں سے‘ نظری یا محض معمولی معمولی ٹچ سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے‘ تو ہم بھی کب پیچھے ہوتے ہیں۔ ہماری آنکھیں کھلی اور ہاتھ متحرک ہوتے ہیں۔ اگر ہماری عورتیں ان کے لیے لطف کا سامان ہوتی ہیں‘ تو ان کی عورتیں بھی ہمیں
143 حظ مہیا کر رہی ہوتی ہیں۔ بابر سے لبرل بادشاہ نے کہا تھا : بابر باعیش کوش کہ دنیا دوبارہ نیستیہ بابے کیا جانیں۔ خشک جیئے اور ہمیں بھی‘ اسی رہ پر رکھنا چاہتے ہیں۔ حاکم اپنی موج میں ہیں۔ ہمیں بھی جدید طرز کی زندگی گزارنا ہے لیکن ان بابوں کے ہوتے‘ مکمل طور پر یہممکن نہیں۔ بااختیار اداروں کا فرض بنتا ہے کہ ان بابوں کا کچھکریں ورنہ ان کے لیکچر ہمیں جدید زندگی سے درر رکھیں گے۔ ہم آزادی حاصل کرکے بھی آزادی سے دور رہیں گے۔ جو بھی سہی‘ یہ طے ہے کہ امرا کے ناسہی‘ ہمارے بابے عصری آزادی کی راہ کا بھاری پتھر ہیں اور ہم سے لبرل‘ ماڈرن‘ آزاد‘ ترقی پسند اور مغرب کے پیروں کو غیرت کا لیکچر پلا پلا کر غیرت پسند بنا دینا چاہتے ہیں۔
144 ایسے لوگ کہاں ہیںیہ دنیا سرائے کی مانند ہے‘ کوئی آ رہا ہے تو کوئی جا رہا ہے۔ سرائے میں مستقل کوئی اقمت نہیں رکھتا۔ ہاں ہر آنے والا اپنا ایک تاثر ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی اچھا تو کوئی برا۔ اس تاثر کے حوالہ سے ہی‘ اس مسافر کو یاد میں رکھا جاتا ہے۔ بابا صاحب بھلے آدمی تھے۔ طبعا مہربان‘ شفیق اور اپنے پرائے کے غم گسار تھے۔ کسی کو دکھ میں دیکھتے‘ تو تڑپ تڑپ جاتے۔ جب تک اس کی تکلیف دور کرنے کا پربند نہ کر لیتے‘ سکھ کا سانس نہ لیتے تھے۔ اچھائی اور خیر کے معاملہ میں‘ دھرم اور مسلک ان کے نزدیک‘ کوئی معنویت نہ رکھتا تھا۔ ان کا موقف تھا‘ جس طرح اللہ سب کا نگہبان ہے‘ اسی طرح انسان بھی سب کا نگہبان ہے۔ اس کی پیدا کی ہوئی کوئی بھی مخلوق‘ دکھ میں ہے تو انسان کو‘ اس کا ہر حال میں دکھ دور کرنا چاہیے۔ کوئی برا کرتا ہے تو یہ اس کا کام ہے‘ برائی کے بدلے برائی کرنا‘ تمہارا کام نہیں۔ تم جو بھی کرو‘ اچھا اور اچھے کے لیے کرو۔ ان کے پاس‘ ہر دھرم سے متعلق لوگ آتے۔ کوئی خیر و برکت کی دعا کے لیے آتا‘ تو کوئی علم وادب اور مذہب سے متعلقگفتگو یا مشاورت کے لیے آتا۔ سب کے ساتھ یکساں سلوک روا
145 رکھتے۔ تحمل سے اس کی سنتے اور پھر اپنا موقف پیش کرتے۔ جب تک وہ مطمن نہ ہو جاتا‘ رخصت نہ کرتے۔ بائیبل مقدس‘ رومائن‘ بھگوت گیتا‘ گرنتھ صاحب کا ورق ورقانہوں نے پڑھ رکھا تھا۔ بدھ مت کے متعلق بھی اچھا خاصا نالج رکھتے تھے۔ پہلے تو متعلقہ کی کتاب اور پھر قرآن مجید کے حوالہ سے بات کرتے۔ یار کمال کے شخص تھے۔ کوئی نذر نیاز لے آتا تو رکھ لیتے‘ جب جانے لگتا تو اس تاکید کے ساتھ واپس کر دیتے‘ کہ چیزیں صرف اپنے بیوی بچوں میں تقسیمکرنا۔ اصرار کے باوجود کچھ نہ رکھتے۔ فرماتے بیٹا‘ تم چنتا نہکرو‘ اللہ مجھ اور میری بھوک پیاس سے خوب خوب واقف ہے۔ ایک بار ایک اجنبی آیا۔ کچھ کہے سنے بغیر ہی‘ دروازے پر کھڑے ہو کر‘ بابا صاحب کو برا بھلا کہنے لگا۔ جب حد سے گزرنے لگا‘ تو بیٹھے لوگوں میں سے ایک اٹھ کر اس کی ٹھکائی کرنے لگا۔ بابا صاحب نے اسے منع کر دیا۔ بہت کچھ کہہ لینے کے بعد وہ چلا گیا۔ ایک بولا بیڑا غرق ہو اس خانہ خراب کا‘ کتنی بکواس کر رہا تھا۔ اگر بابا صاحب نہ روکتے‘ تو آج میں اسے اس بدتمیزی کا ایسا مزا چکھاتا کہ نسلوں کو بھی منع کر جاتا۔ بابا صاحب اس کے اس طرز تکلم سے سخت پریشان ہوئے۔ پھر فرمانے لگے‘ بیٹا کبھی اور بھی کسی بھی صورت میں‘ گفتگو میں شائستگی
146 کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ یاد رکھو‘ ایک طرف نیکیوں کا انبارلگا ہو تو دوسری طرف ایک بددعا‘ بددعا اس پر بھاری ہے۔ کیا تمہیں حضرت یونس علیہ السلام کی بددعا کا انجام یاد نہیں۔ انہیں مچھلی کے پیٹ میں جانا پڑا۔ پھر فرمایا بددعا کی بجائے تم دعا بھی دے سکتے ہو کہ اللہ اسے ہدایت دے۔ بعید نہیں وہ وقت قبولیت کا وقت ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص دوبارہ سے آ گیا اور دروازے پر کھڑا ہو کر‘ اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگا۔ اب کہ وہ اور اس کا انداز بڑا مہذب اور شائستہ تھا۔ سب اس کے اس دوہرے روپ سے حیران رہ گئے۔ بابا صاحب نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اندر آ کر وہ بابا صاحب کے پاؤں پڑنے لگا تو بابا صاحب نے اسے سختی سے منع کر دیا اور پھر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ کیا تھی‘ جنت کی ہوا کا ایک جھونکا تھا‘ جو سب کو نہال کر گیا۔وہ شخص کہنے لگا :سرکار میں تو آپ کے ظرف کا امتحان لے رہا تھا۔ جیسا اور جو سنا ویسا ہی پایا۔ آپ سچے ولی ہیں۔ نہیں بیٹا‘ یہ تم محبت میں کہہ رہے ہو۔ میں بےچارہ کہاں اورولایت کہاں۔ ہاں یہ اللہ کا احسان اور لطف وکرم ہے‘ جو اس نے توفیق دی اور میں اس امتحان میں کامیاب ہوا۔ سوچتا ہوں‘ اب ایسے لوگ کہاں ہیں۔ اگر کوئی ہے‘ تو چلا
147 کیوں جاتا ہے۔ کیا کریں‘ یہاں کوئی ٹھہرنے کے لیے نہیں آتا۔ اچھا ہو کہ برا‘ گریب ہو کہ امیر‘ شاہ ہو کہ فقیر‘ اسے ایکروز جانا ہی تو ہے۔ لالچ‘ ہوس اور حرص نے انسان کو‘ انسان نہیں رہنے دیا۔ کاش ہمیں یقین ہو جائے‘ کہ ہمیں ہر صورت میں جانا ہی ہے اور کوئی یہاں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا۔ جمع پونجی ساتھ نہ جا سکے گی۔ جاتے وقت ہاتھ خالی ہوں گے اور اپنے قدموں پر نہیں جا سکیں گے۔
148 شاعر اور غزل چاند کی کرنوں سے غزل کی بھیک مانگی اس نے کاسے میں دو بوندیں نچوڑ دیں کہ غزل آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے سیپ نے مروارید دیئے کہ دل اس کا پرسکون ہو جائے قوس قزح نے سرخی بخشی کہ رخ مثل یاقوت ہو جائے طبلے کی تھاپ نے گھنگھرو کی جھنکار نے مایوس نہیں کیا نسیم سحر سے بھی دست سوال دراز کیا قبروں کے کتبوں سے بھی غزل کی بھیک مانگ کے لایا سورج سے تھوڑی حدت مانگ لی
149 سیماب سے بےقراری لے لی لہر نے بغاوت دے دی گلاب کے پاس بھی گیا اس نے کاسے کو بوسہ دیا اور اپنی اک پنکھڑی رکھ دی خوش تھا کہ آج محنت رنگ لائے گی وہ مری ہو جائے گی دامن مرا خوشیوں سے بھر جائے گا غزل کے چہرے پر حسین سا عنوان لکھ دے گی خلوص کی طشتری میں رکھ کر جب غزل میں نے پیش کی جسارت پہ مری وہ بپھر گئی ضبط کی پٹڑی سے اتر گئی کاسے میں تھوک دیا
150 بولی بھکاری! اپنا خون جگر نچوڑ کے لاؤ غزل سے زندگی کی خوش بو آئے راحتوں کے لیے لہو کی اک بوند کافی ہے پھر اس نے چھاتی سے جدا کرکے اپنی بچی مری گود میں رکھ دی ممتا کی باہوں میں غزل تھی ممتا کی نگاہوں میں غزل تھی بچی کے لبوں پر بچی کی انگلیوں میں بچی کی سانسوں میں مگر بچی تو سراپا غزل تھی میں مشاہدے میں ہی تھا کہ اس نے بچی مجھ سے لے لی
Search
Read the Text Version
- 1
- 2
- 3
- 4
- 5
- 6
- 7
- 8
- 9
- 10
- 11
- 12
- 13
- 14
- 15
- 16
- 17
- 18
- 19
- 20
- 21
- 22
- 23
- 24
- 25
- 26
- 27
- 28
- 29
- 30
- 31
- 32
- 33
- 34
- 35
- 36
- 37
- 38
- 39
- 40
- 41
- 42
- 43
- 44
- 45
- 46
- 47
- 48
- 49
- 50
- 51
- 52
- 53
- 54
- 55
- 56
- 57
- 58
- 59
- 60
- 61
- 62
- 63
- 64
- 65
- 66
- 67
- 68
- 69
- 70
- 71
- 72
- 73
- 74
- 75
- 76
- 77
- 78
- 79
- 80
- 81
- 82
- 83
- 84
- 85
- 86
- 87
- 88
- 89
- 90
- 91
- 92
- 93
- 94
- 95
- 96
- 97
- 98
- 99
- 100
- 101
- 102
- 103
- 104
- 105
- 106
- 107
- 108
- 109
- 110
- 111
- 112
- 113
- 114
- 115
- 116
- 117
- 118
- 119
- 120
- 121
- 122
- 123
- 124
- 125
- 126
- 127
- 128
- 129
- 130
- 131
- 132
- 133
- 134
- 135
- 136
- 137
- 138
- 139
- 140
- 141
- 142
- 143
- 144
- 145
- 146
- 147
- 148
- 149
- 150
- 151
- 152
- 153
- 154
- 155
- 156
- 157
- 158
- 159
- 160
- 161
- 162
- 163
- 164
- 165
- 166
- 167
- 168
- 169
- 170
- 171
- 172
- 173
- 174
- 175
- 176
- 177
- 178
- 179
- 180
- 181
- 182
- 183
- 184
- 185
- 186
- 187
- 188
- 189
- 190
- 191
- 192
- 193
- 194
- 195
- 196
- 197
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266
- 267
- 268
- 269
- 270
- 271
- 272
- 273
- 274
- 275
- 276
- 277
- 278
- 279
- 280
- 281
- 282
- 283
- 284
- 285
- 286
- 287
- 288
- 289
- 290
- 291
- 292
- 293
- 294
- 295
- 296
- 297
- 298
- 299
- 300
- 301
- 302
- 303
- 304
- 305
- 306
- 307
- 308
- 309
- 310
- 311
- 312
- 313
- 314
- 315
- 316
- 317
- 318
- 319
- 320
- 321
- 322
- 323
- 324
- 325
- 326
- 327
- 328
- 329
- 330
- 331
- 332
- 333
- 334
- 335
- 336
- 337
- 338
- 339
- 340
- 341
- 342
- 343
- 344
- 345
- 346
- 347
- 348
- 349
- 350
- 351
- 352
- 353
- 354
- 355
- 356
- 357
- 358
- 359
- 360
- 361
- 362
- 363
- 364
- 365
- 366
- 367
- 368
- 369
- 370
- 371
- 372
- 373
- 374
- 375
- 376
- 377
- 378
- 379
- 380
- 381
- 382